Lawyers of Lahore

Lawyers of Lahore Adv Zohaib Zaffar
Politician
Advocate Lahore High Court. Secretary Legal Lahore Cantt.

11/09/2026
⚖️ **A Woman’s Right to Inheritance Cannot Be Taken Away**A recent Lahore High Court judgment highlights an important pr...
10/09/2026

⚖️ **A Woman’s Right to Inheritance Cannot Be Taken Away**

A recent Lahore High Court judgment highlights an important principle concerning **women’s inheritance rights and oral gifts (Hiba)**.

Sadiqa Begum was deprived of her rightful share in her father’s property after her brother claimed that their father had orally gifted the entire land to him before his death. The lower courts accepted his version, but the Lahore High Court found serious legal shortcomings in the proof of the alleged Hiba.

The Court emphasized that the beneficiary of an oral gift must prove all three essential elements: **offer, acceptance, and delivery of possession**. The relevant time, date, place, and witnesses must also be established. The beneficiary himself should have appeared as a witness where his personal knowledge of the transaction was essential.

The Court further held that possession of one co-heir over joint property cannot automatically be treated as proof of exclusive ownership against the other heirs.
Ultimately, the Lahore High Court set aside the decisions of the lower courts and **decreed Sadiqa Begum’s claim**, directing her brother to provide her rightful Shariah share along with litigation expenses.
📌 **Key Message:**
No woman should be deprived of her lawful inheritance. Denying a woman her inheritance is contrary to the principles of **Shariah, public policy, and the law**.

⚖️ قانونی رہنمائی ⚖️📞 قانونی مشورے اور رہنمائی کے لیے ہم سے رابطہ کریں  0332-222-3337🌐 Follow us:
10/09/2026

⚖️ قانونی رہنمائی ⚖️
📞 قانونی مشورے اور رہنمائی کے لیے ہم سے رابطہ کریں
0332-222-3337
🌐 Follow us:

⚖️ قانونی رہنمائی ⚖️📞 قانونی مشورے اور رہنمائی کے لیے ہم سے رابطہ کریں  0332-222-3337🌐 Follow us:
09/09/2026

⚖️ قانونی رہنمائی ⚖️
📞 قانونی مشورے اور رہنمائی کے لیے ہم سے رابطہ کریں
0332-222-3337
🌐 Follow us:

09/09/2026
⚖️ ایک بچے کی کہانی، جس نے عدالت میں خود بتا دیا کہ وہ حقیقی والدین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔ایک خاندان میں ایک بچہ پیدا ...
08/09/2026

⚖️ ایک بچے کی کہانی، جس نے عدالت میں خود بتا دیا کہ وہ حقیقی والدین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔

ایک خاندان میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس کے حقیقی والدین نے، اپنی رضامندی سے، جب وہ تقریباً 6 ماہ کا تھا تو اس کی پرورش کی ذمہ داری اپنے قریبی رشتہ داروں کو سونپ دی۔ یوں بچہ ایک ایسے گھر میں پروان چڑھنے لگا جہاں اسے ایک ماں، باپ، چھ بہنوں اور ایک بھائی کی محبت ملی۔

وقت گزرتا گیا اور تقریباً 9 سال تک وہ اسی خاندان کے ساتھ رہا۔ اس کی عمر تقریباً 13 سال ہو چکی تھی۔ اس دوران وہ اسی گھر کو اپنا اصل گھر اور وہاں رہنے والے افراد کو اپنے حقیقی والدین اور بہن بھائی سمجھتا رہا۔

پھر اچانک ایک دن اس کے حقیقی والدین نے بچے کی تحویل واپس لینے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔

سوچیے، اس بچے کے ذہن پر کیا گزری ہوگی؟

جس گھر کو وہ اپنا گھر سمجھتا تھا، جن لوگوں کو وہ اپنے ماں باپ سمجھ کر بڑا ہوا، اچانک اسے بتایا گیا کہ وہ اس گھر کا حقیقی بیٹا نہیں بلکہ کسی اور خاندان کا بچہ ہے۔

🏛️ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا

ماتحت عدالت نے بچے کی تحویل اس کے حقیقی والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا، جس کے خلاف درخواست گزاروں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اس معاملے کو صرف اس نظر سے نہیں دیکھا کہ بچے کے حقیقی والدین کون ہیں، بلکہ سب سے اہم سوال یہ رکھا:

بچے کی بھلائی اور فلاح کس میں ہے؟

عدالت نے واضح کیا کہ نابالغ کی تحویل کا فیصلہ کرتے وقت سب سے بنیادی اور اہم اصول بچے کی فلاح و بہبود ہے۔ عدالت عمر، ذہنی کیفیت، خاندانی تعلق، ماحول، سرپرست کی صلاحیت اور بچے کی اپنی سمجھ بوجھ سمیت مختلف عوامل کو دیکھ سکتی ہے۔

❤️ پھر بچے کی آواز سنی گئی

تقریباً 13 سالہ بچے کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

جج نے اس سے سوالات کیے تاکہ اس کی ذہنی کیفیت اور سمجھ بوجھ کا اندازہ لگایا جا سکے۔

بچے نے بالکل واضح الفاظ میں بتایا کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے جنہوں نے اسے پالا تھا۔

عدالت نے اسے کچھ عرصہ اپنے حقیقی والدین کے ساتھ رہنے کا موقع بھی دیا تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنی پسند کا اظہار کر سکے۔

ایک ہفتے کے بعد جب بچے کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے ایک مرتبہ پھر واضح طور پر کہا:

وہ اپنے پرورش کرنے والے والدین کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہے۔

⚖️ عدالت نے بچے کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ بچے نے عدالت کے سامنے جس اعتماد اور پختگی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تعریف ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے پرورش کرنے والے خاندان نے اچھے ماحول میں پالا ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ عام طور پر حقیقی والدین کو پرورش کرنے والے والدین پر ترجیح حاصل ہوتی ہے، لیکن بچے کی فلاح و بہبود سب سے مقدم ہے۔

اس معاملے میں حقیقی والدین یہ ثابت نہیں کر سکے کہ بچے کو صرف عارضی طور پر دیا گیا تھا اور کسی مخصوص شرط کے تحت اسے واپس کیا جانا تھا۔ وہ یہ بھی ثابت نہیں کر سکے کہ بچے کو پرورش کرنے والے خاندان میں کوئی ناموافق یا غیر محفوظ ماحول میسر تھا۔

💔 ایک اور اہم پہلو

عدالت نے یہ بھی دیکھا کہ بچہ تقریباً 13 سال سے پرورش کرنے والے خاندان کے ساتھ رہ رہا تھا اور وہاں اس کے چھ بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ مضبوط جذباتی تعلقات قائم ہو چکے تھے۔

ایسے بچے کو اچانک ایک بالکل اجنبی ماحول میں منتقل کرنا اس کی ذہنی اور جذباتی کیفیت پر گہرا اثر ڈال سکتا تھا۔

🏛️ آخرکار عدالت کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ بچے کی فلاح و بہبود درخواست گزاروں کے ساتھ رہنے میں ہے۔

چنانچہ عدالت نے ماتحت عدالتوں کے احکامات ختم کر دیے اور حقیقی والدین کی جانب سے بچے کی تحویل حاصل کرنے کی درخواست خارج کر دی۔

البتہ حقیقی والدین کو یہ آزادی دی گئی کہ وہ خاندانی یا سرپرستی کی عدالت سے رجوع کرکے بچے سے ملاقات کا باقاعدہ طریقہ کار طے کروا سکتے ہیں۔

🌹 اس فیصلے کا سب سے خوبصورت سبق

بچے کی تحویل کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ حقیقی والدین کون ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ بچے کی زندگی، ذہنی سکون، جذباتی وابستگی اور مستقبل کے لیے کیا بہتر ہے۔

اور کبھی کبھی انصاف کا سب سے اہم ثبوت وہ آواز ہوتی ہے جو خود بچے کے دل سے نکلتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ — فیصلہ مورخہ 28 نومبر 2025ء
سید ارشد شاہ وغیرہ بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہ
رِٹ پٹیشن نمبر 43188/2023

بابر مسیح نامی ایک شخص کو 6 اکتوبر 2011ء کو بطور صفائی کارکن ملازمت پر رکھا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد، 30 دسمبر 2011ء کو اس ک...
07/09/2026

بابر مسیح نامی ایک شخص کو 6 اکتوبر 2011ء کو بطور صفائی کارکن ملازمت پر رکھا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد، 30 دسمبر 2011ء کو اس کی ملازمت مستقل بھی کر دی گئی۔

لیکن پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے اس کی ملازمت بھی چھین لی اور اسے جیل بھی پہنچا دیا۔

اس کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج ہوا اور وہ گرفتار ہو کر عدالتی تحویل میں چلا گیا۔ جیل میں ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ملازمت پر حاضر نہ ہو سکا۔ محکمہ نے اس کی غیرحاضری کو بنیاد بناتے ہوئے اسے ملازمت سے نکال دیا۔

وقت گزرتا گیا...

آخرکار 11 نومبر 2021ء کو لاہور ہائیکورٹ نے اسے اس فوجداری مقدمہ میں بری کر دیا۔ یعنی جس مقدمے کی وجہ سے وہ جیل گیا تھا، وہ مقدمہ اس کے خلاف ثابت نہ ہو سکا۔

اس کے بعد محکمانہ اپیل میں اسے دوبارہ ملازمت پر بحال کر دیا گیا اور اس کی بحالی 26 نومبر 2012ء سے تصور کی گئی۔

لیکن یہاں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔

محکمہ نے اسے ملازمت تو واپس دے دی، مگر برطرفی کے درمیانی عرصے کی تنخواہیں اور دیگر مالی مراعات دینے سے انکار کر دیا۔ اس عرصے کو غیر معمولی رخصت قرار دے دیا گیا۔

بابر مسیح نے یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

🏛️ عدالت نے کیا دیکھا؟

عدالت نے دیکھا کہ خود محکمانہ اتھارٹی یہ تسلیم کر چکی تھی کہ بابر مسیح کی غیرحاضری اس کے قابو سے باہر حالات کی وجہ سے ہوئی تھی اور اس کی غیرحاضری دانستہ نہیں تھی۔

مزید یہ بھی سامنے آیا کہ محکمہ ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا کہ اس دوران بابر مسیح کہیں اور ملازمت کر رہا تھا یا کوئی آمدن حاصل کر رہا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایسی صورتحال میں محض یہ کہنا کہ ملازم نے اس عرصے میں ڈیوٹی نہیں دی، اس کے بقایا مالی فوائد روکنے کے لیے کافی نہیں۔

⚖️ عدالت نے ایک اہم اصول بھی واضح کیا

کسی ملازم کو غیر قانونی طور پر ملازمت سے نکالنے کے بعد اگر اسے دوبارہ بحال کر دیا جائے تو بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات کا دیا جانا عمومی اصول ہے، جبکہ انکار ایک استثنائی عمل ہے۔

اگر اتھارٹی بقایا مراعات نہیں دینا چاہتی تو اسے واضح، ٹھوس اور قابلِ قبول وجوہات دینا ہوں گی۔ فیصلہ من مانی یا بلاجواز نہیں ہو سکتا۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی ملازم کی بحالی کا مطلب صرف اسے دوبارہ کرسی پر بٹھا دینا نہیں، بلکہ بحالی کے نتیجے میں اس کے سابقہ ملازمتی حقوق، سنیارٹی اور دیگر مراعات کے تحفظ کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے۔

📜 آخرکار کیا فیصلہ ہوا؟

لاہور ہائیکورٹ نے بقایا مالی مراعات سے انکار کی حد تک متعلقہ محکمانہ احکامات کالعدم قرار دے دیے اور معاملہ دوبارہ متعلقہ اتھارٹی کو بھیج دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ بابر مسیح کے بقایا مالی فوائد کے معاملے پر قانون اور اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں نئے سرے سے فیصلہ کیا جائے۔

یہ فیصلہ مصدقہ عدالتی فیصلے کی وصولی سے دو ماہ کے اندر کرنا ہوگا۔

🔹 سبق

کسی ملازم کو ایسے حالات کی سزا نہیں دی جا سکتی جو اس کے اختیار سے باہر ہوں۔

اور اگر عدالت یا مجاز اتھارٹی اسے دوبارہ ملازمت پر بحال کر دے تو اس کے مالی اور ملازمتی حقوق کا فیصلہ بھی قانون، انصاف اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق کرنا لازم ہے۔

🌙 Jumma Mubarak! 🤲✨May Allah bless your Friday with peace, mercy, happiness, and countless blessings. May He accept your...
04/09/2026

🌙 Jumma Mubarak! 🤲✨

May Allah bless your Friday with peace, mercy, happiness, and countless blessings. May He accept your prayers, forgive your shortcomings, and fill your life with barakah and success. Ameen. 🤍

Jumma Mubarak from Zohaib Zaffar, Advocate Lahore High Court.

02/09/2026

⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ | Important Judgment of the Supreme Court of Pakistan

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ ابتدائی Contract Service کو Seniority کے تعین کے لیے شمار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ Regular Appointment یا Regularization کو Fresh Appointment تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم، Contract Service کی مدت Pension Benefits کے لیے شمار کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ Civil Service Regulations (CSR) کی متعلقہ شرائط پوری ہوں اور اس کے بعد بلا تعطل Regular Service کی گئی ہو۔

The Supreme Court of Pakistan has clarified that initial contract service cannot be counted for determining seniority, as regular appointment or regularization is treated as a Fresh Appointment.

However, contract service may be counted for pensionary benefits, provided the relevant requirements of the Civil Service Regulations (CSR) are fulfilled and uninterrupted regular service is rendered thereafter.

📌 Key Takeaway | اہم نکتہ:
Contract Service → Not for Seniority ❌ | May Count for Pension ✅

This post is for legal awareness and educational purposes only. ہر کیس اپنے حقائق، متعلقہ قوانین اور عدالتی نظائر کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔

Address

Lahore

Telephone

+923322223337

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lawyers of Lahore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Lawyers of Lahore:

Shortcuts

Share