Awan Law Firm

Awan Law Firm Awan Law Firm

04/06/2025

🥀 _*حضرت ابراہیم علیہ السلام کی 15 عظیم خوبیاں اور صفات*_ 🥀

ابراہیم علیہ السلام کی عظمت:
تنہا اور اکیلے ایک امت
خانہء کعبہ کے معمار
حج کی ابتداء کے محور
خلیل اللہ
امام الناس
ابو الانبیاء
اسوہء حسنہ
نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ان کی اتباع کا حکم
سارے مذاہب والے ان سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں
اللہ نے ان کی جانب سے اپنا دفاع کیا ہے
ان کے نام پر مکمل ایک سورہ اور دیگر سورتوں میں ان کا خصوصی تذکرہ

پندرہ عظیم خوبیاں اور صفات:
1. توحید کے علمبردار اور شرک سے براءت کا اظہار کرنے والے
2. توحید کے داعی اور اس کے مبلغ
3. تبلیغ کے راستے میں بہترین تدابیر اور طریقے اختیار کرنے والے
4. اللہ کی ذات پر کامل یقین اور توکل رکھنے والے
5. اللہ کے دین اور اس کی تبلیغ کے میدان میں بے خوف رہنے والے
6. نعمتوں پر شکر ادا کرنے والے
7. مشکل حالات پر صبر کرنے والے
8. آزمائشوں میں استقامت اختیار کرنے والے
9. بچوں کی بہترین تربیت کرنے والے
10. بیوی اور بچوں کی فکر کرنے والے
11. مہمان نوازی کے آداب کا خیال رکھنے والے
12. نسل، گھر، علاقے اور ملک کے لیے دعائیں کرنے والے
13. کسی بھی سچویشن اور حالات میں مایوس نہ ہونے والے
14. اولاد کو اہمیت دینے اور مشورہ کرنے والے
15. برداشت کرنے اور وعدہ وفا کرنے والے

04/06/2025

🥀 _*یومِ عرفہ کا زندگی بدل دینے والا سبق – ضرور پڑھیں*_🥀

ایک بھائی نے یہ دل کو چھو لینے والا واقعہ شیئر کیا:

بالکل ایک سال پہلے، میرے سپرمارکیٹ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی، جس نے میری دکان کے تین چوتھائی سے زیادہ مال کو جلا کر راکھ کر دیا۔

یہ واقعہ یومِ عرفہ سے صرف دو دن پہلے پیش آیا!

آپ تصور کر سکتے ہیں کہ میری حالت کیا تھی — عیدالاضحی قریب تھی، مگر میری دکان، میرا سامان، میرا کاروبار — سب تباہ ہو چکا تھا۔ نہ کوئی عیدی، نہ خوشی، نہ مسرت — صرف غم، پریشانی، اور قرض کا بوجھ۔

اس وقت میری شادی کو صرف دو ماہ ہوئے تھے۔ جلا ہوا مال تقریباً 15,000 ڈالر کے برابر تھا۔ میں سوچنے لگا: اب کیا کروں؟ کیسے اس نقصان کی تلافی ہو؟ کیا اپنی نئی نویلی دلہن سے کہوں کہ اپنا سونا بیچ دے؟ یا کسی سے قرض لوں؟ لیکن کس سے؟

آخرکار میں نے سوچا کہ دوستوں سے قرض لینا بہتر ہے۔ مگر جب بھی کسی دوست سے بات کی، وہ یہی کہتا، “عید قریب ہے، معاف کرنا — اس وقت مدد نہیں کر سکتا۔”

دو دن اسی حالت میں گزر گئے — ذہنی دباؤ اور مایوسی کے ساتھ۔ بمشکل 800 ڈالر جمع کر پایا — جو میرے نقصان کے مقابلے میں ایک قطرہ بھی نہیں تھے۔

اس رات میں گھر واپس جا رہا تھا تو ایک پڑوسی ملا، کہنے لگا:
“عید مبارک بھائی! کل روزہ نہ بھولنا!”

میں نے دل میں سوچا: روزہ؟ اس حال میں؟ مجھے اکیلا چھوڑ دو...

میری بیوی نے میرا دل ہلکا کرنے کے لیے کہا کہ تھوڑی دیر چہل قدمی کرتے ہیں۔ ہم باہر نکلے، مگر میرا دل غم سے بوجھل تھا — میں کسی چیز سے لطف نہیں اٹھا پا رہا تھا۔

جب گھر واپس آئے، تو وہ بولی:
“چلو سحری کی تیاری کرتے ہیں؛ فجر کا وقت قریب ہے۔”

میں نے تلخی سے جواب دیا:
“سحری؟ مجھے تو یاد ہی نہیں رہا کہ کل یومِ عرفہ ہے!
تم اور میں جیسے دو مختلف دنیاؤں میں جی رہے ہیں۔ کیا سحری؟ کیا عرفہ؟ کیا تمہیں ہماری حالت نظر نہیں آ رہی؟”

اس نے نرمی سے کہا:
“اللہ نے ہمارے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔ وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ لیکن روزہ ضرور رکھو۔”

اس نے اصرار کیا — اور ہم نے نیت کر کے روزہ رکھ لیا۔

افطار کے وقت، وہ بولی:
“اللہ سے دعا مانگو۔”

میں نے کہا:
“کس چیز کی دعا؟”

کہنے لگی:
“جو دل چاہے، مانگو۔”

میں نے طنزیہ انداز میں کہا:
“کیا مانگوں؟ یہ کہ آسمان سے 15,000 ڈالر آ جائیں؟ کیا یہ ممکن ہے؟”

وہ بولی:
“جس نے آسمان بنایا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔”

وہ چپ چاپ نماز پڑھنے لگی اور دعا میں مشغول ہو گئی۔ میں نے بھی دعا کی، مگر دل میں صرف وہی 15,000 ڈالر گھوم رہے تھے — میں چاہتا تھا سب کچھ واپس مل جائے۔

مغرب کے ایک گھنٹے بعد، میرے ایک دوست کا فون آیا:
“کافی شاپ آؤ، تم سے ضروری بات کرنی ہے۔”

میں گیا، تو اس نے کہا:
“میرے ایک جاننے والے نے پیسے جمع کیے ہیں اور وہ کسی کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ تم سے بہتر کوئی نہیں لگا مجھے۔”

ہم نے اس شخص کو بلایا — وہ آیا اور کہا:
“میرے پاس 30,000 ڈالر ہیں، اور میں کاروبار میں لگانا چاہتا ہوں۔”

میں نے کہا:
“میری دکان کو 15,000 ڈالر کے مال کی ضرورت ہے۔ کیوں نہ آدھے پیسے مال میں لگاؤ اور آدھے دکان کی تزئین و آرائش میں؟ منافع میں 50/50 کا حصہ ہوگا، جب تک تمہارا اصل سرمایہ پورا واپس نہ ہو جائے۔”

ہم نے معاہدہ کر لیا۔ میں نے دکان دوبارہ بنائی، مال خریدا، اور عید کے بعد دکان کھول دی۔ اس دن میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔

اوہ! میں بھول گیا — دکان میں آگ لگنے سے ایک ہفتہ پہلے میری والدہ کو کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ٹیسٹ کروا لیے تھے، اور نتائج عرفہ کے دن آنے تھے۔

نتیجے آئے — منفی تھے۔ الحمدللہ، وہ مکمل طور پر صحت مند تھیں!

جب امی کو پتہ چلا، تو وہ خوشی سے پورا دن روتی رہیں — اللہ کا شکر ادا کرتی رہیں۔

دکان دوبارہ کھل گئی، امی شفا یاب ہو گئیں، اور پھر میری بیوی نے فون کر کے بتایا کہ اس نے حمل کا ٹیسٹ کیا ہے — وہ حاملہ ہے!

پھر اُس نے مجھ سے کہا:
“اب سمجھ آیا روزہ رکھنے اور عرفہ کے دن دعا مانگنے کی طاقت کیا ہوتی ہے؟”

میں نے دل میں کہا:
سبحان اللہ!
کچھ دن پہلے لگ رہا تھا جیسے پوری دنیا ختم ہو گئی ہے، اور آج صرف ایک مخلص دعا سے سب کچھ پلٹ گیا۔

اس دن میں نے اللہ کے سامنے عاجزی کا وہ سبق سیکھا جو کبھی نہیں بھولوں گا۔

اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
کبھی وہ ہمیں آزماتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف رجوع کریں، توبہ کریں۔

عید کے بعد کاروبار اچھا چلنے لگا، اور جلد ہی وہ 30,000 ڈالر واپس ہو گئے۔
میں وہ پیسے واپس دینے گیا — مگر تب کہانی میں ایک نیا موڑ آیا۔

اس شخص نے کہا:
“سچ یہ ہے کہ یہ پیسے میرے نہیں تھے۔ کسی شخص نے، جس کی بیوی کینسر سے صحت یاب ہوئی تھی، اللہ کی رضا کے لیے یہ تمہیں دلوائے۔ وہ تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا — گمنام رہ کر۔”

“یہ پیسے تمہارے ہیں — کوئی واپس نہیں مانگے گا۔”

اللہ کی قسم، میں گھر آ کر کمرے میں بند ہو گیا — اور ایک گھنٹہ بچوں کی طرح رویا۔
اللہ کی رحمت اور عنایت پر — جو میں نے محسوس کی۔

اب بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے، آنکھوں سے صرف آنسو نہیں — خون کے آنسو نکلتے ہیں — کہ میں نے رب سے دوری میں وقت گزارا، جب کہ وہ تو ہمیشہ قریب تھا۔

اسی تجربہ نے مجھے یومِ عرفہ، روزہ، دعا، اور اللہ پر اعتماد کا اصل مطلب سکھایا۔
یہ میری زندگی کا نقطۂ آغاز بن گیا — میں نے توبہ کی اور دین سے جُڑ گیا۔

سبق:

> "اللہ کبھی کبھی دینے کے لیئے روکتا ہے، اور روکنے کے لیئے دیتا ہے — یہی اُس کی حکمت ہے۔"

یہ ذوالحجہ کے پہلے دس بابرکت دن ہیں، ہم دعا، توبہ، اور ذکر میں محنت کریں — اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کو نہ بھولیں۔

> رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*"جو کسی کو نیکی کی طرف رہنمائی کرے، اُسے بھی وہی اجر ملے گا جو نیکی کرنے والے کو ملتا ہے۔"*
(مسلم)

اس لیئے اس واقعے کو ضرور دوسروں سے شیئر کریں۔
کیا پتہ آپ کی زندگی ختم ہو جائے — اور آپ کے اعمال نامے میں یہ نیکی کی دعوت باقی رہ جائے۔

کیا ہی خوبصورت واقعہ ہے۔

28 مئی سے 14 اگست تک سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان  28 مئی کے بعد کسی بھی سکول میں سمر ٹیسٹ...
28/05/2025

28 مئی سے 14 اگست تک سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان
28 مئی کے بعد کسی بھی سکول میں سمر ٹیسٹ کے نام پر بچوں کو سکول نہیں بلایا جائیگا
سمر کیمپ کی سختی سے ممانعت ہوگی
ٹیچنگ سٹاف چُھٹیوں میں سکول نہیں جائینگے
پرائیویٹ سکولز کےلئے سخت ہدایات ، تین ماہ کی یکمشت فیس نہیں لیں گے
صرف ھیڈماسٹرصاحب اور کلرک ایڈمنسٹریشن ٹاسک کے لئے سکول جاسکتے ہیں
تمام سکولز 15 اگسٹ 2025 بروز جمعہ کو کھلے ہونگے

26/05/2025

بیوی کی زاتی رقم / ملکیت کا تحفظ عدالتی نظریہِ
جناب جسٹس مزمل اختر شبیر
02-04-2019
2019 LHC 4817
2019 CLC 1915, PLJ 2019 Lah

خلاصہ:
سی پی سی (کوڈ آف سول پروسیجر) 1908 کے سیکشن 5، شیڈول سری نمبر 9، اور سیکشن 14، آرڈر VII رول 11 کے تحت معاملہ زیر غور آیا۔

دعوی:
بیوی کی ذاتی ملکیت اور سامان سے متعلق۔ جواب دہندہ (بیوی) نے دعویٰ کیا کہ شادی کے دوسرے دن شوہر نے اس کے پرس سے کچھ نقدی رقم یہ وعدہ کر کے لے لی کہ وہ واپس کر دے گا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

فیصلہ:
ٹرائل کورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ نقدی بیوی کی ذاتی ملکیت تصور کی جائے گی اور عدالت کو اس معاملے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔
یہ مسئلہ دونوں فریقین کے فراہم کردہ شواہد کی بنیاد پر حل کیا جانا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب تک کوئی تنازعہ زیر سماعت ہو، مقدمہ جزوی طور پر خارج یا واپس نہیں کیا جا سکتا، اور اسے صرف اسی صورت میں خارج کیا جا سکتا ہے جب تمام دعوے قانون کے تحت ممنوع ہوں۔

نتیجہ:
آئینی درخواست، قبل از وقت ہونے کے باعث، مسترد کر دی گئی۔

یہ کیس، جو سی پی سی (کوڈ آف سول پروسیجر) 1908 کے تحت پیش آیا، کئی اہم قانونی نکات پر روشنی ڈالتا ہے۔ ذیل میں اس کا تجزیاتی جائزہ قانونی اصولوں کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے:

1. آرڈر VII رول 11 CPC - مقدمے کا اخراج یا واپسی
قانونی اصول:
آرڈر VII رول 11 کے تحت عدالت کسی مقدمے کو خارج یا واپس کر سکتی ہے اگر دعویٰ درج ہونے کے وقت ہی ظاہر ہو جائے کہ مقدمہ:

قانون کے مطابق قابل سماعت نہیں،
عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے،
یا دعویٰ میں کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔
تجزیہ:
اس کیس میں شوہر نے دعویٰ کیا کہ مقدمہ مسترد کیا جائے کیونکہ نقدی کی واپسی کا دعویٰ قابل سماعت نہیں تھا۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ بیوی کی ملکیت کا سوال ثبوت اور شواہد کے ذریعے طے ہونا تھا، لہذا مقدمے کو جزوی طور پر خارج کرنا درست نہیں تھا۔ قانون کے مطابق، اگر کچھ نکات عدالت کے دائرہ کار میں آتے ہیں تو مقدمہ مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

2. ذاتی ملکیت کے دعوے کا قانونی پہلو
سی پی سی سیکشن 5 اور شیڈول سری نمبر 9:
یہ شقیں عدالت کے دائرہ اختیار کو طے کرتی ہیں، خاص طور پر ان معاملات میں جہاں ذاتی ملکیت یا معاہدوں کے نفاذ کا سوال اٹھایا جائے۔

تجزیہ:
عدالت نے نقدی کو بیوی کی ذاتی ملکیت تصور کیا اور کہا کہ یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ ٹرائل کورٹ کا یہ مشاہدہ درست تھا کیونکہ اس معاملے میں فریقین کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں فیصلہ ہونا تھا۔

3. آئینی درخواست کی وقت سے پہلے مستردی
قانونی اصول:
آئینی درخواست (Constitutional Petition) تب ہی قابل سماعت ہو سکتی ہے جب درخواست گزار یہ ثابت کرے کہ کوئی بنیادی قانونی یا آئینی حق متاثر ہو رہا ہے اور دیگر دستیاب قانونی طریقے ناکام ہو چکے ہیں۔

تجزیہ:
درخواست کو وقت سے پہلے اور بلا جواز قرار دیا گیا کیونکہ شوہر نے دعویٰ مسترد ہونے کے لیے آئینی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، حالانکہ مقدمے کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کی کارروائی کے بعد ہونا تھا۔ آئینی عدالت نے اس درخواست کو قبل از وقت قرار دے کر مسترد کر دیا، جو آئین کے تحت ایک درست فیصلہ تھا۔

4. قانونی اصول: مقدمے کی جزوی واپسی یا اخراج
قانونی وضاحت:
اگر کسی مقدمے میں ایک سے زیادہ دعوے ہوں اور ان میں سے کچھ قانونی طور پر درست ہوں، تو مقدمے کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ مقدمہ صرف اسی صورت میں خارج کیا جا سکتا ہے جب تمام دعوے قانون کے تحت ناقابل قبول ہوں۔

تجزیہ:
عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ نقدی کی واپسی کا معاملہ زیر بحث تھا، لیکن دیگر مسائل کو شواہد کے ذریعے حل کیا جانا تھا۔ اس لیے مقدمے کو جزوی طور پر خارج کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہ اصول قانون کے مطابق تھا اور عدالت نے اس پر درست فیصلہ دیا۔

5. انصاف کا بنیادی اصول: ثبوت کی اہمیت
قانونی اصول:
ہر وہ دعویٰ جس میں فریقین کے مابین تنازعہ ہو، اس کی بنیاد شواہد پر ہوتی ہے۔ عدالت کا فرض ہے کہ وہ ثبوت کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے۔

تجزیہ:
اس کیس میں عدالت نے شواہد کے ذریعے نقدی کے دعوے کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا، جو سول قوانین کے تحت انصاف کی بنیادی ضرورت ہے۔

نتیجہ اور قانونی نظیر
اس فیصلے نے ان قانونی اصولوں کی توثیق کی:
عدالت کا دائرہ اختیار مقدمے کے حقائق پر منحصر ہے۔
مقدمہ جزوی طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
آئینی درخواست کا غلط استعمال قابل قبول نہیں۔
ذاتی ملکیت اور معاہدے کے تنازعات شواہد پر مبنی حل ہوتے ہیں۔
یہ فیصلہ دیگر مقدمات کے لیے ایک نظیر فراہم کرتا ہے، جہاں ذاتی ملکیت کے تنازعات میں شواہد کی اہمیت اور آئینی درخواست کے غلط استعمال کے مسئلے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

26/05/2025

Awan Law Firm Sialkot 03217842016
1. نکاح اور ازدواجی معاملات (Marriage and Matrimonial Issues)
2. طلاق اور علیحدگی کے کیسز (Divorce and Separation Cases)
3. بچوں کی تحویل (Custody of Children)
4. نان و نفقہ (Maintenance Cases)
5. وراثتی و جائیداد کے معاملات (Inheritance and Property Disputes)
6. گارڈین شپ (Guardianship Cases)
7. گھریلو تشدد اور ہراسمنٹ کے کیسز (Domestic Violence and Harassment Cases)
8. گود لینے کے قانونی معاملات (Adoption Cases)
9. زوجین کے مالی حقوق (Financial Rights of Spouses)

17/05/2025

فتح مبین
اسی کشاکشِ پیہم سے زندہ ہیں اقوام یہی ہے رازِ تب و تابِ ملتِ عربی

May 14, 2025

سلام ہے پاک افواج کے ان افسروں اور جوانوں کو، جن کی وجہ سے قوم کا کھویا ہوا وقار بحال ہوا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل پاکستان کی فتحِ مبین پر مسرّت وافتخار سے سرشار ہوئے ہیں۔ 1998میں جب پاکستان ایٹمی قوّت بنا تو عرب شیوخ چالیس چالیس فٹ لمبی کاروں سے اتر کر پاکستانی مزدوروں سے گلے ملتے رہے۔

اب بھی وہی صورتِ حال ہوگی۔ امریکا ہو، یورپ ہو یا عرب ممالک۔ پاکستانیوں کو دیکھ کر سب کی نظریں پہلے حیرت سے اٹھیں گی اور پھر عزّت اور احترام میں جھک جائیں گی۔ ہندوستان کے خلاف تین دنوں کی جنگ میں جو کچھ ہوا وہ ایک معجزہ ہے، ٹیکنالوجی کے درجنوں ماہرین سے بات ہوچکی ہے سب کا کہنا ہے کہ یہ صرف ٹیکنالوجی کا کمال نہیں ہے یہ ایک معجزہ ہے اور معجزے خالقِ کائنات کی intervention سے ہی برپا ہوتے ہیں۔

کئی سالوں سے پاکستان کے بارے میں مودی کا رویّہ انتہائی حقارت آمیز تھا۔ دنیا کی چوتھی بڑی اکانومی ہونے کے باعث اس کا غرور اور تکبّر آسمانوں کو چھورہا تھا۔ کچھ غلط پالیسیوں، کمزور معیشت اور سیاسی عدمِ استحکام کے باعث دنیا میں پاکستان کا مقام اور احترام بہت نچلی سطح تک آچکا تھا۔ ملک کے اندر بھی ’’ملک کی کمزوری‘‘ کے بیانئے کو بڑھایا گیا۔

ماضی کے کچھ سول اور عسکری لیڈروں کا انداز مدافعانہ اور میڈیا کا کردار فدویانہ سا رہا، کسی بھی سطح پر کوئی اینکر یا تجزیہ کار اس سوال کو ہی سنجیدگی سے لینے پر تیار نہیں ہوتا تھا کہ اب کسی ممکنہ جنگ میں پاکستان، بھارت کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ تمام تر مغربی مبصرین کا بھی یہی خیال تھا اور خود بھارتی حکمرانوں کو یہی توقع تھی کہ پاکستان بھارتی حملے کی تاب نہیں لاسکے گا اور ہماری شرائط پر صلح کی التجا کرے گا۔

مگر کائناتوں کے خالق اور مالک کے منصوبے کچھ اور تھے، اسے اپنے نام پر قائم ہونے والے ملک کی رسوائی گوارا نہ تھی۔ اس نے احساسِ کمتری کی ماری ہوئی پاکستانی قوم کو زندہ کرنے اور ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ پاکستان کو ختم کرنے کا ارادہ لے کر نکلنے والوں کے پاس رافیل جیسے دنیا کے بہترین طیّارے اور بہترین ٹیکنالوجی تھی اور وہ صدیوں پہلے بدر کی جانب بڑھنے والے مشرکینِ مکّہ کی طرح پراعتماد تھے کہ لڑکھڑاتی ہوئی معیشت والا پاکستان چند گھنٹے کی مار ہے۔

مگر ربِّ کائنات نے ہر ہتھیار اور ہر ٹیکنالوجی کے توڑ کا بندوبست کرلیا تھا۔ دشمنوں کے رافیل کے مقابلے میں شاہینوں کے J10cp فضاؤں میں بلند ہوئے، جن سے (ریڈار پر نظر نہ آنے والے BVR) PL15E میزائل موت بن کر نکلے اور پہلے تین گھنٹوں میں ہی رافیل سمیت دشمن کے پانچ جہازوں کو تباہ کر ڈالا۔ شاہینوں نے پہلے دن ہی بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ دشمن کو اپنے اربوں ڈالر کے روسی ائیرڈیفنس سسٹم AS400 پر بڑا ناز تھا۔ پاک آرمی کے فتح میزائل اور پاک فضائیہ کے PL15 میزائلوں نے AS400 کو تہس نہس کر ڈالا اور دشمن پر ایسی دھاک بٹھادی کہ پھر دشمن کے جہاز فضاء میں بلند ہونے کی ہی ہمّت نہ کرسکے۔ آخری 24 گھنٹوں میں مقبوضہ کشمیر کی فضاؤں پر صرف پاکستان کے طیارے گھوم رہے تھے اور مقابلے پر کوئی بھارتی طیارہ زمین سے اڑنے کی بھی جرات نہ کرسکا۔

پہلگام کے سانحے کی حکومتِ پاکستان نے فوری طور پر مذمت کی اور غیرجانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کردیا۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بلکہ تمام تر شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی طرح پہلگام میں بھی بے گناہ سیاحوں کو مودی حکومت نے خود مروایا ہے۔ مگر اس کے بعد بلاوجہ پاکستان پر الزام لگاکر مودی کھلی جارحیّت پر اتر آیا۔ بھارتی جارحیّت کے نتیجے میں بہاولپور اور مرید کے میں معصوم بچوں اور عورتوں سمیت 35 بیگناہ شہری شہید اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

کیا ان شہیدوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا؟ یہ سوال ہر شخص کی زبان پر یا ذہن میں تھا اور ہر محفل میں یہی بات زیرِ بحث آتی تھی۔ کچھ وزیروں نے جو جنگ سے گریز چاہتے تھے، اس طرح کے بیان دیے کہ پاکستانی فوج نے بھارت کے پانچ جہاز گرا کر جارحیّت کا بدلہ لے لیا ہے مزید کارروائی کی ضرورت نہیں۔ اس پر راقم نے کھل کر جنگ سے فرار کی کسی بھی خواہش پر تنقید کی۔ حکیم الامّت علامہ اقبال نے confrontation کی برکات سے بار بار مسلمانوں کو آگاہ کیا ہے، راقم نے فکرِ اقبال کی روشنی میں قوم کو سوشل میڈیا کے ذریعے جنگ کے فوائد کے بارے میں sensitise کرنے کا فریضہ سنبھال لیا۔ راقم مسلسل لکھتا رہا کہ ’’مسلم دنیا کا سب سے بڑا شاعر اور مفکر مسلمانوں کو سو سال پہلے آگاہ کرتا رہا کہ جب تک مسلمانوں کی تلواریں ان کے ہاتھوں میں رہیں وہ دنیا کی سپرپاور ہے۔ جب تلواریں میانوں میں چلی گئیں تو مسلم ملت زوال کا شکار ہوگئی۔

اسی کشاکشِ پیہم سے زندہ ہیں اقوام

یہی ہے رازِ تب و تابِ ملتِ عربی

راقم نے لکھا کہ ’’جنگ سے فرار حاصل کرکے ہمارے چند ارب تو بچ جائیں گے مگر قوم نہیں بچ پائے گی۔ جو بچے گی وہ ایک خوفزدہ، سہمی ہوئی، شکست خوردہ اور مرعوبیّت کی ماری ہوئی مردہ قوم ہوگی ایسی قوم جو مستقل طور پر دشمن کے لیے ایک لقمۂ تر ہوگی۔ جیسے اسرائیل کے لیے لبنان ہے۔ عصانہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد‘‘ کچھ عرصے سے ملک کے اندر اور باہر یہ تاثر پھیلایا گیا تھا کہ پاکستان بہت پیچھے چلا گیا ہے اور ہندوستان بہت آگے نکل گیا ہے۔

بھارتی حکمران اپنی تقریروں میں پاکستان کا مذاق اڑاتے تھے کہ وہ تو زندہ رہنے کے لیے بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔ ایک سابق آرمی چیف نے بھی انتہائی گھٹیا بیان دیا تھا کہ ہمارے پاس ٹینکوں میں تیل ڈالنے کے لیے پیسے نہیں ہم نے کیا جنگ لڑنی ہے۔ اس سے کنفیوژن، مایوسی اور بددلی میں اضافہ ہوتا گیا۔ مگر پاکستان کا موجودہ سپہ سالار یکسو اور پرعزم تھا۔ اس کے سینے میں کلامِ الٰہی محفوظ ہے اور وہ جنگ میں اسی کتابِ حق سے راہنمائی لیتا رہا۔ وہ اس کی ننگی جارحیّت کے بعد بھارت کو سبق سکھانے کا تہیّہ کرچکا تھا، اس کے لیے اس نے کلامِ الٰہی سے ہی راہنمائی لیتے ہوئے آپریشن کا نام بنیانِ مرصوص (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) رکھا اور سنتِ مصطفیﷺ پر عمل کرتے ہوئے نمازِ فجر کے ساتھ ہی مقدّس مشن کا آغاز کیا۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ دس مئی کو تہجّد اور فجر کے وقت بے شمار لوگوں نے گڑگڑا کر ربِّ کائنات سے مدد کی التجائیں کی تھیں۔

پاکیزہ کردار مسلمانوں کی دعائیں اور التجائیں قبول ہوئیں اور پھر چند گھنٹوں میں ہی ایس پی ڈی کے فتح میزائلوں اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ وہ چھبیّس مقامات پر عقاب کی طرح جھپٹے اور اہداف کو تباہ کرکے بحفاظت واپس پہنچ گئے۔ اس آپریشن نے مودی اور ہندو توا کے پیروکاروں پر لرزہ طاری کردیا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت کا تکبّر خاک میں مل گیا۔ پاکستان نے دنیا کے جدید ترین رافیل طیاروں کو ناکارہ بنا کر بھارت کی برتری کے دعووں کو مٹی میں ملادیا۔ پاکستان نے بھارت اور اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کا myth بھی توڑ کر رکھ دیا۔ پاکستان ائیرفورس کو پورے ساؤتھ ایشیا میں فضائی برتری حاصل ہوگئی اور یورپی میڈیا پاکستان کی بے مثال فضائیہ کو ’’آسمانوں کا بادشاہ‘‘ کہنے پر مجبور ہوگیا۔

پاکستان کی اس فتحِ مبین سے نہ صرف دنیا بھر میں پاکستان کا امیج اور مقام زمین سے آسمان تک پہنچ گیا ہے بلکہ اس سے دنیا بھر کے مایوس اور غمزدہ مسلمانوں کو نئی امیّد اور حوصلہ ملا ہے۔ اس عظیم کامیابی کی خبر سن کر فلسطین، لبنان اور عرب مسلمانوں کے دکھی دلوں کو کئی دھائیوں کے بعد اطمینان اور خوشی نصیب ہوئی ہے۔ بھارت کی ہزیمت اور پاکستان کی فتح نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے زخموں پر بھی مرہم رکھا ہے اور اس فتحِ مبین سے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمان سر اونچا کرکے چلنے کے قابل ہوئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی میزائلوں کی بارش نے بھارت کو بے بس کردیا تو مودی نے مدد کے لیے ٹرمپ کو پکارا کہ ہمیں بچاؤ اور ہماری جان چھڑاؤ۔ چین ہمارا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے جس نے ہمیں جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کی۔

ترکی نتائج سے بے پرواہ ہوکر سگے بھائیوں کی طرح ہمارے ساتھ کھڑا ہوا، ہم چین اور ترکی کے بے حد مشکور ہیں۔ آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے عوام نے بھی کھل کر پاکستان کی حمایت کی ہم ان کے بھی شکر گذار ہیں۔ آزمائش کا وقت آیا تو پوری قوم متحد ہوکر فوج کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ عمران خان کے پیروکاروں میں سے ایم این ایز نے تو ذمے داری کا ثبوت دیا مگر بہت سے پیروکار دشمن کے حامی اور ہمنوا بن کر بھارتی میڈیا کا جھوٹا اور غلیظ پراپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کرتے رہے اس طرزِ عمل کی جتنی بھی مذمّت کی جائے کم ہے۔ بھارت کے ساتھ جب بھی بات چیت شروع ہو، اس کے ایجنڈے میں کشمیر، بھارت کی طرف سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی سرپرستی اور دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے ایشو سرِفہرست ہونے چاہیئیں۔

کل مودی کا خطاب ایک شکست خوردہ انسان کی آخری ہچکی ہے اس کے تکبّر کے ساتھ ہی اس کا اقتدار بھی دفن ہونے والا ہے۔ مگر دشمن بدنیّت، مکّار اور ناقابلِ بھروسہ ہے اس لیے اس کی طرف سے کسی بھی ممکنہ جارحیّت کا امکان نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسے روکنے کا وہی طریقہ ہے جس نے مودی کو جنگ بندی پر مجبور کیا، اور وہ یہ ہے کہ ہماری تینوں افواج ہردم تیار رہیں اور آنکھیں جھپک کر دشمن کو پہلے وار کرنے کا موقع ہرگز نہ دیں۔ قدرت نے ہمیںایک تاریخی موقع دیا ہے، اسے ضایع کردیا گیا تو یہ بہت بڑی بدقسمتی ہوگی۔ اس پر آیندہ لکھوں گا۔

10/05/2025

گروپ ممبرز دو تین گھنٹوں سے کچھ فیک نیوز زیر گردش ہے جس میں
نمبر 1 ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام پاکستان پر لگایا (فیک نیوز)

نمبر 2 پشاور رنگ روڈ پر ڈرون حملہ اس نیوز کے ساتھ ایک ویڈیو بھی لگائی گئی ہے جو دو سال پرانی ہے مطلب (فیک نیوز)

نمبر 3 پشاور ائیرپورٹ پر ڈرون چکر کاٹ رہے ہیں (فیک نیوز)

برائے مہربانی غیر تصدیق شدہ خبروں پر فیک نیوز لکھا کریں تاکہ عوام کو پریشانی نہ ہو

دوسری اور اہم بات کہ جنگ بندی ہوئی ہے لیکن ہم دشمن پر اعتماد نہیں کرسکتے
یاد رکھیے کہ پچھلی رات ہمارے فوج نے ایشیا کے تھانیدار سمیت اسرائیل فرانس برطانیہ اور دیگر ممالک کے جدید ترین ٹکنالوجی کو خاکستر کیا ہے اسلئے احتیاط لازم
اپنی سیکیورٹی فورسز پر اعتماد رکھئے اور اپنی فتح کو انجوائے کیجئے
شکریہ
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی ڈرونز نے سیزفائر سے قبل پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ان کو پاکستان کی طرف چھوڑا گیا تھا ، یہ تب تک فضا میں موجود رہیں گے جب تک ان کی بیٹری ڈی فیوز نہ ہو ۔ ان ڈرونز کو مکمل طور پر ہٹانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ اگرچہ سیزفائر نافذ ہے، مگر لائن آف کنٹرول پر صورتحال اب بھی انتہائی کشیدہ ہے۔ ڈرونز کل شام تک فضا میں رہیں گے۔ سیز فائر کے معاہدے کے مطابق بڑے ہتھیار ، میزائل اور فضائی حملے نہیں کیے جاسکتے ، فضا سے مانیٹرنگ اور معمول کی جھڑپیں روکنے میں ابھی وقت درکار ہے ۔
یہ آوازیں اور پٹاخے بھی ڈرونز کے ہیں ، ان میں کچھ کاما کازی اور کبھ ٹریسر ڈرون ہیں ۔ کاما کازے خودکش ڈرونز ہوتے ہیں اور ایک بار لانچ ہو جانے کے بعد واپس نہیں بلائے جا سکتے، اور انڈیا ان کو دوپہر میں بڑی تعداد میں بھیج چکا تھا ، یہ اب بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں اور ان کو نزدیک آنے پر ناکارہ بنایا جا رہا ہے ۔

اگر آپ کو دھماکے وغیرہ کی آواز سنائی دے تو پریشان نہ ہوں، یہ ڈرونز کو تلاش کرکے تباہ کرنے کی کارروائیاں ہیں۔ کل تک یہ سب کچھ جاری رہے گا ۔ اس لیے تھوڑا تحمل اور صبر سے کام لیجیے ۔ فورسزز اور قومی ادارے اب بھی چوکنا ہیں اور پہلے سے بہتر جواب دینے کی پوزیشن میں ہیں ۔ اب تو مورال مزید بلند ہوچکا ہے ۔ تھوڑا وقت دیجیے ، اور اپنے اداروں پر بھروسہ رکھیے ۔ بھارت کا کام پروپیگنڈا کرنا ہے وہ کرتا رہے گا ۔اب تو وہ زخمی سور ہے ، الزام لگانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑے گا ۔
مگر وقت آنے پر اصول وہی رہے گا ۔۔
سو سنار کی ۔۔۔ ایک لوہار کی

10/05/2025
10/05/2025

‏"حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے فرمایا:
'اپنی تعداد پر غرور نہ کرو اور اپنے اسلاف کے فخر میں نہ رہو۔ جان لو! آج تمہارا مقابلہ اُس قوم سے ہے جسے موت اتنی ہی عزیز ہے جتنی تمہیں زندگی عزیز ہے۔
پاکستان زندہ باد ✅
پاک فوج زندہ باد ✅

بھارت کی جانب سے امن کا جھنڈا لہرانے کے بعد رزلٹ آنا شروع،،،
07/05/2025

بھارت کی جانب سے امن کا جھنڈا لہرانے کے بعد رزلٹ آنا شروع،،،

پاکستان نے اپنی فضائی حدود کھول دیں، ہوائی سفر بحال
07/05/2025

پاکستان نے اپنی فضائی حدود کھول دیں، ہوائی سفر بحال

03/05/2025

🥀 _*بیٹا، آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟*_ 🥀

بوڑھے انکل نے پٹرول پمپ ⛽ پر کام کرتی ایک باحجاب لڑکی سے سوال کیا، جو خاموشی سے گاڑی میں پٹرول بھر رہی تھی 🚗۔

لڑکی نے نظریں جھکائیں اور دھیمے لہجے میں جواب دیا:
"انکل… تیس ہزار روپے۔" 💸

انکل نے حیرت سے کہا:
"تم اسکول چلی جاتیں، وہاں عزت بھی ہے اور ماحول بھی مناسب۔" 🎓

لڑکی کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی 🙂
جیسے کسی پرانے زخم کا درد پھر سے جاگ اٹھا ہو…
آہستہ سے بولی:
"انکل، پہلے میں اسکول میں بچوں کو پڑھاتی تھی… ایک ٹیچر تھی۔" ✏️📚

"بارہ 12 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ تھی…
صبح سات بجے اسکول پہنچتی 🕖،
پورا دن بچوں کی شرارتیں، اسباق، والدین کی شکایات، اور انتظامیہ کی ہدایات میں گزر جاتا۔
گھر آ کر بھی سکھ کا سانس نصیب نہ ہوتا۔" 🏠

"کبھی ٹیسٹ تیار کرتی،
کبھی ماہانہ امتحانات کے پرچے بناتی،
اور اکثر آدھی رات تک کاپیوں کی جانچ میں مصروف رہتی—بغیر کسی اضافی معاوضے کے 📝❌۔
یہاں تک کہ اسٹیشنری بھی اپنی جیب سے خریدنی پڑتی۔" 🖊️💰

"تنخواہ سالوں تک جوں کی توں رہتی،
اور اگر اضافہ ہوتا بھی تو چند سو روپے کا 📉۔
کسی بچے کو ڈانٹنے پر فوراً والدین کے سامنے جواب دہ بنا دیا جاتا،
جیسے ہم کوئی مجرم ہوں۔" ⚖️

"اکثر تنخواہ قسطوں میں ملتی 💔،
اور گرمیوں کی طویل چھٹیوں میں کچھ بھی ادا نہ کیا جاتا،
اس خوف سے کہ کہیں ہم نوکری چھوڑ نہ دیں۔"

"امی بیمار رہتی تھیں 🧓‍⚕️…
دوائیوں کے لیے قرض لینا پڑتا،
گھر کے اخراجات، بہن بھائیوں کی پڑھائی…
سب کچھ میری ہی ذمہ داری تھی۔" 🏥💊👩‍👧‍👦

"انکل، اسکول مالکان ہماری قربانیوں کو کیا سمجھیں گے؟
ان کی گاڑی کا ایک شہر کا سفر جتنا پٹرول خرچ کرتا ہے،
اتنی ہماری مہینے بھر کی تنخواہ نہیں!" ⛽🚘

"یہاں… اس پمپ پر،
مجھے عزت بھی ملتی ہے 🤝، وقت پر کھانا بھی 🍛،
اور اگر کوئی ضرورت پیش آ جائے، تو مالک ایڈوانس بھی دے دیتا ہے۔" 💼✅

یہ کہتے ہوئے وہ خاموش ہو گئی…
انکل کے پاس اب کوئی سوال باقی نہ رہا، صرف ایک گہری خاموشی رہ گئی… ?🇵🇰 # #

Address

Sialkot

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+971557842016

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awan Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Awan Law Firm:

Share