28/01/2025
پیکا 2016، حالیہ ترامیم اور ڈیٹا پرائیویسی
پاکستان میں سائبر کرائمز کی روک تھام اور ڈیجیٹل دنیا کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر پیکا 2016 نافذ کیا گیا، لیکن حالیہ ترامیم نے اس قانون کو ایک بار پھر خبروں کا مرکز بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ ترامیم کیوں ہوئیں، ان کے اثرات کیا ہوں گے، اور کیا یہ ترامیم کافی ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم موضوع ہے جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، یعنی ڈیٹا پرائیویسی۔
پیکا 2016: ایک مختصر تعارف
پیکا 2016 کا مقصد تھا کہ انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم کو روکا جا سکے۔ یہ قانون ڈیجیٹل دور کے مطابق بنایا گیا، تاکہ ہیکنگ، ڈیٹا چوری، سائبر بدمعاشی، اور دہشتگردی جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ کچھ اہم نکات یہ تھے:
غیر قانونی رسائی: کسی کے کمپیوٹر یا ڈیٹا تک بغیر اجازت پہنچنے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ۔
ڈیٹا کو نقصان پہنچانا: حساس ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 2 سال قید یا 5 لاکھ روپے جرمانہ۔
سائبر دہشتگردی: دہشتگردی کے لیے انٹرنیٹ استعمال کرنے پر 14 سال قید یا 5 کروڑ روپے جرمانہ۔
نفرت انگیز تقاریر: مذہبی یا سماجی نفرت پھیلانے پر 7 سال قید۔
ذاتی مواد کا غلط استعمال: کسی کی تصاویر یا ویڈیوز کو بغیر اجازت شیئر کرنے پر 5 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ۔
حالیہ ترامیم: اب کیا بدلا؟
حکومت نے حالیہ ترامیم کے ذریعے پیکا 2016 کو مزید سخت بنا دیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ قانون دوبارہ سے بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
اہم ترامیم:
1. جعلی خبروں کا خاتمہ:
جھوٹی خبروں (Disinformation) اور گمراہ کن معلومات کو جرم قرار دیا گیا ہے، جس سے ریاست، اداروں یا عوام کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔
2. سزا میں اضافہ
نفرت انگیز مواد یا جعلی خبروں پر اب 3 سال قید کے ساتھ 2 کروڑ روپے جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
3. سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کنٹرول:
پلیٹ فارمز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ حکومت کی ہدایت پر غیر قانونی مواد کو جلد از جلد ہٹائیں۔
4. ایف آئی اے کے اختیارات:
ایف آئی اے کو بغیر وارنٹ گرفتاری کا اختیار دے دیا گیا ہے، جس پر عوامی اور قانونی حلقوں میں شدید اعتراضات ہیں۔
یہ ترامیم زیر بحث کیوں ہیں؟
1. آزادی اظہار پر قدغن:
- ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم حکومت کو غیر ضروری طاقت دیتی ہیں، جس سے صحافی، کارکنان، اور مخالفین کو دبایا جا سکتا ہے۔
2. غلط استعمال کا خدشہ:
مبہم تعریفات جیسے "جعلی خبریں" اور "ڈس انفارمیشن" کے باعث ان قوانین کا استعمال ذاتی مفادات کے لیے ہو سکتا ہے۔
3. ڈیجیٹل حقوق پر اثرات:
شہریوں کی پرائیویسی متاثر ہو سکتی ہے، اور سوشل میڈیا پر اظہار رائے کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔
ڈیٹا پرائیویسی کی ضرورت: نظرانداز شدہ پہلو
جب ہم سائبر کرائمز کی بات کرتے ہیں، تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شہریوں کے ڈیٹا کو محفوظ بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ بدقسمتی سے، پاکستان میں ابھی تک ڈیٹا پرائیویسی کے قوانین موجود نہیں ہیں، اور یہی ایک بہت بڑا خلا ہے۔
پاکستان میں ڈیٹا پرائیویسی کی صورت حال
قانون کی عدم موجودگی:
یہاں نہ تو کوئی واضح قانون ہے، اور نہ ہی کسی شخص کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ڈیٹا کے استعمال کو کنٹرول کر سکے۔
ڈیٹا لیک کے مسائل:
ادارے اور کمپنیاں صارفین کے ڈیٹا کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں، اور شہریوں کے پاس تحفظ کا کوئی ذریعہ نہیں۔
حکومتی مداخلت:
ترامیم کے بعد حکومتی ادارے شہریوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، لیکن اس پر شفافیت کی کمی کے باعث خدشات موجود ہیں۔
کیا ہونا چاہیے؟
پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے کچھ فوری اقدامات ضروری ہیں:
1. ڈیٹا پرائیویسی ایکٹ:
ایسا قانون ہونا چاہیے جو شہریوں کو یہ حق دے کہ ان کا ڈیٹا کس طرح استعمال ہو رہا ہے۔
2. سخت اصول اور سزا:
- ڈیٹا چوری یا غلط استعمال پر سخت جرمانے اور سزائیں مقرر کی جائیں۔
3. خود مختار ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی:
ایک آزاد ادارہ قائم ہونا چاہیے جو ڈیٹا کے تحفظ کے معاملات کو دیکھے اور خلاف ورزیوں پر کارروائی کرے۔
4. حکومتی شفافیت:
حکومت اور اداروں کو شہریوں کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے واضح اصول اپنانے چاہئیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
بطور قانون دان میری رائے:
پیکا 2016 اور اس کی ترامیم ایک اہم ضرورت ہیں، لیکن ان قوانین میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ آزادی اظہار، شہری حقوق، اور حکومتی کنٹرول کے بیچ ایک حد مقرر کی جائے، ورنہ یہ قانون اپنی افادیت کھو سکتا ہے۔
جہاں حکومت سائبر کرائمز کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں ڈیٹا پرائیویسی پر کام کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان کو بھی ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے جو ڈیجیٹل دنیا میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا ترامیم درست ہیں؟ اور کیا ڈیٹا پرائیویسی کے قوانین کی ضرورت ہے؟ اپنی رائے کا اظہار کریں اور اس موضوع پر جلد آنے والی ویڈیو کا انتظار کریں۔
چوہدری عدیل عزیز کسانہ
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ