QISSA KHANI

Directions Website

QISSA KHANI ​📜 Sadiyon purane kisse, ankahi daastanein aur sachhi kahaniyan. Welcome to the world of Horror, Mystery, & True Crime. Har roz ek naya qissa! ✨

❤️ وہ رات جب محبت نے خاموشی توڑ دیبارش کی ہلکی بوندیں کھڑکی پر گر رہی تھیں۔عائشہ بالکونی میں کھڑی شہر کی روشنیاں دیکھ رہ...
09/13/2026

❤️ وہ رات جب محبت نے خاموشی توڑ دی

بارش کی ہلکی بوندیں کھڑکی پر گر رہی تھیں۔

عائشہ بالکونی میں کھڑی شہر کی روشنیاں دیکھ رہی تھی، جب اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔

سامنے حارث کھڑا تھا۔

وہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، پھر مسکرا کر بولا:

"تمہیں دیکھنے کے لیے آج بھی بہانہ چاہیے ہوتا ہے؟"

عائشہ نے نظریں جھکا لیں۔

"اور تمہیں آنے کے لیے اجازت؟"

حارث ایک قدم قریب آیا۔

دونوں کے درمیان صرف چند لمحوں کی خاموشی تھی۔

حارث نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:

"میں نے بہت کوشش کی کہ تمہیں بھول جاؤں..."

عائشہ نے دھیمی آواز میں پوچھا:

"پھر؟"

وہ مسکرایا:

"پھر ہر بار دل نے تمہارا نام یاد دلا دیا۔"

عائشہ کی آنکھوں میں نمی آگئی۔

اس نے اپنا سر حارث کے کندھے پر رکھ دیا۔

باہر بارش تیز ہوگئی...

اور اس رات دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب محبت کو خاموش نہیں رکھیں گے۔ ❤️

💬 کیا سچی محبت کو دوسرا موقع ملنا چاہیے؟

09/03/2026

اس بار راز مزید گہرا اور آخر میں بڑا Twist رکھا ہے۔

🔴 وہ فون جو قتل کے بعد بھی بجتا رہا — Part 3

علی نے فائل کے آخری صفحے پر نام دیکھا تو اس کی سانس رک گئی۔

نام تھا:

"کاشف احمد"

یہ وہی شخص تھا جو تین سال سے علی کے خاندان کا سب سے قریبی دوست تھا۔

علی نے فوراً پولیس افسر سے پوچھا:

"کاشف؟ لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ وہ تو میری ماں کے جنازے میں بھی میرے ساتھ تھا!"

افسر نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اس نے فائل سے ایک اور تصویر نکالی۔

تصویر میں علی کی ماں کی گاڑی حادثے سے کچھ دیر پہلے ایک پٹرول پمپ پر کھڑی تھی۔

گاڑی کے پیچھے ایک سیاہ رنگ کی گاڑی موجود تھی۔

اس گاڑی کی نمبر پلیٹ واضح تھی۔

وہ گاڑی کاشف کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔

علی فوراً کاشف کے گھر پہنچا۔

گھر کا دروازہ کھلا تھا۔

اندر مکمل خاموشی تھی۔

میز پر صرف ایک پرانا موبائل رکھا تھا۔

اچانک موبائل بجا۔

📱 "امی کالنگ…"

علی نے کانپتے ہاتھ سے کال اٹھائی۔

دوسری طرف اس کی ماں کی آواز آئی:

"علی… کاشف قاتل نہیں ہے۔"

علی حیران رہ گیا۔

"تو پھر قاتل کون ہے؟"

چند سیکنڈ خاموشی رہی۔

پھر آواز آئی:

"جس پولیس والے پر تم بھروسہ کر رہے ہو… اس سے بچو!"

علی نے آہستہ سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

وہی پولیس افسر دروازے پر کھڑا تھا۔

اور اس کے ہاتھ میں…

ایک بندوق تھی۔ 😱

👇 Part 4 میں اصل قاتل کا نام سامنے آئے گا…

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Shami Princepk Princepk, Aisha Aisha, Muhammed Hussain, X...
09/02/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Shami Princepk Princepk, Aisha Aisha, Muhammed Hussain, Xtylish Urwa, وحشی درندا, Gand U Bhai

😱 رات 2 بجے آنے والا پارسل — Part 3حمزہ نے فون دوبارہ اٹھایا اور تصویر کو غور سے دیکھا۔تصویر میں کمرے کے کونے میں ایک چھ...
08/31/2026

😱 رات 2 بجے آنے والا پارسل — Part 3

حمزہ نے فون دوبارہ اٹھایا اور تصویر کو غور سے دیکھا۔

تصویر میں کمرے کے کونے میں ایک چھوٹا سا آئینہ نظر آ رہا تھا۔

لیکن آئینے میں جو شخص دکھائی دے رہا تھا، وہ کمرے میں موجود نہیں تھا۔

حمزہ نے فوراً پیچھے دیکھا۔

کمرہ خالی تھا۔

اسی لمحے پارسل کے اندر سے دوبارہ آواز آئی:

"حمزہ... مجھے یاد کرو!"

حمزہ نے ڈبے کا ڈھکن مکمل کھول دیا۔

اندر ایک پرانا ٹیپ ریکارڈر، ایک چھوٹی سرخ گیند اور ایک تصویر پڑی تھی۔

تصویر دیکھتے ہی حمزہ کے ذہن میں دس سال پرانی یاد واپس آگئی۔

وہ ایک چھوٹے بچے کے ساتھ کھڑا تھا۔

وہی بچہ...

جو دس سال پہلے اچانک غائب ہوگیا تھا۔

حمزہ نے کانپتے ہاتھ سے ٹیپ ریکارڈر چلایا۔

کچھ سیکنڈ خاموشی رہی۔

پھر ایک بچے کی آواز سنائی دی:

"حمزہ، اگر تم یہ سن رہے ہو تو سمجھ لو میں ابھی زندہ ہوں۔"

حمزہ کے ہاتھ سے ریکارڈر تقریباً گر گیا۔

اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔

ٹھک... ٹھک... ٹھک...

حمزہ نے پوچھا:

"کون؟"

باہر سے اس کی اپنی آواز آئی:

"دروازہ کھولو... میں حمزہ ہوں۔"

حمزہ کا خون جم گیا۔

وہ تو کمرے کے اندر کھڑا تھا۔

باہر موجود شخص نے دوبارہ کہا:

"جلدی کرو، ہمارے پاس صرف پانچ منٹ ہیں۔"

حمزہ نے دروازے کے نیچے دیکھا۔

باہر صرف ایک چیز نظر آ رہی تھی...

ایک چھوٹی سرخ گیند۔ 😨

پھر ٹیپ ریکارڈر سے آخری آواز آئی:

"حمزہ... دروازہ مت کھولنا۔ وہ میں نہیں ہوں۔"

جاری رہے گا...

💬 آپ کے خیال میں دروازے کے باہر کون کھڑا ہے؟

😱 رات 2 بجے آنے والا پارسل — Part 2حمزہ پارسل کے سامنے کھڑا کانپ رہا تھا۔اندر سے دوبارہ آواز آئی:"حمزہ... مجھے باہر نکال...
08/31/2026

😱 رات 2 بجے آنے والا پارسل — Part 2

حمزہ پارسل کے سامنے کھڑا کانپ رہا تھا۔

اندر سے دوبارہ آواز آئی:

"حمزہ... مجھے باہر نکالو!"

اس نے فوراً پیچھے ہٹ کر پولیس کو فون کرنے کا سوچا، مگر اسی لمحے اس کا فون بند ہوگیا۔

اچانک پارسل کے اندر سے ٹک... ٹک... ٹک کی آواز آنے لگی۔

حمزہ نے ہمت کرکے ڈبے کو غور سے دیکھا۔

نیچے ایک چھوٹا سا تالا لگا ہوا تھا۔

لیکن اس کی چابی کہاں تھی؟

اسی وقت اسے میز کے نیچے ایک پرانا لفافہ نظر آیا۔

لفافے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:

"چابی تمہارے پاس پہلے سے ہے۔"

حمزہ نے اپنی جیبیں چیک کیں۔

اچانک اسے اپنی پرانی جیکٹ کی اندرونی جیب میں ایک چھوٹی سی چابی محسوس ہوئی۔

یہ وہی جیکٹ تھی جو اس نے 10 سال پہلے پہنی تھی۔

اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔

اس نے چابی تالے میں لگائی۔

کلک!

تالا کھل گیا۔

لیکن حمزہ نے ڈبہ کھولنے سے پہلے ہی اندر سے آواز آئی:

"مت کھولنا!"

حمزہ رک گیا۔

پھر دوسری آواز آئی:

"وہ تمہیں دھوکہ دے رہا ہے!"

حمزہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

"کون؟"

اندر سے جواب آیا:

"جس نے تمہیں یہ پارسل بھیجا ہے..."

اچانک اس کے فون کی اسکرین خود بخود روشن ہوئی۔

ایک نئی تصویر سامنے تھی۔

تصویر میں حمزہ کا گھر دکھائی دے رہا تھا...

اور حیرت کی بات یہ تھی کہ تصویر اسی وقت اندر سے لی گئی تھی۔

تصویر کے کونے میں ایک شخص کھڑا تھا۔

حمزہ نے آہستہ سے اپنے پیچھے دیکھا۔

کمرہ خالی تھا۔

پھر پارسل کے اندر سے آخری جملہ سنائی دیا:

"حمزہ... تم اکیلے نہیں ہو۔" 😨

جاری رہے گا...

💬 آپ کے خیال میں پارسل کے اندر کون ہے؟

😱 رات 2 بجے آنے والا پارسل — Part 1رات کے 2:08 بجے حمزہ کے دروازے پر دستک ہوئی۔ٹھک... ٹھک... ٹھک...وہ حیران ہوا، کیونکہ ...
08/30/2026

😱 رات 2 بجے آنے والا پارسل — Part 1

رات کے 2:08 بجے حمزہ کے دروازے پر دستک ہوئی۔

ٹھک... ٹھک... ٹھک...

وہ حیران ہوا، کیونکہ اس وقت پورے محلے میں خاموشی تھی۔

دروازے کے باہر ایک چھوٹا سا کالا پارسل رکھا تھا۔

پارسل پر نہ نام تھا، نہ پتہ۔

صرف ایک جملہ لکھا تھا:

"اسے صبح 6 بجے سے پہلے مت کھولنا۔"

حمزہ نے پارسل اندر لے آیا۔

وہ ابھی اسے میز پر رکھ ہی رہا تھا کہ اس کے فون پر نامعلوم نمبر سے میسج آیا:

"پارسل تم تک پہنچ گیا؟"

حمزہ نے فوراً جواب دیا:

"تم کون ہو؟"

جواب آیا:

"وہ شخص جو جانتا ہے کہ تم نے 10 سال پہلے کیا دیکھا تھا۔"

حمزہ کے ہاتھ سے فون تقریباً گر گیا۔

اس نے فوراً پارسل کو دیکھا۔

اچانک اندر سے ٹک... ٹک... ٹک کی آواز آنے لگی۔

جیسے کوئی چیز اندر سے باکس پر دستک دے رہی ہو۔

حمزہ نے گھبرا کر پارسل کو دور کر دیا۔

پھر فون پر ایک تصویر آئی۔

تصویر میں حمزہ خود اپنے کمرے میں کھڑا تھا۔

لیکن تصویر ابھی کی نہیں تھی۔

تصویر کے نیچے تاریخ تھی:

"15 جون 2016 — رات 2:08"

حمزہ کو دس سال پہلے کی ایک دھندلی یاد آئی...

ایک حادثہ۔

ایک چیختا ہوا بچہ۔

اور ایک ایسا راز جسے اس نے ہمیشہ کے لیے بھلا دیا تھا۔

اسی لمحے پارسل کے اندر سے ایک بچے کی آواز آئی:

"حمزہ... مجھے یہاں سے نکالو۔" 😨

حمزہ پیچھے ہٹ گیا۔

کیونکہ وہ آواز...

بالکل اسی بچے کی تھی جو 10 سال پہلے غائب ہو گیا تھا۔

جاری رہے گا...

💬 **آپ کے خیال میں پارسل کے اندر کیا ہے؟

Address

Los Angeles, CA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when QISSA KHANI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share