Alwakeel law Associates

Alwakeel law Associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Alwakeel law Associates, Lawyer & Law Firm, Alwakeel law association District Courts Taunsa sharif, Taunsa.

Alwakeel Law Associates
Barrister Mohsin-ur-Rehman Khetran
Advocate Shoaib Buzdar

📍 Taunsa Sharif | Dera Ghazi Khan | Multan Bench
⚖️ Criminal | Civil | Family | Narcotics | Constitutional
📞 0333-0673333 | 0321-6396237
📩 [email protected]

10/05/2026
10/05/2026

Scope of Articles 46(5) and 64 of Qanun-e-Shahadat Order, 1984.

Article 46(5) of Qanun-e-Shahadat Order, 1984 is not attracted in terms of principle ante litem motam, as the statement was made after the dispute had arisen, therefore, no admissibility or weightage is legally attributable to the statement of late Afsari Begum. Constraints prescribed under clause (5) of Article 46 of Qanun-e-Shahadat Order, 1984 are clear.

Lapse of almost 40 years is another impediment. There is no cavil that in matters of inheritance, courts had liberally applied limitation, however, petitioners were required to bring cogent evidence on record to justify their silence for forty years, which they apparently failed. There is no explanation that why after demise of their so-called mother they did not seek their share in her inheritance. Judgements referred are distinguishable on facts.

Civil Revision.4025-10
KAFIA BIBI ETC VS ALAM ALI ETC
Mr. Justice Asim Hafeez
20-04-2026
2026 LHC 2963

10/05/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کا منشیات کے مقدمات میں تفتیش کے حوالے سے اہم فیصلہ۔

​1. کیس کی بنیادی تفصیلات
​مقدمہ نمبر: Crl.P.L.A.No.647/2023 اور J.P.No.199/2023۔
​درخواست گزار: عبدالرحیم اور لاجبر۔

​الزام: حیدرآباد کے قریب ایوب ہوٹل کے پاس سے گرفتاری کے دوران دونوں ملزمان سے بالترتیب 11، 11 کلو چرس (کل 22 کلو) کی برآمدگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

​سزا:
ٹرائل کورٹ نے منشیات ایکٹ (CNSA) کی دفعہ 9(c) کے تحت دونوں کو عمر قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

​2. مدعی کا بطور تفتیشی افسر کردار (اصولی اعتراض)
​عدالت نے اس نکتے پر تفصیلی بحث کی کہ کیا ایک ہی شخص مدعی اور تفتیشی افسر (I.O.) ہو سکتا ہے؟

​جانبداری کا خدشہ:
عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ تکنیکی طور پر یہ غیر قانونی نہیں ہے، لیکن ایک مدعی سے یہ توقع رکھنا ناممکن ہے کہ وہ اپنے ہی درج کردہ مقدمے کی تفتیش کھلے ذہن اور غیر جانبداری سے کرے گا۔

​شفافیت کی کمی:
مدعی ہمیشہ سزا دلوانے کی کوشش کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ صرف وہی ثبوت اکٹھے کر سکتا ہے جو اس کے اپنے موقف کو درست ثابت کریں۔

​منشیات کے کیسز:
عدالت نے خاص طور پر منشیات کے مقدمات میں اس عمل کی حوصلہ شکنی کی کیونکہ ان میں سزائیں انتہائی سخت ہوتی ہیں۔

​3. تفتیش اور ریکارڈ میں قانونی خامیاں
​عدالت نے تفتیشی عمل میں درج ذیل سنگین کوتاہیوں کی نشاندہی کی:

​تقرری میں تضاد:
ایف آئی آر کے مطابق تفتیش 'اعلیٰ حکام' نے سونپی، جبکہ عدالت میں مدعی نے بیان دیا کہ اسے ایس ایچ او (SHO) نے تفتیش کا حکم دیا تھا۔ یہ بیانات ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔

​موقع پر تفتیش نہ ہونا:
تفتیشی افسر نے موقع پر گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کیے بلکہ تھانے جا کر دفعہ 161 Cr.P.C کے تحت بیانات لکھے، جس سے یہ شک پیدا ہوا کہ یہ بیانات مشاورت اور ملی بھگت سے تیار کیے گئے۔

​ریکوری گواہ کے دستخط:
مدعی کا دعویٰ تھا کہ برآمد شدہ پارسلز پر اس کے اور گواہوں کے دستخط ہیں، لیکن عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ریکوری گواہ (PW2) کے دستخط پارسلز پر نظر نہیں آ رہے تھے۔

​4. مالِ مقدمہ کی ترسیل اور لیبارٹری رپورٹ (Safe Custody)
​عدالت نے مالِ مقدمہ (Case Property) کے ہینڈلنگ پر بھی سخت اعتراضات کیے:

​روڈ سرٹیفکیٹ کی عدم موجودگی:
تفتیشی افسر نے مالِ مقدمہ ایک کانسٹیبل (امین) کے حوالے کیا تاکہ وہ اسے کراچی لیبارٹری لے جائے، لیکن اس کے لیے ضروری 'روڈ سرٹیفکیٹ' جاری نہیں کیا گیا۔

​رجسٹر نمبر 19:
تھانے کے ریکارڈ (رجسٹر نمبر 19) میں اس بات کا کوئی اندراج نہیں تھا کہ کانسٹیبل کو یہ مواد لیبارٹری لے جانے کا اختیار دیا گیا ہے۔

​مہروں کی حالت:
ریکارڈ سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جب پارسل عدالت میں پیش کیے گئے تو کیا لیبارٹری کی مہریں صحیح سلامت تھیں یا نہیں۔

​5. حتمی قانونی نتیجہ
​عدالت نے اپنے فیصلے کے آخر میں یہ سنہری اصول واضح کیا:
​شک کا فائدہ: فوجداری قانون کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ اگر استغاثہ کے کیس میں معمولی سا شک بھی پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ لازمی طور پر ملزم کو ملنا چاہیے۔
​آئینِ پاکستان: آرٹیکل 10A کے تحت ہر شہری کو 'فیئر ٹرائل' (منصفانہ سماعت) کا بنیادی حق حاصل ہے، جس کی اس کیس میں خلاف ورزی ہوئی۔
​فیصلہ: ان تمام وجوہات کی بنا پر، سپریم کورٹ نے 10 فروری 2026 کو جاری ہونے والے اپنے مختصر حکم نامے کے ذریعے ملزمان کی اپیلیں منظور کیں، پچھلی تمام سزائیں ختم کیں اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔

08/05/2026

*بوقت ریمانڈ، مجسٹریٹ، تفتیشی کو صفحہ مثل پر موجود مواد کے مطابق، کوئی جرم لگانے یا حذف کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔* . *(2021 PCrLJ 293).*

*کوئی شخص قانون سے بالاتر نہ ہے جرم کرنے کی صورت ميں کسی قاضی، مجسٹریٹ جج یا جوڈیشل آفیسر کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔* *(PLD 2020 QUE 26).*

*مدعی، مجسٹریٹ کی، پولیس کی استدعا ریمانڈ جسمانی، مسترد کر کے، ملزم کو حوالات جوڈیشل بھجوانے کے آرڈر کو، چیلنچ نہ کر سکتا ہے۔ یہ اختیار تفتیشی کا ہے۔* . *(2017 PCrLJ 691).*

*اگر دوران تفتیش، ریمانڈ جسمانی کوئی پراگرس نہ ہو، تو چوری کیس میں 7/8 یوم سے زائد ریمانڈ جسمانی نہ ہو گا۔* . *(2005 PCrLJ 1709).*

*اگر پولیس 6/7 روز کے ریمانڈ جسمانی میں کوئی پراگرس نہ کر سکے تو ملزم کا مزید ریمانڈ جسمانی دینا قرین انصاف نہ ہے.* . . *(2005 YLR 854).*
*بوقت ریمانڈ، مجسٹریٹ، تفتیشی کو صفحہ مثل پر موجود مواد کے مطابق، کوئی جرم لگانے یا حذف کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔*

08/05/2026

یہ مقدمہ Control of Narcotic Substances Act, 1997 کی دفعہ 9(c) کے تحت منشیات کی مبینہ برآمدگی سے متعلق تھا، جس میں استغاثہ کا مؤقف تھا کہ 42 کلو گرام چرس ایک گاڑی سے برآمد ہوئی جسے ایک ملزم چلا رہا تھا جبکہ دیگر تین افراد بھی اس میں موجود تھے۔ ٹرائل کورٹ نے ملزمان کو سزا سنائی اور ہائیکورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

تاہم سپریم کورٹ نے شواہد کا ازسرِ نو جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ اپنی کہانی کو مطلوبہ معیارِ ثبوت پر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ اس مقدمے میں سب سے اہم کڑی یعنی منشیات کی محفوظ تحویل اور ترسیل کا تسلسل (chain of custody) ثابت نہیں کیا گیا۔ ریکارڈ پر یہ بھی واضح نہ تھا کہ فارم-19 میں اندراج کب کیا گیا، جو قانونی تقاضوں میں شامل ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ کارروائی موقع پر مکمل کرنے کے بجائے تھانے منتقل کی گئی، جس سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ ملزمان کے پاس منشیات کی خصوصی اور شعوری تحویل موجود تھی۔ مبینہ برآمدگی کو تمام ملزمان کے ساتھ مشترکہ طور پر منسوب کیا گیا، جبکہ انفرادی ذمہ داری کی کوئی واضح تقسیم موجود نہ تھی۔

یہ بات بھی عدالت کے نزدیک غیر قرینِ قیاس تھی کہ منشیات اسمگل کرنے والے افراد اسے اس طرح کھلے عام اپنے پاؤں کے قریب رکھیں۔ مزید برآں، برآمد شدہ نمونوں کی محفوظ تحویل ثابت نہ ہو سکی کیونکہ متعلقہ مال خانہ رجسٹر پیش نہیں کیے گئے، اور مدعی خود ہی تفتیشی افسر تھا، جس سے تفتیش کی غیر جانبداری متاثر ہوئی۔

ان حالات میں عدالت نے قرار دیا کہ Section 29 CNSA 1997 کے تحت قانونی مفروضہ بھی لاگو نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ استغاثہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا۔ چنانچہ عدالت نے اصولِ قانون کو دہراتے ہوئے کہ شک کا فائدہ ملزم کا حق ہوتا ہے، اپیل منظور کی، سزائیں کالعدم قرار دیں اور ملزمان کو بری کر دیا۔

📢 علم پھیلانا صدقہ جاریہ ہے

محمڈن لاء کے تحت مہر (Dower) کسی بھی نوعیت کی جائیداد پر مشتمل ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے یہ لازم ہے کہ شوہر کو اس جائید...
08/05/2026

محمڈن لاء کے تحت مہر (Dower) کسی بھی نوعیت کی جائیداد پر مشتمل ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے یہ لازم ہے کہ شوہر کو اس جائیداد کی منتقلی کا قانونی اختیار (title) حاصل ہو۔ جہاں جائیداد متعدد ورثاء کی مشترکہ ملکیت ہو، وہاں شوہر یا کوئی بھی شخص پوری جائیداد کو بطورِ مہر منتقل کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔ ایک شخص اپنی ملکیت کے حصے سے زیادہ منتقل نہیں کر سکتا، اور اس کے حصہ سے زائد کسی بھی منتقلی کو قانوناً غیر مؤثر اور دیگر شریک مالکان کے خلاف ناقابلِ نفاذ تصور کیا جائے گا۔ شریک مالک کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ پوری مشترکہ جائیداد کو اس انداز سے منتقل کرے جو دیگر شرکاء کے حقوق کے منافی ہو۔ لہٰذا اگرچہ مہر کے طور پر کسی جائیداد کا اعلان موجود ہو، تاہم اس کا اطلاق صرف اسی حد تک مؤثر ہوگا جس حد تک شوہر یا اس کی والدہ کو وراثت میں حصہ حاصل ہے۔

دفعہ 12(2) ضابطہ دیوانی (CPC) ایک متاثرہ فریق کو یہ حق فراہم کرتی ہے کہ وہ ایسے فیصلہ، ڈگری یا حکم کو چیلنج کرے جو دھوکہ دہی، غلط بیانی یا دائرہ اختیار کی کمی کے ذریعے حاصل کیا گیا ہو۔ یہ ایک غیر معمولی (extraordinary) نوعیت کا قانونی چارہ جوئی ہے جس کا مقصد ایسے عدالتی فیصلوں کو کالعدم قرار دینا ہے جو دھوکہ یا غلط بیانی کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ہوں۔ تاہم اس دفعہ کے تحت درخواست لازماً اسی عدالت کے روبرو دائر کی جائے گی جس نے اصل فیصلہ، ڈگری یا حکم صادر کیا ہو۔

سول پٹیشن نمبر 5073 برائے سال 2025
نعمان رشید و دیگر بنام مسماۃ نگہت میانداد و دیگر
مورخہ 06-04-2026

08/05/2026

کیا "قانوناً بری ہونا " اور "باعزت بری ہونا" ایک جیسا ہے؟

ایک ملزم سرکاری ملازم کی ملازمت پہ ان دونوں کا اثر کیا مختلف ہوتا ہے؟

کیا فوجداری قانون ان دونوں میں کوئی فرق بیان کرتا ہے یا روا رکھتا ہے؟

اس حوالے سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا سال 1998 کا ایک اہم فیصلہ:

فیصلہ کے تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ:

21 اگست 1989 کو تھانہ کاٹلنگ ضلع مردان میں محمد رحیم کے رپورٹ پر بر خلاف ڈاکٹر محمد اسلم اور فضل محمد پر زیر دفعہ 302/34PPC شیر زمین کے قتل کے الزام میں مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔

بیانات ریکارڈ ہونے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج صاحب 9/6/1992 کو فیصلہ جاری کرتا ہے کہ،
"مستغیث (محمد رحیم ) کے بیان کے مطابق وہ ملزم(ڈاکٹر محمد اسلام ) پر الزام عائد نہیں کر سکے۔ مستغیث کے بیان کے بعد S.P.P بھی بیان دیتا ہے کہ وہ ملزم کے خلاف پراسیکیوشن سے دستبردار ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا بیانات کو دیکھتے ہوئے ملزم کے خلاف کوئی مقدمہ باقی نہیں رہتا، اسلئے ملزم کے خلاف کوئی چارج فریم نہیں کیا گیا اور ان کو موجودہ مقدمے میں ان کے خلاف لگائے گئے الزام سے بری کر دیا جاتا ہے۔
ملزم چونکہ سرکاری ملازم(Veterinary officer) تھا جس کو مقدمہ ھذا میں ملوث ہونے کے بعد پہلے دن سے معطل کیا گیا تھا اسلئے بری ہونے کے بعد انہوں نے مورخہ 29/06/1992 کو سروس بحالی کیلئے درخواست دی جو 07/04/1993 کو مجاز اتھارٹی نے منظور کی اور ان کی سروس کو مقدمے والے دن سے بحال تصور کیا گیا، لیکن انکے معطلی کا دورانیہ یعنی 22/08/1989 سے 07/04/1993 تک کو بغیر کسی تنخواہ کے غیر معمولی چھٹی کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

ملزم نے تنخواہ اور الاؤنس کےلئے Secretary Food,Agriculture, livestock & Cooperative Department, Peshawar کو درخواست دی،جو 19/06/1993 کو خارج ہوئی، اس کے بعد ملزم نےN.W.F.P سروس ٹربیونل میں اپیل کیا جو 24/08/1994 کو اس گراؤنڈ پر خارج کی گئی کہ ایپل کنندہ کی بریت مخالف فریق کے ساتھ راضی نامہ کی بنیاد پر ہے اس لئے ایپل کنندہ کو "باعزت بری"نہیں مانا جاسکتا۔ٹربیونل نے سپریم کورٹ کے فیصلے(PLD 1976 SC 202) کو بنیاد بنا کر اپیل خارج کی۔ جس میں یہ قرار دیا جا چکا تھا کہ"ایپل کنندہ کی بریت مستغیث کے ساتھ راضی نامہ کی بنیاد پر ہے اسلئے یہ "باعزت بری"( Honourable Acquittal) نہیں سمجھا جاسکتا"

ایپل کنندہ نے N.W.F.P سروس ٹربیونل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور درخواست (CPLA) دائر کی جوکہ 14/05/1995 کو منظور ہوئی۔

عدالت کے سامنے قانونی سوال:

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ(جسٹس سعیدالزمان صدیقی، جسٹس راجہ افراسیاب خان اور جسٹس وجیہ الدین احمد) کے سامنے سیدھا سادہ سوال یہ تھا کہ وہ بریت جو راضی نامہ کی بنیاد پر ہو "باعزت" تصور ہوگا یا نہیں؟
فیصلہ:
دلائل سنے اور ریکارڈ جانچنے کے بعد عدالت یہ قرار دیتی ہے کہ مقدمہ ھذا میں ملزم بری ہے۔
اور ملزم اس وقت تک معصوم اور بے گناہ ہیں جب تک ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بغیر شکوک و شبہات ثابت نہیں ہو جاتے ۔
یہ اصول فوجداری قانون کے طے شدہ اصولوں میں سے ایک ہے کہ سزا کے فیصلے کے لیے یہ پراسیکیوشن پر لازم ہے کہ وہ تمام شکوک و شبہات سے بالاتر ہو کر مقدمہ قائم/ثابت کرے،اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو، ملزم بری ہونے کا حقدار ہوگا، اور ایسی بریت باعزت ہوگی،خواہ وہ شک کے فائدہ کا نتیجہ ہو یہ کمپرومائز کی بنیاد پر ہو۔

دلائل کے دوران دونوں فریقین کے وکلاء صاحبان نے یہ تسلیم کیا کہ ضابطہ فوجداری یا قانون میں کہی اور جگہ پر "بری" اور "باعزت" میں کوئی امتیاز بیان نہیں کیا گیا ہے،اسلئے اگر ملزم کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا اور ٹرائل کورٹ اسے بری کرتا ہے تو وہ بریت "باعزت" بریت ہوگا۔
"All acquittals are "Honourable" and there can be no acquittals, which may be said to be dishonourable."
جیسا کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو بری کر دیا ہے اسلئے یہ تصور کرنا لازم ہے کہ ملزم پر لگایا گیا الزام بے بنیاد تھا،جس کے نتیجے میں ملزم معصوم بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے متفقہ طور پر اپیل منظور کرتے ہوئے، ایپل کنندہ کو تنخواہ اور الاؤنسز کے بقایاجات کا حقدار قرار دیا جو ایپل کنندہ کے خلاف قتل کے مقدمے کی رجسٹریشن کی بنیاد پر معطل کیے گیے تھے۔

Citation:
1998 SCMR 1993

19/04/2026

پاکستان میں CRPC کی دفعہ 22-A اور 22-B (جسے عام طور پر "جسٹس آف پیس" کے اختیارات کہا جاتا ہے) پولیس کی جانب سے ایف آئی آر (FIR) درج نہ کرنے یا تفتیش میں کوتاہی کے خلاف ایک مؤثر قانونی ہتھیار ہے۔
اعلیٰ عدالتوں، خاص طور پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اس کے سکوپ (Scope) پر انتہائی اہم فیصلے دیے ہیں۔ ذیل میں اس کی مکمل تفصیل درج ہے:
1. سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: PLD 2016 Supreme Court 662
(یونس عباس بنام ایڈیشنل سیشن جج)
یہ اس موضوع پر سب سے بڑی ججمنٹ ہے جس میں سپریم کورٹ نے جسٹس آف پیس (سیشن جج) کے اختیارات کو واضح کیا:
• ایف آئی آر کا اندراج: اگر کسی سائل کی درخواست سے "قابلِ دست اندازی جرم" (Cognizable Offence) کا وقوعہ بنتا ہو، تو جسٹس آف پیس پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے کا پابند ہے۔
• انتظامی اختیارات: عدالت نے قرار دیا کہ جسٹس آف پیس کے یہ اختیارات "انتظامی" (Administrative) نوعیت کے ہیں، نہ کہ خالصتاً عدالتی۔
• پولیس کی کوتاہی: اگر پولیس تفتیش میں جانبداری برتے یا سائل کی بات نہ سنے، تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔
2. سپریم کورٹ آف پاکستان: 2007 SCMR 538
اس فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ:
• جسٹس آف پیس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ وقوعہ کی سچائی کا فیصلہ کرے (کہ واقعہ سچا ہے یا جھوٹا)۔
• اس کا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ کیا دی گئی درخواست سے کوئی جرم بنتا ہے؟ اگر جواب "ہاں" ہے، تو وہ فوری طور پر پرچہ درج کرنے کا حکم دے گا۔
3. لاہور ہائی کورٹ: PLD 2005 Lahore 470
اس ججمنٹ میں ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ:
• جسٹس آف پیس پولیس کے کام میں بے جا مداخلت نہیں کرے گا، لیکن جہاں پولیس اپنے قانونی فرائض (سیکشن 154 کے تحت ایف آئی آر درج کرنا) پورے نہیں کرے گی، وہاں عدالت خاموش نہیں بیٹھے گی۔
• سائل کو پہلے ایس ایچ او (SHO) یا ایس پی (SP) کے پاس جانا چاہیے، اگر وہاں شنوائی نہ ہو تو پھر 22-A کی درخواست دینی چاہیے۔
جسٹس آف پیس (22-A/22-B) کے اختیارات کا خلاصہ:
اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں جسٹس آف پیس کے درج ذیل اختیارات ہیں:
1. ایف آئی آر کا حکم دینا: جب پولیس دفعہ 154 کے تحت پرچہ درج کرنے سے انکار کرے۔
2. تفتیش کی تبدیلی (Transfer of Investigation): اگر تفتیش غیر منصفانہ ہو، تو عدالت اسے تبدیل کرنے کا حکم دے سکتی ہے (تاہم اب یہ اختیار تھوڑا محدود کر دیا گیا ہے)۔
3. پولیس کی غفلت: پولیس اہلکاروں کے خلاف ان کے فرائض میں کوتاہی پر کارروائی کا حکم دینا۔
4. گرفتاری یا ہراسگی: اگر پولیس کسی شہری کو بلاوجہ ہراساں کر رہی ہو، تو عدالت تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔
موجودہ قانونی پوزیشن:
سپریم کورٹ نے حالیہ برسوں میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ شہریوں کو براہِ راست عدالت آنے کے بجائے پہلے پولیس کے اعلیٰ افسران (جیسے SP شکایت سیل) سے رجوع کرنا چاہیے، اور اگر وہاں ریلیف نہ ملے تو پھر 22-A کے تحت سیشن عدالت آنا چاہیے۔
ایک قانونی نکتہ: اگر آپ سوشل میڈیا یا کسی قانونی بحث کے لیے یہ حوالہ استعمال کر رہے ہیں، تو PLD 2016 SC 662 کا حوالہ سب سے زیادہ مستند ہے، کیونکہ اس نے برسوں سے چلی آ رہی قانونی الجھنوں کو ختم کر دیا تھا۔

It is necessary to clarify that Mulla’s Principles of Mahomedan Law is a respected reference work and frequently cited f...
19/04/2026

It is necessary to clarify that Mulla’s Principles of Mahomedan Law is a respected reference work and frequently cited for its exposition of Islamic personal law as applied in the sub-continent. However, it is not a source of law in itself. Where the statutory scheme or binding judicial authority provides clear guidance, resort to such secondary commentaries must remain subordinate. Kaneez Fatima’s case affirms that the legal effectiveness of a Talaq in Pakistan is governed by section 7 of the MFLO, irrespective of the form in which it is pronounced. The limited exceptionrecognized in Kaneez Fatima is with respect to divorces effected through mutual consent (Mubara’at).
Jameel AhmadVs. The State and others
PLD 2026 Lahore 343

Address

Alwakeel Law Association District Courts Taunsa Sharif
Taunsa
32100

Opening Hours

Monday 07:00 - 16:00
Tuesday 07:00 - 16:00
Wednesday 07:00 - 16:00
Thursday 07:00 - 16:00
Friday 07:00 - 16:00
Saturday 07:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alwakeel law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share