Mr. Lawyer

Mr. Lawyer Easy Access to Justice �

Law   announced last date for  , 25 April 2022.Test Date 15, May 2022.For more information follow Mr. Lawyer
07/04/2022

Law announced last date for , 25 April 2022.
Test Date 15, May 2022.
For more information follow Mr. Lawyer

آئین کا آرٹیکل 69(2) سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر پر لاگو ہوتا ہے یعنی نیشنل اسمبلی کنڈکٹ آف بزنس 2007 کے تحت سپیکر اور ڈپٹی اس...
04/04/2022

آئین کا آرٹیکل 69(2) سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر پر لاگو ہوتا ہے یعنی نیشنل اسمبلی کنڈکٹ آف بزنس 2007 کے تحت سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر اسمبلی کے سربراہ ہوتے ہیں لہذا انکا کوئی بھی حکم عدالت میں چیلنج نہیں ہوسکتا۔
Mr. Lawyer

💯
03/04/2022

💯

Ramadan Mubarak to All
02/04/2022

Ramadan Mubarak to All

Civil Procedure Code,1908Generated by Mr. LawyerPage number mentionedIf any Query regarding any subjects of Law So Conta...
26/03/2022

Civil Procedure Code,1908
Generated by Mr. Lawyer
Page number mentioned
If any Query regarding any subjects of Law So Contact Me.

14/03/2022

برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ کار

آج کی اس جدید دنیا میں ایک انسان کا کاغذی ریکارڈ اس کی پیدائش سے لیکر موت تک رکھا جاتا ہے. پیدا ہونے کے بعد جو سب سے پہلا ریکارڈ کسی کا مرتب کیا جاتا ہے وہ ہوتا ہے اس کی پیدائش کا اندراج جس کو پیدائشی سرٹیفکیٹ یا Birth certificate بھی کہا جاتا ہے. پاکستانی قانون کے مطابق بھی پیدا ہونے والے بچے کا ریکارڈ اندراج کروانا لازمی ہے. یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کی پیدائش کا انداج متعلقہ یونین کونسل میں کروائیں۔

پیدائش/برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کا طریقہ کار؟

پاکستانی قانون کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد 60 دن کے اندر والد یا والدہ اور اگر دونوں ماں باپ نہیں ہیں تو بچے کا سرپرست متعلقہ یونین کونسل میں بچے کی پیدائش کا انداج کروائے گا۔ اس دوران مندرجہ ذیل ڈاکومنٹس کی ضرورت ہوگی۔
والدین کا شناختی کارڈ اور اگر بچہ ہسپتال میں پیدا ہوا ہے تو ہسپتال کی جاری کردہ رسید۔ یونین کونسل سے فارم ملے گا جس کو پر کرنے، سائن انگوٹھے لگانے کے بعد اسی یونین کونسل میں جمع کروا دیں گے جس کے 3 دن بعد نادرا کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ آپکو مل جائے گا۔ اس کی فیس 100 روپے ہے جو آپ یونین کونسل میں جمع کروائیں گے۔ یاد رہے اگر پیدائش کا وقت 60 دن سے زائد اور 7 سال کے اندر ہے تو اس صورت میں شناختی کارڈ کے ساتھ بیان حلفی، دو گواہان کے سائن وغیرہ کروانے کے بعد والدین متعلقہ یونین کونسل میں جمع کروائیں گے اور متعلقہ یونین کونسل 7 دن کے اندر سرٹیفکیٹ جاری کر دے گی اور اگر بچے کی عمر 7 سال سے زائد ہو چکی ہے اور پیدائش انداج نہیں کروایا تو اس صورت میں والدین متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو درخواست برائے انداج پیدائش دیں گے. اسسٹنٹ کمشنر رہائشی مکان کی تصدیق کرے گا۔ اس کے ساتھ متعلقہ سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر کو کہے گا کہ بچے کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ وغیرہ کریں۔ میڈیکل ٹیسٹ بچے کی صیح عمر کے تعین کے لیے کروائے جاتے ہیں کہ کہیں والدین بچے کی عمر کم یا زیادہ تو نہیں لکھوا رہے تو میڈیکل ہونے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر متعلقہ یونین کونسل کو حکم دے دے دیتا ہے کے وہ بچے کی پیدائش کا انداج کریں۔

اگر پاکستانی میاں بیوی کا بچہ باہر ملک پیدا ہوا تو اس کا پاکستان میں اندراج کیسے ہوگا؟

باہر ملک مقیم پاکستانی والدین متعلقہ پاکستانی قونصلیٹ کو درخواست دیں گے کہ وہ انکی رہائشی یونین کونسل میں بچے کی پیدائش کا اندراج کروائیں اور قونصلیٹ درخواست پر عمل کرتے ہوئے پاکستان میں موجود یونین کونسل کو حکم دے گا کے برتھ سرٹیفکیٹ جاری کریں جس میں بچے کا والدین کا نام پتہ اور دیگر معلومات ہوں گی۔
Advocate Mahad Khan

13/03/2022

اندراج FIR میں ہر شک کا فائدہ ملزم کو ملے گا ابتدائی تفتیش یا انکوائری کے بعد درج کردہ FIR مشکوک تصور ہو گی۔
PLD 2019 SC 64
اگر FIR جاۓ وقوعہ پر یا تھانہ سے باہر درج کرنا بیان کیا جاۓ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ FIR ابتدائی تفتیش کے بعد درج کی گئی ہے اور واقعات FIR مشکوک تصور ہوں گے۔
2017 PCrLJ 1607
دفعہ 377 ت پ کیس میں محض اندراج FIR میں تاخیر کی بناء پر ملزم بریت کا حقدار نہ ہو گا۔
2013 PCrLJ 800
کسی وکیل یا کلرک سے لکھوائی گئی FIR مشکوک تصور ہو گئی ۔
2005 PCrLJ 113
مدعی نے تسلیم کیا کہ اس کا بیان تھانہ میں پہلے خالی کاغذ پر لکھا گیا پھر اس بیان کے مطابق FIR درج کی گئی۔ پراسیکیوشن کیس مشکوک تصور ہو گا
2013 PCrLJ 1847

10/03/2022

اگر ملزم کوئی Specific Plea لے، تو اسے بذریعہ شہادت ثابت کرنا بھی ملزم کی ذمہ داری ہے.
(2019 YLR 59).
جرم جتنا سنگین ہو گا، اسے ثابت کرنے کے لیے، اتنی ہی اعلیٰ سطح کی شہادت اور ثبوت درکار ہو گا.
(2018 YLR 469).
اگر Defence Plea کو دورانِ شہادت یا بیان ملزم زیر دفعہ 342 ض ف میں، put نہ کیا جائے ،تو اسکی کوئی ویلیو نہ ہے.
(2008 YLR 2910).
اگر پراسیکیوشن، اپنا کیس ثابت نہ کر سکے، تو ملزم کے قتل کرنا، تسلیم کرنے کے باوجود، ملزم کو بری کیا جا سکتا ہے.
(2017 YLR 236).
ڈیفنس کی کوئی کمزوری، پراسیکیوشن کو فائدہ نہ دے گی، بلکہ اپنے کیس کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنا، پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے.
(2017 PCrLJ 114).

08/03/2022

‏‏ معیار ہونا چاہیے انسان میں ⚜️
غرور تکبّر تو دو ٹکے کے لوگ بھی کرتے ہیں.💯✌️

07/03/2022

ایشو فریم کرنے اور شہادت گواہان قلمبند کرنے سے قبل دعویٰ ہرجانہ زیر آرڈر 7 رول 11 ض د خارج نہ ہو گا۔
2021 MLD 354 (c)
محض کسی کے خلاف FIR درج کروانے کی بناء پر Malacious prosecution کا اطلاق نہ ہو گا بلکہ اس کے لیے بدنیتی کا ثابت کرنا ضروری ہے
PLJ 2017 SC (AJK) 129
سول کورٹ میں بدنیتی کی بناء پر کیس کرنے کی صورت میں بھی دعویٰ ہرجانہ قابل رواں ہے۔
2020 MLD 14 (b)
2016 SCMR 1841
اگر ملزم کو شک کا فائدہ دے کر بری کیا جاۓ تو Malcious Prosecution کا اطلاق نہ ہو گا
PLJ 2017 SC (AJK) 129
مدعی نہ تو کبھی گرفتار ہوا تھا نہ سماعت مقدمہ ہوئی بلکہ اسے ڈسچارج کر دیا گیا تھا Damages Suit میں وکیل کی فیس کی رسید یا وکیل کا نام تک نہ لکھا گیا تھا نہ ہی وکیل کو بطور گواہ پیش کیا گیا ایسی کوئی شہادت نہ تھی کہ مدعی کے خلاف بلاوجہ مقدمہ درج کروایا گیا تھا دعویٰ ہرجانہ خارج شد۔
2015 CLC 150

Address

Haji Wali Muhammad Arcade Saddar Cantt Hyderabad
Hyderabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 22:00
Tuesday 09:00 - 22:00
Wednesday 09:00 - 22:00
Thursday 09:00 - 23:00
Friday 09:00 - 14:00

Telephone

+923120090874

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mr. Lawyer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Mr. Lawyer:

Share