Fakhar Abbas Akbar Law House

Fakhar Abbas Akbar Law House "Fakhar Abbas Akbar Law House"
Whatsapp #+92 3009135281
A Registered Law Firm
Registration No 32341
Office Adress:
Jaspal Arcade G 8/4 Islamabad

معزور افراد کیلیے خصوصی عدالتوں کا قیام
11/09/2026

معزور افراد کیلیے خصوصی عدالتوں کا قیام

🔥سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوام الناس کی سہولت اور مفادِ عامہ کے پیشِ نظر اپنے فیصلوں اور احکامات کی ڈیجیٹل مصدقہ نقول (D...
11/09/2026

🔥سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوام الناس کی سہولت اور مفادِ عامہ کے پیشِ نظر اپنے فیصلوں اور احکامات کی ڈیجیٹل مصدقہ نقول (Digital Certified Copies) حاصل کرنے کی سہولت فراہم کر دی ہے🔥
سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود PFC (Public Facilitation Centre) Portal کے ذریعے کوئی بھی شخص سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلے یا حکم کی Certified Copy کے لیے آن لائن درخواست دے سکتا ہے اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق اس کی ڈیجیٹل مصدقہ نقل حاصل کر سکتا ہے

🔥خیبر پختونخوا حکومت نے دورانِ ملازمت فوت یا معذور ہونے والے سرکاری ملازمین کے بچوں کی بھرتی کے کوٹے سے متعلق اہم پالیسی...
10/09/2026

🔥خیبر پختونخوا حکومت نے دورانِ ملازمت فوت یا معذور ہونے والے سرکاری ملازمین کے بچوں کی بھرتی کے کوٹے سے متعلق اہم پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے شادی شدہ بیٹیوں پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں🔥

حکومتِ خیبر پختونخوا نے فوت شدہ یا معذور سرکاری ملازمین کی شادی شدہ بیٹیوں کو کوٹے کے تحت سرکاری ملازمت کا اہل قرار دے دیا اور سابقہ تمام ہدایات واپس لے لی گئی ہیں۔

محکمہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ 2020 اور 2023 کے سابقہ مراسلے منسوخ کر دیے گئے ہیں، سابقہ قوانین میں شادی شدہ بیٹی کے لیے شوہر سے علیحدگی اور مالی انحصار جیسی سخت شرائط عائد تھیں۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 17 مارچ 2025 کے حکم کی روشنی اور محکمہ قانون کی قانونی رائے کے بعد کیا گیا ہے۔

🔥اگر کسی امیدوار کو باقاعدہ میرٹ کے عمل کے بعد Waiting List میں رکھا گیا ہو اور اس فہرست کی مدت کے دوران متعلقہ آسامی خا...
10/09/2026

🔥اگر کسی امیدوار کو باقاعدہ میرٹ کے عمل کے بعد Waiting List میں رکھا گیا ہو اور اس فہرست کی مدت کے دوران متعلقہ آسامی خالی ہوجائے، تو سرکاری محکمے کی غیر ضروری تاخیر امیدوار کے جائز قانونی توقع (Legitimate Expectation) کے حق کو ختم نہیں کرسکتی🔥

پنجاب پبلک سروس کمیشن نے Food Grains Supervisor (BS-09) کی 22 آسامیوں کے لیے اشتہار جاری کیا۔ درخواست گزار تمام مراحل مکمل کرنے کے بعد Waiting List میں نمبر 2 پر تھا۔

بعد ازاں منتخب امیدواروں میں سے دو نے ملازمت جوائن نہیں کی، جس کے نتیجے میں Waiting List کی مدت کے دوران دو آسامیاں خالی ہوگئیں۔ درخواست گزار نے بروقت اپنی تقرری کے لیے سفارش کی درخواست دی، جبکہ متعلقہ محکمہ نے بھی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کی ضرورت ظاہر کی۔

لیکن انتظامی محکمہ نے تاخیر کرتے ہوئے کمیشن سے صرف ایک امیدوار کی سفارش طلب کی۔ بعد میں جب درخواست گزار کے لیے بھی سفارش مانگی گئی تو کمیشن نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ Waiting List کی مدت ختم ہوچکی ہے اور نئی بھرتی ضروری ہے۔

عدالت نے اس طرزِ عمل کو درست نہیں سمجھا اور درخواست منظور کرلی۔

عدالت کا تفصیلی اصول

Waiting List محض ایک رسمی فہرست نہیں

عدالت نے قرار دیا کہ جب امیدوار مقررہ طریقہ کار سے گزر کر Waiting List میں شامل ہو اور اس فہرست کی مدت کے دوران متعلقہ آسامی خالی ہوجائے تو امیدوار کو اس خالی آسامی کے لیے غور کیے جانے کی جائز توقع حاصل ہوتی ہے۔

سرکاری محکمے کی تاخیر امیدوار کا حق ختم نہیں کرسکتی

اس معاملے میں دو منتخب امیدواروں نے ملازمت جوائن نہیں کی، جس سے دو آسامیاں خالی ہوگئیں۔ درخواست گزار نے بروقت سفارش کے لیے درخواست دی، لیکن متعلقہ انتظامی محکمہ نے بروقت کارروائی نہیں کی۔

عدالت نے واضح کیا کہ محکمے کی اپنی تاخیر یا غیر ضروری کارروائی سے ایک اہل امیدوار کو اس کے جائز حقِ غور سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

صرف ایک امیدوار کی سفارش مانگنا غیر منصفانہ تھا

جب دو آسامیاں خالی ہوچکی تھیں تو انتظامی محکمہ کی جانب سے صرف ایک امیدوار کی سفارش طلب کرنا بلاجواز اور من مانی قرار پایا۔

عدالت کے مطابق اس اقدام کی کوئی قانونی وجہ پیش نہیں کی گئی کہ دوسری خالی آسامی کے لیے درخواست گزار کو بروقت کیوں زیرِ غور نہیں لایا گیا۔

Legitimate Expectation کا اصول

یہ فیصلہ Legitimate Expectation کے اصول کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

یعنی جب کسی امیدوار کو باقاعدہ عمل کے بعد Waiting List میں رکھا گیا ہو اور اس کی مدت کے اندر آسامی دستیاب ہوجائے تو اسے کم از کم قانون کے مطابق غور کیے جانے کی جائز توقع حاصل ہوتی ہے۔

Waiting List کا مقصد ہی متاثر نہیں کیا جاسکتا

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ Waiting List بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ اگر منتخب امیدوار ملازمت اختیار نہ کرے یا آسامی خالی ہوجائے تو اہل امیدوار کو قانون کے مطابق موقع دیا جاسکے۔

اگر متعلقہ حکام تاخیر کریں، فہرست کی مدت ختم ہونے دیں اور پھر یہ کہیں کہ Waiting List ختم ہوچکی ہے، تو اس طرح Waiting List کا بنیادی مقصد ہی ناکام ہوجائے

🔥پنجاب بھر میں زمینوں کی تقسیم کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی، اب اراضی کی تقسیم کا سارا عمل ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم (RCM...
08/09/2026

🔥پنجاب بھر میں زمینوں کی تقسیم کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی، اب اراضی کی تقسیم کا سارا عمل ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم (RCMS) کے تحت ہوگا!🔥
زمین کی تقسیم کے پرانے اور پیچیدہ طریقوں سے جان چھڑائیں، اب شفاف اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
زمین کی تقسیم کے تنازعات اب عدالتوں میں زیادہ دنوں تک نہیں رکیں گے، کیونکہ حکومت نے تمام ڈسٹرکٹ کلیکٹرز کو سخت احداف جاری کر دیے ہیں۔

زمین کی تقسیم کے مقدمات اب قانون کے مطابق اور ڈیجیٹل پورٹل (PULSE) کے تحت چلائے جائیں گے۔
کوئی بھی پٹواری یا فیلڈ عملہ اب مرضی یا ضابطہ فوجداری/ریونیو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائل آگے نہیں بڑھا سکے گا۔

ناقص نقشہ جات اور بغیر نوٹس کارروائیوں کا اب قانونی طور پر خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
فریقین کو صفائی اور اعتراضات جمع کرانے کا مکمل اور شفاف موقع فراہم کیا جائے گا۔

سالم مالک کی کھیوٹ یا واحد ملکیت کو غیر قانونی طور پر تقسیم کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے
۔
حتمی ڈگری کے بعد وارنٹ دخل اور عمل درآمد کے ذریعے درست قبضہ منتقل کیا جائے گا۔

پلس (PULSE) کا نفاذ: سیکشن 135-B کے تحت تمام درخواستیں اب آر سی ایم ایس (RCMS) پر درج ہوں گی۔

شفاف نوٹس کا طریقہ: فریقین کو 7 دن کے اندر اندر ڈیجیٹل ذرائع، ایس ایم ایس، اور اخبارِ عام کے ذریعے نوٹس جاری ہوں گے۔

نقشہ جات کی تیاری: نقشہ الف (ملکیت)، نقشہ ب (طریقہ تقسیم)، اور نقشہ ج (تتمہ شجرہ) کی تیاری لازمی قرار دی گئی ہے۔

موقع پر قبضہ کی اہمیت: تقسیم کے دوران موقع پر موجود حقیقی قبضے کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ فریقین میں تنازعات نہ بڑھیں۔

اصولِ قانون کا نفاذ: پٹیشنر یا مدعی کی جانب سے قانون کی رو سے تمام شرائط پوری نہ کرنے پر درخواست مسترد ہو سکتی تھی، جس کا سدباب اب اس نئی گائیڈ لائن سے کیا گیا ہے۔

پلس (PULSE) پروجیکٹ کے فوائد: زمینداروں اور کسانوں کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا حصول اب تیز اور آسان بنا دیا گیا ہے۔
دفاعی فریقین کے حقوق کا تحفظ: نوٹس کی موصولی کے بعد ڈیجیٹل طریقے سے یا متعلقہ ریونیو آفیسر (تحصیلدار/نائب تحصیلدار) کے سامنے جواب اور اعتراضات داخل کرانے کا پورا قانونی حق دیا گیا ہے۔

اعتراضات کا اندراج: فریقِ مقابل یا رسپانڈنٹ کو نقشہ جات کا معائنہ کرنے اور بروقت اعتراضات جمع کرانے کا پورا موقع ملے گا۔

منافع / ہرجانے کا تخمینہ (Mesne Profits): تقسیم کے دوران اگر یہ بات سامنے آئے کہ کسی ایک فریق نے اپنے حصے سے زائد زمین پر فصل کاشت کی ہے، تو متاثرہ فریق کو مناسب منافع یا معاوضہ دلایا جائے گا۔

🔥 بورڈ آف ریونیو پنجاب کا بڑا اور اہم فیصلہ! 🔥نائب تحصیلداروں کے غیر قانونی اختیارات کا خاتمہ — اب قانون گو نہ انتقال کر...
08/09/2026

🔥 بورڈ آف ریونیو پنجاب کا بڑا اور اہم فیصلہ! 🔥
نائب تحصیلداروں کے غیر قانونی اختیارات کا خاتمہ — اب قانون گو نہ انتقال کر سکیں گے اور نہ تقسیم!

پنجاب حکومت کے بورڈ آف ریونیو نے تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سخت ترین ہدایت جاری کر دی ہے:

🚨غیر قانونی چارج ختم: قانون گو (Kanungos) کو دیا گیا نائب تحصیلداری کا اضافی چارج، لُک آفٹر چارج یا اون پے سکیل فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔

⚖️ قانونی اختیار کا فقدان: بورڈ آف ریونیو کے مطابق ان افسران کے پاس لینڈ ریونیو ایکٹ 1967ء کے تحت اسسٹنٹ کلیکٹر (درجہ اول و دوم) کے اختیارات نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں پاس ہونے والے انتقال (Mutations) اور تقسیم (Partition Cases) قانونی و تکنیکی لحاظ سے کالعدم اور غیر آئینی تصوّر ہوتے ہیں۔

📌 نیا حکم: نائب تحصیلدار کی خالی اسامیاں صرف PPSC اور DPC کے ذریعے رولز 2009ء کے تحت پُر کی جائیں گی۔ عارضی طور پر صرف سینئر ترین قانون گو کو کرنٹ چارج (Current Charge) رولز 1974ء کے تحت ہی دیا جا سکے گا-

🚨ملازمت سے برطرفی کے بعد بحال ہونے والے ملازم کو بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات سے محض اس بنیاد پر محروم نہیں کیا ج...
07/09/2026

🚨ملازمت سے برطرفی کے بعد بحال ہونے والے ملازم کو بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات سے محض اس بنیاد پر محروم نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے دورانِ معطلی یا برطرفی ڈیوٹی سرانجام نہیں دی🚨

لاہور ہائیکورٹ کی معزز جج محترمہ جسٹس شیرین عمران نے بابر مسیح بنام کینٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسر، سرگودھا و دیگر کے مقدمہ میں مورخہ 3 ستمبر 2026ء کو اہم فیصلہ جاری کیا۔

درخواست گزار کو 6 اکتوبر 2011ء کو صفائی کارکن کے طور پر ملازمت پر مقرر کیا گیا تھا اور اس کی ملازمت 30 دسمبر 2011ء کو مستقل کر دی گئی۔ بعد ازاں اسے ایک فوجداری مقدمہ میں ملوث کیے جانے کے باعث گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں رکھا گیا، جس کی وجہ سے وہ اپنی ڈیوٹی سرانجام نہ دے سکا۔

بعد ازاں درخواست گزار کو مذکورہ فوجداری مقدمہ میں عدالت سے بری کر دیا گیا۔ اس کے بعد محکمانہ اپیل منظور کرتے ہوئے اسے 26 نومبر 2012ء سے ملازمت پر بحال کر دیا گیا، تاہم اس عرصہ کی بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات دینے سے انکار کرتے ہوئے غیرحاضری کے عرصہ کو غیر معمولی رخصت قرار دے دیا گیا۔

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا اہم اصول

معزز عدالت نے قرار دیا کہ جب محکمانہ اتھارٹی خود یہ تسلیم کر چکی ہو کہ ملازم کی غیرحاضری اس کے قابو سے باہر حالات کی وجہ سے ہوئی اور یہ غیرحاضری دانستہ نہیں تھی، تو بقایا مالی مراعات کے دعوے پر منصفانہ، عادلانہ اور معقول انداز میں غور کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں واضح کیا کہ کسی ملازم کی غیر قانونی برطرفی کے بعد بحالی کی صورت میں بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات کا دیا جانا عمومی اصول ہے، جبکہ انکار ایک استثنائی عمل ہے۔

اگر محکمہ بقایا مالی مراعات سے انکار کرنا چاہتا ہے تو اسے اس انکار کے لیے واضح، ٹھوس اور قابلِ قبول وجوہات پیش کرنا ہوں گی۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملازم نے اس عرصہ میں عملی طور پر کوئی کام نہیں کیا۔

📌 اگر ملازم کسی اور جگہ ملازمت نہیں کر رہا تھا؟

عدالت نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ اگر محکمہ کوئی ایسا ثبوت پیش نہ کر سکے کہ ملازم نے برطرفی اور بحالی کے درمیانی عرصہ میں کہیں اور باقاعدہ آمدن حاصل کی یا ملازمت اختیار کی، تو محض ڈیوٹی سرانجام نہ دینے کی بنیاد پر اسے بقایا مالی مراعات سے محروم کرنا کافی جواز نہیں ہے۔

⚖️ غیر معمولی رخصت اور بقایا تنخواہوں میں فرق

عدالت نے واضح کیا کہ برطرفی اور بحالی کے درمیان عرصہ کو غیر معمولی رخصت قرار دینا اور اس عرصہ کی بقایا تنخواہوں کا فیصلہ کرنا دو الگ معاملات ہیں۔

غیر معمولی رخصت کا مقصد سروس ریکارڈ میں ملازمت کا تسلسل برقرار رکھنا ہو سکتا ہے تاکہ ملازم کی پنشن، ترقی، سنیارٹی اور دیگر ملازمتی حقوق متاثر نہ ہوں، لیکن اسے محض اس بنیاد پر بقایا تنخواہوں سے محرومی کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔

🏛️ عدالت کا حتمی حکم

لاہور ہائیکورٹ نے بقایا مالی مراعات سے انکار کی حد تک مورخہ 13 دسمبر 2024ء اور 10 جنوری 2025ء کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا اور معاملہ متعلقہ اتھارٹی کو واپس بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ بقایا مالی مراعات کے معاملہ پر قانون اور اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں نئے سرے سے فیصلہ کیا جائے۔

متعلقہ اتھارٹی کو یہ فیصلہ مصدقہ عدالتی فیصلے کی وصولی سے دو ماہ کے اندر کرنے کی ہدایت کی گئی۔

🔹 مختصر قانونی اصول

اگر کسی ملازم کو غیر قانونی طور پر ملازمت سے نکالنے کے بعد بحال کر دیا جائے، اور اس کی غیرحاضری اس کے قابو سے باہر حالات کی وجہ سے ہوئی ہو، تو صرف اس بنیاد پر کہ اس نے اس عرصہ میں ڈیوٹی سرانجام نہیں دی، اسے بقایا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

🚨سپریم کورٹ آف پاکستان کا کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے اہم فیصلہ🚨سپریم کورٹ آف پاکستان نے کنٹریکٹ ملازمین کی مس...
06/09/2026

🚨سپریم کورٹ آف پاکستان کا کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے اہم فیصلہ🚨

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے ایک نہایت اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جب قانون کسی کنٹریکٹ ملازم کو مقررہ شرائط پوری ہونے پر مستقل ملازم تصور کرتا ہے تو محکمہ انتظامی تاخیر یا کسی مصنوعی رکاوٹ کے ذریعے اس کے قانونی حق کو روک نہیں سکتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ قانون کے ذریعے پیدا ہونے والا یہ حق قانون کے عمل سے خود بخود نافذ ہوتا ہے اور متعلقہ محکمہ اس پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہے۔

مقدمے کے حقائق

اس مقدمے میں درخواست گزار پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کمیونٹی اوپتھلمولوجی (PICO)، پشاور سے متعلق معاملہ تھا، جبکہ جواب دہندگان نصیرہ بیگم اور ایک دوسرے ملازم نے اپنی مستقلی کے لیے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کیا تھا۔

دونوں ملازمین کو 26 دسمبر 2001 کو تعینات کیا گیا تھا اور وہ سال 2001 سے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، پشاور میں بغیر کسی وقفے کے مسلسل اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

بعد ازاں حکومتِ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے 3 جون 2010 کو ایک اعلامیہ جاری کیا، جس کے ذریعے متعلقہ طبی و صحت کے اداروں سے متعلق قانون کا اطلاق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کمیونٹی اوپتھلمولوجی پر کیا گیا اور یہ ادارہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے انتظامی کنٹرول میں آ گیا۔

2006 کی اہم قانونی ترمیم

اصل قانون کے تحت ادارے کے ملازمین کو کنٹریکٹ بنیادوں پر مقرر کیا جاتا تھا اور انہیں سول سرونٹ یا سرکاری ملازم تصور نہیں کیا جاتا تھا۔

تاہم 2006 میں قانون میں اہم ترمیم کی گئی۔

ترمیم شدہ قانون میں یہ اصول متعارف کرایا گیا کہ اگر کوئی شخص مقررہ طریقہ کار کے مطابق کسی عہدے یا سروس کے لیے منتخب ہو لیکن اسے کنٹریکٹ بنیادوں پر مقرر کیا گیا ہو تو اسے قانون میں مقررہ وقت یا اس کی مسلسل تقرری کی تاریخ، جو بھی بعد میں ہو، سے متعلقہ ادارے میں مستقل بنیادوں پر مقرر شدہ تصور کیا جائے گا۔

مزید برآں ایسے ملازم کو تمام مقاصد کے لیے متعلقہ ادارے کا مستقل ملازم تصور کیا گیا، البتہ پنشن اور گریجویٹی کے حوالے سے قانون میں مخصوص استثنا رکھا گیا تھا۔

ملازمین کا مؤقف

ملازمین کا مؤقف تھا کہ اگرچہ ان کی ابتدائی تقرری سال 2001 میں کنٹریکٹ بنیادوں پر ہوئی تھی، لیکن بعد میں 2006 کی ترمیم کے ذریعے قانون نے انہیں مستقل ملازم تصور کرنے کا واضح قانونی حق فراہم کر دیا۔

اسی قانونی بنیاد پر انہوں نے متعلقہ ٹربیونل سے اپنی مستقلی کا حق طلب کیا۔

ٹربیونل کا فیصلہ

خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹربیونل نے قانون میں کی گئی 2006 کی ترمیم کو مدنظر رکھتے ہوئے ملازمین کی اپیل منظور کر لی اور انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کمیونٹی اوپتھلمولوجی، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، پشاور کے مستقل ملازمین تصور کرنے کی ہدایت جاری کی۔

اس فیصلے کے خلاف ادارے کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ میں محکمہ کا مؤقف

سپریم کورٹ کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ متعلقہ افراد کنٹریکٹ ملازمین تھے، اس لیے ان کا معاملہ آجر اور ملازم کے تعلق سے متعلق تھا اور انہیں اپنے حق کے حصول کے لیے سول عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔

تاہم عدالت کے سامنے یہ بھی تسلیم شدہ امر تھا کہ قانون میں ترمیم کے ذریعے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا قانونی فائدہ فراہم کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کی اہم آبزرویشنز

سپریم کورٹ نے متعلقہ قانون اور 2006 کی ترمیم کا تفصیلی جائزہ لیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ترمیم شدہ قانون میں استعمال ہونے والا لفظ "تصور کیا جائے گا" ایک اہم قانونی اثر رکھتا ہے۔ جب قانون کسی شخص کو کسی مخصوص قانونی حیثیت میں تصور کرتا ہے تو اس قانونی مفروضے کو اس کے مکمل قانونی نتائج کے ساتھ نافذ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ قانون ساز ادارے نے جب کنٹریکٹ ملازم کو قانون کے تحت مستقل تصور کیا تو یہ قانون سازوں کا واضح قانونی حکم تھا۔ اس حکم کو محض انتظامی کارروائی یا غیر ضروری رکاوٹوں کے ذریعے بے اثر نہیں کیا جا سکتا۔

محکمہ انتظامی تاخیر کے ذریعے حق نہیں روک سکتا

سپریم کورٹ نے نہایت اہم اصول بیان کرتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ محکمہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ ضروری کارروائی مکمل کرتا اور قانون کے مطابق ملازمین کو ان کا حق فراہم کرتا۔

اگر محکمہ قانونی حکم کے باوجود کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت کو مستقل ملازمت میں تبدیل کرنے سے انکار کرتا ہے تو یہ قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی مستقلی کا قانونی عمل شروع ہو گیا تھا، اس لیے محکمہ انتظامی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر کر کے ملازم کے قانونی حق کو مؤخر نہیں کر سکتا تھا۔

ملازمین کے حق میں بنائے گئے قوانین کی تشریح

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب کوئی قانون ملازمین یا عوام کے فائدے کے لیے بنایا گیا ہو تو اس کی تشریح اس انداز میں کی جانی چاہیے جس سے قانون کا اصل مقصد حاصل ہو۔

ایسے قوانین کی تشریح کرتے ہوئے عدالتوں کو محض تنگ اور محدود تشریح اختیار نہیں کرنی چاہیے جس کے نتیجے میں قانون کے ذریعے دیا گیا فائدہ ہی ختم ہو جائے۔

عدالت نے قرار دیا کہ فائدہ مند قانونی شق کا مقصد حقوق، مراعات یا مالی فوائد فراہم کرنا ہو تو قانون کی تشریح ایسی ہونی چاہیے جو اس مقصد کو آگے بڑھائے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ مذکورہ ترمیم نہ صرف ملازمین کے لیے فائدہ مند تھی بلکہ اصلاحی نوعیت کی بھی تھی، جس کا مقصد سابقہ قانون کی خامیوں اور مشکلات کو دور کرنا اور ملازمین کے حقوق کو مؤثر بنانا تھا۔

مساوی سلوک اور ملازمین کے حقوق

سپریم کورٹ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، آرٹیکل 3 اور آرٹیکل 38 کے اصولوں کا بھی حوالہ دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری اہلکار قانون کے مطابق، نیک نیتی کے ساتھ اور مساوی سلوک کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے کے پابند ہیں۔

ریاست پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے، روزگار اور مناسب ذریعۂ معاش کی سہولیات فراہم کرے اور آجر و ملازم کے حقوق کے درمیان منصفانہ توازن قائم کرے۔

سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تمام قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی، غیر قانونی پن یا ایسی خرابی موجود نہیں جس کی بنیاد پر اس فیصلے کو ختم کیا جا سکے۔

چنانچہ سپریم کورٹ نے Civil Petition No. 578-P of 2024 خارج کر دی اور Leave to Appeal سے انکار کر دیا۔

⚖️ فیصلے کا اہم قانونی اصول

جب قانون کسی کنٹریکٹ ملازم کو مقررہ شرائط پوری ہونے پر مستقل ملازم تصور کرتا ہے تو اس کا حق قانون کے عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ محکمہ انتظامی تاخیر، غیر ضروری کارروائی یا کسی مصنوعی رکاوٹ کے ذریعے ملازم کو اس قانونی حق سے محروم نہیں کر سکتا۔

یہ فیصلہ ان تمام کنٹریکٹ ملازمین کے لیے نہایت اہم قانونی رہنمائی فراہم کرتا ہے جن کے بارے میں کسی قانون یا قانونی ترمیم کے ذریعے مستقلی کا حق پیدا ہوا ہو۔

محمد اکرم کی میڈیکل ریٹائرمنٹ واپس لینے کا حکم کاللاہور ہائیکورٹ نے محمد اکرم بنام صوبہ پنجاب و دیگر کے مقدمہ میں قرار د...
06/09/2026

محمد اکرم کی میڈیکل ریٹائرمنٹ واپس لینے کا حکم کال
لاہور ہائیکورٹ نے محمد اکرم بنام صوبہ پنجاب و دیگر کے مقدمہ میں قرار دیا ہے کہ جب کسی سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ حکم جاری ہو جائے اور اس کے نتیجے میں ملازم کے حق میں قانونی حقوق پیدا ہو جائیں تو بعد ازاں محض کسی نئی وضاحت کی بنیاد پر ایسے حکم کو واپس لے کر پہلے سے پیدا شدہ حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے۔

محمد اکرم کو 30.06.2021 کے حکم کے ذریعے 18.06.2021 سے میڈیکل بنیادوں پر ریٹائر کیا گیا تھا، جبکہ بعد میں محکمہ نے یہ حکم واپس لے لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پہلے حکم کے بعد ملازم کے حق میں قابلِ تحفظ قانونی حقوق پیدا ہو چکے تھے۔

عدالت نے Locus Poenitentiae کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اتھارٹی کو اپنے حکم سے رجوع کرنے کا اختیار ضرور حاصل ہے، لیکن جب اس حکم پر عمل ہو چکا ہو اور اس کے نتیجے میں کسی شخص کے حقوق پیدا ہو جائیں تو ان حقوق کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسا حکم واپس نہیں لیا جا سکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ بعد میں جاری ہونے والی Finance Department کی وضاحت کو Retrospective Effect نہیں دیا جا سکتا، خصوصاً جب اس میں ماضی سے اطلاق کی کوئی واضح ہدایت موجود نہ ہو۔

مزید برآں، محمد اکرم کو سابقہ ریٹائرمنٹ آرڈر واپس لینے سے پہلے Show Cause Notice یا مؤثر موقعِ سماعت فراہم نہیں کیا گیا، جو Audi Alteram Partem اور اصولِ فطری انصاف کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت کا حتمی حکم

لاہور ہائیکورٹ نے 24.06.2022 کا impugned order کالعدم قرار دے دیا اور 30.06.2021 کا سابقہ ریٹائرمنٹ آرڈر بحال کر دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہکنٹریکٹ سروس سینیارٹی کے لیے شمار نہیں ہوگی، تاہم پنشن کے لیے شمار ہو سکتی ہےسپریم کور...
06/09/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ

کنٹریکٹ سروس سینیارٹی کے لیے شمار نہیں ہوگی، تاہم پنشن کے لیے شمار ہو سکتی ہے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی سول سرونٹ کی ابتدائی کنٹریکٹ سروس کو سینیارٹی کے تعین کے لیے شمار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ریگولر تقرری یا ریگولرائزیشن کو Fresh Appointment تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم، کنٹریکٹ سروس کی مدت پنشن کے فوائد کے لیے شمار کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ سول سروس ریگولیشنز (CSR) کی متعلقہ شرائط پوری ہوتی ہوں اور اس کے بعد بلا تعطل ریگولر سروس کی گئی ہو۔

Address

Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 13:00
Saturday 09:00 - 18:00

Telephone

+923009135281

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fakhar Abbas Akbar Law House posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Fakhar Abbas Akbar Law House:

Shortcuts

Share