06/12/2025
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے FBR کی جانب سے بینک اکاؤنٹس کی معلومات طلب کرنے اور ٹیکس گزاروں کو بھیجے گئے SMS نوٹسز کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس نظام میں شفافیت کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے اور قانون اس کی مکمل اجازت دیتا ہے۔
سینیٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ “بینک قانونی طور پر پابند ہیں کہ ٹیکس حکام کو مطلوبہ معلومات فراہم کریں، اور ٹیکس چوری دنیا بھر میں منی لانڈرنگ سے جڑا سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔”
پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ FBR کے SMS صرف اُن افراد کو بھیجے گئے جن کے بینک بیلنس اور ٹرانزیکشنز ان کی ظاہر کردہ آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ ان کے مطابق یہ کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 165A کے تحت کی گئی، جس میں بینکوں کے لیے ڈیٹا شیئرنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔
ادھر متعدد سینیٹرز نے اس اقدام کو شہریوں کی مالی رازداری پر حملہ قرار دیتے ہوئے معاملے کو سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی سفارش کی، جسے اکثریتی رائے سے منظور کر لیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس حکومت نے بینک اکاؤنٹس کی براہِ راست مانیٹرنگ کے فیصلے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت FBR غیر ظاہر شدہ دولت اور ٹیکس چوری کی نشاندہی کے لیے بینک ٹرانزیکشن ڈیٹا کا تجزیہ کر رہا ہے