Rizwan Law Associates.

Rizwan Law Associates. Legal practitioners and consultants. We deal in criminal, civil, family, FST, narcotics, cyber and IP legal cases.

🌟 A Warm & Distinguished Visit ⚖️It was an honour to welcome Sir Tariq Mehmood Jahangiri on his visit today.Sir Raja Riz...
13/09/2026

🌟 A Warm & Distinguished Visit ⚖️

It was an honour to welcome Sir Tariq Mehmood Jahangiri on his visit today.

Sir Raja Rizwan Abbasi, Advocate Supreme Court of Pakistan & Member Pakistan Bar Council, along with Sir Raja Aleem Abbasi, Advocate Supreme Court of Pakistan & Member Islamabad Bar Council, warmly welcomed Sir Tariq Mehmood Jahangiri.

A memorable gathering filled with respect, brotherhood, and meaningful conversations, reflecting the strong bonds of friendship and solidarity within the legal fraternity. 🤝⚖️

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوام الناس کی سہولت اور مفادِ عامہ کے پیشِ نظر اپنے فیصلوں اور احکامات کی ڈیجیٹل مصدقہ نقول (Di...
11/09/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوام الناس کی سہولت اور مفادِ عامہ کے پیشِ نظر اپنے فیصلوں اور احکامات کی ڈیجیٹل مصدقہ نقول (Digital Certified Copies) حاصل کرنے کی سہولت فراہم کر دی ہے۔
سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود PFC (Public Facilitation Centre) Portal کے ذریعے کوئی بھی شخص سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلے یا حکم کی Certified Copy کے لیے آن لائن درخواست دے سکتا ہے اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق اس کی ڈیجیٹل مصدقہ نقل حاصل کر سکتا ہے۔

اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں باقاعدہ طور پر اہم ترمیم کر دی گئی ہے۔اس ترمیم کے بعد اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری ...
08/09/2026

اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں باقاعدہ طور پر اہم ترمیم کر دی گئی ہے۔

اس ترمیم کے بعد اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں انتظامی امور کے حوالے سے افسران کی روٹیشن اور دیگر صوبوں میں بھی تبادلے و تعیناتی کا عمل نسبتاً آسان اور مؤثر ہو سکے گا۔

ذرائع کے مطابق اس ترمیم کے عملی اثرات جلد سامنے آنے کی توقع ہے اور ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں روٹیشن کا عمل بھی جلد متوقع ہے۔

یہ پیش رفت نہ صرف انتظامی نظام میں بہتری کا باعث بنے گی بلکہ عدالتی نظام میں شفافیت، توازن اور انتظامی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

30/08/2026

Very informative
*شاملات دہ زمین کے حقوق: اعلیٰ مالک اور ادنیٰ مالک کے قانونی تقاضےMLR-64 اور 1960 کے نوٹیفکیشن کے تحت شاملات دہ میں ملکیتی حقوق کا تعین ریونیو قوانین اور عدالتی نظائر کی روشنی میں شاملات دہ زمین کی تقسیم*
2025 SCMR 174
فیصلہ ۔۔۔۔۔
یہ مقدمہ "شاملات دہ" کی زمین سے متعلق ہے، جس میں اعلیٰ مالک (Ala Maalik) اور ادنیٰ مالک (Adna Maalik) کے حقوق پر بحث کی گئی ہے۔ اس کیس میں درخواست گزار ادنیٰ مالک تھے جو شاملات دہ میں زمین پر قابض تھے۔ انہوں نے ریونیو افسران کے ان اندراجات اور احکامات کو چیلنج کیا جن کے تحت ان کے قبضے کی زمین کو ان کی ملکیت کے طور پر درج نہیں کیا گیا تھا، خاص طور پر مغربی پاکستان لینڈ ریفارمز ریگولیشن 1959 (MLR-64) کے تناظر میں۔

پس منظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے حقوق کو "Ladhoo v. B.O.R" (1991 MLD 99) اور سپریم کورٹ کے فیصلے (C.Ps. Nos.823 & 824-L of 1990) کے تحت تسلیم کیا گیا ہے، جس میں MLR-64 اور 3 مارچ 1960 کے نوٹیفکیشن کے مطابق ادنیٰ مالکین کے حقوق کا تحفظ کیا گیا۔
مدعا علیہان (اعلیٰ مالکین) کا مؤقف تھا کہ وہ دیہات کے اصل مالکان کی حیثیت سے شاملات دہ پر بھی ملکیتی حقوق رکھتے ہیں، اور ان کے حقوق "حسب رسد کھوت" اور "واجب‌الارض" جیسے ریونیو ریکارڈ کے اصولوں سے ثابت ہوتے ہیں۔
فیصلہ:
اکثریتی رائے (جسٹس امین الدین خان):
درخواست گزاروں نے سوائے قبضے کے اپنی کوئی اور قانونی حیثیت ثابت نہیں کی۔
صرف زمین پر قابض ہونا ملکیتی حق ثابت نہیں کرتا، خاص طور پر جب کوئی جائز داخلہ (lawful entry) نہ ہو۔
MLR-64 کے بعد اعلیٰ مالک کا تصور ختم ہو چکا تھا، لیکن درخواست گزار خود کو قانونی طور پر ریکارڈ شدہ ادنیٰ مالک ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
شاملات دہ میں حقوق کا تعین "ملکیت کھاتہ" کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور جو شخص ملکیت کھاتہ میں درج نہیں، اسے شاملات دہ میں کوئی حق نہیں مل سکتا۔
1960 کے نوٹیفکیشن کے مطابق صرف "ادنیٰ مالک" اور "اعلیٰ خود ادنیٰ مالک" زمین کے حقدار ہو سکتے ہیں، محض قبضہ کوئی حق نہیں دیتا۔
درخواست گزار اپنے حق میں کوئی قانونی بنیاد یا فیصلہ ثابت نہ کر سکے، اس لیے ان کی اپیلیں خارج کر دی گئیں۔
اقلیتی رائے (جسٹس عائشہ اے ملک):
ہائی کورٹ (1991 MLD 99) اور سپریم کورٹ (1990 کے کیس) کے فیصلے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اعلیٰ مالکین کے نام 1945-46 کے ریونیو ریکارڈ سے درست طور پر ہٹائے گئے تھے۔
یہ ثابت کرتا ہے کہ ادنیٰ مالکین کے حقوق کو تسلیم کیا جانا چاہیے تھا، کیونکہ وہ پہلے ہی زمین پر قابض تھے۔
اعلیٰ مالکین نے کبھی MLR-64 یا 1960 کے نوٹیفکیشن کو چیلنج نہیں کیا، بلکہ صرف زمین پر مکمل قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کی، جو سپریم کورٹ نے مسترد کر دی۔
ادنیٰ مالکین کا قبضہ ثابت ہونے کی وجہ سے وہ زمین کے مالکان بننے کے حقدار تھے، اور اعلیٰ مالکین کے حقوق MLR-64 کے بعد ختم ہو گئے تھے۔
اگر کوئی اضافی زمین قبضے میں ہو، تو اسے قانونی بنیاد (لیز، وراثت، یا منتقلی) کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا، ورنہ وہ زمین حکومت کے نام پر واپس چلی جائے گی۔
درخواست گزاروں کا قبضے کی بنیاد پر ملکیتی دعویٰ قانون کے مطابق تھا اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں درست تھا۔
نتیجتاً ۔۔۔۔
سپریم کورٹ نے اکثریتی رائے کے مطابق فیصلہ دیتے ہوئے درخواست گزاروں (ادنیٰ مالکین) کی اپیل مسترد کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض زمین پر قبضہ شاملات دہ میں ملکیتی حقوق نہیں دیتا، بلکہ حقوق کا تعین ریونیو ریکارڈ اور ملکیت کھاتہ کی بنیاد پر ہوگا۔
شاملات دہ زمین: قانونی تجزیہ اور دفعات کا جائزہ
یہ معاملہ شاملات دہ (Shamlat Deh) کی ملکیت اور اس میں اعلیٰ مالک (Ala Maalik) اور ادنیٰ مالک (Adna Maalik) کے حقوق سے متعلق ہے۔ قانونی تجزیے کے لیے مندرجہ ذیل دفعات، قوانین، اور عدالتی نظائر کو سمجھنا ضروری ہے:

1. قانونی تعریفات:
(i) شاملات دہ (Shamlat Deh)
شاملات دہ وہ زمین ہوتی ہے جو کسی دیہات میں تمام مالکان کے مشترکہ استعمال کے لیے رکھی جاتی ہے۔ یہ عام طور پر درج ذیل مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے:

چراگاہ
گاؤں کی عوامی ضروریات (مسجد، سکول، قبرستان، وغیرہ)
زراعت یا دیگر کمیونٹی فوائد
(ii) اعلیٰ مالک
(Ala Maalik)
دیہات کے وہ اصل مالکان جو اپنے کھاتوں میں بطور مالکان درج ہوں اور شاملات دہ میں ان کا ملکیتی حق موجود ہو۔

(iii) ادنیٰ مالک
(Adna Maalik)
وہ افراد جو شاملات دہ کی زمین پر قابض ہوں اور کسی نہ کسی طرح اس کے استعمال کنندہ ہوں، لیکن ریونیو ریکارڈ میں ان کے حقوق ملکیت مکمل طور پر درج نہ ہوں۔

2. قانونی دفعات اور قوانین
(i) مغربی پاکستان لینڈ ریفارمز ریگولیشن، 1959 (MLR-64)
یہ قانون زرعی اصلاحات کے لیے نافذ کیا گیا تھا جس کا مقصد بڑی زمینوں کو تقسیم کرنا اور غریب کسانوں کو حقوق دینا تھا۔ اس کے تحت:

شاملات دہ میں اعلیٰ مالکین کے حقوق محدود ہو گئے۔
اگر کوئی ادنیٰ مالک MLR-64 کے تحت زمین پر قابض تھا، تو وہ اس زمین پر مالکانہ حقوق حاصل کر سکتا تھا۔
(ii) مغربی پاکستان لینڈ کمیشن کا نوٹیفکیشن 1960
اس نوٹیفکیشن میں شاملات دہ کی تقسیم کے قواعد متعین کیے گئے۔
صرف ادنیٰ مالک اور اعلیٰ خود ادنیٰ مالک زمین کے حقدار قرار دیے گئے۔
محض قبضہ زمین کے حق ملکیت کے لیے کافی نہیں تھا۔
(iii) پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967
یہ ایکٹ زمین کی ملکیت، اس کے اندراج، اور ریونیو کے دیگر معاملات کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے مطابق:

شاملات دہ کی ملکیت واجب‌الارض اور حسب رسد کھوت کے اصولوں کے تحت تقسیم کی جاتی ہے۔
جو افراد ملکیت کھاتہ (Malkiyat Khata) میں درج نہیں، وہ شاملات دہ میں حق نہیں رکھتے۔
(iv) ریونیو ریکارڈ (Jamabandi, Wajib-ul-Arz, Khewat Khatauni)
جمعبندی (Jamabandi) میں زمین کی ملکیت اور قبضے کا اندراج ہوتا ہے۔
واجب‌الارض (Wajib-ul-Arz) میں دیہات کے مالکان کے روایتی حقوق اور زمین کے استعمال کے اصول درج ہوتے ہیں۔
کھوت کھاتہ (Khewat Khatauni) کے مطابق ملکیتی حقوق کا تعین کیا جاتا ہے۔
3. عدالتی نظائر اور قانونی تشریحات
(i) Ladhoo v. B.O.R (1991 MLD 99) & C.Ps. Nos. 823 & 824-L of 1990
اس مقدمے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اعلیٰ مالکین کے نام شاملات دہ میں ختم ہو چکے ہیں اور ادنیٰ مالکین کے حقوق کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔
تاہم، سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلے میں کہا گیا کہ صرف قبضے کی بنیاد پر ملکیت نہیں دی جا سکتی، جب تک کہ ریونیو ریکارڈ میں ادنیٰ مالکین کے حقوق واضح طور پر تسلیم نہ کیے گئے ہوں۔
(ii) Muhammad Ramzan v. Member (Judicial-II), Board of Revenue, Punjab (2025 SCMR 174)
اکثریتی رائے: صرف قبضہ ملکیت نہیں دیتا۔
اقلیتی رائے: MLR-64 اور 1960 نوٹیفکیشن کے تحت ادنیٰ مالکین کے حقوق محفوظ ہیں۔
4. قانونی تجزیہ
(i) اکثریتی اور اقلیتی آراء کے درمیان فرق
اکثریتی رائے کے مطابق، شاملات دہ کی زمین میں صرف وہی شخص ملکیت حاصل کر سکتا ہے جو ریونیو ریکارڈ میں بطور مالکانہ درج ہو، محض قبضہ کوئی حق نہیں دیتا۔
اقلیتی رائے کے مطابق، اگر ادنیٰ مالک MLR-64 کے وقت زمین پر قابض تھا، تو وہ قانونی طور پر اس زمین کا حقدار ہو سکتا ہے۔
(ii) مستقبل میں اس فیصلے کے اثرات
یہ فیصلہ شاملات دہ کے حوالے سے مقدمات میں ایک اہم نظیر بنے گا۔
وہ افراد جو محض قبضے کی بنیاد پر ملکیت کے دعوے کر رہے تھے، ان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ریونیو ریکارڈ کا جائزہ لینا ضروری ہو گا کہ آیا کوئی فرد بطور ادنیٰ مالک درج تھا یا نہیں۔
5. حتمی نتیجہ
ملکیت کا حق صرف اس فرد کو ملے گا جو ریونیو ریکارڈ میں بطور مالک درج ہو۔
MLR-64 اور 1960 نوٹیفکیشن کے تحت ادنیٰ مالکین کے حقوق تسلیم کیے جا سکتے ہیں، مگر اس کے لیے دستاویزی ثبوت درکار ہوں گے۔
شاملات دہ میں زمین کی تقسیم کے لیے "ملکیت کھاتہ" اور "واجب‌الارض" کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔
صرف قبضے کی بنیاد پر زمین کا حق نہیں دیا جا سکتا۔
یہ تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ شاملات دہ کی ملکیت کے معاملات میں ریونیو ریکارڈ، قانونی اصلاحات، اور عدالتی نظائر کو تفصیل سے جانچنا ضروری ہے۔
(عباس خان سنگین ایڈوکیٹ)

زمین کے انتقال کو 22 سال بعد چیلنج؟ سپریم کورٹ نے تاخیر کے قانونی اثرات واضح کر دیےسپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی انتقال ...
29/08/2026

زمین کے انتقال کو 22 سال بعد چیلنج؟ سپریم کورٹ نے تاخیر کے قانونی اثرات واضح کر دیے

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی انتقال یا ریونیو ریکارڈ میں درج حق کو کئی دہائیوں تک خاموشی اختیار کرنے کے بعد محض دھوکہ دہی کا الزام لگا کر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اگر دعویٰ مقررہ مدتِ معیاد کے بعد دائر کیا جائے اور تاخیر کی قابلِ قبول وجہ بھی موجود نہ ہو تو ایسا دعویٰ ناقابلِ سماعت ہوگا۔

کیس کے اہم نکات

🔹 متعلقہ زمین کا انتقال 15 مارچ 1980 کو درج اور منظور ہوا، جبکہ اسے تقریباً 22 سال بعد، 16 مئی 2002 کو چیلنج کیا گیا۔

🔹 مدعی نے الزام لگایا کہ انتقال دھوکہ دہی اور غلط بیانی کے ذریعے حاصل کیا گیا، لیکن اتنی طویل خاموشی اور تاخیر کی کوئی قابلِ اطمینان وجہ پیش نہیں کی گئی۔

🔹 ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ نے دعویٰ کو مدتِ معیاد سے باہر اور ناقابلِ ثبوت قرار دے کر مسترد کیا۔

🔹 سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صرف دھوکہ دہی کا الزام لگا دینا کافی نہیں؛ دھوکہ دہی کو قابلِ اعتماد اور مضبوط شہادت سے ثابت کرنا ضروری ہے۔

🔹 اگر کوئی شخص کئی دہائیوں تک اپنے حق کے بارے میں خاموش رہے تو بعد میں اچانک پرانے انتقال یا ریونیو ریکارڈ کو چیلنج نہیں کرسکتا، خصوصاً جب اس دوران دوسرے فریقوں کے حقوق بھی پیدا ہوچکے ہوں۔

ریونیو ریکارڈ کے بارے میں اہم اصول

عدالت نے واضح کیا کہ جب کوئی انتقال باقاعدہ طور پر منظور ہوکر جمعبندی/ریونیو ریکارڈ کا حصہ بن جائے تو اسے درست تصور کیے جانے کا قانونی مفروضہ پیدا ہوتا ہے، جسے ختم کرنے کے لیے مضبوط اور قابلِ اعتماد ثبوت ضروری ہے۔

اسی طرح طویل عرصے سے قائم ریونیو اندراجات کو معمولی بنیادوں پر نہیں چھیڑا جاسکتا، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ فریقین اور تیسرے اشخاص کے حقوق بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

ہائی کورٹ کے نظرثانی اختیار کی حد

سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ ہائی کورٹ اپنی نظرثانی حدود میں صرف اس وقت مداخلت کرسکتی ہے جب ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں واضح قانونی غلطی، شواہد کی غلط خوانی یا ایسی سنگین بے قاعدگی موجود ہو جو فیصلے کو ناقابلِ برقرار بناتی ہو۔

محض اس بنیاد پر کہ ہائی کورٹ شواہد کو مختلف انداز میں دیکھتی ہے، ماتحت عدالتوں کے بیک وقت دیے گئے نتائجِ حقائق کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

آسان الفاظ میں فیصلہ

جو شخص اپنے حق یا انتقال کو کئی سالوں بلکہ دہائیوں تک چیلنج نہیں کرتا، وہ محض بعد میں دھوکہ دہی کا الزام لگا کر پرانا ریونیو ریکارڈ دوبارہ نہیں کھول سکتا۔ دھوکہ دہی کا الزام ثابت کرنے کے لیے مضبوط ثبوت ضروری ہیں اور مقررہ مدتِ معیاد کی پابندی بھی لازمی ہے۔

زمین کی اصل ملکیت اور فراڈ کا فیصلہ ریونیو افسر نہیں، سول کورٹ کرے گی — سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول!سپریم کورٹ نے زمین...
28/08/2026

زمین کی اصل ملکیت اور فراڈ کا فیصلہ ریونیو افسر نہیں، سول کورٹ کرے گی — سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول!

سپریم کورٹ نے زمین کے تنازعات میں ریونیو اتھارٹی اور سول کورٹ کے دائرۂ اختیار کی اہم وضاحت کر دی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ ریونیو حکام زمین کے ریکارڈ، انتقال اور ریونیو اندراجات سے متعلق کارروائی تو کرسکتے ہیں، لیکن کسی فریق کی اصل ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کے پیچیدہ اور حتمی تنازعے کا فیصلہ کرنا ان کے دائرۂ اختیار میں نہیں۔

اگر کسی انتقال، ریونیو ریکارڈ یا دستاویز کو فراڈ، جعل سازی، ملی بھگت یا غلط بیانی کی بنیاد پر چیلنج کیا جائے اور اس کے نتیجے میں فریقین کے ملکیتی حقوق یا ٹائٹل کا تعین ضروری ہو، تو ایسا تنازعہ سول کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ریونیو اتھارٹی کا دائرۂ اختیار کہاں تک ہے؟

عدالت نے واضح کیا کہ ریونیو حکام کا بنیادی کام ریونیو ریکارڈ، انتقالات اور Record of Rights کو برقرار رکھنا اور ان سے متعلق قانونی کارروائی کرنا ہے۔

ریونیو افسر کا فیصلہ عمومی طور پر ریونیو ریکارڈ کی حد تک ہوتا ہے اور محض انتقال درج ہونے سے کسی شخص کے حقِ ملکیت کا حتمی اور ناقابلِ تنسیخ فیصلہ نہیں ہوجاتا۔

ملکیت اور ٹائٹل کا حتمی فیصلہ کس کا اختیار ہے؟

جہاں تنازعہ کا اصل سوال یہ ہو کہ:

▪️ اصل مالک کون ہے؟
▪️ کسی شخص کا ملکیت کا دعویٰ درست ہے یا نہیں؟
▪️ کوئی دستاویز یا انتقال فراڈ کے ذریعے حاصل کیا گیا؟
▪️ فریقین کے درمیان ملی بھگت یا غلط بیانی ہوئی؟
▪️ کسی رجسٹرڈ دستاویز کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

تو ایسے سوالات کے حتمی تعین کے لیے شہادت، دستاویزات اور مکمل ٹرائل کی ضرورت ہوسکتی ہے، جو بنیادی طور پر سول کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

دفعہ 172 ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ — کیا سول کورٹ کا راستہ بند ہے؟

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ دفعہ 172 کو اس طرح نہیں پڑھا جاسکتا کہ ہر قسم کے زمین یا ملکیت کے تنازعے میں سول کورٹ کا اختیار ختم ہوجائے۔

سول کورٹ کا دائرۂ اختیار صرف ان معاملات میں محدود ہوگا جو قانون کے تحت واضح طور پر ریونیو اتھارٹیز کے exclusive jurisdiction میں آتے ہوں۔

لہٰذا اگر مقدمے کا بنیادی تنازعہ ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کے تعین سے متعلق ہو تو صرف یہ حقیقت کہ ریونیو ریکارڈ میں کوئی انتقال درج ہے یا ریونیو افسر نے کوئی فیصلہ دیا ہے، سول کورٹ کے اختیار کو ختم نہیں کرتی۔

ریونیو اندراج ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں

یہ فیصلہ زمین کے مالکان کے لیے ایک اہم قانونی اصول واضح کرتا ہے کہ انتقال یا ریونیو ریکارڈ میں اندراج بذاتِ خود ملکیت کے حق کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

اگر کوئی فریق یہ مؤقف اختیار کرے کہ ایسا اندراج فراڈ، غلط بیانی یا غیر قانونی طریقے سے حاصل کیا گیا ہے اور اس بنیاد پر ملکیتی حق متاثر ہورہا ہے، تو متعلقہ فریق سول کورٹ سے مناسب قانونی ریلیف حاصل کرسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کا اہم پیغام

ریونیو افسر ریکارڈ درست کرسکتا ہے، لیکن جہاں اصل تنازعہ ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کا ہو وہاں حتمی فیصلہ سول کورٹ کرے گی۔

محض ریونیو اتھارٹی کے کسی سابقہ حکم کی موجودگی فریق کو سول کورٹ سے رجوع کرنے سے نہیں روک سکتی، خصوصاً جب تنازعہ بنیادی طور پر ملکیتی حقوق اور فراڈ کے تعین سے متعلق ہو۔

زبردستی کی شادی تسلیم نہ کرنے پر والد نے لاہور سے بیٹی کو اسلام آباد بلا کر قتل کردیا۔قتل کا واقعہ اسلام آباد کے تھانہ ن...
20/08/2026

زبردستی کی شادی تسلیم نہ کرنے پر والد نے لاہور سے بیٹی کو اسلام آباد بلا کر قتل کردیا۔قتل کا واقعہ اسلام آباد کے تھانہ نیلور کی حدود میں پیش آیا

‏حنا کے والد اپنی بیٹی سے معاہدہ کرکے اسے گھر لائے کہ اسے نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔گھر پہنچتے ہی اہلخانہ نے لڑکی کو قتل کردیا

18/08/2026

خاتون کمانڈو تو نہیں؟ “مرد پر 3 مرتبہ تشدد”جج، وکیل سائلین ہنس ہنس کر پاگل..!!

سابق نیوی افسر کو “بیگم پاک” نے 3 مرتبہ تشدد کا نشانہ بنایا خاتون گرفتار ہو گئیں ضمانت کے لئیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم سومرو کی عدالت میں آج نیوی افسر کے وکیل نے دلائل دئیے کہ” بیوی نے بہت مارا ہے نشان پڑگئے ہیں مارنے کے بعد ہسپتال بھی کے گئی ہے اسکی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہےجسٹس خادم حسین سومرو سمیت سائلین اور وکلاء ہنس پڑے، جج صاحب نے کہا دلائل دینے والا وکیل بھی ہنس رہا ہے تو میں کیسے ہنسی روکوں “ یہ بتائیں کہ خاتون کمانڈو تو نہیں؟کرتی کیا ہے؟ وکیل نے کہا PHD Philosophy ہیں، خاتون کے وکیل نے کہا عورت گھر کی لارڈشپ ہے مار سکتی ہے، عدالت میں بے ساختہ ہنسی،فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا..!!

17/08/2026

SECTION 4 OF THE MUSLIM FAMILY LAWS ORDINANCE, 1961: A WELL-INTENTIONED PROVISION BUT IN CONFLICT WITH THE QUR’ANIC TEXT AND THE PRINCIPLES OF ISLAMIC INHERITANCE LAW?

1) Section 4 was introduced with the objective of providing a share in the estate to the children of a son or daughter who had predeceased the propositus. However, from an Islamic law perspective, this provision raises a fundamental Islamic jurisprudence question. Under the Qur’anic scheme of inheritance, particularly the principle that a nearer heir excludes a more remote heir, a grandson whose father had died during the lifetime of the propositus would ordinarily not inherit in the presence of his paternal uncles and aunts. The same principle applies, subject to the relevant rules of succession, to the children of a predeceased daughter.

2) Before examining the controversy surrounding Section 4, it is important to appreciate the possible rationale behind the classical rule under which, in the relevant circumstances, grandchildren whose parent had predeceased the propositus were not made direct heirs in the presence of nearer heirs. Islam is a universal faith, and the Qur’anic scheme of inheritance should therefore not be viewed merely as a mechanism of exclusion, but as part of a broader system intended to protect family rights and prevent injustice. Where a son or daughter predeceases the propositus, the grandchildren may often be young and vulnerable effectively orphaned at the time when the estate eventually opens. The Qur’an places great emphasis on safeguarding the property and rights of orphans. In practical terms, the persons most likely to control the estate and, unfortunately, to deprive such children of meaningful benefits would ordinarily be the surviving close relatives and heirs. The classical framework may therefore be understood as leaving room for the propositus, during his or her lifetime, to make appropriate provision for such grandchildren through wasiyyah (bequest), subject to the applicable rules and limits governing bequests to non-heirs. This could enable a grandfather, grandmother, maternal grandfather or maternal grandmother to identify and secure a defined portion or property for the grandchildren, rather than leaving them dependent upon a fractional inheritance share which, in the practical division of land, might place them at the mercy of surviving uncles, aunts and their families. In a composite or jointly held property, for instance, the most valuable or strategically located portions might remain with the surviving heirs, while the vulnerable grandchildren could be left with inferior or inconvenient portions. Thus, the exclusion of such grandchildren from direct inheritance in the classical scheme may be viewed not simply as deprivation, but as a legal structure within which their protection could be secured through other recognised mechanisms, particularly a bequest made during the propositus’s lifetime.

3) The most important mechanism available under Islamic law is a will (wasiyyah) in favour of a person who is not otherwise a legal heir, subject to the applicable limitations. In this context, one may legitimately ask whether, instead of introducing Section 4, the legislature could have adopted the concept of a mandatory will, particularly for the benefit of grandchildren whose parents had predeceased the propositus. Because Will can only be made in favor of non heir and Allah almighty for Said reason in Quran made grandchildren non heir in supra eventuality so that the propositous should make Will in favor of their grandchildren during their lifetime.

4). Several Muslim-majority jurisdictions, particularly in the Gulf and other parts of the Muslim world, have adopted forms of compulsory or mandatory bequest for such circumstances. Had a similar approach been adopted in Pakistan in the 1960s, the hardship faced by certain grandchildren could arguably have been addressed without altering the fundamental structure of the Qur’anic law of inheritance.
5) This becomes particularly important when we consider the Qur’anic emphasis on protecting the rights of orphans. The Qur’an repeatedly warns against consuming the property of orphans and treats it as a grave wrongdoing. In practical terms, the people most capable of depriving an orphaned grandchild of his or her economic rights may unfortunately be the very relatives who remain in possession of the family property.
Consider, for example, a jointly held or composite piece of agricultural land where the paternal uncles and aunts survive while the father of a grandchild has predeceased the propositus. Even where the grandchild has no legal share under the classical rules of succession, the practical reality may be quite different. The surviving relatives may retain the better or more valuable portions of the property, while the children of the predeceased heir may effectively be pushed to inferior locations or left with portions of land that have little practical value. In cases involving possession, demarcation and physical division of land, the formal exclusion from inheritance can therefore have serious socio-economic consequences.
6). It is precisely this tension between the textual rules of succession and the protection of vulnerable family members that, in my view, deserved much deeper consideration when Section 4 was introduced.

7). The historical decision to introduce Section 4 also raises an important constitutional and jurisprudential question. The Federal Shariat Court, in a decision concerning Section 4, declared the provision to be ultra vires the Constitution on the ground that it was inconsistent with the injunctions of Islam. The matter has subsequently remained subject to proceedings before the Shariat Appellate Bench of the Supreme Court under Article 203D, and the final determination of the issue remains awaited.
What is particularly intriguing from an academic perspective is that Pakistan had, at the time of framing its family laws, access to a distinguished body of Islamic jurists and scholars through the relevant constitutional and advisory institutions. One may therefore reasonably ask: Why was Section 4 chosen instead of developing a mechanism of mandatory bequest that could have addressed the hardship of orphaned grandchildren while preserving the Qur’anic scheme of inheritance?
As a law student, a practising advocate and, subsequently, a judicial officer with some experience in civil and family adjudication, I believe that this is precisely the kind of question that requires us to move beyond a superficial approach to Islamic family law. The interaction between Qur’anic text, classical jurisprudence, social realities and modern legislation requires careful and deeply reasoned analysis.
The objective should not be to alter the Qur’anic scheme of inheritance merely because a particular result appears socially inconvenient. Nor should the law ignore genuine hardship faced by vulnerable members of a family. The better approach may be to preserve the fundamental rules of inheritance while employing mechanisms already recognised within Islamic jurisprudence—such as wasiyyah—to protect those who fall outside the class of legal heirs.
In my view, therefore, the present controversy surrounding Section 4 provides an opportunity for a much broader reconsideration of the legislative policy underlying Muslim family law in Pakistan. If the Supreme Court ultimately concludes that Section 4 is inconsistent with the constitutional injunctions of Islam, it could also recommend or facilitate the development of an appropriate statutory framework for a mandatory will or compulsory bequest for qualifying grandchildren, drawing upon the experience of other Muslim jurisdictions.
Such an approach could potentially achieve a better balance: preserving the Qur’anic principles governing inheritance while ensuring that orphaned grandchildren are not left without meaningful protection merely because their parent happened to predecease the propositus.
Ultimately, the real objective should be neither to circumvent the Qur’anic law of inheritance nor to impose hardship in its name. It should be to understand the underlying philosophy of Islamic succession law and to develop a legal mechanism that protects both the sanctity of the revealed rules and the legitimate interests of vulnerable members of the family.
That, in my humble view, is where the real academic debate on Section 4 should begin.
Copied from the wall of Raja Faruku Ali khan

We are truly grateful to Mr. Azam Nazeer Tarar, Federal Minister for Law and Justice, for visiting our office. During th...
16/08/2026

We are truly grateful to Mr. Azam Nazeer Tarar, Federal Minister for Law and Justice, for visiting our office. During the meeting, various important issues relating to the legal profession and matters of mutual interest were discussed.

Sir Raja Rizwan Abbasi, Advocate Supreme Court of Pakistan & Member Pakistan Bar Council, and Sir Raja Aleem Abbasi, Advocate Supreme Court of Pakistan & Member Islamabad Bar Council, ch Manzoor Ahmed Jajja Advocate Federal Prosecutor had the privilege of welcoming and hosting the Honourable Minister and engaging in a constructive discussion.

Address

House No 8 , Main Nazim_UD_Din Road Beverly Center F-6/1 Islamabad
Islamabad
440001

Telephone

+923009542187

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rizwan Law Associates. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Rizwan Law Associates.:

Shortcuts

Share