Legal Point

Legal Point LEGAL POINT ⚖️

10/02/2026

_*ملزم کو حاصل 28 قانونی حقوق*:-_

_*28 RIGHTS OF THE ACCUSED PERSONS*_

_1۔ ملزم کو غیر قانونی طریقے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا بلکہ مجوزہ قوانین کے تابع نظر ہی اس کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔_
_Protection against arbitrary or unlawful arrest (Article 22 of the Constitution and Section 41, 55 and 151 of Cr.P.C.)_

_2۔ ملزم کی تلاشی غیر قانونی طریقے سے نہیں لی جائے گی۔_
_Protection against arbitrary or unlawful searches (Sec. 93, 94, 97, 100(4) to (8). and 165 of Cr.P.C.)_

_3۔ ملزم کو کسی ایک جرم کی دوہری سزا نہیں دی جائے گی۔_
_Protection against “Double Jeopardy” (Article 20(2) of the Constitution and Section 300 of Cr.P.C.)_

_4۔ ملزم کو وقوعہ کے وقت نافذالعمل قوانین کے تحت ہی سزا دی جائے گی نہ کہ وقوعہ کے بعد تبدیل شدہ قوانین کے تحت۔_
_Protection against conviction or enhanced punishment under ex-past facto law (Article 20(1) of the Constitution)_

_5۔ ملزم کو غیر قانونی طور پر قید نہیں رکھا جائے گا۔_
_Protection against arbitrary or illegal detention in custody (Article 22 of the Constitution and Sec. 56, 57 and 76 of Cr.P.C.)_

_6۔ ملزم کو گرفتاری کے فوراً بعد اسے اس گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا۔_
_Right to be informed of the grounds, immediately after the arrest (Article 71(1) of the Constitution and Section 50 of Cr.P.C. as also Sec. 55 and 75 of Cr.P.C.)_

_7۔ گرفتار شدہ ملزم کو غیر ضروری طور پر قید میں نہیں رکھا جائے گا۔_
_Right of the arrested person not to be subjected to unnecessary restraint (Section 49 of Cr.P.C.)_

_8۔ ملزم کو اس کی مرضی کا وکیل ہائر کرنے دیا جائے گا۔_
_Right to consult a lawyer of his own choice (Article 22(1) of the Constitution and Section 303 of Cr.P.C.)_

_9۔ ملزم کو گرفتاری کے 24 گھنٹے کے اندر اندر نزدیکی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔_
_Right to be produced before a Magistrate within 24 hours of his arrest (Article 22(1) of the Constitution and Sec. 57 and 76 of Cr.P.C.)_

_10۔ اگر ملزم گرفتار ہے تو اسے مجاز عدالت سے ضمانت حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to be released on bail, if arrested (Sec. 436, 437 and 439 of Cr.P.C., also Sec. 50, 20 and 167 of Cr.P.C.)_

_11۔ ملزم کو اپنے خلاف گواہی دینے پر نہیں مجبور کیا جائے گا یعنی تم عدالت میں کہو کہ یہ جرم تم نے کیا ہے۔_
_Right not to be a witness against himself (Article 20(3) of the Constitution)_

_12۔ ملزم کو استغاثہ کے گواہان کے بیانات کی کاپی مفت فراہم کی جائے گی۔_
_Right to get copies of the documents and statements of witnesses on which the prosecution relies (Sec. 173(7), 207, 208 and 238 of Cr.P.C.)_

_13۔ ملزم کو کسی بھی کیس میں شک کا فائدہ دیا جائے گا جب تک کہ وہ شک سے پاک ہوکر ثابت نہ ہو جائے کہ وہ واقعی مجرم ہے۔_
_Right to have the benefit of the presumption of innocence till guilt is proved beyond reasonable doubt (Sec. 101-104 of Evidence Act)_

_14۔ ملزم کو حق حاصل ہے کہ اس کہ خلاف دی جانے والی گواہی اس کی موجودگی میں ریکارڈ کی جائے گی۔_
_Right to insist that evidence be recorded in his presence except in some special circumstances (Section 273 of Cr.P.C., also Section 317 Cr.P.C.)_

_15۔ ملزم کو اس پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔_
_Right to have due notice of the charges (Sec. 218, 228(2), 240(2), etc. of Cr.P.C.)_

_16۔ ملزم کو اس کے خلاف دی جانے والی گواہی پر حق جرح (گواہی دینے والے پر گواہی کے متعلق سوال و جواب) حاصل ہے۔_
_Right to test the evidence by cross-examination (Section 138 of Evidence Act)_

_17۔ ملزم کے خلاف دی جانے والی گواہی پر اسے وضاحت دینے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to have an opportunity for explaining the circumstances appearing in evidence against him at the trial (Section 313 of Cr.P.C.)_

_18۔ ملزم کو اپنا طبی معائنہ کروانے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to have himself medically examined for evidence to disprove the commission of offence by him or for establishing commission of offence against his body by any other person (Section 54 of Cr.P.C.)_

_19۔ ملزم کو اپنے حق میں گواہان پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to produce defence witnesses (Section 243 of Cr.P.C.)_

_20۔ ملزم کو نیوٹرل جج سے مقدمہ کروائے جانے کا حق حاصل ہے یعنی اگر وہ جج سے مطمئن نہیں تو معقول وجوہات بتا کر اپنا مقدمہ تبدیل کروا سکتا ہے۔_
_Right to be tried by an independent and impartial Judge (The Scheme of Separate of Judiciary as envisaged in Cr.P.C., also Sec. 479, 327, 191, etc. of Cr.P.C.)_

_21۔ مقدمہ ختم ہونے پر فیصلہ سے پہلے ایک دفعہ پھر سے تحریری طور پر اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے دفاع میں جواب دینے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to submit written arguments at conclusion of the trial in addition to oral submission (Section 314 of Cr.P.C.)_

_22۔ ملزم کو اس کی موجودگی میں سنا کر سزا دی جائے گی۔_
_Right to be heard about the sentence upon conviction (Sec. 235(2) and 248(2) of Cr.P.C.)_

_23۔ ملزم کو تیز ترین انویسٹیگیشن اور مقدمہ چلائے جانے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to fair and speedy investigation and trial (Section 309 of Cr.P.C.)_

_24۔ ملزم کو اپیل کا حق حاصل ہے۔_
_Right to appeal in case of conviction (Sec. 351, 374, 379, 380 of Cr.P.C. and Arts. 132(1), 134(1) and 136(1) of the Constitution)_

_25۔ ملزم کو کچھ حالات میں گرفتار نہ کیے جانے کا حق حاصل ہے۔_
_Right not to be imprisoned upon conviction in certain circumstances (Section 360 of Cr.P.C., and Section 6 of the Probation of Offenders Act)_

_26۔ ملزم کو اپنی پرائیویسی کے تحفظ میں دفاع کا حق حاصل ہے۔_
_Right to restrain police from intrusion on his privacy (Article 31 of the Constitution)_

_27۔ اپیل عدالت میں پینڈنگ ہونے کی صورت میں ملزم کو ضمانت حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔_
_Right to release of a convicted person on bail pending appeal (Section 380 of Cr.P.C.)_

_28۔ ملزم کو سزا کی صورت میں ججمنٹ کی کاپی مفت فراہم کی جائے گی۔_
_Right to get copy of the judgment when sentenced to imprisonment (Sec.363 of Cr.P.C.)_.

2025 MLD 385 (Lahore)دوسری شادی بغیر اجازت کیس میں بریت کا فیصلہ🙃🫠اس مقدمے میں شوہر پر مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دف...
10/02/2026

2025 MLD 385 (Lahore)
دوسری شادی بغیر اجازت کیس میں بریت کا فیصلہ
🙃🫠
اس مقدمے میں شوہر پر مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 6(5)(b) کے تحت یہ الزام تھا کہ انہوں نے پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی یونین کونسل کی اجازت کے بغیر کی، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ شکایت طلاق کے تقریباً ساڑھے تین سال بعد دائر کی گئی جس سے مدعیہ کی نیت مشکوک ہو گئی، مزید برآں یہ معاملہ خاندانی نوعیت کا تھا جو فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جبکہ مجسٹریٹ سیکشن 30 کے پاس اس کی سماعت کا اختیار موجود نہیں تھا، اس طرح پوری کارروائی کورم نان جیوڈیس ثابت ہوئی، لہٰذا ہائی کورٹ نے زیریں عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے شوہر کو بری کر دیا۔

04/02/2026

خواتین کو زبردستی "خلع" دے کر ان کا حقِ مہر ختم نہیں کیا جا سکتا!
​سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک حالیہ فیصلے (CPLA No. 3767 of 2025) میں خواتین کے حق میں ایک بہت بڑی رکاوٹ دور کر دی ھے۔
​کیس کیا تھا؟
ایک خاتون (مسماۃ نائلہ جاوید) نے اپنے شوہر کی دوسری شادی اور تشدد کی بنیاد پر طلاق مانگی تھی۔ لیکن فیملی کورٹ اور ہائی کورٹ نے اسے "خلع" قرار دے دیا، جس کی وجہ سے خاتون کا 12 لاکھ روپے کا حق مہر ختم ہو گیا۔
​سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ:
​عدالت کی من مانی ختم: اگر عورت نے "خلع" نہیں مانگی بلکہ شوہر کی غلطی (دوسری شادی یا تشدد) کی بنیاد پر طلاق مانگی ھے، تو عدالت اسے اپنی مرضی سے خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔
​حقِ مہر کا تحفظ: سپریم کورٹ نے خاتون کو خلع کے بجائے طلاق کا حقدار قرار دیا اور شوہر کو حکم دیا کہ وہ 12 لاکھ روپے حقِ مہر ادا کرے۔
​بغیر اجازت دوسری شادی: اگر شوہر پہلی بیوی یا ثالثی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرے گا، تو یہ بیوی کے لئے طلاق لینے کی ٹھوس قانونی بنیاد ھے اور اس صورت میں مہر معاف نہیں ھوگا۔
​نتیجہ: اب کوئی بھی عدالت کسی خاتون کو اپنا حقِ مہر چھوڑنے (خلع لینے) پر مجبور نہیں کر سکے گی اگر شوہر قصوروار ھے۔

*متنازع ٹویٹس کیس، عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی*ہم پر تشدد کیاجارہاہے، ہمیں پانی ...
24/01/2026

*متنازع ٹویٹس کیس، عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی*

ہم پر تشدد کیاجارہاہے، ہمیں پانی کھانا نہیں دیاجارہا،ایمان مزاری کا عدالت میں بیان

اسلام آباد کی عدالت نے ایمان مزاری کو شوہر سمیت متنازعہ ٹویٹ کیس میں مجموعی طور پر سترہ سترہ سال قید اور تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی،

عدالت نے قرار دیا ہے کہ دونوں مجرمان نے اپنے ٹویٹس کے ذریعے ریاست اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی,

پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت دونوں کو پانچ پانچ سال قید اور پچاس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے, پیکا ایکٹ کے سیکشن دس کے تحت دس سال قید اور تین کروڑ روپے جبکہ پیکا ایکٹ کے سیکشن چھبیس اے کے تحت دو سال قید اور دس لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے، دفعہ گیارہ کے تحت لگائے گئے الزامات سے دونوں ملزمان کو بری کر دیا گیا،

فیصلے کے مطابق دونوں مجرمان نے بےبنیاد الزامات پر مبنی ٹویٹس کے ذریعے ریاست اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، عوام کو ریاستی اداروں سے متنفر کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔

اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت کے دوران ایمان مزاری کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا، ایمان مزاری نے کہا کہ ہم پر تشدد کیا جا رہا ہے، ہمیں پانی کھانا نہیں دیا جا رہا، ہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔

جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مطلب آپ کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟ فیصلے کا انتظار کریں، جج نے عدالتی عملے کو حکم دیا کہ سب ریکارڈ کرکے مجھے دیں،

23/01/2026
20/01/2026

🔴 30 IMPORTANT CRIMINAL CASE LAWS

✍️1) Prosecution did not produce evidence even after 8 months of framing of charge.
Accused ACQUITTED . 2017 - SCMR - 19

✍️2) Accused involved in the murder case on account of joint extra judicial confession would be entitled to ACQUITTAL .2012 - PCRLJ - 258

✍️3) In murder case empty handed accused due to common intention would not be entitled to the confirmation of PRE ARREST BAIL.
2015 - PCRLJ - 1531

✍️4) Bail GRANTED to accused by following RULE of CONSISTENCY.
2017 - MLD - 349
2016 - YLR - 2507
2008 - SCMR - 173

✍️5) If weapon is recovered but NO empties were recovered then recovery of weapon will be useless .
2015 - MLD- 432
2013 - YLR - 272

✍️6) In dacoity case plea of alibi will not be considered at bail stage.
2014 - PCRLJ - 1002

✍️7) Even after completion of statutory period if delay is attributed to accused then he will not be entitled to concession of bail . 2016 - SCMR - 1538

✍️8) If evidence of a witness is contradictory to his statement recorded u/s 161 crpc then such evidence would not be believable.
2014 - YLR - 548

✍️9) Recovery of articles of the deceased from the accused at the time of their arrest sixteen days after the occurrence was not believable . 1996 - SCMR - 188 ( LB ) .

✍️10) Non recovery of some of the crime empties was not of much importance as the occurrence had taken place in a field.
2006 - SCMR - 672 ( LB ) .

✍️11) Recovery at JOINT POINTATION of two accused would have no evidentiary value.
2008 - SCMR - 1064

✍️12) EXTRA- JUDICIAL CONFESSION is a very WEAK type of evidence and no conviction can be awarded without its strong corroboration on the record . 2005 - SCMR - 277

✍️13) EXTRA JUDICIAL CONFESSION must be proved by evidence of very high and un impeachable character.
PLD - 2006 - SC - 538

✍️14) Unexplained delay of 10 / 11 hours in lodging of FIR . Such delay would lead to inference that occurrence was un- witnessed . 2008 - SCMR - 6 (LB ) .

✍️15) Site plan loses its evidentiary value if it is not prepared on the pointation of a witness .2001 - SCMR - 424

✍️17) S . 302 / 34 . Art 3 . Child witness . Evidence of child witness possessing sufficient understanding can be believed and relied upon for conviction . 1995 - SCMR - 1615

✍️20) No doubt the conviction can be based on the retracted confession alone but if it is found voluntary true and confidence inspiring . PLJ - 2014 - CRC - 791 (DB ) .

✍️22) S . 426 . S . 302 (b ) . For non fixation or non hearing of the appeal the petitioner can not be held responsible . He has earned a statutory right by now to be released on bail after suspension of sentence . PLJ - 2014 - CRC - 547 (a ) .

✍️23) Concealment of facts is also a type of FRAUD .2015 - CLC - 39

✍️24) Courts should not interfere in the policy matters of financial institutions . 2015 - SCMR - 445

✍️25) Due to NON PAYMENT of maintenance allowance right of defense struck off and suit decreed .2015 - CLC - 349

✍️26) It is the duty of the court to take notice of limitation although party has raised objection or not . 2015 - SCMR - 380

✍️27) If process fee is not deposited then due to this reason revision can not be dismissed . PLD - 1998 - Lah - 342

✍️28) S. 489 - F . Cheque was bounced . Offence with which accused was charged was punishable with imprisonment for three years or fine or with both . No useful purpose to be served by remitting petitioner into custody so as to be released on post arrest bail after expiry of some period . PLJ - 2016 - CRC - 547

✍️29) Two versions registered with the police both sides sustained injuries . There was no explanation in FIR regarding injuries sustained by petitioners side . Pre arrest bail confirmed . PLJ - 2016 - CRC - 546 (a ) .

✍️30) Although accused was armed with 12 bore pump action but he did not raise any lalkara nor caused any injury to anybody therefore it is matter of further inquiry . Bail allowed.
PLJ - 2016 - CRC - 483 (a)

وکیلوں کی جرح (Cross-Examination) کی 3 مخصوص ٹرکس جرح کے دوران گواہوں سے اپنی مرضی کی بات نکلوانے کے لیے کچھ خاص تکنیک ا...
19/01/2026

وکیلوں کی جرح
(Cross-Examination) کی 3 مخصوص ٹرکس
جرح کے دوران گواہوں سے اپنی مرضی کی بات نکلوانے کے لیے کچھ خاص تکنیک استعمال کرتے ہیں۔ ذیل میں ایسی 3 طاقتور ٹرکس کی وضاحت دی گئی ہے:
1. واضح "ہاں" والی تکنیک (The Obvious "Yes" Technique)
اس تکنیک میں آپ گواہ سے ایسے عمومی سوالات پوچھتے ہیں جن کا جواب لازمی طور پر "ہاں" ہوتا ہے۔ جب وہ مسلسل تین چار بار "ہاں" کہہ دیتا ہے، تو ایک نفسیاتی بہاؤ بن جاتا ہے، جس کے بعد آپ اپنا اصل سوال پیش کرتے ہیں۔
*مثال: کار حادثے کے کیس میں اگر گواہ ایک ہاتھ سے گاڑی چلا رہا تھا، تو وکیل براہ راست یہ نہیں پوچھے گا کہ "کیا دو ہاتھوں سے گاڑی چلانا بہتر نہیں تھا؟"
اس کے بجائے وہ مرحلہ وار پوچھے گا:
کیا آپ مانتے ہیں کہ گاڑی احتیاط سے چلانی چاہیے؟ (جواب: جی ہاں)
کیا آپ مانتے ہیں کہ ڈرائیور کو اردگرد کے ماحول سے باخبر رہنا چاہیے؟ (جواب: جی ہاں)
کیا آپ مانتے ہیں کہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے؟ (جواب: جی ہاں)
اصل سوال: تو کیا آپ اتفاق نہیں کریں گے کہ حادثے کے وقت ایک کے بجائے دو ہاتھوں سے اسٹیئرنگ پکڑنا زیادہ محفوظ ہوتا؟
2. ناگوار خاموشی کی تکنیک (The Uncomfortable Silence Technique)
انسان فطرتی طور پر خاموشی کو ناپسند کرتا ہے اور اسے کسی نہ کسی بات سے پر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وکیل گواہ سے سوال پوچھتا ہے، گواہ مختصر جواب دیتا ہے، لیکن وکیل فوراً اگلا سوال پوچھنے کے بجائے خاموش ہو کر گواہ کی طرف دیکھتا رہتا ہے جیسے وہ مزید کچھ سننے کا منتظر ہو۔
مثال: وکیل پوچھتا ہے: "آپ حادثے کے وقت ایک ہاتھ سے گاڑی کیوں چلا رہے تھے؟"
گواہ: "مجھے ٹھیک سے یاد نہیں۔"
خاموشی: وکیل کچھ نہیں بولتا اور صرف دیکھتا رہتا ہے۔
گواہ (خاموشی توڑنے کے لیے): "ویسے... میری دائیں بازو میں تھوڑی تکلیف تھی، شاید اس لیے۔"
3. تشبیہ یا اینالوجی کی تکنیک (The Analogy Technique)
اس میں آپ گواہ کو ایک ایسی صورتحال (Context) میں کسی بات پر قائل کرتے ہیں جو آپ کے کیس سے ملتی جلتی ہو لیکن اس کا براہ راست کیس سے تعلق نہ ہو، اور پھر اسے کیس کی طرف موڑ دیتے ہیں۔
مثال: وکیل گواہ سے پستول چلانے کے بارے میں پوچھتا ہے:
کیا پستول ایک ہاتھ سے چلائی جا سکتی ہے؟ (جواب: جی ہاں)
کیا دو ہاتھوں سے نشانہ زیادہ بہتر ہوتا ہے؟ (جواب: بالکل)
کیا دو ہاتھوں سے پستول پکڑنا زیادہ محفوظ نہیں ہے؟ (جواب: جی ہاں، محفوظ ہے)
* کیس کی طرف موڑنا: تو کیا آپ اتفاق نہیں کریں گے کہ اسی طرح گاڑی چلاتے وقت بھی ایک کے بجائے دو ہاتھ استعمال کرنا زیادہ محفوظ تھا؟
عملی مشق: جرح (Cross-Examination Exercise)
کیس کا منظرنامہ:
ایک شخص (مسٹر "الف") پر الزام ہے کہ وہ سیڑھیوں سے گرنے کی وجہ سے زخمی ہوا، اور اس نے کمپنی پر کیس کیا ہے کہ سیڑھیاں گیلی تھیں اور وہاں کوئی "احتیاطی بورڈ" نہیں تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسٹر "الف" گرنے کے وقت اپنے موبائل فون پر میسج کر رہے تھے۔
طلبہ کے لیے ٹاسک:
آپ کو مسٹر "الف" (گواہ) سے جرح کرنی ہے اور اوپر بیان کی گئی تینوں تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہے کہ حادثہ ان کی اپنی غفلت کی وجہ سے ہوا۔
حصہ اول: واضح "ہاں" والی تکنیک (The Obvious "Yes")
ہدایت: ایسے سوالات لکھیں جن کا جواب گواہ صرف "ہاں" میں دے سکے:
م سوال 1: کیا آپ مانتے ہیں کہ کسی بھی دفتر میں چلتے وقت احتیاط لازمی ہے؟
سوال 2: کیا آپ اتفاق کریں گے کہ سیڑھیوں کا استعمال کرتے وقت نظریں سامنے ہونی چاہئیں؟
سوال 3: کیا آپ مانتے ہیں کہ کام کے دوران اپنی حفاظت کی ذمہ داری ملازم پر بھی ہوتی ہے؟
حتمی سوال: تو کیا آپ اتفاق کریں گے کہ سیڑھیوں پر چلتے وقت موبائل فون استعمال کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے؟
حصہ دوم: ناگوار خاموشی کی تکنیک (The Uncomfortable Silence)
ہدایت: نیچے دیے گئے مکالمے کو مکمل کریں:
وکیل: مسٹر الف، آپ نے گرنے سے ٹھیک 10 سیکنڈ پہلے کس کو میسج بھیجا تھا؟
گواہ: میں نے تو کوئی میسج نہیں بھیجا۔
(خاموشی): وکیل خاموشی سے گواہ کی آنکھوں میں دیکھتا رہتا ہے اور 10 سیکنڈ تک کچھ نہیں بولتا۔
گواہ (خاموشی سے گھبرا کر): ............................................................................
حصہ سوم: تشبیہ یا اینالوجی کی تکنیک (The Analogy)
ہدایت: اصول کو لاگو کریں:
وکیل: کیا آپ سڑک پار کرتے وقت اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر چلیں گے؟
گواہ: بالکل نہیں، یہ تو خودکشی کے برابر ہے۔
وکیل: کیوں؟
گواہ: کیونکہ سڑک پار کرتے وقت سامنے دیکھنا ضروری ہے تاکہ حادثہ نہ ہو۔
وکیل (اینالوجی کا استعمال): اگر سڑک پر سامنے دیکھنا لازمی ہے، تو کیا سیڑھیوں پر چلتے ہوئے فون پر دیکھنا اتنا ہی خطرناک نہیں جتنا پٹی باندھ کر سڑک پار کرنا؟

15/01/2026

اسٹام پیپر اور E اسٹام پیپر کیا ہے؟ اور اسٹام پیپر پر کیا گیا معاہدے کی اہمیت؟

سب سے پہلے تو میں آپ کو اسٹام پیپر کا مقصد و تاریخ بتا دوں۔ اسٹام پیپر کا صرف ایک مقصد ہے وہ ہے گورنمنٹ کا ٹیکس اکٹھا کرنا پرائیویٹ ہونے والے معاہدوں سے. اسٹام پیپر یا Stamp paper کا آغاز یورپ کے ملک اسپین سے ہوا اس کے بعد یہ پورے یورپ تک پھیل گیا. آزادی سے پہلے برطانیہ کی حکومت نے اس کو برصغیر کے قانون میں شامل کیا.

اسٹام پیپر stamp paper کیا ہے؟

اسٹام پیپر گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک خاص قسم کا کاغذ ہوتا ہے جس پر فریقین کے درمیان معاہدے تحریر کیے جاتے ہیں. اسٹام پیپر کی قیمت 50 روپے سے شروع ہو کر آگے ہزاروں روپے تک جاتی ہے اور قیمت کا تعین اس پر تحریر کیے گئے معاہدے کی نوعیت سے ہوتا ہے. اگر آپ نے زمین کی خرید و فروخت کرنی ہے تو زمین کی مالیت کے حساب سے اسٹام پیپر لیں گے اور اسی طرح اگر بیان حلفی وغیرہ جمع کروانا ہے تو 50 روپے والے اسٹام پیپر لیں گے. مختار نامہ کے لیے 1200 روپے کا اسٹام پیپر جاری کروائیں گے. ایک بات یاد رہے کہ کوئی بھی معاہدہ کرنے کے لیے اسٹام پیپر پر تحریر ہونا لازمی نہیں ہے جیسا کے میں نے اوپر بتایا کہ اسٹام پیپر کا مقصد گورنمنٹ ریونیو ٹیکس اکٹھا کرنا ہے. اگر آپ کسی سادہ کاغذ پر کیا گیا معاہدے کی مقرر کردہ فیس ادا کرنے کے بعد اور جہاں رجسٹریشن کروانے کی ضرورت ہو وہاں رجسٹرڈ کروا کر آپ سادہ کاغذ پر بھی کیے گئے معاہدے کو قانونی بنا سکتے ہیں.

اسٹام پیپر پر معاہدہ تحریر کر لیا کیا اتنا کافی ہے قانون کی نظر میں؟

جی نہیں اسٹام پیپر پر معاہدے کرنے سے اسکی قانونی حیثیت نہیں بنتی جب تک اس کو رجسٹرڈ نہ کروایا جائے جن معاہدوں میں رجسٹریشن لازمی ہو۔ مثال کے طور پر زمین کی خرید و فروخت میں اسٹام پیپر پر تحریری معاہدے کرنے کے بعد رجسٹرار سے رجسٹرڈ کروانا لازمی ہے۔ جس کو عرف عام میں کسی زمین مکان کی رجسٹری بولا جاتا ہے۔ اسی طرح کرایے داری کے معاہدے میں رینٹ کنٹرولر سے معاہدہ رجسٹرڈ کروانا لازمی ہے. چند معاہدے جیسا کے آجکل دوکاندار حضرات اپنے سامان کی خرید و فروخت اکثر موبائل-فون سے کرتے ہیں.موبائل سے اپنا سامان آڈر کرواتے ہیں اور موبائل سے قیمت ادا کرتے ہیں۔ایسے معاہدے تحریری نہ بھی ہوں تب قابل عمل ہیں اور بالکل قانونی ہیں. یہ باتSales And Goods Act 1930 کے سیکشن 5 میں بتائی گئی.

ای۔اسٹام پیپر E-stamp paper کیا ہے؟

بد عنوانی اور کرپشن سے پاکستان کا کوئی ادارہ محفوظ نہیں. ہمارے ہاں جعلی ادویات جعلی ملاوٹ شدہ کھانے کی چیزیں بنائی جاتی ہیں تو اسٹام پیپر کیسے جعلی تیار نہ ہوتے اور یہی حال اسٹام پیپر کو لیکر ہوا. لالچ سے بھرپور بے ایمان لوگوں نے جعلی اسٹام پیپر بنانا شروع کر دیے. اس جعل سازی کو روکنے کے لیے گورنمنٹ نے E stamp پروگرام لانچ کیا. جس میں کوئی بھی شخص آن لائن اسٹام پیپر حاصل کر سکتا ہے پرنٹ نکلوا سکتا ہے مقرر کردہ گورنمنٹ فیس ادا کرنے کے بعد. اسی طرح دیگر اسٹام فروشوں کو خاص اسٹام پیپر جاری کیے گئے. اب جو بھی اسٹام فروش اسٹام پیپر کسی کو بیچے گا تو اس اسٹام پیپر کا نمبر آن لائن جمع کروائے گا ساتھ ہی اس شخص کا نام بھی لکھے گا جس کو جاری ہوا اور کس مقصد کے لئے جاری ہوا۔ جب بھی آپ اسٹام خریدیں تو لائسنس یافتہ اسٹام فروش سے خریدیں اگر آپ کسی غیر مصدقہ شخص سے اسٹام لیتے ہیں جس کا کوئی ریکارڈ نہ ہو بعد میں وہ اسٹام جعلی ثابت ہو جائے تو آپکو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں اسکے علاوہ جتنی مالیت کا اسٹام پیپر ہو اتنی ہی قیمت ادا کریں اگر اسٹام فروش زیادہ قیمت طلب کرے تو فوراً اے سی یا متعلقہ ڈی سی کو مطلع کریں.


゚viralシfypシ゚viralシalシ

14/01/2026

゚viralシfypシ゚viralシalシ #

14/01/2026

LAW G*T HEC held on 15 September 2019.

60 questions of today paper.

1. Eye for eye: Qisas

2. Blood money: Diyat

3. Diyat amount mentioned in PPC: 30630 g silver

4. M***i in Islamic law: interpreter

5. Qiyas means: Deductions

6. Section 26 of Limitation Act easement for long time becomes certain: 20 years

7. Chalan submitted under CrPC: 173

8. If women is to be searched: 52 CrPC

9. Persona non gratia: unwelcomed & undesirable person

10. Diplomats are exempted from: Both Civil & criminal cases

11. Security Council is: Principle organ of UN

12. The name of 1973 constitution: Islamic Republic of Pakistan

13. Person part of parliament (Majlis e Shua): President

14. Not Source of Islamic law: Fatwa

15. Under section 47 CPC questions will be determined by which court: Court executing decree

16. Decree passed wherein defendant not appeared: Ex parte

17. Judgement debtor: Against whom decree is passed

18. Theory of command: Austin

19. Legal positivism: law & morality different

20. Not delegated legislation: Public bills

21. Volenti non fit injuria: No claim can be received if injury is caused by consent

22. Specific relief is claimed under: The Specific Relief Act 1877

23. Ultra vires: both beyond power & against authority

24. If amendment is made, mutatis mutandis applies on other agreement: it means it applies on all remaining amendments

25. One who comes to equity must divulge all facts: One who comes to equity must come with clean hands

26. Mujeeb ul rehman gave 6 points in: 1966

27. Traffic signal: offense per se

28. Not valid legal defense: ignorance of law

29. Obiter dictum & ratio decidendi: Judgements

30. If a person, not by intention, perform and unlawful act & kills a person, it is: Qatl e Khata

31. In civil case, how many witnesses are needed: 2 witnesses

32. If person has been investigated & acquitted in 6 cases. FIR is launched, cause of previous history: relevant

33. QSO repealed: Evidence Act 1872

34. Production of evidence that has become available because of modern devices, etc under which article of QSO: 164

35. Who is not capable of testimony: A person incapable of giving rational answers

36. Supreme court: 184(3)

37. Retrospective punishments under article 12 of 1973 constitution: No punishment for the act or omission which was not punishable by law at the time of act or omission

38. One who comes to equity must: do equity

39. Section 28 of Contract Act: arbitration

40. If contract is breached: both compensation & party knew (Essence of Section 73 of Contract Act 1872)

41. Generlia specialibus non dergant embodies: Special law will prevail over general

42. Jus Soli: Place of birth

43. Among Exhibit & Mark, which is strong in value: Exhibit

44. If A. British, beats B, An American, in Pakistan: A is subject to: Pakistani law

45. Foreign national in Pakistan: subject to Pakistani law

46. Will of person transferring his property to foreign national will be:

47. Session court draws power from CPC: No

48. Precludes the right: Estoppel

49. Canons do not mention duty of Advocate to: Employees

50. Ubi jus ibi remedium: Where there is a right there is a remedy

51. Acts neither encouraged nor discouraged: Mubah

52. A person may not get advantage of its own wrong: Nullus commodum capere de sua injuria propria

53. An overseas Pakistan can cast vote? Yes

54. First constitution of Pakistan: Government of India Act as amended by Independence Act of 1947

55. If a person accepts one thing & reject the other in same case: Expressio Unius Est Exclusio Alterius

56. 561-A CrPC: Inherent Powers of Court

57. First constitution assembly abrogated by: Malik Ghulam Muhammad

58. A judge has inclination to floodgates of criticism

59. Prescribe constraints of timeframe for justice: Justice hurried is justice buried

60. A lawyer cannot misquote

14/01/2026

Criminal Procedure Code 👇

Detailed Steps of With Relevent Provisions.

A Criminal trial goes through the following steps.

1) FIR U/S 154 ,or Direct complaint U/S 200 of Cr.P.C 1898.

2) Investigation U/S 156 or inquiry Under section 202 of Cr.P.C 1898.

3) Record of statement and confession Under section 161 and 164 read with section 364 of Cr.P.C 1898.

(4)Physical Or police remand U/S 167, 344 of Cr.P.C 1898.

5) Submission of Challan Under section 173 of Cr.P.C 1898, under following modes;

A) Section 169 of Cr.P.C 1898.

Release of accused when evidence deficient.

B.) Section 170 of Cr.P.C 1898.

Case to be sent to magistrate when evidence are sufficient.

C) Section 512 of Cr.P.C 1898.

Record of evidence in absence of accused.


(6) Quashing of FIR Under Section 561-A of Cr.P.C 1898.

(7)Taking cognizance under section 190 of Cr.P.C 1898.

(8)Issue of process Under section 204 of Cr.P.C 1898.

9) Bail in Bailable offences under section 496 of Cr.P.C 1898 and Bail in Non-bailable offences under section 497 of of Cr.P.C 1898.

10) The framing of charge from Sections 221 to 240 of Cr.P.C 1898 onwards.

11) Speedy acquittal under section 249-A for Magisterial trial. And under section 265-K for Session's Trial.

Note: After hearing the prosecutor and accused counsel, reasons shall be reasons be recorded for every finding.

12) Pleading guilty under sections 243 and 265-E of Cr.P.C 1898.

13) Beginning of prosecution evidence:

Prosecution Evidence, through Examination in chief, Cross Examination and Re-examination (If any).

14) Beginning of defense evidence, Statement of Accused under section 342 of Cr.P.C 1898.

15) Final Arguments.

16) Pronouncement of Judgment under section 366 of Cr.P.C 1898.

A) Acquittal under sections 245 & 265-H of Cr.P.C 1898,

or Conviction under sections 245(2) & 265-H(2) of of Cr.P.C 1898.

17) Appeal:

A) Appeal to court of session against sentenced passed by the assistant session judge or judicial magistrate under Section 408 of Cr.P.C 1898.

B.) Appeal to to high court against the sentence passed by Session's or Additional Session's Judge under section 410 of Cr.P.C 1898.

C) Appeal against acquittal through Public Prosecutor under section 417 of Cr.P.C 1898.

Address

Shikarpur
78100

Telephone

+923053955561

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Point:

Share