Kalam Property Junction

Kalam Property Junction Real Estate Service

واہ واہ
14/01/2026

واہ واہ

ایران میں حالیہ شورش محض عوامی احتجاج نہیں بلکہ جون 2025 والے صہیونی کھیل کا پارٹ 2 تھااس کھیل پر عمل درآمد گزشتہ برس ہی...
14/01/2026

ایران میں حالیہ شورش محض عوامی احتجاج نہیں بلکہ جون 2025 والے صہیونی کھیل کا پارٹ 2 تھا

اس کھیل پر عمل درآمد گزشتہ برس ہی خاموشی سے یوں شروع کردیا گیا تھا

کہ

مارکیٹ سے ایرانی ریال خرید کر غائب کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا

اور جب یہ مرحلہ مکمل ہوا تو اس سے عالمی کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قیمت اچانک 40 فیصد تک گرگئی

جس کے نتیجے بالکل فطری احتجاج شروع ہوا ، جس میں ایرانی پولیس حسب سابق رکاوٹ نہ بنی

وہ پرامن احتجاج میں کبھی بھی رکاؤٹ نہیں بنتی

اگلے مرحلے میں کرد اور ایرانی بلوچ دہشت گرد اس احتجاج میں گھسے اور شروع ہوا اصل کھیل

یعنی جلاؤ گھیراؤ اور خون ریزی

خود ایرانی حکام کہہ رہے ہیں کہ اس کے سو سے زائد سیکیورٹی اہلکار قتل کئے گئے

یاد ہے اس موقع پر ٹرمپ نے کیا بیان دیا تھا ؟

"اگر ایران نے مظاہرین کو نشانہ بنایا تو ہم حملہ کریں گے"

یہی پلان کا حتمی مرحلہ تھا

مگر اس دوران پانچ ممالک ایران کے دفاع کو آئے

اور وہ بھی اپنے انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ

روس اور چین نے آلاتی مدد فراہم کرکے پورے ایران میں سٹارلنک کو جام کیا

جبکہ سعودی، ترکی اور پاکستانی اداروں نے پاکستانی بلوچستان سے لے کر اسرائیل تک پورے علاقے میں گراؤنڈ پر کام سنبھالا

ترکی کا نام دیکھ کر حیرت ہوئی ناں ؟

جی ہاں ! خود ایرانی میڈیا کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹس رپورٹ کر رہے ہیں

"پچھلی بار کے بار کے برخلاف اس بار ترکی نے ہمارا ساتھ دیا"

یہ سوال بہت اہم ہے کہ ترکی نے پارٹی کیوں بدلی ؟

اس کا جواب شام کی صورتحال سے جڑا ہے جہاں نیتن یاہو نے اردگان کی ناک میں دم کر رکھا ہے

سوال یہ بھی اہم ہے کہ سعودی عرب ایران کے دفاع میں اس حد تک کیسے سرگرم ہوگیا ؟

اس کا جواب یمن کی صورتحال سے جڑا ہے

حال ہی میں یو اے ای فورسز کے خلاف سعودیوں نے یمن میں جو آپریشن کئے ان میں ایران نے پوری طرح سعودی عرب کا ساتھ دیا تھا

اس حالیہ کھیل میں آل لہو لہان پوری طرح اسرائیلی کیمپ میں ہے

اگر غور کریں تو صومالی لینڈ معاملے میں بھی یو اے ای اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اور صومالیہ نے ردعمل میں یو ای کے ساتھ اپنے تمام معاہدے منسوخ کردیئے ہیں

اب آپ کو چند کڑیاں دیتے ہیں، ملانا شروع کیجئے

٭ دو ماہ قبل ایران نے کہا، ہمیں بھی پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شامل کیا جائے

٭ حالیہ عرصے میں پاکستانی ملٹری حکام مشرق وسطی کے طوفانی دورے کر رہے ہیں۔ عین حالیہ مظاہروں کے دوران بھی پاکستانی ایئرچیف بغداد میں تھے

ان دوروں میں پاکستان ان ممالک کو انگیج کر رہا ہے جو نقشے پر اسرائیل کے ارد گرد نظر آتے ہیں، یعنی وہ ممالک جو "گریٹر اسرائیل پلان" میں ممکنہ اسرائلی ہدف ہیں

٭ چند ہی روز قبل خبر آئی کہ ترکی بھی پاک سعودی دفاعی معاہدے کا حصہ بننا چاہتا ہے

٭ صرف تین روز قبل ایرانی صدر مسعود پازکشیان نے بیان دیا کہ ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ پاکستان سے لوگ چلیں، ایران، عراق، ترکی اور سعودی عرب تک آزادانہ سفر کریں ؟

٭ محمد بن سلمان نے آج ہی ایک بار پھر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران سے دور رہو !

تجزیہ جب درج بالا کڑیاں جوڑتا ہے تو ایک ایسے مسلم ملٹری بلاک کی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے جس کے ابتدائی ارکان پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکی ہوسکتے ہیں

ذرا ان ممالک کی طاقت سمجھئے

پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے

سعودی عرب جیو سٹریٹیجی میں بڑا عالمی پلیئر ہے، اس کا عالمی سیاسی اثر رسوخ غیر معمولی ہے

ترکی فوجی طاقت بھی ہے لیکن اس کی اصل خصوصیت اس کی عسکری انڈسٹری ہے جو غیر معمولی ہے۔ خاص طور پر ڈرون اور بحری جہازوں کی تیاری میں اس کی حیثیت عالمی سطح پر مسلم ہے

ایران موجودہ عہد میں استعمار کے خلاف مزاحمت کا واحد استعارہ بچا ہے، امریکی اور اسرائیلی لیڈر سونے سے قبل بھی اسی کو سوچتے ہیں اور بیدار ہونے پر بھی اسی کے خیال کے اسیر ہوجاتے ہیں

اب اگر غور کریں تو اسرائیل ایران پر حملے کے لئے کونسا روٹ استعمال کرتا ہے؟

یا تو وہ شام اور ترکی سے ہوکر آذربائجان تک جاتے ہیں اور وہاں سے کیسپئن سی کے اوپر سے ایران پر حملے کے لئے آتے ہیں

یا پھر سیدھا عراق کے اوپر سے آتے ہیں

اگر ترکی، سعودی عرب، اور پاکستان ایک پیج پر ہوں تو اسرائیل کے پاس کیا بچتا ہے ؟

ظاہر ہے اسے ٹھوس شکل دینے میں تھوڑا وقت لگے گا

پہلے معاملات طے ہونے ہیں، پھر ان پر عمل درآمد شروع ہونا ہے

یعنی زمین پر دفاعی حصار قائم ہونے ہیں

اہمیت اس کی یہ ہے کہ یہ ابھرتے مشرق میں فعال مسلم رول ہے

وہی مشرق جسے چین اور روس جیسی بڑی طاقتیں لیڈ کر رہی ہیں

روسی مفکر الیگزینڈر ڈوگن نے پچھلے سال ہی کہا تھا

"مسلم دنیا کو جاگنا ہوگا، اور مشرق کی گیم میں ایک بڑا پلیئر بننا ہوگا"

گویا کام اسی رخ پر ہے جس کی ڈوگن نے آرزو کی تھی

لیکن ایک فوری چیلنج بھی موجود ہے

اور وہ یہ کہ ایران کو فی الحال ایک فوری خطرے کا سامنا ہے

امریکی و اسرائیلی حملے کا خطرہ !

اس کے دوست اس کے ساتھ کھڑے ہیں اور خود ایرانی اپنے ان دوستوں سے کہہ رہے ہیں

"آپ کا بس ساتھ ہی کافی ہے، اسرائیل کو ہم اس بار وہ مار دیں گے کہ اس کے کس بل نکال دیں گے"

سو امید بھی اچھی رکھنی چاہئے اور دعاء بھی کرنی چاہئے

آپ ایک مدت سے سوال کر رہے تھے

"مسلم حکمرانوں کی غیرت کب جاگے گی ؟"

ہمیں لگتا ہے جاگ گئی ! 😍
✍️ بلا رعایت
کاپی پیسٹ

ملائیشیا بھی ہمارے جہازوں کا طلب گار اب انڈونشیا کا دل کر رہا جے ایف 17 تھنڈر خریدنے کا ویسٹرن اے کلاس جیٹ کی قیمت دس کر...
14/01/2026

ملائیشیا بھی ہمارے جہازوں کا طلب گار
اب انڈونشیا کا دل کر رہا جے ایف 17 تھنڈر خریدنے کا
ویسٹرن اے کلاس جیٹ کی قیمت دس کروڑ ڈالر سے اوپر شروع ہوتی ہے ۔ تھنڈر ڈھائی تین کروڑ ڈالر کا ہے جس میں جدید ریڈار بھی لگے ہوئے ہیں اور لانگ رینج میزائل بھی ۔ یہ سمندری نگرانی کے لیے بھی موثر ہے ۔
تھنڈر کی آپریشنل کاسٹ بھی کم ۔ روٹین کی نگرانی کے لیے یہ زیادہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور مہنگے فلائٹ آپریشن کا خرچ بھی بچاتا ہے ۔ انڈونیشیا کی ضرورت بھی 40 سے 60 جیٹ ہیں ۔

تھنڈر کی طرف رجحان اس لیے بھی بن رہا ہے کہ کئی ملکوں کو ہم یہ سمجھانے میں کامیاب رہے ہیں کہ سائیں لوک جن کے ساتھ تمھارا میچ پڑنا ہے ان کے پاس بھی وہی جیٹ ہیں جو تمھارے پاس ہیں ، موقع پر چلیں نہ چلیں متبادل رکھ لو کوئی ۔

جسے سمجھ آ رہی وہ پیسے پکڑ کر پہنچ رہا
وصی بابا

13/01/2026
13/01/2026

گاڑی خریدنے والے افراد کے لیے خو شخبری !گاڑی سات لاکھ روپے تک سستی ہوگئی...See more

13/01/2026
04/01/2026

یہ اعجاز ہے حسنِ اوارگی کا
وینزویلا کے تازہ واقعات کے بعد اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ لاطینی امریکہ میں “جمہوریت اور انسانی حقوق” کے نام پر امریکی مداخلت کوئی نئی بات ہے، تو ذرا تاریخ کے اوراق پلٹنے کی ضرورت ہے۔
گوئٹے مالا (1954)
ہدف: صدر جیکوبو آربنز
طریقہ: CIA آپریشن (PBSUCCESS)
انجام: استعفیٰ اور جلا وطنی
اصل پس منظر: زرعی اصلاحات اور United Fruit Company کے مفادات۔
ڈومینیکن ریپبلک (1965)
ہدف: صدر خوان بوش
طریقہ: امریکی فوجی مداخلت
انجام: حکومت کا خاتمہ
جواز: “کمیونزم کا خطرہ”
چلی (1973)
ہدف: منتخب صدر سالوادور ایاندے
طریقہ: فوجی بغاوت، CIA کی دستاویزی معاونت
انجام: ایاندے ہلاک
سرد جنگ کے اس معرکے میں Bulletنے Ballotکو ناکام کردیا۔
نکاراگوا (1980 کی دہائی)
ہدف: سینڈنسٹا حکومت
طریقہ: کونٹرا ملیشیاؤں کی مالی و عسکری مدد
انجام: مسلسل خانہ جنگی اور عدم استحکام
یہ براہِ راست قبضہ نہیں، مگر بے نامئ و مجازی (Proxy) جنگ تھی۔
پاناما (1989)
ہدف: جنرل مانیول نوریگا
طریقہ: براہِ راست امریکی فوجی یلغار (Operation Just Cause)
انجام: نوریگا گرفتار، امریکہ منتقل، قید کی سزا
یہ کھلا فوجی Regime Change تھا، کسی پردے کے بغیر۔
ہونڈوراس (2009)
ہدف: منتخب صدر مانوئل زیلایا
طریقہ: فوجی بغاوت (بالواسطہ امریکی تائید)
انجام: صدر کو گرفتار کر کے ملک بدر
امریکہ نے پہلے “تشویش” ظاہر کی، پھر نئی حکومت کو قبول کر لیا۔
بولیویا (2019)
ہدف: صدر ایوو مورالیس
طریقہ: فوجی دباؤ + سیاسی بحران
انجام: استعفیٰ، جلا وطنی
نوٹ: بعد کے انتخابات میں انہی کی جماعت اقتدار میں واپس آئی ۔
ان تمام مثالوں میں بیانیہ مختلف تھا:, کہیں کمیونزم، کہیں منشیات، کہیں جمہوریت، کہیں انسانی حقوق…
مگر انجام ایک سا یعنی کمزور ریاستیں، بکھری جمہوریت، اور بیرونی مفادات کا غلبہ۔
آج وینزویلا ہو، کل کوئی اور لاطینی امریکہ کی تاریخ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ یہ کہانی نئی نہیں، صرف اسکرپٹ بدلتا ہے۔
_____________________________________________________________________________
آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

18/09/2025
07/09/2025

Address

Kalam
Swat
19011

Telephone

+923139830277

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kalam Property Junction posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Kalam Property Junction:

Share

Category