Advocate Rehan A Khan

Advocate Rehan A Khan Family Law Attorney,
criminal lawyer and providing legal services

22/05/2026
22/05/2026

نوٹس کی تعمیل بذریعہ واٹس ایپ
اگر کسی شخص کی عدالت میں حاضری کو یقینی بنانے کے کے لیے سمن یا نوٹس بذریعہ واٹس ایپ بھیجا جائے اور دوسری طرف سے وہ شخص اس نوٹس یا سمن کو دیکھتا ہے اور واٹس ایپ پر ڈبل بلیو ٹکس آجائیں جس کا مطلب بذریعہ والے ہوتا ہے کہ میسج پڑھا جا چکا ہے۔ ایسی صورت میں نوٹس یا سمن تعمیل شده شمار ہوگا اسے بطور شہادت جرح تسلیم کیا جا سکتا ہے

2020 CLC 1019

22/05/2026

اور جب عدالتی حکم کی تعمیل ہوتی ہے تو توہین عدالت میں ایسے بیلف لے جاتے ہیں.
قانون کی حکمرانی کی مثال .عدالتی بیلف
Assistant Deputy commissioner
کو اس کے دفتر سے گرفتار کر کے لے جا رہے ہیں۔۔
Supremacy of law.

لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہرقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو روپے کے بجائے  #سونے یا امریکی  #ڈال...
22/05/2026

لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی تاریخ کا منفرد فیصلہ

رقم کی قدر برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو روپے کے بجائے #سونے یا امریکی #ڈالر کے حساب سے وصولی کا تاریخی اختیار دے دیا۔

​۱۔ #کیس کے حقائق (Facts of the Case)

#شادی اور تنازع:
صنم شہزادی (سائلہ/Petitioner) کی شادی 17 ستمبر 2009 کو محمد انور (مسئول علیہ/Respondent) سے ہوئی۔ ان کا ایک بیٹا "محمد نور اللہ" پیدا ہوا۔ محمد انور نے ایک اور خاتون (عصمت طاہرہ) سے دوسری شادی کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے میاں بیوی کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور صنم شہزادی کو گھر سے نکال دیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر رہنے لگی۔

#راضی نامہ/معاہدہ (07.10.2010):
دونوں خاندانوں کے بڑوں اور معززین نے مداخلت کر کے میاں بیوی میں صلح کروائی۔ اس صلح کے نتیجے میں 7 اکتوبر 2010 کو ایک تحریری راضی نامہ (معاہدہ نمبر 979) طے پایا، جس میں شوہر (محمد انور) نے درج ذیل ذمہ داریاں اٹھائیں:
​بیوی کو 2000 روپے ماہانہ جیب خرچ دے گا۔
​بیٹے نور اللہ کے نام 5 مرلہ زمین منتقل کرے گا (جو شوہر کے والد نے گفٹ کے ذریعے منتقل کر بھی دی تھی)۔
​اس 5 مرلہ زمین پر 3 ماہ کے اندر کم از کم 13 لاکھ روپے کی لاگت سے بیوی کے لیے گھر تعمیر کرے گا۔
​بیوی کو علیحدہ اور خوش رکھے گا۔

#خلاف ورزی کی صورت میں:
اگر شوہر نے اس معاہدے کی کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی، تو وہ بیوی کو ۲۵ لاکھ روپے بطور ہرجانہ/جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

#مقدمات کا آغاز:
صنم شہزادی نے الزام لگایا کہ شوہر نے معاہدے کی خلاف ورزی کی (گھر تعمیر نہیں کیا اور نہ علیحدہ رہائش دی)، لہٰذا اس نے ۲۵ لاکھ روپے ہرجانے کی وصولی کا دعویٰ دائر کر دیا۔
جواب میں شوہر (محمد انور) نے اس معاہدے کو منسوخ کرانے کے لیے ایک الگ دعویٰ دائر کر دیا۔ شوہر کا موقف تھا کہ اس سے یہ معاہدہ "ناجائز دباؤ" (Undue Influence) کے تحت زبردستی سائن کروایا گیا تھا اور اصل مقصد بیوی کا گھر آباد کرنا تھا، لیکن بیوی واپس نہیں آئی۔

​۲۔ #سول/ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اور وجوہات (Trial Court Decision & Reasons)
​ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات کو یکجا (Consolidate) کیا اور گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ۱۹ جنوری ۲۰۱۶ کو بیوی (صنم شہزادی) کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اس کا دعویٰ ڈگری کر دیا اور شوہر کا معاہدہ منسوخی کا دعویٰ خارج کر دیا۔

#ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
​شوہر نے یہ تسلیم کیا تھا کہ صلح کے لیے اسٹامپ پیپر اس نے خود خریدا تھا اور دستخط بھی اس کے اپنے تھے۔
​شوہر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس پر کوئی ناجائز دباؤ (Undue Influence) ڈالا گیا تھا۔
​شوہر نے خود اعتراف کیا کہ اس نے معاہدے کے تحت ۳ ماہ میں گھر تعمیر نہیں کیا، جس سے معاہدے کی خلاف ورزی ثابت ہوئی۔

​۳۔ اپیلٹ کورٹ ( #ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج) کا فیصلہ اور وجوہات
​شوہر نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سیالکوٹ نے ۲۰ مارچ ۲۰۱۷ کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ الٹ دیا، بیوی کا دعویٰ خارج کر دیا اور شوہر کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

#اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کی وجوہات:
​عدالت نے اس بات کو بنیاد بنایا کہ راضی نامے کے وقت بیوی خود اس پنچایت یا مجلس میں موجود نہیں تھی، اس لیے یہ معاہدہ یکطرفہ معلوم ہوتا ہے۔

​عدالت کا موقف تھا کہ معاہدے کا اصل مقصد میاں بیوی کا اکٹھے رہنا (Cohabitation) تھا، اور چونکہ بیوی مستقل طور پر شوہر کے گھر آ کر نہیں رہی، اس لیے معاہدہ ختم ہو گیا اور شوہر ہرجانہ دینے کا پابند نہیں۔

​۴۔ #لاہور ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ اور وجوہات

​بیوی نے اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں سول ریوائزن (Civil Revision) دائر کی۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ سائیڈ پر رکھ کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا اور بیوی کے حق میں ڈگری جاری کر دی۔

#ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجوہات

​ناجائز دباؤ (Undue Influence) کا غیر ثابت ہونا: ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ دباؤ تھا۔ شوہر ایک بالغ مرد تھا، اس نے یکم اکتوبر کو اسٹامپ خریدا اور ۷ اکتوبر کو معاہدہ لکھا گیا۔ اس ۷ دن کے وقفے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اچانک یا زبردستی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ سوچا سمجھا معاہدہ تھا۔

#جزوی عمل درآمد (Partial Performance):
معاہدے پر لکھنے سے پہلے ہی شوہر کے والد نے پوتے کے نام ۵ مرلہ زمین گفٹ کر دی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شوہر کا خاندان اس صلح سے پوری طرح واقف تھا اور یہ ایک حقیقی خاندانی تصفیہ (Family Settlement) تھا۔

​شرطِ اول کیا تھی؟: ہائی کورٹ نے اپیلٹ کورٹ کے اس نقطے کو مسترد کر دیا کہ بیوی پہلے آ کر رہتی۔ عدالت نے کہا کہ کشیدہ تعلقات اور دوسری بیوی کی موجودگی کی وجہ سے شوہر نے ۳ ماہ میں علیحدہ گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ شوہر خود اپنی شرط (گھر کی تعمیر) پوری کرنے میں ناکام رہا، اس لیے وہ سارا ملبہ بیوی پر نہیں ڈال سکتا۔ بیوی تو معاہدے کے بعد ایک دن کے لیے آئی بھی تھی، جس سے اس کی نیت صاف ظاہر ہوتی ہے۔

#مجلس میں بیوی کی غیر موجودگی:
ہمارے معاشرتی پس منظر میں میاں بیوی کی صلح کے معاملات میں خاتون کے بزرگ (والد یا چچا) اس کی طرف سے بات چیت کرتے ہیں۔ اس لیے بیوی کا دستخط نہ کرنا یا وہاں جسمانی طور پر موجود نہ ہونا معاہدے کو غیر قانونی نہیں بناتا، خصوصاً جب وہ خود اس معاہدے کو تسلیم کر رہی ہو۔

​۵۔ #زرِتلافی کی قدر برقرار رکھنے کا خصوصی حکم (Moulding of Relief)
​عدالت نے ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ اٹھایا۔ چونکہ یہ معاہدہ ۲۰۱۰ کا تھا اور ہرجانے کی رقم ۲۵ لاکھ روپے طے ہوئی تھی، اور اب (۲۰۲۶ میں) طویل عرصہ گزرنے کی وجہ سے روپے کی قدر (Value of Money) بہت کم ہو چکی ہے۔
​عدالت نے سائلہ (بیوی) کو یہ اختیار دیا کہ وہ ۲۵ لاکھ روپے کی وصولی کے لیے دو میں سے کسی ایک طریقے کا انتخاب کر سکتی ہے تاکہ رقم کی اصل قوتِ خرید برقرار رہے:
​یا تو وہ ادائیگی کے وقت کے امریکی ڈالر (US Dollar) کے ایکسچینج ریٹ کے حساب سے اتنی رقم وصول کرے۔
​یا پھر وہ ادائیگی کے وقت مارکیٹ میں سونے (Gold) کی قیمت کے حساب سے اس رقم کے برابر سونا یا رقم وصول کرے۔
Civil Revision 24335/17
(Sanam Shahzadi Vs Muhammad Anwar)
Mr. Justice Raheel Kamran
Shared by: ریحان اے خان گُلوال ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

60 لاکھ روپے کے چیک کے مقدمہ میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ اتنی خطیر ر...
21/05/2026

60 لاکھ روپے کے چیک کے مقدمہ میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ اتنی خطیر رقم کا چیک ہے۔ اس لین دین کا کوئی الگ سے معاہدہ موجود نہیں۔
واضح رہے اس سے پہلے لاہور ہائیکورٹ بھی ایک مقدمہ میں چیک کے کیس میں الگ سے معاہدہ کرنا بھی ضروری قرار دے چکی ہے۔
سپریم کورٹ نے اس حالیہ فیصلے میں یہ بھی کہا کہ یہ تنازعہ دیوانی نوعیت کا لگتا ہے۔ مزید یہ بھی کہ چیک کے کیس کی زیادہ سے زیادہ سزا 3 سال تک قید ہے جو کہ جرم امتناعی کلاز میں فال نہ کرتا ہے۔ ایسے حالات میں ضمانت دیے جانا ایک اصول ہے اور ضمانت خارج کرنا ایک استثنی۔
کوشش کریں جب کسی سے چیک لیں تو اس لین دین سے متعلق الگ سے معاہدہ بھی لکھوا لیا کریں۔

21/05/2026

فیملی کورٹس (ترمیمی) بلز، جو سینیٹ آف پاکستان سے منظور کیے گئے جو فیملی اور نے نان و نفقہ کے مقدمات میں تاخیر کو یکسر کم کرنے کے لیے اہم اصلاحات متعارف کرائے ہیں۔ قانون سازی کا حکم ہے کہ خواتین اور بچوں کے لیے عبوری نان و نفقہ پہلی ہی سماعت میں مقرر کی جائے، عدم ادائیگی کے سنگین قانونی نتائج ہونے چاہیے۔ ان تاریخی قانون سازی کا مقصد کمزور خاندانوں کی حفاظت اور کمرہ عدالت کے طریقہ کار کو جدید بنانا ہے۔ کلیدی دفعات میں شامل ہیں:
فوری نان و نفقہ کا تعین: عدالتوں کو اب خواتین اور بچوں کے لیے فوری مالی امداد کو یقینی بنانے کے لیے پہلی سماعت پر دیکھ نان و نفقہ الاؤنسز کا تعین کرنے اور اسے طے کرنے کی ضرورت ہے۔
تاخیر کے لیے سخت سزائیں:
اگر مدعا علیہ ہر ماہ کی 14 تاریخ تک ادائیگیوں کو ختم کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو عدالت ان کے دفاع کو ختم کر سکتی ہے اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ایک ثبوت جاری کر سکتی ہے۔ فیملی کورٹس ایکٹ کے سیکشن 11 میں عدالتی صوابدید اور فریقین کی باہمی رضامندی سے مشروط بیانات کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت دینے کے لیے خاص طور پر ترمیم کی گئی تھی۔
ریحان اے خان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

علاقہ مجسٹریٹ کی سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار​جب بھی کسی فوجداری مقدمے میں سرکار (State) کی طرف سے نامزد کردہ ملزم کو ع...
20/05/2026

علاقہ مجسٹریٹ کی سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار
​جب بھی کسی فوجداری مقدمے میں سرکار (State) کی طرف سے نامزد کردہ ملزم کو علاقہ مجسٹریٹ (Illaqa Magistrate) سزا سناتا ہے، تو قانونِ پاکستان کے تحت اس سزا کے خلاف اپیل کا طریقہ کار درج ذیل ہے:
​1۔ اپیل کہاں دائر ہوگی؟ (Forum of Appeal)
​فورم: علاقہ مجسٹریٹ (خواہ وہ سیکشن 30 کا مجسٹریٹ ہو یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ) کی سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل سیشن کورٹ (Sessions Court) میں دائر کی جاتی ہے۔
​قانونی دفعہ: یہ اپیل ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 408 (Section 408 CrPC) کے تحت سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں دائر ہوتی ہے۔
​2۔ اپیل کتنے دنوں میں دائر کرنی ہوتی ہے؟ (Limitation Period)
​میعادِ سماعت: علاقہ مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت 30 دن ہے۔
​قانونی حوالہ: قانونِ میعاد سماع (Limitation Act, 1908) کا آرٹیکل 154۔
​وضاحت: یہ 30 دن اس تاریخ سے شروع ہوتے ہیں جس دن مجسٹریٹ نے فیصلہ سنایا ہو۔ فیصلے کی تصدیق شدہ نقل (Certified Copy) حاصل کرنے میں جو دن لگتے ہیں، وہ اس وقت میں سے نکال (Minus کر) دیے جاتے ہیں۔
​3۔ اہم عدالتی نظائر (Relevant Judgements)
​اپیل کے حق پر اصول (PLD 2018 Supreme Court 332):
اس فیصلے کے تحت اپیلٹ عدالت (سیشن کورٹ) پابند ہے کہ وہ مجسٹریٹ کی عدالت کے پورے ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کا دوبارہ تفصیلی جائزہ لے۔
​دورانِ اپیل سزا کی معطلی اور ضمانت (2021 SCMR 445):
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 (Section 426 CrPC) کے تحت سیشن کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپیل کا حتمی فیصلہ ہونے تک مجسٹریٹ کی سزا کو معطل کر کے ملزم کو ضمانت پر رہا کر دے۔
​4۔ اپیل کے لیے ضروری دستاویزات (Checklist)
​میمو آف اپیل (Memo of Appeal): جس میں مجسٹریٹ کے فیصلے کے قانونی نقائص اور گواہوں کے بیانات کے تضادات کو چیلنج کیا جاتا ہے۔
​فیصلے کی مصدقہ نقل (Certified Copy of Judgement): علاقہ مجسٹریٹ کے اصل فیصلے کی نقلِ مطابقِ اصل۔
​وکالت نامہ: کونسل/وکیل صاحب کا دستخط شدہ فارم۔
​درخواست زیر دفعہ 426 CrPC: دورانِ اپیل سزا معطلی اور رہائی کے لیے۔

20/05/2026

سکول سے لیکر ہسپتال تک سب کو پرائیویٹ پر اعتماد ہے
لیکن وکیل سب کو سرکاری چاہیے ۔

20/05/2026

سیکشن 13(6) کی تشریح پر مشتمل ہے۔

1. کرایہ دار جب مدعی (petitioner) ہو – مقررہ تاریخ میں ایک دن کی دیر کا اثر:
· رینٹ کنٹرولر نے کرایہ دار کو حکم دیا کہ وہ ہر مہینے کی 15 تاریخ تک کرایہ جمع کرائے۔
· کرایہ دار نے 16 تاریخ کو واؤچر کے لیے درخواست دی اور اسی دن رقم جمع کرا دی۔
· فیصلہ: سیکشن 13(6) کی زبان مجبوری (mandatory) ہے۔ ایک دن کی دیر بھی قانونی سزا کو متحرک کر دیتی ہے۔
· چونکہ کرایہ دار خود مدعی (petitioner) تھا، اس لیے واحد قانونی نتیجہ یہ تھا کہ اس کی درخواستِ کرایہ تعین فوری طور پر مسترد (summarily dismissed) کر دی جائے۔
2. مدعی اور مدعا علیہ کے لیے مختلف سزائیں – خودکار بے دخلی (eviction) کا دعویٰ:
· مالک مکان کا مؤقف تھا کہ کرایہ دار کی اس دیر کے نتیجے میں فوری بے دخلی کا حکم دیا جائے۔
· فیصلہ: سیکشن 13(6) میں دو الگ الگ سزائیں ہیں، جو لفظ "اور" سے جدا ہیں:
· (الف) اگر کرایہ دار مدعی (petitioner) ہے → اس کی درخواست سرسری طور پر خارج ہوگی۔
· (ب) اگر کرایہ دار مدعا علیہ (respondent) ہے → اس کا دفاع خارج ہوگا اور قبضہ مالک مکان کو دے دیا جائے گا۔
· اس مقدمے میں کرایہ دار مدعی تھا، اس لیے عدالت کا اختیار صرف اس کی درخواست کو خارج کرنے تک محدود تھا۔ بے دخلی کی سزا اس صورت میں قانوناً لا تعلق (irrelevant) ہے۔🙃
W.P No. 237- D of 2025
Amanullah Vs Abdul Qayyum (Writ Petition under Article 199 of the Constitution of Pakistan)
1. West Pakistan Urban Rent Restriction Ordinance (VI of 1959), Section 13(6) —Tenant as Petitioner — Default in deposit of tentative rent— Effect. The Rent Controller directed the tenant to deposit monthly rent by the 15th of each month. The tenant applied for a deposit voucher on the 16th and deposited the amount the same day. Held: The language of Section 13(6) is mandatory. A default of even one day triggers the statutory penalty. Since the tenant was the petitioner before Rent Controller, the only legal consequence was the summary dismissal of his rent petition.
2. Section 13(6) — Distinction between Penalties for Petitioner and Respondent—Automatic Eviction — Validity. Landlord contended that the tenant’s default should result in an immediate eviction order. Held: Section 13(6) provides two distinct penalties separated by the conjunction “and.” (i) If the tenant is the petitioner, his application shall be summarily dismissed; (ii) if the tenant is the respondent, his defense shall be struck off and possession be handed over to the landlord. As, in this case, the tenant occupied the role of the petitioner, the court exhausted its statutory authority upon dismissal of his rent petition summarily. The penalty of eviction is legally irrelevant in a petition filed by a tenant for rent fixation.
(Both the writ petitions, filed by tenant against dismissal of his rent petition and by landlord for eviction of tenant, were dismissed in the circumstances).
🙃 2026 PHC 2734🙃

20/05/2026

2026 MLD 525
Important Legal Update: Understanding Child Marriage Laws and Police Jurisdiction ⚖️
It is crucial to understand the procedural nuances of the Child Marriage Restraint Act. According to the latest legal precedents, offenses under this Act are considered non-cognizable, meaning the police do not have the authority to register an FIR directly without a court order.
Knowledge of the law is the first step toward justice.
اہم قانونی اپ ڈیٹ:
بچوں کی شادی کے قوانین اور پولیس کے دائرہ اختیار کو سمجھنا ⚖️ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کے طریقہ کار کی باریکیوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
تازہ ترین قانونی نظیروں کے مطابق، اس ایکٹ کے تحت جرائم کو ناقابل دست اندازی سمجھا جاتا ہے، یعنی پولیس کو عدالتی حکم کے بغیر براہ راست ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
قانون کا علم انصاف کی طرف پہلا قدم ہے۔
اپنا حق جان کر جیو۔

Address

Punjab
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 13:00
Saturday 09:00 - 16:00

Telephone

+923336455124

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Rehan A Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Advocate Rehan A Khan:

Share