14/05/2024
💥 *پاکستان میں وکیل بننے کی شرائط اور وکیل کے مدارج و مراتب۔*
🗣️ *قومی اسمبلی پاکستان نے 22 فروری 1973 کو (LEGAL PRACTITIONERS AND BAR COUNCILS ACT, 1973 ) پاس کیا۔ جس میں وکیل بننے اور وکالت سے متعلق جملہ اصول وضع کیے۔*
مزکورہ ایکٹ کے باب (chapter) 8 کے تابع دفعہ 21 کے تحت وکلاء کی چار اقسام اور درجہ بندیاں بیان کی ہیں۔ جو کہ درج ذیل ہیں۔
1۔ سینئیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان
2۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان
3۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
4۔ ایڈووکیٹ ۔
ایکٹ کی دفعہ 22 کے تحت وکلاء کو حقِ وکالت ap تفویض کیا گیا ہے جس کے مطابق:
1۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان پورے پاکستان کی تمام عدالتوں (بشمول سپریم کورٹ، چاروں صوبائی اور وفاقی ہائیکورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ اور تمام ٹربیونلز) میں وکالت کرنے کا حق رکھتا ہے.
2۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان کے علاوہ ملک کی تمام ہائیکورٹس، ٹربیونلز اور ماتحت عدالتوں میں وکالت کر سکتا ہے۔
3۔ ایڈووکیٹ جو صرف سول اور ڈسٹرکٹ و سیشن عدالتوں میں وکالت کر سکتا ہے۔
مذکورہ بالا اقسام کے وکلاء کو وکالت کا لائنس جاری کرنے کیلئے بار کونسلز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
ایڈووکیٹ اور ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کا لائسنس جاری کرنے کیلئے چاروں صوبائی بار کونسلز اور (وفاقی) اسلام آباد بار کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کے قواعد و ضوابط اور مذکورہ ایکٹ کے تابع:
1۔ ایڈووکیٹ بننے کیلئے قانون کی ڈگری کے ساتھ ساتھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تحت منعقدہ (Law G*t) پاس ہونے کا ثبوت اور کم از کم 21 سال عمر ہونا ضروری ہے۔
2۔ ڈگری کے فوراً بعد (1st Intimation) بھیجنا ضروری ہے اور اس دوران کسی سینئر وکیل کے ساتھ چھ ماہ بحیثیت جونیئر کام کرنا شرط ہو گی۔ چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد اپنی مصدقہ ڈگریوں کے ہمراہ ( 2nd Intimation) متعلقہ بار کونسل میں بھیجنا ہوتی ہے جو انٹرویو کے بعد فاضل گریجویٹ کو ایڈووکیٹ کا لائسنس جاری کرے گی۔ اور مذکورہ ایڈووکیٹ اپنے متعلقہ صوبہ کی حد تک ضلعی عدالتوں میں بحیثیت وکیل پیش ہو سکتا ہے۔
2۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کیلئے ایڈووکیٹ کے طور پر دو سال مکمل ہونا ضروری ہے اس کے بعد فاضل وکیل متعلقہ بار کونسل میں ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کیلئے درخواست دے گا جس کے بعد متعلقہ بار کونسل کی انرولمنٹ کمیٹی کینجانب سے انٹرویو لیا جائے گا۔ عموماً اس کمیٹی میں ایک معزز جج ہائیکورٹ بھی شامل ہوتے ہیں۔ انٹرویو میں کامیاب ہونے والے وکیل کو ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کا لائسنس جاری ہوتا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے علاوہ ملک کی تمام عدالتوں میں پیش ہو سکتا ہے۔
3۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکالت کے لائسنس کے اجراء کیلئے دفعہ 23 کے تحت پاکستان بار کونسل کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ سینئیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے لائسنس جاری کرے اور لائسنس جاری کرے۔ اسی مذکورہ ایکٹ کے باب 8 میں درج دفعہ 55 کے تحت پاکستان بار کونسل کو قواعد و ضوابط وضع کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، جس کے تابع پاکستان بار کونسل نے
THE PAKISTAN LEGAL PRACTITIONERS AND BAR COUNCILS RULES, 1976
مرتب کیے۔ جس کے باب 7 کے تابع رول/ قاعدہ نمبر 107 کے مطابق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کا لائسنس حاصل کرنے کیلئے وکیل کیلئے درج ذیل شرائط پورا کرنا ضروری ہیں۔
1۔ صوبائی یا وفاقی بار کونسل کی جانب سے سرٹیفیکیٹ جس میں وکیل کا متعلقہ ہائیکورٹ میں بحیثیت "ایڈووکیٹ ہائیکورٹ" 7 سال کا دورانیہ پورا ہونا ضروری ہے۔
2۔ متعلقہ ہائیکورٹ سے (Fitness Certificate) صداقت نامہ درستی حاصل کرنا ضروری ہے۔
3۔ وکیل کی جانب سے ایک بیان حلفی جس میں وہ اپنی اہلیت، عدمِ سزا یافتہ، اور کسی بھی تادیبی کاروائی کا مرتکب نہ ہونے کا حلف دے گا۔
4۔ متعلقہ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سرٹیفیکیٹ کہ وکیل موصوف مذکورہ بار کے ممبر ہیں۔
5۔ متعلقہ ہائیکورٹ میں 15 مقدمات میں بحیثیت وکیل پیش ہو کر حاصل کیے گئے فیصلہ جات کی مصدقہ نقول۔
اس سب کے بعد چئیرمین انرولمنٹ کمیٹی کے نام درخواست جمع کروائے گا اور مزکورہ کمیٹی ایڈووکیٹ کو انٹرویو کے لیے طلب کرے گی۔ انٹرویو میں ایڈووکیٹ کو پاس ہونے کے بعد لائسنس جاری ہو گا لیکن کمیٹی کسی بھی وکیل کو (Deferred) التوا میں رکھنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ اس ضمن میں باقاعدہ وجوہات بیان کرنا ضروری ہیں کہ آیا کن وجوہات کی بناءپر وکیل کو التوا میں رکھا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں بھی 3 رکن ہوتے ہیں جن میں دو ممبران پاکستان بار کونسل اور 1 ممبر معزز جج سپریم کورٹ شامل ہیں۔ ضروری نہیں کہ انٹرویو میں شامل ہر ایڈووکیٹ کو فوراً ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کا لائسنس مل جائے۔ بلکہ متعدد کو 10 سال تک بھی انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ ہے وہ تمام طریقہ کار جس میں ایل ایل بی کرنے کے بعد سے سپریم کورٹ کا وکیل بننے تک کا راستہ وضع کیا گیا۔
یاد رہے کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں انڈین بار کونسل ایکٹ 1926 اور ایڈووکیٹس ایکٹ 1961 کے تحت ایک مرتبہ لائسنس یافتہ ہی تمام عدالتوں میں پیش ہو سکتا ہے۔ وہاں وکلاء کے صرف 2 مراتب ہیں۔
1۔ سینئیر ایڈووکیٹ
2۔ عام ایڈووکیٹ
ان دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ انرولمنٹ کے تحت جو پہلے وکیل بنا وہ اپنی مرضی سے بار کونسل میں سینئیر ایڈووکیٹ کا لقب حاصل کر سکتا ہے لیکن ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں وکالت کیلئے وہاں وکلاء کو کسی قسم کے الگ لائسنس کی ضرورت نہیں بلکہ ایک مرتبہ حاصل کیے گئے لائسنس کی بنیاد پر ہی وہ سپریم کورٹ تک تمام عدالتوں میں پیش ہو سکتا ہے۔