Khaqan Law Firm

Khaqan Law Firm Khaqan Law Firm is among the most reputable law firms in Pakistan.

We help our prestigieus clients with their critical legal matters related to all national or international laws.

10/06/2026

فیصل آباد کے اربابِ اختیار، منتخب نمائندوں اور عدالتی حکام کے نام
منروہ کلب گر گیا… اب فیصلہ فیصل آباد کے مستقبل کا ہونا چاہیے
✍️ تحریر و مؤقف:ایڈووکیٹ میاں خاقان شریف ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر، ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور ٹیکسٹائل صنعت کا مرکز اور اربوں روپے ٹیکس دینے والا شہر ہے۔ مگر افسوس! آج بھی یہاں لاہور ہائی کورٹ کا بینچ موجود نہیں۔
برسوں سے فیصل آباد کے عوام ایک لاہور ہائی کورٹ بینچ کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ روزانہ سینکڑوں وکلاء، سائلین اور شہری معمولی مقدمات کی سماعت کے لیے لاہور کا رخ کرتے ہیں، جس سے وقت، پیسہ اور توانائی تینوں ضائع ہوتے ہیں۔ ایک ایسا شہر جو صنعت، آبادی اور قومی خزانے میں اپنے کردار کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھتا ہو، اس کا اپنا ہائی کورٹ بینچ نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہےجبکہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 37(d) ریاست کو ہدایت دیتا ہے کہ انصاف کی فراہمی کو سستا، مؤثر اور عوام کی آسان رسائی میں بنایا جائے ہائی کورٹ بینچ کا قیام صرف ایک عمارت کی تعمیر نہیں بلکہ انصاف تک رسائی، عدالتی بوجھ میں کمی، عوامی سہولت اور آئین کے بنیادی تقاضوں کی تکمیل ہے۔ روزانہ سینکڑوں افراد کا لاہور جانا وقت، سرمایہ اور وسائل کا ضیاع ہے جسے ایک مقامی بینچ کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ اگر منروہ کلب کی جگہ دستیاب ہے تو اس سے بہتر استعمال کیا ہو سکتا ہے کہ یہاں لاہور ہائی کورٹ کا بینچ قائم کیا جائے۔ یہ منصوبہ صرف ایک عمارت نہیں ہوگا بلکہ انصاف تک آسان رسائی، شہری سہولت، معاشی سرگرمی اور فیصل آباد کی حقیقی شناخت کا اعتراف ہوگا تاریخ گواہ ہے کہ قومیں عمارتوں سے نہیں بلکہ اداروں سے ترقی کرتی ہیں۔ منروہ کلب کی جگہ پر اگر لاہور ہائی کورٹ کا بینچ قائم ہو جاتا ہے تو یہ منصوبہ صرف ایک عمارت نہیں ہوگا بلکہ انصاف تک آسان رسائی، شہری سہولت، معاشی سرگرمی اور فیصل آباد کی حقیقی شناخت کا اعتراف ہوگالاہور پر بوجھ کم ہوگا، عدالتی نظام مزید مؤثر ہوگا اور فیصل آباد کے عوام کو ان کے دروازے پر انصاف میسر آئے گا آرٹیکل 198(4) کے تحت گورنر پنجاب، صوبائی کابینہ کے مشورے اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد نئے بینچ کے قیام کا اختیار رکھتے ہیں۔
لہٰذا راستہ موجود ہے، قانون موجود ہے، آئینی گنجائش موجود ہے، ضرورت موجود ہے
اب صرف ارادے کی ضرورت ہے۔ میری وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ، گورنر پنجاب، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، منتخب ارکان اسمبلی، فیصل آباد بار اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ منروہ کلب کی اراضی کو فیصل آباد ہائی کورٹ بینچ کے قیام کے لیے مختص کیا جائے۔

















ایک اچھا فیصلہ بیرسٹر علی اشفاق لائسنس معطل  ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل، لاہور نے مورخہ 31 دسمبر 2025ء کو کراچی بار ...
01/01/2026

ایک اچھا فیصلہ بیرسٹر علی اشفاق لائسنس معطل
ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل، لاہور نے مورخہ 31 دسمبر 2025ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکرٹری کی جانب سے ارسال کردہ مراسلے پر غور کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا۔ کمیٹی کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں مسٹر علی اشفاق، ایڈووکیٹ، جو ایک ٹک ٹاکر مسٹر راجب بٹ کی نمائندگی کر رہے تھے، کراچی کی سٹی عدالتوں میں پیش ہوتے نظر آئے۔

یہ پیشی ایسے وقت میں ہوئی جب کراچی کی سٹی عدالتوں میں وکلاء کی جانب سے ہڑتال جاری تھی، جو سابق لائبریرین ناصر محمد کلہوڑو کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاجاً کی جا رہی تھی، اور اس دوران عدالتی کارروائی مکمل طور پر معطل تھی۔ اس کے باوجود مسٹر علی اشفاق کا نجی افراد/گارڈز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہونا ہڑتال کی خلاف ورزی اور پیشہ ورانہ ضابطۂ اخلاق کے منافی قرار دیا گیا۔

ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ مسٹر علی اشفاق نے اپنے مؤکل کے دفاع کے دوران وکلاء برادری کے خلاف بیانات دیے، جس کے نتیجے میں قانونی برادری کے اندر اختلافات، کشیدگی اور محاذ آرائی پیدا ہوئی، اور وکلاء کی اجتماعی ساکھ، اتحاد اور وقار کو شدید نقصان پہنچا۔

کمیٹی نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد یہ امر واضح کیا کہ مسٹر علی اشفاق پنجاب بار کونسل کے ساتھ بطور ایڈووکیٹ رجسٹرڈ ہیں اور بطور وکیلِ ہائی کورٹ بھی نامزد ہیں، لہٰذا وہ ہر حال میں اپنے پیشے کے وقار اور قانونی ضابطۂ اخلاق کی پاسداری کے پابند تھے۔ کمیٹی کے مطابق انہوں نے پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز رولز 1976ء کے رول 134 اور 175-A کی صریح خلاف ورزی کی، جو پیشہ ورانہ بدعنوانی کے زمرے میں آتی ہے۔

ان حقائق کی بنیاد پر ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ:
1. مسٹر علی اشفاق کا لائسنس برائے وکالت فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے؛
2. ان کا معاملہ ڈسپلنری کمیٹی پنجاب بار کونسل کو ارسال کیا جاتا ہے؛
3. ڈسپلنری کمیٹی قانون کے مطابق ان کے لائسنس کی مستقل منسوخی کے بارے میں کارروائی کرے گی۔

یہ فیصلہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ وکالت ایک باوقار پیشہ ہے جس میں نظم و ضبط، اجتماعی مفاد اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی ناقابلِ برداشت ہے، اور ایسے طرزِ عمل پر سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہوتی ہے۔

Address

Shah Faisalabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khaqan Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Khaqan Law Firm:

Shortcuts

Share