Khaqan Law Firm

Khaqan Law Firm Khaqan Law Firm is among the most reputable law firms in Pakistan.

We help our prestigieus clients with their critical legal matters related to all national or international laws.

ایک اچھا فیصلہ بیرسٹر علی اشفاق لائسنس معطل  ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل، لاہور نے مورخہ 31 دسمبر 2025ء کو کراچی بار ...
01/01/2026

ایک اچھا فیصلہ بیرسٹر علی اشفاق لائسنس معطل
ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل، لاہور نے مورخہ 31 دسمبر 2025ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکرٹری کی جانب سے ارسال کردہ مراسلے پر غور کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا۔ کمیٹی کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں مسٹر علی اشفاق، ایڈووکیٹ، جو ایک ٹک ٹاکر مسٹر راجب بٹ کی نمائندگی کر رہے تھے، کراچی کی سٹی عدالتوں میں پیش ہوتے نظر آئے۔

یہ پیشی ایسے وقت میں ہوئی جب کراچی کی سٹی عدالتوں میں وکلاء کی جانب سے ہڑتال جاری تھی، جو سابق لائبریرین ناصر محمد کلہوڑو کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاجاً کی جا رہی تھی، اور اس دوران عدالتی کارروائی مکمل طور پر معطل تھی۔ اس کے باوجود مسٹر علی اشفاق کا نجی افراد/گارڈز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہونا ہڑتال کی خلاف ورزی اور پیشہ ورانہ ضابطۂ اخلاق کے منافی قرار دیا گیا۔

ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ مسٹر علی اشفاق نے اپنے مؤکل کے دفاع کے دوران وکلاء برادری کے خلاف بیانات دیے، جس کے نتیجے میں قانونی برادری کے اندر اختلافات، کشیدگی اور محاذ آرائی پیدا ہوئی، اور وکلاء کی اجتماعی ساکھ، اتحاد اور وقار کو شدید نقصان پہنچا۔

کمیٹی نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد یہ امر واضح کیا کہ مسٹر علی اشفاق پنجاب بار کونسل کے ساتھ بطور ایڈووکیٹ رجسٹرڈ ہیں اور بطور وکیلِ ہائی کورٹ بھی نامزد ہیں، لہٰذا وہ ہر حال میں اپنے پیشے کے وقار اور قانونی ضابطۂ اخلاق کی پاسداری کے پابند تھے۔ کمیٹی کے مطابق انہوں نے پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز رولز 1976ء کے رول 134 اور 175-A کی صریح خلاف ورزی کی، جو پیشہ ورانہ بدعنوانی کے زمرے میں آتی ہے۔

ان حقائق کی بنیاد پر ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ:
1. مسٹر علی اشفاق کا لائسنس برائے وکالت فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے؛
2. ان کا معاملہ ڈسپلنری کمیٹی پنجاب بار کونسل کو ارسال کیا جاتا ہے؛
3. ڈسپلنری کمیٹی قانون کے مطابق ان کے لائسنس کی مستقل منسوخی کے بارے میں کارروائی کرے گی۔

یہ فیصلہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ وکالت ایک باوقار پیشہ ہے جس میں نظم و ضبط، اجتماعی مفاد اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی ناقابلِ برداشت ہے، اور ایسے طرزِ عمل پر سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہوتی ہے۔

جانشینی سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کیلے ڈیکلائین سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں برائے راست سول کورٹ کا اختیار بحال کردیا گیا ہےپنجاب لی...
19/11/2025

جانشینی سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کیلے ڈیکلائین سرٹیفیکیٹ کی
ضرورت نہیں برائے راست سول کورٹ کا اختیار بحال کردیا گیا ہے

پنجاب لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفیکیٹ ایکٹ 2021 کے سیکشن 3 میں ترمیم کرتے ہوئے 31 جولائی 2025 کو
سول کورٹ کا اختیار سماعت بحال کر دیا گیاہے

‏*جاؤ واپس جاکر اپنے ڈاکومنٹس گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق کروا کر پھر آؤ"* **روزانہ کے معمول میں یہ جملہ آپ نے بھی سنا ہوگ...
24/07/2024

‏*جاؤ واپس جاکر اپنے ڈاکومنٹس گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق کروا کر پھر آؤ"*

**روزانہ کے معمول میں یہ جملہ آپ نے بھی سنا ہوگا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق پاکستان میں کیوں ہم پہ فرض کی گئی ہے؟؟؟*
*کیا آپ لوگوں کے ڈاکومنٹس چیک کرنے کا صرف یہ واحد معیار ہے کہ 17 سکیل کا بندہ sign کرلے جس کے پاس کوئی مشین نہیں اس کی تصدیق کیلئے** ؟؟؟؟*
*مزے کی بات یہ ہے کہ وہ امتحانی بورڈ یا دفتر جس نے آپکو ڈگری دی ہوتی ہے اسی ڈگری کی فوٹو کاپی انکے پاس لے کر جاٸیں تو آفس والے کہینگے گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق کرکے آؤ۔۔۔نادرا والے خود کمپیوٹر میں سارا ریکارڈ چیک کرنے کے بعد کہتے ہیں جاؤ یہ فارم 17 گریڈ کے آفیسر سے تصدیق کرکے لاؤ۔۔*
*حالانکہ صرف تصدیق شدہ فوٹوسٹیٹ پر جاب نہیں ملتی بلکہ انٹرویو کے وقت اصل اسناد دکھانے پڑتے ہیں اور جب تک متعلقہ بورڈ یا یونیورسٹی سے ڈگری کی تصدیق نہیں ہوتی اس وقت تک پہلی تنخواہ جاری نہیں ہوتی۔۔۔*
*ہمارے گاؤں کے غریب کا بچہ دستخط کے لیۓ اپنے والد کو ساتھ لیکر گریڈ 17 کے آفیسر سے دستخط کے بعد زندگی بھر اسکا ممنوں رہتا ہے اور گریڈ17 کا آفیسر بڑے سیریس انداز میں ایک لمبا چوڑا دستخط کرکے اندر ہی اندر اس بیوقوف سسٹم پہ ہنس رہا ہوتا ہے۔۔*
*خدارا اپنا سسٹم اپڈیٹ کرو، غلامی کی پرانی روایات کو چھوڑ کر لوگوں کے لیۓ آسانیاں پیدا کرو۔*
*آٶ اس مہم میں شامل ہوکر اپنے اپنے حصہ کی شمع جلاٸیں۔۔*

منقول

14/05/2024

💥 *پاکستان میں وکیل بننے کی شرائط اور وکیل کے مدارج و مراتب۔*

🗣️ *قومی اسمبلی پاکستان نے 22 فروری 1973 کو (LEGAL PRACTITIONERS AND BAR COUNCILS ACT, 1973 ) پاس کیا۔ جس میں وکیل بننے اور وکالت سے متعلق جملہ اصول وضع کیے۔*

مزکورہ ایکٹ کے باب (chapter) 8 کے تابع دفعہ 21 کے تحت وکلاء کی چار اقسام اور درجہ بندیاں بیان کی ہیں۔ جو کہ درج ذیل ہیں۔

1۔ سینئیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان
2۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان
3۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
4۔ ایڈووکیٹ ۔

ایکٹ کی دفعہ 22 کے تحت وکلاء کو حقِ وکالت ap تفویض کیا گیا ہے جس کے مطابق:

1۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان پورے پاکستان کی تمام عدالتوں (بشمول سپریم کورٹ، چاروں صوبائی اور وفاقی ہائیکورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ اور تمام ٹربیونلز) میں وکالت کرنے کا حق رکھتا ہے.
2۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان کے علاوہ ملک کی تمام ہائیکورٹس، ٹربیونلز اور ماتحت عدالتوں میں وکالت کر سکتا ہے۔
3۔ ایڈووکیٹ جو صرف سول اور ڈسٹرکٹ و سیشن عدالتوں میں وکالت کر سکتا ہے۔

مذکورہ بالا اقسام کے وکلاء کو وکالت کا لائنس جاری کرنے کیلئے بار کونسلز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

ایڈووکیٹ اور ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کا لائسنس جاری کرنے کیلئے چاروں صوبائی بار کونسلز اور (وفاقی) اسلام آباد بار کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کے قواعد و ضوابط اور مذکورہ ایکٹ کے تابع:

1۔ ایڈووکیٹ بننے کیلئے قانون کی ڈگری کے ساتھ ساتھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تحت منعقدہ (Law G*t) پاس ہونے کا ثبوت اور کم از کم 21 سال عمر ہونا ضروری ہے۔
2۔ ڈگری کے فوراً بعد (1st Intimation) بھیجنا ضروری ہے اور اس دوران کسی سینئر وکیل کے ساتھ چھ ماہ بحیثیت جونیئر کام کرنا شرط ہو گی۔ چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد اپنی مصدقہ ڈگریوں کے ہمراہ ( 2nd Intimation) متعلقہ بار کونسل میں بھیجنا ہوتی ہے جو انٹرویو کے بعد فاضل گریجویٹ کو ایڈووکیٹ کا لائسنس جاری کرے گی۔ اور مذکورہ ایڈووکیٹ اپنے متعلقہ صوبہ کی حد تک ضلعی عدالتوں میں بحیثیت وکیل پیش ہو سکتا ہے۔

2۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کیلئے ایڈووکیٹ کے طور پر دو سال مکمل ہونا ضروری ہے اس کے بعد فاضل وکیل متعلقہ بار کونسل میں ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کیلئے درخواست دے گا جس کے بعد متعلقہ بار کونسل کی انرولمنٹ کمیٹی کینجانب سے انٹرویو لیا جائے گا۔ عموماً اس کمیٹی میں ایک معزز جج ہائیکورٹ بھی شامل ہوتے ہیں۔ انٹرویو میں کامیاب ہونے والے وکیل کو ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کا لائسنس جاری ہوتا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے علاوہ ملک کی تمام عدالتوں میں پیش ہو سکتا ہے۔

3۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکالت کے لائسنس کے اجراء کیلئے دفعہ 23 کے تحت پاکستان بار کونسل کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ سینئیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے لائسنس جاری کرے اور لائسنس جاری کرے۔ اسی مذکورہ ایکٹ کے باب 8 میں درج دفعہ 55 کے تحت پاکستان بار کونسل کو قواعد و ضوابط وضع کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، جس کے تابع پاکستان بار کونسل نے
THE PAKISTAN LEGAL PRACTITIONERS AND BAR COUNCILS RULES, 1976
مرتب کیے۔ جس کے باب 7 کے تابع رول/ قاعدہ نمبر 107 کے مطابق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کا لائسنس حاصل کرنے کیلئے وکیل کیلئے درج ذیل شرائط پورا کرنا ضروری ہیں۔

1۔ صوبائی یا وفاقی بار کونسل کی جانب سے سرٹیفیکیٹ جس میں وکیل کا متعلقہ ہائیکورٹ میں بحیثیت "ایڈووکیٹ ہائیکورٹ" 7 سال کا دورانیہ پورا ہونا ضروری ہے۔
2۔ متعلقہ ہائیکورٹ سے (Fitness Certificate) صداقت نامہ درستی حاصل کرنا ضروری ہے۔
3۔ وکیل کی جانب سے ایک بیان حلفی جس میں وہ اپنی اہلیت، عدمِ سزا یافتہ، اور کسی بھی تادیبی کاروائی کا مرتکب نہ ہونے کا حلف دے گا۔
4۔ متعلقہ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سرٹیفیکیٹ کہ وکیل موصوف مذکورہ بار کے ممبر ہیں۔
5۔ متعلقہ ہائیکورٹ میں 15 مقدمات میں بحیثیت وکیل پیش ہو کر حاصل کیے گئے فیصلہ جات کی مصدقہ نقول۔

اس سب کے بعد چئیرمین انرولمنٹ کمیٹی کے نام درخواست جمع کروائے گا اور مزکورہ کمیٹی ایڈووکیٹ کو انٹرویو کے لیے طلب کرے گی۔ انٹرویو میں ایڈووکیٹ کو پاس ہونے کے بعد لائسنس جاری ہو گا لیکن کمیٹی کسی بھی وکیل کو (Deferred) التوا میں رکھنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ اس ضمن میں باقاعدہ وجوہات بیان کرنا ضروری ہیں کہ آیا کن وجوہات کی بناءپر وکیل کو التوا میں رکھا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں بھی 3 رکن ہوتے ہیں جن میں دو ممبران پاکستان بار کونسل اور 1 ممبر معزز جج سپریم کورٹ شامل ہیں۔ ضروری نہیں کہ انٹرویو میں شامل ہر ایڈووکیٹ کو فوراً ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کا لائسنس مل جائے۔ بلکہ متعدد کو 10 سال تک بھی انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ ہے وہ تمام طریقہ کار جس میں ایل ایل بی کرنے کے بعد سے سپریم کورٹ کا وکیل بننے تک کا راستہ وضع کیا گیا۔

یاد رہے کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں انڈین بار کونسل ایکٹ 1926 اور ایڈووکیٹس ایکٹ 1961 کے تحت ایک مرتبہ لائسنس یافتہ ہی تمام عدالتوں میں پیش ہو سکتا ہے۔ وہاں وکلاء کے صرف 2 مراتب ہیں۔
1۔ سینئیر ایڈووکیٹ
2۔ عام ایڈووکیٹ

ان دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ انرولمنٹ کے تحت جو پہلے وکیل بنا وہ اپنی مرضی سے بار کونسل میں سینئیر ایڈووکیٹ کا لقب حاصل کر سکتا ہے لیکن ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں وکالت کیلئے وہاں وکلاء کو کسی قسم کے الگ لائسنس کی ضرورت نہیں بلکہ ایک مرتبہ حاصل کیے گئے لائسنس کی بنیاد پر ہی وہ سپریم کورٹ تک تمام عدالتوں میں پیش ہو سکتا ہے۔

دیر آئے درست آئے اب وکلاء حضرات کو بھی یہ چاہیے کہ متحد ہو کراپنا وقاربحال کریں اوراس ہڑتال کو یقینی بنائیں۔۔۔  تا کہ آئ...
07/04/2024

دیر آئے درست آئے
اب وکلاء حضرات کو بھی یہ چاہیے کہ متحد ہو کراپنا وقاربحال کریں اوراس ہڑتال کو یقینی بنائیں۔۔۔ تا کہ آئندہ کوئی بھی ادارہ کِسی کی ایماء پرووکلاء برادری کا استحصال نہ کر سکے ۔۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ سب ایک خاص گروہ کا ایجنڈا ہے لیکن اس پر تفصیلی بات کسی اور دن کی جائیگی۔۔۔ وکلاء ہمیشہ سے آئین اور قانون کی بالادستیِ پے یقینِ رکھتے ہیں کسی بھی غیر قانونی اور غیر جمہوری عمل کے خلاف آہنی و سیسہ پلائی دیواربن جاتے ہیں اور یہی ؤ وجہ ہے جسکی بابت وکلاء کو سوچی سمجھی سازش کے تحت ان کی کردار کُشی اور مختلف اور نیگیٹیو کیمپینز چلائی جاتی ہیں اور ہمارا مختلف حربوں سے استحصال کیا جاتا ہے ۔۔۔ اللّٰہ پاک ہم سب پر اپنا کرم کرے آمین۔
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سی
جس دور میں جینا مشکل ہو اُس دور میں جینا لازم ہے

بول کے لب آزاد ہیںَ تیرےمیری یہ پوسٹ صرف وکلاءحضرات کے لیے ہے آج کل جو کچھ لاہوربار مَیں میاں  عبدالمتین ایڈووکیٹ اور ان...
06/04/2024

بول کے لب آزاد ہیںَ تیرے
میری یہ پوسٹ صرف وکلاءحضرات کے لیے ہے
آج کل جو کچھ لاہوربار مَیں میاں عبدالمتین ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہوتے تھے اب بھی ہو رہے ہیں اور آئندَہ بھی ہوتےرھینگے میں تو آج تک کی اپنی پریکٹس میں یہی دیکھتا آیا ہوں ہماری بارassociations کےعہدیدار ہمیشہ سےصرف اپنےمفادکے لیے یا کسی عہدیداروکیل کےلیے ہڑتالیں بھی کرتی ہیں اور عدالتوں کا بائیکاٹ بھی کرتی ہیں پر جب کبھی کسی ینگ لائر کو مشکل پیش آتی ہے چُپ کا روزہ رکھ لیا جاتا ہے یہ دوہرا مِعیارآخِر کیوں ؟ کیا ووکلا اِتحادصرف الیکشن کے دنوں میں ہی زندہ ہوتا ہے؟

25/09/2023

اسلام آباد ہائیکورٹ نے افغانستان سے جان بچا کر پاکستان آنے والی ایک ہزارہ خاتون سابق فوجی کے سیاسی پناہ کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف ایف آئی آر کو خارج کر دیا ہے-

افغانستان سے بھاگ کر آنے والی مسمات راحیل عزیزی کے خلاف ویزا نہ ہونے کی پاداش میں ایف ائی اے نے سیکشن 14 فارنرز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا-

یہ شق بغیر ویزا پاکستان آنے یا پاکستان میں رہنے سے متعلق ہے۔ اس جرم میں ملزم کو 10 برس تک کی سزا ہو سکتی ہے-

راحیل عزیزی نے اس کارروائی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی-

درخواست گزار کی جانب سے وکیل عمر اعجاز گیلانی نے پیش ہو کر دلائل دیے۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے خاتون کو باعزت بری کیا ہے۔

جسٹس بابر ستار نے 21 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا ہے کہ راحیل عزیزی کے پاس اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد اس کی جان کو سنگین اور فوری خطرات لاحق تھے۔
وہ خوشی سے نہیں بلکہ جان بچانے ادھر آئی ہے۔

اس حوالے سے اقوام متحدہ کے شعبہ برائے مہاجرین، یو این ایچ سی آر پہلے ہی تفتیش اور اثبات کر چکی ہے۔
اسی بنا پر اسے آسٹریلیا نے سیاسی پناہ گزین کا ویزا بھی دے دیا مگر مقدمہ میں الجھنے کی وجہ سے وہ آسٹریلیا نہیں جا سکتی تھی۔

عدالت نے کہا کہ ایسی صورت میں ملزمہ کے خلاف فارنرز ایکٹ کا مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ پاکستان کے آئین میں مقامی باشندوں کے علاوہ پاکستان میں فی الوقت مقیم غیر ملکیوں کے بنیادی حقوق کو بھی تحفظ دیا گیا ہے- ان آئینی حقوق کا دفاع اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی پناہ کے حق کو تسلیم کیا جائے۔

اگر کوئی بحالت مجبوری اپنی جان بچانے پاکستان آئے تو اس پر ویزا نہ ہونے کے الزام میں فوجداری مقدمہ چلانا قانون اور آئین کی منشاء کے برعکس ہے۔

تفصیلی فیصلے میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس منیب اختر کے ترکی سکول ٹیچرز کے کیس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، اور بین الاقوامی قوانین کا بھی ذکر کیا گیا ہے
WRIT PETITION NO. 1666 OF 2023
Rahil Azizi Vs The State & others.

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور: پولیس کیا کررہی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تازہ ڈیولپمنٹ یہ ہے کہ پولیس نے کل عدالت میں جو چال...
25/07/2023

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور: پولیس کیا کررہی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تازہ ڈیولپمنٹ یہ ہے کہ پولیس نے کل عدالت میں جو چالان پیش کیا، وہ صرف منشیات کے متعلق تھا اور کہا کہ مزید معلومات کی ہمیں ضرورت بھی نہیں ہے، اس لیے اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا جائے۔
مجسٹریٹ کو اس پر حیرت ہوئی کہ کہانی تو تم کچھ اور بھی بیان کررہے تھے اور اب اچانک سب کچھ درمیان میں چھوڑ دیا ہے؟ چنانچہ اس نے تفتیشی افسر کے خلاف آئی جی کو کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
۔۔۔۔۔

کینیڈا کی عدالتوں نے حکم جاری کر دیا ہے کہ فریقین کے بیچ میں کانٹریکٹ یا معاہدے کی ایک قسم میں رضامندی ظاہر کرنے کے لیے ...
09/07/2023

کینیڈا کی عدالتوں نے حکم جاری کر دیا ہے کہ فریقین کے بیچ میں کانٹریکٹ یا معاہدے کی ایک قسم میں رضامندی ظاہر کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر بھیجے گئے انگوٹھے کا نشان بھی رضامندی کو ظاہر کرے گا اور یہی سمجھا جائے گا کہ دو فریقین میں ایک معاہدہ طے پا گیا ہے اور ایک فریق کی طرف سے دی گئی افر دوسرے فریق نے قبول کر لی ہے عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہمیں نئے دور کے طریقوں سے مکمل طور پر اگاہ رہنا چاہیے یہ ہمارے معاشرے کا اب حصہ اور دستور بن چکی ہے

ضلع بہاولپور میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ جس میں خواتین پر مرد سے زبردستی زنا کی کوشش کا مقدمہ درج۔۔۔ اصل حقائق کیا ہیں ...
03/05/2023

ضلع بہاولپور میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ جس میں خواتین پر مرد سے زبردستی زنا کی کوشش کا مقدمہ درج۔۔۔ اصل حقائق کیا ہیں واللہ اعلم! تاہم پنجاب پولیس کے اس اقدام کو سلام پیش کرتے ھیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ واقع ہی قانون سب کے لئے برابر ہے جس میں ذات/صنف کی کوئی تفریق نہیں۔۔۔

Address

Shah Faisalabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khaqan Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Khaqan Law Firm:

Share