M/S Hingorjo law Associates & Co

M/S Hingorjo law Associates & Co Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from M/S Hingorjo law Associates & Co, Lawyer & Law Firm, Office No 24 & 25 Meznine Floor Sakhi Wahab Complex Opposite Wapda Office Saddar Cantonment Hyderabad, Hyderabad.

M/S Hingorjo law Associates with Team of Legal Expertise's of Corporate Laws, Civil, Family, Inheritance, Criminal, FIA, ATC,NAB,Narcotics and Constitutional Laws.

VVVVVVI. MUST READ JUDGEMENT.Federal Constitutional Court held that Section 4 of the Muslim Family Laws Ordinance, 1961 ...
25/09/2026

VVVVVVI. MUST READ JUDGEMENT.

Federal Constitutional Court held that Section 4 of the Muslim Family Laws Ordinance, 1961 is attracted only where the predeceased heir is a son or daughter of the propositus and the claim is made by the children of such son or daughter. The provision does not extend, either expressly or by analogy, to the children of a predeceased brother of the propositus. The petitioners, being children of the predeceased brother of Javed Iqbal Rana, consequently cannot derive a right of inheritance from Section 4.
F.C.P.L.A.172-L/2026
Javed Iqbal Rana (deceased) through his legal heirs Abdul Waheed Rana (deceased)
19-08-2026

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔قابلِ دست ...
22/09/2026

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔
قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہ کرنا یا تاخیر کرنا جس سے ثبوت ضائع ہوں، محض طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک اہم فیصلہ (Judgment) ہے، جسے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا ہے اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ بھی اس بنچ کا حصہ تھے۔

1. کیس کا پس منظر اور فیصلہ
* سزا کی توثیق: سپریم کورٹ نے ملزم علی رضا سیال کی درخواستِ اپیل مسترد کر دی ہے۔ ملزم کی عمر قید اور 1,000,000 روپے ہرجانے کی سزا (جو اسے قتل کے جرم میں دی گئی تھی) کو برقرار رکھا گیا ہے۔
* واقعہ: یہ واقعہ 30 اپریل 2012 کو دادو (سیتا روڈ) میں پیش آیا تھا، جہاں ملزم نے اپنے والد کی شہ پر عاشقان علی (مقتول) کو خنجر مار کر قتل کر دیا تھا۔
* عدالتی موازنہ: عدالت نے قرار دیا کہ مقتول کے بیٹے (مستغیث) اور بھتیجے کی گواہی بالکل سچی، اعتماد کے قابل اور میڈیکل رپورٹ (ڈاکٹر کی رپورٹ) سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ آلۂ قتل (خنجر) بھی ملزم کی نشاندہی پر برآمد ہوا تھا۔ گواہوں کی آپسی رشتہ داری یا وقت گزرنے کے باعث معمولی تضادات سے مرکزی کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
2. ایف آئی آر (FIR) میں تاخیر اور پولس کی غفلت
* پولیس کا رخ: واقعہ 30 اپریل 2012 کی رات 8:30 بجے ہوا، اور پولیس کو 8:40 بجے ہی اطلاع مل گئی تھی (روزنامچے اور لاش جانچ فارم کے مطابق پولیس 9:00 بجے موقع پر موجود تھی)۔ اس کے باوجود ایف آئی آر 3 دن بعد (3 مئی 2012) درج کی گئی۔
* شہری کا دفاع: عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں یہ تاخیر مدعی/مستغیث کی طرف سے نہیں بلکہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہوئی۔ لہٰذا، پولیس کی سستی یا ناہلی کی سزا شاکی (فریادی) کو نہیں دی جا سکتی۔
3. پولیس اصلاحات اور عدالتی ہدایات
عدالت نے سندھ اور دیگر صوبوں کی پولیس کے رویے اور نظام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل اہم احکامات جاری کیے:
* نوآبادیاتی (Colonial) الفاظ کا خاتمہ:
* پولیس کے کاغذات میں "فریادی" یا "بخدمت جناب ایس ایچ او" جیسے الفاظ کے استعمال کو سختی سے منع کر دیا گیا۔
* عدالت نے کہا کہ شہری اپنے حق کے لیے پولیس کے پاس آتے ہیں، رحم کی بھیک یا التجا (Cr

ہائیکورٹ نے خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی سے متعلق اہم تحریری فیصلہ جاری کر دیارخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ ر...
28/06/2026

ہائیکورٹ نے خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی سے متعلق اہم تحریری فیصلہ جاری کر دیا

رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہے۔لاہور ہائیکورٹ

رخصتی نہ ہونے یا ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا قانون ختم نہیں ہوتا۔لاہور ہائیکورٹ

اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت نہ لکھا ہو تو پورا مہر فوری طور پر دیناہو گا۔فیصلہ

مہر کی تفصیل واضح نہ ہونے پر قانون کے مطابق سارا مہر جب مانگا جائے تب ہی واجب الادامانا جائے گا۔فیصلہ

نکاح نامے میں لکھا گیا 10 تولہ سونا، ایک کنال زمین اور مکان فوری ادائیگی والا مہر ہے۔فیصلہ

خلع یعنی عورت کی طرف سےشادی ختم کرنے پر وہ مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہے۔فیصلہ

خلع کی بنیاد پر شادی اس صورت میں فوری ختم ہوگی بشرطیکہ خاتون مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرے۔فیصلہ

ہائیکورٹ نے نچلی عدالتوں کی غلطی دور کرتے ہوئے ازکا افرین کی درخواست منظور کر لی
#

14/06/2026

When appearing before a judge, the most critical skill is self control over your voice, body language, and mind. Speak clearly, calmly, and only when asked. Always answer the judge's query first before anything else, as the court's question takes the highest priority. Court Appearance explained by His Legendary Barrister Salman Safdar Advocate Supreme Court of Pakistan.

We strongly condemn the cowardly and brutal attack and dacoity committed against our Senior Firm Partner, Advocate Abdul...
09/05/2026

We strongly condemn the cowardly and brutal attack and dacoity committed against our Senior Firm Partner, Advocate Abdul Jabbar Jatoi, and his family members.

This heinous act of violence and lawlessness against a seasoned member of the legal fraternity is not just a personal tragedy—it is a direct assault on the rule of law and the sanctity of the justice system. Such incidents serve as a grim reminder of the rising insecurity facing professionals who serve the public
We demand that the Inspector General of Sindh take personal notice of this incident and mobilize all resources to apprehend the culprits.

خوشخبري : سنڌ حڪومت جو فوتي ڪوٽا بابت اھم فيصلو سنڌ حڪومت جي 30 اپريل 2026ع تي جاري ڪيل نوٽيفڪيشن موجب، جيڪڏهن ڪنهن سول ...
30/04/2026

خوشخبري : سنڌ حڪومت جو فوتي ڪوٽا بابت اھم فيصلو

سنڌ حڪومت جي 30 اپريل 2026ع تي جاري ڪيل نوٽيفڪيشن موجب، جيڪڏهن ڪنهن سول سرونٽ جي ٻار يا زال کي عدالت عظميٰ پاڪستان جي 26 سيپٽمبر 2024ع واري فيصلي کان اڳ ئي نوڪريءَ جو حق حاصل ٿي چُڪو هو، ته اهو حق کانئن نه ورتو ويندو.

ھاڻ 26 سيپٽمبر 2024 کان اڳ جيڪي مستحق ھئا انھن جا فيصلا ميرٽ تي ٿيندا -

Types of Writs... *رٹ*(Writ):-*تحریری عدالتی حکم نامہ جو کسی عدالت مجاز بالخصوص ہائی کورٹ کی طرف سے انتظامیہ کے افسر یا ...
08/03/2026

Types of Writs...

*رٹ*(Writ):-

*تحریری عدالتی حکم نامہ جو کسی عدالت مجاز بالخصوص ہائی کورٹ کی طرف سے انتظامیہ کے افسر یا متعلقہ شخص کے نام کسی کام کی انجام دہی کے لیے جاری کیا جائے۔*

*١* - کسی محکمے (عدالت کا حکم نامہ) کے فیصلے کے خلاف اس کے نفاذ کو روکنے کی عدالت عالیہ میں درخواست رٹ کہلاتی ہے
انگریزی قانون میں رٹ کی بڑی اہمیت ہے۔ شروع شروع میں یہ بادشاہ کلیسا یا چانسری کی طرف سے جاری ہوتی تھیں۔ مگر انیسویں صدی کے آغاز میں یہ اختیارات عدلیہ کے سپرد کر دیے گئے۔ موجودہ دور میں کئی قسم کی رٹیں اہم سمجھی جاتی ہیں۔

1۔ *رٹ آف ہیبیس کارپس*
جس کا مقصد کسی شخص کو غیر آئینی بندی یا قید سے رہا کرانے کے سلسلے میں فوری مدد بہم پہنچانا ہوتا ہے۔ اس رٹ کی بنیاد انفرادی آزادی کے تحفظ پر مبنی ہے۔

2۔ *رٹ آف سرشیاری*
جس میں عدالت عالیہ کی طرف سے فوجداری اور دیوانی چھوٹی عدالتوں کے نام جاری کی جاتی ہے۔ اس کے تحت عدالت عالیہ کی ماتحت عدالت سے کسی ایسے مقدمے کا تمام ریکارڈ طلب کر سکتی ہے۔ جو اس کے پاس فیصلہ کے لیے پڑا ہو۔

3۔ *رٹ آف پروہبی شن*
جس میں عدالت عالیہ کسی ماتحت عدالت کو کوئی ایسا فیصلہ کرنے سے روک سکتی ہے جو اس عدالت کے دائرہ اختیار سے

4۔ *رٹ آف منڈاس*
جس میں عدالت کسی شخص افسر کارپوریشن یا ماتحت عدالت کو کسی خاص فرض کے سر انجام دینے کا حکم دے سکتی ہے۔ یا مذکورہ افراد یا حکام کو کسی خاص کام کے کرنے سے منع کر سکتی ہے۔

5۔ *رٹ آف کووارنٹو*
کی رو سے عدالت عالیہ کسی شخص سے جو کسی عہدے پر فائز ہو یہ پوچھ سکتی ہے کہ وہ کس حق کے تحت اس عہدے پر فائز رہنے کا حق دار ہے۔ اس میں اپنا حق ثابت کرنے کی ذمہ داری مدعا علیہ پر ہوتی ہے۔ کسی عہدے کے تحت حاصل ہونے والے اختیارات کے ناجائز اور غلط استعمال کو بھی اسی رٹ کے تحت چیلنج کیا جاسکتا ہے۔Article 199 Constitution of Pakistan

سرکاری ملازمین کے لئے بڑی خبر سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ – ویڈ لاک پالیسی پر تاریخی وضاحتسپریم کورٹ آف پاکستان ن...
23/02/2026

سرکاری ملازمین کے لئے بڑی خبر
سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ – ویڈ لاک پالیسی پر تاریخی وضاحت

سپریم کورٹ آف پاکستان نے CPLA No. 4701 of 2024 (مبشر اقبال ظفر بنام وزارتِ دفاع و دیگر) میں ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں شادی شدہ سرکاری ملازمین کی ٹرانسفر کے معاملہ پر “Wedlock Policy” کی قانونی حیثیت اور اس کے نفاذ کو واضح کیا گیا۔

یہ فیصلہ مورخہ 04 دسمبر 2025 کو جسٹس Ayesha A. Malik اور جسٹس Munib Akhtar پر مشتمل بینچ نے تحریر کیا۔

💢 کیس کا پس منظر
درخواست گزار ایک Assistant Health Inspector (BPS-5) تھے جنہیں عبدالحکیم (ضلع خانیوال) سے ڈیرہ نواب صاحب (ضلع بہاولپور) ٹرانسفر کر دیا گیا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ:
ان کی اہلیہ سرکاری سکول ٹیچر ہیں اور دل کی مریضہ ہیں۔
وہ خود شوگر کے مریض ہیں۔
ان کے دو کم سن بچے ہیں جنہیں والدین کی نگرانی درکار ہے۔
Wedlock Policy کے تحت میاں بیوی کو ایک ہی اسٹیشن پر تعینات رکھا جانا چاہیے، خاص طور پر جب طبی مسائل موجود ہوں۔
ان کی اپیل Federal Service Tribunal نے مسترد کر دی، جس کے بعد معاملہ Supreme Court of Pakistan میں آیا۔

⚖ سپریم کورٹ کے اہم نکات
1️⃣ ویڈ لاک پالیسی محض رسمی ہدایت نہیں
عدالت نے واضح کیا کہ 1998 سے نافذ Wedlock Policy کا مقصد شادی شدہ سرکاری ملازمین کو غیر ضروری علیحدگی اور خاندانی مشکلات سے بچانا ہے۔
2️⃣ میڈیکل گراؤنڈ کو اعلیٰ ترجیح
پالیسی کے مطابق طبی مسائل کو سب سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے۔
3️⃣ پبلک انٹرسٹ کی مجبوری ضروری
عدالت نے کہا کہ اگر کسی ملازم کو اسی اسٹیشن سے ہٹایا جائے جہاں اس کا شریک حیات تعینات ہو تو اس کیلئے "compelling public interest" کی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے۔ محض روٹین ٹرانسفر کافی نہیں۔

4️⃣ آئینی اصولوں کی روشنی میں فیصلہ
عدالت نے آئین کے آرٹیکل 34 اور 35 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست پر لازم ہے کہ:
شادی اور خاندان کا تحفظ کرے
خواتین کی قومی زندگی میں مکمل شرکت کو یقینی بنائے
لہٰذا ایسی پالیسیوں پر سنجیدگی سے عمل درآمد ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔

💢عدالت کا حتمی حکم
سپریم کورٹ نے:
فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا
08.02.2021 کا ٹرانسفر آرڈر منسوخ کر دیا
سول پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرکے منظور کر لیا

🔎 اس فیصلے کی قانونی اہمیت
✔ Wedlock Policy کو مضبوط

Sharing a quick reference Criminal Practice Chart (Pakistan) covering key proceedings under CrPC along with relevant pro...
15/02/2026

Sharing a quick reference Criminal Practice Chart (Pakistan) covering key proceedings under CrPC along with relevant provisions and available remedies.

This may help:

1)Law students in understanding procedural flow.

2) Young practitioners in quick courtroom reference.

3)Interns & juniors in building practical clarity.

For general guidance only - subject to latest amendments and case laws.

Address

Office No 24 & 25 Meznine Floor Sakhi Wahab Complex Opposite Wapda Office Saddar Cantonment Hyderabad
Hyderabad

Telephone

+923497785623

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M/S Hingorjo law Associates & Co posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to M/S Hingorjo law Associates & Co:

Shortcuts

Share