Advocate Asad Nawaz Tullah

Advocate Asad Nawaz Tullah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Advocate Asad Nawaz Tullah, Criminal lawyer, Opposite Family Courts offc. 35, Sahiwal.

This page just to inform uh Basic laws in Pakistan...
If uh have any type of queries then uh people can contact with me or visit my office Al-Sadiq law associates Chamber 35 opposite Family Court Sahiwal

لاہور ہائی کورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں مجسٹریٹس کی جانب سےاینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیانات ریکارڈ کرنے...
07/06/2026

لاہور ہائی کورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں مجسٹریٹس کی جانب سےاینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیانات ریکارڈ کرنے کے روایتی انداز پر اہم ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر دفعہ 164 کا بیان مروجہ طریقہ کار (ویڈیو ریکارڈنگ اور جرح کے موقع) کے بغیر ریکارڈ کیا جائے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔
لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کا یہ فیصلہ ایک ملزم، **سونارا خان عرف سونہارا خان**، کی بعد از گرفتاری ضمانت (Post-arrest Bail) کی منظوری سے متعلق ہے، جس پر ایک نابالغ لڑکی سے جنسی بدسلوکی (سیکشن 377-B تعزیراتِ پاکستان - PPC) کا الزام تھا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے درج ذیل اہم نکات اور قانونی اصولوں کی وضاحت کی ہے:
# # # 1۔ کیس کا پس منظر اور الزامات
* **ایف آئی آر (FIR) کا موقف:** متاثرہ لڑکی کی ماں (شکایت کنندہ) کے مطابق، 12 جولائی 2025ء کو اس کی 14/15 سالہ بیٹی (K.B.) گنے کے کھیت میں چارہ کاٹ رہی تھی کہ ملزم سونارا خان اور اس کے ساتھی طاہر نے اسے اکیلا پا کر نازیبا اشارے کیے، ہراساں کیا اور اس کے نازک اعضاء کو ہاتھ لگایا۔ لڑکی کے شور مچانے پر جب گھر والے پہنچے تو ملزم فرار ہو گئے۔
* **سیکشن 161 کا بیان:** پولیس تفتیش کے دوران لڑکی اور گواہان نے پہلے اسی کہانی کی تصدیق کی۔
# # # 2۔ ملزم کے وکیل کا مؤقف اور تضاد
ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم بے گناہ ہے اور اسے جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ جب مجسٹریٹ کے سامنے لڑکی کا **دفعہ 164 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کے تحت بیان** ریکارڈ کیا گیا، تو اس نے بالکل الگ کہانی سنائی۔
> **لڑکی کا دفعہ 164 کا بیان:** لڑکی نے مجسٹریٹ کو بتایا کہ ملزم نے صرف اس کی کلائی پکڑی تھی اور اسے پیسے دکھائے تھے، جس پر اس نے شور مچا دیا۔ اس بیان میں نازک اعضاء کو چھونے یا جنسی بدسلوکی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
>
# # # 3۔ عدالت کی قانونی تشریحات (دفعہ 164 اور اینٹی ریپ ایکٹ 2021)
عدالت نے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے جانے والے بیانات کی قانونی حیثیت پر تفصیلی روشنی ڈالی:
* **بغیر جرح کے بیان کی حیثیت:** اگر دفعہ 164 کا بیان ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا جائے اور ملزم کے وکیل کو جرح (Cross-examination) کا موقع نہ ملے، تو اسے ٹرائل کے دوران بنیادی ثبوت (Substantive Evidence) کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اسے تفتیشی ریکارڈ کا حصہ مانا جائے گا اور ضمانت کے مرحلے پر تضاد پرکھنے کے لیے دیکھا جا سکتا ہے۔
* **اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کی خلاف ورزی:** عدالت نے نوٹ کیا کہ اینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیان لازمی طور پر **ویڈیو ریکارڈ** ہونا چاہیے اور ملزم کے وکیل کو **جرح کا موقع** ملنا چاہیے، لیکن اس کیس میں مجسٹریٹ نے ان دونوں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔
# # # 4۔ عدالت کا فیصلہ اور ضمانت کی وجہ
عدالت نے پایا کہ ایف آئی آر اور لڑکی کے دفعہ 164 کے بیان میں **شدید تضاد** ہے۔
* سیکشن 377-B (جنسی بدسلوکی) صرف تب لاگو ہوتا ہے جب چھونا، ٹٹولنا یا کوئی فحش حرکت ثابت ہو۔ جبکہ لڑکی کے اپنے بیان کے مطابق ملزم نے صرف ہاتھ پکڑا، جو کہ دفعہ 354 PPC (عورت کی حیا پر حملہ) کے زمرے میں آ سکتا ہے اور یہ ایک قابلِ ضمانت (Bailable) جرم ہے۔
* اس تضاد کی وجہ سے عدالت نے قرار دیا کہ کیس مزید انکوائری/تفتیش کا محتاج ہے (**Further Inquiry** تحت دفعہ 497(2) Cr.P.C)۔ چنانچہ عدالت نے ملزم کی ضمانت **2 لاکھ روپے** کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔
# # # 5۔ مجسٹریٹوں کے لیے اہم ہدایات
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پنجاب میں مجسٹریٹ دفعہ 164 کے بیانات روایتی اور لاپرواہی کے انداز میں ریکارڈ کرتے ہیں۔ عدالت نے پنجاب کے تمام سیشن ججز کو درج ذیل احکامات جاری کیے:
1. مجسٹریٹ بیانات کو گواہ یا متاثرہ کے اپنے الفاظ میں لکھیں، نہ کہ لکھی لکھائی قانونی زبان میں۔
2. اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ملزم کے وکیل کو جرح کا موقع دینے کے قانون پر سختی سے عمل کرایا جائے۔
3. سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، ریپ یا جنسی زیادتی کی متاثرہ خواتین کے بیانات ترجیحی طور پر **خاتون مجسٹریٹ** کے سامنے ہی ریکارڈ کیے جائیں۔

In the court of Justice Tariq Nadeem Sheikh
18/05/2026

In the court of Justice Tariq Nadeem Sheikh

Finally   Near pull 134/ 9L
03/05/2026

Finally

Near pull 134/ 9L

لاہور ہائی کورٹ نے سائلین کی بائیو میٹرک ویری فیکیشن کیلیے باقاعدہ ایس او پیز جاری کردیے۔Asad nawaz tullah advocate high...
13/03/2026

لاہور ہائی کورٹ نے سائلین کی بائیو میٹرک ویری فیکیشن کیلیے باقاعدہ ایس او پیز جاری کردیے۔
Asad nawaz tullah advocate high court
office 35 District court sahiwal
03064422710

17 دن بعد نئ گاڈی گاڑی جل کر راکھ۔ملک اسحاق احمد نامی شخص نے 15 جنوری 2010 کو ایک نئی Toyota Corolla XLI خریدی۔گاڑی نئی ...
10/03/2026

17 دن بعد نئ گاڈی گاڑی جل کر راکھ۔

ملک اسحاق احمد نامی شخص نے 15 جنوری 2010 کو ایک نئی Toyota Corolla XLI خریدی۔
گاڑی نئی تھی، کمپنی کی تھی-

لیکن صرف 17 دن بعد ۔ وہ اپنی زمین پر کام کر رہے تھے کہ اچانک گاڑی کے ڈیش بورڈ سے دھواں نکلنا شروع ہوگیا۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ پوری گاڑی جل گئی ,مالک کا ہاتھ بھی جل گیا.

یعنی نئی گاڑی صرف 17 دن میں مکمل تباہ۔

ملک اسحاق نے کمپنی سے کہا:

یا تو ,نئی گاڑی دیں, یا پیسے واپس کریں اور نقصان کا معاوضہ بھی دیں
لیکن کمپنی نے ذمہ داری لینے سے انکار کردیا۔
لہٰذا انہوں نے کیس دائر کردیا Consumer Court میں-

کنزیومر کورٹ کا فیصلہ
کنزیومر کورٹ نے فیصلہ دیا:

کمپنی:
گاڑی کی قیمت 12,69,000 روپے واپس کرے
10٪ مارک اپ دے ,وکیل فیس اور خرچہ بھی ادا کرے

کمپنی اس فیصلے سے خوش نہیں تھی۔
لہٰذا انہوں نے اپیل کی
ہائی کورٹ میں۔

عدالت نے کیا کیا؟

عدالت نے سچ جاننے کے لئے ماہرین سے گاڑی کا معائنہ کروایا۔
دو ماہرین نے گاڑی کا جائزہ لیا۔

انہوں نے:
تصاویر لیں ,فیوز باکس کا معائنہ کیا
گاڑی کے تمام حصے دیکھے.

ماہرین کی رپورٹ نے حیران کن حقیقت بتائی۔

انہوں نے کہا:

گاڑی میں کوئی بعد کی تبدیلی نہیں تھی۔

مثلاً:

کمپنی کا دعویٰ تھا کہ:
پاور ونڈوز لگائی گئی تھیں۔
لیکن معائنے میں پتہ چلا:

گاڑی میں ابھی بھی اصل دستی ونڈوز (Manual Windows) ہی موجود تھیں۔یعنی کمپنی کا دعویٰ غلط ثابت ہوا۔

ماہرین نے نتیجہ دیا:

گاڑی کے فیوز باکس اور ریلے میں مینوفیکچرنگ فالٹ تھا۔

اسی خرابی کی وجہ سے:
شارٹ سرکٹ ہوا ,آگ لگی ,پوری گاڑی جل گئی
یعنی مسئلہ کمپنی کی مینوفیکچرنگ خرابی تھا۔

عدالت نے کہا:

اگر کوئی چیز کمپنی کی بنائی ہوئی ہو اور اس میں مینوفیکچرنگ خرابی ہو
تو وہ چیز Defective Product کہلاتی ہے۔

اور قانون کے مطابق:کمپنی اس کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

عدالت کا دلچسپ جملہ

عدالت نے ایک خوبصورت بات لکھی:
“Cars in our economy are lifelong assets

یعنی:

ہمارے معاشرے میں گاڑی ایک بڑی اور قیمتی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔
لوگ بڑی امید سے گاڑی خریدتے ہیں۔

یہ کیس پاکستان میں کنزیومر رائٹس کے لئے بہت اہم ہے۔

یہ بتاتا ہے کہ:
بڑی کمپنی بھی قانون سے بالاتر نہیں
اگر چیز خراب ہو تو صارف انصاف لے سکتا ہے
عدالتیں صارف کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں

Share for information and awareness

in Sha Allah zafar warraich sb general secretarymultan high court
28/02/2026

in Sha Allah zafar warraich sb general secretary
multan high court

نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌWish uh very   luck Sir. In Sha     for G.S High Court Multan.I humbly   all my   &...
28/02/2026

نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
Wish uh very luck Sir. In Sha for G.S High Court Multan.
I humbly all my & to plz support & cast ur vote in favor of warraich sb for the position of Secretary. ur support & trust will be highly appreciated.

Once a Advocate accepts a fee the burden of professional responsibility also rests upon him obligating him to appear bef...
22/01/2026

Once a Advocate accepts a fee the burden of professional responsibility also rests upon him obligating him to appear before the court at the appointed time
regardless of distance,inconvenience or circumstances. 🙌

15/01/2026

خلع کی ڈگری فیملی کورٹ سے جاری ہونے کے بعد بھی قانونی طور پر طلاق اس وقت مکمل اور مؤثر سمجھی جاتی ہے جب یونین کونسل سے باقاعدہ طلاق سرٹیفکیٹ جاری ہو جائے۔ خلع ڈگری ملنے کے بعد عدالت کے فیصلے کی مصدقہ نقل متعلقہ یونین کونسل میں جمع کروائی جاتی ہے، جہاں سے شوہر کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ مقررہ قانونی مدت (90 دن) مکمل ہونے کے بعد یونین کونسل طلاق مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔ اس طلاق سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر خاتون اپنے شناختی کارڈ، نادرا ریکارڈ، پاسپورٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات میں شوہر کا نام ختم کروا کر والد کے نام پر تصحیح کروا سکتی ہے۔ خلع کی ڈگری کے بغیر یا یونین کونسل کے سرٹیفکیٹ کے بغیر طلاق قانونی طور پر مکمل تصور نہیں ہوتی، اس لیے درست اور قانونی طریقہ اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔

After the Khula decree is granted by the Family Court, the divorce becomes legally effective only when a Divorce Certificate is issued by the Union Council. Upon receiving the Khula decree, a certified copy of the court order is submitted to the concerned Union Council, which then issues a notice to the husband. After completion of the mandatory legal period of 90 days, the Union Council issues the effective Divorce Certificate. On the basis of this certificate, the woman can update her CNIC, NADRA record, passport, and other official documents by removing the husband’s name and restoring her father’s name. Without the Union Council’s Divorce Certificate, the divorce is not considered legally complete; therefore, following the proper legal procedure is essential.



Asad nawaz tullah advocate high court

Address

Opposite Family Courts Offc. 35
Sahiwal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Asad Nawaz Tullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Advocate Asad Nawaz Tullah:

Shortcuts

Share