Legal Solutions With Advocate Saira

Legal Solutions With Advocate Saira Fight For Right

Chand Raat Mubarak 🌙Eid Mubarak ♥️
09/04/2024

Chand Raat Mubarak 🌙
Eid Mubarak ♥️

Ramadan Kareem! May Allah’s blessings be with you and your loved ones always.
11/03/2024

Ramadan Kareem! May Allah’s blessings be with you and your loved ones always.

Human & Refugee Rights and Role of Lawyers in protection of Human & Refugee Rights..
04/03/2024

Human & Refugee Rights and Role of Lawyers in protection of Human & Refugee Rights..

Human & Refugee Rights and Role of Lawyers in protection in Human & Refugee Rights..
04/03/2024

Human & Refugee Rights and Role of Lawyers in protection in Human & Refugee Rights..

Human Rights and relevant laws in Pakistan ,Refugee laws, Framework, Foreigners Act and Int'l Conventions
04/03/2024

Human Rights and relevant laws in Pakistan ,
Refugee laws, Framework, Foreigners Act and Int'l Conventions

22/02/2024

قادیانی شہری کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت دینے کا معاملہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

ملزم کے خلاف مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ C-295, 298 اور پنجاب کے اشاعت قرآن ایکٹ کے دفعہ سات اور نو کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو اس وجہ سے ایف آئی آر درج کرائی جاتی ہے کہ ملزم پر یہ الزام تھا کہ وہ قادیانی مذہب کی مشہور تفسیر " تفسیر صغیر " کی تقسیم میں ملوث ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ملزم پر بنیادی طور پر تین الزامات تھے جو کہ زیل ہیں :

الف ) پنجاب قرآن ( پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ ) ایکٹ دو ہزار دس کے دفعہ سات اور نو کے تحت تفسیر صغیر کی تقسیم کا الزام۔
ب ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو پچانوے-بی کے تحت توہین قرآن کا الزام۔
ج ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو اٹھانوے-سی کے تحت قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا خود کو مسلمان ظاہر کرنے کا الزام۔

مندرجہ بالا الزامات کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بالآخر ملزم کو سات جنوری دو ہزار تئیس کو گرفتار کر دیا جاتا ہے جس کے بعد بالترتیب دس جون اور ستائیس نومبر کو ایڈیشنل سیشن جج اور لاہور ہائی کورٹ سے ملزم کی ضمانت خارج کردی جاتی ہے جس کے بعد اس کیس کی ابتدا سپریم کورٹ میں ہوتی ہے اور سپریم کورٹ میں یہ کیس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب اور جسٹس مسرت ہلالی صاحبہ پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے مقرر ہوتا ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

نوٹ :یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے اس کیس میں دو سوالات تھے جن میں پہلا تو ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست تھی اور دوسرا معاملہ ملزم پر جو فرد جرم عائد کیا گیا تھا تو اس فرد جرم سے مختلف جرائم کو حذف کرنے کی درخواست تھی۔

سپریم کورٹ میں اس کیس کی ابتدا ملزم کے وکیل کی جانب سے دلائل پر ہوا جو کہ زیل ہیں:

ملزم کے وکیل نے پہلا نکتہ یہ اٹھایا کہ ملزم کے خلاف چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو جو ایف آئی آر کاٹی گئی ہے تو اس کے مطابق ملزم نے پر الزام یہ ہے کہ اس نے دو ہزار انیس میں تفسیر صغیر تقسیم کیا ہے جو کہ پنجاب کے اشاعت قرآن قانون کے تحت جرم ہے لیکن یاد رہے کہ ایسی کوئی تفسیر تقسیم کرنے پر پابندی دو ہزار اکیس میں لگی ہے یعنی اگر دو ہزار اکیس کے بعد اگر کوئ ایسی تفسیر تقسیم کرے گا تو وہ جرم کے ضمرے میں آئے گا تو یہاں پر دو مسئلے آئے۔ پہلا تو یہ کہ ملزم پر الزام یہ تھا کہ اس نے تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کی ہے تو تب یہ جرم نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ فوجداری مقدمات میں مقدمہ بروقت دائر کرنا بہت زیادہ اہمیت کا متقاضی ہوتا ہے لیکن اس کیس میں دو ہزار انیس کے الزام کی بابت ایف آئی آر دو ہزار بائیس کے آخر میں درج کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس حوالے سے آئین پاکستان کا آرٹیکل بارہ نہایت ہی واضح ہے جو کہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ کسی کو بھی کسی ایسے جرم کی سزا نہیں دی جا سکتی کے کرتے وقت وہ کام کسی قانون کے تحت جرم کی تعریف میں نہ ہو تو اس لئے چونکہ تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کرنا جرم نہیں تھا تو اس لئے پنجاب اشاعت قرآن قانون کے تحت ملزم کے خلاف فرد جرم نہیں عائد کیا جا سکتا تھا۔

تفسیر صغیر کی تقسیم کا معاملہ واضح کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے بقیہ دو الزامات یعنی توہین قرآن اور خود کو مسلمان ظاہر کرنا تو اس حوالے سے ملزم کے خلاف نہ تو ایف آئی آر اور نہ ہی پولیس کے چالان میں مندرجہ بالا الزامات کے بابت کوئ بات ہے، اس وجہ عدالت نے مندرجہ بالا دونوں دفعات فرد جرم سے حذف کرنے کا فیصلہ کیا۔

سپریم کورٹ کے سامنے چونکہ دو سوالات تھے تو پہلا معاملہ واضح کرنے کے بعد فیصلے میں قرآن مجید کے مندرجہ ذیل آیات کا حوالہ دیا گیا ہے:

الف ) سورة البقرة کی آیت نمبر دو سو چھپن۔
ب ) سورة الرعد کی آیت نمبر چالیس۔
ج ) سورة یونس کی آیت نمبر ننانوے۔

سپریم کورٹ نے اس کے بعد ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کا رخ کیا ہے جس کا آغاز سپریم کورٹ نے یوں کیا ہے کہ ملزم پر فرد جرم تو فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ انیس سو بتیس کے دفعہ پانچ کے تحت تو عائد نہیں کی گئ لیکن ایف آئی آر اور چالان کے مندرجات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے یہ مندرجہ بالا دفعہ کے تحت جرم کیا ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا چھ مہینے ہے اور ملزم نے پہلے سے ہی تقریباً تیرہ ماہ سے جیل میں ہے تو اس لئے عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے کے آخر میں نہایت ہی اہم بات لکھی ہے کہ اس طرح کے کیسز کا بنیادی تعلق کسی عام آدمی یا اس کی پراپرٹی کے ساتھ نہیں بلکہ ریاست کے ساتھ ہے۔

04/03/2023

رجسٹری کیسے کروائی جائے؟ رجسٹری اور انتقال میں کیا فرق ہے؟

رجسٹری لفظ رجسٹرڈ سے نکلا ہے مطلب کوئی چیز رجسٹرڈ کروانا. مثال کے طور پر ہم موٹر سائیکل لیتے ہیں یا کار تو متعلقہ ایکسائز کے محکمے سے گاڑی کی رجسٹریشن کرواتے ہیں جہاں گاڑی کی نمبر پلیٹ انجن نمبر، رنگ، ماڈل، کمپنی کا نام اگر پرانی گاڑی ہے تو پرانے مالک کا نام غرض کےہر چیز تفصیل سے درج ہوتی ہے اور ایکسائز کی خاص قیمت ادا کرنے کے بعد گاڑی ہمارے نام ہو جاتی ہے. بلکل اسی طرح زمین اور مکان کی رجسٹری کروانے کا معاملہ ہے. زمین کی رجسٹری میں بھی ہر چیز لکھی جاتی ہے جو زمین یا مکان سے متعلق ہو. رجسٹریشن ایکٹ 1908 کی دفعہ 17 کے مطابق غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی کے لئے رجسٹریشن لازمی ہے۔

َزمین، مکان کی رجسٹری کا طریقہ؟

پہلا مرحلہ میں سب سے پہلے جس شخص سے آپ مکان یا زمین خرید رہے ہیں وہ فرد بیع نکلوائے گا اس زمین کی کیونکہ زمین کی رجسٹری کے لیے فرد بیع کا ہونا لازمی ہے. فرد بیع سے پتہ چلے گا کے زمین بیچنے والا شخص ہی اصل زمین کا مالک ہے اور زمین پر کسی قسم کا سٹے یا مقدمہ نہیں ہے. یاد رہے کہ ایک وقت میں ایک ہی فرد بیع نکل سکتی ہے. فرد بیع نکلوانے کے بعد اگر بیچنے والی زمین کی رجسٹری نہ کروائی جائے تو وہ فرد بیع 14 دن بعد منسوخ ہو جاتی ہے. اس کے بعد زمین کی مالیت کے حساب سے E Stamp paper نکلوائیں. فائلر 5 فیصد ٹیکس زمین کی مالیت کے حساب سے ادا کر کے E stamp paper نکلوائے گا اور نان فائلر 6 فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرے گا۔ زرعی زمین پر 4 فیصد ٹیکس ادا کیا جائے گا. ای سٹیمپ پیپر پر بیچنے والے اور خریدنے والے کا نام تحریر ہوگا. اس اسٹام پیپر پر زمین کا ڈی سی ریٹ لکھا ہوگا کہ کتنے روپے کی زمین فروخت کی جارہی ہے وہ قیمت لکھی ہوگی. اس کے علاوہ اسی E stamp paper پر مکمل تحریر ہوگی کہ کون شخص کس کو زمین بیچ رہا ہے اور کتنے روپے میں بیچ رہا ہے اور اسی طرح گواہان کے نام پتہ ہوگا۔ سب سے اہم اس E stamp paper یا اسٹام پیپر پر نقشہ بنایا جاتا ہے فروخت ہونے والے پلاٹ یا مکان کا جس کے چاروں طرف نشاندہی کی جاتی ہے کہ کیا چیز ہے مطلب آس پاس کے مکان یا زمین کس کی ملکیت ہے.۔ اس سب کا مقصد زمین کو محفوظ بنانا ہے کہ کل کو کوئی اور شخص اس زمین پر قبضہ نہ کرلے اور رجسٹری سے پتہ چل جائے کون کس زمین کا مالک ہے. دوسرا مرحلہ میں اسٹام پیپر زمین کی مالیت کے حساب سے نکلوانے اور تحریر کروانے کے بعد مندرجہ ذیل ڈاکومنٹس لگا کر متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں۔ فرد بیع، بیچنے خریدنے والوں کے شناختی کارڈ کی کاپی، ایف بی آر، ٹی ایم اے ٹیکس اور دیگر ٹیکس کی پیمنٹ رسید۔ یہ فائل تیار کرنے کے بعد متعلقہ ضلع کے رجسٹرار کے پاس جائیں
وہاں رجسٹرار کے سامنے بیچنے والا آپکے حق میں بیان دے گا اور گواہان کی فوٹو بننے اور سائن ہونے کے بعد آپکی رجسٹری ہو جائے گی اور پھر رجسٹری آپکے ایڈریس پر چند دنوں کے اندر بھیج دی جائے گی.

انتقال اور رجسٹری میں کیا فرق ہے؟

رجسٹری اور انتقال زمین میں کوئی فرق نہیں. رجسٹری بھی ملکیت کا ثبوت ہے جبکہ انتقال زمین بھی ملکیت کا ثبوت ہے. رجسٹری کے بعد اگلا مرحلہ انتقال کا ہوتا ہے. رجسٹری حاصل کرنے کے بعد مالک زمین متعلقہ پٹواری کے پاس جائے گا جو رجسٹری کی مصدقہ کاپی دیکھنے کے بعد آپکے نام زمین انتقال کر دے گا. اس انتقال کی فیس 300 روپے ہے اس سے زیادہ پیسے پٹواری کو نہ دیں. سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قانون وضع کر دیا ہے کہ شہری علاقوں میں زمین کی منتقلی رجسٹری کے ذریعے ہی ہوگی نہ کے انتقال کے ذریعے.
PLD 2019 Sc 297

لیگل سلوشن ود ایڈوکیٹ سائرہ لیگل نیٹ ورک یا سوشل میڈیا ٹیم کا ہمیشہ کوشش یہ ہوگا کہ عوام کو قانون میں اسانی پیدا کرے
02/03/2023

لیگل سلوشن ود ایڈوکیٹ سائرہ لیگل نیٹ ورک یا سوشل میڈیا ٹیم کا ہمیشہ کوشش یہ ہوگا کہ عوام کو قانون میں اسانی پیدا کرے

معایدہ کی خلاف ورزی پر قانون
24/02/2023

معایدہ کی خلاف ورزی پر قانون

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ پڑھے لکھے افراد روزمرہ کے درپیش مسائل سے واقف ہونے کے باوجود یہ نہیں جانتے کہ انکے مسائل س...
20/02/2023

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ پڑھے لکھے افراد روزمرہ کے درپیش مسائل سے واقف ہونے کے باوجود یہ نہیں جانتے کہ انکے مسائل سے کس طرح نمٹا جائے
لیگل سلوشن ود ایڈوکیٹ سائرہ ، لیگل ٹیم اور سوشل نیٹ ورک نے اسی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک کمپیئن شروع کردی فیس بک پیج پر جس پر عام عوام کی رہنمائی کیلئے کوشاں ہیں

19/02/2023

ڈرائیونگ لائسنس ریونیو کروانے کا طریقہ کار۔
19/02/2023

ڈرائیونگ لائسنس ریونیو کروانے کا طریقہ کار۔

Address

District Court F-8 Markaz Islamabad
Islamabad
442200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Solutions With Advocate Saira posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Solutions With Advocate Saira:

Share