Pirzada Law Associates

Pirzada Law Associates pirzada law

05/06/2024
20/09/2023

سوال : کیا ہوتی ہے ؟ کن وجوہات کی بابت منسوخی ضمانت ممکن ہوتی ہے ؟ کیان ضمانت کی منسوخی دائر ہو گی ؟

جواب : اگر کسی ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری با قبل از گرفتاری کنفرم ہو جائے تو اس ضمانت کی منسوخی کے لئے درخواست مستغیث کی طرف سے دائر کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس ضمانت ملزم کو منسوخ فرمایا جائے اور اس ضمانت کو منسوخ کرنے کی وجہ بتائی جاتی ہے۔

( 1) : درخواست ضمانت منسوخی کی دائری کون کر سکتا ہے ؟

درخواست ضمانت منسوخی همیشه مستغیث یا متاثر شخص دائر کرتا ہے ۔

(2) : درخواست ضمانت منسوخی کسی عدالت میں دائر کی جائے گی؟

درخواست ضمانت منسوخی جس عدالت سے ضمانت منظور ہوئی ہو اسی عدالت میں دائر کی جائے گی یا پھر اس عدالت سے اعلیٰ Superior عدالت میں دائر کی جائے ۔

(3) : درخواست ضمانت منسوخی کن وجوهات کی بنیاد پر دائر ہو سکتی ہے ؟

(1) عدالت نے جس جرم کی ضمانت منظور کی ہے وہ دوبارہ وہی جرم کرتا ہو ۔

(2): ضمانت کے بعد اگر ملزم اشتہاری ہو جائے ۔

(3) : اگر ملزم نے عدالت سے ضمانت غلط عمر بتا کر کروائی ہو یا کہ غلط بیماری بتا کر ضمانت کروائی ہو ۔

(4) :اگر ملزم معاشرہ کے لئے جرم کا سبب بنتا ہو مثلاً ہیروئن اسمگلنگ یا اسی ملزم کی وجہ سے ہوتی ہو ۔

(5):اگر ضمانت منظور ہونے کے بعد ملزم نے مستغیث اور گواہان سے بدلہ لینا شروع کر دیا ہو۔

(4) : درخواست ضمانت منسوخی کی وجوہات:

اس درخواست ضمانت کی منسوخی کی مندرجہ ذیل میں سے کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے ۔

(1):اگر مستغیث یہ خیال کرتا ہے کہ عدالت نے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری
میرٹ پر نہ کی ہے کہ ملزم اس وقت ضمانت کا حقدار نہ تھا تو وہ اس عدالت سے اعلیٰ عدالت میں منسوخی دائر کر سکتا ہے یا اس عدالت میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر سکتا ہے ۔

(2):اگر جس مقدمہ میں ملزم نے ضمانت کروائی ہے اس مقدمہ میں جرم کی کہ جیسے جرم سے کیفیت بدل گئی ہے یعنی وہ جرم تبدیل ہو گیا ہے تو ضمانت منسوخی دائر کی جاسکتی ہے ۔

(3) : اگر ملزم نے عدالت کو کوئی غلط چیز بتا کر ضمانت کروائی ہو تو وہ بھی ضمانت
منسوخ ہو سکتی ہے ۔

(4) : اگر عدالت کو دھوکہ دے کر ضمانت کروائی ہو تو پھر بھی ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے۔

(5) : اگر عدالت نے کسی کی ضمانت کسی شرط کے تحت منظور کی ہو تو ملزم اس شرط کی پابندی نہ کرے تو پھر بھی ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے۔

(6):اگر ملزم جن Grounds کو ضمانت میں تحریر کرتا ہے تووہ نہ بنتی ہوں تو ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے ۔

(7) : اس کے علاوہ کوئی بھی حصول وجہ درخواست ضمانت منسوخی دائر کی جاسکتی ہے ۔

(8) : اگر ملزم مدعی یا گواہان کو مارے یا قتل کرنے کی دھمکی دے یا گواہان پر اثر
انداز ہو تو ضمانت منسوخی دائر کی جا سکتی ہے۔

(9) : عدالت کو اختیا ر سماعت حاصل نہ ہوا اور دھوکا سے ضمانت کروائی ہو۔

(10) : جس جرم میں ملزم کی ضمانت منظور ہوئی ہے دوبارہ وہی جرم کرے ۔

(11) :ضمانت کے بعد شہادت استغاثہ پر اثر انداز ہو رہا ہو۔

(12): ضمان کے بعد ملزم اشتہاری ہو گیا ہو ۔

(13): اگر غلط میڈ یکل یا کہ غلط عمر بتا کر ضمانت کروائی ہو ۔

(14): اگر ملزم معاشرہ کے لئے خطرہ ہو اور اس کی وجہ سے سمگلنگ اور ہیروئن
نشہ جیسے جرم سرزد ہوں ۔

(15) :اگر ضمانت کی وجہ سے ملزم نے بدلہ لینا شروع کر دیا ہو ۔

ضمانت کاکیا مطلب ہوتا ہے مطلب اور مقصد کیا ہوتا ہے ؟

ضمانت دئیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم مقدمہ سے رہا ہو گیا۔جب کہ ضمانت کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ ملزم کو ضامن کے حوالے کر دینا جو کہ ملزم کو،جب عدالت سماعت طلب کرے یا اس کی ضرورت ہو،وہ ملزم کو عدالت میں پیش کرے
[2009 MLD 127 )Lah)]

🔸Kinds of Bail ضمانت کی اقسام:

✍️1 حفاظتی ضمانت Pretective Bail👉

✍️2 ضمانت قبل اذ گرفتاری Pre arrest Bail👉

✍️3 ضمانت بعد از گرفتاری Post Arrest Bail👉
OR Bail After Arrest

✍️4 ضمانت بعد از سزا Bail After Convection👉
OR Suspension of Sentence and Bail
....

20/09/2023

ضمانتی مچلکے کیا ہوتے ہیں؟ اس کی بنا پر عدالت کیسے ایک ملزم کو رہا کرتی ہے؟

آپ نے اکثر سنا ہوگا عدالت نے فلاں ملزم کو 50 ہزار یا 5 لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کر دیا تو یہ ضمانتی مچلکہ ہوتے کیا ہیں آج میں آپ کو اس سے متعلق بتاؤنگا۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ ضمانتی مچلکے سے مراد ایسی چیز جس کے عوض ایک شخص دوسرے کی ضمانت دے یا دیگر الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس کا ضامن بنے ضمانتی مچلکے جس کو انگریزی میں surety bound بھی کہا جاتا ہے ایک قسم کی ضمانت ہوتی ہے جو ایک شخص ملزم کے لیے دیتا ہے 50 ہزار یا لاکھ یا جتنے روپے کا بھی عدالت ضمانتی مچلکہ کا کہے گی اتنی مالیت کے زمین کے کاغذات یا اس مالیت کے بانڈ عدالت میں جمع کروانے ہونگے۔

ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا مقصد کیا ہے؟

قانون کی نظر میں کوئی شخص اس وقت تک مجرم نہیں کہلاتا جب تک اس پر جرم ٹرائل کے ذریعے ثابت نہ ہوجائے.
جب تک عدالت کسی شخص کو سزا نہیں دے دیتی کیس چلنے کے بعد شواہد کی روشنی، تب تک وہ ملزم ہے اور بے گناہ ہی تصور کیا جائے گا۔اس لئے قانون کہتا ہے اگر کسی شخص پر کوئی الزام لگا ہے پولیس اس کو گرفتار کرلیتی ہے تو جب تک ٹرائل چلتا ہے تو اس کو جیل میں رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے. بالفرض ایک کیس 2 سال چلتا ہے 2 سال بعد عدالت میں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ فلاں شخص نے جرم کیا ہی نہیں اب اگر وہ دو سال تک جیل میں رہتا ہے تو اس شخص کے ساتھ زیادتی ہوگی اس لئے عدالت ملزم کو ضمانتی مچلکوں کے عوض اس شخص کو ضمانت پر رہا کر دیتی ہے۔

جو شخص ضامن بنتا ہے اس کی ذمہ داری کیا ہیں؟

جو شخص اپنی زمین کے کاغذات عدالت میں رکھوا کر ملزم کا ضامن بنتا ہے اس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ملزم کو پاپند کرے کے وہ پولیس کے ساتھ تفتیش میں تعاون کرے اور ہر پیشی پر عدالت آئے اب اگر ملزم پولیس کے ساتھ یا عدالت کے حکم پر عمل نہیں کرتا تو عدالت جو ضمانتی مچلکے جمع کروائے تھے اس کو ضبط کرنے کا حکم دے سکتی ہے اور ہاں ایک بات یاد رہے جس زمین کے کاغذات کو آپ نے ضمانت پر رکھوایا ہے آپ اس کو آگے بیچ نہیں سکتے۔

ضمانتی مچلکے واپس لینے کا طریقہ؟

آپ اس ضمانت کے دوران کسی بھی وقت عدالت میں درخواست دے کر دیے گئے ضمانتی مچلکوں کو واپس لے سکتے ہیں.

09/07/2023

Sec 2. Grounds for decree for dissolution of marriage.
A woman married under Muslim Law shall be entitled to obtain a decree for the dissolution of her
marriage on any one or more of the following grounds, namely:
(i) that the whereabouts of the husband have not been known for a period of four years;
(ii) that the husband has neglected or has filed to provide for her maintenance for a period of two
years;
(ii-A) that the husband has taken an additional wife in contravention of the provisions of the
Muslim Family Laws Ordinance, 1961;
(iii) that the husband has been sentenced to imprisonment for a period of seven years or upwards;
(iv) that the husband has failed to perform, without reasonable cause, his marital obligations for a
period of three years;
(v) that the husband was impotent at the time of the marriage and continues to be so;
(vi) that the husband has been insane for a period of two years or is suffering from leprosy or a
virulent venereal disease;
(vii) that she, having been given in marriage by her father or other guardian before she attained
the age of sixteen years, repudiated the marriage before attaining the age of eighteen years:
Provided that the marriage has not been consumated;
(viii)that the husband treats her with cruelty, that is to say,
(a) habitually assaults her or makes her life miserable by cruelty of conduct even if such conduct
does not amount to physical ill-treatment, or
(b) associates with women of evil repute of leads an infamous life, or
(c) attempts to force her to lead an immoral life, or
(d) disposes of her property or prevents her exercising her legal rights over it, or
(e) obstructs her in the observance of her religious profession or practice, or
(f) if he has more wives than one, does not treat her equitably in accordance with the injunctions
of the Quran.

Address

Old Sukkur
Sukkur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pirzada Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share