07/06/2026
لاہور ہائی کورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں مجسٹریٹس کی جانب سےاینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیانات ریکارڈ کرنے کے روایتی انداز پر اہم ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر دفعہ 164 کا بیان مروجہ طریقہ کار (ویڈیو ریکارڈنگ اور جرح کے موقع) کے بغیر ریکارڈ کیا جائے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔
لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کا یہ فیصلہ ایک ملزم، **سونارا خان عرف سونہارا خان**، کی بعد از گرفتاری ضمانت (Post-arrest Bail) کی منظوری سے متعلق ہے، جس پر ایک نابالغ لڑکی سے جنسی بدسلوکی (سیکشن 377-B تعزیراتِ پاکستان - PPC) کا الزام تھا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے درج ذیل اہم نکات اور قانونی اصولوں کی وضاحت کی ہے:
# # # 1۔ کیس کا پس منظر اور الزامات
* **ایف آئی آر (FIR) کا موقف:** متاثرہ لڑکی کی ماں (شکایت کنندہ) کے مطابق، 12 جولائی 2025ء کو اس کی 14/15 سالہ بیٹی (K.B.) گنے کے کھیت میں چارہ کاٹ رہی تھی کہ ملزم سونارا خان اور اس کے ساتھی طاہر نے اسے اکیلا پا کر نازیبا اشارے کیے، ہراساں کیا اور اس کے نازک اعضاء کو ہاتھ لگایا۔ لڑکی کے شور مچانے پر جب گھر والے پہنچے تو ملزم فرار ہو گئے۔
* **سیکشن 161 کا بیان:** پولیس تفتیش کے دوران لڑکی اور گواہان نے پہلے اسی کہانی کی تصدیق کی۔
# # # 2۔ ملزم کے وکیل کا مؤقف اور تضاد
ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم بے گناہ ہے اور اسے جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ جب مجسٹریٹ کے سامنے لڑکی کا **دفعہ 164 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کے تحت بیان** ریکارڈ کیا گیا، تو اس نے بالکل الگ کہانی سنائی۔
> **لڑکی کا دفعہ 164 کا بیان:** لڑکی نے مجسٹریٹ کو بتایا کہ ملزم نے صرف اس کی کلائی پکڑی تھی اور اسے پیسے دکھائے تھے، جس پر اس نے شور مچا دیا۔ اس بیان میں نازک اعضاء کو چھونے یا جنسی بدسلوکی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
>
# # # 3۔ عدالت کی قانونی تشریحات (دفعہ 164 اور اینٹی ریپ ایکٹ 2021)
عدالت نے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے جانے والے بیانات کی قانونی حیثیت پر تفصیلی روشنی ڈالی:
* **بغیر جرح کے بیان کی حیثیت:** اگر دفعہ 164 کا بیان ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا جائے اور ملزم کے وکیل کو جرح (Cross-examination) کا موقع نہ ملے، تو اسے ٹرائل کے دوران بنیادی ثبوت (Substantive Evidence) کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اسے تفتیشی ریکارڈ کا حصہ مانا جائے گا اور ضمانت کے مرحلے پر تضاد پرکھنے کے لیے دیکھا جا سکتا ہے۔
* **اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کی خلاف ورزی:** عدالت نے نوٹ کیا کہ اینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیان لازمی طور پر **ویڈیو ریکارڈ** ہونا چاہیے اور ملزم کے وکیل کو **جرح کا موقع** ملنا چاہیے، لیکن اس کیس میں مجسٹریٹ نے ان دونوں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔
# # # 4۔ عدالت کا فیصلہ اور ضمانت کی وجہ
عدالت نے پایا کہ ایف آئی آر اور لڑکی کے دفعہ 164 کے بیان میں **شدید تضاد** ہے۔
* سیکشن 377-B (جنسی بدسلوکی) صرف تب لاگو ہوتا ہے جب چھونا، ٹٹولنا یا کوئی فحش حرکت ثابت ہو۔ جبکہ لڑکی کے اپنے بیان کے مطابق ملزم نے صرف ہاتھ پکڑا، جو کہ دفعہ 354 PPC (عورت کی حیا پر حملہ) کے زمرے میں آ سکتا ہے اور یہ ایک قابلِ ضمانت (Bailable) جرم ہے۔
* اس تضاد کی وجہ سے عدالت نے قرار دیا کہ کیس مزید انکوائری/تفتیش کا محتاج ہے (**Further Inquiry** تحت دفعہ 497(2) Cr.P.C)۔ چنانچہ عدالت نے ملزم کی ضمانت **2 لاکھ روپے** کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔
# # # 5۔ مجسٹریٹوں کے لیے اہم ہدایات
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پنجاب میں مجسٹریٹ دفعہ 164 کے بیانات روایتی اور لاپرواہی کے انداز میں ریکارڈ کرتے ہیں۔ عدالت نے پنجاب کے تمام سیشن ججز کو درج ذیل احکامات جاری کیے:
1. مجسٹریٹ بیانات کو گواہ یا متاثرہ کے اپنے الفاظ میں لکھیں، نہ کہ لکھی لکھائی قانونی زبان میں۔
2. اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ملزم کے وکیل کو جرح کا موقع دینے کے قانون پر سختی سے عمل کرایا جائے۔
3. سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، ریپ یا جنسی زیادتی کی متاثرہ خواتین کے بیانات ترجیحی طور پر **خاتون مجسٹریٹ** کے سامنے ہی ریکارڈ کیے جائیں۔