The Legal Ways

The Legal Ways Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Legal Ways, Criminal lawyer, Islamabad.

Feel free to contact
For all legal matters Like
Tax Matters
Corporate Matters
Family Matters
All civil Matters
Criminal Matters
Service Matters
We are a group of 20 Lawyers(High court & Supreme court Lawyers) In Islamabad F8.

23/05/2022
22/02/2022

گرل فرینڈ کے ساتھ گزارے تنہائی کے جزباتی اور رومینٹک لمحات کی وڈیوز لیک ہونے کے واقعات آئے روز سامنے آتے ہیں. جیسے کہ گزشتہ دنوں ٹشو پیپر والی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور یار لوگ فرمائش اور تقاضا کر کے ان احباب سے مانگتے بھی رہے جنھوں نے اشاروں کنایوں میں ویڈیو دیکھنے کی نوید سنائی.
ویڈیو وائرل کرنے والی گھٹیا حرکت اخلاقی جرم تو ہے ہی قانون میں بھی یہ عمل سنگین جرائم میں شامل ہے. جس کی کارروائی FIA (فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی) سائیبر کرائم کے قوانین کے تحت کرتا ہے
مشرقی لڑکیاں شادی کے پکے ٹھکے وعدے یا لارے کے بغیر مرد کو اپنے قریب نہیں آنی دیتیں. اور جب مرد شادی کا پکا وعدہ یا لارا لگا کر لڑکی کا اعتماد جیت لیتا ہے اور یہ یقین بھی دلاتا ہے کہ آخر ہماری شادی ایک دن ہونی ہی ہے تو جو شادی کے بعد ہونا ہے وہ اب ہونے میں کیا ہرج ہے.. اور لڑکی پھر بھی راضی نہ ہو تو لڑکا بریک اپ کی دھمکی دیتا ہے یا اعتماد اعتبار نہ کرنے کے شکوے شکایات کا انبار لگا دیتا ہے اور ناراضگی شو کرتا ہے کہ مجھ پر اعتماد نہ کر کے مجھے شدید ہرٹ کیا ہے
عموماً لڑکیاں یہ سوچ کر کے کہ کہیں لڑکا شادی کے وعدے سے مُکر ہی نہ جائے جسمانی تعلقات بنانے پر راضی ہو ہی جاتی ہیں. کیونکہ ہمارے سماج میں 90 فیصد لڑکیوں کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد شادی کرنا ہی ہوتا ہے. طبقاتی سماج میں لوئر یا لوئر مڈل کلاس کی لڑکی والدین کے لیے ایک بوجھ سمجھی جاتی ہے. اگر لڑکی سرکاری جاب ہولڈر ہے تو رشتوں کی کوئی کمی نہیں بصورت دیگر لڑکیوں کے سر میں چاندی اتر آتی ہے پر رشتے نہیں آتے کیونکہ قیمتی سامان جہیز اور جاب کا نہ ہونا یا کم خوبصورت ہونا شادی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں. اس صورت حال میں اگر خوش قسمتی سے کوئی لڑکا شادی کا وعدہ کر لے تو امید لگ جاتی ہے . اور مشرقی لڑکیاں صرف وعدے پر ہی لڑکے کو دل و جان سے اپنا سرتاج مان لیتی ہیں.
مرد تنہائی کے لمحات کی ویڈیوز لڑکی کو یہ اعتماد دلا کر بناتے ہیں کہ وہ ان رومانٹک لمحات کو یادگار کے طور پر محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور وہ ان وڈیوز کو ہمیشہ سیکرٹ رکھیں گے اور کبھی کسی دیگر شخص کو نہیں دکھائیں گے جبکہ رومینٹک لمحات کی ویڈیو بنانے والوں کی 💯 فیصد بدنیتی ہوتی ہے اور یہ عموماً اس خوف سے بنائی جاتی ہیں کہ اگر کل کلاں لڑکی ہاتھ سے نکلنے لگے یا شادی کے لیے زیادہ اصرار کرنے لگے تو اسے ان وڈیوز کے ذریعے بلیک میل کر کے مستقبل میں زبردستی تعلقات رکھنے پر مجبور کیا جا سکے.
اکثر لڑکیاں گھریلو مجبوری یا کہیں اور شادی ہونے یا کسی اور مرد کے ساتھ تعلقات ہونے پر اپنے بوائے فرینڈ سے بریک اپ کر لیتی ہیں. اور سابقہ بوائے فرینڈ حسد کی آگ میں جل کر آگ بگولا ہو جاتا ہے اور وڈیوز لیک کرنے کی دھمکیاں دینے لگتا ہے. جو بیچاری لڑکیاں اپنی، اپنے والدین اور اہلِ خانہ کے رسوا ہونے اور عزت مٹی میں مل جانے کے خیال سے ڈر جاتی ہیں وہ مجبوراً نا چاہتے ہوئے بھی تعلقات قائم رکھتی ہیں
اور اگر لڑکی بریک اپ کے بعد وڈیوز لیک ہونے کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہ ہو اور مرد کی بلیک میلنگ میں نہ آئے تو بدفطرت مرد گھٹیا ترین حرکت وڈیوز وائرل کرنے کی شکل میں کرتے ہیں .
بطور وکیل میرا مشورہ ہے کہ ایسی متاثرہ لڑکیاں جن کی وڈیوز لیک ہو جاتی ہیں وہ خودکشی کرنے یا خوفزدہ اور شرمندہ ہونے کے بجائے بھرپور قانونی کارروائی کریں تاکہ باقی مجرموں کو عبرت ہو
میرے پاس اس نوعیت کے جو کیسز آئے ان میں 99 فیصد لڑکیاں اور انکے گھر والے قانونی کارروائی کرنے سے گریز کرتے ہیں. اور اگر کوئی قانونی کارروائی شروع کر بھی دے تو راستے میں انکی ہمت جواب دے جاتی ہے کیونکہ وہ قانونی کارروائی کر کے مذید تماشا بننے سے ڈرتے ہیں

زندگی بہت قیمتی شے ہے اسے کسی سانحہ کی صورت میں میں ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہیے اور ایسی متاثرہ لڑکیوں کے والدین کو بھی درگزر کرتے ہوئے لڑکی کو قتل کرنے یا تشدد کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ جو ہو گیا وہ واپس نہیں ہو سکتا البتہ جو غلط ہوا اسے سدھارا ضرور جا سکتا ہے
کسی ناقابلِ فراموش تلخ سانحے کے بعد بھی زندگی رک نہیں جاتی. ہمت حوصلہ قائم رہے تو ایک بھرپور نئی زندگی ہمیشہ باہیں کھول کر ہماری منتظر ہوتی ہے.
ڈر کے بعد جیت ہے.
کسی بھی قانونی مشاورت کے لیے آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیں:
Email: [email protected]
page: The legal ways

30/11/2021

Detailed Steps of Criminal Trial With Relevent Provisions.

A Criminal trial goes through the following steps.

1) FIR U/S 154 ,or Direct complaint U/S 200 of Cr.P.C 1898.

2) Investigation U/S 156 or inquiry Under section 202 of Cr.P.C 1898.

3) Record of statement and confession Under section 161 and 164 read with section 364 of Cr.P.C 1898.

(4)Physical Or police remand U/S 167, 344 of Cr.P.C 1898.

5) Submission of Challan Under section 173 of Cr.P.C 1898, under following modes;

A) Section 169 of Cr.P.C 1898.

Release of accused when evidence deficient.

B.) Section 170 of Cr.P.C 1898.

Case to be sent to magistrate when evidence are sufficient.

C) Section 512 of Cr.P.C 1898.

Record of evidence in absence of accused.


(6) Quashing of FIR Under Section 561-A of Cr.P.C 1898.

(7)Taking cognizance under section 190 of Cr.P.C 1898.

(8)Issue of process Under section 204 of Cr.P.C 1898.

9) Bail in Bailable offences under section 496 of Cr.P.C 1898 and Bail in Non-bailable offences under section 497 of of Cr.P.C 1898.

10) The framing of charge from Sections 221 to 240 of Cr.P.C 1898 onwards.

11) Speedy acquittal under section 249-A for Magisterial trial. And under section 265-K for Session's Trial.

Note: After hearing the prosecutor and accused counsel, reasons shall be reasons be recorded for every finding.

12) Pleading guilty under sections 243 and 265-E of Cr.P.C 1898.

13) Beginning of prosecution evidence:

Prosecution Evidence, through Examination in chief, Cross Examination and Re-examination (If any).

14) Beginning of defense evidence, Statement of Accused under section 342 of Cr.P.C 1898.

15) Final Arguments.

16) Pronouncement of Judgment under section 366 of Cr.P.C 1898.

A) Acquittal under sections 245 & 265-H of Cr.P.C 1898,

or Conviction under sections 245(2) & 265-H(2) of of Cr.P.C 1898.

17) Appeal:

A) Appeal to court of session against sentenced passed by the assistant session judge or judicial magistrate under Section 408 of Cr.P.C 1898.

B.) Appeal to to high court against the sentence passed by Session's or Additional Session's Judge under section 410 of Cr.P.C 1898.

C) Appeal against acquittal through Public Prosecutor under section 417 of Cr.P.C 1898.

30/11/2021

یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے

* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* سیکشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
,*دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
* دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
* دفعہ 499 * = ہتک عزت
* دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔

تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
* پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

* (1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا * -

ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔

* (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔

عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

* (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -

سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔

* (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -

زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

*(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*

پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

*یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔* _

14/11/2021
14/07/2021
*والدین کو گھر سے نکالنا قابل سزا جرم، آرڈیننس 2021 جاری**صدر عارف علوی نے آرٹیکل 89 کے تحت تحفظ والدین آرڈیننس جاری کیا...
09/05/2021

*والدین کو گھر سے نکالنا قابل سزا جرم، آرڈیننس 2021 جاری*
*صدر عارف علوی نے آرٹیکل 89 کے تحت تحفظ والدین آرڈیننس جاری کیا*
ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی ایک ساتھ دی جاسکیں گی۔
والدین کی شکایت پر پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری کا اختیار ہوگا۔
آرڈیننس کا مقصد والدین کو تحفظ دینا ہے کہ بچے انہیں زبردستی گھر سے نہ نکال سکیں۔
گھر بچوں کی ملکیت ہو یا کرائے پر، دونوں صورتوں میں والدین کو گھر سے نہیں نکالا جاسکے گا۔
گھر والدین کی ملکیت ہوتو انہیں بچوں کو گھر سے نکالنے کا اختیار ہوگا۔
آرڈیننس کے تحت والدین اور بچوں کو اپیل کا حق حاصل ہوگا۔
https://www.instagram.com/p/COosKzgpvb7/?igshid=12p0ou6zz3ruj

24/04/2021

اھم اعلان
واٹس ایپ اور واٹس ایپ کالز کے لئے مواصلات کے نئے قواعد کل سے نافذ ہوں گے
اور تمام کالز ریکارڈ کی جائیں گی اور تمام کال
ریکارڈنگ محفوظ ہوجائیں گی۔
واٹس ایپ فیس بک۔ ٹویٹرس انسٹاگرام اور تمام سوشل میڈیا پر نظر رکھی جائے گی۔
آپ کے موبائل یا کمپیوٹرز ڈیویس منسٹری سسٹم سے مربوط ہوں گے۔
کسی کو بھی غلط پیغام نہ بھیجنے کا خیال رکھیں۔
اپنے بچوں کو بہن بھائیوں کے رشتہ دار دوستوں سے جاننے والوں کو بتائیں خبردار۔۔خبردار۔۔۔خبردار
گروپ میں سب سے زیادہ آگاہ رہیں
گروپ ممبروں کو واٹس ایپ کے نئے قواعد کے بارے میں بہت اہم معلومات
1. ✓= پیغام بھیجا گیا
2.✓✓ = پیغام پہنچا
3. دو نیلے✓✓ = پیغام پڑھا
4 تین نیلے✓✓✓ = حکومت نے اس پیغام کا نوٹس لے لیا ۔۔
5. دو نیلے✓✓ = اور ایک سرخ ✓= حکومت آپ کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے

6. ایک نیلے ✓ اور دو سرخ ✓✓ = حکومت آپ کی معلومات کی جانچ کر رہی ہے
7 تین سرخ ✓✓✓ = حکومت نے آپ کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے اور آپ کو جلد ہی ایک عدالتی سمن مل جائے گا ..
ذمہ دار شہری بنیں
اور یہ معلومات اپنے رشتہ دار اور دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

Limited time offer
25/03/2021

Limited time offer

Address

Islamabad
44220

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923121620295

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Legal Ways posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Legal Ways:

Share