Hyderabad Legal Hub HLH

Hyderabad Legal Hub HLH Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hyderabad Legal Hub HLH, Lawyer & Law Firm, Hyderchok Hyderabad, Khairpur Mirs.

• Civil & Property Law
• Criminal Defense & Bail
• Family & Custody Matters
• NAB, FIA & Financial Crimes
• Customs & Tax Law
• Human Rights & Civil Rights
Contact us
03113450431 WhatsApp/Call

*لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غلطی سے اکاؤنٹ میں 30 لاکھ روپے آ گئے اور ملزم نے 30 لاکھ روپے استعمال بھی کر لئے**PPC 489-f o...
18/08/2026

*لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غلطی سے اکاؤنٹ میں 30 لاکھ روپے آ گئے اور ملزم نے 30 لاکھ روپے استعمال بھی کر لئے*

*PPC 489-f or PPC 406*
میں فرق

*📌 معاملہ کیا تھا*
- بینک کی تکنیکی خرابی سے 30 لاکھ روپے طارق رحمان چوہان کے اکاؤنٹ میں غلطی سے چلے گئے
- ملزم نے اس میں سے 25 لاکھ نکال کر استعمال کر لیے
- بینک نے واپسی مانگی تو ملزم نے 30 لاکھ کا چیک دیا، جو فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ڈس آنر ہو گیا
- اس پر Section 489-F PPC کے تحت مقدمہ بنا

*⚖️ عدالت کے سامنے اصل سوال*
- اگر اکاؤنٹ میں غلطی سے آئی رقم کو جان بوجھ کر استعمال کیا جائے تو کیا Section 406 PPC یعنی Criminal Breach of Trust بھی لگے گا؟
- لاہور ہائی کورٹ کا جواب: ہاں، لگ سکتی ہے

*🔥 دونوں دفعات کیوں لگ سکتی ہیں*
- *Section 406 PPC*: 25 لاکھ نکال کر اپنے استعمال میں لانا۔ عدالت نے کہا یہ Criminal Breach of Trust بن سکتا ہے
- *Section 489-F PPC*: واپسی کے لیے دیا گیا 30 لاکھ کا چیک ڈس آنر ہونا۔ یہ الگ جرم بنتا ہے
- یعنی ایک ہی واقعے میں حقائق کے مطابق دونوں دفعات عائد ہو سکتی ہیں

*📌 عدالت نے کون سے اہم اصول واضح کیے*
- صرف اکاؤنٹ میں رقم آ جانے سے وہ آپ کی ملکیت نہیں بن جاتی
- اگر آپ کو معلوم ہو کہ رقم آپ کی نہیں، پھر بھی استعمال کریں اور واپس نہ کریں تو Criminal Breach of Trust کا سوال پیدا ہوتا ہے
- امانت صرف اسی وقت نہیں بنتی جب رقم باقاعدہ حوالے کی جائے۔ بعض حالات میں Implied Trust بھی مانا جا سکتا ہے
- "بینک کی غلطی تھی" والا مؤقف خود میں دفاع نہیں ہے

*ضمانت کیوں مسترد ہوئی*
- ملزم نے کہا 489-F کی سزا 3 سال ہے اور یہ prohibitory clause میں نہیں، اس لیے ضمانت بنتی ہے
- ہائی کورٹ نے کہا صرف یہ کافی نہیں۔ مجموعی حالات دیکھے جائیں گے
- اس کیس میں: غلطی سے رقم آنا + 25 لاکھ نکالنا + چیک ڈس آنر ہونا = غیر معمولی circumstances
- اس بنیاد پر post-arrest bail کی درخواست مسترد کر دی گئ.

❓ کیا ماں کی دوسری شادی (Remarriage) کی صورت میں نابالغ بچی (Minor Girl) کی حضانت (Custody) خود بخود باپ کو مل جاتی ہے، ...
17/08/2026

❓ کیا ماں کی دوسری شادی (Remarriage) کی صورت میں نابالغ بچی (Minor Girl) کی حضانت (Custody) خود بخود باپ کو مل جاتی ہے، یا بچی کی فلاح (Welfare of Minor) پھر بھی مقدم رہے گی؟
❓ اگر باپ پاک فوج (Pakistan Army) میں ملازمت کرتا ہو اور جائیداد/مالی لحاظ سے مضبوط ہو، تو کیا محض اس کی سرپرستی یا مالی حیثیت ماں کی مسلسل پرورش پر فوقیت رکھتی ہے؟

📌 One-Line Citation Description
گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1882ء کی دفعات 17 و 25 اور قانونِ اسلام کے تحت ماں کی دوسری شادی کی بنا پر حضانت کا حق بالکلیہ (Absolutely) ختم نہیں ہوتا؛ اگر نابالغ بچی ماں کے پاس خوش اور محفوظ ہو اور باپ فوج میں ملازمت کے باعث اور جائیداد/مالی لحاظ کے باوجود بچی کو خود وقت نہ دے سکتا ہو، تو بچی کی فلاح اور منشاء کی خاطر حضانت ماں ہی کو دی جائے گی۔

⚖️ 2026 CLC 1052
[Peshawar High Court, D.I. Khan Bench]
👥 Saeed Khan Vs. Mst. Rozina Bibi and others

Bench: Mr. Justice Inam Ullah Khan

📘 Definitions of Legal Concepts
⛔️ Welfare of the Minor (نابالغ کی فلاح و بہبود): گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1882ء کے تحت حضانت (Custody) کے مقدمات میں سب سے بنیادی اور حتمی اصول بچی/بچے کی فلاح ہے۔ اس میں اخلاقی، دینی، تعلیمی، جسمانی، اور جذباتی و نفسیاتی بہبود شامل ہے، جس کے سامنے دیگر تمام حقوق ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

⛔️ Right of Hizanat & Remarriage (حقِ حضانت اور دوسری شادی): فقہ اسلامی اور ڈی ایف ملا کے قوانین کے تحت ماں کی دوسری شادی (خاص طور پر غیر محرم سے) کی صورت میں اس کا "ترجیحی حق" (Preferential Right) متاثر ہو سکتا ہے، لیکن وہ مکمل طور پر نااہل (Absolutely Disqualified) نہیں ہوتی۔ اگر بچی کی بہتری ماں کے پاس رہنے میں ہو تو دوسری شادی کے باوجود ماں کو کسٹڈی دی جا سکتی ہے۔

⛔️ Natural Guardian vs Welfare (قدرتی سرپرست بمقابلہ فلاح): باپ اگرچہ بچی کا قدرتی و قانونی سرپرست (Natural Guardian) ہے اور مالی لحاظ سے زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ بچی کو خود وقت دینے کے بجائے دادا دادی پر چھوڑنے پر مجبور ہو، تو یہ چیز ماں کی قائم شدہ جذباتی پرورش کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔

⚖️ Definitions of Sections & Laws

⛔️ Sections 17 & 25, Guardians and Wards Act (VIII of 1890): سرپرست مقرر کرنے اور نابالغ کی کسٹڈی واپس حاصل کرنے سے متعلق ضوابط، جن میں بنیادی کسوٹی "فلاحِ نابالغ" کو قرار دیا گیا ہے۔

⛔️ Article 199, Constitution of Islamic Republic of Pakistan, 1973: ہائی کورٹ کا آئینی دائرہ اختیار (Constitutional Jurisdiction)۔ آئینی درخواست میں نیچے کی عدالتوں کے حقائق اور شہادتوں کے جائزوں پر تبھی مداخلت کی جا سکتی ہے اگر شہادتوں کی Misreading یا Non-reading پائی جائے۔

Posted by Legal Luminaries

📖 Background of the Case
سعید خان (پٹیشنر/باپ) پاک فوج میں ملازمت کرتا ہے۔ اس کا روزینہ بی بی (رسپونڈنٹ/ماں) سے تنازع کے بعد علیحدگی ہو گئی اور شیر خوارگی کے زمانے سے ہی نابالغ بچی ماں کی تحویل میں پرورش پاتی رہی۔ بعد میں ماں نے دوسری شادی کر لی۔ باپ نے اس بنیاد پر گارڈین کورٹ سے بچی کی کسٹڈی کا دعویٰ دائر کیا کہ ماں نے نا محرم سے شادی کر لی ہے، جبکہ وہ بطور باپ بہتر مالی حیثیت رکھتا ہے اور قدرتی سرپرست ہے۔ فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ دونوں نے بچی کی کسٹڈی ماں کے پاس برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا، جس کے خلاف باپ نے پشاور ہائی کورٹ ڈی آئی خان بینچ میں آئینی پٹیشن (Article 199) دائر کی۔

⚖️ Core Legal Questions
❓ کیا اسلام اور گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کے تحت ماں کی دوسری شادی کی صورت میں اس کا حقِ حضانت خود بخود اور قطعی طور پر ختم ہو جاتا ہے؟

❓ کیا فوجی ملازم باپ جو خود گھر سے دور رہتا ہو، مالی حیثیت کی بنیاد پر ماں کی رضامند اور سیٹل شدہ کسٹڈی کو چیلنج کر سکتا ہے؟

🏛️ Court's Observations & Legal Principles
✅ ماں کی دوسری شادی کی قانونی حیثیت: ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ ڈی ایف ملا کے قوانینِ محمدن لا (پیرا 352 و 354) اور اسلامی اصولوں کے تحت ماں کی دوسری شادی سے اس کا ترجیحی حق ضرور متاثر ہوتا ہے، لیکن وہ قطعی نااہل (Absolute Disqualification) نہیں ہوتی۔ دفعہ 17 اور 25 کے تحت اگر بچی کی فلاح ماں کے پاس ہی ہو، تو عدالت دوسری شادی کے باوجود کسٹڈی ماں کو دے سکتی ہے۔

✅ بچی کی خواہش اور جذباتی وابستگی: ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران نابالغ بچی نے اپنے باپ سے ملنے سے انکار کیا اور اپنی ماں کے ساتھ رہنے کی واضح اور پختہ خواہش ظاہر کی۔ بچی کا بچپن سے ماں کے پاس ہونا اور جذباتی طور پر مستحکم ہونا عدالت کے لیے اہم ترین عنصر بنا۔

✅ باپ کی ملازمت کی حدود: پٹیشنر پاک فوج میں ملازم ہونے کے باعث طویل عرصے گھر سے دور رہتا ہے۔ اگر کسٹڈی اس کے حوالے کی جاتی تو بچی کو لازمی طور پر دادا دادی کے رحم و کرم پر رہنا پڑتا، جو کہ ماں کی ذاتی دیکھ بھال اور محبت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

✅ محض مالی حیثیت کی فوقیت کا رد: باپ کا برتر مالی موقف یا قدرتی سرپرست ہونا، بچی کے اس امن، سکون اور جذباتی تعلق پر غالب نہیں آ سکتا جو اسے ماں کی گود میں حاصل ہے۔

⚖️ Final Order
پشاور ہائی کورٹ کے فاضل جج (جسٹس انعام اللہ خان) نے فیصلہ سناتے ہوئے:
باپ (سعید خان) کی آئینی پٹیشن کو خارج (Dismissed) کر دیا۔
نچلی عدالتوں (فیملی کورٹ و ڈسٹرکٹ کورٹ) کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے بچی کی تحویل ماں کے پاس قائم رکھی۔

📑 Ratio Decidendi
نابالغ کی حضانت (Custody) کا فیصلہ کرتے وقت واحد اور سب سے مقدم کسوٹی "فلاحِ نابالغ" (Welfare of Minor) ہے۔ ماں کی دوسری شادی اس کے حقِ حضانت کا حتمی خاتمہ نہیں کرتی؛ اگر ماں کے نئے گھر کا ماحول محفوظ ہو اور بچی ماں کے ساتھ جذباتی طور پر وابستہ ہو جبکہ باپ ملازمت کے باعث خود دیکھ بھال نہ کر سکتا ہو، تو کسٹڈی ماں کے پاس ہی رہے گی۔

💼 Practical Utility for Advocates
ماں / رسپونڈنٹ کے وکلاء کے لیے:
جب مخالف فریق (باپ) محض ماں کی دوسری شادی (Remarriage) کو بنیاد بنا کر بچی کی کسٹڈی مانگے، تو اس نظیر کو پیش کر کے ثابت کریں کہ دوسری شادی خود بخود Disqualification نہیں ہے بلکہ اصل نقطہ بچی کی فلاح اور اس کا ماحول ہے۔
اگر باپ ملازمت کی وجہ سے بیرونِ شہر یا آرمی ڈیوٹی پر رہتا ہو، تو یہ موقف اپنائیں کہ بچی کو ماں کے بجائے دادا دادی کے پاس منتقل کرنا فلاح کے خلاف ہے۔
باپ / پٹیشنر کے وکلاء کے لیے:
اگر ماں کی دوسری شادی کے بعد نئے شوہر یا گھر کے ماحول سے بچی کو کوئی واقعی ناگوار یا خطرناک حالات درپیش ہوں، تو محض بیانات کے بجائے ٹھوس اور مستند شہادتیں (Tangible Detriment) عدالت کے سامنے لانا ضروری ہیں، وگرنہ قیاس آرائیاں کارآمد نہیں ہوں گی۔

🎯 Quotable Legal Principle
"Disqualification of the mother under Muhammadan Law upon remarriage is not absolute and must yield to the overarching principle of the minor's welfare. If the welfare of the minor is best served in the custody of the mother, such custody may be granted to her notwithstanding her remarriage."

📚 Precedents Relied Upon
🆚 Khan Muhammad v. Mst. Surayya Bibi (2008 SCMR 480)

🆚 Rahimullah Choudhary v. Mrs. Sayeda Helali Begum (1974 SCMR 305)

🆚 Shabana Naz v. Muhammad Saleem (2014 SCMR 343)

🆚 Raja Muhammad Owais v. Mst. Nazia Jabeen (2022 SCMR 2123)

🆚 Mst. Shahista Naz v. Muhammad Naeem Ahmed (2004 SCMR 990)

Posted by Legal Luminaries

2026 C L C 1052

[Peshawar (D.I.Khan Bench)]

Before Inam Ullah Khan, J

SAEED KHAN ---Petitioner

versus

Mst. ROZINA BIBI and others ---Respondents

Guardians and Wards Act (VIII of 1890)---

----Ss. 17 & 25--Constitution of Pakistan, Art. 199---Custody of minor, determination of-Welfare of minor---Remarriage of mother of minor girl---Financial status of parent, consideration of---Constitutional jurisdiction in custody matters---Scope and effect---Provision of S.25 of the Guardians and Wards Act, 1890 reveals that, in the matter of custody of a minor, the courts must primarily take into consideration the welfare of the minor-Welfare and best interests of the minor are the prime and overriding consideration in determining an application for custody, with no other factor taking precedence---Determination as to what constitutes welfare of a minor is a question of fact that must be established through cogent and reliable evidence in each case rather than presumptions---Expression "welfare of the minor" includes the minor's moral, spiritual, physical, psychological, educational and material well-being; it further encompasses considerations relating to the minor's health, academic progress, religious upbringing and overall emotional development---In determining welfare, due weight must also be given to the minor's happiness and emotional attachment to the proposed custodian---Holistic examination of the record demonstrated that the pivotal question for determination remained the welfare of the minor, which is the controlling consideration under S.25 of the Act---In the present case, the record unequivocally reflected that the minor harboured a strong dislike towards the petitioner/father and repeatedly srefused to meet him during the proceedings---Further she appeared before the High Court and clearly expressed her willingness to reside with her mother---Conversely, the petitioner, being in service in the Pakistan Army, remained away from home for extended periods, leaving little opportunity to personally attend to the minor's welfare; in such circumstances, the minor would inevitably remain dependent on the petitioner's parents---On the other hand, the respondent-mother had maintained uninterrupted custody of the minor since infancy, during which the minor had remained well-scttled, secure and emotionally stable in her care---Aspect of the respondent-mother's remarriage was duly considered by the courts below, and nothing adverse regarding the minor's safety, upbringing or environment had been brought on record---Mere remarriage, without tangible detriment to the minor, could not be treated as a disqualification---Apprehensions raised by the petitioner regarding the respondent-mother's remarriage were speculative and unsupported by any adverse material---Petitioner's assertions of superior financial means or status as natural guardian, though relevant, did not override the settled and emotionally secure welfare enjoyed by the minor in maternal custody---As elucidated in D.F. Mulla's Principles of Muhammadan Law (Paras. 352 and 354), while a mother's right to custody continues even after divorce, it may be forfeited upon remarriage, particularly if the marriage is contracted with a person who is not related to the minor within the prohibited degrees---Nonetheless, Ss. 17 and 25 of the Guardians and Wards Act, 1890 mandate that the welfare of the minor shall remain the paramount consideration in determining custody disputes---Disqualification of the mother under Muhammadan Law upon remarriage is not absolute and must yield to the overarching principle of the minor's welfare---If the welfare of the minor is best served in the custody of the mother, such custody may be granted to her notwithstanding her remarriage---Therefore, each case must be decided on its own facts, with the welfare of the minor remaining the paramount consideration---In such cases, if the welfare of the minor is best served by awarding custody to the mother, even after remarriage, the court may grant her custody---Right of Hizanat, having the force of injunctions of Islam, is an accepted principle of Islamic law---Moreover, a female, on account of remarriage, may be disqualified from exercising this right, but a mother on account of remarriage is not absolutely disqualified from being entrusted with custody of a minor child; rather, she may lose her preferential right of custody---Respondent-mother's remarriage, the environment of her new matrimonial home, the minor's consistent preference and the petitioner's service-related limitations were all duly considered and appropriately weighed---No misreading or non-reading of evidence, or failure of jurisdiction, was demonstrated so as to justify interference under the constitutional jurisdiction of the High Court---Constitutional petition, filed by father of minor girl, was dismissed. [pp. 1057, 1058] A, B, C, D, E, F, G, H & I

Khan Muhammad v. Mst. Surayya Bibi and others 2008 SCMR 480; Rahimullah Choudhary v. Mrs. Sayeda Helali Begum and others 1974 SCMR 305; Shabana Naz v. Muhammad Saleem 2014 SCMR 343; Raja Muhammad Owais v. Mst. Nazia Jabeen and others 2022 SCMR 2123 and Mst. Shahista Naz v. Muhammad Naeem Ahmed and another 2004 SCMR 990 ref.

⚖️ سنڌ هاءِ ڪورٽ جو شاهنواز ڪنڀر جي مبينا حراستي موت بابت تاريخي فيصلو.سنڌ هاءِ ڪورٽ ڪراچي جي معزز ڊويزن بينچ، جنهن ۾ جس...
29/07/2026

⚖️ سنڌ هاءِ ڪورٽ جو شاهنواز ڪنڀر جي مبينا حراستي موت بابت تاريخي فيصلو.

سنڌ هاءِ ڪورٽ ڪراچي جي معزز ڊويزن بينچ، جنهن ۾ جسٽس محمد سليم جيسر ۽ جسٽس نثار احمد ڀنڀرو شامل هئا، 30 جون 2026ع تي آئيني درخواست نمبر D-1613/2025 ۾ هڪ اهم فيصلو جاري ڪيو. هي فيصلو مستقبل ۾ حراستي موتن (Custodial Deaths)، جعلي پوليس مقابلن، ٻي ايف آءِ آر ۽ FIA جي قانوني اختيارن بابت هڪ اهم قانوني رهنمائي فراهم ڪري ٿو.

مقدمي جو پس منظر

هي ڪيس شاهنواز ڪنڀر جي مبينا حراستي موت سان لاڳاپيل هو. شروعات ۾ هن واقعي بابت ايف آءِ آر نمبر 47/2024 پوليس اسٽيشن سنڌڙي ۾ داخل ڪئي وئي. بعد ۾ سنڌ هاءِ ڪورٽ Torture and Custodial Death (Prevention and Punishment) Act, 2022 تحت هن ڪيس جي جاچ FIA حوالي ڪرڻ جو حڪم ڏنو.

پر FIA صرف جاچ ڪرڻ بدران ساڳئي واقعي بابت ايف آءِ آر نمبر 21/2024 پڻ داخل ڪري ڇڏي، جنهن تي پوليس آفيسرن سپريم ڪورٽ جي مشهور فيصلي Mst. Sughran Bibi v. The State (PLD 2018 SC 595) جي روشني ۾ اعتراض اٿاريندي نئين ايف آءِ آر کي غيرقانوني قرار ڏيڻ لاءِ درخواست داخل ڪئي.

درخواستگذارن جو موقف

درخواستگذارن جو چوڻ هو ته:
هڪ ئي واقعي بابت ٻي ايف آءِ آر داخل نٿي ڪري سگهجي.
سنڌ هاءِ ڪورٽ صرف جاچ FIA حوالي ڪئي هئي، نئين ايف آءِ آر داخل ڪرڻ جي اجازت نه ڏني هئي.

ايف آء اي پنهنجي قانوني اختيارن کان تجاوز ڪيو، جيڪو سپريم ڪورٽ جي فيصلي ۽ آئين جي آرٽيڪل 4 ۽ 10-A جي خلاف آهي.

رياست جو موقف

رياست ۽ شڪايت ڪندڙ موقف اختيار ڪيو ته:
Torture and Custodial Death Act, 2022
هڪ خاص قانون آهي.
هن قانون تحت جاچ FIA حوالي ڪئي وئي هئي، تنهن ڪري صرف هڪ فني اعتراض جي بنياد تي سڄو ڪيس ختم نٿو ڪري سگهجي، خاص طور تي جڏهن معاملو حراستي قتل جهڙي سنگين الزام سان لاڳاپيل هجي.

📌 عدالت جا اهم نڪتا

عدالت قرار ڏنو ته:

✅ ايف آء اي کي صرف جاچ ڪرڻ جو اختيار حاصل آهي، نئين ايف آءِ آر داخل ڪرڻ جو نه.
✅ 2022ع واري قانون جي دفعه 5 ۾ ڪٿي به FIA کي نئين ايف آءِ آر داخل ڪرڻ جو اختيار نه ڏنو ويو آهي.
✅عدالت جي اڳوڻي حڪم ۾ به صرف جاچ منتقل ڪئي وئي هئي، نئين ايف آءِ آر داخل ڪرڻ جو حڪم نه ڏنو ويو هو.
پوءِ به ڪيس ڇو ختم نه ڪيو ويو؟

عدالت چيو ته جيتوڻيڪ FIA کان قانوني غلطي ٿي، پر اها صرف طريقيڪار جي بيقاعدگي (Procedural Irregularity) هئي، اهڙي بنيادي قانوني خامي نه هئي جنهن جي بنياد تي سڄو ڪيس ختم ڪيو وڃي.

عدالت ضابطه فوجداري جي دفعه 537 جو حوالو ڏيندي چيو ته جيڪڏهن ڪنهن بيقاعدگي سبب ملزم کي حقيقي نقصان نه پهتو هجي ته صرف انهيءَ بنياد تي سڄي ڪارروائي کي ڪالعدم قرار نٿو ڏئي سگهجي.

هڪ اهم قانوني اصول

عدالت واضح ڪيو ته:

عدالت ڪيس جو نوٽيس ايف آءِ آر تي نه، پر ضابطه فوجداري جي دفعه 173 تحت پيش ڪيل پوليس رپورٽ (چالان) تي وٺندي آهي.
ايف آءِ آر صرف جاچ شروع ڪرڻ جو ذريعو هوندي آهي، مقدمي جو آخري فيصلو نه.
جيڪڏهن جاچ دوران نيون دفعات شامل ڪرڻ يا تبديل ڪرڻ جي ضرورت پوي ته جاچ آفيسر ائين ڪري سگهي ٿو.
سپريم ڪورٽ جي فيصلي جو اطلاق

عدالت Sughran Bibi ڪيس ۾ مقرر ڪيل اصول کي برقرار رکندي چيو ته هڪ ئي واقعي بابت ڪيترين ايف آءِ آرن جو اندراج اصولي طور جائز ناهي.

پر موجوده ڪيس کي مختلف قرار ڏنو، ڇاڪاڻ⁠تہ:

پهرين ايف آءِ آر اڳ ۾ ئي ختم ٿي چڪي هئي.
ٻنهي ايف آءِ آرن جو شڪايت ڪندڙ ساڳيو هو.
ٻنهي ۾ الزام به هڪجهڙا هئا.

تنهن ڪري هن فني غلطي کي انصاف جي راهه ۾ رڪاوٽ نٿو بڻائي سگهجي.

ايف آء اي جا اختيار

عدالت وڌيڪ چيو ته:

✅ ھن قانون تحت FIA کي پوليس اسٽيشن جو درجو حاصل ناهي.
✅ ايف آء اي جو ڪردار صرف غيرجانبدار جاچ ڪرڻ آهي، نئين ايف آءِ آر داخل ڪرڻ نه.
✅ ھي اصول مستقبل ۾ FIA جي قانوني اختيارن جي تعين لاءِ هڪ اهم نظير طور ڪم ڪندو.

عدالت جو پيغام

عدالت واضح ڪيو ته هاڻي صرف فني اعتراضن جي بنياد تي اهڙا ڪيس ختم نه ڪيا ويندا، جيڪي انساني جان، حراستي تشدد يا مبينا جعلي پوليس مقابلن سان لاڳاپيل هجن. جيڪڏهن غلطي درست ڪري سگهجي ٿي ۽ ان سان ملزم جا بنيادي حق متاثر نٿا ٿين ته انصاف کي ترجيح ڏني ويندي.

حتمي فيصلو

عدالت درخواست رد ڪندي حڪم ڏنو ته:

✅ ايف آء اي پاران داخل ڪيل ايف آءِ آر کي ساڳئي واقعي بابت مقامي پوليس جي ايف آءِ آر تصور ڪيو وڃي.
✅ ٽرائل ڪورٽ قانون موجب مقدمو هلائي ۽ سڀني شاهدين ۽ ثبوتن جي بنياد تي فيصلو ڪري.

خلاصو

ھي فيصلو پاڪستان جي فوجداري قانون ۾ هن اصول کي وڌيڪ مضبوط ڪري ٿو ته:

"قانوني طريقيڪار انصاف لاءِ آهي، انصاف قانوني طريقيڪار لاءِ نه."

عدالت هڪ طرف FIA جي قانوني غلطي جي نشاندهي ڪئي، پر ٻئي طرف ان غلطي کي اهڙي سنگين مقدمي کي ختم ڪرڻ جو ذريعو بڻجڻ نه ڏنو. اهڙي متوازن عدالتي سوچ هن فيصلي کي مستقبل جي ڪيترن ئي فوجداري مقدمن لاءِ هڪ اهم قانوني نظير بڻائي ٿي.

‏سپریم کورٹ نے آج مورخہ 24 جولائی 2026 کو اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ تمام نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ...
24/07/2026

‏سپریم کورٹ نے آج مورخہ 24 جولائی 2026 کو اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ تمام نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے
نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت نہ ہے، سپریم کورٹ میں نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے
Supreme Court has no jurisdiction to take cognizance in the NAB cases in terms of Article 175F (a) of the Constitution read with Section 32 and 32A of National Accountability Ordinance, 1999. As a consequence thereof, all criminal petitions for leave to appeal and criminal appeals in which leave has been granted and pending in the Supreme Court arising out of National Accountability Ordinance, 1999 stand transferred by fiction of law to the Federal Constitutional Court.
Crl.P.L.A.316/2018
Chairman, National Accountability Bureau thr. Prosecutor General Accountability, NAB, Islamabad v. Adeel Ahmed & another
Mr. Justice Muhammad Ali Mazhar
24-07-2026

Vakeel Online Hyderabad
Contact For Legal Consultant
Hyderabad Legal Hub

`ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کا قانونی طریقہ کار`اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کرے، تو آپ درج ذیل مراحل کے ذریعے ...
23/07/2026

`ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کا قانونی طریقہ کار`
اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کرے، تو آپ درج ذیل مراحل کے ذریعے قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں:
1. ایس ایس پی کمپلینٹ (SSP Complaint)
سب سے پہلے متعلقہ ضلع کے ایس ایس پی کمپلینٹ (SSP Complaints) کو درخواست دی جاتی ہے۔ یہ ایک انتظامی اقدام ہے جس کا مقصد پولیس کے متعلقہ تھانے کے افسران کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دلوانا ہے۔
2. جسٹس آف پیس (Justice of Peace - CrPC 22A)
اگر ایس ایس پی سطح پر شنوائی نہ ہو، تو ضابطہ فوجداری (CrPC) کے سیکشن 22-A کے تحت متعلقہ سیشن جج (بطور جسٹس آف پیس) کے پاس درخواست دائر کی جاتی ہے۔ عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ڈائریکشن (Direction) دے سکے۔
3. آئینی پٹیشن (Constitutional Petition - Article 199)
اگر 22-A کے تحت بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں، تو پاکستان کے آئین 1973 کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے۔ ہائی کورٹ ریاستی مشینری کو آئینی طور پر پابند کر سکتی ہے کہ وہ قانون کے مطابق اپنا فرض ادا کرے.
For legal Assistance Contact us
Call WhatsApp no. On Profile





🚨 زبانی ہبہ کب قانونی طور پر معتبر ہوتا ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ📖 حوالہ (Citation): 2008 PLD 73 Supreme Co...
22/07/2026

🚨 زبانی ہبہ کب قانونی طور پر معتبر ہوتا ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ
📖 حوالہ (Citation): 2008 PLD 73 Supreme Court
⚖️ مقدمہ: Allah Diwaya v. Ghulam Fatima
📌 کیس کی بنیادی معلومات
یہ مقدمہ زمین کے ہبہ (Gift) سے متعلق تھا۔ دعویٰ کیا گیا کہ مالک نے اپنی جائیداد ہبہ کر دی تھی، لیکن ہبہ نہ رجسٹرڈ تھا اور نہ ہی جائیداد کا قبضہ منتقل کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کو یہ طے کرنا تھا کہ آیا ایسی صورت میں ہبہ قانونی طور پر معتبر ہوگا یا نہیں۔
❓ اہم قانونی سوال
کیا رجسٹری اور قبضہ کے بغیر ہبہ قانونی طور پر درست اور قابلِ عمل ہو سکتا ہے؟
⚖️ سپریم کورٹ کا تجزیہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جس شخص نے ہبہ کا دعویٰ کیا، اس پر لازم تھا کہ وہ مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت کرے کہ:
واقعی ہبہ کیا گیا تھا؛
ہبہ کی تمام قانونی شرائط پوری ہوئی تھیں؛
اور جائیداد کا قبضہ بھی منتقل کیا گیا تھا۔
عدالت نے دیکھا کہ متعلقہ زمین مسلسل اصل مالک اور بعد ازاں اس کے ورثاء کے قبضے میں رہی۔ مزید یہ کہ ہبہ کا دعویٰ ریونیو ریکارڈ یا دیگر معتبر شواہد سے بھی ثابت نہ ہو سکا۔
🏛 سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کر دی اور قرار دیا کہ:
ہبہ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوا۔
صرف زبانی دعویٰ یا غیر ثابت شدہ دستاویز کی بنیاد پر ملکیت منتقل نہیں ہو سکتی۔
جب ہبہ ہی ثابت نہ ہو تو رجسٹری کے سوال پر مزید بحث بے فائدہ ہے۔
📚 اس فیصلے میں طے کیے گئے اہم قانونی اصول
ہبہ کا دعویٰ کرنے والے پر اس کا ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں، مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔
قبضہ (Delivery of Possession) ہبہ کی بنیادی اور اہم شرط ہے۔
اگر ہبہ ثابت نہ ہو تو جائیداد کی ملکیت منتقل نہیں سمجھی جائے گی۔
ریونیو ریکارڈ، قبضہ اور دیگر شواہد ہبہ ثابت کرنے میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
مسلم قانون کے تحت بعض حالات میں زبانی یا غیر رجسٹرڈ ہبہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے ہبہ کی تمام لازمی شرائط کا ثابت ہونا ضروری ہے۔
📌 عدالت کی ہدایات (Directions)
ہبہ کا دعویٰ صرف دعویٰ کرنے سے قبول نہیں ہوگا۔
ہبہ ثابت کرنے کے لیے مضبوط شواہد پیش کرنا لازمی ہے۔
اگر قبضہ منتقل نہ ہو اور ہبہ ثابت نہ ہو تو ملکیت منتقل نہیں ہوتی۔
نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے گئے اور اپیل خارج کر دی گئی۔
✅ مختصر خلاصہ
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ زبانی یا غیر رجسٹرڈ ہبہ ہر صورت میں خود بخود معتبر نہیں ہوتا۔ ہبہ کا دعویٰ کرنے والے کو ہبہ، اس کی قانونی شرائط اور خصوصاً قبضہ کی منتقلی کو قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت کرنا ہوگا، ورنہ ملکیت منتقل نہیں سمجھی جائے گی۔.adv Mahboob Ali

پوليس ايف آءِ آر (FIR) جا ڪلاس/قسم ۽ انهن جا قانوني مطلب۔​گهڻا ماڻهو سمجهندا آهن ته ايف آءِ آر داخل ٿيڻ بعد هر ڪيس جو سڌ...
20/07/2026

پوليس ايف آءِ آر (FIR) جا ڪلاس/قسم ۽ انهن جا قانوني مطلب۔

​گهڻا ماڻهو سمجهندا آهن ته ايف آءِ آر داخل ٿيڻ بعد هر ڪيس جو سڌو ٽرائل (ڪورٽ سنوائي) ٿيندو آهي، پر قانون ۾ ائين ناهي. پوليس جاچ کانپوءِ ڪيس کي ٽن مکيه ڪلاسن (A, B, C Classes) ۾ ورهايو ويندو آهي:

​اي ڪلاس (A-Class): هي اهو ڪيس هوندو آهي جيڪو سچو هجي (يعني ڏوهه واقعي ٿيو آهي) پر پوليس کي جوابدارن جو ڪو پتو يا ثبوت نه ملي سگهي. اهڙي رپورٽ ملڻ تي مئجسٽريٽ ڪيس کي "جوابدار لڀڻ تائين" بند ڪري ڇڏيندو آهي.

​بي ڪلاس (B-Class): هي اهو ڪيس هوندو آهي جيڪو دشمني تحت سراسر ڪوڙو، من گھڙت ۽ بي بنياد هجي. جيڪڏهن مئجسٽريٽ پوليس جي هيءَ رپورٽ منظور ڪري ته جوابدار باعزت بري ٿي ويندو آهي ۽ ڪوڙو ڪيس ڪندڙ خلاف پي پي سي (PPC) جي قلم 182 تحت ڪارروائي ڪري کيس جيل موڪلي سگهجي ٿو.

​سي ڪلاس (C-Class): هيءَ رپورٽ تڏهن جاري ٿيندي آهي جڏهن ڪيس ڪنهن "غلط فهمي" (Mistake of Fact) جي ڪري داخل ڪيو ويو هجي، يا معاملو فوجداري (Criminal) بدران ديواني نوعيت (Civil Nature) جو هجي. اهڙي صورت ۾ ڪيس کي سول ڪورٽ وڃڻ جي هدايت سان ختم ڪيو ويندو آهي.

جيڪڏهن ڪيس انهن ٽنهي ڪلاسن (A, B, ۽ C) مان ڪنهن ۾ به نه اچي، ته ان جو مطلب اهو آهي ته پوليس جي جاچ موجب ڪيس سچو (True Case) آهي ۽ جوابدارن خلاف ڏوهه جا ڪافي ثبوت مليا آهن. اهڙي صورت ۾ پوليس ضابطه فوجداري جي قلم 173 CrPC تحت عدالت ۾ ڪيس جو فائنل چالان (Charge-sheet) پيش ڪندي آهي، جنهن ۾ جوابدارن جا نالا، گواهن جا بيان ۽ ثبوت شامل هوندا آهن.

نالو رئيس ءٍ ڪم چ وارا چاچي جي عمر ڏسو ڪم ڏسوس  چاچا او چاچا اگر تنھنجي زال ، دي يان نياڻي ڏي ائين ڪير ويڊيو موڪلي ته تو...
29/01/2026

نالو رئيس ءٍ ڪم چ وارا چاچي جي عمر ڏسو ڪم ڏسوس
چاچا او چاچا اگر تنھنجي زال ، دي يان نياڻي ڏي ائين ڪير ويڊيو موڪلي ته توکان وڏو ڪير غيرتي نه ھوندو توھان کان وڏو ڪير حاجي نه ھوندو ـــ- ڏسو ڪجھ شرم ڪيو ڪجھ حيا ڪيو اگر پوء به شئر ڪرڻ جو شوق اٿو ته پنھن ڌي ڏي موڪليو نھن ڏي موڪليو ته خبر پوين ويڊيو وائرل ٿي آ -

19/09/2025

💔

جئي سنڌ        جئي پورھيت عوام  سنڌو درياه تي ڪينال نامنظور ڪارپوريٽ فارمنگ ذريعي سنڌ جي زمينن تي قبضا نامنظور 27 مارچ ت...
23/03/2025

جئي سنڌ جئي پورھيت عوام


سنڌو درياه تي ڪينال نامنظور
ڪارپوريٽ فارمنگ ذريعي سنڌ جي زمينن تي قبضا نامنظور

27 مارچ تي پرامن احتجاجي ريلي صبح جو 10:00 خاڪي شاهه پل کان خيرپور پريس ڪلب تائين.

سنڌو درياه تي ٺھندڙ ڇھ ڪينالن ۽ ڪارپوريٽ فارمنگ نالي تي سنڌ جي زمينن تي ٿيندڙ والار خلاف پورهيت مزاحمت تحريڪ خيرپور طرفان نڪرڻدڙ 27 مارچ جي احتجاجي ريلي ۾ توھان وطن دوست باشعور شاگردن نوجوانن اديبن شاعرن فنڪارن ڪلاڪارن سڀن سنڌ واسين کي دعوت ڏجي ٿي.




Address

Hyderchok Hyderabad
Khairpur Mirs
71000

Telephone

+923203591492

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hyderabad Legal Hub HLH posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hyderabad Legal Hub HLH:

Shortcuts

Share