Sheeraz Associates

Sheeraz Associates CORPORATE & TAX CONSULTANTS SHEERAZ ASSOCIATES
is a Law Firm having its main office in Sialkot/Pakistan. Our expertise is Taxation & Corporate Services.

19/07/2025

Submission of Income Tax Returns for Tax Year 2025 started today.

03/07/2025
01/07/2025

For all Sales Tax registered persons, AOPs & companies, Biometric verification is mandatory every year in July. To ensure seamless submission of monthly Sales Tax Returns, it is advised that all Sales Tax Registered Individuals, authorized members of AOPs and directors of companies visit their nearest NADRA e-Sahulat Centre on priority for Biometric Verification of Sales Tax not later than 31st of July.

In case of further guidance or assistance, please do not hesitate to contact us. We are here to help.

Visit us at:

SHEERAZ ASSOCIATES
Suite No. 7, Second Floor, Abdullah Trade Center, Kutchery Road, Sialkot.

22/03/2025

پراپرٹی پر ٹیکس رعایت، آئی ایم ایف رضامند، خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس 2 فیصد کم کرنے پر تیار، فروخت پر شرح برقرار رہے گی

آئی ایم ایف نے اصولی طور پر ایف بی آر کی درخواست پر پراپرٹی کی خریداری پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح اپریل 2025 سے 2 فیصد کم کرنے کی جزوی رعایت دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے تاہم فروخت کنندگان پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح برقرار رہے گی۔ آئی ایم ایف نے پراپرٹی خریداروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے جبکہ فروخت کنندگان سے یہ ٹیکس بدستور وصول کیا جائے گا۔ اسی طرح، ایف بی آر کی درخواست پر رواں ماہ (مارچ 2025) کا ٹیکس ہدف 60 ارب روپے کم کرنے پر بھی آئی ایم ایف نے اتفاق کیا ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی کہ "رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کے لیے ایک بڑی اور طویل عرصے سے منتظر پیش رفت میں، حکومت نے آئی ایم ایف کو قائل کر لیا ہے کہ وہ خریدار کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2 فیصد کم کرے۔"پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان جمعہ کی رات ورچوئل ملاقات ہوئی اور پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (MEFP) پر اتفاق رائے اور عملے کی سطح پر معاہدے (SLA) کی راہ ہموار کرے گی، جس کا امکان ہے کہ اگلے ہفتے تک طے پا جائے گا۔پراپرٹی پر ٹیکس میں کمی کے معاملے پر، ایف بی آر نے آئی ایم ایف سے درخواست کی کہ فروخت کنندہ اور خریدار دونوں پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس (236C اور 236K) میں کمی کی جائے۔ اب آئی ایم ایف نے صرف 236K کے تحت خریدار کے لیے ٹیکس کی شرح 2 فیصد کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

17/03/2025

*عیدالفطر کے موقع پر نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کا طریقہ جانیے*

عیدالفطر کی آمد پر شہریوں میں نئے نوٹ حاصل کرنے کی تگ و دو شروع ہو چکی ہے جس کو بآسانی ٹیکسٹ میسج کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

نئے نوٹ حاصل کرنے کے لیے شہری 8877 پر شناختی کارڈ نمبر اور بینک برانچ ایس ایم ایس کر سکتے ہیں، نئے نوٹ بینک پہنچنے پر آپ کو ایس ایم ایس سے مطلع کیا جائے گا۔

تصدیقی ایس ایم ایس موصول ہونے کے بعد شہری کو دو دن میں متعلقہ بینک برانچ جانا ہوگا، اور اصل شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کے ساتھ آپ 10 روپے کے نوٹ کے تین پیکٹ، پچاس روپے کے نوٹس کا ایک پیکٹ اور 100 روپے کا نوٹ کا ایک پیکٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک شناختی کارڈ اور موبائل نمبر کو صرف ایک مرتبہ ہی استعمال میں لایا جا سکے گا، کسی بھی قسم کی شکایت اور معلومات کے لیے اسٹیٹ بینک کے فون نمبر 111-008-877 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Overwhelmed with gratitude! I'm thrilled to have celebrated the inauguration of SHEERAZ ASSOCIATES' new office with grea...
16/01/2025

Overwhelmed with gratitude! I'm thrilled to have celebrated the inauguration of SHEERAZ ASSOCIATES' new office with great personalities of my lawyers’ community.

Our new office: Suite No. 7, Second Floor, Abdullah Trade Center, Kutchery Road, Sialkot.

I'm especially grateful to our Chief Guest, Arshad Nawaz Maan (Senior VP PTBA), for graciously accepting our invitation and honouring us with his presence. Your words of wisdom and encouragement mean a lot to me.

To everyone who joined this memorable event, thank you for taking the time to celebrate with me. Your support and encouragement inspire me to continue striving for excellence in serving our profession and community.

I'm honoured to be part of such a vibrant and supportive professional network. Here's to many more years of collaboration, growth, and success!

01/10/2024

96 ارب ریونیو کا شارٹ فال، IMF ہدف حاصل نہ ہوسکا، حکومت کو سخت ٹیکس اقدامات کرنا ہونگے
اسلام آباد (مہتاب حیدر) ایف بی آر کو پہلی سہ ماہی کے ہدف میں 96؍ ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا، آئی ایم ایف ہدف حاصل نہ ہوسکا، حکومت کو سخت ٹیکس اقدامات کرنا ہوں گے ، ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی میں 2652؍ ارب ہدف کے مقابلےاب تک 2556؍ ارب حاصل کئے ، رواں مالی سال کے 12970؍ ارب کے ٹارگٹ کیلئے بہت بڑا کام درپیش ، آئی ایم ایف نے متنبہ کیا تھا ٹیکس ہدف کے حصول میں ناکامی پر اضافی محصولات کے اقدامات پر غور کرنا پڑے گا، ممکنہ ٹیکس چوروں کیخلاف کارروائی کیلئے منی بجٹ لانے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کی مدت کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جس کا 96 ارب روپے کے مارجن کے ساتھ آئی ایم ایف سے اتفاق کیا گیا تھا تاہم ٹیکس مشینری نے ستمبر 2024 کا اپنا ماہانہ ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا۔ ایف بی آر ستمبر 2024 کے لیے 1100 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کو چھونے اور عبور کرنے کی جانب گامزن ہے جبکہ اس ماہ کے لیے 1098 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کی مدت میں ایف بی آر نے اب تک 2652 ارب روپے کے متوقع ہدف کے مقابلے میں 2556 ارب روپے حاصل کیے ہیں اور اس طرح اسے 96 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف نے اسلام آباد کو 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) قرض پروگرام کی منظوری دینے کے موقع پر خبردار کیا تھا کہ اگر پہلی سہ ماہی کے ہدف کو حاصل کرنے میں 2 فیصد سے کچھ زیادہ کمی ہوئی تو حکومت کو رواں مالی سال کے دوران اضافی محصولات کے اقدامات کرنے پر غور کرنا پڑے گا۔ حکومت کا سخت نفاذ کے اقدامات کا منصوبہ ہے جس میں بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنا، ممکنہ ٹیکس چوروں کے لیے جائیداد اور گاڑیوں کی خریداری پر پابندی شامل ہے لیکن اس کے لیے قانون سازی میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے لہذا ٹیکس قوانین میں ایسی مطلوبہ تبدیلیوں کو عملی جامہ پہنانے اور نافذ کرنے کے لیے منی بجٹ کا امکان ہوگا۔ دوسرا یہ کہ حکومت کو ٹیکس چوروں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے اپنی سیاسی قوت ارادی کا مظاہرہ کرنا ہوگا لیکن یہ ثابت کرنے کے لیے چیلنجز سامنے ہیں کہ سیاسی طور پر کمزور حکومت ایسے سیاسی طور پر سخت فیصلوں پر عمل درآمد کیسے کرے گی۔ ایف بی آر کو رواں مالی سال کے لیے پارلیمنٹ سے منظور شدہ 12970 ارب روپے کے ٹیکس وصولی کے انتہائی جری ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک بہت بڑا کام درپیش ہے (آئی ایم ایف کے ساتھ 12913 ارب روپے پر اتفاق کیا گیا تھا)۔ اب ایف بی آر کو رواں مالی سال کی بقیہ تین سہ ماہی (اکتوبر تا جون) کے دوران 40 فیصد کے قریب محصولات میں اضافہ حاصل کرنے کے لیے چیلنجنگ صورتحال کا سامنا ہے۔ موجودہ حکومت کی اہلیت اور صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔

Address

Suite No. 7, Second Floor, Abdullah Trade Center, Kutchery Road
Sialkot
51310

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923038717000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sheeraz Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sheeraz Associates:

Share

Category