11/08/2026
افغانستان کو پاکستان نے کیسے تباہ کیا...؟
تاریخ کا سب سے بڑا ظلم یہ نہیں کہ اسے جھوٹا لکھ دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا آغاز ہی وہاں سے کیا جائے جہاں سے کسی کا مقدمہ مضبوط ہوتا ہو۔
آج جب بھی افغانستان کی تباہی کا ذکر آتا ہے تو ایک ہی جملہ بڑے اعتماد سے دہرایا جاتا ہے۔
"پاکستان نے افغانستان تباہ کیا۔"
مگر سوال یہ ہے کہ آخر کیسے؟
کیا افغانستان کا بحران پاکستان نے شروع کیا تھا؟
یا اس کی بنیاد کابل کے اقتدار کے ایوانوں میں برسوں پہلے رکھ دی گئی تھی؟
اگر واقعی تاریخ پڑھنی ہے تو پھر 1973 سے آغاز کریں، جہاں سے افغانستان کا موجودہ بحران شروع ہوا۔
اسی سال افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ کا تختہ الٹا گیا۔ یہ کام نہ پاکستانی فوج نے کیا، نہ پاکستانی سیاست دانوں نے۔ یہ اقتدار پر قبضہ ان کے اپنے کزن سردار محمد داؤد خان نے کیا، جنہوں نے بادشاہت ختم کرکے جمہوریہ قائم کی۔
کیا اس بغاوت کا منصوبہ اسلام آباد میں بنا تھا؟
چند ہی سال گزرے تھے کہ 1978 میں ثور انقلاب آگیا۔ اس بار داؤد خان اور ان کے خاندان کو قتل کردیا گیا۔ اقتدار کمیونسٹ جماعت PDPA کے ہاتھ میں آگیا۔
یہ بھی پاکستان نے نہیں بلکہ وہاں موجود افغانوں نے ہی کیا تھا۔
پھر کمیونسٹ خود آپس میں لڑ پڑے۔
نور محمد ترہ کی، حفیظ اللہ امین اور ببرک کارمل ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوگئے۔ ایک کو قتل کیا گیا، دوسرے کو ہٹایا گیا، تیسرے کو باہر سے لا کر مسلط کیا گیا۔
آخر یہ سب کون کر رہا تھا؟
کرنے والے سب افغانی تھے۔
پھر وہ سوال جس سے اکثر لوگ نظریں چرا لیتے ہیں۔
سوویت یونین کو افغانستان میں آنے کی راہ کس نے ہموار کی؟
تاریخی ریکارڈ یہی بتاتا ہے کہ کمیونسٹ حکومت مسلسل ماسکو سے فوجی مدد مانگ رہی تھی۔ دسمبر 1979 میں سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں، حفیظ اللہ امین کو صدارتی محل میں قتل کیا گیا اور ببرک کارمل کو اقتدار سونپ دیا گیا۔
کیا یہ سب پاکستان نے کیا تھا؟
یا کابل کے اندرونی اقتدار کی جنگ نے افغانستان کو ایک عالمی جنگ کا میدان بنا دیا؟
سوویت قبضے کے بعد لاکھوں افغان بے گھر ہوئے، لاکھوں پاکستان آئے، لاکھوں ایران چلے گئے، اور لاکھوں اپنی ہی سرزمین پر جنگ کی آگ میں جلتے رہے۔ جیسے بھی تھا جس کے زریعے بھی تھا پاکستان نے ہی سوویت افواج سے افغانیوں کی جان چھڑائی... کیا کسی ملک کو دوران جنگ کسی بھی طرح کا امداد دینا اسے تباہ کرنا ہوتا ہے..؟
پھر سوویت یونین واپس چلا گیا۔
کیا اس کے بعد افغانستان میں امن آگیا؟
ہرگز نہیں۔
مجاہدین، جنہوں نے ایک دشمن کے خلاف مل کر جنگ لڑی تھی، اب اقتدار کے لیے ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگے۔ کابل پر راکٹ برسے، ہزاروں لوگ مارے گئے، پورے شہر کھنڈر بن گئے۔
کیا اس وقت بھی پاکستان کابل کی گلیوں میں لڑ رہا تھا؟
یا افغان دھڑے ایک دوسرے کے خلاف خود برسرِپیکار تھے؟
پھر طالبان آئے۔
انہوں نے بھی بندوق کے ذریعے اقتدار لیا۔
پھر 2001 میں امریکہ آیا۔
بیس سال تک دنیا کی طاقتور ترین افواج افغانستان میں موجود رہیں، اربوں ڈالر خرچ ہوئے، نئی حکومتیں بنیں، انتخابات ہوئے، پوری جدید فوج کھڑی کی گئی لیکن ریاست پھر بھی مضبوط نہ ہو سکی۔
آخر کیوں؟
کیا اس دور کی ناکامی کا ذمہ دار بھی پاکستان تھا؟
یہ حقیقت ماننی ہوگی کہ افغانستان صرف بیرونی مداخلت کا شکار نہیں رہا، بلکہ اندرونی اقتدار کی جنگ، نسلی تقسیم، نظریاتی تصادم، بدعنوانی، جنگجو سیاست اور مسلسل باہمی کشمکش نے بھی اس ملک کو کمزور کیا۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بیرونی طاقتوں کا کردار نہیں تھا۔
سوویت یونین آیا، امریکہ آیا، پاکستان، ایران، بھارت، سعودی عرب اور دیگر ممالک نے بھی مختلف ادوار میں اپنے اپنے مفادات کے مطابق پالیسیاں اختیار کیں۔ ان سب کے کردار پر تحقیق اور تنقید ہونی چاہیے۔
لیکن اگر کوئی پوری تاریخ کا بوجھ صرف پاکستان کے کندھوں پر ڈال دے اور کابل کے اندر ہونے والی بغاوتوں، قتل و غارت، کمیونسٹ انقلاب، سوویت مداخلت، مجاہدین کی خانہ جنگی، طالبان کے عروج اور بعد کے سیاسی بحرانوں کو مکمل نظر انداز کر دے، تو یہ تاریخ نہیں، بلکہ ایک نامکمل بیانیہ ہے۔ جو صرف پاکستان کے خلاف افغانیوں کو بھڑکانے کیلئے میڈیا پر پیڈ پروپیگنڈاز کے زریعے پھیلایا گیا
تاریخ الزام لگانے سے نہیں بدلتی۔
وہ دستاویزات، واقعات اور حقائق سے لکھی جاتی ہے۔
افغانستان کا المیہ یہ ہے کہ وہاں کئی طاقتیں کھیلتی رہیں، مگر سب سے پہلے اقتدار کی جنگ خود افغان سیاسی و عسکری دھڑوں نے اپنے ہی ملک کے اندر چھیڑی۔ جب ایک ریاست کے اندر اقتدار بندوق کے ذریعے منتقل ہونے لگے، تو پھر بیرونی طاقتوں کے لیے مداخلت کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔
اب سوال صرف ایک ہے...
افغانستان کو پاکستان نے تباہ کیا... یا افغان اشرافیہ نے؟
اگر افغانستان کی ہر تباہی کا ذمہ دار پاکستان ہے، تو پھر 1973 سے اب تک کابل میں اقتدار کے لیے بہنے والا خون کس کے ہاتھوں پر ہے..؟ اور سوویت ٹینکوں کے لیے دروازہ آخر کس نے کھولا تھا؟ اور امریکیوں کا استقبال کابل میں کون کرتا رہا ہے..؟
التماس درود شریف