Ch Muhammad Ali Azam

Ch Muhammad Ali Azam Advocate High Court | Specializing in Civil, Criminal, Family & Cyber Law | Rawalpindi | Contact: 0311-9914006

Haq shafa consecutively decreed.
16/06/2026

Haq shafa consecutively decreed.

📌 لاہور میں آج کل سڑکوں پر ایک عجیب صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جہاں بھی جائیں، موٹر سائیکل سواروں کو روک کر چالان کیے ...
09/06/2026

📌 لاہور میں آج کل سڑکوں پر ایک عجیب صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جہاں بھی جائیں، موٹر سائیکل سواروں کو روک کر چالان کیے جاتے نظر آتے ہیں۔

ہیلمٹ کی پابندی بلاشبہ عوامی تحفظ کے لیے ضروری ہے، لیکن اب تو ہیلمٹ پہننے والے شہریوں کو بھی روک کر موٹر سائیکل کا مکمل معائنہ کیا جاتا ہے اور معمولی نوعیت کی خامیوں پر جرمانے عائد کر دیے جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اصلاح سے زیادہ توجہ چالانوں کے اہداف پورے کرنے پر دی جا رہی ہے۔

💔 خدارا عوام کے حالات کا بھی احساس کیجیے۔ لوگ صبح سویرے اپنے گھروں سے اس امید کے ساتھ نکلتے ہیں کہ محنت مزدوری کرکے اپنے اہلِ خانہ کے لیے رزق کمائیں گے، مگر راستے میں انہیں چالانوں کی صورت میں ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک طرف مہنگائی، بجلی کے بھاری بل اور روزمرہ اخراجات کا بوجھ ہے، جبکہ دوسری طرف مسلسل جرمانے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

قانون کا نفاذ یقینی طور پر ضروری ہے، لیکن اس کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ عوام کی رہنمائی، اصلاح اور سہولت بھی ہونا چاہیے۔ بہتر یہی ہے کہ قانون پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ شہریوں کے حالات اور مشکلات کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔

03/06/2026

2009 P Cr. L J 1349 [Lahore] Before Iqbal Hameedur Rahman, J MUHAMMAD ZUBAIR IQBAL----Petitioner Versus THE STATE and 3 others----Respondents Writ Petition No.10531 of 2009, decided on 1st June, 2009. Criminal Procedure Code (V of 1898)--- ----S. 550---Constitution of Pakistan (1973), Art.199---Constitutionalpetition---Superdari---Submission of the surety bond equal to the price ofseized gold---Gold belonging to the petitioner was taken into possessionunder S.550, Cr.P.C. for which the petitioner being the genuine and bonafide owner of the gold, applied for Superdari---Same was allowed subjectto the submission of the surety bond equivalent to the price of the gold---Petitioner had challenged order to the extent of condition of submissionof surety bond equivalent to the price of the gold---No criminal case stoodregistered nor there was any rival claimant of. the gold---Petitioner wasthe genuine and bona fide owner of the gold---Condition of thesubmission of surety bond was not justified in circumstances---Taking thegold into custody appeared to be highhandedness on the part of thepolice and a sheer abuse of authority---Impugned orders of the Courtsbelow were set aside to the extent of submission of the surety bondequivalent to the price of the gold---Gold taken into custody by the policeunder S.550, Cr.P.C. was ordered to be handed over to the petitioner. Muhammad Arif v. S.H.O. City Police Depalpur and 5 others PLD 1994Lah. 521 rel. Syed Tayyab Mehmood Jaffari for Petitioner. Sarfraz Ali Khan, A.A.-G. for the State. ORDER IQBAL HAMEEDUR RAHMAN, J.---Through the instant writ petitionthe petitioner seeks setting aside of the impugned order, dated 22-5-2009 and 26-5-2009 passed by the Courts below to the extent of thecondition of submission of surety bond equivalent to the price of thegold. 2. It is stated that there was no justification for ordering submissionof the surety bond equivalent to the price of the gold in the absenceof no rival claimant and no registration of case. It has been provedthat the gold belongs to the petitioner, .the same was taken intopossession under section 550, Cr.P.C. for which the petitioner beingthe genuine and bona fide owner of the gold applied for Superdariwherein the same had been allowed subject to the submission of thesurety bond equivalent to the price of the gold. It is further statedthat in the circumstances, the petitioner was entitled to the Superdariof the gold without submission of any surety bond: 3. Admittedly no criminal case stands registered nor, there is anyrival 'claimant of the gold. The petitioner is the genuine and bonafide owner of the gold. In view of the same, the condition ofsubmission of surety bond is not justified. Taking the gold intocustody appears to be highhandedness on the part of the police and isa sheer abuse of authority. In the above circumstances, relying uponthe case of Muhammad Arif v. S'.H.O. City Police Depalpur and 5others PLD 1994 Lah. 52 wherein it has been held that "powers ofpolice to seize property suspected to be stolen---Misuse of suchpower---Illegal practice developed regarding the use of powers ofpolice to seize property suspected to be stolen has to be severely dealtwith, if not by the higher police officers or the subordinate Courts, bythe High Court in its inherent jurisdiction under Criminal ProcedureCode and the Constitution", this writ petition is accepted and theimpugned orders of the Courts below are set aside to the extent ofsubmission of the surety bond equivalent to the price of the gold. Inview of the same the gold taken into custody by the police undersection 550, Cr.P.C. be handed over to the petitioner forthwith. Sincethe action of the police is clearly mala fide, illegal andunconstitutional, the same must be censured and the Police Officersconcerned "must be dealt with severely regarding the misuse of theprovisions of section 550, Cr.P.C. Copy Dasti on payment of usualcharges. Learned A.A.-G. is directed to send a copy of this order to theInspector-General of Police, Punjab, and the Chief Secretary to theGovernment of the Punjab for issuing strict instructions to thesubordinate Police Officers to understand the provisions of sections550 and 523, Cr.P.C. properly and to apply the strictly.
Petition allowed.

In 2020, the Supreme Court of Pakistan ruled that an LL.B degree is equivalent to an M.A or M.Sc degree. The Supreme Cou...
02/06/2026

In 2020, the Supreme Court of Pakistan ruled that an LL.B degree is equivalent to an M.A or M.Sc degree.
The Supreme Court of Pakistan has also ruled that an LL.M degree is equivalent to an M.Phil degree.

ترنول پھاٹک کو "آبنائے ہرمز" کہنے پر شہری کے خلاف مقدمہ درج، اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا۔لہذا سہالہ پھاٹک کے متاثری...
24/04/2026

ترنول پھاٹک کو "آبنائے ہرمز" کہنے پر شہری کے خلاف مقدمہ درج، اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا۔لہذا سہالہ پھاٹک کے متاثرین محتاط رہیں

کسی بھی جج کے غیر قانونی یا بدنیتی پر مبنی  آرڈر کی بنیاد پر اسکے خلاف پینل ایکشن کے علاوہ سول ہرجانہ Civil Suit for Dam...
16/04/2026

کسی بھی جج کے غیر قانونی یا بدنیتی پر مبنی آرڈر کی بنیاد پر اسکے خلاف پینل ایکشن کے علاوہ سول ہرجانہ Civil Suit for Damages داخل کیا جا سکتا ہے۔۔ چو نکہ آجکل بہت عام ہو چکا ہے کہ ججز قانون شھادت کو شھید کرتے ہوئے من چاہے فیصلے کرتے ہیں لہذا ان کے سد باب کے لییئے اس بات کو عام کریں تاکہ انصاف کے خرید وفرخت کے اس نظام کا قلعہ کمع کیا جا سکے۔

میں محترم Muhammad Faisal Malik اور سید سُہیل مکرّم گردیزی اور عاطف بشیر اعوان صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے انص...
16/04/2026

میں محترم Muhammad Faisal Malik اور سید سُہیل مکرّم گردیزی اور عاطف بشیر اعوان صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے انصاف لائرز فورم نارتھ پنجاب میں سینئر وائس پریزیڈنٹ کا منصب دے کر اور Imran Khan کی ٹیم کا حصہ بنا کر مجھ پر اعتماد کیا۔ ان شاء اللہ اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے انصاف، آئین و قانون کی بالادستی اور Imran Khan کے وژن کے مطابق جدوجہد جاری رکھوں گا۔ پاکستان زندہ باد 🇵🇰

اسلام آباد میں ٹریفک کے نظام کے لیے ایک اہم انتظامی تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں کو تب...
01/04/2026

اسلام آباد میں ٹریفک کے نظام کے لیے ایک اہم انتظامی تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں کو تبدیل کر کے محمد سرفراز ورک کو بطور چیف ٹریفک آفیسر تعینات کر دیا گیا ہے۔

اس طرح کی تبدیلیاں عموماً کارکردگی کو بہتر بنانے، نظم و ضبط کو مضبوط کرنے اور شہری سہولت کو بڑھانے کے لیے کی جاتی ہیں، خاص طور پر ایسے شہر میں جہاں ٹریفک کا دباؤ روز بروز بڑھ رہا ہو۔ اس کے علاوہ سابقہ سی ٹی او ایک کورس پر روانہ ہو رہے ہیں جس کے لیے نئی تعناتی کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں گزشتہ کچھ عرصے سے ٹریفک مینجمنٹ، انٹری پوئنٹس کا بے ہنگم رش، یوٹرن کی بندش، چالان کے نظام، غیر قانونی پارکنگ اور رش کے اوقات میں بدنظمی جیسے مسائل مسلسل زیرِ بحث رہے ہیں۔

شہریوں کی بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر یکساں عملدرآمد ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

ایسے میں نئی تعیناتی سے توقع کی جا رہی ہے کہ نہ صرف قوانین پر عمل ہوگا بلکہ شہریوں کے لیے آسانی اور سہولت کو بھی ترجیح دی جائے گی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی افسر کی کامیابی صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ ان کے نفاذ، ٹیم ورک اور عوام کے ساتھ رویے سے جڑی ہوتی ہے۔

اگر ٹریفک پولیس شہریوں کے ساتھ بہتر رابطہ قائم کرے، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھائے اور میرٹ پر کارروائیاں کرے تو شہر کے مسائل کافی حد تک حل ہو سکتے ہیں۔

کیا آپ اپنے تجربے کی بنیاد پر اسلام آباد ٹریفک پولیس کی کارکردگی سے مطمئن ہیں یا مزید تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟

اپنی رائے ضرور دیں۔

خلع کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی اور قانونی طور پر وہ بغیر حلالہ کے بھی دوبارہ نکاح ...
20/03/2026

خلع کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی اور قانونی طور پر وہ بغیر حلالہ کے بھی دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، کیونکہ خلع کی صورت میں نکاح ختم ہو جاتا ہے اور اگر عدت مکمل ہونے کے بعد دونوں کی رضامندی ہو تو نیا نکاح کر کے دوبارہ ازدواجی زندگی شروع کی جا سکتی ہے۔ اس عمل کے لیے حلالہ ضروری نہیں ہوتا بلکہ باہمی رضامندی، نیا نکاح اور گواہوں کی موجودگی میں شرعی طریقہ کار کے مطابق نکاح دوبارہ کیا جا سکتا ہے۔

After Khula, if husband and wife wish to reconcile and live together again, they can remarry through a new Nikah without Halala. In Islamic and legal terms, Khula dissolves the marriage, and once the waiting period (iddat) is completed, both parties can remarry each other with mutual consent through a fresh Nikah in the presence of witnesses. Halala is not required in this situation; a new Nikah contract is sufficient to restart the marital relationship.

Khula law Pakistan, remarriage after khula, khula and halala difference, new nikah after khula, reconciliation after khula, Islamic family law Pakistan, Muslim marriage law, legal advice khula Pakistan

باپ ملک سے باہر تو کیا دادا بچوں کا خرچہ دینے کا پابند ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ!کیس کا پس منظر اور اہم قانونی نکا...
16/03/2026

باپ ملک سے باہر تو کیا دادا بچوں کا خرچہ دینے کا پابند ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ!

کیس کا پس منظر اور اہم قانونی نکات:
یہ کیس ایک دادا (نذیر احمد) کی طرف سے دائر کیا گیا تھا، جس نے فیملی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں اسے اپنے دو پوتے پوتیوں کو 3500 روپے ماہانہ (فی بچہ) خرچہ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔
دادا کا موقف:
دادا کا کہنا تھا کہ بچوں کا باپ زندہ ہے، اس لیے دادا پر خرچے کی کوئی قانونی ذمہ داری نہیں بنتی۔ اس نے یہ بھی دلیل دی کہ پہلے ہی باپ کے خلاف خرچے کی ڈگری ہو چکی ہے، اس لیے دوبارہ دادا کے خلاف کیس نہیں چل سکتا۔
عدالت کا فیصلہ اور مشاہدات:
لاہور ہائیکورٹ نے دادا کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے درج ذیل اہم باتیں ارشاد فرمائیں:
باپ کی غیر موجودگی میں دادا کی ذمہ داری: عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ بچوں کا باپ سعودی عرب جا چکا ہے اور وہ بچوں کا خرچہ نہیں اٹھا رہا، اور ماں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں، ایسی صورتحال میں بچوں کو بے سہارا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اگر دادا مالی طور پر مستحکم ہے (جیسا کہ اس کیس میں دادا آٹا چکیوں کا مالک تھا)، تو وہ اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا۔
معمولی خرچے کے خلاف اپیل پر پابندی: عدالت نے فیملی کورٹ ایکٹ 1964 (سیکشن 14) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ماہانہ خرچہ 5000 روپے یا اس سے کم مقرر ہو، تو قانون کے مطابق اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔
قانونی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی حوصلہ شکنی: عدالت نے سخت ریمارکس دیے کہ قانون سازوں نے جان بوجھ کر معمولی خرچے کے کیسز میں اپیل کا حق ختم کیا ہے تاکہ بیواؤں اور بچوں کو لمبی قانونی جنگ سے بچایا جا سکے۔ ایسے کیسز میں آئینی درخواست (Constitutional Petition) دائر کرنا قانون کی روح کے خلاف ہے اور یہ محض وقت ضائع کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
نتیجہ:
عدالت نے قرار دیا کہ 3500 روپے ماہانہ ایک نہایت معمولی رقم ہے اور فیملی کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی غلطی نہیں ہے۔ لہٰذا، دادا کی درخواست کو خارج کر دیا گیا۔

Address

Rawalpindi

Telephone

+923119914006

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch Muhammad Ali Azam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share