Family Lawyer

Family Lawyer A leading law firm deals in Family Law Banking law Civil Criminal Arbitration Company and Firm Registration
[email protected]
0334-666572

30/01/2025
Court Marriage & Family Lawyer , Corporate Lawyer, Tax, Civil, CriminalRawalpindi Islamabad0334 6666572
11/04/2023

Court Marriage & Family Lawyer , Corporate Lawyer, Tax, Civil, CriminalRawalpindi Islamabad
0334 6666572

Find lokale virksomheder, se kort og få rutevejledninger i Google Maps.

24/07/2021

Family Courts in Punjab shall remain closed from 01.08.2021 to 01.09.2021 (0334-6666572)

20/06/2021

0334-6666572
Talaq by husband residing abroad
Procedure.

PLD 2020 Lahore 679

Where husband is not a Pakistani National or even if both husband and wife are not Pakistani national they can get divorce in Pakistan provided that the marriage is registered in Pakistan by adopting following procedure, in case of husband:-

1. Husband will send a power of attorney to his lawyer;

2. Power of attorney should be attested from the Pakistani embassy or consulate of the country where he is residing;

3. Where a lawyer receives the power of attorney, he will proceed according to law;

4. Proceedings of overseas divorce in Pakistan are conducted in Arbitration council

5. Minimum 90 days proceedings will be conducted by lawyer in arbitration council;

6. After the proceedings of overseas divorce in Pakistan, a divorce certificate will be issued by arbitration council and this certificate is considered as sole and only proof of divorce.
0334-6666572

16/06/2021

0334-6666572
اگر شوہر بیوی بچوں کو خرچہ نہیں دیتا اور تشدد بھی کرتا ہے تو کیا کیا جائے؟

پاکستانی قانون کے مطابق ایک شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی بچوں کی ضروریات زندگی کو پورا کرے اور گھر چلانے کے لیے خرچہ دے۔ ضروریات زندگی سے مراد کہ بیوی بچوں کے لیے مناسب کھانے پینے کا انتظام کرنا، رہنے کو گھر دینا چاہے کرایے کا ہی کیوں نہ ہو، پہننے کو کپڑے اور بچوں کی اچھی پرورش کے لیے ان کے لیے تعلیم کا بندوبست کرنا۔ یہ سب مرد کی ذمہ داری ہے جو قانون نے ایک مرد پر ڈالی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ہمیں اکثر و بیشتر کیسز دیکھنے کو ملتے ہیں کہ مرد ویلا نکما ہوتا ہے جو ایک روپیہ تک نہیں کماتا یا جو پیسے کماتا ہے وہ اپنی عیاشی میں خرچ کر دیتا ہے. بیوی بچے بھوک سے تڑپتے ہیں لیکن اس کو نہ پرواہ ہوتی ہے نہ ہی شرم تو

ایسے مرد کا کیا حل ہے؟

قانون کے مطابق ایک شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرے اگر وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا تو بیوی فیملی کورٹ میں Family Law ordinance 1961 کے سیکشن 9 کے تحت فیملی کورٹ میں دعویٰ نان و نفقہ کرسکتی ہے Family Law ordinance 1961 کے سیکشن 9 کے مطابق بیوی متعلقہ یونین کونسل میں درخواست بھی دے سکتی ہے متعلقہ یونین کونسل کا چئیرمین یا سیکرٹری ثالثی کونسل بنا دے گا جس میں بیوی اور شوہر کے نمائندے شامل ہوں گے جو شوہر کو پاپند کریں گے خرچہ دینے پر۔ اس کے علاوہ بیوی ڈائریکٹ فیملی کورٹ میں خرچے کا دعویٰ بھی کرسکتی ہے. دعویٰ نان و نفقہ میں بیوی عدالت کو بتائے گی کہ اس کا شوہر نہ اس کا نہ بچوں کا خیال رکھتا ہے. عدالت شوہر کو طلب کرے گی اور پہلی ہی پیشی میں کیس کا فیصلہ ہونے سے پہلے Family Court Act 1964 کے سیکشن 17A کے مطابق عبوری خرچہ بیوی اور بچوں کا آڈر کر دے گی جو شوہر ہر مہینے عدالت میں جج کے سامنے بیوی اور بچوں کا دینے کا پابند ہوگا اور جب بیوی عدالت میں اپنا کیس ثابت کر دے گی تو عدالت ڈگری کے ذریعے خرچہ مقرر کر دے گی جو شوہر دینے کا پابند ہو گا اگر شوہر خرچہ نہیں دیتا تو عدالت اس شوہر کی پراپرٹی بیچ کر بیوی اور بچوں کو خرچہ دلوائے گی اور اگر ضرورت پڑے تو شوہر کو جیل میں بھی بھیجوا سکتی ہے۔ یاد رہے دعویٰ نان و نفقہ میں بیوی گزشتہ سالوں کا خرچہ بھی مانگ سکتی ہے۔

شوہر تشدد کرتا ہے کیا کیا جائے؟

حقوق نسواں ایکٹ کے تحت

16/06/2021

0334-6666572
نکاح نامہ میں شوھر پر بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں ہرجانہ کی ادائیگی کی شرط غیر شرعی اور غیر قانونی ھے۔ اور عدالت طلاق دینے کی صورت میں نکاح نامہ میں درج معاوضہ طلاق شوہر کے خلاف ڈگری نہ کرسکتی ھے
PLJ 2021 Lahore 485
Conditions mentioned in Column No. 16 of Nikahnama--Claim of recovery of Rs.500,000/- by the respondent/plaintiff from the petitioner/defendant on the ground of second marriage--it was mentioned in the Clause 19--Allah Almighty in Holy Qur’an has delegated uncovenanted powers to the husband to pronounce Talaq to his wife in order to avoid any transgression of Islamic bounds--A husband has an absolute right to divorce his wife and in this regard no condition is described in the Sharia as well as in the codified
law--The husband has a right to divorce his wife from his free will and no condition can be imposed in this regard--The judgments of the learned Courts below to the extent of Issue No. 4 suffer from patent illegality and are liable to be set aside--

0334-6666572
22/01/2021

0334-6666572

16/12/2020

Find out more about Family Lawyer Rawalpindi Divorce & Court Marriage Islamabad, Banking and Civil Best Lawyers by following them on Google

25/04/2020

2018 SCMR 427
PLD 2009 SC 751
PLD 1963 Lahore 534
PLD 1953 Lahore 554

نان کسٹوڈیل والد اور گارڈین شپ سرٹیفکٹ کا حصول.
Non custodian father and guardian ship certificate
جیسے عام حالات میں والدین کا اپنے بچوں کی تعلیم تربیت, نشوونماء اور دیکھ بھال کی الگ الگ زمہ داریاں متعین ہوتی ہیں اسی طرح زوجین کے درمیان طلاق یا خلع کی صورت میں ان کی زمہ داریاں تقسیم ہوجاتی ہیں. ماں پر بچوں کے دیکھ بھال اور نشوونماء کی زمہ داری ہوتی ہے اور والد نان و نفقہ سمیت دیگر اہم فیصلے لینے کا مجاز ہوتا ہے. والد اپنے بچوں کے تعلیم, صحت, معاشرتی و دینی تربیت, روزمرہ نگرانی اور سفری معاملات جیسے فیصلہ سازی کے حق سے محروم نہیں ہوجاتا ہے بلکہ باپ بچوں کا حضانت نہ رکھنے کے باوجود قانونی و فطری گارڈین برقرار رہتا ہے اور وہ گارڈین ہونے کے تمام اختیارات بھی استعمال کرسکتے ہیں بلکہ باپ کے پاس یہ اختیار رہتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم, صحت, روزمرہ نگرانی, نان و نفقہ, تعلیمی اور دینی تربیت سمیت دیگر اہم فیصلے خود لے اور باپ کا یہ حق بچوں کا حضانت والدہ کے پاس رہنے سے ختم نہیں ہوجاتی. گارڈین اینڈ وارڈ ایکٹ 1890 کی شق (b)19 کے تحت گارڈین کورٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے نابالغ بچے کا گارڈین منتخب کرے جس کا والد زندہ ہو اور کورٹ کی راے میں وہ ان فٹ بھی نہیں ہو. یہ سیکشن والد کی گارڈین شپ کو تسلیم کرتا ہے اور اسلام کے اصولوں پر مبنی ہے. باپ کو وہ تمام اختیارات حاصل ہیں جو کورٹ کی طرف سے مقررکردہ گارڈین کے پاس ہوتے ہیں. لیکن والدین کے درمیان علیحدگی کی صورت میں چونکہ بچون کی حضانت اکثر ماں کے پاس رہتی ہے اور اکثر کسٹوڈیل والدہ بچوں کے باپ کو گارڈین شپ کے کردار ادا کرنے سے محروم کردیتی ہے اور یہ فیصلے خود لینا شروع کردیتی ہے اور باپ کا کردار محض نان و نفقہ ادا کرنے تک محدود ہوجاتا ہے. باپ بچوں کو اپنی مرضی کے سکول میں داخل نہیں کرواسکتا, بچوں کو علاج کے لے اپنی مرضی کے ہسپتال نہیں لے جاسکتا, بچوں کی ٹیوشن وغیرہ کے مطلق فیصلہ نہیں کرسکتا, بچوں کی روزمرہ مصروفیات کی نگرانی نہیں کرسکتا, بچوں کی معمول کی خیال داری نہیں کرسکتا, بچوں کے تعلیمی ریکارڈ تک رسائی نہیں ہوتی اور بچوں کی سفر و دیگر اہم فیصلے بھی کرنے سے یکسر محروم کردی جاتی ہے. مغربی پاکستان مسلم پرسنل لاء شریعت اپلیکش ایکٹ 1962 کے دفعات کے تحت اگر فریقین مسلمان ہوں تو ان کے درمیان بچوں کی گارڈین شپ کے معاملات مسلم پرسنل لاء کے تحت نمٹاے جائیں گے اور اسلامی قانون کے مطابق والدہ کی حضانت ہمیشہ باپ کی کنٹرول اور نگرانی سے مشروط ہوتی ہے. اصل یعنی تعمیری حضانت ہمیشہ والد کے پاس رہتی ہے چاہے جسمانی حضانت والدہ کے پاس ہی کیوں نہ ہو. باپ اپنے بچوں کا قانونی گارڈین اور ولی ہوتا ہے. لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک فیصلے PLD 1953 Lah. 554 میں یہ اصول واضع کی ہے کہ اگر والد زندہ ہے اور ان فٹ بھی نہیں ہے تو والد کو واضع واشگاف الفاظ میں اپنے بچوں کا فطری و قانونی گارڈین قرار دینا چاہئے. پاکستان میں عدالتیں واحد اور آخری فیصلہ ساز ادارے ہوتے ہیں اور شہریوں کے درمیان کسی بھی متنازعہ معاملے کو حل کرکے فریقین کی حقوق کا تعین کرتے ہیں. اور جب والدین میں علیحدگی ہو تو عدالتوں کی مداخلت کے بغیر باپ اپنے بچوں کا فطری و قانونی گارڈین ہونے کے باوجود اپنے نابالغ بچوں کی اہم فیصلے نہیں کرسکتا ہے. یہاں تک کہ باپ کو اپنے بچوں کے سکول میں ٹیچرز سے میٹنگ تک کی اجازت نہیں ہوتی ہے. جبکہ ماں جب چاہے باپ کے خلاف بچوں کی خرچے کے بابت اضافے کا دعوی اور سکول فیس کا کیس کرسکتی ہے. اسلامی قانون کے مطابق باپ اپنے بچوں کا ولی اور قانونی گاڈین ہوتا ہے جبکہ ماں کے پاس محض جسمانی حضانت رکھنے کا حق ایک مخصوص مدت تک ہوتی ہے اور اس مدت کے بعد ماں کو بچوں کا حضانت قانونی گارڈین یعنی والد کو واپس کرنا ہوتی ہے. گارڈین شپ سرٹیفکٹ ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے جو کورٹ کسی کو نابالغ کا گارڈین منتخب کرتے وقت دے دیتا ہے. اور گارڈین شپ سرٹیفکٹ کو ملکیت کی دیکھ بھال, تعلیم, صحت, بین الاقوامی سفری معاملات, شناختی کارڈ, بے فارم, پاسپورٹ سمیت دیگر معاملات کے لے استعمال کیا جاتا ہے. چونکہ جب کسی نابالغ کا والد زندہ ہوتو کورٹ کسی کو گارڈین منتخب نہیں کرسکتی اس لے باپ ہی قانونی گارڈین برقرار رہتا ہے اور باپ اپنے حق کے طور پر عدالت سے گارڈین شپ سرٹیفکٹ جاری کرنے کا استدعا کر سکتا ہے. اس کے لے باپ کو حصول گارڈین شپ سرٹیفکٹ کا درخواست گارڈین کورٹ میں دائر کرنا ہوتا ہے. عدالت درخواست کو رجسٹر کرنے کے بعد مخالف فریقین کو نوٹس کرتی ہے اور عوام الناس کے لے اخبار میں اشتہار دیتی ہے. اگر نوٹس یا اشتہار کے جواب میں کوئی حاضر ہوا تو اس کو جواب داخل کرنے کا کہا جاتا ہے .جواب دعویٰ داخل ہونے کے بعد عدالت گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرتی ہے اور پھر دلائل سن کر فیصلہ صادر کرکے گارڈین شپ سرٹیفکٹ والد کے حق میں جاری کرے گی. اس متعلق گارڈین ججز کو قانون سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اکثر والد کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کی جاتی ہے جو کہ غیر قانونی اقدام ہے. لاہور ہائیکورٹ کے ایک اور فیصلے PLD 1963 Lahore 534 میں یہ اصول واضع کیا گیا ہے کہ ماں کی حضانت کے دوران باپ کا گارڈین شپ کا رول برقرار رہے گی اور ماں کے پاس حضانت والد کی گارڈین فیصلوں اور رول سے مشروط ہوگی اس کا مطلب ہے کہ ماں کے پاس حضانت غیر مشروط نہیں بلکہ یہ حضانت باپ کی نگرانی اور فیصلوں سے مشروط ہے. سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک فیصلے PLD 2009 S.C 751 میں قرار دیا ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق ماں صرف ایک مخصوص عمر تک بچوں کی حضانت کا مستحق ہے لیکن وہ بچوں کی فطری گارڈین نہیں ہے اور باپ صرف بچوں کی فطری گارڈین ہے اگر والد فوت ہوجائے تو دادا قانونی گارڈین بن جاتا ہے. سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک حالیہ فیصلے 2018 SCMR 427 میں قرار دیا ہے کہ باپ/والد پر عدالت سے گارڈین شپ سرٹیفکٹ لینے کےلیے درخواست دینے پر کوئی قانونی پابندی نہیں بشرطیکہ یہ اچھی نیت سے کی جاری ہو. اسلام میں والد کو اپنے بچوں کا ولی قرار دیا گیا ہے. عربی میں ولی کا مطلب حفاظت کرنے والا, مدد کرنے والا یا ایک انسان جو اللہ پاک کے قریب ہو یا ایک مقدس انسان جبکہ دوسرے معنوں میں ولی کا مطلب گارڈین یا مجاز شخص ہوتا ہے. اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ والد بچوں کا حقیقی, قانونی, تعمیری, و فطری گارڈین ہوتا ہے اور والد کا یہ حق بچوں کی حضانت ماں کے پاس ہونے سے ختم نہیں ہوتا بلکہ والدہ کی حق حضانت اس بات سے مشروط ہوگی کہ والد اپنے بچوں کو نان و نفقہ دینے کے ساتھ بچوں کے تمام اہم فیصلے یعنی بچہ کس سکول میں پڑھے گا, کونسا ٹیوشن سینٹر جاے گا, بیماری یا کسی حادثے کی صورت میں کس ہسپتال سے علاج ہوگا, باپ کی اجازت سے سفر کرے گا, اور باپ کو اپنے بچے کی روزمرہ سرگرمیوں کی نگرانی کا حق اور تعلیمی ریکارڈ تک مکمل رسائی حاصل ہوگی اور بچے کی منگنی, شادی وغیرہ سب باپ کی رضامندی سے کی جاے گی. ان سمیت دیگر تمام اہم فیصلے باپ کرے گا.
موجودہ صورتحال میں اسلامی و جدید قانون سے ناواقفیت کی وجہ سے بہت کم نان کسٹوڈیل والد گارڈین شپ سرٹیفکٹ کے حصول کے لے عدالتوں کا رخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی نگرانی, تربیت, تعلیم اور صحت سمیت دیگر فیصلوں سے محروم ہوجاتے ہیں اور کسٹوڈیل والدہ بچوں پر بلاغیرے تسلط قائم کرلیتی ہے اور باپ کو بچوں کی زندگی سے بے دخل کرکے بچوں کو باپ کی شفقت اور نگرانی سے محروم کردیتی ہے. چونکہ ہماری عدالتوں میں باپ کے حق میں گارڈین شپ سرٹیفکٹ جاری کرنے کا اتنا رحجان نہیں ہے اور جج صاحبان بھی ایسے درخواست کو اناء کی تسکین کے لے دوسرے فریق کو تنگ کرنے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہیں اس لے نان کسٹوڈیل باپ گارڈین شپ سرٹیفکٹ کی حصول کے لے درخواست دینے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں تاہم اس رحجان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لے نان کسٹوڈیل والد صاحبان کو درخواستیں دینی چاہئے تاکہ اسلام نے جو حقوق والد کو دی ہے وہ والد صاحب اپنے بچوں کی وسیع تر فلاح و بہبود میں استعمال کرسکیں.
گارڈین شپ سرٹیفکٹ کے حصول سے ایک نان کسٹوڈیل والد کے پاس ایک قانونی دستاویز آجاتا ہے جس کو استعمال کرکے قانونی گارڈین یعنی والد اپنے حق کا استعمال کرتا ہے اور اپنے بچوں کی سکول اور ٹیوشن سینٹر کا انتخاب کرسکتے ہیں, بچوں کی صحت سے متعلق فیصلے لے سکتے ہیں اور سب سے اہم بات کسٹوڈیل والدہ بچوں کو والد کی اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہیں لے جاسکیں گے اور آپ اپنے بچوں کی روزمرہ معمولات کی نگرانی بھی کرسکیں گے. اس کے ساتھ مستقبل میں بچوں کی حوالگی کے مقدمات میں بھی یہ آپ کے لے کارآمد ثابت ہوسکتی ہے.
پاکستان کی دستور 1973 کے آرٹیکل 2 کے تحت اسلام ملک کا سرکاری مذہب ہے اور اسلام سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا ہے اور آرٹیکل 31 میں یہ ضمانت دی گئی ہے کہ ریاست ایسے ضوابط طے کرے گی تاکہ لوگ اسلام کے مطابق زندگی بسر کرسکیں تو محمڈن لاء کے مطابق والد اپنے بچوں کا ولی ہے یعنی قانونی گارڈین ہے اس لے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلام و قانون میں دیے گئے اپنے حقوق کے لے آواز بلند کریں اور عدالتون کے زریعے یہ حقوق حاصل کرلیں تاکہ ایک والد صرف نام کے حد تک فطری و قانونی گارڈین نہ کہلاے بلکہ وہ اپنے قانونی گارڈین ہونے کا عملی مظاہرہ بھی کرسکے جو کہ طلاق یا علیحدگی سے متاثرہ لاکھوں بچوں کی بہتر فلاح و بہبود کی ضامن ہے.

20/04/2020

Khula Procedure Through Special Power of Attorney
In case of a women living abroad and her marriage registered in Pakistan and she like to dissolve the marriage on the basis of Khula decree from Family Court. She have to appoint a person in Pakistan as Special Power of Attorney and get attestation from Nearest Pakistan High Commission / Embassy / Consulate and send following documents in hard copy via courier.

1. NICOP Copy
2. Passport Copy
3. Nikah Nama Copy
4. Special Power of AttorneyHere in Pakistan special Power of attorney re attest / counter signed from Ministry of Foreign Affairs and Suit filled in Family court.
Court order for summons to the second party and proceeding start after around 3-4 Months Family court issue Khula Decree.

for more info feel free to Call or whatsapp 0334 6666572

Address

District Courts
Rawalpindi
46000

Telephone

+923346666572

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Family Lawyer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Family Lawyer:

Share