14/09/2026
اصل میں اس بچی کا درد صرف اُس کی ماں اور باپ ہی جان سکتے ہیں۔ وہ کیسے روئی ہوگی، اُس درندے نے اُس کی جان کیسے لی ہوگی—یہ سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے۔
افسوس ہے کہ اُسے گرفتار کرنے کے بعد بھی اس واقعے پر کوئی مؤثر رپورٹ یا آواز سامنے نہیں آئی۔ شاید ہم اُس پاکستان میں رہتے ہیں جہاں مسلمانوں کا ضمیر مر چکا ہے، اور جب ضمیر مر جائے تو لوگوں کی بیٹیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے
آج دعا ہے، کل کوئی اور ہوگی۔ بس جب تک ایسے لوگوں کو سرِعام سخت سزا نہیں دی جائے گی، ہماری بیٹیاں محفوظ نہیں ہو سکتیں