Advocate Rehan A Khan

Advocate Rehan A Khan Family Law Attorney,
criminal lawyer. Legal and Tax Consultant.

PLJ 2026 SC 429اگر نان و نفقہ کی ڈگری میں یہ نہ ہو کہ سالانہ اضافہ ابتدائی ڈگری کی رقم پر ہوگا یا کمپاؤنڈ (یعنی اضافہ شد...
21/08/2026

PLJ 2026 SC 429
اگر نان و نفقہ کی ڈگری میں یہ نہ ہو کہ سالانہ اضافہ ابتدائی ڈگری کی رقم پر ہوگا یا کمپاؤنڈ (یعنی اضافہ شدہ رقم پر) ہوگا، تو اس صورت میں سالانہ اضافہ ابتدائی ڈگری کی رقم پر ہی ہوگا۔
⚖️ قانون کی بالادستی ہی انصاف کی ضامن ہے!

پنجاب میں تمام اسلحہ ڈیلرز کو 26 اگست تک دکان میں موجود تمام سامان کی آن لائن پورٹل پر انوینٹری درج کرنے کا حکم,26 اگست ...
21/08/2026

پنجاب میں تمام اسلحہ ڈیلرز کو 26 اگست تک دکان میں موجود تمام سامان کی آن لائن پورٹل پر انوینٹری درج کرنے کا حکم,26 اگست کے بعد کریک ڈاؤن شروع کردیا جائے گا،محکمہ داخلہ پنجاب کا نوٹیفکیشن جاری

21/08/2026

PLJ 2025 Cr.C. 418

اگر گولی گھٹنے سے نیچے ماری جائے تو دفعہ 324 ت پ(اقدام قتل) کا اطلاق مزید تحقیق طلب ہوگا۔لیکن اگر گولی گھٹنے سے اوپر ران میں ماری جائے تو دفعہ 324 ت پ لاگو ہوگا کیونکہ ران میں خون اور آکسیجن سپلائی کرنے والی شریان ہوتی ہے جسکو نقصان پہنچنے کی صورت میں زیادہ خون بہہ جانے سے موت بھی ہوسکتی ہے یا ٹانگ کٹنے کا سبب بھی بن سکتی ہے
If injury has been caused below knee, then applicability of Section 324 PPC requires further probe/inquiry within the purview of sub-section 2 of Section 497 Cr.P.C., however, if injury has been caused above knee on the (naeem)leg at thigh, then situation is otherwise because femoral artery, which is major blood vessel, is located in thigh starting from groin coming to the back of knee and it supplies oxygen-rich blood to the lower parts of the body. So, femoral artery if damaged can cause lower limb ischemia leading to amputation of limb, compartment syndrome as well as death (naeem)due to severe blood loss from a major artery in the leg, hence if firearm injury has been caused at thigh, then prima facie section 324 PPC is attracted.
Bail refused.

21/08/2026

2026 SCMR 1010

اگر کسی ملزم یا زخمی کے جسم پر موجود چوٹیں FIR، استغاثہ کے گواہوں یا Investigating Officer کے بیان سے admitted facts بن چکی ہوں، تو صرف Medical Officer کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی بنیاد پر دفاع کو نقصان نہیں پہنچتا۔
سپریم کورٹ۔

ملزمان پر مدعی کے بیٹے کے قتل اور مدعی کو فائرنگ سے زخمی کرنے کا الزام تھا۔ ایک Medical Officer نے بری ہونے والے شریک ملزم کا طبی معائنہ کرکے Medico-Legal Report جاری کی، لیکن وہ عدالت میں بطور گواہ پیش نہ ہوا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس کا پیش نہ ہونا fatal نہیں تھا، کیونکہ:
شریک ملزم کو لگنے والی چوٹ کا ذکر خود مدعی نے FIR میں کیا تھا۔
استغاثہ کے گواہوں نے بھی ان چوٹوں کو تسلیم کیا تھا۔
تفتیشی افسر نے بھی ملزمان کو پہنچنے والی چوٹوں کو تسلیم کیا تھا۔
لہٰذا جب کوئی حقیقت فریقِ مخالف خود تسلیم کر لے تو اسے مزید ثبوت سے ثابت کرنا ضروری نہیں رہتا۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ دفاع کے ثبوت کا معیار استغاثہ کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ استغاثہ کو اپنا مقدمہ beyond reasonable doubt ثابت کرنا ہوتا ہے، جبکہ ملزم کسی معقول شک کو پیدا کرنے کے لیے حالات یا کسی قابلِ اعتماد مادی شہادت پر انحصار کرسکتا ہے۔

مجموعی حالات سے عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف مقدمہ شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ چنانچہ اپیل منظور کرکے سزا ختم کردی گئی اور ملزم کو بری کردیا گیا۔

(d) Medical evidence---Non-appearance of Medical Officer as witness---Inconsequential---
Accused-appellants were charged for committing murder of the son of complainant and causing firearm injuries to the complainant---Medical Officer, who medically examined co-accused since acquitted and issued his Medico Legal Report, did not appear in the witness box but it was noteworthy that sustaining of injury by co-accused since acquitted had been admitted by the complainant himself in the contents of the FIR and the said fact was also admitted by prosecution witnesses---Likewise, the sustaining of injuries by appellant and co-accused since acquitted, had been admitted by the Investigating Officer---As the injuries on the bodies of the said members of the accused party were admitted by the prosecution witnesses, therefore, the admitted facts need not to be proved, hence non-appearance of the Medical Officer in the witness box was not fatal to the appellant's case---Standard of proof required to establish a defence plea was lighter as compared to the prosecution because the prosecution had to prove its case beyond the shadow of any doubt, whereas the accused only had to create a reasonable doubt in the prosecution case through some attending circumstance(s) or some tangible evidence---Circumstances established that the prosecution had failed to prove its case against the appellant beyond the shadow of doubt---Appeal against conviction was allowed, accordingly.
Iftikhar Ahmed v. State
(Malik Shahzad Ahmad Khan, J.)

21/08/2026

بھنگ یا کوئی دوسرا نشہ پی کر گاڑی چلانا جرم ہے جسکی سزا دو سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
Section 100 MVO.
Motor vehicle orderinanc.

21/08/2026
⚖️ PLD 2024 Supreme Court 112 ⚖️دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت.سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 19...
19/08/2026

⚖️ PLD 2024 Supreme Court 112 ⚖️

دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت.

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت اگر کوئی شادی شدہ مرد دوسری شادی کرنا چاہے تو اسے پہلے یونین کونسل/ثالثی کونسل (Arbitration Council) سے اجازت لینا ضروری ہے۔

صرف پہلی بیوی کی رضامندی کافی نہیں، بلکہ قانون کے مطابق مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔

اگر اجازت کے بغیر دوسری شادی کی جائے تو؟
اگر کوئی شخص قانونی اجازت حاصل کیے بغیر دوسری شادی کرتا ہے تو:

✅ پہلی بیوی شکایت درج کرا سکتی ہے۔
✅ شوہر کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
✅ عدالت جرمانہ عائد کر سکتی ہے۔

✅ شوہر پر پہلی بیوی کا پورا حقِ مہر (مؤجل یا غیر مؤجل) فوری طور پر ادا کرنا لازم ہو جاتا ہے۔

اہم قانونی نکتہ

یہ فیصلہ دوسری شادی کو مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں دیتا، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ دوسری شادی کے لیے قانون میں مقرر کردہ طریقہ کار اور اجازت کی پابندی ضروری ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر شوہر کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مختصر خلاصہ

📌 دوسری شادی کے لیے قانونی اجازت ضروری ہے۔
📌 اجازت کے بغیر دوسری شادی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
📌 پہلی بیوی شکایت کر سکتی ہے۔
📌 شوہر پر جرمانہ اور حقِ مہر کی فوری ادائیگی لازم ہو سکتی ہے۔
ریحان اے خان گُلوال
#گُلوال لاء چیمبر
03336455124

Address

Punjab
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 13:00
Saturday 09:00 - 16:00

Telephone

+923336455124

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Rehan A Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Advocate Rehan A Khan:

Shortcuts

Share