Ch Amin Sikandar Advocate

Ch Amin Sikandar Advocate Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ch Amin Sikandar Advocate, Lawyer & Law Firm, chamber no. 1 pak bloc Kaghan Road F8Markaz Islamabad, Islamabad.

21/03/2026

15 طنزیہ اور بے رحم جملے، جو سیدھا دل پر لگیں گے

۱۔ ”مہنگائی کا رونا وہ روتے ہیں جن کی صلاحیت ’سستی‘ ہوتی ہے۔ اپنی ’ویلیو‘ بڑھائیں، ٹماٹروں کی ریٹ لسٹ نہیں۔“

۲۔ ”دوسروں کی ’ریلز‘ (Reels) اسکرول کرتے کرتے آپ کی اپنی زندگی کی ’فلم‘ فلاپ ہو رہی ہے، مگر آپ کو خبر نہیں۔“

۳۔ ”باپ کے پیسے پر اکڑنا ’کمال‘ نہیں، ’وراثت‘ ہے؛ کمال یہ ہے کہ باپ آپ کے کمائے ہوئے پیسے پر فخر کرے۔“

۴۔ ”اگر آپ کا پلان B یہ ہے کہ ’ابو سنبھال لیں گے‘، تو یقین کریں، آپ کبھی ’جوان‘ نہیں ہوں گے۔“

۵۔ ”حسد کرنا چھوڑیں، کیونکہ آپ کا حسد ان کے بینک بیلنس کو کم نہیں کر رہا، الٹا آپ کا ’بلڈ پریشر‘ بڑھا رہا ہے۔“

۶۔ ”کوئی ’مسیحا‘ نہیں آئے گا؛ آپ کی غربت آپ کا ذاتی مسئلہ ہے، اسے اقوامِ متحدہ حل نہیں کرے گی۔“

۷۔ ”’لوگ کیا کہیں گے‘ کا خوف صرف ان کو ہوتا ہے جن کے پاس اپنی کوئی ’پہچان‘ نہیں ہوتی۔“

۸۔ ”کمفرٹ زون میں صرف ’سکون‘ ملتا ہے، ’ترقی‘ نہیں۔ اگر آپ مطمئن ہیں، تو سمجھ لیں آپ کی قبر کُھد چکی ہے۔“

۹۔ ”اگر آپ کے پانچوں دوست ’کنگلے‘ ہیں، تو مبارک ہو! چھٹے کنگلے آپ ہی ہوں گے۔ ریاضی کبھی غلط نہیں ہوتی۔“

۱۰۔ ”خالی جیب کے ساتھ ’انا‘ رکھنا ایسا ہی ہے جیسے بغیر پٹرول کے گاڑی رکھنا، صرف دھکے ہی کھائیں گے۔“

۱۱۔ ”نیٹ فلکس کا سیزن پورا کرنے پر آپ کو کوئی ’میڈل‘ نہیں ملے گا، لیکن زندگی کا سیزن ضائع ہونے پر پچھتاوا ضرور ملے گا۔“

۱۲۔ ”ناکامی یتیم ہوتی ہے، مگر کامیابی کے سو باپ ہوتے ہیں۔ جب تک کامیاب نہیں ہوں گے، کوئی فون بھی نہیں اٹھائے گا۔”
۱۳۔ ”آپ مصروف نہیں ہیں، آپ صرف ’بے ترتیب‘ (Unorganized) ہیں۔ مصروفیت کا ڈرامہ کر کے خود کو دھوکہ دینا بند کریں۔“

۱۴۔ ”اگر آپ کو لگتا ہے کہ تعلیم مہنگی ہے، تو ذرا ’جہالت‘ آزما کر دیکھیں؛ نسلیں اس کا قرض چکاتی رہ جائیں گی۔“

۱۵۔ ”شیر کی طرح جینے کے لیے شیر جیسا ’کلیجہ‘ بھی چاہیے ہوتا ہے، صرف سوشل میڈیا کی بائیو (Bio) میں ’Lion‘ لکھنا کافی نہیں ہوتا۔“
Copied

17/03/2026

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالٰی وبرکاتہ

زندگی میں مشکلات کا آنا فطری عمل ہے، مگر مومن کی طاقت صبر کے ساتھ اللہ پاک کی ذاتِ عالی پر یقین ہے۔ جو دل صبر کے ساتھ اللہ پاک کی طرف رجوع کرتا ہے وہ کبھی شکست نہیں کھاتا
یا اللہ کریم! ہمیں اپنے خوف (اپنی خشیت) میں سے اتنا حصہ عطا فرما جو ہمارے اور تیری نافرمانیوں کے درمیان حائل ہو جائے
اللہ کریم آپ کی اور ہماری زندگی کے ہر لمحہ کو خیر وعافیت اور خوشی نصیب کرے، رزق میں برکت نصیب کرے، جان، مال اور اولاد کو رحمتوں کے سائے میں رکھے۔

محبت وکثرت سے شب و روز درود پاک پڑھنے کو معمول بنا لیں کہ سعادت دارین اور شفاعتِ کبریٰ کا باعث بنے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب کا ذریعہ ہو

Ch.Amin sikandar

23/02/2026

*سعودی عرب میں مقیم ایک پردیسی بتاتا ہے* کہ ایک دن میرے کفیل نے زکات تقسیم کرنے کا ارادہ کیا۔ مجھے بھی ساتھ لے لیا۔ گاڑی میں زکات کے لفافے رکھے گئے تھے، ہر لفافے میں پانچ ہزار ریال تھے۔ یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ ہم دونوں ساحلی علاقے کے دیہات کی طرف نکلے جہاں غربت اور محرومی کا بسیرا ہے۔
ایک گاؤں سے نکل کر جدہ جازان شاہراہ پر آئے تو دور سے ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ جلتی دھوپ میں ایک بزرگ اکیلے، ننگے صحرائی راستے پر چل رہے تھے۔ عمر بظاہر ستر برس یا اس سے کچھ زیادہ تھی، لیکن جسم میں اب بھی قوت باقی تھی۔ دوست نے کہا: "یہ بزرگ اس بیابان میں کس حال میں بھٹک رہے ہیں؟" ڈرائیور نے کہا: "یقیناً یہ کوئی یمنی ہے، غیر قانونی راستے سے آیا ہوگا۔"
گاڑی روکی گئی، بزرگ کے قریب گئے اور سلام کیا۔ پوچھا: "کہاں سے آئے ہو؟" بولے: "یمن سے۔" پھر سوال کیا: "کہاں جا رہے ہو؟" جواب ملا: "مکہ مکرمہ، بیت اللہ کے دیدار کو، عمرہ کرنے۔"
ہم نے کہا: "قانونی طریقے سے آئے ہو؟"
بولے: "نہیں، میرے پاس اتنے وسائل کہاں۔ داخلے کے لئے دو ہزار ریال ضمانت دینا لازمی تھا، اور میرے پاس کل دو سو ریال تھے۔ ایک سو سواری پر خرچ ہو گئے، ایک سو باقی ہیں۔ اس کے بعد پیدل چل رہا ہوں۔"
دوست نے پوچھا: "کتنے دن ہو گئے چلتے ہوئے؟"
بولے: "چھ دن سے مسلسل سفر میں ہوں۔"
پھر سوال کیا گیا: "روزے سے ہو؟"
بولے: "جی ہاں، صائم ہوں۔"
یہ سن کر ہم سب حیران رہ گئے۔ دھوپ، بھوک، پیاس، طویل سفر اور پھر بھی روزہ! ہم نے پوچھا: "یہ سب چوکیوں سے کیسے گزر گئے؟"
بزرگ نے کہا: "اس رب کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں ہر چوکی کے پاس سے گزرا لیکن کسی نے روکا ہی نہیں۔"
انہوں نے مزید بتایا: "کچھ دیر پہلے تو ایک پارٹی نے پکڑا بھی تھا اور تھانے لے گئی۔ مگر جب میں نے کہا کہ میرا مقصد صرف بیت اللہ کی زیارت ہے تو انہوں نے رہا کر دیا۔"
یہ سن کر ہمارے دل کانپ گئے۔ سبحان اللہ! اللہ نے اس بندے کے لئے خود راستے آسان کر دیئے۔ میرے کفیل صاحب نے بے اختیار دو لفافے بزرگ کے ہاتھ میں تھما دیئے۔ انہوں نے شکریہ ادا کیا مگر انہیں اندازہ نہ تھا کہ اس میں کتنی رقم ہے۔ میں نے کہا: "لفافے کھولو اور پیسے محفوظ کر لو۔" جب انہوں نے لفافے کھولے اور دیکھا کہ دس ہزار ریال ہیں تو حیرت و صدمے سے گاڑی میں گر پڑے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور زبان پر یہی الفاظ تھے: "یہ سب میرے لئے؟ یہ اتنی بڑی رقم سب میرے لئے؟"
ہم نے انہیں ہوش میں لانے کے لئے پانی چھڑکا۔ ہوش آیا تو کہنے لگے: "میرا یمن میں ایک چھوٹا سا گھر ہے۔ اس کے ساتھ ایک زمین تھی جسے میں نے اللہ کے نام پر وقف کر دیا۔ اسی پر میں نے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر مسجد تعمیر کی۔ عمارت مکمل ہو چکی ہے، مگر فرش اور کچھ چیزیں باقی ہیں۔ میں اسی فکر میں تھا کہ کہاں سے رقم آئے گی۔ آج اللہ نے آپ کے ذریعے مجھے وہ عطا کر دی۔"
یہ سن کر ہماری آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہو گئے۔ اس وقت دل میں رسول اکرم ﷺ کا فرمان گونج اٹھا:
*"جس کا مقصد آخرت ہو، اللہ اس کے دل میں غنا ڈال دیتا ہے، اس کے کاموں کو سمیٹ دیتا ہے اور دنیا خود اس کے پاس جھک کر آتی ہے۔ اور جس کی فکر صرف دنیا ہو اللہ اس کی محتاجی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اس کے معاملات کو منتشر فرما دیتا ہے اور اسے دنیا سے وہی ملتا ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔"*
میرے کفیل نے اشارہ کیا اور مزید دو لفافے بزرگ کے حوالے کر دیئے۔ یوں کل رقم بیس ہزار ریال ہو گئی۔ بزرگ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی تھم ہی نہ رہی۔ وہ مسلسل دعائیں دیتے رہے اور بار بار دہراتے رہے: "اللہ نے پرندوں کی طرح مجھے رزق پہنچا دیا۔"
واقعی وہ لمحہ تھا جب رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ یاد آ گئی:
"اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جیسا کہ حق ہے تو اللہ تمہیں ویسے ہی رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتے ہیں۔"
یہ قصہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ جو بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ کے در کو پکڑ لے، اس کے لئے راستے آسان ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعہ صدق دل سے نکلی دعا اور توکل کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ *اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ دولت نصیب فرمائے۔*

17/02/2026

اپنی توانائی اُن لوگوں کو بدلنے میں ضائع نہ کرو
جو اپنی موجودہ زندگی سے نکلنا ہی نہیں چاہتے۔

ہر انسان اپنی عادتوں، اپنی سوچ اور اپنے کمفرٹ زون کا خود محافظ ہوتا ہے۔
تم چاہے کتنی ہی سچائی سے اُن کا ہاتھ پکڑو،
کتنی ہی نیت سے اُنہیں بہتر راستہ دکھاؤ،
اگر اُن کے اندر بدلنے کی خواہش نہیں،
تو تمہاری ہر کوشش صرف تمہیں تھکا دے گی، اُنہیں نہیں بدلے گی۔

کچھ لوگ روشنی دیکھتے ہیں، مگر اندھیرا ہی چنتے ہیں۔
کچھ لوگ آزادی کے دروازے تک آتے ہیں، مگر خود ہی واپس قید میں چلے جاتے ہیں۔
اور سچ یہ ہے کہ تم کسی کو اُس جنگ سے نہیں نکال سکتے
جس سے نکلنے کا فیصلہ اُس نے خود نہیں کیا۔

یاد رکھو،
تمہارا فرض راستہ دکھانا ہے، کسی کو گھسیٹ کر اُس پر چلانا نہیں۔
اپنی توانائی اُن لوگوں پر خرچ کرو
جو خود بھی بدلنا چاہتے ہیں،
جو تمہاری قدر کرتے ہیں،
اور جو تمہارے ساتھ آگے بڑھنے کی ہمت رکھتے ہیں۔

کیونکہ کچھ لوگوں کو بچانے کی کوشش میں
انسان اکثر خود کو کھو دیتا ہے۔

15/02/2026

مردانہ کشش کا نفسیاتی کوڈ
”ایک مرد کی حقیقی کشش اس کے سیلقے سے پہنے ہوئے کپڑوں یا شکل و صورت میں ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ’رویہ‘ (Attitude) میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ دنیا ان کی عزت نہیں کرتی جو ہر وقت دوسروں کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں، بلکہ ان کی عزت کرتی ہے جو اپنے اصولوں پر جیتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو سنجیدگی سے لیں اور آپ کی شخصیت کا سحر (Charisma) محسوس کریں، تو آپ کو اپنی ذات میں یہ ۱۲ بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ یہ محض عادات نہیں، بلکہ ایک باوقار شخصیت کا ’لائف اسٹائل‘ ہیں۔“

۱۔ حد سے زیادہ ”شرافت“ کمزوری ہے
Don’t be nice
”نائس“ (Nice) ہونا اکثر کمزور اور بے ریڑھ ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش بند کریں۔ مہربان ضرور بنیں، مگر اپنے اصولوں اور معیار کے ساتھ۔ سب سے پہلے اپنی عزت کریں، ورنہ کوئی اور بھی آپ کی عزت نہیں کرے گا۔ کمزوری میں کوئی کشش نہیں ہوتی، کشش, طاقت اور مہربانی کے امتزاج میں ہوتی ہے۔

۲۔ اپنی رفتار دھیمی رکھیں
Move slower
گھبرائے ہوئے مرد ہمیشہ جلد بازی کرتے ہیں۔ پرکشش مرد انتہائی پرسکون کنٹرول کے ساتھ حرکت کرتے ہیں، چاہے وہ کمرے میں داخل ہو رہے ہوں، مصافحہ کر رہے ہوں یا پانی پی رہے ہوں۔ دھیمی رفتار غلبے (Dominance) کی نشانی ہے۔ بے چین نہ ہوں، اپنی رفتار کے خود مالک بنیں۔

۳۔ آواز میں گہرائی لائیں
Lower your voice
آواز اونچی نہیں، گہری ہونی چاہیے۔ اکثر مرد پریشانی میں تیز اور باریک آواز میں بولتے ہیں۔ سینے سے بولیں، آہستہ بولیں اور بات کرتے وقت دانستہ وقفہ لیں۔ ایک ٹھہری ہوئی اور بھاری آواز لوگوں کو آپ کی طرف متوجہ کرتی ہے، جبکہ کانپتی ہوئی آواز انہیں دور کر دیتی ہے۔

۴۔ ساکت رہنا سیکھیں
Master stillness
وہ مرد مقناطیسی کشش رکھتا ہے جو افراتفری میں بھی پرسکون بیٹھ سکے، اپنی سانسوں پر قابو رکھے اور گھبرائے نہیں۔ جسمانی سکون (Stillness) کنٹرول کی علامت ہے، جبکہ بے چینی اور اضطراب کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔ لوگوں کو دباؤ کے عالم میں بھی اپنا سکون محسوس کروائیں۔

۵۔ پراسرار رہیں، سب کچھ مت بتائیں
Don’t overshare
پراسراریت میں کشش ہوتی ہے۔ پہلی ہی ملاقات میں اپنی پوری زندگی کی داستان نہ سنا دیں۔ کم بولیں اور اپنے پتے آہستہ آہستہ شو کریں۔ جو مرد اپنی ذات کا کچھ حصہ چھپا کر (Reserved) رکھتا ہے، لوگ اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔

۶۔ لمس کا درست استعمال
Use touch correctly
ایک مضبوط مصافحہ، کندھے پر تھپکی یا رہنمائی کے لیے ہلکا سا ٹچ، بھرپور اعتماد کی نشانی ہے۔ جسمانی رابطہ (Physicality) اگر عزت اور تمیز کے ساتھ ہو تو یہ آپ کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ کمزور مرد اس سے ڈرتے ہیں اور گھٹیا لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں، لیکن مضبوط مرد اس کا صحیح توازن جانتے ہیں۔

۷۔ جگہ گھیر کر بیٹھیں
Take up space
سکڑ کر مت بیٹھیں۔ سینہ تان کر کھڑے ہوں اور ٹانگیں کھول کر بیٹھیں۔ اپنے ماحول پر بلا معذرت قابض رہیں۔ جو مرد خود کو سمیٹ کر بیٹھتے ہیں وہ غیر محفوظ لگتے ہیں، جبکہ جو مرد جگہ گھیرتے ہیں وہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ جب آپ خود کو پھیلاتے ہیں تو کمرہ بھی آپ کے ساتھ وسیع ہو جاتا ہے۔
۸۔ خاموشی کو گلے لگائیں
Embrace silence
گفتگو میں وقفہ آنے پر اکثر مرد گھبرا جاتے ہیں۔ پرکشش مرد خاموشی سے نہیں ڈرتے۔ وہ خاموشی کو سانس لینے دیتے ہیں اور دوسروں کو بولنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر آپ خاموشی میں پرسکون ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی ذات سے مطمئن ہیں۔
۹۔ خوشبو: آپ کی ان دیکھی طاقت
Smell unforgettable
خوشبو کا انسانی دماغ پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ ایک اچھی، منفرد اور دھیمی خوشبو آپ کا تاثر دیر تک قائم رکھتی ہے۔ یہ آپ کی نظر نہ آنے والی طاقت ہے۔ سستے ڈیوڈرینٹ کی بجائے ایک بہترین ”سگنیچر پرفیوم“ پر سرمایہ کاری کریں اور اسے ہلکا استعمال کریں۔

۱۰۔ ردعمل دینے سے گریز کریں
Be unreactive
پرکشش مرد چھوٹی موٹی توہین، تاخیر یا ڈرامے پر بھڑکتے نہیں ہیں۔ وہ ہنس کر بات ٹال دیتے ہیں، کندھے اچکاتے ہیں اور اپنے اعصاب قابو میں رکھتے ہیں۔ بہت زیادہ ردعمل دینا (Overreaction) عدم تحفظ کی نشانی ہے۔ پرسکون رہنا ہی اصل غلبہ ہے۔ دفاعی پوزیشن نہ لیں بلکہ صورتحال کو کنٹرول کریں۔

۱۱۔ کہانیاں سنانا سیکھیں
Tell stories
صرف حقائق بیان کرنا بورنگ ہوتا ہے، جبکہ کہانیاں لوگوں کو باندھ لیتی ہیں۔ وہ مرد جو الفاظ سے تصویر کشی کرنا جانتا ہے، وہ سب کی توجہ باآسانی حاصل کر لیتا ہے۔ اپنی گفتگو میں اتار چڑھاؤ، وقفے اور انرجی شامل کریں۔ کہانی سنانے کا فن ہی آپ کا ہتھیار اور کرشمہ ہے۔

۱۲۔ محفل سے پہلے اٹھ جائیں
Leave first
پرکشش مرد کبھی بھی کسی محفل میں ضرورت سے زیادہ نہیں رکتے اور نہ ہی وقت کی بھیک مانگتے ہیں۔ وہ تب اٹھ کر چلے جاتے ہیں جب محفل اپنے عروج پر ہو۔ پہلے چلے جانا آپ کی اہمیت بڑھاتا ہے اور لوگوں کو آپ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یاد رکھیں، موجودگی اہم ہے لیکن ”غیر موجودگی“ تجسس پیدا کرتی ہے۔

عزت مانگیں نہیں، چھین لیں

”یاد رکھیں، کشش اور رعب کوئی جادو نہیں، بلکہ آپ کے اندرونی اعتماد کا عکس ہے۔ یہ ۱۲ اصول آپ کو مغرور نہیں بناتے، بلکہ آپ کو اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ جب آپ خود اپنی قدر کرنا سیکھ لیتے ہیں اور اپنی موجودگی (Presence) کا لوہا منواتے ہیں، تو دنیا کے پاس آپ کی قدر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ عزت کی بھیک مانگنا چھوڑیں.
Ch.Amin Sikandar

11/02/2026

آرام انسان کو برباد کرتا ہے اور تکلیف انسان کو طاقتور بناتی ہے۔
آرام سب سے خطرناک دھوکہ ہے۔ جو زندگی آپ چاہتے ہیں وہ اس تکلیف کے پیچھے چھپی ہے جس سے آپ بھاگتے ہیں۔ ہر بہانہ ہر تاخیر اور ہر کل سے شروع کروں گا دراصل آپ کے کمزور نفس کی آواز ہے جو محفوظ رہنا چاہتا ہے۔
اصل تبدیلی تب آتی ہے جب انسان جان بوجھ کر مشکل راستہ اختیار کرتا ہے اور آرام سے انکار کر دیتا ہے۔ جب آپ خود پر ترس کھانا چھوڑ کر اپنے دماغ سے سخت مطالبہ کرنا شروع کرتے ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ حدیں حقیقت نہیں تھیں بلکہ خود بنائی گئی قید تھیں۔
جس دن آپ آرام کے بجائے نظم و ضبط کو چن لیتے ہیں اسی دن آپ کی پہچان بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔

01/02/2026

پیسہ کیسے ترجیحات تبدیل کرتا ہے
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے ایک بار کہا: ’’میں ایک دن ٹیکسی لے کر بی بی سی کے دفتر میں انٹرویو کے لیے گیا۔
.
جب میں پہنچا، میں نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ میرے واپس آنے تک چالیس منٹ تک میرا انتظار کرے، لیکن ڈرائیور نے معذرت کی اور کہا، "میں نہیں کر سکتا، کیونکہ مجھے ونسٹن چرچل کی تقریر سننے کے لیے گھر جانا ہے"۔
.
میں حیران اور مسرور تھا کہ اس شخص کی میری تقریر سننے کی خواہش! چنانچہ میں نے دس پاؤنڈ نکالے اور ٹیکسی ڈرائیور کو یہ بتائے بغیر کہ میں کون ہوں۔ جب ڈرائیور نے پیسے جمع کیے تو اس نے کہا: "میں گھنٹوں انتظار کروں گا جب تک آپ واپس نہیں آتے جناب! اور چرچل کو جہنم میں جانے دو!"۔
.
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پیسے کے خلاف اصولوں کو کس طرح تبدیل کیا گیا ہے۔ قومیں پیسے کے لیے بیچی جاتی ہیں۔ پیسے کے لئے عزت؛ خاندان پیسے کے لئے تقسیم؛ دوست پیسے کے لیے الگ ہو گئے؛ پیسے کے لیے مارے گئے لوگ اور لوگوں کو پیسے کا غلام بنایا جا رہا ہے۔
#کاپی

03/01/2026

کیا آپ جانتے ھیں
”ایک مرد کی حقیقی کشش کہاں ھوتی ھے؟
اس کے سیلقے سے پہنے ہوئے کپڑوں یا شکل و صورت میں ہی نہیں ہوتی،
بلکہ اس کے ’رویہ‘
(Attitude)
میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ دنیا ان کی عزت نہیں کرتی جو ہر وقت دوسروں کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں، بلکہ ان کی عزت کرتی ہے جو اپنے اصولوں پر جیتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو سنجیدگی سے لیں اور آپ کی شخصیت کا سحر (Charisma) محسوس کریں، تو آپ کو اپنی ذات میں یہ ۱۲ بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ یہ محض عادات نہیں، بلکہ ایک باوقار شخصیت کا ’لائف اسٹائل‘ ہیں۔“

۱۔ حد سے زیادہ ”شرافت“ کمزوری ہے
Don’t be nice
”نائس“ (Nice) ہونا اکثر کمزور اور بے ریڑھ ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش بند کریں۔ مہربان ضرور بنیں، مگر اپنے اصولوں اور معیار کے ساتھ۔ سب سے پہلے اپنی عزت کریں، ورنہ کوئی اور بھی آپ کی عزت نہیں کرے گا۔ کمزوری میں کوئی کشش نہیں ہوتی، کشش, طاقت اور مہربانی کے امتزاج میں ہوتی ہے۔
۲۔ اپنی رفتار دھیمی رکھیں
Move slower
گھبرائے ہوئے مرد ہمیشہ جلد بازی کرتے ہیں۔ پرکشش مرد انتہائی پرسکون کنٹرول کے ساتھ حرکت کرتے ہیں، چاہے وہ کمرے میں داخل ہو رہے ہوں، مصافحہ کر رہے ہوں یا پانی پی رہے ہوں۔ دھیمی رفتار غلبے (Dominance) کی نشانی ہے۔ بے چین نہ ہوں، اپنی رفتار کے خود مالک بنیں۔
۳۔ آواز میں گہرائی لائیں
Lower your voice
آواز اونچی نہیں، گہری ہونی چاہیے۔ اکثر مرد پریشانی میں تیز اور باریک آواز میں بولتے ہیں۔ سینے سے بولیں، آہستہ بولیں اور بات کرتے وقت دانستہ وقفہ لیں۔ ایک ٹھہری ہوئی اور بھاری آواز لوگوں کو آپ کی طرف متوجہ کرتی ہے، جبکہ کانپتی ہوئی آواز انہیں دور کر دیتی ہے۔
۴۔ ساکت رہنا سیکھیں
Master stillness
وہ مرد مقناطیسی کشش رکھتا ہے جو افراتفری میں بھی پرسکون بیٹھ سکے، اپنی سانسوں پر قابو رکھے اور گھبرائے نہیں۔ جسمانی سکون (Stillness) کنٹرول کی علامت ہے، جبکہ بے چینی اور اضطراب کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔ لوگوں کو دباؤ کے عالم میں بھی اپنا سکون محسوس کروائیں۔
۵۔ پراسرار رہیں، سب کچھ مت بتائیں
Don’t overshare
پراسراریت میں کشش ہوتی ہے۔ پہلی ہی ملاقات میں اپنی پوری زندگی کی داستان نہ سنا دیں۔ کم بولیں اور اپنے پتے آہستہ آہستہ شو کریں۔ جو مرد اپنی ذات کا کچھ حصہ چھپا کر (Reserved) رکھتا ہے، لوگ اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔
۶۔ لمس کا درست استعمال
Use touch correctly
ایک مضبوط مصافحہ، کندھے پر تھپکی یا رہنمائی کے لیے ہلکا سا ٹچ، بھرپور اعتماد کی نشانی ہے۔ جسمانی رابطہ (Physicality) اگر عزت اور تمیز کے ساتھ ہو تو یہ آپ کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ کمزور مرد اس سے ڈرتے ہیں اور گھٹیا لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں، لیکن مضبوط مرد اس کا صحیح توازن جانتے ہیں۔
۷۔ جگہ گھیر کر بیٹھیں
Take up space
سکڑ کر مت بیٹھیں۔ سینہ تان کر کھڑے ہوں اور ٹانگیں کھول کر بیٹھیں۔ اپنے ماحول پر بلا معذرت قابض رہیں۔ جو مرد خود کو سمیٹ کر بیٹھتے ہیں وہ غیر محفوظ لگتے ہیں، جبکہ جو مرد جگہ گھیرتے ہیں وہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ جب آپ خود کو پھیلاتے ہیں تو کمرہ بھی آپ کے ساتھ وسیع ہو جاتا ہے۔
۸۔ خاموشی کو گلے لگائیں
Embrace silence
گفتگو میں وقفہ آنے پر اکثر مرد گھبرا جاتے ہیں۔ پرکشش مرد خاموشی سے نہیں ڈرتے۔ وہ خاموشی کو سانس لینے دیتے ہیں اور دوسروں کو بولنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر آپ خاموشی میں پرسکون ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی ذات سے مطمئن ہیں۔
۹۔ خوشبو: آپ کی اندیکھی طاقت
Smell unforgettable
خوشبو کا انسانی دماغ پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ ایک اچھی، منفرد اور دھیمی خوشبو آپ کا تاثر دیر تک قائم رکھتی ہے۔ یہ آپ کی نظر نہ آنے والی طاقت ہے۔ سستے ڈیوڈرینٹ کی بجائے ایک بہترین ”سگنیچر پرفیوم“ پر سرمایہ کاری کریں اور اسے ہلکا استعمال کریں۔
۱۰۔ ردعمل دینے سے گریز کریں
Be unreactive
پرکشش مرد چھوٹی موٹی توہین، تاخیر یا ڈرامے پر بھڑکتے نہیں ہیں۔ وہ ہنس کر بات ٹال دیتے ہیں، کندھے اچکاتے ہیں اور اپنے اعصاب قابو میں رکھتے ہیں۔ بہت زیادہ ردعمل دینا (Overreaction) عدم تحفظ کی نشانی ہے۔ پرسکون رہنا ہی اصل غلبہ ہے۔ دفاعی پوزیشن نہ لیں بلکہ صورتحال کو کنٹرول کریں۔
۱۱۔ کہانیاں سنانا سیکھیں
Tell stories
صرف حقائق بیان کرنا بورنگ ہوتا ہے، جبکہ کہانیاں لوگوں کو باندھ لیتی ہیں۔ وہ مرد جو الفاظ سے تصویر کشی کرنا جانتا ہے، وہ سب کی توجہ باآسانی حاصل کر لیتا ہے۔ اپنی گفتگو میں اتار چڑھاؤ، وقفے اور انرجی شامل کریں۔ کہانی سنانے کا فن ہی آپ کا ہتھیار اور کرشمہ ہے۔
۱۲۔ محفل سے پہلے اٹھ جائیں
Leave first
پرکشش مرد کبھی بھی کسی محفل میں ضرورت سے زیادہ نہیں رکتے اور نہ ہی وقت کی بھیک مانگتے ہیں۔ وہ تب اٹھ کر چلے جاتے ہیں جب محفل اپنے عروج پر ہو۔ پہلے چلے جانا آپ کی اہمیت بڑھاتا ہے اور لوگوں کو آپ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یاد رکھیں، موجودگی اہم ہے لیکن ”غیر موجودگی“ تجسس پیدا کرتی ہے۔

عزت مانگیں نہیں، چھین لیں
”یاد رکھیں، کشش اور رعب کوئی جادو نہیں، بلکہ آپ کے اندرونی اعتماد کا عکس ہے۔ یہ ۱۲ اصول آپ کو مغرور نہیں بناتے، بلکہ آپ کو اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ جب آپ خود اپنی قدر کرنا سیکھ لیتے ہیں اور اپنی موجودگی (Presence) کا لوہا منواتے ہیں، تو دنیا کے پاس آپ کی قدر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ عزت کی بھیک مانگنا چھوڑیں اور ان عادات کو اپنا کر عزت کمانا شروع کردیں

copied

08/11/2025

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر زندگی کے بارے میں جو کچھ ہمیں بچپن سے بتایا گیا، وہ سچ نہ ہو تو؟ ہم سب ایک ہی راستے پر چلتے رہے ہیں، بس اس یقین کے ساتھ کہ یہ درست ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ کامیابی کی شکل کیا ہونی چاہیے، محبت کیسی لگتی ہے، خوشی کہاں ملتی ہے۔ اور ہم ان باتوں پر ایمان لے آئے ، بغیر یہ سمجھے بوجھے کہ شاید یہ سب کسی اور کے تجربے کے اصول تھے، ہمارے نہیں۔

زندگی دراصل اتنی ہی سادہ ہے جتنی ہم نے اسے پیچیدہ بنا دیا ہے۔ لیکن اگر ہم تھوڑی دیر رک کر، سچائی کو خوف، تعصب اور پہلے سے بنے پختہ عقائد سے ہٹ کر دیکھیں، تو پتا چلتا ہے کہ بہت سی باتیں جو ہم نے مانی، وہ صرف کسی اور زمانے کے کسی اور شخص کے لیے تسلیاں تھیں، حقیقت نہیں۔

ہمیں سکھایا گیا کہ اپنے شوق کے پیچھے چلو، کامیابی خود ملے گی۔ مگر سچ یہ ہے کہ صرف شوق کافی نہیں ہوتا۔ شوق کو اگر نظم و ضبط، محنت، اور سیکھنے کی لگن والا ایندھن نہ ملے تو وہ بوجھ بن جاتا ہے۔ کامیابی ان لوگوں کو ملتی ہے جو روز تھوڑا بہتر ہونے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے دل نہ بھی چاہے۔ شوق شروعات ضرور ہے، مگر منزل تک پہنچنے کے لیے استقامت چاہیے۔

ہم نے یہ بھی مان لیا کہ اچھے کام کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ مگر زندگی کا نظام ایسا نہیں۔ یہاں انعام ان کو ملتا ہے جو قدم بڑھاتے ہیں اور مسلسل سفر میں رہتے ہیں، چاہے راستہ کیسا بھی ہو۔ قسمت اُن کا ساتھ دیتی ہے جو انتظار کے بجائے عمل کرتے ہیں۔ صبر ضروری ہے، مگر صرف تب جب تم چلتے رہو۔

محبت کو ہم نے ہمیشہ آخری سچ مانا۔ مگر محبت اگر احترام، باہمی سمجھ اور جدوجہد کے بغیر ہو تو دیرپا نہیں رہتی۔ رشتوں کے لیے صرف چاہت کافی نہیں، ساتھ نبھانے کے لیے کردار چاہیے۔ محبت ایک احساس ہے، مگر رشتہ ایک ذمہ داری ہے۔

خوشی کے بارے میں بھی ہمیں غلط سکھایا گیا۔ خوشی کوئی منزل نہیں، ایک کیفیت ہے جو اس وقت خود چل کر آتی ہے، جب زندگی میں جستجو اور لگن بامعنی ہوتی ہے۔ جتنا ہم خوشی کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں، وہ اتنی ہی دور جاتی ہے۔ شاید اصل سکون یہی ہے کہ ہم جو کچھ ہیں، جہاں ہیں، اس میں موجود رہنا سیکھ لیں۔

وقت کے بارے میں بھی کہا گیا کہ یہ سب زخم بھر دیتا ہے۔ مگر وقت صرف پردہ ڈالتا ہے، زخم نہیں بھرتا۔ شفا تب آتی ہے جب انسان اپنے درد کو تسلیم کرتا ہے، اس سے بات کرتا ہے، اور اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔ وقت گزرتا ہے، مگر healing تب ہوتی ہے جب دل سمجھتا ہے کہ دکھ بھی ایک استاد ہے۔

ہمیں یقین دلوایا گیا کہ لوگ ہمارے خیرخواہ ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر کوئی تمہیں اپنی ضرورت اور مفاد کے زاویے سے دیکھتا ہے۔ یہ بات تلخ ضرور ہے، مگر حقیقت ہے۔ لہٰذا خود کو ہر کسی کے لیے ہر وقت دستیاب مت رکھیں۔ اپنے حلقہ احباب، اپنے سکون، اور اپنے سچ کے ذمہ دار آپ خود ہیں، لہٰذا دوسروں سے وفاداری کی توقع نہ رکھیں۔

ہم سے کہا گیا کہ ہمیشہ مثبت رہو۔ مگر انسان ہونے کا مطلب کسی فلم کا پوسٹر نہیں جہاں ہیرو مسکراتا رہتا ہے، بلکہ کبھی ہم ٹوٹتے ہیں، کبھی غصہ کرتے ہیں اور کبھی الگ تھلگ ہونا چاہتے ہیں۔ رونا کمزوری نہیں، بلکہ دل کا طریقہ ہے خود کو صاف کرنے کا۔ ہر وقت کی مثبتیت دل کی موت ہے، تمھاری سچّی طاقت یہ ہے کہ تم ہر جذبہ محسوس کرو، ردعمل میں ذہن اور دل کو توازن کے ساتھ استعمال کرو اور پھر بھی آگے بڑھنے کا انتخاب کرو۔

ایک دن سب کچھ سمجھ آ جائے گا، یہ بھی ایک وہم ہے۔ زندگی کبھی تمام جواب نہیں دیتی، بلکہ سوال بدلتی رہتی ہے۔ شاید زندگی کا اصل ہنر یہ ہے کہ ہم غیر یقینی میں بھی مطمئن رہنا سیکھیں۔ یقینی کچھ بھی نہیں ہوتا نہ ہی ہمیں ہر وجہ کا جواب ملتا ہے، مگر چیزوں کو سمجھنے سے سکون مل سکتا ہے، بشرطیکہ ہم زندگی کو سمجھنے کی کوشش کریں، قابو پانے کی نہیں۔

کہا گیا کہ پیسہ خوشی نہیں خرید سکتا۔ شاید یہ سچ ہو، مگر پیسہ سہولت، آزادی اور اختیار ضرور دیتا ہے۔ غربت انسان کو عقلمند نہیں، تھکا ہارا ہوا بنا دیتی ہے۔ پیسہ برا نہیں، بلکہ یہ دکھانے میں مدد کرتا ہے کہ تم اندر سے کیسے تھے۔ یہ خوشی نہیں خرید سکتا، مگر زندگی کے لیے آسانیاں ضرور پیدا کرتا ہے۔

اور آخر میں، سب سے بڑا دھوکا، یہ خیال کہ ہمارے پاس بہت وقت ہے۔ نہیں، وقت ہمیشہ کم ہوتا ہے۔ لوگ صحیح وقت کے انتظار میں زندگی گزار دیتے ہیں، مگر کوئی لمحہ صحیح یا غلط نہیں ہوتا، بس موجود ہوتا ہے۔ تمہاری زندگی ابھی ہے، یہ سانس، یہ لمحہ۔ باقی سب وعدے ہیں جو وقت نہیں نبھاتا۔

click with ifthqar cheema
16/10/2025

click with ifthqar cheema

11/10/2025

کہا جاتا ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا اور لاکھوں انسانوں کو خاک و خون میں تڑپتا چھوڑا، تو وہ اپنی بے رحم فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف بڑھا۔

ہمدان کے باسی خوف سے کانپ رہے تھے۔ ہر آنکھ میں موت کا سایہ، ہر دل میں ہلاکت کی دھڑکنیں تھیں۔ چنگیز خان نے حکم دیا کہ پورا شہر ایک وسیع میدان میں جمع ہو۔ میدان ساکت تھا، جیسے وقت رک گیا ہو۔

چنگیز خان نے بلند آواز میں کہا:
"سنا ہے ہمدان کے لوگ بڑے عقل مند اور زیرک ہیں۔ تمہاری شہرت ہے کہ سب کچھ جانتے ہو، مگر حقیقت میں کچھ بھی نہیں جانتے — ہمہ دانی و ہیچ ندانی۔"

پھر اس نے اپنی گرجدار آواز میں اعلان کیا:
"میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا۔ اگر درست جواب ملا تو تمہیں زندگی ملے گی، اگر غلط ہوا تو یہ میدان تم سب کی قبریں بن جائے گا۔"

میدان پر موت جیسی خاموشی چھا گئی۔ اہلِ علم، بزرگ اور دانشور سر جھکائے سوچتے رہ گئے۔ سوال یہ تھا کہ صرف الفاظ کا امتحان نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کی بقا یا فنا کا فیصلہ تھا۔

چنگیز خان نے سوال کیا:
"کیا میں خدا کی طرف سے آیا ہوں یا اپنی مرضی سے؟"

سب کے چہروں پر گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ کوئی جواب دینے کی جرأت نہ کر سکا۔ اس گھڑی، ایک چرواہا ہجوم سے آگے بڑھا۔ نہ وہ فلسفی تھا، نہ کوئی عالم، مگر آنکھوں میں روشنی اور دل میں سچائی تھی۔

چنگیز نے اسے دیکھا اور کہا:
"میں جواب سننا چاہتا ہوں، اور وہ تجھ سے!"

چرواہے نے پر اعتماد نگاہوں سے چنگیز کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا:
"نہ تم خدا کی طرف سے آئے ہو اور نہ اپنی مرضی سے۔
تمہیں تو ہمارے اعمال نے یہاں پہنچایا ہے۔

جب ہم نے عقل کو پسِ پشت ڈال دیا، علم والوں کو بے وقعت کر دیا، انصاف کو پامال کیا، اور نالائقوں، خوشامدیوں اور جاہلوں کو قیادت دے دی— تو پھر تم جیسے خونخوار کا آنا مقدر تھا۔
تم دراصل ہماری اپنی کوتاہیوں اور ناانصافیوں کا چہرہ ہو!"

یہ سن کر میدان سنّاٹے میں ڈوب گیا۔ چنگیز خان لمحہ بھر کے لیے خاموش ہو گیا۔ شاید وہ چرواہے کی سچائی دل میں اتر گئی تھی۔ اور پھر… اس نے ہمدان کے لوگوں کو بخش دیا۔

قوموں پر چنگیز جیسے قہر آسمان سے نہیں اترتے۔ یہ ان کی اپنی غفلت، جہالت اور نااہل قیادت کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔
جہاں علم کی بے قدری ہو، انصاف مسلوب ہو، اور جاہل قیادت کرے— وہاں تباہی، ظلم اور بربادی یقینی ہے۔

11/08/2025

فحاشی مردوں کے خلاف ایک ایسی خاموش جنگ ہے ، جو ان کی روح ، عزتِ نفس اور کردار کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے ... بدقسمتی سے ، ہزاروں مرد یہ جنگ ہار رہے ہیں ... بغیر اس کے کہ انہیں اس ہار کا ادراک ہو ...*
*جب فحاشی غالب آتی ہے ، تو مرد صرف اپنی آنکھوں سے نہیں ہارتا ، بلکہ اپنی اصل شناخت ، عزم ، اور وقار سے بھی محروم ہو جاتا ہے ...

آج فحش مواد ایک عام اور آسانی سے دستیاب لعنت بن چکا ہے ... یہ یوں پیش کیا جاتا ہے گویا یہ کچھ نارمل ، بے ضرر یا حتیٰ کہ صحت بخش ہو ، لیکن درحقیقت یہ ایک غیر فطری ، ذہنی و روحانی زہر ہے ...

فحاشی مرد کو اس کی اصل ذمہ داریوں سے غافل کر دیتی ہے ... یہ صرف عورتوں یا بچوں کے استحصال پر مبنی نہیں ، بلکہ مرد کے شعور پر بھی حملہ کرتی ہے ...

ایسا مرد جو اپنی خواہشات کا غلام ہو ، وہ نہ لیڈر بن سکتا ہے ، نہ شوہر ، نہ باپ ، اور نہ معمارِ قوم ...
اصل مردانگی اپنے نفس پر قابو پانے میں ہے ...

ذہنی غلامی اور خوش فہمی کا جال ...
فحش مواد ایک مصنوعی خوشی اور جھوٹی تسکین دیتا ہے ، جس سے انسان کو لگتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے ... جبکہ اندر ہی اندر وہ اپنی حرارتِ فکر ، ارادوں کی توانائی اور مقصدیت کھو دیتا ہے ...

ایسا مرد زندگی میں محض ایک تماشائی بن جاتا ہے ...

رشتوں میں زہر گھولنا ...

جو مرد فحاشی کا عادی ہو ، وہ محبت کو صرف جسمانی تعلق تک محدود سمجھتا ہے ...

اس کے دل میں خلوص ، احترام اور وفا کی جگہ ہوس ، خودغرضی اور بے صبری لے لیتی ہے ...

ایسے لوگ سچے رشتے نبھا نہیں سکتے ، گھر بسا نہیں سکتے ، اور محبت کو پا نہیں سکتے ...

دماغی و جذباتی بگاڑ ...

فحاشی دماغ میں ایسے کیمیکل تبدیلیاں پیدا کرتی ہے جو جذبات کو بے قابو ، سوچ کو الجھا اور انسان کو تنہا کر دیتی ہیں ...
پھر وہ بار بار اسی دلدل میں گرتا ہے ، اور یہ سوچ لیتا ہے کہ "میں کبھی نہیں بدل سکتا" ...
یہ ایک خودساختہ قید ہے ، جس کی چابیاں اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہیں ...

تماشائی زندگی ...
فحاشی مرد کو بے عمل اور بیکار بنا دیتی ہے ...
وہ دوسروں کی زندگیوں کو دیکھنے میں لگا رہتا ہے اور اپنی زندگی کا مقصد کھو دیتا ہے ... یونہی وقت گزرتا جاتا ہے ، اور وہ اپنی ہی زندگی کا ایک تماشائی بن کر رہ جاتا ہے ... بےبس ، بیزار ، اور خالی ...
حقیقی شکست وہ ہوتی ہے جب انسان ہار مان لے ...

اور فحاشی وہ لعنت ہے جو انسان کو خود سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے ، یہی وہ لمحہ ہے جب انسان اپنی ہار کو قبول کر لیتا ہے ...
کیا آپ واقعی آزاد ہیں ۔۔۔؟

کیا آپ وہ مرد ہیں جو اپنے نفس کے غلام نہیں ۔۔۔؟

اگر آپ اس سوال کا جواب "ہاں" دینا چاہتے ہیں ، تو خود پر قابو پائیے ...
اپنی آنکھوں ، دل ، اور نیت کو پاک رکھئے ...
یہی حقیقی آزادی ، یہی اصل مردانگی ہے ...

*"جو شخص اپنی نظروں کی حفاظت کر لیتا ہے ، وہ دل کی پاکیزگی پا لیتا ہے" ...*
*(امام ابن القیم)*
*"خواہشات کا غلام ہونا ، سب سے بڑی غلامی ہے" ...*
*(امام غزالی)*
*"اپنے نفس کو قابو میں رکھو ، ورنہ یہ تمہیں قابو کر لے گا" ...*
*(علی ابن ابی طالب)*

Address

Chamber No. 1 Pak Bloc Kaghan Road F8Markaz Islamabad
Islamabad
143001

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch Amin Sikandar Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share