YES Lawyers Forum

YES Lawyers Forum Young Energetic & Social Lawyers Forum

It is non-profitable Social Lawyers Forum.
(1)

⭐ Client Review | Chang Law FirmWe truly appreciate the trust and valuable feedback of our clients. At Chang Law Firm, w...
24/09/2026

⭐ Client Review | Chang Law Firm

We truly appreciate the trust and valuable feedback of our clients. At Chang Law Firm, we are committed to providing professional, responsive, and reliable Legal & Tax Advisory Services.

Thank you, Mr. Muhammad Tahir, for sharing your valuable feedback. ⚖️

CEO: Irfan Ali Chang
Advocate High Court | Certified Tax Advisor
Chang Law Firm
Legal • Tax • Corporate Advisory

⚖️ حقِ مہر میں تیسرے شخص کی جائیداد شامل کرنے کے لیے مالک کی رضامندی ضروریمرکزی قانونی اصولکسی تیسرے شخص، خصوصاً سسر یا ...
22/09/2026

⚖️ حقِ مہر میں تیسرے شخص کی جائیداد شامل کرنے کے لیے مالک کی رضامندی ضروری

مرکزی قانونی اصول

کسی تیسرے شخص، خصوصاً سسر یا کسی دوسرے رشتہ دار کی ملکیتی جائیداد کو صرف نکاح نامے میں حقِ مہر کے طور پر درج کر دینے سے بیوی کے حقِ مہر کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، جب تک جائیداد کے مالک کی واضح، ثابت شدہ اور قانونی رضامندی موجود نہ ہو۔

📌 مقدمے کے اہم حقائق

ایک خاتون نے اپنے سابق شوہر سے حقِ مہر، سونے کے زیورات اور ایک پلاٹ کی وصولی کا دعویٰ کیا۔ مذکورہ پلاٹ سابق شوہر کے والد کی ملکیت تھا۔

سابق سسر کا مؤقف تھا کہ وہ نہ تو نکاح نامے کا فریق تھا اور نہ ہی اس نے اپنی جائیداد بطورِ مہر دینے پر کوئی رضامندی ظاہر کی تھی۔

اس کے باوجود ماتحت عدالتوں نے پلاٹ کو حقِ مہر کی ڈگری میں شامل رکھا، جسے پشاور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

⚖️ سپریم کورٹ کے اہم اصول

1۔ تیسرے شخص کی جائیداد بطورِ مہر
حقِ مہر بنیادی طور پر شوہر کی ذمہ داری ہے۔ کسی تیسرے شخص کی جائیداد اس کی رضامندی کے بغیر بطورِ مہر مقرر کرکے اس کے خلاف قابلِ نفاذ حق پیدا نہیں کیا جا سکتا۔

2۔ مالک کی رضامندی ثابت کرنا ضروری ہے
اگر جائیداد کا مالک نکاح نامے کا فریق یا دستخط کنندہ نہیں ہے تو یہ ثابت کرنا لازم ہے کہ اس نے اپنی جائیداد بطورِ مہر دینے پر واضح رضامندی ظاہر کی تھی۔

3۔ بارِ ثبوت
جو فریق کسی تیسرے شخص کی جائیداد کو حقِ مہر کا حصہ قرار دے، اسی پر لازم ہے کہ مالک کی رضامندی کو قابلِ قبول اور قابلِ اعتماد شہادت کے ذریعے ثابت کرے۔ محض دعویٰ یا غیر ثابت شدہ دستاویز کافی نہیں۔

4۔ ہائی کورٹ کا آئینی اختیار
اگر ریکارڈ سے یہ بنیادی قانونی سوال پیدا ہو کہ کسی شخص کی ملکیت اس کی رضامندی کے بغیر حقِ مہر میں شامل کی گئی، تو ہائی کورٹ اس معاملے کا مؤثر قانونی جائزہ لے سکتی ہے۔ ماتحت عدالتوں کے یکساں فیصلے کسی قانونی طور پر ناقابلِ جواز نتیجے کو تحفظ نہیں دے سکتے۔

🏛️ سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سابق سسر کی ملکیتی جائیداد کو اس کی ثابت شدہ رضامندی کے بغیر حقِ مہر کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

لہٰذا پلاٹ کی حد تک ماتحت عدالتوں اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کی اپیل منظور کر لی گئی۔

⚖️ کیا عورت کی مرضی کے بغیر خلع دے کر حق مہر سے محروم کیا جا سکتا ہے؟سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ — PLJ 2026 SC 40...
22/09/2026

⚖️ کیا عورت کی مرضی کے بغیر خلع دے کر حق مہر سے محروم کیا جا سکتا ہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ — PLJ 2026 SC 406

ستمبر 2016 میں سوات کی تحصیل مٹہ میں سیلاب اختر اور قوت خان کا نکاح ہوا، جس میں 30 تولہ سونا بطور حق مہر مقرر کیا گیا۔ تاہم کچھ عرصے بعد ازدواجی زندگی میں مسائل پیدا ہوئے اور خاتون کے مطابق اسے شوہر اور سسرال کی جانب سے مبینہ ظلم، ذہنی اذیت اور گھر سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا۔

خاتون نے فیملی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ظلم کا سامنا ہے، لہٰذا نکاح ظلم کی بنیاد پر ختم کیا جائے اور مکمل حق مہر دلوایا جائے۔

فیملی کورٹ نے ظلم کے دعوے کو ثابت نہ ہونے کی بنیاد پر نکاح کو خلع میں تبدیل کر دیا اور چونکہ خاتون پہلے ہی 10 تولہ سونا وصول کر چکی تھی، اس لیے باقی 20 تولہ سونا خلع کے عوض چھوڑنے کا حکم دیا۔ ہائیکورٹ نے بھی یہ فیصلہ برقرار رکھا۔

معاملہ بالآخر سپریم کورٹ آف پاکستان پہنچا، جہاں عدالت نے واضح کیا کہ:

🔹 اگر عورت ظلم کی بنیاد پر نکاح کے خاتمے کا دعویٰ کرے تو عدالت محض اپنے طور پر اس دعوے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔

🔹 خلع عورت کا ذاتی اور آزادانہ حقِ انتخاب ہے۔ اس کی واضح اور باخبر رضامندی کے بغیر خلع مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

🔹 اگر ظلم ثابت ہو جائے تو عورت اپنے مکمل حق مہر کی حقدار ہو سکتی ہے؛ محض مقدمے کو خلع میں تبدیل کرکے اسے مالی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

🔹 ظلم صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں۔ مسلسل تذلیل، ذہنی اذیت، جبر اور ایسا رویہ جس سے ازدواجی زندگی ناقابلِ برداشت ہو جائے، بھی قانونی طور پر متعلقہ حالات ہو سکتے ہیں۔

🔹 اگر میاں بیوی کے درمیان تعلق اس حد تک خراب ہو جائے کہ ساتھ رہنا ممکن نہ رہے، تب بھی عدالت کو عورت کی مرضی اور قانونی حقوق کو مدنظر رکھنا ہوگا، نہ کہ اس پر اپنی طرف سے خلع مسلط کرنا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خاتون کی واضح رضامندی کے بغیر اس کے دعوے کو ازخود خلع میں تبدیل کرنا اور اس کے حق مہر کا ایک حصہ چھوڑنے پر مجبور کرنا درست نہیں تھا۔

یہ فیصلہ اس اصول کو نمایاں کرتا ہے کہ خلع عورت کی آزاد مرضی سے متعلق قانونی حق ہے، جسے اس کی رضامندی کے بغیر اس کے مالی حقوق متاثر کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

⚖️ TAX FILING DEADLINE REMINDER📢 30 September 2026 is the last date for filing your Income Tax Return.⏰ Haven’t Filed Ye...
21/09/2026

⚖️ TAX FILING DEADLINE REMINDER

📢 30 September 2026 is the last date for filing your Income Tax Return.

⏰ Haven’t Filed Yet? Don’t Wait Until the Last Moment!

Timely tax filing helps you stay compliant and avoid applicable penalties and complications.

📌 OUR TAX & LEGAL SERVICES

✅ NTN Registration & Renewal
✅ Income Tax Return Filing
✅ Sales Tax Registration & Returns
✅ Business Registration & Returns
✅ Company Registration (Pvt. Ltd. / SMC)
✅ SST Monthly Returns
✅ Trademark Registration
✅ Import / Export Registration
✅ Sole Proprietorship Registration
✅ Legal & Corporate Advisory

🏛️ CHANG LAW FIRM

Tax Consultant & Legal Advisor

📧 Email: [email protected]
🌐 Website: www.changlawfirm.online
📘 Facebook: Chang Law Firm
📱 WhatsApp: 0305-3133726

File on Time — Stay Compliant!
Your Tax Matters. Our Priority.

⚖️ شوہر کا کاروبار اور بیوی کے کاروباری حقوقاگر شوہر کسی مخصوص کاروبار سے وابستہ ہو تو کیا صرف اسی وجہ سے بیوی کو بھی اس...
21/09/2026

⚖️ شوہر کا کاروبار اور بیوی کے کاروباری حقوق

اگر شوہر کسی مخصوص کاروبار سے وابستہ ہو تو کیا صرف اسی وجہ سے بیوی کو بھی اسی نوعیت کا کاروبار کرنے یا اس سے متعلق کسی حق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نہیں۔

کسی خاتون کو محض اس بنیاد پر کاروباری حق یا متعلقہ الاٹمنٹ سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا شوہر بھی اسی کاروبار میں مصروف ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ خواتین کی اپنی الگ قانونی حیثیت اور معاشی حقوق ہیں۔ وہ اپنے شوہر سے علیحدہ طور پر کاروبار کرنے کا حق رکھتی ہیں، اور صرف ازدواجی تعلق کی بنیاد پر ان کے کاروباری حقوق محدود نہیں کیے جا سکتے۔

⚖️ PLD 2026 Sindh 279

⚖️ لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — بچوں کی عبوری تحویللاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ دفعہ 491 ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کے ...
21/09/2026

⚖️ لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — بچوں کی عبوری تحویل

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ دفعہ 491 ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت بچے کی عبوری تحویل دیتے وقت ایسی غیر ضروری یا سخت شرائط عائد نہیں کی جا سکتیں جو والدہ یا بچے کے لیے مشکلات کا باعث بنیں۔

🔹 ایک سالہ بچے کی عبوری تحویل کے لیے 7 لاکھ روپے کی زرِ ضمانت عائد کرنا مناسب نہیں تھا۔

🔹 والدہ کی آمدورفت پر غیر ضروری پابندیاں بھی بلاجواز قرار دی گئیں۔

🔹 عدالت نے واضح کیا کہ بچے کی مستقل تحویل کا حتمی فیصلہ گارڈین کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

📌 کیس: Mst. Misbah Bibi v. Additional Sessions Judge, Sheikhupura & Others
⚖️ عدالت: لاہور ہائی کورٹ
📖 متعلقہ قانون: دفعہ 491 ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.)

⚖️ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — جہیز کی واپسیہائی کورٹ نے قرار دیا کہ بیوی کے جہیز کی واپسی کے دعوے میں صرف شوہر کو ہی فریق ...
21/09/2026

⚖️ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — جہیز کی واپسی

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ بیوی کے جہیز کی واپسی کے دعوے میں صرف شوہر کو ہی فریق بنانا ضروری نہیں، بلکہ شوہر کے والدین اور دیگر متعلقہ رشتہ داروں کو بھی مقدمے میں فریق بنایا جا سکتا ہے۔

📚 حوالہ: 2018 CLC 241

📜 سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ | قتل سے اقدامِ قتل میں تبدیلی2026 SCMR 1223فیصلہ: 24 ستمبر 2025بنچ: جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس ع...
18/09/2026

📜 سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ | قتل سے اقدامِ قتل میں تبدیلی

2026 SCMR 1223
فیصلہ: 24 ستمبر 2025
بنچ: جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان

سپریم کورٹ نے ایک اہم فوجداری مقدمے میں دفعہ 302(b) تعزیراتِ پاکستان کے تحت قتلِ عمد کی سزا کو کالعدم قرار دے کر جرم کو دفعہ 324 ت پ (اقدامِ قتل) میں تبدیل کر دیا۔

⚖️ مقدمے کا پس منظر

مقدمے میں ملزم پر الزام تھا کہ اس نے گھریلو تنازع کے بعد فائرنگ کر کے نوبت خان کو تین گولیاں ماریں۔ مدعی اور ایک دیگر گواہ نے واقعے کی چشم دید شہادت دی، جبکہ طبی معائنہ، پستول کی برآمدگی اور مثبت فرانزک رپورٹ نے فائرنگ کے واقعے کی تائید کی۔

ٹرائل کورٹ نے ملزم کو دفعہ 302(b) ت پ کے تحت عمر قید کی سزا سنائی، جسے بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

🔎 سپریم کورٹ کی اہم observations

1️⃣ چشم دید گواہ قابلِ اعتماد قرار

عدالت نے قرار دیا کہ وقوعہ مدعی کے گھر میں پیش آیا، اس لیے اس کا موقع پر موجود ہونا فطری تھا۔ دوسرے گواہ کا بھی اسی خاندان اور گاؤں سے تعلق تھا اور اس کی موجودگی غیر فطری نہیں تھی۔ طویل جرح کے باوجود دونوں گواہوں کی شہادت میں کوئی ایسا بنیادی تضاد سامنے نہیں آیا جس سے ان کی گواہی ناقابلِ اعتماد ہو۔

2️⃣ میڈیکل اور فرانزک شہادت سے فائرنگ ثابت

طبی معائنے میں زخمی کے جسم پر تین فائر آرم انجریز پائی گئیں۔ مزید برآں، ملزم کی نشاندہی پر پستول برآمد ہوا اور FSL رپورٹ بھی مثبت آئی۔ ان شواہد نے فائرنگ اور زخمی کرنے کے عمل کی تائید کی۔

3️⃣ محرک (Motive) ثابت نہ ہو سکا

عدالت نے نوٹ کیا کہ مبینہ گھریلو تنازع کا واضح وقت، تاریخ اور مقام ریکارڈ پر ثابت نہیں کیا گیا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ محرک کا ثابت نہ ہونا، بذاتِ خود، دیگر قابلِ اعتماد شہادت موجود ہونے کی صورت میں استغاثہ کے پورے کیس کو ختم نہیں کرتا۔

⚠️ 4️⃣ سب سے اہم قانونی نکتہ: موت کا قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں تھا

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر:

- پوسٹ مارٹم رپورٹ موجود نہیں تھی؛
- ڈیتھ سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیا گیا؛
- زخمی کو دوسرے ہسپتال ریفر کیا گیا تھا؛
- متعلقہ ڈاکٹر کے سامنے میت پیش نہیں کی گئی؛
- اور یہ ثابت نہیں ہوا کہ مبینہ موت انہی فائر آرم انجریز کے نتیجے میں ہوئی۔

لہٰذا عدالت اس نتیجے پر یقین کے ساتھ نہیں پہنچ سکتی تھی کہ نوبت خان کی موت انہی زخموں سے ہوئی تھی۔

⚖️ 5️⃣ قیاس، قطعی ثبوت کا متبادل نہیں

سپریم کورٹ نے اصول دہرایا کہ:

«“Presumptions or probabilities, howsoever strong, cannot be a substitute for conclusive proof.”»

یعنی مضبوط سے مضبوط امکان بھی قطعی اور قابلِ اعتماد ثبوت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

عدالت نے اس ضمن میں سابقہ فیصلوں، بشمول Naveed Asghar v. State (PLD 2021 SC 600) اور Ghulam Qadir v. State (2008 SCMR 1221) کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھا۔

📌 سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ

عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ دفعہ 302(b) ت پ کے تحت قتلِ عمد کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، تاہم یہ ثابت ہے کہ ملزم نے فائرنگ کر کے متاثرہ شخص کو شدید زخمی کیا۔

چنانچہ:

🔹 دفعہ 302(b) ت پ کی سزا ختم کر دی گئی۔
🔹 دفعہ 324 ت پ کے تحت 10 سال قیدِ بامشقت اور جرمانہ عائد کیا گیا۔
🔹 دفعہ 337-L(i) ت پ کے تحت بھی سزا اور دمان کا حکم دیا گیا۔
🔹 دفعہ 544-A ض ف کے تحت معاوضے کا حکم برقرار رکھا گیا۔
🔹 دفعہ 382-B ض ف کا فائدہ بھی دیا گیا۔

💡 وکلاء کے لیے اہم قانونی سبق

قتل کے مقدمے میں صرف یہ ثابت کرنا کافی نہیں کہ ملزم نے زخمی کیا تھا؛ استغاثہ کو یہ بھی قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ موت واقع ہوئی اور وہی موت ملزم کے پہنچائے گئے زخموں کے نتیجے میں ہوئی۔

اسی طرح محض رشتہ دار ہونے کی بنیاد پر چشم دید گواہ کی شہادت مسترد نہیں کی جا سکتی، جبکہ میڈیکل اور فرانزک شہادت چشم دید بیان کی تائید میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

⚖️ Law demands proof, not presumption.

Order Accordingly.

⚖️ LAHORE HIGH COURT — JUVENILITY & AGE DETERMINATIONملزم نے دورانِ ٹرائل دعویٰ کیا کہ وقوعہ کے وقت وہ Juvenile تھا، تاہ...
17/09/2026

⚖️ LAHORE HIGH COURT — JUVENILITY & AGE DETERMINATION

ملزم نے دورانِ ٹرائل دعویٰ کیا کہ وقوعہ کے وقت وہ Juvenile تھا، تاہم Nikahnama میں عمر 18 سال جبکہ B-Form میں مختلف تاریخِ پیدائش درج تھی۔

دستاویزات میں تضاد کے باعث Trial Court نے حقیقی عمر کے تعین کے لیے Ossification / Medical Age Assessment Test کی اجازت دی۔

Lahore High Court میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ:

🔹 Juvenility کا تعین تمام دستیاب documentary evidence کی مناسب جانچ سے ہونا چاہیے۔

🔹 متضاد دستاویزات کی صورت میں، جہاں عمر کا قابلِ اعتماد تعین ممکن نہ ہو، medical examination relevant ہو سکتا ہے۔

🔹 Section 8, Juvenile Justice System Act, 2018 کے تحت documentary evidence کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

📚 CASE LAW:

Saleem Khan v. The State — PLD 2020 SC 356
Intizar Hussain v. Hamza Ameer — 2017 SCMR 633
Imran Haider v. The State — 2024 LHC 3798
Kamran Mushtaq v. The State — 2025 MLD 367

🏛️ RESULT:

Lahore High Court نے writ petition dismiss کرتے ہوئے Trial Court کے حکم میں مداخلت سے انکار کر دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ضمانت مل جانے کے بعد اگر ملزم ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کرے ی...
17/09/2026

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ضمانت مل جانے کے بعد اگر ملزم ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کرے یا گواہان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرے تو ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔

2025 LHC Case Law

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923053133726

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when YES Lawyers Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to YES Lawyers Forum:

Shortcuts

Share