Legal Point

Legal Point LEGAL POINT ⚖️

03/06/2026

پریزن (جیل) رولز کے مطابق، اگر کسی قیدی کا کوئی قریبی عزیز (Blood Relative) فوت ہو جائے، تو اسے درج ذیل شرائط اور طریقے کے تحت جنازے میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے:
1. پیرول پر عارضی رہائی (Release on Parole)
قانون کے تحت صوبائی حکومت یا ہوم ڈیپارٹمنٹ (Home Department) کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی قیدی کو اس کے قریبی رشتہ دار (والدین، بہن بھائی، بیوی یا بچے) کے جنازے میں شرکت کے لیے عارضی طور پر (چند گھنٹوں سے لے کر ایک یا دو دن تک) رہا کر سکے۔
2. ضلعی انتظامیہ کا کردار (Role of Deputy Commissioner)
عام طور پر، قیدی کے ورثاء کو متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر (DC) یا ہوم ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دینی ہوتی ہے۔
• درخواست کے ساتھ فوتگی کا ثبوت (ڈیتھ سرٹیفکیٹ یا ہسپتال کی رپورٹ) منسلک کرنا لازمی ہے۔
• انتظامیہ سیکیورٹی کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد پیرول کی منظوری دیتی ہے۔
3. پولیس سیکیورٹی اور حراست (Police Es**rt)
قیدی کو مکمل طور پر آزاد نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے پولیس کی سخت نگرانی (Police Custody) میں جنازے کے مقام تک لے جایا جاتا ہے۔
• قیدی کو ہتھکڑی لگائی جا سکتی ہے (سیکیورٹی رسک کو مدنظر رکھتے ہوئے)۔
• جنازہ پڑھنے یا آخری دیدار کرنے کے فوراً بعد پولیس اسے واپس جیل منتقل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔
4. زیرِ سماعت ملزم اور سزا یافتہ قیدی (UTP vs Convicted)
• زیرِ سماعت ملزم (Under-trial Prisoner): اگر ملزم کا کیس عدالت میں چل رہا ہے، تو اس کا وکیل متعلقہ ٹرائل کورٹ (سیشن جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ) میں فوری درخواست دے سکتا ہے۔ جج صاحب انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پولیس کو حکم دیتے ہیں کہ ملزم کو جنازے میں شرکت کروائی جائے۔
• سزا یافتہ قیدی (Convicted): سزا یافتہ قیدی کے لیے جیل انتظامیہ اور صوبائی حکومت (Home Department) سے رجوع کیا جاتا ہے۔
5. دہشت گردی یا سنگین جرائم کے مقدمات
اگر قیدی انتہائی خطرناک ہو یا اس پر دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات ہوں، تو انتظامیہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیرول کی درخواست مسترد بھی کر سکتی ہے، یا پھر انتہائی سخت سیکیورٹی میں صرف چند منٹوں کے لیے جنازہ گاہ لے جانے کی اجازت دیتی ہے۔
خلاصہ (Summary in Points)
• قانون: پاکستان پریزن رولز (پیرول سیکشن)۔
• درخواست: ڈپٹی کمشنر یا ٹرائل کورٹ کو دی جاتی ہے۔
• حق: یہ قیدی کا قطعی حق نہیں بلکہ انتظامیہ کی صوابدید ہے، لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عدالتیں اور حکومتیں عموماً اجازت دے دیتی ہیں۔
• واپسی: جنازے کے فوراً بعد یا مقررہ وقت (مثلاً 12 یا 24 گھنٹے) کے اندر واپسی لازمی ہوتی ہے۔
اگر ایسی صورتحال درپیش ہو، تو سب سے تیز طریقہ متعلقہ عدالت سے "رٹ" یا "درخواست برائے جنازہ" کے ذریعے آرڈر حاصل کرنا ہے، کیونکہ عدالتی حکم پر جیل انتظامیہ فوری عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

قیدی کے قریبی رشتہ دار کی وفات پر جنازے میں شرکت یا عارضی رہائی (پیرول) کے حوالے سے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے متعدد بار انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کو ترجیح دی ہے۔
ذیل میں اس موضوع پر اہم عدالتی نظائر (Case Laws) درج ہیں جنہیں آپ قانونی حوالہ جات کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں:
1. 2021 SCMR 342 (سپریم کورٹ آف پاکستان)
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے پیرول کے تصور کو واضح کیا:
• اصول: عدالت نے قرار دیا کہ پیرول کا مقصد قیدی کو سماجی اور خاندانی بحران (جیسے موت یا شدید بیماری) کے وقت اپنوں کے ساتھ شامل ہونے کا موقع دینا ہے۔
• حکم: اگر کسی قیدی کا قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ لکیر کی فقیری چھوڑ کر انسانی بنیادوں پر فیصلہ کرے اور قیدی کو آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دے۔
2. PLD 2017 Lahore 712 (لاہور ہائی کورٹ)
یہ ایک انتہائی اہم کیس لا ہے جس میں عدالت نے قیدی کی عارضی رہائی پر زور دیا:
• اصول: عدالت نے قرار دیا کہ کسی قیدی کو اس کے والدین یا اولاد کے جنازے سے محروم کرنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 (انسانی وقار) کی خلاف ورزی ہے۔
• رہنمائی: اگر ہوم ڈیپارٹمنٹ پیرول کی اجازت دینے میں تاخیر کرے تو متعلقہ سیشن جج یا ہائی کورٹ مداخلت کر کے فوری حکم جاری کر سکتی ہے۔
3. 2019 P Cr. L J 455 (سندھ ہائی کورٹ)
اس فیصلے میں "خون کے رشتے" کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا:
• اصول: عدالت نے واضح کیا کہ قیدی کو صرف اس لیے جنازے سے نہیں روکا جا سکتا کہ وہ سنگین جرم میں ملوث ہے۔ اگر پولیس سیکیورٹی فراہم کر سکتی ہے تو اسے ہتھکڑی لگا کر بھی جنازے میں لے جانا ریاست کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
• نتیجہ: ملزم کو اس کے باپ کے جنازے میں شرکت کے لیے 12 گھنٹے کا پیرول دیا گیا۔
4. 2015 MLD 128 (لاہور ہائی کورٹ)
• اصول: اس کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ پیرول پر رہائی صرف حکومت کا اختیار نہیں بلکہ یہ عدالت کے دائرہ اختیار میں بھی آتا ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ سمجھے کہ ملزم کے فرار ہونے کا خطرہ نہیں ہے تو وہ پولیس اسکواڈ کی نگرانی میں جنازے میں شرکت کی اجازت دے سکتی ہے۔
قانونی نچوڑ (Legal Gist for Copying)
اگر آپ کو کسی کیس میں یہ حوالہ جات دینے ہوں تو آپ اس طرح تحریر کر سکتے ہیں:

"اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں (2021 SCMR 342 اور PLD 2017 Lahore 712) کے مطابق، کسی قیدی کو اس کے قریبی رشتہ دار کے جنازے میں شرکت سے محروم کرنا آئینِ پاکستان کے تحت دیے گئے انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ قانون قیدی کو پیرول پر رہا کرنے کی اجازت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی سماجی اور مذہبی ذمہ داریاں پوری کر سکے۔"

وفات کی صورت میں وقت بہت کم ہوتا ہے۔ ایسے میں ہوم ڈیپارٹمنٹ کے بجائے متعلقہ ٹرائل کورٹ (سیشن جج) میں "فوری درخواست برائے جنازہ" دائر کرنا سب سے موثر طریقہ ہے، کیونکہ عدالتیں ایسے معاملات میں اسی وقت (حتیٰ کہ چھٹی والے دن بھی) آرڈر جاری کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔

عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبا...
20/04/2026

عدالت میں سپرداری (Supardari) کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پولیس کسی جرم کے سلسلے میں کوئی مال (گاڑی، موٹر سائیکل، موبائل، یا نقدی وغیرہ) اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ پاکستان میں اس کا طریقہ کار اور متعلقہ قوانین درج ذیل ہیں:
1. متعلقہ قانونی دفعات (Legal Sections)
سپرداری کا معاملہ بنیادی طور پر مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کے باب 43 (Chapter 43) میں بیان کیا گیا ہے:
دفعہ 516-A CrPC: یہ دفعہ اس مال کی سپرداری سے متعلق ہے جو مقدمے کی سماعت (Trial) کے دوران عدالت کی تحویل میں ہوتا ہے۔ اگر مال خراب ہونے والا ہو یا اس کی حفاظت مشکل ہو، تو عدالت اسے کسی شخص کے حوالے کر سکتی ہے۔
دفعہ 523 CrPC: جب پولیس کوئی مال دفعہ 51 یا کسی جرم کے شبہ میں قبضے میں لیتی ہے لیکن وہ مال ابھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہوتا، تو مجسٹریٹ اس کی واپسی کا حکم دے سکتا ہے۔
2. سپرداری کرانے کا طریقہ کار (Procedure)
سپرداری حاصل کرنے کے لیے درج ذیل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے:
درخواست کی پیشی: مال کا اصل مالک (یا جس کے قبضے سے مال لیا گیا ہو) متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں دفعہ 516-A یا 523 CrPC کے تحت درخواست دائر کرتا ہے۔
پولیس رپورٹ (Comments): عدالت پولیس سے اس مال کی حیثیت اور قبضے کی رپورٹ طلب کرتی ہے۔ پولیس بتاتی ہے کہ آیا مال مقدمے میں بطور "مقدمہ مال" (Case Property) ضروری ہے یا نہیں۔
ملکیت کے ثبوت: درخواست گزار کو اپنی ملکیت ثابت کرنی ہوتی ہے (مثلاً گاڑی کی رجسٹریشن بک، انوائس، یا دیگر دستاویزات)۔
عدالتی حکم اور مچلکہ (Surety Bond): اگر عدالت مطمئن ہو جائے، تو وہ سپرداری منظور کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں درخواست گزار کو ایک "روبکار" جاری کی جاتی ہے، لیکن اس سے پہلے اسے مال کی مالیت کے برابر ضمانتی مچلکہ (Bond) جمع کرانا پڑتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مال عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
3. سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے رہنما اصول (Case Laws)
اعلیٰ عدالتوں نے سپرداری کے حوالے سے کچھ اہم اصول طے کیے ہیں:
مال کا ضائع ہونا: سپریم کورٹ نے کئی بار یہ واضح کیا ہے کہ گاڑیوں یا مشینوں کو تھانے میں کھڑا کر کے زنگ لگنے کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس سے قومی اثاثہ ضائع ہوتا ہے۔ لہٰذا، سپرداری جلد از جلد ہونی چاہیے (2011 SCMR 1500).
مالک کا حق: ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق، اگر ملکیت کے بارے میں کوئی تنازع نہ ہو، تو اصل مالک کو ترجیحی بنیادوں پر سپرداری ملنی چاہیے (PLD 2005 Lahore 27).
کرمنل کیس اور سپرداری: اگر کسی گاڑی کا انجن یا چیسس نمبر ٹیمپرڈ (Tampered) ہو، تو ایسی صورت میں سپرداری دینے میں عدالتیں زیادہ احتیاط برتتی ہیں اور عام طور پر ایسی گاڑیاں مالک کے حوالے نہیں کی جاتیں جب تک فرانزک رپورٹ نہ آ جائے۔
اہم نکات برائے وکیل
بنا برآمدگی: اگر پولیس نے مال غلط طریقے سے قبضے میں لیا ہے، تو آپ دفعہ 523 CrPC کا سہارا لیں۔
مال کی حفاظت: سپرداری لیتے وقت یہ شرط ہوتی ہے کہ آپ مال کو بیچیں گے نہیں اور نہ ہی اس کی شکل تبدیل کریں گے، کیونکہ وہ ٹرائل کے دوران بطور ثبوت پیش کرنا پڑ سکتا ہے۔

قبر کشائی (Exhumation) کا قانونی عمل مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 176(2) کے تحت ہوتا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل معلوما...
20/04/2026

قبر کشائی (Exhumation) کا قانونی عمل مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 176(2) کے تحت ہوتا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل معلومات انتہائی اہم ہیں:
​قبر کشائی کب کی جا سکتی ہے؟ (وجوہات)
​لاش کو قبر سے نکالنے کی اجازت صرف "انصاف کی فراہمی" کے لیے دی جاتی ہے۔ یہ درج ذیل صورتوں میں ممکن ہے:
​مشکوک موت (Suspicious Death): جب کسی شخص کو دفنایا جا چکا ہو، لیکن بعد میں یہ انکشاف ہو کہ اس کی موت طبعی نہیں تھی، بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے یا اس کے ساتھ کوئی اور جرم ہوا ہے۔
​پوسٹ مارٹم کے بغیر تدفین: اگر لاش کا پہلے پوسٹ مارٹم نہیں ہوا تھا اور اب موت کی وجہ جاننے کے لیے اس کا معائنہ ضروری ہے۔
​پہلی رپورٹ پر شک: اگر پہلا پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے، لیکن ورثاء کو اس کی رپورٹ پر شک ہے اور وہ "میڈیکل بورڈ" کے ذریعے دوبارہ معائنہ کروانا چاہتے ہیں۔
​شناخت کے لیے: اگر کسی نامعلوم لاش کو دفنا دیا گیا ہو اور بعد میں اس کے ورثاء اس کی شناخت کے لیے دعویٰ کریں۔
​درخواست کس کو دی جا سکتی ہے؟ (قانونی فورم)
​قبر کشائی کی اجازت دینے کا اختیار علاقہ مجسٹریٹ (Illaqa Magistrate) کے پاس ہوتا ہے۔
​فورم: آپ کو متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ (اکثر اسسٹنٹ کمشنر بھی مجسٹریٹ کے اختیارات رکھتے ہیں) کے پاس تحریری درخواست دائر کرنی ہوگی۔
​درخواست کا نمونہ: درخواست میں واضح طور پر موت کی مشکوک وجوہات اور یہ بتانا ضروری ہے کہ دوبارہ پوسٹ مارٹم سے کیا حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔
​قانونی چارہ جوئی کا طریقہ کار (Step-by-Step Guide)
​درخواست دائر کرنا: ورثاء یا پولیس کی طرف سے مجسٹریٹ کو درخواست دی جاتی ہے۔
​مجسٹریٹ کی انکوائری: مجسٹریٹ درخواست پر غور کرتا ہے اور اگر ٹھوس وجوہات موجود ہوں تو وہ پولیس کو قبر کشائی کا حکم دیتا ہے۔
​میڈیکل بورڈ کی تشکیل: ڈی ایچ او (DHO) یا سیکرٹری صحت کو درخواست دے کر سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے۔
​موقع پر کارروائی: مجسٹریٹ، میڈیکل بورڈ اور ورثاء کی موجودگی میں قبر کھولی جاتی ہے۔
​معائنہ اور نمونے: ڈاکٹر لاش کا معائنہ کرتے ہیں اور اگر ضروری ہو تو کیمیائی تجزیے کے لیے نمونے (Viscera) لیتے ہیں۔
​دوبارہ تدفین: کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاش کو دوبارہ احترام کے ساتھ دفن کر دیا جاتا ہے۔
​رپورٹ: میڈیکل بورڈ اپنی رپورٹ مجسٹریٹ کو پیش کرتا ہے۔
​خلاصہ:
قبر کشائی کے لیے ٹھوس وجوہات کا ہونا لازمی ہے، کیونکہ عدالتیں بغیر کسی اہم وجہ کے قبر کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتیں۔ اگر آپ کو اپنے کسی عزیز کی موت پر شک ہے، تو فوری طور پر وکیل کے ذریعے مجسٹریٹ کے پاس CrPC دفعہ 176 کے تحت درخواست دائر کریں۔
قبر کشائی (Exhumation) کروانے کا اختیار قانون نے مخصوص افراد اور اداروں کو دیا ہے۔ ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 176 کے تحت درج ذیل لوگ یہ عمل کروا سکتے ہیں:
1. علاقہ مجسٹریٹ (Illaqa Magistrate)
قبر کشائی کا قانونی حکم جاری کرنے کا اصل اور حتمی اختیار صرف مجسٹریٹ کے پاس ہوتا ہے۔ پولیس خود اپنی مرضی سے قبر نہیں کھود سکتی، اسے پہلے مجسٹریٹ سے تحریری اجازت لینی پڑتی ہے۔
2. متوفی کے قانونی ورثاء (Legal Heirs)
اگر مرنے والے کے گھر والوں (مثلاً والدین، اولاد، میاں یا بیوی) کو یہ شک ہو کہ موت طبعی نہیں تھی بلکہ قتل یا زہر خوری کا نتیجہ ہے، تو وہ مجسٹریٹ کو درخواست دے کر قبر کشائی کروا سکتے ہیں۔
3. پولیس (Police)
اگر تفتیشی افسر کو دورانِ تفتیش ایسے شواہد ملیں کہ دفنائے گئے شخص کی موت کسی جرم کا نتیجہ تھی، تو پولیس مجسٹریٹ کو رپورٹ (Application) بھیجتی ہے کہ سچائی جاننے کے لیے لاش کا دوبارہ معائنہ ضروری ہے۔
4. سیشن جج یا ہائی کورٹ (Higher Courts)
اگر مجسٹریٹ درخواست مسترد کر دے، تو متاثرہ فریق سیشن کورٹ یا ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن (Writ Petition) دائر کر سکتا ہے۔ عدالتِ عالیہ انصاف کے حصول کے لیے قبر کشائی کا حکم دے سکتی ہے۔
قبر کشائی کے وقت کن کا ہونا لازمی ہے؟
قانون کے مطابق جب قبر کھولی جاتی ہے تو موقع پر درج ذیل افراد کی موجودگی ضروری ہے:
مجسٹریٹ: جس کی نگرانی میں سارا عمل ہوتا ہے۔
میڈیکل بورڈ / ڈاکٹرز: جو لاش کا معائنہ اور پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔
پولیس افسر: امن و امان برقرار رکھنے اور تفتیش کے لیے۔
ورثاء: لاش کی شناخت (Identification) کے لیے۔
خلاصہ:
درخواست ورثاء یا پولیس دے سکتے ہیں، لیکن اس کا آرڈر صرف مجسٹریٹ یا اعلیٰ عدالت جاری کر سکتی ہے۔
قبر کشائی (Exhumation) کے وقت ڈاکٹر جو رپورٹ تیار کرتا ہے، اسے "Post-mortem Examination Report after Exhumation" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی حساس دستاویز ہوتی ہے کیونکہ لاش پہلے سے دفن ہوتی ہے اور جسم میں تبدیلیاں آ چکی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر کی اس رپورٹ میں درج ذیل اہم نکات شامل ہوتے ہیں:
1. لاش کی شناخت (Identification)
ڈاکٹر سب سے پہلے یہ لکھتا ہے کہ لاش کی شناخت کس نے کی۔
ورثاء کے بیانات: کیا گھر والوں نے کپڑوں، کسی جسمانی نشان یا دانتوں سے پہچانا کہ یہ وہی شخص ہے؟
شناختی علامات: اگر جسم زیادہ خراب نہ ہوا ہو تو قد، رنگت اور دیگر علامات لکھی جاتی ہیں۔
2. قبر اور کفن کی حالت
رپورٹ کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے:
قبر کی گہرائی اور مٹی کی نوعیت (گیلی یا خشک)۔
کفن کی حالت (کیا وہ سلامت ہے یا گل چکا ہے؟)۔
جسم کے گلنے سڑنے کا درجہ (Putrefaction Level)۔
3. بیرونی معائنہ (External Examination)
ڈاکٹر یہ دیکھتا ہے کہ کیا جسم پر کوئی ایسی چیز موجود ہے جو برسوں بعد بھی نہیں مٹتی:
ہڈیوں کا معائنہ: کیا کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے؟ (قتل کے کیسز میں پسلیوں یا کھوپڑی کی ہڈی کا ٹوٹنا اہم ثبوت ہوتا ہے)۔
زخموں کے نشان: کیا گولی کے داخل ہونے یا نکلنے کا نشان ہڈی پر موجود ہے؟
4. اندرونی معائنہ اور نمونے (Internal Examination & Samples)
یہ سب سے اہم حصہ ہے:
کیمیائی تجزیہ (Viscera): اگر زہر کا شبہ ہو تو ڈاکٹر جگر، گردوں اور معدے کے ٹکڑے یا اگر وہ گل چکے ہوں تو مٹی اور ہڈیاں لیبارٹری (Chemical Examiner) بھیجتا ہے۔
DNA ٹیسٹ: اگر شناخت کا مسئلہ ہو تو دانت یا ران کی ہڈی (Femur) لی جاتی ہے۔
5. ڈاکٹر کی حتمی رائے (Opinion)
رپورٹ کے آخر میں ڈاکٹر اپنی رائے دیتا ہے:
موت کی وجہ (Cause of Death): کیا موت طبعی تھی یا کسی چوٹ/زہر کی وجہ سے؟
نوٹ: اگر جسم بہت زیادہ گل چکا ہو، تو ڈاکٹر لکھ سکتا ہے کہ "موت کی قطعی وجہ بتانا ممکن نہیں" (No definite opinion can be formed)۔ ایسی صورت میں کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ کا انتظار کیا جاتا ہے۔
قانونی حیثیت (Legal Status):
یہ رپورٹ CrPC کی دفعہ 176 کے تحت مجسٹریٹ کو جمع کروائی جاتی ہے۔
اگر پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور قبر کشائی کی رپورٹ میں فرق ہو، تو میڈیکل بورڈ کی اس نئی رپورٹ کو عدالت میں زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق، اگر میڈیکل رپورٹ میں موت کی وجہ واضح نہ ہو، تو دیگر حالات اور گواہوں کے بیانات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
اہم مشورہ:
قبر کشائی کی رپورٹ حاصل کرنے کے بعد، اپنے وکیل کے ذریعے یہ ضرور چیک کروائیں کہ آیا ڈاکٹر نے "Time Since Death" (وفات کا وقت) اور "Nature of Injuries" (زخموں کی نوعیت) کو درست طریقے سے بیان کیا ہے یا نہیں۔
کیا آپ اس رپورٹ کا کوئی مخصوص قانونی فارمیٹ (Performa) دیکھنا چاہتے ہیں؟

15/04/2026

کریمینل ٹرائل کا مکمل طریقہ کار

میں فوجداری ٹرائل (Criminal Trial)
فوجداری (CrPC) اور قانون شہادت (QSO) کے تحت مکمل ہوتا ہے۔ ذیل میں ایف آئی آر سے لے کر فیصلے تک کے تمام مراحل اردو میں تفصیل کے ساتھ درج ہیں:
​1. ابتدائی معلوماتی رپورٹ (FIR) - دفعہ 154 CrPC
​کسی بھی قابل دست اندازی جرم (Cognizable Offence) کی اطلاع ملنے پر پولیس ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔ یہ ٹرائل کی بنیاد ہوتی ہے۔
​قانون شہادت (QSO): ایف آئی آر بذات خود کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے بلکہ یہ قانون کو حرکت میں لانے کا ایک ذریعہ ہے۔ (حوالہ: PLD 2022 SC 45)
​2. تفتیش اور چالان - دفعہ 156 تا 173 CrPC
​ایف آئی آر کے بعد تفتیشی افسر جائے وقوعہ کا معائنہ کرتا ہے، نقشہ بناتا ہے اور گواہوں کے بیانات (دفعہ 161 CrPC کے تحت) ریکارڈ کرتا ہے۔
​چالان (دفعہ 173): تفتیش مکمل ہونے پر پولیس اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرواتی ہے جسے چالان کہا جاتا ہے۔
​3. نقول کی تقسیم - دفعہ 241-A (مجسڑیٹ) / 265-C (سیشن)
​فردِ جرم عائد کرنے سے کم از کم 7 دن پہلے ملزم کو پولیس رپورٹ، ایف آئی آر، اور گواہوں کے بیانات کی نقول فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ اپنا دفاع تیار کر سکے۔
​4. فردِ جرم (Framing of Charge) - دفعہ 242 / 265-D
​عدالت ملزم کو اس پر لگے الزامات پڑھ کر سناتی ہے۔
​اگر ملزم صحت جرم سے انکار کرے تو عدالت ٹرائل شروع کرنے کا حکم دیتی ہے۔
​قانونی نکتہ: فردِ جرم میں غلطی ٹرائل کو اس وقت تک کالعدم نہیں کرتی جب تک اس سے ملزم کے دفاع کو نقصان نہ پہنچا ہو۔ (دفعہ 221-225 CrPC)
​5. استغاثہ کی شہادت (Prosecution Evidence)
​یہ ٹرائل کا سب سے اہم مرحلہ ہے جہاں قانون شہادت کے درج ذیل اصول لاگو ہوتے ہیں:
​بیانِ حلفی (Examination-in-Chief): استغاثہ کا گواہ اپنا بیان ریکارڈ کرواتا ہے (Article 132 QSO)۔
​جرح (Cross-Examination): ملزم کا وکیل گواہ سے سوالات کرتا ہے تاکہ سچائی کا پتا لگایا جا سکے (Article 133 QSO)۔
​عدالتی فیصلہ: جرح کے بغیر بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ (حوالہ: 2019 SCMR 129)
​6. ملزم کا بیان - دفعہ 342 CrPC
​استغاثہ کی شہادت مکمل ہونے کے بعد عدالت ملزم کو اپنے خلاف آنے والے ثبوتوں کی صفائی کا موقع دیتی ہے۔
​اہمیت: اگر کوئی ثبوت دفعہ 342 کے بیان میں ملزم کے سامنے نہیں رکھا گیا، تو وہ اسے سزا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ (حوالہ: PLD 2017 SC 717)
​7. صفائی کی شہادت - دفعہ 340(2) CrPC
​ملزم چاہے تو حلف پر بیان دے کر خود کو بطور گواہ پیش کر سکتا ہے یا اپنے دفاع میں گواہان پیش کر سکتا ہے۔
​8. حتمی بحث (Final Arguments)
​دونوں اطراف کے وکلاء اپنے اپنے موقف کے حق میں دلائل دیتے ہیں اور عدالتی نظائر (Judgements) پیش کرتے ہیں۔
​9. فیصلہ (Judgement) - دفعہ 366/367 CrPC
​عدالت تمام شہادتوں اور دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سناتی ہے۔
​شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): اگر کیس میں معمولی سا بھی شک پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ صرف ملزم کو ملے گا اور اسے بری کر دیا جائے گا۔ (حوالہ: PLD 2020 SC 249)

10/02/2026

_*ملزم کو حاصل 28 قانونی حقوق*:-_

_*28 RIGHTS OF THE ACCUSED PERSONS*_

_1۔ ملزم کو غیر قانونی طریقے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا بلکہ مجوزہ قوانین کے تابع نظر ہی اس کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔_
_Protection against arbitrary or unlawful arrest (Article 22 of the Constitution and Section 41, 55 and 151 of Cr.P.C.)_

_2۔ ملزم کی تلاشی غیر قانونی طریقے سے نہیں لی جائے گی۔_
_Protection against arbitrary or unlawful searches (Sec. 93, 94, 97, 100(4) to (8). and 165 of Cr.P.C.)_

_3۔ ملزم کو کسی ایک جرم کی دوہری سزا نہیں دی جائے گی۔_
_Protection against “Double Jeopardy” (Article 20(2) of the Constitution and Section 300 of Cr.P.C.)_

_4۔ ملزم کو وقوعہ کے وقت نافذالعمل قوانین کے تحت ہی سزا دی جائے گی نہ کہ وقوعہ کے بعد تبدیل شدہ قوانین کے تحت۔_
_Protection against conviction or enhanced punishment under ex-past facto law (Article 20(1) of the Constitution)_

_5۔ ملزم کو غیر قانونی طور پر قید نہیں رکھا جائے گا۔_
_Protection against arbitrary or illegal detention in custody (Article 22 of the Constitution and Sec. 56, 57 and 76 of Cr.P.C.)_

_6۔ ملزم کو گرفتاری کے فوراً بعد اسے اس گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا۔_
_Right to be informed of the grounds, immediately after the arrest (Article 71(1) of the Constitution and Section 50 of Cr.P.C. as also Sec. 55 and 75 of Cr.P.C.)_

_7۔ گرفتار شدہ ملزم کو غیر ضروری طور پر قید میں نہیں رکھا جائے گا۔_
_Right of the arrested person not to be subjected to unnecessary restraint (Section 49 of Cr.P.C.)_

_8۔ ملزم کو اس کی مرضی کا وکیل ہائر کرنے دیا جائے گا۔_
_Right to consult a lawyer of his own choice (Article 22(1) of the Constitution and Section 303 of Cr.P.C.)_

_9۔ ملزم کو گرفتاری کے 24 گھنٹے کے اندر اندر نزدیکی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔_
_Right to be produced before a Magistrate within 24 hours of his arrest (Article 22(1) of the Constitution and Sec. 57 and 76 of Cr.P.C.)_

_10۔ اگر ملزم گرفتار ہے تو اسے مجاز عدالت سے ضمانت حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to be released on bail, if arrested (Sec. 436, 437 and 439 of Cr.P.C., also Sec. 50, 20 and 167 of Cr.P.C.)_

_11۔ ملزم کو اپنے خلاف گواہی دینے پر نہیں مجبور کیا جائے گا یعنی تم عدالت میں کہو کہ یہ جرم تم نے کیا ہے۔_
_Right not to be a witness against himself (Article 20(3) of the Constitution)_

_12۔ ملزم کو استغاثہ کے گواہان کے بیانات کی کاپی مفت فراہم کی جائے گی۔_
_Right to get copies of the documents and statements of witnesses on which the prosecution relies (Sec. 173(7), 207, 208 and 238 of Cr.P.C.)_

_13۔ ملزم کو کسی بھی کیس میں شک کا فائدہ دیا جائے گا جب تک کہ وہ شک سے پاک ہوکر ثابت نہ ہو جائے کہ وہ واقعی مجرم ہے۔_
_Right to have the benefit of the presumption of innocence till guilt is proved beyond reasonable doubt (Sec. 101-104 of Evidence Act)_

_14۔ ملزم کو حق حاصل ہے کہ اس کہ خلاف دی جانے والی گواہی اس کی موجودگی میں ریکارڈ کی جائے گی۔_
_Right to insist that evidence be recorded in his presence except in some special circumstances (Section 273 of Cr.P.C., also Section 317 Cr.P.C.)_

_15۔ ملزم کو اس پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔_
_Right to have due notice of the charges (Sec. 218, 228(2), 240(2), etc. of Cr.P.C.)_

_16۔ ملزم کو اس کے خلاف دی جانے والی گواہی پر حق جرح (گواہی دینے والے پر گواہی کے متعلق سوال و جواب) حاصل ہے۔_
_Right to test the evidence by cross-examination (Section 138 of Evidence Act)_

_17۔ ملزم کے خلاف دی جانے والی گواہی پر اسے وضاحت دینے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to have an opportunity for explaining the circumstances appearing in evidence against him at the trial (Section 313 of Cr.P.C.)_

_18۔ ملزم کو اپنا طبی معائنہ کروانے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to have himself medically examined for evidence to disprove the commission of offence by him or for establishing commission of offence against his body by any other person (Section 54 of Cr.P.C.)_

_19۔ ملزم کو اپنے حق میں گواہان پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to produce defence witnesses (Section 243 of Cr.P.C.)_

_20۔ ملزم کو نیوٹرل جج سے مقدمہ کروائے جانے کا حق حاصل ہے یعنی اگر وہ جج سے مطمئن نہیں تو معقول وجوہات بتا کر اپنا مقدمہ تبدیل کروا سکتا ہے۔_
_Right to be tried by an independent and impartial Judge (The Scheme of Separate of Judiciary as envisaged in Cr.P.C., also Sec. 479, 327, 191, etc. of Cr.P.C.)_

_21۔ مقدمہ ختم ہونے پر فیصلہ سے پہلے ایک دفعہ پھر سے تحریری طور پر اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے دفاع میں جواب دینے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to submit written arguments at conclusion of the trial in addition to oral submission (Section 314 of Cr.P.C.)_

_22۔ ملزم کو اس کی موجودگی میں سنا کر سزا دی جائے گی۔_
_Right to be heard about the sentence upon conviction (Sec. 235(2) and 248(2) of Cr.P.C.)_

_23۔ ملزم کو تیز ترین انویسٹیگیشن اور مقدمہ چلائے جانے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to fair and speedy investigation and trial (Section 309 of Cr.P.C.)_

_24۔ ملزم کو اپیل کا حق حاصل ہے۔_
_Right to appeal in case of conviction (Sec. 351, 374, 379, 380 of Cr.P.C. and Arts. 132(1), 134(1) and 136(1) of the Constitution)_

_25۔ ملزم کو کچھ حالات میں گرفتار نہ کیے جانے کا حق حاصل ہے۔_
_Right not to be imprisoned upon conviction in certain circumstances (Section 360 of Cr.P.C., and Section 6 of the Probation of Offenders Act)_

_26۔ ملزم کو اپنی پرائیویسی کے تحفظ میں دفاع کا حق حاصل ہے۔_
_Right to restrain police from intrusion on his privacy (Article 31 of the Constitution)_

_27۔ اپیل عدالت میں پینڈنگ ہونے کی صورت میں ملزم کو ضمانت حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to release of a convicted person on bail pending appeal (Section 380 of Cr.P.C.)_

_28۔ ملزم کو سزا کی صورت میں ججمنٹ کی کاپی مفت فراہم کی جائے گی۔_
_Right to get copy of the judgment when sentenced to imprisonment (Sec.363 of Cr.P.C.)_.

2025 MLD 385 (Lahore)دوسری شادی بغیر اجازت کیس میں بریت کا فیصلہ🙃🫠اس مقدمے میں شوہر پر مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دف...
10/02/2026

2025 MLD 385 (Lahore)
دوسری شادی بغیر اجازت کیس میں بریت کا فیصلہ
🙃🫠
اس مقدمے میں شوہر پر مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 6(5)(b) کے تحت یہ الزام تھا کہ انہوں نے پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی یونین کونسل کی اجازت کے بغیر کی، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ شکایت طلاق کے تقریباً ساڑھے تین سال بعد دائر کی گئی جس سے مدعیہ کی نیت مشکوک ہو گئی، مزید برآں یہ معاملہ خاندانی نوعیت کا تھا جو فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جبکہ مجسٹریٹ سیکشن 30 کے پاس اس کی سماعت کا اختیار موجود نہیں تھا، اس طرح پوری کارروائی کورم نان جیوڈیس ثابت ہوئی، لہٰذا ہائی کورٹ نے زیریں عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے شوہر کو بری کر دیا۔

04/02/2026

خواتین کو زبردستی "خلع" دے کر ان کا حقِ مہر ختم نہیں کیا جا سکتا!
​سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک حالیہ فیصلے (CPLA No. 3767 of 2025) میں خواتین کے حق میں ایک بہت بڑی رکاوٹ دور کر دی ھے۔
​کیس کیا تھا؟
ایک خاتون (مسماۃ نائلہ جاوید) نے اپنے شوہر کی دوسری شادی اور تشدد کی بنیاد پر طلاق مانگی تھی۔ لیکن فیملی کورٹ اور ہائی کورٹ نے اسے "خلع" قرار دے دیا، جس کی وجہ سے خاتون کا 12 لاکھ روپے کا حق مہر ختم ہو گیا۔
​سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ:
​عدالت کی من مانی ختم: اگر عورت نے "خلع" نہیں مانگی بلکہ شوہر کی غلطی (دوسری شادی یا تشدد) کی بنیاد پر طلاق مانگی ھے، تو عدالت اسے اپنی مرضی سے خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔
​حقِ مہر کا تحفظ: سپریم کورٹ نے خاتون کو خلع کے بجائے طلاق کا حقدار قرار دیا اور شوہر کو حکم دیا کہ وہ 12 لاکھ روپے حقِ مہر ادا کرے۔
​بغیر اجازت دوسری شادی: اگر شوہر پہلی بیوی یا ثالثی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرے گا، تو یہ بیوی کے لئے طلاق لینے کی ٹھوس قانونی بنیاد ھے اور اس صورت میں مہر معاف نہیں ھوگا۔
​نتیجہ: اب کوئی بھی عدالت کسی خاتون کو اپنا حقِ مہر چھوڑنے (خلع لینے) پر مجبور نہیں کر سکے گی اگر شوہر قصوروار ھے۔

*متنازع ٹویٹس کیس، عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی*ہم پر تشدد کیاجارہاہے، ہمیں پانی ...
24/01/2026

*متنازع ٹویٹس کیس، عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی*

ہم پر تشدد کیاجارہاہے، ہمیں پانی کھانا نہیں دیاجارہا،ایمان مزاری کا عدالت میں بیان

اسلام آباد کی عدالت نے ایمان مزاری کو شوہر سمیت متنازعہ ٹویٹ کیس میں مجموعی طور پر سترہ سترہ سال قید اور تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی،

عدالت نے قرار دیا ہے کہ دونوں مجرمان نے اپنے ٹویٹس کے ذریعے ریاست اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی,

پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت دونوں کو پانچ پانچ سال قید اور پچاس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے, پیکا ایکٹ کے سیکشن دس کے تحت دس سال قید اور تین کروڑ روپے جبکہ پیکا ایکٹ کے سیکشن چھبیس اے کے تحت دو سال قید اور دس لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے، دفعہ گیارہ کے تحت لگائے گئے الزامات سے دونوں ملزمان کو بری کر دیا گیا،

فیصلے کے مطابق دونوں مجرمان نے بےبنیاد الزامات پر مبنی ٹویٹس کے ذریعے ریاست اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، عوام کو ریاستی اداروں سے متنفر کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔

اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت کے دوران ایمان مزاری کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا، ایمان مزاری نے کہا کہ ہم پر تشدد کیا جا رہا ہے، ہمیں پانی کھانا نہیں دیا جا رہا، ہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔

جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مطلب آپ کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟ فیصلے کا انتظار کریں، جج نے عدالتی عملے کو حکم دیا کہ سب ریکارڈ کرکے مجھے دیں،

23/01/2026

Address

Shikarpur
78100

Telephone

+923053955561

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Point:

Share