Chief Justice Maulvi Mushtaq Hussain Shaheed

Chief Justice Maulvi Mushtaq Hussain Shaheed Maulvi Mushtaq Hussain was a Pakistani jurist who served as chief justice of the high court of Lahore.

He presided over the trial of Zulfiqar Ali Bhutto, during the proceedings in the Pakistani high court. Part-time Lecturer, Punjab University Law College, Lahore, 1950-57; Enrolled as Advocate Lahore High Court, 1952; President, District Bar Association, Lahore, 1954-55; Hony. Secretary, All Pakistan Bar Association, 1955-57, Fellow, Punjab University Senate, 1957-60; Part-time Reader, Punjab University Law College, Lahore, 1958-59; Member and Secretary, West Pakistan Bar Council, 1958-62; Assistant Advocate General, West Pakistan, 1959-60; Additional Advocate General, West Pakistan, 1960-62; Judge, West Pakistan High Court, 1962-63; Secretary, Ministry of Law and Parliamentary Affairs, Government of Pakistan, 1963-64; Judge, West Pakistan High Court, 1964-70; Member, Appointment Board, Punjab University, 1969-73; High Court representative on the Punjab Bar Council and Chairman of its Enrolment Committee, 1969-72; Judge, Lahore High Court, 1970-78; Member, Syndicate/Chancellor Committee, West Pakistan University of Engineering and Technology, 1970-78; Member, Appointment Board, West Pakistan University of Engineering and Technology, Lahore, 1973-78; Leader of the Pakistan Delegation to the Diplomatic Vonference on the Reaffirmation and Development of Humanitarian Law applicable in Armed Conflicts, Geneva, 1975; Participated in the Second International Round Table Conference on “Current Humanitarian Law Problems”, Italy, 1975; Leader of Pakistan Delegation to the Diplomatic Conference on the Reaffirmation and Development of International Humanitarian Law applicable in Armed Conflicts, Geneva, 1976; Chairman of the Third International Round Table on “Current International Law Problems”, Italy, 1976; Participated in the 7th International Congress of “Human Rights in the Military Law” and elected Member of the Institute of International Humanitarian Law, San Remo, Italy, 1976; Leader of the Pakistan Delegation to the Fourth and Final Session of the Diplomatic Conference on the Reaffirmation and Development of International Humanitarian Law applicable to Armed Conflicts and elected Chairman of its Drafting Group for revising and finalizing certain protocols, Geneva, 1977; Chairman, Fourth International Round Table on “Current International Law Problems”, San-Remo, Italy, 1977; Chairman, Iqbal Memorial Committee, 1977-81; Chief Election Commissioner, 1977-80; Acting Chief Justice, Lahore High Court, 1977-78; Chief Justice, Lahore High Court, 1978-80; Ad-Hoc Judge, Supreme Court of Pakistan, 1980-81; Delegate to the Round Table of Asian Experts on “Current Problems in the International Protection of Refugees and Displaced Persons” held under the auspices of the United Nations High Commission for Refugees, Manilla, 1980; Awarded “Plaque of Honour” for “Invaluable work and continuing contribution in the field of the Rights of Refugees and Displaced Persons and the Dignity of Man”, 1980; Delegate to the American Red Cross, 1981.

ویتنام کی طویل جنگ میں بُری طرح مار کھانے اور عبرتناک شکست کے بعد امریکی واپس جانے لگے تو وہ ویتنامی جو اپنی قوم سے غدار...
19/08/2026

ویتنام کی طویل جنگ میں بُری طرح مار کھانے اور عبرتناک شکست کے بعد امریکی واپس جانے لگے تو وہ ویتنامی جو اپنی قوم سے غداری کے مرتکب ہو کر امریکی فوج کا ساتھ دیتے رہے تھے، اکٹھے ہو گئے کہ ہمیں بھی ساتھ لے جایا جائے،، ان کو امریکی فوج کی طرف سے کہا گیا کہ آخر میں ایک ہیلی کاپٹر آئے گا جو تم لوگوں کو لے جائے گا،،
جب امریکی فوج کی واپسی تکمیل کے قریب پہنچ گئی تو چند باقی رہنے والے امریکی فوجیوں کو لینے کے لیے ایک ہیلی کاپٹر آیا،،
ویتنامی غداروں کو احساس ہو چکا تھا کہ امریکی انہیں ٹشو پیپر کی مانند پھینک جائیں گے، سو انہوں نے جب ہیلی کاپٹر کی سیڑھی پر زبردستی چڑھنے کی کوشش کی تو امریکیوں نے سیڑھی کو نیچے گرا کر یہ بات رقم کردی کہ غدار کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہوتی،،
یہ ایک تصویر نہیں،، ایک الارم ہے، نوشتہ دیوار ہے..

منقول ۔

وہ (ٹینک) کا یوں انتظار کر رہا تھا جیسے کوئی عاشق اپنی محبوبہ سے ملاقات کا منتظر ہو۔وہ گلی کے کونے پر کھڑا ہوا، گھٹنے کے...
18/08/2026

وہ (ٹینک) کا یوں انتظار کر رہا تھا جیسے کوئی عاشق اپنی محبوبہ سے ملاقات کا منتظر ہو۔

وہ گلی کے کونے پر کھڑا ہوا، گھٹنے کے بل ٹیک لگائی، مضبوطی سے نشانہ باندھا اور ٹریگر دبا دیا۔ چند سیکنڈز تک ہدف کو دیکھتا رہا، جب ہدف کو نشانہ بننے کا یقین ہو گیا تو وہ ایک بچے کی بے ساختہ خوشی کے ساتھ ہوا میں بلند چھلانگ لگاتے ہوئے چلا اٹھا:

»ولعت.. ولعت!« (آگ لگ گئی.. آگ لگ گئی!)

شاید اس نے اپنی پوری زندگی میں خالص خوشی کا ایسا لمحہ پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔

اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تین سال گزر چکے ہیں اور اس کا مرکزی کردار اب تک گمنام تھا... لیکن آج بالآخر ہمیں اس کا نام معلوم ہو گیا ہے:
شہید باسل احمد السلمی، عمر 24 سال۔

باسل اس تاریخی چھلانگ کے کچھ ہی عرصے بعد، 22 نومبر 2023ء کو شہید ہو گئے تھے۔

باسل تو چلے گئے، لیکن ان کی وہ چھلانگ باقی رہ گئی؛ دنیا کی مختصر سی زندگی کا ایک چھوٹا سا لمحہ، جو اپنے اندر غیر متزلزل یقین اور بے پناہ خوشی سمیٹے ہوئے تھا۔

🟥 آسمان کے ترازو میں اس ایک چھلانگ کا وزن کتنا ہوگا؟

11/08/2026

مولوی اختر علی 1896 ‐ 1964
(The Doyen of revenue)

مولوی اختر علی کے والد مولوی عبدالمالک اختر پنجاب کے ضلع گجرات کے گاؤں کھوڑی عالم کے رہنے والے تھے ۔ وہاں سے آکر ریاست بہاول پور کے سررشتہ تعلیم میں ملازم ہوئے ۔ مرزا جند وڈہ خان وزیر اعظم نے ان کو 1898ء میں سررشتہ تعلیم سے محکمہ مال میں بطور گرداور قانون گوئی صدر دفتر میں تعینات کر دیا ۔
مقصد ان کی علمی قابلیت سے فائده اٹھانا تھا ۔ انکو وزیر اعظم کے بچوں کو تعلیم و تربیت دینے پر مامور کیا گیا ۔ اپنی خدا داد قابلیت اور ذہانت کی بنا پر مولوی عبدالمالک اختر مشیر مال کے عہدہ تک پنہچے ۔ ان کی دیانت داری علمی قابلیت اور انشاء پردازی پر سب رشک کرتے تھے ۔
مولوی صاحب غریب زمین داروں کا بہت خیال کرتے ۔ خصوصی طور پر سادات سے بہت مہربانی فرماتے ۔
مجھے میرے محسن اور سرپرست سید نور علی حسینی صاحب نے اپنا واقعہ سنايا ۔ ان کے والد سید غلام مهدی شاہ آنكهوں سے نابینا تھے ۔ زمین زرعی کا سرکاری ٹھیکا ادا نہ کر سکے ۔ یہ 1920 کی بات ھے ۔ انکو پکڑنے اہلکار آگئے ۔ حسینی صاحب 13/14 برس کے تھے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر وه تحصیلدار صاحب کے روبرو پیش ہونے کو گئے ۔ تحصیلدار تھے مولوی عبدالمالک اختر صاحب ۔ ایک اونچے تھڑے پر بیٹھے تھے اور عدالت لگی تھی ۔ انکی باری آئی تو پیش ہوئے مولوی صاحب نے مثل دیکھی اور پوچھا "شاہ صاحب ٹھیکہ ادا نہیں کیا" ۔ مهدی شاہ صاحب بولے فصل نہیں ہوئی غربت ھے ۔ نابینا ہوں کوئی زریعہ روزگار نہیں ۔مولوی صاحب نے رقم پانچ روپیہ جیب سے دے دیئے ۔ اور شاہ صاحب کو جانے کا کہا ۔ اتنے میں مولوی اختر علی جو نو جوان تھے آگئے ۔اپنے بیٹے سے پوچھا " اختر علی ، شاہ صاحب کو سلام کیا؟"
اختر علی نے جواب دیا ۔
"جی ابا جان جب شاہ صاحب تحصیل کے دروازے سے اندر داخل ہو رہے تھے۔ میں تب ہی ادا ہو لیا تھا"
یہ تھے مولوی عبدالمالک اختر جو غریب پرور تھے اور سادات کو بے حد عزت دیتے تھے ۔

مولوی اختر علی ریاست بہاولپور میں اپنے عہد کے ایک مشہور آدمی تھے ۔ آپ پنجاب کے ضلع گجرات کے گاؤں کھوڑی عالم میں پیدا ھوئے جو آپکے دادا محمد عالم کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مولوی صاحب نے ابتدائ تعلیم وہیں حاصل کی اور بعد میں اپنے والد مولوی عبدالمالک کے پاس ریاست بہاولپور میں ملازم تھے بہاولپور منتقل ھوگئے اور پھر وہیں کے ھو رہے اور بہاولپور میں ہی آسودۂ خاک ھوئے۔
مولوی اختر علی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ریاست بہاولپور میں بطور نائب تحصیلدار کیا۔ محنت اور قابلیت کی بنیاد پر ترقی پاتے ھوئے ڈپٹی کمشنر کے عہدے تک پہنچے ۔
ایک انگریز سر ہمفری ٹریویلین ڈپٹی کمشنر بہاولپور تھے۔ مولوی صاحب نے بطور اسسٹنٹ کمشنر ان کے ماتحت کام کیا تھا۔
سر ہمفری ٹریولین اپنی کتاب "دی انڈیا وی لیفٹ"
(The India we left)
میں مولوی صاحب کا ذکر نہایت دلچسپ انداز میں کرتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ۔۔
" میرے اسسٹنٹ کمشنر مولوی اختر علی ایک مذہبی آدمی تھے مگر انکی طبعیت میں مزاح کا عنصر ہمیشہ غالب رہتا تھا۔ وہ بہت ہوشیاری اور دانشمندی سے ہر کام سر انجام دیتے ، حق بات پر ڈٹ جاتے اور جس طرح بن پڑتا مقصد کے حصول کو پہنچتے اور بعد میں مزے لے لے کر خود ہی مجھے بتاتے کہ کس طرح انہوں نے گھی ٹیڑھی انگلیوں سے نکالا۔ چونکہ میں جانتا تھا کہ وہ حد سے زیادہ دیانت دار ہیں۔ اس لئیے ہمیشہ ان پر بھروسہ کیا۔ مولوی صاحب نے اپنے ذاتی مفاد کےلئے کبھی کوئ کام نہ کیا تھا، ہمیشہ وہی کرتے جسے درست سمجھتے اور جس میں انکے نزدیک ریاست کی بھلائ ھوتی ۔ ان کی وجہ سے مجھے ان لوگوں کو سمجھنے کا موقع ملا جنکے بیچ ہم کام کر رہے تھے"۔
پاکستان بننے کے بعد مولوی اختر علی کو مہاجرین کی آبادکاری کا کام سونپا گیا۔ افسر بحالیات جسے آپ نے بخوبی نبھایا اور قریباً چار لاکھ "مہاجرین" کو ریاست بہاولپور کی مختلف تحصیلوں میں زرعی مقاصد کے لیئے اراضی الاٹ کی۔ کہا جاتا ہے کہ غریب پرور اتنے تھے کہ غریب کی مفلسی کا اندازہ لگاتے ھوئے کئی بار زمین کی سرکاری رقم کی قسط وہ اپنی جیب سے بھی ادا کر دیا کرتے تھے۔ اسی لئیے آج بھی ریاست کے لوگ انہیں نہیں بھولے اور عزت سے یاد کرتے ہیں۔
لاھور سے سیٹلمنٹ ٹریننگ کورس پاس کرنے کے بعد مولوی صاحب نے صوبہ پنجاب میں بطور کالونائزئشن آفیسر، ڈائرکٹر آف لینڈ ریکارڈز اور ڈپٹی کمشنر ری ہیبیٹلیشن کے فرائض سر انجام دیئے ۔ وہ اپنے کام میں اس قدر مہارت رکھتے تھے کہ انہیں "ڈوین آف ریوینیو"
(Doyen of revenue)
کہا جاتا تھا۔
سرکاری نوکری سے ریٹائر ھونے کے بعد مولوی صاحب نے بہاولپور سے فنكشنل مسلم لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا اور منتخب ھو کر1964 تک اسمبلی کے رکن رہے ۔
آپ ایوب خان کے قریبی اور پسدیدہ سمجھے جاتے تھے۔
عموماً سرکاری افسروں سے لوگ ناخوش رہتے ہیں ، وہ ریٹارمنٹ کے بعد مقبولیت کھو بیٹھتے اور وقت کے ساتھ بھلا دئیے جاتے ہیں۔ لیکن مولوی صاحب کے انسان دوست رویئے اور خدا ترسی نے انہیں ایسی شہرت عطا کی کہ عوام نے اپنے مسائل حل کرنے کیلیئے انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا جو کہ ایک بڑا اعزاز ہے۔

مولوی صاحب انصاف پسند ھونے کے ساتھ ساتھ رحم دل اور نرم مزاج شخصیت کے مالک بھی تھے۔
انکے فرزند عبدالباسط اختر جو چیف انجنئر کے عہدہ سے ریٹا ئرڈ ہوئے ایک واقعہ سنایا کہ مولوی صاحب کو سرکاری فرائض انجام دینے کی خاطر بہاولپور ڈویژن کی حدود میں پھیلے دوسرے بہت سے شہروں میں اکثر جانا پڑتا تھا۔ ایسے ہی ایک سرکاری دورے کے دوران ایکبار ان سے اپنے کسی ماٹحت کیساتھ نادانستہ زیادتی سرزد ھوگئ۔ احساس تب ھوا جب اسی میل کی مسافت طے کر کے واپس اپنے شہر لوٹے۔ باسط اختر کہتے ہیں اُس رات مولوی صاحب ایک لمحے کے لیئے بھی نہیں سوئے اور پوری رات صحن میں کرب کی کیفیت میں ٹہلتے گزاری۔ صبح ھوتے ہی گاڑی میں سوار ھوکر دوبارہ اسی میل کی مسافت طے کی اور اس شہر پہنچے جہاں انکا ماتحت اہلکار موجود تھا۔ جاکر اس سے معافی مانگی اور گلے لگایا۔ اہلکار نے روتے ھوئے کہا کہ آپ میرے والد کی جگہ ہیں میں نے تو آپکی بات کا بالکل بھی بُرا نہ مانا تھا آپ نے اتنی دور آنے کی تکلیف کیوں اٹھائ ۔

اسی طرح مولوی اختر علی کے حساس مزاج کی عکاسی مندرجہ ذیل واقعہ سے بھی کی جاسکتی ہے۔
بہاول پور میں فرید گیٹ کے ساتھ مولوی صاحب نے اپنی کوٹھی(یہ کوٹھی آج بھی ان کے نام سے کوٹھی اختر علی کہلا تی ہے) کے باغ کے ایک حصہ میں ایک بڑا سا کمرہ تعمیر کروا کر لائبریری بنا رکھی تھی جہاں مطالعہ کی غرض سے وہ گھنٹوں گزارا کرتے ۔ گرمیوں کے دنوں میں نیچی چھت ھونے کے باعث لائبریری دوسرے کمروں کی نسبت زیادہ گرم ھوجاتی اور پر سکون مطالعہ ممکن نہ ھوتا۔ تب ایرکنڈیشنر نیا نیا متعارف ھوا تھا اور ہر کسی کی دسترس میں نہ تھا۔ مولوی صاحب نے لائبریری میں ایک عدد اے سی نصب کروایا لیکن کچھ ہی روز بعد اتروا دیا۔ اتروانے کی وجہ یہ تھی کہ اے سی جس دیوار میں نصب تھا اس کی دوسری جانب ایک کشادہ راستہ تھا جس پر سے علاقے کے مکینوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ خود مولوی صاحب بھی اسی راستے سے گزر کر مقامی مسجد میں نماز ادا کرنے جایا کرتے ۔ (یہ مسجد آج بھی مسجد مولوی اختر علی کہلاتی ہے) اے سی کا آدھا حصہ جو دیوار کے باہر نکلا ھوتا ہے لائبریری کی دیوار سے نکل کر اس راہداری میں ظاہر ھوتا تھا۔ مولوی صاحب کا کہنا تھا کہ محلہ میں کسی گھر میں اے سی موجود نہیں ، محلے دار آتے جاتے اس اے سی کو دیکھا کرتے تو انہیں ( مولوی صاحب کو) شرم محسوس ھوتی تھی اس لئیے نکلوا دیا۔

مولوی صاحب دین اور دنیا دونوں کو یکساں اہمیت دیتے تھے اور مذہبی انسان ھونے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی اور دنیاوی اعتبار سے بلند مرتبہ پانے کو زندگی کی کامیابی قرار دیتے تھے
ملازمت کے دوران مختلف ترقیاں و تعیناتیاں ۔
1915 میں ریاست کے محکمہ ریونیو کو جوائن کیا ۔ سیٹلمنٹ ٹریننگ کورس کے لیے لاہور بھیجا گیا ۔
ستلج ویلی پراجیكٹ کے لیے زمین کے حصول اور دیگر ریونیو ورک کے لیے 1924/25 میں بہاول نگر اور منچن آباد تحصیلوں کی پیمائش مربع بندی کا کام سونپا گیا ۔
1937 میں کالونائزیشن آفیسر پر موٹ ہوئے ۔
1944 میں ڈائرکٹر آف لینڈ ریكارڈ اور 1947میں ڈپٹی ریہبلیٹیشن کمشنر براۓ ریاست بہاول پور مقرر ہوئے ۔
تین بیٹے۔
محمد خالد اختر۔
عبدالباسط اختر
عبدالوارث اختر۔

دو بیٹیاں۔
کلثوم اختر (زوجہ سردار اسلم خان جلوانہ)۔

سکینہ اختر (زوجہ سردار افضل خان جلوانہ)
تحریر تصاویر کے لیے شکریہ جناب
پرویز صادق صاحب
سیكرٹری
انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ اینلز آف پاکستان

عشق کی انتہا... موت بھی ملی تو جنت کے ٹکڑے میں! آج دل رنجیدہ بھی ہے اور ایک مومن کی قسمت پر رشک بھی آ رہا ہے۔ پاکستان سے...
31/07/2026

عشق کی انتہا... موت بھی ملی تو جنت کے ٹکڑے میں!
آج دل رنجیدہ بھی ہے اور ایک مومن کی قسمت پر رشک بھی آ رہا ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک انتہائی خوش نصیب زائر دورانِ عمرہ/زیارت، مسجدِ نبوی ﷺ کے سب سے مقدس حصے "ریاض الجنہ" (Rawdah al-Sharifah) میں سجدے کی حالت میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ذرا تصور کیجیے اس منظر کا...پاؤں جنت کے ٹکڑے پر ہوں، سر محبوبِ خدا ﷺ کی چوکھٹ پر سجدے میں جھکا ہو، زبان پر درود و سلام ہو اور روح پرواز کر جائے! موت تو سب کو آنی ہے، لیکن ایسی موت؟ یہ صرف نصیب کی بات ہے۔

جس جگہ کے بارے میں آقا علیہ السلام نے فرمایا: "میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے"، اسی باغ میں بیٹھ کر ایک امتی نے اپنی آخری سانسیں اپنے نبی ﷺ کے حضور پیش کر دیں۔

یقیناً یہ کسی غریب الوطنی کی موت نہیں، یہ تو اپنے اصل گھر پہنچنے کی داستان ہے۔ اللہ پاک نے ان کی محبت، ان کے آنسو اور ان کی تڑپ کو قبول فرمایا اور انہیں وہ مقام دیا جس کی تمنا دنیا کا ہر مسلمان کرتا ہے۔الٰہی! ہمیں بھی ایسی ہی باوضو، ایمان والی اور مدینے پاک کی موت نصیب فرما۔ آمین۔

سعودی شاہی محل میں سناٹا چھا گیا... جب کراچی کے ایک غریب جلاہے نے کروڑوں ریال کا بلینک چیک ٹھکرا کر ایک ایسی شرط رکھ دی،...
30/07/2026

سعودی شاہی محل میں سناٹا چھا گیا... جب کراچی کے ایک غریب جلاہے نے کروڑوں ریال کا بلینک چیک ٹھکرا کر ایک ایسی شرط رکھ دی، جس نے خود سعودی حکام کی آنکھیں بھی نم کر دیں!

یہ ناقابلِ یقین اور ایمان افروز کہانی 82 سالہ حاجی ایوب کی ہے، جو قیام پاکستان کے وقت ہجرت کر کے کراچی (بنارس ٹاؤن) آئے تھے۔ 1980 میں سعودی حکومت نے خانہ کعبہ کے اندرونی غلاف کے لیے دنیا بھر سے ماہر ترین کاریگروں کو بلوایا۔ 40 نامور کاریگروں کے درمیان جس شخص کے ہاتھ کے بنے ڈیزائن کو چنا گیا... وہ کراچی کا یہی غریب بنارسی کاریگر تھا!

1982 میں جب غلاف تیار ہو گیا تو سعودی حکام نے حاجی ایوب کو خصوصی شاہی مہمان بنا کر بلایا اور انہیں ان کی محنت کے بدلے منہ مانگے مالی معاوضے کی پیشکش کی۔

لیکن حاجی ایوب نے ہاتھ جوڑ کر کہا: "مجھے آپ کے ریال نہیں چاہییں... اگر دینا ہی ہے تو مجھے اپنے گنہگار ہاتھوں سے خانہ کعبہ کے اندر غلاف چڑھانے کی اجازت دے دیں!"

ان کی یہ سچی تڑپ دیکھ کر حکام نے فوراً اجازت دے دی۔ جب حاجی ایوب خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے تو ہیبت اور جلال سے ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ کہتے ہیں کہ جب وہ پرانا غلاف اتار کر نیا نصب کر رہے تھے، تو کعبے کے اندر کی تیز خوشبو اور ان کے آنسوؤں کی جھڑی نے نئے غلاف کے ریشم کو بھگو دیا تھا!

جس کعبے کے اندر جانے کو دنیا کے طاقتور ترین بادشاہ ترستے ہیں، وہاں کراچی کے ایک غریب کاریگر نے سجدہ ریز ہو کر وہ مقام پایا جو صرف نصیب والوں کو ملتا ہے۔

بے شک وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، وہ جسے چاہے اپنے در کا مہمان بنا لے! سبحان الله ❤️

معاشرہ انصاف کے بغیر نہیں چل سکتا ۔۔۔آہ محمد امین !ضلع کچہری اسلام آباد میں کسمپرسی کی حالت میں پڑی یہ لاش میرے ہم پیشہ ...
14/07/2026

معاشرہ انصاف کے بغیر نہیں چل سکتا ۔۔۔
آہ محمد امین !
ضلع کچہری اسلام آباد میں کسمپرسی کی حالت میں پڑی یہ لاش میرے ہم پیشہ دوست کی ہے۔ لگ بھگ 57 سال کا یہ جوان وقت سے بہت پہلے بوڑھا ہو گیا تھا۔ یہ کوئی بے یار و مددگار انسان نہ تھا ۔۔۔ اسے کوئ مالی مشکلات بھی نہ تھیں۔۔ الله کے فضل سے اس کا ایک بیٹا پاکستان فوج میں میجر ہے ۔۔۔دوسرا ملائشیا میں انجینئر ہے۔۔ تونسے کے ایک بلوچ قبیلے کے متوسط زمیندار گھرانے سے تعلق تھا۔ ایک سکول ماسٹر کے گھر جنم ہوا۔ بلا کا ذہین تھا۔۔
گومل یونیورسٹی سے MSc ایگریکلچر امتیازی نمبروں سے پاس کیا تو حکومت پاکستان کی طرف سے گولڈمیڈل عطا کیا گیا۔
1990 میں ہمارے ساتھ ADBP میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہوا۔ پھر شاید تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس کی تقدیر کا پہیہ الٹا گھومنے والا تھا۔ اسکاٹ لینڈ کی گلاسگو زرعی یونیورسٹی جو شاید دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے، کی طرف سے سکالر شپ برائے PhD آفر ہوئی۔
خوشی خوشی آفر قبول کی اور ادارے سے باقاعدہ اجازت اور چھٹی لے کر معہ فیملی گلاسگو یونیورسٹی پہنچ گیا۔ صرف تین سال کی ریکارڈ مدت میں PhD مکمل کرکے سیدھا وطن واپس لوٹا۔
بیچارے کی حسرت تھی کہ جب ادارےمیں واپس جاؤں گا تو تعریفی اسناد اور ترقیوں کے راستے کھلیں گے لیکن بے رحم نظام کے ارادے کچھ اور تھے۔ ادارے نے اس کے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے دورانیئے کو "رخصت بغیر تنخواہ" قرار دے دیا، جو دفتری قوانین کے تحت ایک سزا ہے۔ جب کسی ملازم کو یہ تمغہ مل جاتا ہے تو اگلے کئی سال تک اس کی پروموشن نہیں ہو سکتی۔
بس یہی اس PhD ڈاکٹر کی تباہی کا نکتہء آغاز تھا۔
شدید ذہنی صدمے اور احساس تحقیر کی کیفیت میں سپریم کورٹ تک جا پہنچا، جہاں سے کئی سال بعد انصاف تو مل گیا لیکن ادارے میں موجود اس کے ہم عصروں نے تب تک اتنے پھندے لگا دیئےکہ ایک سے نکلتا تو دوسرا پھندہ اس کا منتظر ہوتا۔
بالآخر اسے 2012ء میں نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ تب تک یہ ڈاکٹر نظام انصاف سے امید لگائے بیٹھا تھا کہ اس ملک میں اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے والے تو عدالتوں سے ریلیف حاصل کر لیتے ہیں لیکن ایک اعلیٰ تعلیمیافتہ انسان ناکردہ گناہ کی سزا میں نوکری سے نکل کر بحال نہیں ہو سکتا تھا۔
اس کا واحد قصور یہ تھا کہ جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔ چالاک نہیں تھا۔ یقین رکھتا تھا کہ ایک نہ ایک دن اسے انصاف ضرور ملے گا۔
انصاف کی زنجیر عدل ہلاتے ہلاتے بالآخر یہ معصوم عدالت کی دہلیز پر ہی دم توڑ گیا۔۔ دین دار اور سچا کھرا انسان تھا۔
اسے اس بےحس نظام نے تو انصاف نہیں دیا لیکن الله پاک اسے دائمی جہاں میں ضرور انصاف فرمائے گا۔
انشاء الله ۔۔۔

کاپی ۔

یہ 1877 کی بات ہے، جب پنجاب کے ایک غریب لوہار کا جنازہ اٹھا تو انگریزوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ سرکار نے اعلان کیا کہ جو ...
12/07/2026

یہ 1877 کی بات ہے، جب پنجاب کے ایک غریب لوہار کا جنازہ اٹھا تو انگریزوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ سرکار نے اعلان کیا کہ جو اس جنازے میں جائے گا، اسے 2 روپے (جو آج کے لاکھوں کے برابر ہیں) فیس دینی ہوگی۔ مگر پھر بھی 18 ہزار لوگوں کا سمندر امڈ آیا ۔

یہ جنازہ تھا پنجاب کے رابن ہڈ نظام لوہار کا

کہانی اس رات شروع ہوئی جب ایک ظالم انگریز افسر نے نظام کے گھر گھس کر اس کی بوڑھی ماں کو قتل اور جوان بہن کی بے حرمتی کی۔ نظام لوہار نے اسی رات اپنی بھٹی میں لوہا نہیں، اپنا غصہ پگھلایا۔ اس نے بہن کو محفوظ مقام پر بھیجا اور اگلے ہی دن تھانے کا دروازہ توڑ کر اس انگریز افسر کا سر دھڑ سے الگ کر دیا ۔

اس کے بعد نظام انگریزوں کے لیے موت کا فرشتہ بن گیا۔ اس نے چن چن کر انگریز افسروں (بشمول SSP رونالڈ) کو جہنم واصل کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران اس نے سوجھا سنگھ نامی ایک باغی کو پولیس سے چھڑایا، جس کی ماں نے نظام کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔

لیکن تاریخ گواہ ہے، شیر کبھی کتوں سے نہیں ہارتا، اسے ہمیشہ اپنوں کی غداری مارتی ہے ۔

سوجھا سنگھ ایک لڑکی کے عشق میں اندھا ہو گیا۔ جب نظام نے اسے روکا تو سوجھا نے 10 ہزار روپے اور 4 مربع زمین کے لالچ میں رات کے اندھیرے میں پولیس کو نظام کے ٹھکانے پر لے آیا۔

پولیس نے چھت پھاڑ کر حملہ کیا۔ نظام آخری گولی تک لڑتا رہا، اور جب گولیاں ختم ہو گئیں تو اس نے ہتھیار پھینکنے کے بجائے مسکرا کر کہا: "پنجاب کا شیر، کتوں کے آگے سر نہیں جھکائے گا " اور سینہ تان کر انگریزوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔

لیکن اس کہانی کا اصل کلائمکس اس کی موت کے بعد آیا
جب سوجھا سنگھ کی بوڑھی ماں کو پتہ چلا کہ اس کے اپنے سگے بیٹے نے مخبری کر کے نظام کو مروایا ہے، تو اس بوڑھی شیرنی نے بھری پنچایت میں اپنے سگے بیٹے سوجھا سنگھ کے سینے کے پار برچھی کر دی! بیٹا تڑپتا رہا اور ماں نے چیخ کر کہا:

۔(نظام پنجاب کا بیٹا تھا! تو نے غداری کی ہے، میں تجھے قیامت تک اپنا دودھ نہیں بخشوں گی)

آج بھی قصور کے قبرستان میں نظام لوہار کی قبر پنجاب کی دھرتی کے اس بہادر سپوت کی گواہی دے رہی ہے۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chief Justice Maulvi Mushtaq Hussain Shaheed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share