SK Law Firm & Consultants Group Islamabad

SK Law Firm & Consultants Group Islamabad OUR WHATSAPP NUMBER: 0332-2223395
WE DEAL IN: CRIMINAL, CIVIL, FAMILY, SERVICE, CORPORATE, FBR, NADRA, CDA, RDA, SECP, FIA, CYBER CRIME.

خرچہ نان نفقہ سامان جہیز کی قیمت اور والد کے دوبارہ غریب ہو جانے پر خرچے میں کمی پر زبردست فیصلہ!
11/10/2026

خرچہ نان نفقہ سامان جہیز کی قیمت اور والد کے دوبارہ غریب ہو جانے پر خرچے میں کمی پر زبردست فیصلہ!

ایک ہی کاروباری لین دین کے تحت متعدد چیک ڈس آنر ہونے پر فوجداری کارروائی کا غلط استعمالاگر کوئی شکایت کنندہ ایک ہی کاروب...
09/10/2026

ایک ہی کاروباری لین دین کے تحت متعدد چیک ڈس آنر ہونے پر فوجداری کارروائی کا غلط استعمال

اگر کوئی شکایت کنندہ ایک ہی کاروباری لین دین کے تحت جاری کیے گئے متعدد چیکوں کے ڈس آنر ہونے سے مکمل طور پر آگاہ ہو، لیکن اس کے باوجود دانستہ طور پر بعض چیک اپنے پاس روک کر رکھے اور باقی چیکوں کی بنیاد پر مرحلہ وار فوجداری کارروائیاں شروع کرے، تاکہ ملزم کو مسلسل فوجداری دباؤ میں رکھا جا سکے، تو عدالت ایسے طرزِ عمل کو قانونی کارروائی کے ناجائز استعمال (Abuse of Process) کے طور پر قرار دے سکتی ہے۔

فوجداری قانون کو کسی شخص پر مسلسل دباؤ ڈالنے یا اسے ہراساں کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایک ہی لین دین سے متعلق متعدد ڈس آنر شدہ چیک شکایت کنندہ کے علم میں ہوں اور وہ دانستہ طور پر ان میں سے بعض کو روک کر باقی چیکوں کی بنیاد پر یکے بعد دیگرے کارروائیاں شروع کرے، تو عدالت حالات و واقعات کا جائزہ لے کر اسے عدالتی کارروائی کے ناجائز استعمال کے طور پر دیکھ سکتی ہے۔

مقدمہ: آمنہ شہزادی بنام سرکار وغیرہ عدالت: لاہور ہائیکورٹ فاضل جج: مسٹر جسٹس طارق سلیم شیخ تاریخِ فیصلہ: 29 جنوری 2026 مقدمہ نمبر: Crl. Misc. No. 71660/2025 حوالہ: 2026 LHC 6722

شوہر  نے بیوی کو ای میل کے ذریعے طلاق بھیجی۔  فیملی کورٹ نے نفقہ اور حقِ مہر کا دعویٰ تو منظور کیا، لیکن طلاق کی تصدیق ک...
09/10/2026

شوہر نے بیوی کو ای میل کے ذریعے طلاق بھیجی۔
فیملی کورٹ نے نفقہ اور حقِ مہر کا دعویٰ تو منظور کیا، لیکن طلاق کی تصدیق کا فیصلہ کرنے کی بجائے بیوی کو یونین کونسل سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔
یونین کونسل نے نوٹسز جاری کرنے اور کارروائی کے بعد 17 جنوری 2026 کو طلاق کا موثر ہونے کا سرٹیفکیٹ (Divorce Effectiveness Certificate) جاری کر دیا۔
شوہر نے اس سرٹیفکیٹ کو ہائی کورٹ میں اس بنیاد پر چیلنج کیا کہ اس نے خود یونین کونسل کو نوٹس نہیں دیا تھا (جو مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کی شرط ہے)، اور یہ کہ اس نے طلاق "مذاق" میں دی تھی۔
ہائی کورٹ کے اہم قانونی نکات و فیصلے:
فیملی کورٹ کی ذمہ داری: عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ طلاق کے واقع ہونے (factum of Talaq) کا فیصلہ کرنے سے محض اس لیے انکار نہیں کر سکتی کہ اس کا موثر ہونا (effectiveness) دفعہ 7 کے تحت آتا ہے۔ فیملی کورٹ کو اس مسئلے پر فیصلہ دینا چاہیے تھا۔
بیوی کا یونین کونسل کو اطلاع دینا: اگرچہ قانون کے مطابق طلاق کا نوٹس دینا شوہر کی ذمہ داری ہے، لیکن قانون بیوی کو بھی اس بات سے منع نہیں کرتا کہ وہ طلاق کے واقع ہونے کی اطلاع یونین کونسل کے چیئرمین کو دے۔
اپنی غلطی کا فائدہ اٹھانے کی ممانعت: شوہر اپنی ہی قانونی غلطی (نوٹس نہ دینے) کو ڈھال بنا کر کارروائی کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا اور نہ ہی بیوی کو غیر یقینی کی حالت میں لٹکا کر رکھ سکتا ہے۔
مصالحتی کارروائی سے گریز: شوہر کو نوٹس ملنے کے باوجود اس نے مصالحتی کارروائی میں حصہ نہیں لیا، اور طلاق کو "مذاق" قرار دینے کا موقف بعد میں گھڑا ہوا نظر آتا ہے۔
حتمی نتیجہ:
عدالت نے شوہر کی ریٹائینٹ درخواست کو خارج کرتے ہوئے یونین کونسل کے جاری کردہ طلاق کے سرٹیفکیٹ کو برقرار رکھا۔
قانون سازوں اور عدالتوں کو ہدایات: عدالت نے قانون سازوں (سیکرٹری قانون و انصاف) کو تجویز دی کہ وہ دفعہ 7 میں ترمیم پر غور کریں تاکہ بیوی کو بھی طلاق کی اطلاع دینے کا واضح قانونی حق مل سکے۔ نیز تمام فیملی کورٹس کو رہنمائی کے لیے اس فیصلے کی کاپی بھیجنے کی ہدایت کی گئی۔

تفتیش کے دوران حاصل کیے گئے دستاویزی اور ڈیجیٹل مواد، بالخصوص موبائل فونز، آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگز اور دیگر الیکٹرانک ریکار...
08/10/2026

تفتیش کے دوران حاصل کیے گئے دستاویزی اور ڈیجیٹل مواد، بالخصوص موبائل فونز، آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگز اور دیگر الیکٹرانک ریکارڈز کی اصالت، قابلِ قبولیت، متعلقہ ہونے اور اثباتی قدر (probative value) کا تفصیلی جائزہ مرحلۂ ضمانت پر نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ ایسے امور کا تعین شہادت قلمبند ہونے کے بعد باقاعدہ ٹرائل کے دوران معزز Trial Court کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ چنانچہ اس مرحلے پر مذکورہ مواد کی حتمی حیثیت متعین کرنا نہ صرف قبل از وقت ہوگا بلکہ ٹرائل کے دائرۂ کار میں مداخلت کے مترادف بھی ہوگا۔ موجودہ مقدمہ بادی النظر میں مزید تفتیش (further inquiry) کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت درخواست گزار ضمانت کی رعایت کا مستحق ہے۔

2۔ مزید تفتیش اور ڈیجیٹل شہادت کے حوالے سے

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیا جانے والا موبائل فون، آڈیو/ویڈیو مواد اور دیگر الیکٹرانک دستاویزات اپنی ذات میں ایسی حتمی اور ناقابلِ تردید شہادت نہیں ہیں جن کی بنیاد پر مرحلۂ ضمانت پر ملزم کی حتمی ذمہ داری متعین کی جا سکے۔ ان مواد کی اصالت، سالمیت، ماخذ، admissibility، relevancy اور evidentiary/probative worth کا تعین باقاعدہ شہادت ریکارڈ ہونے، گواہان کے بیانات اور جرح کے بعد ہی ممکن ہے۔ لہٰذا ان امور کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ کے لیے محفوظ رہنا چاہیے۔ اس مرحلے پر موجود شکوک و شبہات درخواست گزار کے حق میں جاتے ہیں اور معاملہ دفعہ 497(2)، ضابطہ فوجداری کے تحت مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔

3۔ Rule of Consistency کے حوالے سے

مزید برآں، شریک ملزم محمد موزن علی، جس کے انٹرویو اور ویزا سے متعلق دستاویزات ہی مبینہ طور پر اس تفتیش کے آغاز کا باعث بنے تھے، کو معزز عدالت پہلے ہی مورخہ 01.04.2026 کے حکم کے ذریعے بعد از گرفتاری ضمانت پر رہا کر چکی ہے۔ لہٰذا جب بنیادی تفتیشی مواد سے منسلک شریک ملزم کو ضمانت کی رعایت دی جا چکی ہے تو موجودہ درخواست گزار کے ساتھ یکساں قانونی معیار کا اطلاق ناگزیر ہے۔ اصولِ یکسانیت (Rule of Consistency) کے تحت، جب تک درخواست گزار کا کردار شریک ملزم سے نمایاں طور پر مختلف اور زیادہ سنگین ثابت نہ کیا جائے، اسے بھی مساوی رعایت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

4۔ غیر ممنوعہ دفعات کے حوالے سے

یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ درخواست گزار کے خلاف عائد کردہ دفعات 420، 468، 471 اور 109 PPC ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 میں مذکور prohibitory clause کے دائرے میں نہیں آتیں۔ ایسے مقدمات میں بنیادی اصول یہ ہے کہ ضمانت کی منظوری معمول اور ضمانت سے انکار استثنا ہوتا ہے۔ چنانچہ جہاں ملزم کے خلاف عائد الزامات ممنوعہ شق کے اندر نہ آتے ہوں، وہاں عدالت کو ضمانت سے انکار کے لیے غیر معمولی اور مضبوط وجوہات درکار ہوتی ہیں، خصوصاً جب مقدمہ مزید تفتیش کا متقاضی بھی ہو۔

5۔ مزید حراست کی ضرورت نہ ہونے کے حوالے سے

مزید یہ کہ درخواست گزار کے خلاف تفتیش میں مطلوبہ مواد پہلے ہی برآمد کیا جا چکا ہے، تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور چالان بھی عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ درخواست گزار اب مزید تفتیش، برآمدگی یا کسی ایسے مقصد کے لیے مطلوب نہیں جس کے لیے اس کی مسلسل حراست ضروری قرار دی جا سکے۔ لہٰذا ایسی صورتِ حال میں محض ان الزامات کی بنیاد پر اسے مزید جیل میں رکھنا، جو خود دفعہ 497 کے ممنوعہ دائرے میں نہیں آتے، کوئی مفید مقصد پورا نہیں کرے گا، بالخصوص جب درخواست گزار نے بادی النظر میں مزید تفتیش کا مقدمہ بھی قائم کر لیا ہے۔

مختصراً، تفتیش کے دوران جمع کیا گیا دستاویزی و ڈیجیٹل مواد، بشمول موبائل فونز، آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگز اور الیکٹرانک ریکارڈ، اپنی اصالت، قابلِ قبولیت، relevancy اور probative value کے تعین کے لیے باقاعدہ شہادت اور جرح کا متقاضی ہے، جس کا فیصلہ مرحلۂ ضمانت پر کرنا مناسب نہیں۔ ان امور کی حتمی تعیین معزز Trial Court کی جانب سے شہادت ریکارڈ ہونے کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، شریک ملزم محمد موزن علی، جس کے انٹرویو اور ویزا دستاویزات مبینہ طور پر تفتیش کے محرکات میں شامل تھیں، پہلے ہی مورخہ 01.04.2026 کو بعد از گرفتاری ضمانت کی رعایت حاصل کر چکا ہے، لہٰذا اصولِ یکسانیت کے تحت درخواست گزار بھی مساوی سلوک کا مستحق ہے۔ مزید یہ کہ درخواست گزار کے خلاف عائد دفعات 420، 468، 471 اور 109 PPC دفعہ 497 کے ممنوعہ دائرے میں شامل نہیں، چنانچہ ایسے مقدمات میں ضمانت اصول اور انکار استثنا ہے۔ چونکہ متعلقہ مواد برآمد کیا جا چکا ہے، چالان پیش ہو چکا ہے اور درخواست گزار اب مزید تفتیش کے لیے مطلوب نہیں، اس لیے اس کی مزید حراست کا کوئی مفید مقصد باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ موجودہ معاملہ دفعہ 497(2) Cr.P.C. کے مفہوم میں مزید تفتیش کا متقاضی ہے اور درخواست گزار ضمانت بعد از گرفتاری کی رعایت کا مستحق قرار پاتا ہے۔

Crl.P.L.A. No.100-K/2026, Syed Muhammad Ashfaq v. The State through Deputy Attorney General of Pakistan
فیصلہ مورخہ 24.09.2026، معزز جسٹس عقیل احمد عباسی۔

خلع اور تنسیخ نکاح کے موضوع پر سپریم کورٹ کے پانچ ججز پر مشتمل لارجر بنچ کا تفصیلی فیصلہ VVVVVVI. MUST READ JUDGEMENT.سپ...
08/10/2026

خلع اور تنسیخ نکاح کے موضوع پر سپریم کورٹ کے پانچ ججز پر مشتمل لارجر بنچ کا تفصیلی فیصلہ
VVVVVVI. MUST READ JUDGEMENT.

سپریم کورٹ نے تنسیخِ نکاح کی درخواست کو خاتون کی رضامندی کے بغیر خلع میں تبدیل کرنا غیر قانونی قرار دے دیا۔

عدالت نے دو خواتین کے نکاحوں کی تنسیخ خلع کے بجائے شقاق کی بنیاد پر برقرار رکھتے ہوئے خلع کی بنیاد پر حق مہر واپس کرنے یا چھوڑنے کی ہدایات کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں مقدمات میں نان نفقہ اور جہیز کے سامان سے متعلق فیصلے برقرار رکھے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ظلم و زیادتی ثابت نہ ہونے پر عدالت خاتون کی جانب سے خود خلع کا انتخاب نہیں کر سکتی، خلع اور قانون کے تحت تنسیخِ نکاح الگ راستے ہیں، مالی نتائج بھی مختلف ہیں، غیر رضاکارانہ خلع کے ذریعے خاتون کو حق مہر سے محروم نہیں کیا جا سکتا، سنگین اور مسلسل ازدواجی اختلاف، مصالحت ناکام ہونا شقاق کی بنیاد بن سکتا ہے، شقاق مسلم قانون میں تسلیم شدہ بنیاد ہے، دفعہ 2 کی شق 9 کے تحت نکاح ختم ہوسکتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ معمولی جھگڑے، مزاج کا اختلاف یا عارضی علیحدگی شقاق ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں، عدالت کو مطمئن ہونا ہوگا کہ ازدواجی اختلاف حقیقی، سنگین اور مسلسل ہے، نکاح ختم کرنے سے پہلے با معنی عدالتی کوشش کے باوجود مصالحت ناکام ہونا ضروری ہے، شقاق کی بنیاد پر تنسیخِ نکاح خاتون کے حق مہر سے دست بردار ہونے پر منحصر نہیں، خلع کی بنیاد پر حق مہر واپس کرنے یا چھوڑنے کی ہدایات کالعدم قرار دی جاتی ہیں، دونوں مقدمات میں نان نفقہ اور جہیز کے سامان سے متعلق فیصلے برقرار رکھے گئے۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ ظلم ثابت کیے بغیر شوہر کو ظالم قرار دینا بھی درست نہیں، خاندانی مقدمات میں دونوں فریقوں کے قانونی حقوق، عزت اور وقار کا تحفظ ضروری ہے

Family Courts committed an error of law in converting the petitioners’ claims for dissolution on the ground of cruelty into decrees of khula without obtaining their clear and voluntary consent or election. Those decrees, to the extent that they rest upon khula, cannot be sustained. The record, however, does not warrant setting aside the dissolution altogether. The matrimonial relationships have undergone a serious and continuing rupture; reconciliation has failed; the evidence does not establish the statutory ground of cruelty; and the record, taken as a whole, establishes a (naeem)condition of shiqaq of the kind contemplated by verse 35 of Surah An-Nisa of the Holy Quran and recognised under Muslim law, thereby bringing the cases within the residuary provision contained in section 2(ix) of the Act of 1939. The dissolution can therefore lawfully be sustained, but upon a juridical basis different from that adopted by the Family Courts.

The marriages of the petitioners are liable to dissolution on the ground of shiqaq falling within section 2(ix) of the Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939, and not on the basis of khula. The directions requiring the petitioners to return, surrender or waive their dower merely as a consequence of khula shall consequently stand set aside. Their entitlement to dower shall be determined in accordance with the Act of 1939 and the findings otherwise sustainable on the (naeem)record. The findings concerning maintenance and dowry articles, having been examined by the courts below and not having been shown to suffer from any error of law, jurisdictional defect, material misreading or non-reading of evidence warranting interference under Article 199 of the Constitution, shall remain undisturbed.

C.P.L.A.57/2025
Mst. Zainab Bibi v. Muhammad Waseem and others
07-10-2026

سالانہ نان نفقہ میں 10 فیصد سے زائد اضافہ بھی Family Court کر سکتی ہےسپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ Family Court کو یہ اخت...
02/10/2026

سالانہ نان نفقہ میں 10 فیصد سے زائد اضافہ بھی Family Court کر سکتی ہے

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ Family Court کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے نان نفقہ (Maintenance) میں سالانہ اضافہ 10 فیصد سے زیادہ بھی مقرر کر سکتی ہے، اور یہ اضافہ کمپاؤنڈ بنیاد پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایسا حکم Family Courts Act, 1964 کی دفعہ 17-A(3) کی خلاف ورزی نہیں ہوگا۔

📍قانونی نکتہ:

فیملی کورٹ ایکٹ (Family Courts Act, 1964) کی دفعہ 17-A(3) اپنی موجودہ شکل میں پنجاب Family Courts (Amendment) Act, 2015 کے ذریعے 18 مارچ 2015 کو شامل کی گئی۔ اس شق کے مطابق اگر Family Court نان نفقہ کی رقم میں سالانہ اضافے کی شرح مقرر نہ کرے تو عدالت کی جانب سے مقرر کردہ نان نفقہ ہر سال خودکار طور پر 10 فیصد بڑھ جائے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ دفعہ 17-A(3) کا مطلب یہ نہیں کہ Family Court لازماً صرف 10 فیصد سالانہ اضافہ ہی مقرر کر سکتی ہے یا 10 فیصد سے زیادہ اضافہ کرنے سے قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ یہ شق دراصل اس صورت میں لاگو ہوتی ہے جب عدالت کے فیصلے یا ڈگری میں سالانہ اضافے کی شرح کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔

لہٰذا Family Court اپنے صوابدیدی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے حالات کے مطابق 10 فیصد سے زیادہ سالانہ اضافہ بھی مقرر کر سکتی ہے۔ اسی طرح عدالت یہ بھی حکم دے سکتی ہے کہ سالانہ اضافہ کمپاؤنڈ بنیاد پر کیا جائے۔

📍خلاصہ:

اگر Family Court اپنی ڈگری میں نان نفقہ کے سالانہ اضافے کی شرح واضح طور پر مقرر کر دے تو دفعہ 17-A(3) میں بیان کردہ 10 فیصد خودکار اضافہ لاگو نہیں ہوگا۔ 10 فیصد کا اصول بنیادی طور پر default mechanism ہے، لازمی حد (ceiling) نہیں۔

Case: Sadiq Subhani v. Sadia Urooj and others, C.P.L.A. No. 4959/2025.
جج: جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
تاریخ: 22-09-2026

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ — شریک مالکان کے درمیان مشترکہ غیر منقسم جائیداد پر حکمِ امتناعیاس مقدمے میں بنیادی تنازعہ ...
02/10/2026

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ — شریک مالکان کے درمیان مشترکہ غیر منقسم جائیداد پر حکمِ امتناعی

اس مقدمے میں بنیادی تنازعہ یہ تھا کہ آیا ایک شریک مالک (co-sharer) مشترکہ اور غیر منقسم جائیداد کے بارے میں دوسرے شریک مالک کے خلاف مستقل اور لازمی حکمِ امتناعی (permanent and mandatory injunction) کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے یا نہیں۔ مدعی/جواب دہندہ کا مؤقف تھا کہ وہ خسرہ نمبر 212، موضع بیول کی جائیداد کا مالک اور قابض ہے، تاہم چونکہ وہ روزگار کے سلسلے میں برطانیہ میں مقیم ہے، اس کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے درخواست گزاروں نے ایسی گزرگاہ بنانے کی کوشش کی جو پہلے سے موجود نہیں تھی۔

درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ وہ 1995 سے متعلقہ کھاتہ اور بالخصوص خسرہ نمبر 212 کے شریک مالکان ہیں، لہٰذا ایک شریک مالک کی جانب سے دوسرے شریک مالک کے خلاف مشترکہ، غیر منقسم جائیداد کے کسی مخصوص حصے سے متعلق injunction کا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں۔ ٹرائل کورٹ نے مقدمہ مدعی کے حق میں ڈگری کیا، جبکہ توہینِ عدالت کی درخواست خارج کر دی۔ بعد ازاں فریقین کی اپیلیں بھی خارج ہوئیں، جس کے خلاف موجودہ Civil Revision دائر کی گئی۔

📍شریک مالک کا قانونی حق

عدالت نے قرار دیا کہ جب تک مشترکہ جائیداد کی تقسیم بذریعہ حدود و نشانات (partition by metes and bounds) نہیں ہو جاتی، ہر شریک مالک کا مفاد مشترکہ جائیداد کے ہر حصے میں موجود رہتا ہے۔ محض کسی مخصوص حصے پر قبضہ ہونے کی بنیاد پر کوئی شریک مالک اس حصے کو دوسروں کے مقابلے میں اپنی مطلق اور علیحدہ ملکیت قرار نہیں دے سکتا۔ تاہم مشترکہ ملکیت کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ایک شریک مالک کو یہ اجازت حاصل ہو جائے کہ وہ مشترکہ جائیداد کی نوعیت اس انداز میں تبدیل کرے جس سے دوسرے شریک مالکان کے قانونی حقوق متاثر ہوں۔

📍کیا شریک مالک دوسرے شریک مالک کے خلاف Injunction لے سکتا ہے؟

عدالت نے اس قانونی سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایک شریک مالک کی جانب سے دوسرے شریک مالک کے خلاف مستقل حکمِ امتناعی کا دعویٰ مطلقاً ممنوع نہیں ہے۔ اگر ایک شریک مالک مشترکہ جائیداد کی نوعیت تبدیل کرنے، اس پر تعمیرات کرنے، نئی گزرگاہ بنانے یا ایسا کوئی اقدام کرنے کی کوشش کرے جس سے دوسرے شریک مالک کے قانونی حقوق متاثر ہوں، تو مناسب حالات میں دوسرا شریک مالک injunction حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم injunction کا مقصد کسی شریک مالک کو مشترکہ جائیداد میں اختصاصی ملکیت (exclusive ownership) دلانا نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی شریک مالک کا دعویٰ کسی مخصوص حصے پر مستقل اور خصوصی حقِ ملکیت سے متعلق ہو تو عمومی طور پر مناسب قانونی راستہ تقسیمِ جائیداد (partition) ہے، نہ کہ injunction کے ذریعے مشترکہ جائیداد میں اختصاص حاصل کرنا۔

📍مشترکہ جائیداد کی نوعیت تبدیل کرنے کا اصول

عدالت نے سابقہ سپریم کورٹ کے فیصلوں، بالخصوص Ali Gohar Khan v. Sher Ayaz (1989 SCMR 130) اور Fazal and others v. Ghulam Muhammad and others (2003 SCMR 999) کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرار دیا کہ شریک مالک مشترکہ جائیداد پر یکطرفہ طور پر ایسی تعمیر یا تبدیلی نہیں کر سکتا جو دوسرے شریک مالکان کے حقوق کو متاثر کرے۔ اگر کوئی شریک مالک مشترکہ جائیداد پر تعمیر کرنا یا اس کی نوعیت تبدیل کرنا چاہتا ہے تو مناسب صورت میں پہلے partition حاصل کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔

📍۔Injunction کے لیے صرف قانونی حق کافی نہیں

فیصلے کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اگرچہ قانون کسی شریک مالک کو مناسب حالات میں injunction کا حق فراہم کرتا ہے، لیکن صرف یہ ثابت کرنا کافی نہیں کہ فریقین co-sharers ہیں۔ مدعی کو اس مخصوص اقدام یا خطرے کا بھی ثبوت دینا ہوگا جس کی بنیاد پر injunction طلب کی گئی ہے۔ یعنی یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ مخالف شریک مالک واقعی مشترکہ جائیداد کی نوعیت تبدیل کرنے یا مدعی کے قانونی حق کو نقصان پہنچانے والا اقدام کر رہا ہے یا کرنے کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔

📍سابقہ مقدمے میں دیے گئے بیان کی قانونی حیثیت

موجودہ مقدمے میں نچلی عدالتوں نے ایک سابقہ مقدمے میں درخواست گزار نمبر 1 کی جانب سے دیے گئے بیان پر خاصا انحصار کیا تھا۔ اس سابقہ مقدمے میں وہ مدعی/جواب دہندہ کی جانب سے special attorney کے طور پر پیش ہوا تھا اور مبینہ طور پر اس نے مذکورہ گزرگاہ کے وجود سے انکار کیا تھا۔

ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کسی سابقہ بیان کو موجودہ مقدمے میں contradiction یا admission کے طور پر استعمال کرنے سے پہلے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ سابقہ بیان اور موجودہ تنازعہ ایک ہی گزرگاہ اور ایک ہی حقیقت (same fact) سے متعلق ہیں۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ سابقہ مقدمے میں بھی کسی passage کا ذکر تھا۔ دونوں مقدمات میں متعلقہ گزرگاہ کی شناخت، محلِ وقوع اور متعلقہ حق کا باہمی تعلق ثابت ہونا ضروری ہے۔

📍سابقہ عدالتی ریکارڈ کو Evidence کے طور پر استعمال کرنے کا اصول

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سابقہ مقدمے کا ریکارڈ درخواست گزاروں کے سامنے مناسب طور پر confront نہیں کیا گیا تھا بلکہ اسے جواب دہندہ کے وکیل کے بیان کے ذریعے ریکارڈ پر لایا گیا۔ عدالت نے Muhammad Aslam v. Muhammad Ismail (2024 YLR 1199) کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے قرار دیا کہ اس صورت میں مذکورہ ریکارڈ کو درخواست گزاروں کے خلاف مؤثر evidentiary value نہیں دی جا سکتی۔

مزید اہم بات یہ تھی کہ نچلی عدالتوں نے سابقہ مقدمے کی pleadings، site plan اور موجودہ مقدمے کے record کا باقاعدہ تقابلی جائزہ نہیں لیا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ سابقہ مقدمے میں زیرِ بحث passage اور موجودہ مقدمے میں متنازع passage ایک ہی ہیں۔ اس بنیادی link کے بغیر سابقہ بیان کو موجودہ مقدمے میں فیصلہ کن اہمیت دینا قانونی طور پر درست نہیں تھا۔

📍۔Concurrent Findings کے بارے میں اصول

ہائیکورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ revisional jurisdiction میں نچلی دونوں عدالتوں کے concurrent findings کو عموماً احترام حاصل ہوتا ہے اور محض اس بنیاد پر مداخلت نہیں کی جاتی کہ شواہد کی ایک دوسری تشریح بھی ممکن ہے۔ تاہم اگر concurrent findings ایسے مواد پر مبنی ہوں جس کی بنیادی relevance ہی ثابت نہ کی گئی ہو، یا قانون کا غلط اطلاق کیا گیا ہو، تو ایسی findings revisional jurisdiction میں درست کی جا سکتی ہیں۔

موجودہ مقدمے میں نچلی عدالتوں نے سابقہ مقدمے کو فیصلہ کن اہمیت دی، لیکن پہلے یہ بنیادی امر ثابت نہیں کیا کہ دونوں مقدمات میں زیرِ بحث passage ایک ہی تھا۔ اس لیے ہائی کورٹ نے اسے محض evidence appreciation کا معمولی معاملہ نہیں بلکہ قانونی اور بنیادی evidentiary error قرار دیا۔

📍حتمی حکم

ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ایک شریک مالک کی جانب سے دوسرے شریک مالک کے خلاف injunction کا دعویٰ مطلقاً barred نہیں ہے۔ ایسا دعویٰ اس صورت میں قابلِ سماعت ہو سکتا ہے جب مخالف شریک مالک کا اقدام مشترکہ جائیداد کی نوعیت تبدیل کرنے یا دوسرے شریک مالک کے کسی قانونی طور پر محفوظ حق کو متاثر کرنے کا باعث بن رہا ہو۔ تاہم مدعی پر لازم ہے کہ وہ اس خطرے یا اقدام کے factual foundation کو قابلِ قبول شہادت کے ذریعے ثابت کرے۔

موجودہ مقدمے میں یہ بنیادی factual question قانونی طور پر قابلِ قبول اور مکمل شہادت کی بنیاد پر طے نہیں کیا گیا تھا۔ چنانچہ لاہور ہائی کورٹ، راولپنڈی بینچ نے نچلی عدالتوں کے فیصلے اور ڈگریاں set aside کر دیں اور مقدمہ دوبارہ فیصلے کے لیے Trial Court کو remand کر دیا۔ ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ فریقین کو سابقہ مقدمے کے متعلقہ ریکارڈ، متنازع passage کی شناخت اور متعلقہ revenue record پیش کرنے کا مناسب موقع دیا جائے اور پھر قانون کے مطابق دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اس فیصلے کو متنازع passage کے وجود، شناخت یا نوعیت کے بارے میں کسی حتمی رائے کے طور پر نہیں سمجھا جائے گا۔

📍مختصر قانونی اصول

“مشترکہ غیر منقسم جائیداد میں ہر شریک مالک کا مفاد ہر حصے میں ہوتا ہے؛ تاہم کوئی شریک مالک مشترکہ جائیداد کی نوعیت اس طرح تبدیل نہیں کر سکتا جس سے دوسرے شریک مالکان کے حقوق متاثر ہوں۔ ایسے اقدام کو روکنے کے لیے injunction کا دعویٰ مطلقاً ناقابلِ سماعت نہیں، لیکن injunction حاصل کرنے والے فریق کو متنازع اقدام اور اپنے قانونی حق کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا قابلِ قبول شہادت سے اثبات کرنا ہوگا۔”

Muhammad Ishtiaq etc. v. Abdul Waheed — Civil Revision No.855/2024، فیصلہ مورخہ 28.09.2026، سماعت 24.09.2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی ملزم کا ٹرائل ایک سال سے زائد عرصہ تک مکمل نہ ہو اور ا...
01/10/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی ملزم کا ٹرائل ایک سال سے زائد عرصہ تک مکمل نہ ہو اور اس تاخیر کی وجہ ملزم یا اس کی طرف سے کسی شخص کا فعل یا غفلت نہ ہو تو قانون کے تحت اسے ضمانت کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔

مقدمہ چو ہدری شادی شمیم بنام سرکار وغیرہ (Criminal Petition No. 1449 of 2026) میں ملزم کے خلاف دفعہ 489-F PPC کے تحت مقدمہ درج تھا۔ اس دفعہ کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا تین سال قید ہے۔

سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم یا اس کے وکیل کی جانب سے غیر ضروری التوا نہیں لیا گیا، جبکہ کئی مواقع پر ملزم کو جیل سے عدالت میں پیش ہی نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ عدالت کی جانب سے پروڈکشن وارنٹ جاری ہونے کے باوجود ملزم کو پیش نہیں کیا گیا اور تقریباً ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ٹرائل آگے نہیں بڑھ سکا۔

عدالت نے واضح کیا کہ Section 497(1) Cr.P.C. کے تیسرے پروویزو کے تحت اگر ایک سال سے زائد عرصہ گزر جائے، ٹرائل مکمل نہ ہو اور تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہوئی ہو تو statutory delay کی بنیاد پر ضمانت کا اصول لاگو ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ صرف اس وجہ سے کہ ملزم کے خلاف دوسرے مقدمات درج ہیں یا وہ کسی دوسرے مقدمے میں ملوث ہے، اسے statutory delay کی بنیاد پر ضمانت سے خود بخود محروم نہیں کیا جا سکتا، جب تک قانون میں دی گئی متعلقہ استثنائی شرائط پوری نہ ہوں۔

عدالت نے Ali Anwar Paracha v. The State (2024 SCMR 1596) اور دیگر سابقہ فیصلوں کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھا اور قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں ٹرائل میں ہونے والی تاخیر کسی طور ملزم سے منسوب نہیں کی جا سکتی۔

چونکہ دفعہ 489-F PPC کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے اور ملزم نے طویل عرصہ حراست میں گزار لیا تھا، اس لیے سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو statutory delay کی بنیاد پر ضمانت دے دی۔

یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کو اجاگر کرتا ہے کہ زیرِ حراست ملزم کو غیر ضروری طور پر طویل عرصہ تک ٹرائل مکمل کیے بغیر جیل میں رکھنا قانون کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق نہیں۔ تاہم ہر مقدمے میں ضمانت کا فیصلہ متعلقہ حقائق، تاخیر کی وجہ اور قانون میں موجود شرائط و استثناؤں کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

یہ پوسٹ عمومی قانونی آگاہی کے لیے ہے۔ ہر کیس کے حقائق مختلف ہوتے ہیں اور حتمی قانونی رائے متعلقہ ریکارڈ دیکھ کر دی جا سکتی ہے۔

دفعہ 540 ضابطہ فوجداری — گواہان کو دوبارہ طلب کرکے بیان لینے کا اختیارلاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ضابطہ فوجداری کی دف...
29/09/2026

دفعہ 540 ضابطہ فوجداری — گواہان کو دوبارہ طلب کرکے بیان لینے کا اختیار

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 540 کے تحت عدالت کسی بھی مرحلے پر گواہ کو دوبارہ طلب کرکے اس کا بیان لے سکتی ہے، اگر اس کی شہادت مقدمے کے منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری ہو۔

اہم قانونی اصول:

1\. دفعہ 540 کے تحت گواہ کو دوبارہ طلب کرنے کا مقصد انصاف کی فراہمی اور حقائق کی درست دریافت ہونا چاہیے۔

2\. عدالت اس اختیار کو استغاثہ یا دفاع کے مقدمے کی ہر کمزوری دور کرنے کے لیے استعمال نہیں کرسکتی، تاہم کسی اہم شہادت کے اندراج میں غیر ارادی کوتاہی کی اصلاح لازماً استغاثہ کے مقدمے کی خامی پُر کرنا نہیں ہوتی۔

3\. زیرِ سماعت مقدمے میں اسلحہ کی برآمدگی کی دستاویزات پہلے ہی عدالتی ریکارڈ پر موجود تھیں اور ان کی نقول ملزمان کو فراہم کی جا چکی تھیں۔ گواہان سے ان دستاویزات کی تصدیق کے لیے دوبارہ بیان لینا نئی شہادت متعارف کرانے کے مترادف نہیں تھا۔

4\. اگر ملزم کو گواہان پر جرح کا مکمل موقع حاصل ہو اور اس کے حقِ دفاع کو نقصان نہ پہنچے تو محض تکنیکی اعتراض کی بنیاد پر دوبارہ بیان لینے سے انکار ضروری نہیں۔

5\. منصفانہ سماعت کا حق صرف ملزم کو نہیں بلکہ استغاثہ کو بھی حاصل ہے۔ عدالت کو آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت انصاف اور منصفانہ کارروائی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

فیصلے کا نتیجہ:

لاہور ہائی کورٹ نے دفعہ 540 ضابطہ فوجداری کے تحت گواہان کو دوبارہ بیان کے لیے طلب کرنے کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے ملزمہ کی درخواست خارج کردی۔

اہم وضاحت: عدالت نے واضح کیا کہ گواہان کے دوبارہ بیانات لینے کی اجازت سے برآمدگی کی دستاویزات کی قانونی حیثیت یا گواہان کے بیانات کی حتمی ساکھ ثابت شدہ تصور نہیں ہوگی؛ ان کا فیصلہ مقدمے کے دوران شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
2026 LHC 5980

PLD 2026 Lah 181والدین اپنے بچوں کے خلاف نان و نفقہ کا کیس فیملی کورٹ میں دائر کر سکتے ہیں۔
27/09/2026

PLD 2026 Lah 181
والدین اپنے بچوں کے خلاف نان و نفقہ کا کیس فیملی کورٹ میں دائر کر سکتے ہیں۔

Address

Islamabad
143001

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SK Law Firm & Consultants Group Islamabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share