07/08/2026
سپریم کورٹ کا فیصلہ — Order XVII Rule 3 CPC کی
درست تشریح
سیکشن: Order XVII Rule 3، ضابطۂ دیوانی (Code of Civil Procedure, 1908)
حوالہ: C.A. No. 357-L/2013 (مورخہ 03-08-2026)
خلاصہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک نہایت اہم فیصلہ دیا جس میں واضح کیا گیا کہ Order XVII Rule 3 CPC ایک سزائی (Penal) قانون ہے، اس لیے اسے ہر مقدمے میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اس مقدمے میں مدعی نے حقِ شفعہ (Pre-emption) کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ مقدمہ مختلف وجوہات، جیسے وکلاء کی ہڑتال، سرکاری تعطیلات، جج کی رخصت اور عدالت کی تبدیلی کی وجہ سے ملتوی ہوتا رہا۔ کئی مواقع پر مدعی کے گواہ عدالت میں موجود تھے لیکن ان کے بیانات ریکارڈ نہ ہو سکے۔
بعد ازاں ٹرائل کورٹ نے Order XVII Rule 3 CPC کے تحت مدعی کا حقِ شہادت ختم کر دیا اور ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر مقدمہ خارج کر دیا۔ ریویو، اپیل اور ہائی کورٹ سے بھی مدعی کو ریلیف نہ ملا، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ آخری تاریخ مدعی کی درخواست پر نہیں بلکہ وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے ملتوی ہوئی تھی، اس لیے ٹرائل کورٹ کو Order XVII Rule 3 CPC استعمال کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ اس بنا پر ٹرائل کورٹ، اپیلٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کے تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے گئے۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بحال کیا جائے، مدعی کو ثبوت پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے، اس کے بعد مدعا علیہ کو بھی ثبوت پیش کرنے کا حق دیا جائے اور مقدمہ قانون کے مطابق ازسرِنو فیصلہ کیا جائے۔ مزید ہدایت کی گئی کہ ٹرائل کورٹ چھ ماہ کے اندر مقدمہ نمٹانے کی کوشش کرے۔
اس فیصلے میں جن اہم نظائر (Case Law) پر انحصار کیا گیا
PLD 1991 SC 1109 (Qutab-ud-Din v. Gulzar)
2008 SCMR 942 (Muhammad Aslam v. Nazir Ahmed)
2014 SCMR 637 (Syed Tahir Hussain Mehmoodi v. Agha Syed Liaqat Ali)
2015 SCMR 1401 (Rana Tanveer Khan v. Naseer-ud-Din)
2026 SCMR 287 (Gul Tiaz Khan Marwat v. Registrar, Peshawar High Court)
PLD 2016 SC 421
PLD 2023 SC 588
اس فیصلے سے قائم ہونے والے اہم قانونی اصول (Golden Principles)
Order XVII Rule 3 CPC ایک سزائی شق ہے، اس کی سخت تشریح کی جائے گی۔
اگر پچھلی تاریخ فریق کی درخواست پر نہ ہو تو اس شق کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔
صرف زیادہ تاریخیں ملنے سے کسی فریق کا حقِ شہادت ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت یا وکلاء کی ہڑتال کی وجہ سے ہونے والی تاخیر کا نقصان فریق کو نہیں پہنچایا جا سکتا۔
اگر عدالتی حکم میں ریکارڈ پر واضح قانونی غلطی موجود ہو تو Review قابلِ سماعت ہوتی ہے، چاہے اپیل کا حق بھی موجود ہو۔
عدالتی صوابدید (Judicial Discretion) ہمیشہ قانون اور انصاف کے مطابق استعمال ہونی چاہیے۔
غیر ضروری التواء سے انصاف میں تاخیر ہوتی ہے، اس لیے عدالتوں اور وکلاء دونوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مقدمات بروقت چلائیں۔
مرتب: Adv Mahboob Ali