Haral Law Associates

Haral Law Associates Lawyer & Law Firm in District Sargodha,Kotmomin,Bhalwal,Bhera
Providing Legal Services Civil,Criminal& Family Cases

⚖️ 21.6 کلو چرس کی مبینہ برآمدگی کے باوجود 13 سالہ کمسن ملزم کو ضمانتکیا بھاری مقدار میں منشیات کی مبینہ برآمدگی کے باوج...
30/09/2026

⚖️ 21.6 کلو چرس کی مبینہ برآمدگی کے باوجود 13 سالہ کمسن ملزم کو ضمانت

کیا بھاری مقدار میں منشیات کی مبینہ برآمدگی کے باوجود 13 سالہ کمسن ملزم، جس کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو اور تفتیش بھی مکمل ہو چکی ہو، بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار ہو سکتا ہے؟

پشاور ہائی کورٹ نے جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018ء کے تحت اس اہم قانونی اصول کو واضح کیا کہ کمسن ملزم کے معاملے میں صرف الزام کی سنگینی یا منشیات کی مقدار ہی فیصلہ کن نہیں ہوتی، بلکہ اس کی عمر، سابقہ مجرمانہ ریکارڈ، تفتیش کی صورتحال اور مزید حراست کی ضرورت کو بھی قانون کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔

مذکورہ مقدمے میں ملزم کی عمر 13 سال تھی، کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تھا، تفتیش مکمل ہو چکی تھی اور مزید تفتیش درکار نہیں تھی۔ ملزم تقریباً ساڑھے تین ماہ سے حراست میں بھی تھا۔

عدالت نے جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018ء کی دفعہ 6(3) کے تحت کمسن ملزم کو حاصل خصوصی قانونی تحفظ اور مقدمے کے مجموعی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی۔

قانونی نکتہ:
کمسن ملزم کے مقدمے میں ضمانت کا فیصلہ صرف مبینہ برآمدگی کی مقدار سے نہیں بلکہ عمر، سابقہ کردار، تفتیش کی تکمیل اور مزید حراست کی ضرورت سمیت تمام متعلقہ عوامل کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔

2026 SCMR 1379 سپریم کورٹ نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کو Petition for Quashing of FIR میں تبدیل کر کے ایف آئی آر ...
28/09/2026

2026 SCMR 1379

سپریم کورٹ نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کو Petition for Quashing of FIR میں تبدیل کر کے ایف آئی آر کو ہی کالعدم Quash کر دیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صرف FIR میں لفظ “امانت (Amanat)” لکھ دینے سے دفعہ 406 PPC کا جرم قائم نہیں ہوتا۔ دفعہ 406 PPC کے اطلاق کے لیے Criminal Breach of Trust کے تمام قانونی اجزاء کا موجود ہونا ضروری ہے۔

ملزم پر الزام تھا کہ اس نے شکایت کنندہ کی بطور امانت دی گئی رقم میں خردبرد کی۔ ریکارڈ سے ظاہر تھا کہ مابین فریقین مکان کو رہن پر دینے کا سول تنازعہ تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر دستیاب مواد سے جرم کے ضروری اجزاء ہی پورے نہیں ہوتے اور ملزم کے سزا پانے کا کوئی معقول امکان موجود نہیں تو اسے محض اس بنیاد پر کہ پہلے Trial Court سے دفعہ 249-A Cr.P.C. کے تحت بریت حاصل کرے، High Court میں FIR quash کرنے کی درخواست سے نہیں روکا جا سکتا۔ ایسا کرنا قانون کے عمل کا بے جا استعمال (abuse of process) ہوگا۔

PLJ 2026 CrC 729It is trite that the court is not bound by the penal provision invoked by the police. It must tentativel...
27/09/2026

PLJ 2026 CrC 729
It is trite that the court is not bound by the penal provision invoked by the police. It must tentatively examine the facts stated in the FIR and the material collected during the investigation to see what provision is prima facie attracted.

Sections 279, 320, and 322 PPC each have a different scope, and the precise distinction between them may, in a given case, require careful examination in the light of the facts ultimately established on the record. However, for the purposes of the present application, it is neither necessary nor proper to finally determine whether the occurrence would more appropriately fall under section 320 PPC or section 322 PPC. That question must depend on the facts that emerge during the investigation and the material eventually placed before the trial court.

That said, it is necessary to determine the effect of the relevant entries in Schedule II to the Code of 1898. Mr. Bhatti has drawn attention to the expression “may arrest without warrant”appearing in Schedule II in relation to both sections 320 and 322 PPC. That expression, appearing in Column 3 of the Schedule, simply denotes that both offences are cognizable, i.e., the police are empowered to arrest without a warrant and to investigate without prior magisterial sanction. It does not conclude the question whether anticipatory relief should or should not be granted. For present purposes, it is sufficient to observe that section 322 PPC, as invoked in the FIR, is expressly classified as non-bailable in Schedule II, andthat the grant of pre-arrest bail must be examined on its own settled principles.10. The Petitioner has argued that even the principal offence invoked by the police, namely section 322 PPC, entails only liability to diyat, not imprisonment, and that he should not be deprived of his liberty before conviction. However, there is a divergence of judicial opinion on this point. One view is that because the offence is cognizable and non-bailable, the accused may be arrested without a warrant and may remain in custody pending trial unless he makes out a case for bail. The mere fact that the punishment prescribed for the offence is diyat does not entitle him to release. The other view emphasizes that, since the liability under section 322 PPC is confined to diyat, incarceration before conviction amounts to punishment before trial. It may nevertheless be observed that, in post-arrest bail matters, the courts have generally adopted a liberal approach, as an offence under section 322 PPC does not fall within the prohibitory clause of section 497(1) Cr.P.C.
Crl. Misc. No. 4411/B/2026
Nadeem Abbas Vs The State and another

2026 SCMR 1785Whether a decree holder who fails to file the first ex*****on petition within the statutory period of thre...
27/09/2026

2026 SCMR 1785
Whether a decree holder who fails to file the first ex*****on petition within the statutory period of three years as required by Article 181 of the Limitation Act, 1908, loses the statutory right to seek ex*****on and consequently cannot file any subsequent petition by invoking the provisions of Section 48 ofthe CPC.

It is by now settled that the right to execute a decree iscircumscribed by statutory limitation and must be exercisedstrictly within the framework provided by the Limitation Act, 1908(“the AcVf The decree-holder is required to file the first petitionfor ex*****on of a decree within a period of three years from thedate when the right to apply accrues. This is the mandatoryrequirement. The law is equally settled that Section 48 CPC doesnot enlarge or override the period provided for the first ex*****onpetition, rather it provides an outer limit for ex*****on proceedingsonce properly initiated in accordance with law.

i. If the first ex*****on petition was not instituted within three years as stipulated under Article 181 of the Act,the decree-holder loses the statutory right to seek ex*****on, and no subsequent petition can be sustained by invoking the provisions of Section 48 CPC.

ii. If the first ex*****on petition was filed within the stipulated period of three years, the subsequent ex*****on petition may be maintained, provided it falls within the outer limit contemplated under Section 48CPC and the decree remained unsatisfied.

iii. Dismissal of the first ex*****on petition on technical grounds does not ipso facto extinguish the decreeholder’s right, provided the initial invocation of jurisdiction was within the stipulated period. If the first ex*****on petition itself was time-barred, the defect is fatal and cannot be cured by filing a second petition by invoking the provisions of Section 48 CPC.
Civil Petition No. 4530 of 2024

Rasheed (deceased) through LRs and others VersusMuhammad Azam Khan and others

2026 MLD 1244​جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ جرائم کو تین زمروں میں تقسیم کرتا ہے: 1- معمولی (Minor)، 2- سنگین (Major)، اور3- ان...
12/09/2026

2026 MLD 1244

​جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ جرائم کو تین زمروں میں تقسیم کرتا ہے:

1- معمولی (Minor)،

2- سنگین (Major)، اور

3- انتہائی سنگین (Heinous)۔

​دفعہ 6(3) [Sec 6(3)]:
اگر کسی کم سن (Juvenile) کو معمولی یا سنگین جرم کے تحت گرفتار یا حراست میں لیا جائے، تو اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا جیسے وہ قابلِ ضمانت (Bailable) جرم کا ملزم ہو۔

​دفعہ 6(4) [Sec 6(4)]:
اگر 16 سال سے زائد عمر کے کم سن کو کسی انتہائی سنگین (Heinous) جرم میں گرفتار کیا جائے، تو جوینائل کورٹ ضمانت سے انکار کر سکتی ہے اگر اس کے پاس یہ باور کرنے کی معقول وجوہات ہوں کہ وہ اس جرم میں ملوث ہے۔

​دفعہ 6(5) [Sec 6(5)]:
قطع نظر اس کے کہ کم سن کی عمر کیا ہے، اگر وہ مسلسل 6 ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہے اور ٹرائل مکمل نہیں ہوا، تو اسے قانونی حق کے طور پر ضمانت پر رہا کیا جائے گا—بشرطیکہ تاخیر کی وجہ خود کم سن ملزم نہ ہو۔

​سپریم کورٹ کا فیصلہ
​سپریم کورٹ نے "مہران کیس" کا حوالہ دیتے ہوئے اہم قانونی نکات واضح کیے:

​میرٹ بمقابلہ تاخیر:
دفعہ 6(4) ضمانت کا فیصلہ کیس کے میرٹ پر کرتی ہے، جبکہ دفعہ 6(5) محض ٹرائل میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کا ایک الگ اور مستقل قانونی حق (Statutory Ground) فراہم کرتی ہے۔

​اطلاق کا دائرہ کار:
چونکہ معمولی (Minor) اور سنگین (Major) جرائم دفعہ 6(3) کے تحت پہلے ہی قابلِ ضمانت قرار دیے گئے ہیں، اس لیے دفعہ 6(5) کی سخت شق کا عملی اطلاق صرف انتہائی سنگین (Heinous) جرائم کے ملزم کم سن بچوں پر ہوتا ہے۔

​ضمانت بعد از گرفتاری (Post-Arrest Bail):
اگر دفعہ 6(5) کی شرائط (6 ماہ سے زائد حراست اور عدم التوا از طرفِ ملزم) پوری ہوتی ہوں، تو انتہائی سنگین جرم میں نامزد کم سن ملزم بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار بن جاتا ہے—خواہ اس کی عمر 16 سال سے کم ہو یا زیادہ۔

خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو کیا بیوی حقِ مہر میں ملی جائیداد اپنے پاس رکھ سکتی ہے؟سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی...
12/09/2026

خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو کیا بیوی حقِ مہر میں ملی جائیداد اپنے پاس رکھ سکتی ہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی فیصلہ — PLD 2026 Supreme Court 319

مقدمہ کا بنیادی پس منظر

فریقین کے درمیان نکاح 5 اپریل 2001 کو ہوا۔ نکاح کے وقت حقِ مہر میں 10 لاکھ روپے نقد اور ایک غیر منقولہ جائیداد، یعنی پلاٹ نمبر 6، غازی کوٹ ٹاؤن شپ، مانسہرہ مقرر کیا گیا۔

بعد ازاں مذکورہ پلاٹ شوہر کے والد کی جانب سے فروخت کیے جانے پر بیوی نے نکاح نامہ کی بنیاد پر جائیداد کے متعلق اپنا حقِ ملکیت تسلیم کرانے کے لیے دعویٰ دائر کیا، جس میں اسے ڈگری بھی حاصل ہوئی۔

بعد میں بیوی نے تنسیخِ نکاح، نفقہ، حقِ مہر اور جہیز وغیرہ کے لیے فیملی سوٹ دائر کیا۔

فیملی کورٹ کا فیصلہ

فیملی کورٹ نے فریقین کے درمیان نکاح کو خلع کی بنیاد پر ختم کر دیا۔

تاہم بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف ظلم یا cruelty ثابت نہ ہونے کی صورت میں عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ نکاح خلع کی بنیاد پر ختم ہوا ہے، اس لیے حقِ مہر میں حاصل ہونے والی جائیداد واپس کرنا ہوگی۔

ہائی کورٹ نے بھی اس مؤقف کو برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول

سپریم کورٹ نے Family Courts Act, 1964 کی Section 10(4) اور اس میں Family Courts (Amendment) Act, 2015 کے ذریعے کی گئی ترمیم کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ:

اگر مصالحت کی کوشش ناکام ہو جائے اور بیوی خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرواتی ہے، جبکہ شوہر کی جانب سے ظلم یا زیادتی ثابت نہ ہو، تو قانون کے تحت خلع کے نتیجے میں بیوی کو حاصل شدہ حقِ مہر یا اس کا نعم البدل واپس کرنے کا قانونی اثر پیدا ہوتا ہے۔

جائیداد بھی حقِ مہر ہو تو؟

یہ فیصلہ اس پہلو سے بھی انتہائی اہم ہے کہ اگر حقِ مہر صرف نقد رقم تک محدود نہ ہو بلکہ پلاٹ، مکان یا کوئی دوسری غیر منقولہ جائیداد بھی مہر میں شامل ہو، تو خلع کی قانونی صورتِ حال میں اس جائیداد کی واپسی کا سوال بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

یعنی حقِ مہر میں دی گئی جائیداد کو محض اس بنیاد پر محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا کہ اس کے متعلق پہلے کوئی ڈگری یا declaration حاصل کی جا چکی تھی۔

سابقہ ڈگری اور بعد کی خلع کی ڈگری

سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی غور کیا کہ جب بعد میں فیملی کورٹ نے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرتے ہوئے حقِ مہر کی واپسی کا حکم دیا تو اس کا پہلے سے موجود عدالتی فیصلے پر کیا اثر ہوگا۔

عدالت نے قرار دیا کہ بعد میں آنے والی خلع کی ڈگری اور اس کے قانونی نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور موجودہ قانونی صورتحال کے تناظر میں سابقہ declaration/ڈگری کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

گواہ کا بیان زیر دفعہ 161 ضابطہ فوجداری اگر دیر سے لکھا جائے گا تو اسکی کوئی منصب وجہ نہ ہو تو اسکی اہمیت نا ہے
12/09/2026

گواہ کا بیان زیر دفعہ 161 ضابطہ فوجداری اگر دیر سے لکھا جائے گا تو اسکی کوئی منصب وجہ نہ ہو تو اسکی اہمیت نا ہے

11/09/2026

Address

Sargodha

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 13:00
Saturday 08:00 - 16:00

Telephone

+923008708220

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haral Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Haral Law Associates:

Shortcuts

Share

Category