فتنه الحاد Evil of Atheism

فتنه الحاد Evil of Atheism fraud prevention in ecommerce

افغانستان کو پاکستان نے کیسے تباہ کیا...؟تاریخ کا سب سے بڑا ظلم یہ نہیں کہ اسے جھوٹا لکھ دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا آ...
11/08/2026

افغانستان کو پاکستان نے کیسے تباہ کیا...؟
تاریخ کا سب سے بڑا ظلم یہ نہیں کہ اسے جھوٹا لکھ دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا آغاز ہی وہاں سے کیا جائے جہاں سے کسی کا مقدمہ مضبوط ہوتا ہو۔

آج جب بھی افغانستان کی تباہی کا ذکر آتا ہے تو ایک ہی جملہ بڑے اعتماد سے دہرایا جاتا ہے۔

"پاکستان نے افغانستان تباہ کیا۔"

مگر سوال یہ ہے کہ آخر کیسے؟

کیا افغانستان کا بحران پاکستان نے شروع کیا تھا؟

یا اس کی بنیاد کابل کے اقتدار کے ایوانوں میں برسوں پہلے رکھ دی گئی تھی؟

اگر واقعی تاریخ پڑھنی ہے تو پھر 1973 سے آغاز کریں، جہاں سے افغانستان کا موجودہ بحران شروع ہوا۔

اسی سال افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ کا تختہ الٹا گیا۔ یہ کام نہ پاکستانی فوج نے کیا، نہ پاکستانی سیاست دانوں نے۔ یہ اقتدار پر قبضہ ان کے اپنے کزن سردار محمد داؤد خان نے کیا، جنہوں نے بادشاہت ختم کرکے جمہوریہ قائم کی۔

کیا اس بغاوت کا منصوبہ اسلام آباد میں بنا تھا؟

چند ہی سال گزرے تھے کہ 1978 میں ثور انقلاب آگیا۔ اس بار داؤد خان اور ان کے خاندان کو قتل کردیا گیا۔ اقتدار کمیونسٹ جماعت PDPA کے ہاتھ میں آگیا۔

یہ بھی پاکستان نے نہیں بلکہ وہاں موجود افغانوں نے ہی کیا تھا۔

پھر کمیونسٹ خود آپس میں لڑ پڑے۔

نور محمد ترہ کی، حفیظ اللہ امین اور ببرک کارمل ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوگئے۔ ایک کو قتل کیا گیا، دوسرے کو ہٹایا گیا، تیسرے کو باہر سے لا کر مسلط کیا گیا۔

آخر یہ سب کون کر رہا تھا؟
کرنے والے سب افغانی تھے۔

پھر وہ سوال جس سے اکثر لوگ نظریں چرا لیتے ہیں۔

سوویت یونین کو افغانستان میں آنے کی راہ کس نے ہموار کی؟

تاریخی ریکارڈ یہی بتاتا ہے کہ کمیونسٹ حکومت مسلسل ماسکو سے فوجی مدد مانگ رہی تھی۔ دسمبر 1979 میں سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں، حفیظ اللہ امین کو صدارتی محل میں قتل کیا گیا اور ببرک کارمل کو اقتدار سونپ دیا گیا۔

کیا یہ سب پاکستان نے کیا تھا؟

یا کابل کے اندرونی اقتدار کی جنگ نے افغانستان کو ایک عالمی جنگ کا میدان بنا دیا؟

سوویت قبضے کے بعد لاکھوں افغان بے گھر ہوئے، لاکھوں پاکستان آئے، لاکھوں ایران چلے گئے، اور لاکھوں اپنی ہی سرزمین پر جنگ کی آگ میں جلتے رہے۔ جیسے بھی تھا جس کے زریعے بھی تھا پاکستان نے ہی سوویت افواج سے افغانیوں کی جان چھڑائی... کیا کسی ملک کو دوران جنگ کسی بھی طرح کا امداد دینا اسے تباہ کرنا ہوتا ہے..؟

پھر سوویت یونین واپس چلا گیا۔

کیا اس کے بعد افغانستان میں امن آگیا؟

ہرگز نہیں۔

مجاہدین، جنہوں نے ایک دشمن کے خلاف مل کر جنگ لڑی تھی، اب اقتدار کے لیے ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگے۔ کابل پر راکٹ برسے، ہزاروں لوگ مارے گئے، پورے شہر کھنڈر بن گئے۔

کیا اس وقت بھی پاکستان کابل کی گلیوں میں لڑ رہا تھا؟

یا افغان دھڑے ایک دوسرے کے خلاف خود برسرِپیکار تھے؟

پھر طالبان آئے۔

انہوں نے بھی بندوق کے ذریعے اقتدار لیا۔

پھر 2001 میں امریکہ آیا۔

بیس سال تک دنیا کی طاقتور ترین افواج افغانستان میں موجود رہیں، اربوں ڈالر خرچ ہوئے، نئی حکومتیں بنیں، انتخابات ہوئے، پوری جدید فوج کھڑی کی گئی لیکن ریاست پھر بھی مضبوط نہ ہو سکی۔

آخر کیوں؟

کیا اس دور کی ناکامی کا ذمہ دار بھی پاکستان تھا؟

یہ حقیقت ماننی ہوگی کہ افغانستان صرف بیرونی مداخلت کا شکار نہیں رہا، بلکہ اندرونی اقتدار کی جنگ، نسلی تقسیم، نظریاتی تصادم، بدعنوانی، جنگجو سیاست اور مسلسل باہمی کشمکش نے بھی اس ملک کو کمزور کیا۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بیرونی طاقتوں کا کردار نہیں تھا۔

سوویت یونین آیا، امریکہ آیا، پاکستان، ایران، بھارت، سعودی عرب اور دیگر ممالک نے بھی مختلف ادوار میں اپنے اپنے مفادات کے مطابق پالیسیاں اختیار کیں۔ ان سب کے کردار پر تحقیق اور تنقید ہونی چاہیے۔

لیکن اگر کوئی پوری تاریخ کا بوجھ صرف پاکستان کے کندھوں پر ڈال دے اور کابل کے اندر ہونے والی بغاوتوں، قتل و غارت، کمیونسٹ انقلاب، سوویت مداخلت، مجاہدین کی خانہ جنگی، طالبان کے عروج اور بعد کے سیاسی بحرانوں کو مکمل نظر انداز کر دے، تو یہ تاریخ نہیں، بلکہ ایک نامکمل بیانیہ ہے۔ جو صرف پاکستان کے خلاف افغانیوں کو بھڑکانے کیلئے میڈیا پر پیڈ پروپیگنڈاز کے زریعے پھیلایا گیا

تاریخ الزام لگانے سے نہیں بدلتی۔

وہ دستاویزات، واقعات اور حقائق سے لکھی جاتی ہے۔

افغانستان کا المیہ یہ ہے کہ وہاں کئی طاقتیں کھیلتی رہیں، مگر سب سے پہلے اقتدار کی جنگ خود افغان سیاسی و عسکری دھڑوں نے اپنے ہی ملک کے اندر چھیڑی۔ جب ایک ریاست کے اندر اقتدار بندوق کے ذریعے منتقل ہونے لگے، تو پھر بیرونی طاقتوں کے لیے مداخلت کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔

اب سوال صرف ایک ہے...
افغانستان کو پاکستان نے تباہ کیا... یا افغان اشرافیہ نے؟

اگر افغانستان کی ہر تباہی کا ذمہ دار پاکستان ہے، تو پھر 1973 سے اب تک کابل میں اقتدار کے لیے بہنے والا خون کس کے ہاتھوں پر ہے..؟ اور سوویت ٹینکوں کے لیے دروازہ آخر کس نے کھولا تھا؟ اور امریکیوں کا استقبال کابل میں کون کرتا رہا ہے..؟
التماس درود شریف

19/07/2026
"بزدل مرد کو کبھی شادی نہیں کرنی چاہیے۔ ایسا مرد گھر والوں کے ڈر سے اپنی بیوی کے حقوق بھی پورے نہیں کر سکتا۔ آج نہیں تو ...
19/07/2026

"بزدل مرد کو کبھی شادی نہیں کرنی چاہیے۔ ایسا مرد گھر والوں کے ڈر سے اپنی بیوی کے حقوق بھی پورے نہیں کر سکتا۔ آج نہیں تو کل وہ اس عورت کو ذلیل کرے گا، اسے تماشہ بنائے گا، اور دوسری عورتوں کی باتوں میں آ کر نکاح میں دراڑ ڈال دے گا۔ ایسے مرد گھر والوں کی غلامی کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور غلامی کرتے کرتے مر جاتے ہیں اور اگر مرد کی بھابھی کوئی دیدہ ہوائی عورت ہو پھر تو اللہ حافظ ہے۔

پاکستان میں چھپا ہوا دشمن: معاشی غلبے سے پراکسی وار تک! افغان مہاجرین جو تین لاکھ تھے تین نسلیں بن گئیں وہ کروڑوں میں پا...
19/07/2026

پاکستان میں چھپا ہوا دشمن: معاشی غلبے سے پراکسی وار تک! افغان مہاجرین جو تین لاکھ تھے تین نسلیں بن گئیں وہ کروڑوں میں پائے جا رہے ہیں وہ کہاں گئے ؟
تحریر {چوہدری عبدالوحید}
آج پاکستان جس خاموش جنگ کا سامنا کر رہا ہے، وہ سرحدوں پر نہیں بلکہ ہمارے شہروں، ہماری مارکیٹوں، اور ہمارے سوشل میڈیا پر لڑی جا رہی ہے۔ افغان مہاجرین کی تیسری نسل، جو اب پاکستان میں ہی پروان چڑھی، نہ صرف یہاں کی معیشت پر قابض ہو چکی ہے بلکہ اب یہ براہِ راست پاکستان کے خلاف "انڈین پراکسی وار" کا ایک فعال حصہ بن چکی ہے۔
سائبر محاذ پر سازش:
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اردو زبان پر مکمل عبور حاصل ہے۔ یہ پاکستان کے اسکولوں میں پڑھے، یہیں پلے بڑھے، لیکن آج یہی لوگ سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے؟ جب بھی کوئی محب وطن پاکستانی یا رائٹر ملک کے حق میں کوئی پوسٹ لگاتا ہے، تو یہ لوگ دھمکیوں پر اتر آتے ہیں۔ انکو غلیظ گالیاں نکالتے ہیں ، ان کی پروفائلز اکثر 'لاک' ہوتی ہیں، تاکہ یہ اپنی شناخت چھپا کر ریاستی اداروں اور قومی غیرت پر وار کر سکیں۔
سماجی غلبہ اور قومی سلامتی:
لبرٹی اور لڈا بازار کی رونقوں سے لے کر گریٹر اقبال پارک اور جیلانی پارک کے سکون تک، ان کی موجودگی اب ہمارے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مقامی پختون برادری کے ساتھ رشتہ داریاں جوڑ کر اپنی جڑیں اتنی گہری کر لی ہیں کہ اب ان کی شناخت کرنا پولیس کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔
مطالبہ:
بطور ایک لکھاری، میرا اداروں سے سوال ہے کہ کیا ہم اس "خاموش انفلٹریشن" (دراندازی) کو مزید برداشت کریں گے؟
* یہ لوگ پاکستان کا کھا کر، پاکستان ہی کو گالیاں کیوں نکال رہے ہیں؟
* ان کے پاس موجود شناختی کارڈز اور پاسپورٹس کی چھان بین کب ہوگی؟
* سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈا کرنے والے ان عناصر کو کب تک کھلی چھوٹ ملے گی؟
اب وقت آ گیا ہے کہ انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں۔
شناخت: مقامی پولیس، جو ان کی حرکات و سکنات سے بخوبی واقف ہے، ایک منظم سرچ آپریشن کے ذریعے ان کی حقیقت سامنے لا سکتی ہے۔
سکریننگ: گریٹر اقبال پارک اور جیلانی پارک جیسے مقامات، جہاں ان کی بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے، وہاں ایک سخت چیکنگ کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔
مکمل تفصیلات: دیگر مقامی پختون برادری کی مدد سے ان کی درست تفصیلات حاصل کرنا اب ایک قومی ضرورت بن چکا ہے۔
ہمیں اب جذبات سے نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ لوگ اب ہمارے کُھلے دُشمن ہیں ، بلکہ پاکستان کے اندر ایک "سلیپر سیل" (Sleeper Cell) کی طرح کام کر رہے ہیں۔
اگر آپ کو بھی لگتا ہے کہ یہ ہمارے مستقبل کے لیے خطرہ ہے، تو اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ متعلقہ ادارے اپنی آنکھیں کھول سکیں۔

دن چڑھے نہار منہ جب پاکستان کی کام چور،ہڈ حرام اور ہمارے جیسی “فوڈ ولاگز” دیکھ کر ٹینڈے پکانے والی زنانیاں آدھی پونی آنک...
16/06/2026

دن چڑھے نہار منہ جب پاکستان کی کام چور،ہڈ حرام اور ہمارے جیسی “فوڈ ولاگز” دیکھ کر ٹینڈے پکانے والی زنانیاں آدھی پونی آنکھیں کھول کر سوشل میڈیا پر جھاتی مارتی ہیں تو ایک نیا عذاب گلے پڑ جاتا ہے۔

ناس پیٹی ٹھنڈے ٹھار ملکوں میں برفیلی ہواؤں،ٹھنڈے موسم اور موٹے ریشمی کپڑوں میں ملبوس فوڈ ولاگرز،انفلوئنسرز اور کھانے پکانے کی سائنس دان خواتین پارلر سے نکل کر سیدھا سوٹڈ بوٹڈ کچن میں اڈی اڈی پھر رہی ہوتی ہیں۔

اخے ۔۔آج میں آپ کو (صرف پانچ منٹ میں) بیف بریانی، چپلی کباب، مٹن چانپیں، شامی کباب، زردہ اور ساتھ میں دو تین چٹنیاں بنانا سکھاؤں گی۔

اور پھر ویڈیو میں اگلا سین آتا ہے

پیاز پہلے سے کٹے ہوئے۔
لہسن ادرک پہلے سے پسا ہوا۔
گوشت پہلے سے دھلا ہوا۔
مصالحے پہلے سے تیار۔
اور کھانا اچانک “ٹن ٹن ٹناٹن” کر کے سامنے حاضر🥵

ادھر ہم پاکستانی “خاتین “صرف ایک کلو پیاز کاٹنے میں تو آدھا دن، آدھی ہمت اور آدھی بینائی ضائع کرکے درجنوں جمائیاں لے چکی ہوتی ہیں

تو یہ فرماتی ہیں

“بس ہلکا سا فرائی کر لیں”

بہن! ہلکا سا فرائی کرتے کرتے ہمارے تو خون پسینے ایک ہو جاتے ہیں، ایک گیس کے چولہے سے، دوسرا بجلی کے جانے سے اور تیسرا گرمی کے مارے۔

پھر آخر میں مسکراتے ہوئے فرماتی ہیں

“امید ہے آپ کو یہ آسان سی ریسپی پسند آئی ہوگی😡”

آسان؟

ہم تو صرف بریانی کی تیاری میں اتنا وقت لگا دیتے ہیں جتنا آپ پوری ویڈیو میں پانچ ڈشیں بنا کر دکھا دیتی ہیں۔

بار لے ملخ میں تو 18 ڈگری درجہ حرارت میں موبائل اسکرین پر میڈمیں ریشمی فراکیں ، فل میک اپ، نیل پالش، آئی لائنر، لہراتے بل کھاتے بالوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے پراٹھے بنا رہی ہوتی ہیں۔

اور اِدھر پاکستان میں 50 ڈگری میں اگر کوئی اتنا تیار ہو کر کچن میں داخل ہو جائے تو پانچ منٹ بعد آئی میک اپ کراچی کی سڑکوں کی طرح اجاڑ ہوا پڑا ہو گا،لپ اسٹک ایسے غائب ہوگی جیسے پہلے ہی ہفتے میں تنخواہ ٹھکانے لگ جاتی ہےاور ریشمی کپڑے فاتحہ پڑھنے کی تیاری میں ہوں گے۔

اصل پاکستانی کچن کی ویڈیو کچھ یوں ہونی چاہیے

دوستو، آج ہم نے صبح 9 بجے پیاز کاٹنا شروع کیے تھے

اب شام کے 4 بج رہے ہیں اور الحمدللہ مصالحہ تیار ہو گیا ہے

یا پھر

آج میں آپ کو بتاؤں گی کہ گرمیوں میں کچن کیسے مینیج کرنا ہے؟

چلیں آج ہم پسینے میں ڈبکیاں لگاتے ہوئے آلو کے پراٹھے بناتے ہیں

اگر ویڈیو کے دوران ہمارا چہرہ ٹماٹر جیسا سرخ ہو جائے تو یہ کسی لائیو فیشل کا نہیں لوڈ شیڈنگ کا کرشمہ ہے

اور یاد رکھیں

صرف سوشل میڈیا پر ہی بریانی 10 منٹ میں بن سکتی ہے

اصل زندگی میں 10 منٹ تو صرف یہ فیصلہ کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ آج آلو گوبھی کا سالن بنے گا یا ملکہ مسور کی دال مع سفید پوش چاول🤓

ویسے اگر آپ بھی 50 ڈگری میں پچاس کلو میک اپ، لمبے مینی کیورزدہ چڑیل مارکہ ناخن ود نیل پینٹ، کسی بھی مفتے کی برینڈ کے ریشمی جوڑے، جیولری کے ہمراہ تکہ بریانی، سالم دنبہ ، مچھلی کا اچار گوشت اور اونٹ کی چانپیں بنا لیتے ہیں

تو براہِ کرم کمنٹ میں اپنا راز بتائیں🤣
کیونکہ آپ انسان نہیں، قومی اثاثہ ہیں!😝

Address

Rawalpindi
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when فتنه الحاد Evil of Atheism posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to فتنه الحاد Evil of Atheism:

Shortcuts

Share

Category