25/04/2020
2018 SCMR 427
PLD 2009 SC 751
PLD 1963 Lahore 534
PLD 1953 Lahore 554
نان کسٹوڈیل والد اور گارڈین شپ سرٹیفکٹ کا حصول.
Non custodian father and guardian ship certificate
جیسے عام حالات میں والدین کا اپنے بچوں کی تعلیم تربیت, نشوونماء اور دیکھ بھال کی الگ الگ زمہ داریاں متعین ہوتی ہیں اسی طرح زوجین کے درمیان طلاق یا خلع کی صورت میں ان کی زمہ داریاں تقسیم ہوجاتی ہیں. ماں پر بچوں کے دیکھ بھال اور نشوونماء کی زمہ داری ہوتی ہے اور والد نان و نفقہ سمیت دیگر اہم فیصلے لینے کا مجاز ہوتا ہے. والد اپنے بچوں کے تعلیم, صحت, معاشرتی و دینی تربیت, روزمرہ نگرانی اور سفری معاملات جیسے فیصلہ سازی کے حق سے محروم نہیں ہوجاتا ہے بلکہ باپ بچوں کا حضانت نہ رکھنے کے باوجود قانونی و فطری گارڈین برقرار رہتا ہے اور وہ گارڈین ہونے کے تمام اختیارات بھی استعمال کرسکتے ہیں بلکہ باپ کے پاس یہ اختیار رہتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم, صحت, روزمرہ نگرانی, نان و نفقہ, تعلیمی اور دینی تربیت سمیت دیگر اہم فیصلے خود لے اور باپ کا یہ حق بچوں کا حضانت والدہ کے پاس رہنے سے ختم نہیں ہوجاتی. گارڈین اینڈ وارڈ ایکٹ 1890 کی شق (b)19 کے تحت گارڈین کورٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے نابالغ بچے کا گارڈین منتخب کرے جس کا والد زندہ ہو اور کورٹ کی راے میں وہ ان فٹ بھی نہیں ہو. یہ سیکشن والد کی گارڈین شپ کو تسلیم کرتا ہے اور اسلام کے اصولوں پر مبنی ہے. باپ کو وہ تمام اختیارات حاصل ہیں جو کورٹ کی طرف سے مقررکردہ گارڈین کے پاس ہوتے ہیں. لیکن والدین کے درمیان علیحدگی کی صورت میں چونکہ بچون کی حضانت اکثر ماں کے پاس رہتی ہے اور اکثر کسٹوڈیل والدہ بچوں کے باپ کو گارڈین شپ کے کردار ادا کرنے سے محروم کردیتی ہے اور یہ فیصلے خود لینا شروع کردیتی ہے اور باپ کا کردار محض نان و نفقہ ادا کرنے تک محدود ہوجاتا ہے. باپ بچوں کو اپنی مرضی کے سکول میں داخل نہیں کرواسکتا, بچوں کو علاج کے لے اپنی مرضی کے ہسپتال نہیں لے جاسکتا, بچوں کی ٹیوشن وغیرہ کے مطلق فیصلہ نہیں کرسکتا, بچوں کی روزمرہ مصروفیات کی نگرانی نہیں کرسکتا, بچوں کی معمول کی خیال داری نہیں کرسکتا, بچوں کے تعلیمی ریکارڈ تک رسائی نہیں ہوتی اور بچوں کی سفر و دیگر اہم فیصلے بھی کرنے سے یکسر محروم کردی جاتی ہے. مغربی پاکستان مسلم پرسنل لاء شریعت اپلیکش ایکٹ 1962 کے دفعات کے تحت اگر فریقین مسلمان ہوں تو ان کے درمیان بچوں کی گارڈین شپ کے معاملات مسلم پرسنل لاء کے تحت نمٹاے جائیں گے اور اسلامی قانون کے مطابق والدہ کی حضانت ہمیشہ باپ کی کنٹرول اور نگرانی سے مشروط ہوتی ہے. اصل یعنی تعمیری حضانت ہمیشہ والد کے پاس رہتی ہے چاہے جسمانی حضانت والدہ کے پاس ہی کیوں نہ ہو. باپ اپنے بچوں کا قانونی گارڈین اور ولی ہوتا ہے. لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک فیصلے PLD 1953 Lah. 554 میں یہ اصول واضع کی ہے کہ اگر والد زندہ ہے اور ان فٹ بھی نہیں ہے تو والد کو واضع واشگاف الفاظ میں اپنے بچوں کا فطری و قانونی گارڈین قرار دینا چاہئے. پاکستان میں عدالتیں واحد اور آخری فیصلہ ساز ادارے ہوتے ہیں اور شہریوں کے درمیان کسی بھی متنازعہ معاملے کو حل کرکے فریقین کی حقوق کا تعین کرتے ہیں. اور جب والدین میں علیحدگی ہو تو عدالتوں کی مداخلت کے بغیر باپ اپنے بچوں کا فطری و قانونی گارڈین ہونے کے باوجود اپنے نابالغ بچوں کی اہم فیصلے نہیں کرسکتا ہے. یہاں تک کہ باپ کو اپنے بچوں کے سکول میں ٹیچرز سے میٹنگ تک کی اجازت نہیں ہوتی ہے. جبکہ ماں جب چاہے باپ کے خلاف بچوں کی خرچے کے بابت اضافے کا دعوی اور سکول فیس کا کیس کرسکتی ہے. اسلامی قانون کے مطابق باپ اپنے بچوں کا ولی اور قانونی گاڈین ہوتا ہے جبکہ ماں کے پاس محض جسمانی حضانت رکھنے کا حق ایک مخصوص مدت تک ہوتی ہے اور اس مدت کے بعد ماں کو بچوں کا حضانت قانونی گارڈین یعنی والد کو واپس کرنا ہوتی ہے. گارڈین شپ سرٹیفکٹ ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے جو کورٹ کسی کو نابالغ کا گارڈین منتخب کرتے وقت دے دیتا ہے. اور گارڈین شپ سرٹیفکٹ کو ملکیت کی دیکھ بھال, تعلیم, صحت, بین الاقوامی سفری معاملات, شناختی کارڈ, بے فارم, پاسپورٹ سمیت دیگر معاملات کے لے استعمال کیا جاتا ہے. چونکہ جب کسی نابالغ کا والد زندہ ہوتو کورٹ کسی کو گارڈین منتخب نہیں کرسکتی اس لے باپ ہی قانونی گارڈین برقرار رہتا ہے اور باپ اپنے حق کے طور پر عدالت سے گارڈین شپ سرٹیفکٹ جاری کرنے کا استدعا کر سکتا ہے. اس کے لے باپ کو حصول گارڈین شپ سرٹیفکٹ کا درخواست گارڈین کورٹ میں دائر کرنا ہوتا ہے. عدالت درخواست کو رجسٹر کرنے کے بعد مخالف فریقین کو نوٹس کرتی ہے اور عوام الناس کے لے اخبار میں اشتہار دیتی ہے. اگر نوٹس یا اشتہار کے جواب میں کوئی حاضر ہوا تو اس کو جواب داخل کرنے کا کہا جاتا ہے .جواب دعویٰ داخل ہونے کے بعد عدالت گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرتی ہے اور پھر دلائل سن کر فیصلہ صادر کرکے گارڈین شپ سرٹیفکٹ والد کے حق میں جاری کرے گی. اس متعلق گارڈین ججز کو قانون سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اکثر والد کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کی جاتی ہے جو کہ غیر قانونی اقدام ہے. لاہور ہائیکورٹ کے ایک اور فیصلے PLD 1963 Lahore 534 میں یہ اصول واضع کیا گیا ہے کہ ماں کی حضانت کے دوران باپ کا گارڈین شپ کا رول برقرار رہے گی اور ماں کے پاس حضانت والد کی گارڈین فیصلوں اور رول سے مشروط ہوگی اس کا مطلب ہے کہ ماں کے پاس حضانت غیر مشروط نہیں بلکہ یہ حضانت باپ کی نگرانی اور فیصلوں سے مشروط ہے. سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک فیصلے PLD 2009 S.C 751 میں قرار دیا ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق ماں صرف ایک مخصوص عمر تک بچوں کی حضانت کا مستحق ہے لیکن وہ بچوں کی فطری گارڈین نہیں ہے اور باپ صرف بچوں کی فطری گارڈین ہے اگر والد فوت ہوجائے تو دادا قانونی گارڈین بن جاتا ہے. سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک حالیہ فیصلے 2018 SCMR 427 میں قرار دیا ہے کہ باپ/والد پر عدالت سے گارڈین شپ سرٹیفکٹ لینے کےلیے درخواست دینے پر کوئی قانونی پابندی نہیں بشرطیکہ یہ اچھی نیت سے کی جاری ہو. اسلام میں والد کو اپنے بچوں کا ولی قرار دیا گیا ہے. عربی میں ولی کا مطلب حفاظت کرنے والا, مدد کرنے والا یا ایک انسان جو اللہ پاک کے قریب ہو یا ایک مقدس انسان جبکہ دوسرے معنوں میں ولی کا مطلب گارڈین یا مجاز شخص ہوتا ہے. اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ والد بچوں کا حقیقی, قانونی, تعمیری, و فطری گارڈین ہوتا ہے اور والد کا یہ حق بچوں کی حضانت ماں کے پاس ہونے سے ختم نہیں ہوتا بلکہ والدہ کی حق حضانت اس بات سے مشروط ہوگی کہ والد اپنے بچوں کو نان و نفقہ دینے کے ساتھ بچوں کے تمام اہم فیصلے یعنی بچہ کس سکول میں پڑھے گا, کونسا ٹیوشن سینٹر جاے گا, بیماری یا کسی حادثے کی صورت میں کس ہسپتال سے علاج ہوگا, باپ کی اجازت سے سفر کرے گا, اور باپ کو اپنے بچے کی روزمرہ سرگرمیوں کی نگرانی کا حق اور تعلیمی ریکارڈ تک مکمل رسائی حاصل ہوگی اور بچے کی منگنی, شادی وغیرہ سب باپ کی رضامندی سے کی جاے گی. ان سمیت دیگر تمام اہم فیصلے باپ کرے گا.
موجودہ صورتحال میں اسلامی و جدید قانون سے ناواقفیت کی وجہ سے بہت کم نان کسٹوڈیل والد گارڈین شپ سرٹیفکٹ کے حصول کے لے عدالتوں کا رخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی نگرانی, تربیت, تعلیم اور صحت سمیت دیگر فیصلوں سے محروم ہوجاتے ہیں اور کسٹوڈیل والدہ بچوں پر بلاغیرے تسلط قائم کرلیتی ہے اور باپ کو بچوں کی زندگی سے بے دخل کرکے بچوں کو باپ کی شفقت اور نگرانی سے محروم کردیتی ہے. چونکہ ہماری عدالتوں میں باپ کے حق میں گارڈین شپ سرٹیفکٹ جاری کرنے کا اتنا رحجان نہیں ہے اور جج صاحبان بھی ایسے درخواست کو اناء کی تسکین کے لے دوسرے فریق کو تنگ کرنے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہیں اس لے نان کسٹوڈیل باپ گارڈین شپ سرٹیفکٹ کی حصول کے لے درخواست دینے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں تاہم اس رحجان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لے نان کسٹوڈیل والد صاحبان کو درخواستیں دینی چاہئے تاکہ اسلام نے جو حقوق والد کو دی ہے وہ والد صاحب اپنے بچوں کی وسیع تر فلاح و بہبود میں استعمال کرسکیں.
گارڈین شپ سرٹیفکٹ کے حصول سے ایک نان کسٹوڈیل والد کے پاس ایک قانونی دستاویز آجاتا ہے جس کو استعمال کرکے قانونی گارڈین یعنی والد اپنے حق کا استعمال کرتا ہے اور اپنے بچوں کی سکول اور ٹیوشن سینٹر کا انتخاب کرسکتے ہیں, بچوں کی صحت سے متعلق فیصلے لے سکتے ہیں اور سب سے اہم بات کسٹوڈیل والدہ بچوں کو والد کی اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہیں لے جاسکیں گے اور آپ اپنے بچوں کی روزمرہ معمولات کی نگرانی بھی کرسکیں گے. اس کے ساتھ مستقبل میں بچوں کی حوالگی کے مقدمات میں بھی یہ آپ کے لے کارآمد ثابت ہوسکتی ہے.
پاکستان کی دستور 1973 کے آرٹیکل 2 کے تحت اسلام ملک کا سرکاری مذہب ہے اور اسلام سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا ہے اور آرٹیکل 31 میں یہ ضمانت دی گئی ہے کہ ریاست ایسے ضوابط طے کرے گی تاکہ لوگ اسلام کے مطابق زندگی بسر کرسکیں تو محمڈن لاء کے مطابق والد اپنے بچوں کا ولی ہے یعنی قانونی گارڈین ہے اس لے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلام و قانون میں دیے گئے اپنے حقوق کے لے آواز بلند کریں اور عدالتون کے زریعے یہ حقوق حاصل کرلیں تاکہ ایک والد صرف نام کے حد تک فطری و قانونی گارڈین نہ کہلاے بلکہ وہ اپنے قانونی گارڈین ہونے کا عملی مظاہرہ بھی کرسکے جو کہ طلاق یا علیحدگی سے متاثرہ لاکھوں بچوں کی بہتر فلاح و بہبود کی ضامن ہے.