22/04/2026
کچھ دن پہلے اس طرح کا اعتراضی بیان دیکھا سوشل میڈیا پر تو اسکا جواب درج ذیل ہے:-
اسلام میں اصل تخلیقی تقسیم مرد اور عورت کی ہے۔ لیکن اسلام نے اُن افراد کو بھی نظر انداز نہیں کیا جو پیدائشی طور پر دونوں اعضاء یا مبہم علامات کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جنہیں فقہ کی اصطلاح میں خنثی کہا جاتا ہے۔ فقہ اسلامی نے صدیوں پہلے اس مسئلے کو نہایت باریکی سے بیان کیا ہے، جب جدید میڈیکل سائنس بھی ان تفصیلات سے ناواقف تھی۔
خنثی کی تین شرعی صورتیں
خنثی غیر مشکل (مرد غالب علامات کے ساتھ)
اگر ظاہری علامات اور جسمانی ساخت مردانہ ہو تو وہ شرعاً مرد شمار ہوگا۔ اس پر نماز، روزہ، وراثت، پردہ اور نکاح سمیت تمام احکام مردوں والے جاری ہوں گے۔
خنثی غیر مشکل (عورت غالب علامات کے ساتھ)
اگر ظاہری علامات زنانہ ہوں تو وہ شرعاً عورت شمار ہوگی اور اس پر خواتین کے احکام جاری ہوں گے۔
خنثی مشکل (علامات مبہم ہوں)
اگر مرد و عورت میں سے کوئی علامت غالب نہ ہو تو: اس شخص کے باطنی میلان (جنس کی طرف فطری رغبت) کو دیکھا جائے گا۔
ماہر طبیب کی رائے لی جائے گی۔
پھر اسی کے مطابق اس کی جنس متعین کی جائے گی اور احکام جاری ہوں گے۔
یہ اصول فقہاء نے صدیوں پہلے بیان کیے۔
علاج اور سرجری کا حکم
اگر کسی خنثی میں ایک جنس کی علامات غالب ہوں مگر کچھ زائد اعضاء یا نقص اس کی طبعی شناخت میں رکاوٹ بن رہے ہوں تو علاج اور سرجری کے ذریعے انہیں درست کرنا جائز ہے۔
یہ ویسا ہی ہے جیسے. بانجھ پن کا علاج.جسمانی نقص کا علاج پیدائشی بیماریوں کا علاج
یہ جنس کی تبدیلی نہیں بلکہ فطری جنس کی درست تعیین ہے۔
نکاح کا حکم
اس بارے میں فقہاء نے صریح بحث کی ہے۔
المغنی میں امام ابن قدامہ لکھتے ہیں:
اگر خنثی مشکل خود کہے کہ میں مرد ہوں تو اسے عورت سے نکاح سے نہیں روکا جائے گا، اور بعد میں اس کے برخلاف نکاح کی اجازت نہیں ہوگی۔
اور اگر وہ کہے کہ میں عورت ہوں تو وہ صرف مرد سے نکاح کرے گی۔
فقہاء کی دلیل یہ ہے کہ:
باطنی میلان ایسا امر ہے جسے خود انسان ہی جانتا ہے۔
جیسے حیض اور عدت میں عورت کی بات معتبر ہوتی ہے، ویسے ہی یہاں خنثی کی بات معتبر ہوگی۔
جب ظاہری علامات فیصلہ نہ کریں تو باطنی فطرت فیصلہ کرے گی۔
*اسلام نے خنثی کو معاشرے سے خارج نہیں کیا
ان کے لیے عبادات، وراثت، پردہ، معاشرت اور نکاح تک کے احکام واضح کیےطبی علاج کی اجازت دی.ان کی نفسیاتی و جسمانی حقیقت کو تسلیم کیا
یہ سب اس وقت بیان ہوا جب دنیا میں اس موضوع پر کوئی علمی گفتگوموجودنہ تھی