Advocate Rehan A Khan

Advocate Rehan A Khan Family Law Attorney,
criminal lawyer. Legal and Tax Consultant.

25/09/2026
25/09/2026

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کرایہ داری کی مدت میں زبانی طور پر توسیع کا دعویٰ کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ اسے ایک ماہ کی توسیع تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس سے آگے کی مدت، مثلاً 15 سال کی زبانی توسیع، اس وقت تک تسلیم نہیں کی جا سکتی جب تک دوسرا فریق خود اس بات کو تسلیم نہ کرے۔ لہٰذا محض یک طرفہ دعویٰ کہ کرایہ داری 15 سال کے لیے زبانی طور پر بڑھائی گئی تھی، دوسرے فریق کے اقرار کے بغیر درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
PLJ 2026 Lahore 663
Where period of tenancy is orally extended, the said extension at the most can be treated as for one month only and cannot be treated as an extension for a period beyond the said time frame unless the other party concedes to the same, hence, the ground raised by the petitioner that tenancy had been orally extended for 15-years cannot be assumed to be correct as the other side has not conceded to the same.
WP. 7652-26
KHIZAR HAYYAT VS ADJ ETC

25/09/2026

*2026 YLR 2182 - ویڈیو کلپ / یو ایس بی کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے کا قانونی طریقہ*

اس فیصلے میں معزز عدالت نے الیکٹرانک شہادت کے حوالے سے بہت اہم قانونی نکتہ واضح کیا ہے۔

*مقدمہ کیا تھا؟*
ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک گھر میں گھس کر فائرنگ کر کے دو افراد کو قتل کیا اور سامان لوٹ لیا۔ مقتولین کی بہو نے عدالت میں ایک یو ایس بی پیش کی اور کہا کہ واقعہ کے دو دن بعد جب وہ ہسپتال اپنے زخمی سسر سے ملنے گئی تو سسر نے پولیس کے سامنے ملزمان کے خلاف بیان دیا اور اس نے یہ بیان اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کر لیا تھا۔

*عدالت نے ویڈیو کو ناقابلِ ثبوت کیوں قرار دیا؟*

*1۔ قانون کے مطابق پیش نہ کرنا:*
یو ایس بی کو شہادت کے دوران قانونی طریقے سے پیش ہی نہیں کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے اس کو ثبوت میں داخل کرنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا اور دفاع کے اعتراض پر کوئی فیصلہ بھی نہیں دیا۔

*2۔ ملزم کو کاپی فراہم نہ کرنا:*
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-C کے تحت ہر ثبوت کی نقل ملزم کو دینا لازم ہے۔ یہ یو ایس بی ملزمان کو فراہم نہیں کی گئی تھی جو ان کے حقِ دفاع کے خلاف ہے۔

*3۔ تفتیش میں ذکر تک نہیں:*
تفتیشی افسر نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کے سامنے کوئی ویڈیو نہیں بنی اور نہ ہی تفتیش کے دوران ایسی کوئی ویڈیو اسے پیش کی گئی۔

*4۔ کھلی عدالت میں نہ چلانا:*
قانون کے مطابق ٹرائل کورٹ کو ویڈیو کھلی عدالت میں چلانی چاہیے تھی، اس کے نوٹس بنانے چاہیے تھے اور دفاع کو اس پر جرح کا موقع دینا چاہیے تھا۔ عدالت نے ایسا کچھ نہیں کیا، اس لیے اس ویڈیو کو ملزم کے خلاف نہیں پڑھا جا سکتا۔

*اس فیصلے سے سبق:*

قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 164 کے تحت الیکٹرانک ثبوت بالکل قابلِ ثبوت ہے، لیکن اس کا ایک طریقہ کار ہے۔

کسی بھی ویڈیو، سی سی ٹی وی، یو ایس بی کو فرانزک لیب سے تصدیق کروانا، اس کی چین آف کسٹڈی ثابت کرنا، عدالت میں کھلی عدالت میں چلانا اور دفاع کو جرح کا پورا موقع دینا لازمی ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو چاہے ثبوت کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، عدالت اسے ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کر سکتی۔

25/09/2026

📢 ایف بی آر (FBR) کا سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور کنٹنٹ کریئیٹرز کے لیے نیا ٹیکس قانون
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے پاکستان میں سوشل میڈیا سے آمدنی حاصل کرنے والے افراد (YouTubers, TikTokers, Influencers وغیرہ) کے لیے ایک نیا نوٹیفکیشن S.R.O. 1641(I)/2026 جاری کیا ہے۔ اس کا مقصد سوشل میڈیا کنٹنٹ کے ذریعے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس کے نظام کو واضح اور آسان بنانا ہے۔
آئیے اس نوٹیفکیشن کی اہم باتوں کو آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں:
1️⃣ یہ قانون کن پر لاگو ہوتا ہے؟
* پاکستان کے رہائشی افراد (Resident Persons): ہر وہ شخص جو پاکستان میں صارفین کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جڑ کر کسی بھی قسم کی آمدنی کماتا ہے۔
* اس میں اشتہارات، سپانسرشپ، اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی رقم شامل ہے۔
2️⃣ کمائی (آمدنی) کا حساب کیسے ہوگا؟
آمدنی کا حساب درج ذیل دو طریقوں میں سے جو زیادہ ہو اس کی بنیاد پر کیا جائے گا:
* (الف) ویوز کے حساب سے (Estimated Revenue):
* فرمائش کے مطابق RPM (Revenue Per Mille) کو PKR 195 مقرر کیا گیا ہے (یعنی ہر 1,000 ویوز پر 195 روپے)۔
* فارمولا: (\text{کل ویوز} \div 1000) \times 195
* (ب) اصل آمدنی (Actual Revenue):
* جو رقم کریئیٹر کو اصل میں وصول ہوئی ہو (خواہ وہ نقد رقم ہو یا تحائف/دیگر اشیاء کی صورت میں)۔
> ⚠️ نوٹ: اگر آپ کی اصل آمدنی مقرر کردہ فارمولے کی حد سے کم ہے، تو آپ کو کمشنر (Tax Commissioner) کے سامنے اس بات کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔
>
3️⃣ ٹیکس کی قابلِ حساب رقم (Formula)
ٹیکس کا حساب لگانے کے لیے کم سے کم آمدنی اس فارمولے سے نکلے گی:

* A = کل حاصل ہونے والی آمدنی
* B = اخراجات (Expenses)، جن کی حد کل آمدنی کے زیادہ سے زیادہ 30% تک اجازت ہے۔
4️⃣ ایڈوانس ٹیکس اور ریٹرن فائلنگ
* ایڈوانس ٹیکس (Advance Tax): تمام کریئیٹرز کو ہر سہ ماہی (Quarter) کا ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
* ٹیکس ریٹرن (Income Tax Return): انکم ٹیکس ریٹرن میں سوشل میڈیا آمدنی کو مخصوص خانے میں ڈکلیئر کرنا لازمی ہوگا۔
* اگر ڈکلیئر کی گئی آمدنی قانونی حساب سے کم پائی گئی تو ٹیکس حکام غلطی درست کر کے بقایا رقم وصول کر سکتے ہیں۔
مختصر خلاصہ:
اگر آپ یوٹیوب، فیس بک یا دیگر پلیٹ فارمز سے پیسے کما رہے ہیں، تو اب آپ کو اپنی آمدنی پر 30% تک کے اخراجات کاٹنے کے بعد باقی رقم پر انکم ٹیکس قوانین کے مطابق ٹیکس اور ریٹرن فائل کرنا ہوگا۔

25/09/2026

2026 PCr.LJ 1730
PLJ 2026 Lahore 15
Offence under Section 462-I of PPC was triable by Court of Sessions. When report under Section 173 of Cr.P.C. regarding the said offence is submitted before the Magistrate under Section 190 of Cr.P.C. he is supposed to send the case to the Court of Sessions without recording any evidence under Section 190 (2) of Cr.P.C. If the Magistrate finds that report under Section 173 of Cr.P.C. is not accompanied by complaint, as required by Section 462-O of PPC, he is supposed to ask the prosecution to procure the said complaint from concerned officer not below the rank of Grade 17 and then to forward the report to the learned trial court (Sessions Court) alongwith above complaint, because said provision of 462-O of PPC has always to be read in conjunction with Section 230 of Cr.P.C.

Under the above provision of law when complaint or sanction of the Government, where it is required by the law, for taking cognizance by the Court has not been obtained, the court shall not proceed further unless the said complaint or sanction, as the case may be, has been obtained from the concerned quarter.
Writ Petition No. 14839 of 2024
The State through Deputy Prosecutor General Punjab, Multan.

25/09/2026

2026 CLC 239...
شا ملات زمین کی تقسیم سے پہلے stay کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔

فیملی کورٹ کی جانب سے شوہر کا حقِ دفاع ختم کرنے کے حکم کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہآئینی درخواست نمبر 59060/2025م...
25/09/2026

فیملی کورٹ کی جانب سے شوہر کا حقِ دفاع ختم کرنے کے حکم کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

آئینی درخواست نمبر 59060/2025
محمد وحید بنام رداۓ زہرہ وغیرہ
درخواست گزار کی جانب سے وکیل: رائے حسن رضا شیر،
عدالت : جسٹس احمد ندیم ارشد، لاہور ہائیکورٹ

ایک مقدمہ جہیز کی واپسی سے متعلق تھا، جس میں معزز فیملی کورٹ نے West Pakistan Family Courts Act, 1964 کے سیکشن 17-A کا حوالہ دیتے ہوئے شوہر/مدعا علیہ کا حقِ دفاع (Right to Defence) ختم کر دیا تھا۔

اس حکم کے خلاف W.P. No. 59060 of 2025 کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

معزز جسٹس احمد ندیم ارشد، لاہور ہائیکورٹ نے معاملہ کا جائزہ لیتے ہوئے فیملی کورٹ کے مذکورہ حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شوہر کا حقِ دفاع بحال کر دیا۔
کیونکہ
سیکشن 17-A صرف Maintenance (نان نفقہ) کے کیسز پر لاگو ہوتا ہے۔

• Family Courts Act 1964 کا سیکشن 17-A عدالت کو
صرف اس صورت میں اختیار دیتا ہے کہ:

اگر Maintenance کا کیس ہو اور مدعا علیہ (Defendant) نان نفقہ دینے میں ناکام ہو
تب عدالت اس کا حقِ دفاع ختم کر سکتی ہے

17 -A
کا استمال کرکے شوہر کا حق دفاع غلط طور پر ختم کیا گیا

یہ معاملہ اس قانونی نکتے کے حوالے سے اہم ہے کہ سیکشن 17-A کے تحت حقِ دفاع ختم کرنے کا اختیار مخصوص قانونی حالات اور اس کے دائرۂ کار کے مطابق استعمال ہونا چاہیے۔

لاہور ہائیکورٹ جسٹس احمد ندیم ارشد نے میری رٹ پٹیشن نمبر 59060 /25 میں فیملی کورٹ کے حکم کو کالعدم کر ار دے کر شوہر کا حق دفاع بحال کر دیا ۔

W.P. No. 59060 of 2025
Muhammad Waheed Vs. Rida-e-Zehra etc.
Hon’ble Mr. Justice Ahmad Nadeem Arshad
Lahore High Court
Advocate Rehan A Khan
Advocate High Court
📞 03336455124

Address

Punjab
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 13:00
Saturday 09:00 - 16:00

Telephone

+923336455124

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Rehan A Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Advocate Rehan A Khan:

Shortcuts

Share