Malik Law Associates - Law Untold

Malik Law Associates - Law Untold This page has been created to share legal knowledge of practical in nature,,usually we learn basic law through books but here is knowledge of applied law

14/08/2026

اور بے شک بے شک کہنے والے فیلو جونئیرز 😁😁😁

20 ہزار کا ایک چالانیہ چالان *Over Speed Violation* کا ہے اور *20,000 روپے* اس لیے آیا ہے کیونکہ 60 کلومیٹر کی لمٹ پر گا...
09/08/2026

20 ہزار کا ایک چالان
یہ چالان *Over Speed Violation* کا ہے اور *20,000 روپے* اس لیے آیا ہے کیونکہ 60 کلومیٹر کی لمٹ پر گاڑی 88 پر جارہی تھی
پنجاب میں 2024-2025 سے PSCA کیمروں کے ذریعے اوور سپیڈ کا جرمانہ بہت زیادہ کر دیا گیا ہے۔
# # # *پنجاب ٹریفک پولیس / PSCA جرمانے کے موجودہ ریٹس 2026*
**خلاف ورزی** **جرمانہ**
**Over Speeding** **20,000 روپے** - پہلی بار بھی
سگنل توڑنا / Red Light 10,000 روپے
ون وے کی خلاف ورزی 5,000 روپے
سیٹ بیلٹ نہ باندھنا 1,500 روپے
موبائل استعمال 2,000 روپے
ہیلمٹ نہ پہننا - موٹر سائیکل 2,000 روپے
نوٹ: پہلے اوور سپیڈ 2000-5000 تھا، لیکن اب PSCA کیمرے سے پکڑے جانے پر فکس *20,000* ہے۔ اسی لیے آپ کا چالان بھی 20,000 کا ہے۔

23/07/2026

نیا وکیل AI سیکھتے ہوئے 😁😁😁

19/07/2026

اسپین کی ٹیم کے خلاف صرف ارجنٹینا کا گول کیپر کھیل رہا ہے، باقی ٹیم بھنگ کے پاپڑ کھا کر آئی ہے۔

12/07/2026

پاکستانی یونیورسٹیوں کے مالی مسائل کا حل

تحریر: ڈاکٹر سہیل زبیری
جولائی 11، 2026

پاکستان کی یونیورسٹیاں آج ایک ایسے مالی بحران کا سامنا کر رہی ہیں جو صرف تعلیمی اداروں کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جب کوئی یونیورسٹی اپنے اساتذہ کو بروقت تنخواہ نہ دے سکے، جب تحقیق کے لیے لیبارٹریوں میں آلات موجود نہ ہوں، جب بجلی کے بل ادا کرنا مشکل ہو جائے، جب نوجوان اساتذہ ملک چھوڑنے لگیں، اور جب ذہین طلبہ کو یہ احساس ہونے لگے کہ ان کے ملک میں اعلیٰ تعلیم کا کوئی روشن مستقبل نہیں، تو یہ بحران صرف ایک ادارے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ پوری قوم کے علمی، معاشی اور سائنسی مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

پاکستان میں اکثر یونیورسٹیاں اپنی آمدنی کے لیے حکومت پر انحصار کرتی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ملنے والی گرانٹس کم ہوں تو یونیورسٹیاں فوراً بحران کا شکار ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف حکومت خود شدید مالی دباؤ میں ہے۔ قرضوں کا بوجھ، دفاعی اخراجات، توانائی کا بحران، مہنگائی، کم ٹیکس آمدنی اور مسلسل بجٹ خسارے نے ریاست کی مالی گنجائش محدود کر دی ہے۔ ایسے حالات میں صرف یہ مطالبہ کرنا کہ حکومت یونیورسٹیوں کے بجٹ میں اضافہ کرے، اصولی طور پر درست ضرور ہے، مگر عملی طور پر ناکافی ہے۔ پاکستان کو ایک ایسے ماڈل کی ضرورت ہے جس میں یونیورسٹیاں حکومتی مدد کے ساتھ ساتھ اپنی مستقل آمدنی کے ذرائع بھی پیدا کریں۔

یہاں امریکہ کا لینڈ گرانٹ ماڈل ہمارے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔ انیسویں صدی میں امریکہ بھی ایک ایسے دور سے گزر رہا تھا جب اعلیٰ تعلیم زیادہ تر امیر طبقے تک محدود تھی۔ عام کسانوں، مزدوروں اور متوسط طبقے کے بچوں کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم تک رسائی آسان نہ تھی۔ اسی پس منظر میں 1862 ء میں امریکی صدر ابراہم لنکن کے دور میں مورل ایکٹ (Morrill Act) منظور ہوا۔ اس قانون کے تحت وفاقی حکومت نے ریاستوں کو زمین دی تاکہ وہ اسے استعمال کر کے ایسے تعلیمی ادارے قائم کریں جو زراعت، انجینئرنگ، سائنس اور عملی علوم کو فروغ دیں۔ بعد میں یہی ادارے لینڈ گرانٹ یونیورسٹیاں کہلائے۔ مورل ایکٹ نے امریکی اعلیٰ تعلیم، زرعی تحقیق، صنعتی ترقی اور فنی تعلیم میں بنیادی کردار ادا کیا۔

مورل ایکٹ کی اصل بصیرت یہ تھی کہ حکومت نے صرف سالانہ رقم نہیں دی، بلکہ ایک پیداواری اثاثہ فراہم کیا۔ زمین ایک ایسا وسیلہ تھا جسے لیز پر دے کر، تحقیق کے لیے استعمال کر کے، زرعی تجربات سے جوڑ کر، یا ادارہ جاتی ترقی کے لیے استعمال کر کے مستقل آمدنی پیدا کی جا سکتی تھی۔ اس ماڈل نے تعلیم کو صرف کتابی علم تک محدود نہ رکھا بلکہ اسے زراعت، صنعت، تحقیق اور عوامی خدمت سے جوڑ دیا۔ اسی لیے ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی، کارنیل، آئیوا اسٹیٹ، مشی گن اسٹیٹ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا جیسے ادارے بعد میں عالمی معیار کی یونیورسٹیاں بن گئے۔

پاکستان کو اس تجربے سے یہ سبق لینا چاہیے کہ یونیورسٹیوں کو صرف اخراجات کا بوجھ سمجھنا ایک سنگین غلطی ہے۔ یونیورسٹیاں اگر صحیح وژن، خودمختاری اور وسائل کے ساتھ کام کریں تو وہ ملک کی معاشی ترقی کا انجن بن سکتی ہیں۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کو عموماً تدریسی ادارہ سمجھا جاتا ہے، تحقیق اور معاشی پیداوار کا مرکز نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ یونیورسٹی ایک طرف حکومت سے گرانٹ مانگتی رہتی ہے، دوسری طرف صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور مقامی معیشت اس کے علمی وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

پاکستان کے لیے ایک نیا قومی اعلیٰ تعلیمی ترقیاتی ایکٹ بنایا جا سکتا ہے، جو امریکی مورل ایکٹ (Morrill Act) کی روح سے متاثر ہو مگر پاکستان کے حالات کے مطابق ہو۔ اس قانون کے تحت ہر بڑی سرکاری یونیورسٹی کو اس کے مشن کے مطابق زمین، مالی خودمختاری، ٹیکس مراعات اور صنعت سے شراکت کے مواقع دیے جائیں۔ زرعی یونیورسٹیوں کو زرعی تحقیق، بیج سازی، ڈیری، لائیو اسٹاک اور جدید کاشت کاری کے لیے زمین دی جائے۔ انجینئرنگ یونیورسٹیوں کو ٹیکنالوجی پارک، صنعتی ڈیزائن مراکز اور اسٹارٹ اَپ انکیوبیٹر قائم کرنے کا اختیار دیا جائے۔ میڈیکل یونیورسٹیوں کو بایو ٹیکنالوجی، ادویات سازی، تشخیصی لیبارٹریوں اور خصوصی کلینکس کے ذریعے آمدنی پیدا کرنے کا موقع دیا جائے۔ عام یونیورسٹیاں بھی سولر فارم، ریسرچ پارک، پروفیشنل ٹریننگ سینٹرز اور مشاورتی خدمات کے ذریعے اپنی مالی بنیاد مضبوط کر سکتی ہیں۔

اس ماڈل میں زمین کو رہائشی اسکیموں یا فوری منافع کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے زمین کو اکثر تعلیمی اور تحقیقی ترقی کے بجائے رئیل اسٹیٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر یونیورسٹیوں کو زمین دی جائے تو اس کے استعمال کے لیے سخت قانونی اصول ہونے چاہئیں۔ زمین صرف تعلیم، تحقیق، زرعی تجربات، ٹیکنالوجی پارکس، توانائی منصوبوں، ہسپتالوں، تربیتی مراکز یا ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو جو یونیورسٹیوں کی علمی اور مالی خود کفالت میں مدد دیں۔ اس زمین کو فروخت کرنے کی اجازت نہ ہو، بلکہ اسے شفاف لیز، مشترکہ منصوبوں یا پیداواری استعمال کے ذریعے مستقل آمدنی کا ذریعہ بنایا جائے۔

پاکستانی یونیورسٹیوں کے مالی مسائل کا دوسرا بڑا حل صنعت اور یونیورسٹیوں کے درمیان حقیقی شراکت ہے۔ ہمارے ملک میں صنعت زیادہ تر درآمدی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ یونیورسٹیاں اکثر ایسی تحقیق کرتی ہیں جس کا مقامی صنعت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس فاصلے کو ختم کرنا ضروری ہے۔ ہر بڑی صنعت کو ٹیکس مراعات دی جائیں کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ جامعاتی تحقیق پر خرچ کرے۔ اسی طرح ہر یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر آفس قائم کیا جائے جو صنعت کے مسائل کو تحقیق کے موضوعات میں تبدیل کرے۔ انجینئرنگ، زراعت، توانائی، پانی، ماحولیات، مصنوعی ذہانت، صحت اور ادویات سازی کے میدانوں میں پاکستانی صنعت کو یونیورسٹیوں کے ساتھ لازمی شراکت کی طرف لانا ہو گا۔

پاکستان کی یونیورسٹیوں کی ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ ان کی آمدنی کا تقریباً واحد ذریعہ حکومتی گرانٹ ہے۔ دنیا کی ممتاز یونیورسٹیاں اس اصول پر نہیں چلتی ہیں۔ حکومت ان کی مدد ضرور کرتی ہے، لیکن ان کی مالی بنیاد کئی مختلف ستونوں پر قائم ہوتی ہے۔ اگر ان میں سے ایک ذریعہ کمزور بھی پڑ جائے تو باقی ذرائع ادارے کو سنبھال لیتے ہیں۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں کو بھی اسی سمت جانا ہو گا۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا ذریعہ سابق طلبہ (Alumni) ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپ کی تقریباً تمام ممتاز جامعات سابق طلبہ کے ساتھ زندگی بھر کا تعلق قائم رکھتی ہیں جن سے ہر سال اربوں ڈالر کے عطیات اپنے ہی فارغ التحصیل طلبہ سے ملتے ہیں۔ یہ رقوم نئی عمارتوں، لیبارٹریوں، وظائف، پروفیسر شپ اور تحقیقی منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہیں۔ یہاں میں ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی مثال دیتا ہوں۔ یونیورسٹی کا کل بجٹ ڈھائی ارب ڈالر ہے۔ گزشتہ سال سابق طلبا نے چار سو ملین ڈالر کے عطیات دیے۔ پچھلے سالوں میں ان عطیات کی بنیاد پر تین ارب ڈالر کی انڈومنٹ (endowment) موجود ہے جس سے ہر سال تقریباً پانچ سو ملین ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک طاقتور انداز میں بتاتے ہیں کہ یونیورسٹی کے مالی استحکام میں سابق طلبا کا کتنا اہم رول ہے۔

پاکستان میں بدقسمتی سے طالب علم ڈگری لینے کے بعد اپنی یونیورسٹی سے تقریباً کٹ جاتا ہے۔ چند سال بعد اس کا یونیورسٹی سے رابطہ صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب اسے کسی کاغذ کی تصدیق درکار ہو۔ یہ روایت بدلنی ہوگی۔ ہر یونیورسٹی میں ایک طاقتور دفترِ سابق طلبہ کا قائم ہونا چاہیے جس کا واحد مقصد دنیا بھر میں موجود اپنے فارغ التحصیل طلبہ سے رابطہ برقرار رکھنا، انہیں یونیورسٹی کی ترقی میں شریک کرنا اور مستقل اینڈومنٹ فنڈ قائم کرنا ہو۔ اگر کسی جامعہ کے ایک لاکھ سابق طلبہ میں سے صرف دس ہزار افراد بھی سالانہ دس ہزار روپے عطیہ دیں تو دس کروڑ روپے کا مستقل فنڈ قائم ہو سکتا ہے۔ اس رقم سے درجنوں وظائف، کئی تحقیقی منصوبے اور جدید لیبارٹریاں قائم کی جا سکتی ہیں۔

دوسرا اہم ذریعہ تحقیق کی صنعتی افادیت ہے۔ پاکستان میں تحقیق کا معیار کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم تحقیق کو صرف تحقیقی مقالے شائع کرنے تک محدود سمجھتے ہیں۔ دنیا کی بڑی یونیورسٹیاں تحقیق کو صنعت، معیشت اور قومی ترقی سے جوڑتی ہیں۔ اگر کسی یونیورسٹی میں نئی دوا تیار ہوتی ہے، کوئی نیا زرعی بیج ایجاد ہوتا ہے، کوئی بہتر سولر سیل، کوئی مصنوعی ذہانت کا نیا سافٹ ویئر یا پانی صاف کرنے کی نئی ٹیکنالوجی تیار ہوتی ہے، تو اس کے پیٹنٹ سے یونیورسٹی کو مسلسل آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

پاکستان میں ہر یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر آفس قائم کیا جانا چاہیے جس کا کام صرف ایک ہو: اساتذہ اور طلبہ کی تحقیق کو صنعت تک پہنچانا۔ یہ دفاتر پیٹنٹ حاصل کریں، صنعت سے معاہدے کریں، نئی کمپنیوں کی تشکیل میں مدد دیں، اور تحقیق کو معاشی سرگرمی میں تبدیل کریں۔ اس وقت پاکستان میں سینکڑوں تحقیقی مقالے شائع ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے بہت کم صنعت تک پہنچتے ہیں۔ اگر تحقیق کا ایک چھوٹا حصہ بھی عملی مصنوعات میں تبدیل ہو جائے تو جامعات کی مالی حالت نمایاں طور پر بہتر ہو سکتی ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں ایک اور غیر معمولی موقع شمسی توانائی ہے۔ ملک کی بیشتر یونیورسٹیوں کے پاس وسیع اراضی اور بڑی عمارتیں موجود ہیں۔ اگر ان کی چھتوں اور دستیاب زمین پر بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کے منصوبے لگائے جائیں تو نہ صرف ان کی بجلی کے اخراجات تقریباً ختم ہو سکتے ہیں بلکہ اضافی بجلی قومی گرڈ کو فروخت کر کے مستقل آمدنی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ دنیا کی متعدد یونیورسٹیاں اپنی توانائی خود پیدا کرتی ہیں۔ پاکستان میں بھی یونیورسٹیاں توانائی کے صارف کے بجائے توانائی پیدا کرنے والے ادارے بن سکتی ہیں۔

اسی طرح یونیورسٹیوں کو مسلسل پیشہ ورانہ تعلیم (Continuing Professional Education) کا مرکز بننا چاہیے۔ انجینئر، ڈاکٹر، اساتذہ، وکلاء، بینکار، سرکاری افسران اور صنعت کار اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں نئی مہارتیں سیکھنے کے محتاج ہوتے ہیں۔ اگر یونیورسٹیاں شام اور ہفتہ وار مختصر تربیتی پروگرام، ڈپلومے، آن لائن کورسز اور صنعتی تربیت کے مراکز قائم کریں تو یہ نہ صرف قومی افرادی قوت کو بہتر بنائیں گے بلکہ یونیورسٹی کے لیے ایک مستقل آمدنی کا ذریعہ بھی ثابت ہوں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جامعاتی وقف (University Endowment) کی روایت کو فروغ دینا ہو گا۔ اسلامی تہذیب میں وقف کی ایک درخشاں تاریخ موجود ہے۔ صدیوں تک مدارس، ہسپتال، کتب خانے اور تعلیمی ادارے اوقاف کے ذریعے چلتے رہے۔ بدقسمتی سے جدید یونیورسٹیوں میں اس روایت کو تقریباً فراموش کر دیا گیا ہے۔ اگر صنعت کار اور مخیر حضرات کو ٹیکس میں مناسب رعایت دی جائے تو وہ پروفیسر شپ، وظائف، لیبارٹریاں اور تحقیقی مراکز کے لیے مستقل اوقاف قائم کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف حکومت پر بوجھ کم ہو گا بلکہ یونیورسٹیوں کو مالی استحکام بھی حاصل ہو گا۔

لیکن ایک شرط نہایت ضروری ہے۔ مالی خود کفالت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ یونیورسٹیاں کاروباری ادارے بن جائیں۔ یونیورسٹی کا مقصد منافع کمانا نہیں بلکہ علم پیدا کرنا ہے۔ البتہ اگر ایک یونیورسٹی اپنی تحقیق، اپنی مہارت، اپنی زمین، اپنی توانائی، اپنے سابق طلبہ اور صنعت کے ساتھ شراکت کے ذریعے اپنی مالی بنیاد مضبوط کر لیتی ہے تو وہ حکومت کی مالی مشکلات سے کم متاثر ہوگی۔ درحقیقت مالی خودمختاری ہی علمی خودمختاری کی بنیاد بنتی ہے۔ جو یونیورسٹی ہر سال اپنے اخراجات کے لیے دروازے دروازے دستک دیتی ہے، وہ آزادانہ منصوبہ بندی اور طویل المدت تحقیق بھی مشکل سے کر سکتی ہے۔

اسی لیے پاکستان کو صرف زیادہ بجٹ نہیں بلکہ یونیورسٹیوں کے لیے ایک نیا مالیاتی فلسفہ اختیار کرنا ہو گا۔ حکومت کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی؛ بلکہ حکومت کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کا کام صرف تنخواہیں ادا کرنا نہیں بلکہ ایسا قانونی، مالی اور انتظامی ماحول پیدا کرنا ہے جس میں یونیورسٹیاں خود اپنی آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کر سکیں، تحقیق کو قومی معیشت سے جوڑ سکیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے علم کا ایسا سرمایہ چھوڑ جائیں جو وقت کے ساتھ بڑھتا رہے، گھٹتا نہ رہے۔

اگر پاکستان واقعی اپنی یونیورسٹیوں کو مالی بحران سے نکالنا چاہتا ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ وقتی امداد اور سالانہ گرانٹس کے بجائے ایک جامع اور طویل المدت پالیسی اختیار کی جائے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کو ایک ”پاکستان ہائر ایجوکیشن ڈیولپمنٹ ایکٹ“ منظور کرنا چاہیے، جس کا بنیادی مقصد یونیورسٹیوں کو صرف زندہ رکھنا نہیں بلکہ انہیں قومی ترقی کا محرک بنانا ہو۔

اس قانون کی بنیاد چند بنیادی اصولوں پر ہونی چاہیے۔

1۔ یونیورسٹیوں کو قومی سرمایہ سمجھا جائے، خرچ نہیں
پاکستان میں ہر بجٹ کے موقع پر یونیورسٹیوں کے لیے مختص رقم کو ایک خرچ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک نئی موٹر وے چند گھنٹے بچا سکتی ہے، لیکن ایک اچھی یونیورسٹی کئی نسلوں کی قسمت بدل سکتی ہے۔ آج دنیا کی بڑی معیشتیں اپنی دولت کارخانوں سے کم اور یونیورسٹیوں سے زیادہ پیدا کر رہی ہیں۔ گوگل، مائیکروسافٹ، ایپل، این ویڈیا، اوپن اے آئی، بائیو ٹیکنالوجی، جدید ادویات اور خلائی صنعتوں کی بنیاد یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق پر رکھی گئی تھی۔ لہٰذا قومی بجٹ میں یونیورسٹیوں کو دفاع اور بنیادی انفراسٹرکچر کے ساتھ قومی ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔

2۔ دس سالہ مالی خود کفالت کا منصوبہ
ہر یونیورسٹی کو پابند کیا جائے کہ وہ آئندہ دس برس میں اپنی آمدنی کا کم از کم چالیس سے پچاس فیصد خود پیدا کرے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اپنی ذمہ داری چھوڑ دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ابتدائی سرمایہ فراہم کرے جبکہ یونیورسٹی آہستہ آہستہ تحقیقی معاہدوں، صنعتی تعاون، اینڈومنٹس، زرعی منصوبوں، توانائی، پیٹنٹس، اور پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے اپنی مالی بنیاد مضبوط کرے۔

3۔ کارکردگی کی بنیاد پر حکومتی امداد
آج تقریباً تمام یونیورسٹیوں کو بجٹ تقریباً ایک ہی فارمولے سے ملتا ہے۔ اس کے بجائے امداد کا ایک حصہ درج ذیل بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ تحقیق، صنعت کے ساتھ تعاون، پیٹنٹس، فارغ التحصیل طلبہ کی کامیابی، بین الاقوامی درجہ بندی، اور مقامی مسائل کے حل میں کردار۔ اس سے یونیورسٹیوں میں صحت مند مقابلہ پیدا ہو گا۔

4۔ وائس چانسلر کا نیا کردار
پاکستان میں وائس چانسلر زیادہ تر ایک انتظامی افسر بن کر رہ گیا ہے۔ عمومی طور پر اس کی بیشتر سرگرمی ان مسائل پر ہوتی ہے جن کو نچلی اور بعض اوقات بہت نچلی سطح پر حل ہوجانا چاہیے۔ تمام کنٹرول اپنے ہاتھوں میں رکھنے کی بیماری سب شعبوں میں عام ہے۔ مجھے آج بھی وہ واقعہ یاد آتا ہے جب قائد اعظم یونیوسٹی کے قیام کے دوران بحیثیت چیرمین میں نے امتحان لینے کے لیے ایک اور ادارے سے ایکسپرٹ کو دعوت دی۔ امتحان کے بعد ان کو واپس لے جانے کے لیے مجھے سرکاری گاڑی کی ضرورت تھی۔ میں نے اپنے اسسٹنٹ کو انتظام کرنے کا کہا۔ ادھر ادھر فون کرنے کے بعد انہوں نے مجھے بتایا کہ اس مقصد کے لیے مجھے براہ راست وائس چانسلر سے بات کرنی ہو گی کیونکہ سرکاری گاڑی کے استعمال کی اجازت دینے کا حق صرف وائس چانسلر کے پاس ہے۔ دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر عالمی فنڈ حاصل کرنے کی تگ و دو کرتا ہے، صنعت سے روابط قائم کرتا ہے، حکومتی اداروں سے ہر وقت اپنی یونیورسٹی کے لیے نئی مراعات حاصل کرنے میں مصروف رہتا ہے، سابق طلبہ سے عطیات حاصل کرتا ہے، تحقیقی سرمایہ لاتا ہے۔ پاکستان میں بھی وائس چانسلر کی کامیابی کا اہم معیار نئے وسائل پیدا کرنے کی صلاحیت ہونا چاہیے۔

5۔ HEC کا کردار بھی تبدیل ہونا چاہیے
ہائر ایجوکیشن کمیشن کو صرف گرانٹس تقسیم کرنے والا ادارہ نہیں رہنا چاہیے۔ اسے قومی تحقیقی سرمایہ کاری کا ادارہ بننا چاہیے۔ HEC کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ عالمی تحقیقی فنڈز پاکستان لائے، صنعت اور یونیورسٹیوں کو جوڑے، مشترکہ تحقیقی مراکز قائم کرے، بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ شراکت پیدا کرے، اور نئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرپرستی کرے۔

6۔ ہر جامعہ کا اپنا ترقیاتی بورڈ
ہر جامعہ میں ایک University Development Board قائم کیا جائے۔ اس میں صنعت کار، سابق طلبہ، سائنس دان، مالیاتی ماہرین، زرعی ماہرین، اور انجینئر شامل ہوں۔ یہ بورڈ صرف ایک سوال پر کام کرے :اگلے دس برس میں جامعہ کو مالی طور پر مضبوط کیسے بنایا جائے؟

7۔ قومی یونیورسٹی اینڈومنٹ فنڈ۔ آئندہ سو برسوں کی سرمایہ کاری
سب سے اہم نکتہ پاکستان میں ایک ”نیشنل یونیورسٹی اینڈومنٹ فنڈ“ کا قیام ہونا چاہیے، جس کا مقصد یونیورسٹیوں کے لیے ایک مستقل اور پائیدار مالی بنیاد فراہم کرنا ہو۔ اس فنڈ میں ابتدائی سرمایہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، ملکی صنعت، بیرونِ ملک مقیم پاکستانی، مخیر حضرات اور یونیورسٹیوں کے سابق طلبہ مشترکہ طور پر فراہم کریں۔ اس فنڈ کا بنیادی اصول یہ ہو کہ اصل سرمایہ کبھی خرچ نہ کیا جائے، بلکہ اسے محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری میں لگایا جائے، اور صرف اس سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدنی یونیورسٹیوں کی تحقیق اور نئی علمی سرگرمیوں پر خرچ کی جائے۔ اس طرح یونیورسٹیاں ہر سال حکومتی بجٹ کی غیر یقینی صورتحال کی محتاج نہیں رہیں گی، بلکہ ان کے پاس ایک ایسا مستقل مالی ذریعہ ہو گا جو آنے والی نسلوں تک اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کو مستحکم بنیاد فراہم کرتا رہے گا۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا، دنیا کی متعدد ممتاز یونیورسٹیوں کی پائیدار ترقی کے پیچھے مضبوط اینڈومنٹ فنڈز کا یہی ماڈل کارفرما ہے، اور پاکستان بھی اس تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ فنڈ کسی عام سرکاری اسکیم کی طرح نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک قومی اثاثہ (National Asset) ہونا چاہیے۔

پاکستان کو اب وقتی امداد، ہنگامی گرانٹس اور سالانہ بجٹ کی کشمکش سے آگے بڑھنا ہو گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جامعات واقعی عالمی معیار کے تحقیقی ادارے بنیں، تو ہمیں ایک ایسا مالیاتی ڈھانچہ قائم کرنا ہو گا جو حکومتوں کی تبدیلی، معاشی بحرانوں اور بجٹ کی غیر یقینی صورتحال سے آزاد ہو۔ اسی مقصد کے لیے ایک ”قومی یونیورسٹی اینڈومنٹ فنڈ“ کے قیام کی تجویز انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

اس فنڈ کو مکمل طور پر آزاد بورڈ آف ٹرسٹیز کے تحت چلایا جانا چاہیے، جس میں ممتاز ماہرینِ معاشیات، صنعت کار، سائنس دان، مالیاتی ماہرین، سابق جج، اور اعلیٰ تعلیمی شخصیات شامل ہوں۔ حکومت کو اس فنڈ کی سرپرستی ضرور کرنی چاہیے، لیکن اسے اس کے سرمائے کو اپنے مالی خسارے پورے کرنے یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا اختیار ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اس اصول کو آئینی اور قانونی تحفظ دیا جائے تو یہ فنڈ آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ رہے گا۔

سب سے مشکل کام اس فنڈ کو اس ادارے کی لالچی نگاہوں اور ہوس سے بچانا ہو گا جس نے ملک کے تقریباً ہر ادارے کو اپنی گرفت میں جکڑ رکھا ہے۔ اس موقعے پر چالیس سال قبل نافذ کیے گئے اقرا ٹیکس کے بھیانک انجام کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

ذرا تصور کیجیے کہ اگر آئندہ بیس برسوں میں اس فنڈ کا حجم صرف پانچ سے دس ارب ڈالر تک پہنچ جائے تو اس کی سالانہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی پاکستان کی سرکاری جامعات کو اربوں روپے فراہم کر سکتی ہے۔ اس رقم سے سینکڑوں پی ایچ ڈی وظائف، درجنوں عالمی معیار کی لیبارٹریاں، ممتاز پروفیسر شپس، بین الاقوامی تحقیقی مراکز، اور نوجوان سائنس دانوں کے لیے مستقل تحقیقی گرانٹس قائم کی جا سکتی ہیں، وہ بھی اس کے بغیر کہ ہر سال وزارتِ خزانہ کے دروازے پر دستک دینی پڑے۔

پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا وقت آیا ہو جب اعلیٰ تعلیم اتنے بڑے چیلنج سے دوچار رہی ہو۔ لیکن ہر بحران اپنے اندر ایک موقع بھی چھپائے رکھتا ہے۔ اگر ہم آج بھی پرانے طریقوں پر قائم رہے، ہر سال بجٹ میں معمولی اضافے کی امید لگائے بیٹھے رہے، اور یونیورسٹیوں کو محض سرکاری دفاتر سمجھتے رہے، تو مالی بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا، بہترین اساتذہ بیرونِ ملک منتقل ہوتے رہیں گے، اور ہماری یونیورسٹیاں عالمی علمی دوڑ سے مزید پیچھے رہ جائیں گی۔

لیکن اگر ہم اس بحران کو ایک نئے آغاز کے طور پر دیکھیں، تو یہی وقت پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی ازسرِ نو تشکیل کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔ ہمیں ایسی یونیورسٹیاں درکار ہیں جو صرف ڈگریاں تقسیم نہ کریں بلکہ نئی صنعتیں پیدا کریں ؛ جو صرف تحقیقی مقالے نہ لکھیں بلکہ نئی ادویات، نئی ٹیکنالوجی، نئے بیج، نئے سافٹ ویئر اور نئے کاروبار پیدا کریں ؛ جو صرف حکومت کی طرف نہ دیکھیں بلکہ خود قومی معیشت میں حصہ ڈالیں۔

امریکہ کی لینڈ گرانٹ جامعات نے ایک زرعی معاشرے کو صنعتی اور پھر علمی طاقت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جنوبی کوریا، سنگاپور اور چین نے اپنی یونیورسٹیوں کو قومی ترقی کے مراکز بنا کر چند دہائیوں میں اپنی تقدیر بدل دی۔ پاکستان بھی ایسا کر سکتا ہے، بشرطیکہ ہم یونیورسٹیوں کو اخراجات کا بوجھ نہیں بلکہ مستقبل کی سب سے بڑی سرمایہ کاری سمجھیں۔

میری نظر میں پاکستان کی معاشی بحالی کا سفر صرف وزارتِ خزانہ سے شروع نہیں ہو گا۔ اس کا آغاز یونیورسٹی کے کلاس روم، لیبارٹری، تحقیقی مرکز، زرعی فارم اور ٹیکنالوجی پارک سے ہو گا۔ جب ہماری یونیورسٹیاں علم پیدا کریں گی، تو علم نئی صنعتیں پیدا کرے گا؛ نئی صنعتیں روزگار پیدا کریں گی؛ روزگار معیشت کو مضبوط کرے گا؛ اور ایک مضبوط معیشت پھر مزید بہتر یونیورسٹیاں تعمیر کرے گی۔ یہی وہ مثبت چکر (Virtuous Cycle) ہے جس نے ترقی یافتہ قوموں کو ترقی یافتہ بنایا۔

اگر ہم پاکستان کو بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی یونیورسٹیوں کو بدلنا ہو گا۔ اور اگر ہم اپنی یونیورسٹیوں کو بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں انہیں مالی طور پر خودمختار، علمی طور پر آزاد، اور قومی ترقی کا حقیقی مرکز بنانا ہو گا۔ عظیم قومیں وہ ہوتی ہیں جو ایسے ادارے تعمیر کرتی ہیں جو نسلوں تک علم پیدا کرتے رہیں۔

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

05/07/2026

عدالتیں 24 گھنٹے کھول دو
تاکہ مظلوم کو انصاف کے لیے جج کے گھر کا دروازہ نہ توڑنا پڑے

تمام ممبران لاہوربار سے گزارش ہے کہ ہمارے دوست نعمان حنیف میؤ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ گرین ٹاؤن والے اس وقت بلڈ کینسر کی وجہ س...
01/07/2026

تمام ممبران لاہوربار سے گزارش ہے کہ ہمارے دوست نعمان حنیف میؤ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ گرین ٹاؤن والے اس وقت بلڈ کینسر کی وجہ سے شدید علیل ہیں اور وکالت کے علاوہ انکا کوئی اور ذریعہ آمدن نہیں۔ اس وقت باربار خون کی تبدیلی کی وجہ سے جسمانی اور مالی طور پر کافی کمزور ہوچکے ہیں۔ ہم سب کا اخلاقی فرض بنتاہے کہ اپنے دوست کی اس مشکل وقت میں مدد کریں۔ میں پنجاب بار کونسل، لاہوربار کی کیبنٹ، امیدواران اور میؤ برادری سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ نعمان میؤ صاحب کی فوری مالی معاونت کی جائے اور انہیں علاج میں سہولت فراہم کی جائے۔
جازکیش نمبر : نعمان حنیف میؤ ایڈووکیٹ
JazzCash: 03224897679

01/06/2026

‏پاکستانیوں کو بلاجواز اور زبانی طور پر ایئرپورٹس سے آف لوڈ کرنے کی بابت لاہور ہائیکورٹ کا شاندار فیصلہ 👇👇
👇👇
لاہور ہائیکورٹ نے ایف ائی اے کو بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کو اف لوڈ کرنے کے حوالے سے گائیڈ لائز جاری کردیں

کسی مسافر کو آف لوڈنگ کرتے وقت افسران کو تفصیلی اور بامعنی وجوہات تحریر کرنا ہوں گی، فیصلہ

مسافر سے پوچھے گئے سوالات اور دیے گئے جوابات بھی ریکارڈ کیے جائیں عدالت

جہاں ممکن ہو انٹرویو یا گفتگو کو الیکٹرانک طور پر محفوظ کیا جائے، عدالت

آف لوڈنگ آرڈر یا پروفارما کی کاپی متاثرہ مسافر کو فراہم کی جائے،فیصلہ

عدالت نے درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات رکھنے والے شہری کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار دے دیا

عدالت نے شہری کو نائجیریا جانے سے روکنے کا ایف آئی اے اقدام کالعدم قرار دے دیا

صرف خدشات، یا مبہم وجوہات پر شہری کو بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا، فیصلہ

جسٹس راحیل کامران نے شہری محمد عباس کی درخواست پر نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا

01/06/2026

*سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: خفیہ آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ، حقِ رازداری اور شہادت کی قابلیت*
*PLJ 2026 SC (Cr.C.) 175 | فوجداری پٹیشن 248-ایل/2016 | بشارت علی چوہدری بنام صابر علی وغیرہ*

سپریم کورٹ پاکستان نے حقِ رازداری اور نجی ریکارڈنگ کو بطور شہادت پیش کرنے کے حوالے سے ایک اصولی فیصلہ سنایا۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:

# # # *1. ریکارڈنگ کی 2 بنیادی اقسام*
*الف) خود فریق ہونے کی صورت:*
اگر گفتگو میں شامل شخص خود ریکارڈنگ کرے تو یہ عام طور پر غیر قانونی وائر ٹیپنگ نہیں مانا جائے گا، چاہے دوسرا فریق لاعلم ہو۔

*ب) تیسرے فریق کی ریکارڈنگ:*
دو افراد کی نجی گفتگو کو ان کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر ریکارڈ کرنا غیر قانونی نگرانی اور جاسوسی کے زمرے میں آتا ہے۔

# # # *2. ریکارڈنگ بطور شہادت کب قابلِ قبول ہے؟*
عدالت نے 3 شرائط لازم قرار دیں:
1. *قانونی طریقہ:* ریکارڈنگ قانون کے مطابق حاصل کی گئی ہو۔
2. *مقدمے سے تعلق:* مواد کا کیس سے براہِ راست تعلق ہو۔
3. *حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو:* آئینی حقِ رازداری کی پامالی نہ ہو۔

صرف "خفیہ ریکارڈنگ موجود ہے" کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی، کیونکہ خود ریکارڈنگ کا عمل غیر قانونی ہو سکتا ہے۔

# # # *3. نجی ریکارڈنگ کا غلط استعمال = جرم*
عدالت نے واضح کیا کہ کسی کی آواز، تصویر یا گفتگو کو اجازت کے بغیر خفیہ طور پر حاصل کر کے:
- بلیک میلنگ
- بھتہ خوری
- دباؤ ڈالنے
- یا کسی ناجائز مقصد
کے لیے استعمال کرنا PECA 2016 کی دفعہ 23 کے تحت جرم ہے۔

# # # *4. سرکاری نگرانی vs نجی جاسوسی*
*سرکاری CCTV/سیکیورٹی سسٹم:* اگر قانونی تقاضے پورے ہوں اور فرانزک تصدیق ہو، تو یہ قابلِ قبول شہادت بن سکتی ہے۔ مثال: زاہر جعفر کیس 2025 SCP 220۔

*نجی خفیہ ریکارڈنگ:* بدنیتی پر مبنی نجی ریکارڈنگ نجی زندگی میں غیر قانونی مداخلت ہے اور قابلِ قبول شہادت نہیں۔

# # # *5. جو خود جاسوسی کرے وہ متاثرہ نہیں رہتا*
اگر مدعی خود غیر قانونی نگرانی یا جاسوسی کا سہارا لیتا ہے تو وہ قانون شکن بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں جس کی ریکارڈنگ کی گئی، وہی اصل متاثرہ فریق تصور ہوگا۔

# # # *6. اسلامی و آئینی بنیاد*
عدالت نے حقِ رازداری کی اہمیت قرآن کی آیت *"وَلَا تَجَسَّسُوا"* اور حضرت عمرؓ کے واقعے سے واضح کی: محض شک کی بنیاد پر بھی کسی کی نجی زندگی اور گھر کے تقدس کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔

# # # *7. عدالت کی وارننگ*
اگر ہر شہری کو بغیر وارنٹ کے دوسرے کی جاسوسی کی اجازت دے دی جائے تو معاشرے میں خوف، بے اعتمادی اور آئینی آزادیاں تباہ ہو جائیں گی۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ نجی نگرانی کو عدالتی تحفظ حاصل نہ ہو۔

*خلاصہ:* ریکارڈنگ تب ہی شہادت بنے گی جب وہ قانونی ہو۔ نجی جاسوسی کر کے حاصل کیا گیا مواد نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ کرنے والا خود مجرم بن جاتا ہے۔

24/05/2026

*پیسے کو شکار کرنے کے 15 عملی طریقے*
یہاں (جال) دیے جا رہے ہیں۔ یہ وہ راستے ہیں جہاں آپ کو بھاگنا نہیں پڑتا، بلکہ پیسہ خود پھنستا ہے۔
پیسے کے لیے جال بچھانے کے 15 بے رحم طریقے
1-ڈیجیٹل اثاثے، سوتے ہوئے کمائی
ایک بار محنت کریں اور بار بار کمائیں۔ کوئی ای بک (eBook)، آن لائن کورس، یا سافٹ ویئر بنائیں۔ یہ وہ ”مکڑی کا جالا“ ہے جو آپ کے سونے کے دوران بھی گاہک پھنساتا ہے۔ آپ ایک بار چیز بناتے ہیں، لیکن وہ ہزاروں بار بکتی ہے۔
2-ذاتی برانڈ ،مقناطیس بنیں
خود کو کسی فیلڈ کا ”اتھارٹی“ (Authority) بنا لیں۔ جب لوگ آپ کو ماہر مان لیتے ہیں، تو وہ منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ گاہک ڈھونڈنے کے بجائے ایسے بنیں کہ گاہک آپ کو ڈھونڈے۔
3-دوسروں کا وقت خریدیں
خود مزدوری کرنا چھوڑیں۔ سستے داموں لوگوں کا وقت خریدیں (ملازمین یا فری لانسرز) اور ان کی محنت کو مہنگے داموں بیچیں۔ یہ منافع کا سب سے پرانا اور کارگر جال ہے۔ خود سسٹم کے مالک بنیں، پرزہ نہیں۔
4-سبسکرپشن ماڈل
ایک بار بیچ کر غائب نہ ہوں، بلکہ گاہک کو مہینے کی قسط پر لگا دیں۔ نیٹ فلکس یا سافٹ ویئر (SaaS) کی طرح ایسا ماڈل بنائیں جہاں گاہک ہر مہینے آپ کو ”ٹیکس“ دینے پر مجبور ہو جائے۔
5-ملکیتی حقوق
تنخواہ پر کام نہ کریں، منافع میں حصہ مانگیں۔ اگر آپ کسی بزنس کو بڑھا رہے ہیں، تو اس میں ”شیئرز“ یا ”پرسنٹیج“ لیں۔ تنخواہ صرف پیٹ بھرتی ہے، ایکویٹی (Equity) نسلیں سنوارتی ہے۔
6-مواد سازی
یوٹیوب یا سوشل میڈیا پر ایسا مواد ڈالیں جو لوگوں کے مسائل حل کرے۔ یہ ویڈیوز یا آرٹیکلز وہ ”چارہ“ ہیں جو 24 گھنٹے مچھلیوں (گاہکوں) کو آپ کی دکان کی طرف کھینچتے ہیں۔
7-افیلی ایٹ مارکیٹنگ
اگر اپنا پروڈکٹ نہیں ہے، تو دوسروں کا پروڈکٹ بیچ کر کمیشن کھائیں۔ یہ ”بغیر سرمائے کے جال“ ہے۔ آپ صرف ٹریفک (لوگوں) کا رخ موڑتے ہیں اور راستے میں اپنا حصہ رکھ لیتے ہیں۔
8-رئیل اسٹیٹ
پراپرٹی خرید کر کرائے پر دینا ایک ایسا جال ہے جس میں کرایہ دار ہر مہینے خود چل کر آپ کو پیسے دینے آتا ہے۔ یہ ”پتھر سے پیسہ نچوڑنے“ کا فن ہے۔
9-تکلیف کا علاج بیچیں
لوگوں کی خواہشات سے زیادہ ان کی ”تکلیف“ (Pain Points) پر نظر رکھیں۔ جو چیز لوگوں کا درد، وقت یا ٹینشن ختم کرتی ہے، وہ اس کے لیے بھاری رقم ادا کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ درد ڈھونڈنا ہی اصل شکار ہے۔
10-ڈراپ شپنگ
گودام بھرنے کی بیوقوفی نہ کریں۔ صرف آرڈر لیں اور سپلائر سے کہیں کہ وہ گاہک کو مال بھیج دے۔ آپ درمیان میں بیٹھ کر صرف ”منافع“ کا شکار کرتے ہیں، انونٹری کی ٹینشن کا نہیں۔
11-نیٹ ورکنگ
ایسے لوگوں کے درمیان بیٹھیں جن کے پاس پیسہ ہے۔ پیسہ وہیں سے ملے گا جہاں وہ موجود ہے۔ امیروں کی محفل میں بیٹھنا سیکھیں، کیونکہ بڑے شکار گہرے پانیوں میں ہی ملتے ہیں۔
12-آٹومیشن
ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔ ای میلز، سیلز، اور مارکیٹنگ کو آٹومیٹک کر دیں۔ روبوٹ تھکتے نہیں، بیمار نہیں ہوتے اور چھٹی نہیں کرتے۔ یہ آپ کے وفادار شکاری کتے ہیں۔
13-ہائی انکم اسکلز
کاپی رائٹنگ، سیلز، یا کوڈنگ سیکھیں۔ یہ وہ ہنر ہیں جن کے ذریعے آپ الفاظ یا کوڈ لکھ کر لاکھوں کما سکتے ہیں۔ یہ وہ جال ہے جسے آپ کہیں بھی بیٹھ کر بچھا سکتے ہیں۔
14-فرنچائز ماڈل
ایک کامیاب بزنس ماڈل بنائیں اور پھر اس کا ”فارمولا“ دوسروں کو بیچیں۔ لوگ آپ کے نام اور سسٹم کے لیے آپ کو رائلٹی دیں گے۔ دوسروں کے پیسے سے اپنا برانڈ پھیلائیں۔
15-پیسے سے پیسہ کمائیں
جب جیب میں پیسہ آئے تو اسے قید نہ کریں، اسے دوبارہ کام پر لگائیں (Stocks, Gold, Business)۔ پیسے کو اپنا ”غلام“ بنائیں۔ ایک روپیہ جائے اور دو روپے پکڑ کر واپس لائے۔

ان طریقوں میں آپ کا پسینہ کم اور دماغ زیادہ لگتا ہے۔ اب فیصلہ آپ کا ہے: ساری زندگی جال میں پھنسنا ہے، یا جال بچھانا ہے؟

Address

45 Model Town Courts
Lahore
54770

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Law Associates - Law Untold posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Malik Law Associates - Law Untold:

Shortcuts

Share