Advocate Rana Ali Ul Hassnain

  • Home
  • Advocate Rana Ali Ul Hassnain

Advocate Rana Ali Ul Hassnain میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قَند

27/05/2026
بجلی کے بل پر QR  کوڈ سکین کر رہا ہوں دو فون نمبر والد صاحب کے لگاۓ ہیں جن پر کنیکشن رجسٹرڈ ھے اور 2 اپنے بھی بدل بدل کر...
22/05/2026

بجلی کے بل پر QR کوڈ سکین کر رہا ہوں دو فون نمبر والد صاحب کے لگاۓ ہیں جن پر کنیکشن رجسٹرڈ ھے اور 2 اپنے بھی بدل بدل کر لگا کر دیکھے ہیں لیکن یہی ایشو آ رہا ھے۔
آپکے ساتھ بھی یہ مسئلہ آ رہا ھے کیا؟ اس کا حل کیا ھے؟ اور کس کس کا سکین ہو گیا ھے؟

فیصل آباد ایئرپورٹ پر کچھ دن پہلے عقل و شعور کا وہ جنازہ اٹھا کہ فلسفی بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہوں گے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ...
19/03/2026

فیصل آباد ایئرپورٹ پر کچھ دن پہلے عقل و شعور کا وہ جنازہ اٹھا کہ فلسفی بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہوں گے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ ایک بائیس سالہ طالب علم اعلی تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہ رہا تھا۔
نوجوان طالب علم جب امیگریشن کاؤنٹر پہنچا تو سب کچھ ٹھیک تھا۔ کاغذات دیکھے گئے، کمپیوٹر میں انٹری ہوئی اور پاسپورٹ پر ایگزٹ کی مہر ثبت کر دی گئی۔ یہ مہر اس بات کی سند تھی کہ ریاست کو اس نوجوان کے باہر جانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ مگر ابھی یہ سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ اچانک ایئرپورٹ کے ایک ارسطو اہلکار کو نجانے کیا سوجھی کہ اس نے طالب علم کو بازو سے پکڑ کر ایک طرف کر لیا اور تفتیش شروع کر دی۔
اس طالب علم کی سب سے بڑی خطا یہ تھی کہ اس نے ایک ایسے ملک کا نام لے لیا جس کا نقشہ شاید ہمارے ان جاہلِ اعظم اہلکار صاحب نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا۔ "لیتھوینیا!" نام سنتے ہی اہلکار صاحب کے ماتھے پر یوں بل پڑے جیسے کسی نے ان سے کوانٹم فزکس کا فارمولا پوچھ لیا ہو۔ ان کے نزدیک دنیا صرف دبئی، سعودی عرب اور لندن تک ختم ہو جاتی ہے، یہ "لیتھوینیا" بیچ میں کہاں سے ٹپک پڑا؟
اہلکار صاحب کی منطق کا عالم دیکھیے، انہیں یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی کہ اگر لیتھوینیا کوئی ملک ہے، تو اس کا سفارت خانہ فیصل آباد کی کچہری یا کم از کم اسلام آباد کی کسی گلی میں کیوں نہیں؟ طالب علم نے بیچارگی سے دہائی دی کہ "جناب! یہ ملک براعظم یورپ میں ہے، اور چونکہ پاکستان میں ان کا دفتر نہیں، اس لیے مجھے ویزے کے لیے پہلے باکو (آذربائیجان) جانا پڑے گا"۔
مگر صاحب! وردی کی اکڑ اور معلومات کی کمی جب آپس میں گٹھ جوڑ کر لیں تو منطق خودکشی کر لیتی ہے۔ اہلکار کے دل میں شک کا وہ ناگ بیٹھا کہ ہلنے کا نام نہ لیا۔ چونکہ اہلکار صاحب نے خود تو کبھی میٹرک سے آگے تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا، اس کی نظر میں وہ یونیورسٹی کا ایڈمیشن لیٹر اور 30 لاکھ روپے کی فیس کی رسیدیں محض ردی کے ٹکڑے تھے۔ اسے لگا شاید یہ لڑکا لیتھوینیا کے بہانے مریخ پر جا کر وہاں کی شہریت لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
طالب علم نے ایڑیاں رگڑیں، فیس کی رسیدیں لہرائیں، واسطے دیے، مگر اہلکار صاحب اپنی دانشورانہ ضد پر قائم رہے۔ نتیجہ؟ ڈھائی لاکھ کا ٹکٹ آف لوڈ کی نذر ہو گیا اور 30 لاکھ کی فیس اب لیتھوینیا کی یونیورسٹی میں پڑی ہے۔
واہ رے نظام! جہاں پہلے مہر لگائی جاتی ہے اور پھر پوچھا جاتا ہے کہ "میاں، تم ہو کون؟" ایئرپورٹ پر بیٹھے شخص کو یہ تو پتہ ہے کہ رشوت کیسے لینی ہے یا رعب کیسے جھاڑنا ہے، مگر یہ نہیں پتہ کہ دنیا کے نقشے پر کون سا ملک کہاں واقع ہے۔
حکومتِ پاکستان اور ایف آئی اے (FIA) کو چاہیے کہ ایسے ارسطوؤں کو ایئرپورٹ کے بجائے کسی پرائمری سکول کے جغرافیے کی کلاس میں بٹھائیں، تاکہ آئندہ کسی اور طالب علم کا مستقبل اس جہالت کی بھینٹ نہ چڑھے۔ نقطہ نظر

رانا علی الحسنین, ایڈووکیٹ ہائیکورٹ۔

ایتھے رکھ : 3 سے چار کروڑ روپے کھا کر ڈکار بھی نہ مارنے والی حسینہ۔لاہور میں ایک کروڑ پتی نوجوان کنگلا ہو گیا، معاملہ 20...
14/03/2026

ایتھے رکھ : 3 سے چار کروڑ روپے کھا کر ڈکار بھی نہ مارنے والی حسینہ۔
لاہور میں ایک کروڑ پتی نوجوان کنگلا ہو گیا، معاملہ 2020 سے شروع ہوا جب شاہکوٹ کی رہائشی زنیرہ نامی لڑکی کا خالد (فرضی نام ) سے سوشل میڈیا پر رابطہ ہوا ، جلد دونوں کی دوستی ہو گئی ، بات واٹس ایپ پر فون کالز تک جا پہنچی ، اس دوران زنیرہ تعلیم کی غرض سے لاہور آگئی اور یہاں ایک ہوسٹل میں رہنے لگی ، زنیرہ کی محبت میں خالد بھی لاہور آگیا اور یہاں کاروبار کرنے لگا ، خالد کا تعلق ایک کھاتے پیتے خاندان سے تھا لاہور میں دونوں کی ملاقاتیں ہونے لگیں اس دوران خالد نے زنیرہ کو بنک الفلاح میں اپرنٹس شپ پر بھی رکھوایا ، یہ اکثر اکٹھے ہوتے ، کھانا ساتھ کھاتے ، ایک دوسرے کی سالگرہ مناتے، اور پھر ایک روز زنیرہ نے اپنے والدین کو بتائے بغیر خالد سے شادی کرلی اور اسکے ساتھ رہنے لگی ، اسکے تمام اخراجات اس سے پہلے بھی خالد پورے کررہا تھا لڑکی نے شادی کے بعد اپنے دل کی تمام حسرتیں پوری کیں ، ہر قسم کے اچھے اور برانڈڈ کپڑے جوتے ، ریسٹورنٹس میں کھانے حتیٰ کہ خالد نے اسے الگ سے ایک گاڑی بھی لے دی ، دو سال بعد خالد کو کاروبار میں نقصان ہو گیا جو کہ یقینی طور پر ہونا تھا ، اس نقصان کے بعد اس نے لاہور میں اپنا بزنس ختم کیا اور زنیرہ سے کہا کہ واپس میرے آبائی شہر چلتے ہیں یہاں ہمیں بہت پریشانی ہو گی ، لیکن زنیرہ لاہور کی پر آسائش زندگی چھوڑنے پر آمادہ نہ تھی ، خالد نے جب دیکھا کہ زنیرہ نہیں مانے گی تو وہ پیسوں کے بندوبست کے لیےواپس اپنے آبائی شہر چلا گیا تاکہ واپس لاہور آکر دوبارہ کام سیٹ کرے ۔ اسکے جانے کے کچھ ہفتوں بعد زنیرہ نے اس سے رابطہ ختم کر دیا ، اور خود بھی واپس شاہکوٹ چلی گئی ۔ کئی ماہ بیوی سے رابطے کے بغیر گزرے تو خالد نے زنیرہ کے والدین سے ملکر اپنی بیوی کو واپس لے جانے کی کوشش کی تو انہوں نے خالد پر ز۔نا با۔لجبر کا پرچہ درج کروا دیا ، تب سے یہ کیس لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے ، خالد کے پاس نکاح نامہ ، بیوی کے ساتھ تمام تصویریں ، موبائل اور واٹس ایپ ریکارڈ سب ثبوتوں کے ساتھ اس نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے کہ لگ بھگ 4 کروڑ کھا کر بھاگنے والی اس کی بیوی سے اسے انصاف دلایا جائے جس نے اس پر ز۔نا با۔لجبر کا مقدمہ درج کروا رکھا ہے،
دیکھتے ہیں اب اس کیس کا کیا ڈراپ سین ہوتا ہے لیکن ایک بات طے ہے دلہن ہی نہیں راضی، تو کیا کرے گا قاضی۔

رانا علی الحسنین، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ۔
03024045502

حکومت پنجاب نے گداگری ایکٹ پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے جس کے تحت کوئی بھی انسان وہ چاہے بڑا ہو یا چھوٹا ہو بھیک نہیں مان...
06/02/2025

حکومت پنجاب نے گداگری ایکٹ پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے جس کے تحت کوئی بھی انسان وہ چاہے بڑا ہو یا چھوٹا ہو بھیک نہیں مانگ سکتا چاہے وہ ذاتی ہو یا کسی فلاحی کام کے لیے ہو بھیک مانگنے والے پر فورأ ایف ائی ار دی جائے گی اور گرفتار کیا جائے گا۔
تھانہ سٹی رائیونڈ نے پھاٹک سوا اصل کے قریب سے مسجد کے لیے چندہ مانگنے والے عامر عباس انصاری کو جو کہ بستی امین پورہ کا رہائشی ہے گرفتار کر کے ایف ائی ار دے دی ہے.

نوٹ: اگر آئندہ کوئی بھی حکومت کسی ملک سے مالی امداد لے گی تو ان پر اس ایکٹ کا اطلاق نہہں ہو گا۔

رانا علی الحسنین ایڈووکیٹ، ہائیکورٹ۔
03024045502

Thank you so much for your trust, affection, love and compassion.❤️لائیر لائیزن فورم کا نائب صدر بننے پر میں رجیم کا تہہ...
07/01/2025

Thank you so much for your trust, affection, love and compassion.❤️
لائیر لائیزن فورم کا نائب صدر بننے پر میں رجیم کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔❤️

رانا علی الحسنین، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ۔
03024045502

04/01/2025

ایک عورت نے وکیل کی مدد سے اپنا مقدمہ جیتنے کے بعد کہا، میں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں؟
وکیل صاحب نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا:

جب سے انسان نے پیسہ ایجاد کیا ہے، تب سے شکریہ کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔

رانا علی الحسنین، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ۔
03024045502

28/12/2024

سوال: سول نافرمانی کیا ہے اور یہ کیسے عمل میں لائی جاتی ہے؟
جواب: سول نافرمانی، ترک موالات یا عدم تعاون (Civil Disobedience) اپنے مطالبات منوانے یا کسی فعل پر احتجاجی طور پر بعض حکومتی یا کسی عالمی طاقت کے قوانین کی اطاعت سے انکار کرنا ہے۔
عام طور پر اس میں حکومت کو محصول جمع کرانے سے انکار کیا جاتا ہے۔ جس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں جیسے مختلف سہولیات پر مقرر قیمت دینے سے انکار جس میں بجلی، ٹیلی فون، گھریلو استعمال کی گيس، پانی، پلوں، شاہراہوں، ٹول ٹیکس اور دیگر ایسی چیزیں جن سے حکومت کو پیسہ آتا ہوں۔ ان تمام یا کچھ ذرائع محصول سے روکنا، رکنا یا ان کے استعمال پر محصول (Tax) ادا نہ کرنا۔ اس کے علاوہ طالب علموں کا سکول اور کالجز چھوڑنا، سڑکیں بند کرنا، بھوک ہڑتال کرنا، ملازمین کا نوکریوں سے استعفی دینا، ٹرانسپورٹ بند کرنا، پرچم کو آگ لگنا جیسے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں، سول نافرمانی اکثر اجتماعی عمل کی صورت میں کی جاتی ہے۔
پاکستانی قوانین کے مطابق آزادی راۓ ہر شہری کا قانونی حق ھے لیکن اگر کوئی قانون کی پاسداری نا کرے۔
تو ریاست پاکستان حالات کو مدنظر رکھتے ہوۓ.
Maintenance of public ordinance, 1960
The Anti terrorism Act, 1997
Pakistan penal code, 1860
Article 16 constitution of pakitan, 1973
کے تحت مفاد عامہ، اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے اور برقرار کرنے کے لیے کاروائی کر سکتی ھے۔

رانا علی الحسنین، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ۔
03024045502

جو آپ پر اعتماد کر کے آپ کو کسی زمہ داری کے لیے مقرر کرتا ہے اور جب آپ اس کے اعتماد پر پورا اترتے ہوں تو اس وقت خوشی کی ...
20/11/2024

جو آپ پر اعتماد کر کے آپ کو کسی زمہ داری کے لیے مقرر کرتا ہے اور جب آپ اس کے اعتماد پر پورا اترتے ہوں تو اس وقت خوشی کی انتہا ہوتی ہے۔
میں بہت مشکور ہوں جناب Raja Jali صاحب کا جنہوں نے مجھے اپنا ایک قانونی و شرعی معاملہ مجھے سونپا (مسئلہ نہیں لکھوں گا) اس سے پہلے انہوں نے اپنے طور پر کوشیش کی اور متعلقہ اداروں کے چکر لگاۓ لیکن متعلقہ محکمے نے کام کرنے سے انکار کر دیا اور ایک لمبے چوڑے پراسس میں ڈال دیا. لیکن ان کے باقی معاملات کو حل کرنے کے لیے ان کے پاس وقت کی قلت تھی خیر انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور میں نے ان کام ایک ہفتے میں کروانے کی حامی بھری کچھ ٹیکنکلٹیز کی وجہ ان کے کام کو دس پندرہ دن مزید لگ گئے لیکن ان کا کام ان کی توقع کے مطابق جیسا یہ چاہتے تھے بالکل ویسا کروا دیا۔
کام ہونے کہ بعد جب میں نے ان کو یہ خوشخبری سنائی تو انہوں نے کہا پتر جو اخراجات ہوۓ اس کے علاوہ 5000 تمہیں تمہاری مٹھائی کا یا بطور انعام میری طرف سے اپنی خوشی سے دیا۔
اور انہوں نے اپنے کام کے پیسے تو پہلے ہی میرے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دئیے تھے اور کام کے بعد 5 ہزار بطور انعام بھی مجھے بھیج دیا۔ اور کہا تم میرے بیٹے ہو حالنکہ ان کا تعلق راولپنڈی سے ھے اور میری اج تک ان سے ملاقات نہیں ھوئی بس فیسبک فرینڈ ہی ہیں۔
میں نے ان کا کام کر کے کاغذات ان کے اڈریس پر بھیج دئیے جو کے ان کو کل یا پرسوں مل گئے تھے۔
میرے حلقہ احباب کا یوں مجھ پر اعتماد کر اور ان کا کام کر کے ان کی پریشانیوں کو دور کرنا اور پھر ان سے دعائیں لیکر دلی راحت محسوس ہوتی ھے۔ راجہ صاحب کا ایک بات پھر سے مجھ پر اعتماد کرنے کی بدولت تہہ دل سے مشکور ہوں۔

رانا علی الحسنین، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ۔
03024045502

دولت کا چکر بھی عجیب ہےانا نیکول اسمتھدور کی 25 سالہ خوبصورت امریکی اداکارہ، لاکھوں نوجوان اس سے شادی کے خواہش مند تھے ل...
02/07/2024

دولت کا چکر بھی عجیب ہے
انا نیکول اسمتھ
دور کی 25 سالہ خوبصورت امریکی اداکارہ، لاکھوں نوجوان اس سے شادی کے خواہش مند تھے لیکن اس نے اپنی عمر سے 64 سال بڑے 89 سالہ ارب پتی جیمز ہاورڈ مارشل سے شادی کر لی۔
شادی کے بعد اس سے پوچھا گیا:
" آپ ابھی چھوٹی ہیں، ایک بوڑھے شخص میں کیا دیکھ کر شادی کی؟"
انا نیکول کا جواب تھا:
" وہ خوبصورت چھڑی جو ہمیشہ ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے"
شادی کے ایک سال بعد جیمز مارشل کا انتقال ہو گیا۔ اس کی جائیداد تقسیم ہونے لگی تو وکیل نے وصیت سنائی، جیمز نے اپنی تمام دولت اپنے بچوں کے نام کی تھی سواے اس چھڑی کے جو انا نیکول کو بہت پسند تھی.
پھر وہ اگلے 13 برس 1994 سے 2007 تک اپنے مرحوم شوہر کی جائیداد سے حصہ لینے کے لئے عدالتوں کا چکر کاٹتی رہی لیکن کچھ ہاتھ نہ لگا۔ 2007 میں اس نے خودکشی کرلی.
نوجوان، خوبصورت، ہینڈسم وکیل۔۔۔۔۔

رانا علی الحسنین، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ-
03024045502

Address


Telephone

+923024045502

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Rana Ali Ul Hassnain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Advocate Rana Ali Ul Hassnain:

  • Want your practice to be the top-listed Law Practice?

Share