19/07/2026
اگر پولیس آپ کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے بلائے تو آپ کیا کریں؟ دفعہ 161 ضابطۂ فوجداری کے تحت اپنے حقوق جانیں
اگر آپ کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی ہے یا آپ نے کسی کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے، اور تفتیشی افسر (Investigating Officer) آپ کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے تھانے بلاتا ہے، تو یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ آپ کو اپنا بیان کس طریقے سے ریکارڈ کروانا چاہیے، اگر تفتیشی افسر آپ کا بیان ریکارڈ نہ کرے تو آپ کے پاس کیا قانونی راستہ موجود ہے، اور آپ اپنے ثبوت (Evidence) کو کس طرح باقاعدہ طور پر مقدمے کی مثل (Case File) کا حصہ بنوا سکتے ہیں۔
دفعہ 161 ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کیا کہتی ہے؟
دفعہ 161 ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت تفتیشی افسر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ تفتیش کے دوران مدعی، گواہ یا دیگر متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کرے۔
اگر آپ کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے بلایا جائے تو آپ کو قانون کے مطابق پولیس کے سامنے پیش ہونا چاہیے۔
اگر آپ ملزم ہیں تو پہلے اپنے وکیل سے مشورہ کریں اور اگر ضرورت ہو تو مناسب قانونی تحفظ، مثلاً ضمانت، حاصل کرنے کے بعد پیش ہوں۔
اگر آپ مدعی یا گواہ ہیں تو بھی مقررہ وقت پر تفتیشی افسر کے سامنے حاضر ہوں۔
بیان ہمیشہ تحریری صورت میں دیں
عملی طور پر سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنا بیان ہمیشہ تحریری (Written Form) میں تیار کرکے تفتیشی افسر کو دیں۔
اپنے بیان کے آغاز میں واضح لکھیں:
"بیانِ مدعی" یا "بیانِ گواہ"
اس کے بعد پورا واقعہ ترتیب وار، واضح اور سادہ الفاظ میں تحریر کریں۔
بیان کے آخر میں درج ذیل معلومات ضرور شامل کریں:
اپنے دستخط
نام
موبائل نمبر
قومی شناختی کارڈ نمبر (اگر ضروری ہو)
تاریخ
اس کے بعد اس تحریری بیان کو باقاعدہ طور پر تفتیشی افسر کے حوالے کریں تاکہ اسے مقدمے کی مثل کا حصہ بنایا جا سکے۔
اگر تفتیشی افسر بیان وصول نہ کرے تو کیا کریں؟
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ تفتیشی افسر بیان وصول کرنے یا اسے مقدمے کی مثل کا حصہ بنانے سے انکار کر دیتا ہے۔
ایسی صورت میں قانون آپ کو متعدد قانونی راستے فراہم کرتا ہے۔
متعلقہ اعلیٰ پولیس افسر سے رجوع کریں
آپ اپنے تحریری بیان اور درخواست متعلقہ اعلیٰ پولیس افسر، مثلاً:
SP Investigation
یا متعلقہ Supervisory Police Officer
کو بھی پیش کر سکتے ہیں تاکہ وہ قانونی کارروائی کو یقینی بنائیں۔