24/09/2026
⚖️ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ — PLD 2026 SC 91
Dr. Seema Hanif Khan v. Waqas Khan and others
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم خاندانی مقدمے میں واضح کیا کہ تنسیخِ نکاح (Dissolution of Marriage) اور خلع (Khula) دو الگ قانونی remedies ہیں، اور Family Court کسی خاتون کے واضح رضامندی کے بغیر اس کے دعوائے تنسیخِ نکاح کو ازخود خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔
اس فیصلے کے چند اہم قانونی نکات:
1️⃣ تنسیخِ نکاح کو زبردستی خلع میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا
اگر بیوی Dissolution of Marriage کے لیے Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 کے کسی statutory ground پر دعویٰ کرتی ہے، تو عدالت کو پہلے اس ground کا جائزہ لینا ہوگا۔
صرف اس بنیاد پر کہ عورت شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، اس کے دعوے کو خود بخود خلع قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ خلع بیوی کی voluntary consent اور autonomy پر مبنی remedy ہے۔
2️⃣ حقِ مہر صرف خلع کی صورت میں واپس کرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے
موجودہ کیس میں Family Court نے خلع کی ڈگری دیتے ہوئے خاتون کو اس کے دَور، جس میں پلاٹ اور سونا شامل تھا، واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ ختم کرتے ہوئے نکاح کو شوہر کی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسری شادی کی بنیاد پر dissolve کیا، لہٰذا خاتون کو اپنا دَور واپس کرنے کا پابند نہیں کیا گیا۔
3️⃣ دوسری شادی اور Section 6 MFLO
اس کیس میں شوہر نے پہلی شادی برقرار ہونے کے دوران دوسری شادی کی اور نہ پہلی بیوی سے اجازت حاصل کی اور نہ Arbitration Council کی اجازت حاصل کی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اس صورتِ حال نے Section 6, Muslim Family Laws Ordinance, 1961 کی خلاف ورزی کی اور یہ Section 2(ii-a), Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 کے تحت نکاح کی dissolution کے لیے کافی ground تھا۔
4️⃣ Cruelty صرف جسمانی تشدد کا نام نہیں
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ cruelty کا جائزہ صرف میڈیکل رپورٹ، FIR یا جسمانی زخم کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔
ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی اذیت بھی متعلقہ حالات میں cruelty کا حصہ بن سکتی ہے۔ عدالت کو کیس کے تمام حالات، خاتون کی گواہی اور surrounding circumstances کو مجموعی طور پر دیکھنا ہوگا۔
5️⃣ Family cases میں "Balance of Probabilities"
DMMA کے تحت dissolution کے مقدمات میں civil standard of proof یعنی balance of probabilities لاگو ہوتا ہے۔
سادہ الفاظ میں عدالت یہ دیکھتی ہے کہ پیش کیے گئے evidence اور circumstances کی روشنی میں کون سا مؤقف زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر مبینہ واقعے کے لیے لازماً FIR، hospital certificate یا medical report موجود ہونا ضروری نہیں۔
6️⃣ عورت کی تعلیم یا career کو محض "نافرمانی" قرار نہیں دیا جا سکتا
سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں نچلی عدالتوں کے اس approach پر تنقید کی جس میں خاتون کی education، career orientation اور آزادانہ سوچ کو اس کے خلاف "disobedience" کے طور پر استعمال کیا گیا۔
عدالت نے gender-sensitive approach اختیار کرنے اور stereotypes پر مبنی reasoning سے گریز کی ضرورت پر زور دیا۔
7️⃣ عدالتی زبان بھی اہم ہے
سپریم کورٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتی فیصلوں میں ایسے الفاظ یا assumptions سے گریز ہونا چاہیے جو خواتین کو stigmatize کریں یا ان کے خلاف stereotypes کو reinforce کریں۔
یعنی عدالت کا کام صرف فیصلہ دینا نہیں بلکہ قانون کو دلیل، evidence اور dignity کے ساتھ apply کرنا بھی ہے۔
8️⃣ Maintenance
اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے خاتون کو نکاح برقرار رہنے کے عرصے کے لیے Rs.10,000/- ماہانہ maintenance کا حق بھی تسلیم کیا، جسے قانون کے مطابق calculate اور pay کیا جانا تھا۔
⚖️ اہم قانونی سبق:
ہر dissolution case کو خلع نہیں کہا جا سکتا۔
اگر خاتون statutory grounds پر dissolution مانگ رہی ہے تو عدالت کو انہی grounds کا قانون کے مطابق جائزہ لینا ہوگا۔ اور اگر کسی statutory ground پر نکاح dissolve ہوتا ہے تو اسے محض خلع سمجھ کر خاتون کے مالی حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے۔
📌 Case: Dr. Seema Hanif Khan v. Waqas Khan and others
📚 Citation: PLD 2026 Supreme Court 91
⚖️ Supreme Court of Pakistan
قانونی آگاہی کے لیے پوسٹ شیئر کریں تاکہ خواتین اور خاندان اپنے قانونی حقوق اور remedies کو درست طور پر سمجھ سکیں۔
Advocate Mohsin Hanif Jutt
AJAR Law Associates
📞 03415318212