04/01/2026
یہ اعجاز ہے حسنِ اوارگی کا
وینزویلا کے تازہ واقعات کے بعد اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ لاطینی امریکہ میں “جمہوریت اور انسانی حقوق” کے نام پر امریکی مداخلت کوئی نئی بات ہے، تو ذرا تاریخ کے اوراق پلٹنے کی ضرورت ہے۔
گوئٹے مالا (1954)
ہدف: صدر جیکوبو آربنز
طریقہ: CIA آپریشن (PBSUCCESS)
انجام: استعفیٰ اور جلا وطنی
اصل پس منظر: زرعی اصلاحات اور United Fruit Company کے مفادات۔
ڈومینیکن ریپبلک (1965)
ہدف: صدر خوان بوش
طریقہ: امریکی فوجی مداخلت
انجام: حکومت کا خاتمہ
جواز: “کمیونزم کا خطرہ”
چلی (1973)
ہدف: منتخب صدر سالوادور ایاندے
طریقہ: فوجی بغاوت، CIA کی دستاویزی معاونت
انجام: ایاندے ہلاک
سرد جنگ کے اس معرکے میں Bulletنے Ballotکو ناکام کردیا۔
نکاراگوا (1980 کی دہائی)
ہدف: سینڈنسٹا حکومت
طریقہ: کونٹرا ملیشیاؤں کی مالی و عسکری مدد
انجام: مسلسل خانہ جنگی اور عدم استحکام
یہ براہِ راست قبضہ نہیں، مگر بے نامئ و مجازی (Proxy) جنگ تھی۔
پاناما (1989)
ہدف: جنرل مانیول نوریگا
طریقہ: براہِ راست امریکی فوجی یلغار (Operation Just Cause)
انجام: نوریگا گرفتار، امریکہ منتقل، قید کی سزا
یہ کھلا فوجی Regime Change تھا، کسی پردے کے بغیر۔
ہونڈوراس (2009)
ہدف: منتخب صدر مانوئل زیلایا
طریقہ: فوجی بغاوت (بالواسطہ امریکی تائید)
انجام: صدر کو گرفتار کر کے ملک بدر
امریکہ نے پہلے “تشویش” ظاہر کی، پھر نئی حکومت کو قبول کر لیا۔
بولیویا (2019)
ہدف: صدر ایوو مورالیس
طریقہ: فوجی دباؤ + سیاسی بحران
انجام: استعفیٰ، جلا وطنی
نوٹ: بعد کے انتخابات میں انہی کی جماعت اقتدار میں واپس آئی ۔
ان تمام مثالوں میں بیانیہ مختلف تھا:, کہیں کمیونزم، کہیں منشیات، کہیں جمہوریت، کہیں انسانی حقوق…
مگر انجام ایک سا یعنی کمزور ریاستیں، بکھری جمہوریت، اور بیرونی مفادات کا غلبہ۔
آج وینزویلا ہو، کل کوئی اور لاطینی امریکہ کی تاریخ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ یہ کہانی نئی نہیں، صرف اسکرپٹ بدلتا ہے۔
_____________________________________________________________________________
آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔