A & J Law Associates

A & J Law Associates Deals in:

Criminal Matters
Civil Matters
Narcotics Matters
Family Matters

29/04/2026

🚨 بڑی خبر: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ - اب بلاوجہ گرفتاری نہیں ہوگی! 🚨
​سپریم کورٹ آف پاکستان نے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest Bail) کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور جدید قانونی اصول واضح کر دیا ہے۔
​فیصلہ کیا ہے؟ ⚖️
​عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ:
​"اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت خارج ہونے کی صورت میں وہ بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار بن جائے گا، تو ایسی صورت میں ملزم کو جیل بھیجنا محض ایک 'کاغذی کارروائی' (Procedural Formality) ہوگی جس کا کوئی تعمیری مقصد نہیں ہے۔"
​اس کا آسان مطلب کیا ہے؟
​اکثر کیسز میں پولیس اور مخالف فریق صرف ملزم کو ذلیل کرنے کے لیے جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ اگر کیس ایسا ہے جس میں بعد میں ضمانت ملنی ہی ملنی ہے، تو ملزم کو صرف "رسم پوری کرنے" کے لیے جیل میں ڈالنا انسانی وقار اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
​اہم حوالہ (Reference):
​📖 PLJ 2026 Supreme Court (Criminal) 21
کیس: محمد اختر بنام سرکار (Muhammad Akhtar Vs State)
​اس فیصلے کے فوائد:
✅ بے گناہ شہریوں کی عزتِ نفس کا تحفظ ہوگا۔
✅ جیلوں میں بلاوجہ کا رش کم ہوگا۔
✅ انتقامی کارروائیوں کا راستہ رکے گا۔

21/04/2026

شناختی کارڈ اور ذاتی معلومات (NADRA)
8000: شناختی کارڈ کی تصدیق (CNIC Verification)
668: نام پر رجسٹرڈ سموں کی تعداد جاننا
8300: ووٹ کی معلومات اور پولنگ اسٹیشن
8001: فیملی شجرہ کی تصدیق (Family Tree)
8008: شناختی کارڈ کی ایکسپائری ڈیٹ چیک کرنا
8005: قریبی نادرا سینٹر کا پتہ معلوم کرنا

گاڑی کی تصدیق (Excise / Vehicle Verification)

8149: پنجاب گاڑی کی رجسٹریشن چیک کریں
8521: اسلام آباد گاڑی کی رجسٹریشن

ڈراہوینگ لاسنس کی تصدیق ( Driving Licence Verification)

8147: پنجاب ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق
6040: سندھ ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق

پاسپورٹ کی تصدیق ( Passport Verification)

9988: پاسپورٹ بننے کی صورتحال (Passport Status)

مالی امداد اور صحت (Govt Schemes)

8171: بے نظیر انکم سپورٹ / احساس پروگرام میں اہلیت
8500: صحت کارڈ کی اہلیت اور ہسپتال کی معلومات
8123: مفت راشن پروگرام میں رجسٹریشن
8900: وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کی اہلیت

موبائل اور انٹرنیٹ (PTA)

8484: موبائل فون کی پی ٹی اے (PTA) سے تصدیق
* #06 #: اپنے موبائل کا IMEI نمبر معلوم کرنا
667: سم کس کے نام پر ہے؟ (سم سے 'MNP' لکھ کر بھیجیں)

ہنگامی حالات اور شکایات (Emergency)

15: پولیس مدد (Police Help)
1122: ایمبولینس اور فائر بریگیڈ
130: موٹروے پولیس ہیلپ لائن
1991: سائبر کرائم (آن لائن فراڈ) کی شکایت (FIA)
1033: اینٹی کرپشن ہیلپ لائن
ھرل فاؤنڈیشن انٹرنیشنل

20/04/2026

عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبائل، یا نقدی وغیرہ) اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ پاکستان میں اس کا طریقہ کار اور متعلقہ قوانین درج ذیل ہیں:
1. متعلقہ قانونی دفعات (Legal Sections)
​سپرداری کا معاملہ بنیادی طور پر مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کے باب 43 (Chapter 43) میں بیان کیا گیا ہے:
​دفعہ 516-A CrPC: یہ دفعہ اس مال کی سپرداری سے متعلق ہے جو مقدمے کی سماعت (Trial) کے دوران عدالت کی تحویل میں ہوتا ہے۔ اگر مال خراب ہونے والا ہو یا اس کی حفاظت مشکل ہو، تو عدالت اسے کسی شخص کے حوالے کر سکتی ہے۔
​دفعہ 523 CrPC: جب پولیس کوئی مال دفعہ 51 یا کسی جرم کے شبہ میں قبضے میں لیتی ہے لیکن وہ مال ابھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہوتا، تو مجسٹریٹ اس کی واپسی کا حکم دے سکتا ہے۔
​2. سپرداری کرانے کا طریقہ کار (Procedure)
​سپرداری حاصل کرنے کے لیے درج ذیل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے:
​درخواست کی پیشی: مال کا اصل مالک (یا جس کے قبضے سے مال لیا گیا ہو) متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں دفعہ 516-A یا 523 CrPC کے تحت درخواست دائر کرتا ہے۔
​پولیس رپورٹ (Comments): عدالت پولیس سے اس مال کی حیثیت اور قبضے کی رپورٹ طلب کرتی ہے۔ پولیس بتاتی ہے کہ آیا مال مقدمے میں بطور "مقدمہ مال" (Case Property) ضروری ہے یا نہیں۔
​ملکیت کے ثبوت: درخواست گزار کو اپنی ملکیت ثابت کرنی ہوتی ہے (مثلاً گاڑی کی رجسٹریشن بک، انوائس، یا دیگر دستاویزات)۔
​عدالتی حکم اور مچلکہ (Surety Bond): اگر عدالت مطمئن ہو جائے، تو وہ سپرداری منظور کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں درخواست گزار کو ایک "روبکار" جاری کی جاتی ہے، لیکن اس سے پہلے اسے مال کی مالیت کے برابر ضمانتی مچلکہ (Bond) جمع کرانا پڑتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مال عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
​3. سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے رہنما اصول (Case Laws)
​اعلیٰ عدالتوں نے سپرداری کے حوالے سے کچھ اہم اصول طے کیے ہیں:
​مال کا ضائع ہونا: سپریم کورٹ نے کئی بار یہ واضح کیا ہے کہ گاڑیوں یا مشینوں کو تھانے میں کھڑا کر کے زنگ لگنے کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس سے قومی اثاثہ ضائع ہوتا ہے۔ لہٰذا، سپرداری جلد از جلد ہونی چاہیے (2011 SCMR 1500).
​مالک کا حق: ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق، اگر ملکیت کے بارے میں کوئی تنازع نہ ہو، تو اصل مالک کو ترجیحی بنیادوں پر سپرداری ملنی چاہیے (PLD 2005 Lahore 27).
​کرمنل کیس اور سپرداری: اگر کسی گاڑی کا انجن یا چیسس نمبر ٹیمپرڈ (Tampered) ہو، تو ایسی صورت میں سپرداری دینے میں عدالتیں زیادہ احتیاط برتتی ہیں اور عام طور پر ایسی گاڑیاں مالک کے حوالے نہیں کی جاتیں جب تک فرانزک رپورٹ نہ آ جائے۔
​اہم نکات برائے وکیل
​بنا برآمدگی: اگر پولیس نے مال غلط طریقے سے قبضے میں لیا ہے، تو آپ دفعہ 523 CrPC کا سہارا لیں۔
​مال کی حفاظت: سپرداری لیتے وقت یہ شرط ہوتی ہے کہ آپ مال کو بیچیں گے نہیں اور نہ ہی اس کی شکل تبدیل کریں گے، کیونکہ وہ ٹرائل کے دوران بطور ثبوت پیش کرنا پڑ سکتا ہے۔
عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبائل، یا نقدی وغیرہ) اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ پاکستان میں اس کا طریقہ کار اور متعلقہ قوانین درج ذیل ہیں:

Address

Chamber # 13 Taxila Court Complex Distt Rawalpindi
Wah
47040

Opening Hours

Monday 08:00 - 15:00
Tuesday 08:00 - 15:00
Wednesday 08:00 - 15:00
Thursday 08:00 - 15:00
Friday 08:00 - 12:30
Saturday 08:00 - 15:00

Telephone

+923314747478

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when A & J Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to A & J Law Associates:

Shortcuts

Share