Ch Muhammad Ali Azam

Ch Muhammad Ali Azam Advocate High Court | Specializing in Civil, Criminal, Family & Cyber Law | Rawalpindi | Contact: 0311-9914006

خلع کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی اور قانونی طور پر وہ بغیر حلالہ کے بھی دوبارہ نکاح ...
20/03/2026

خلع کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی اور قانونی طور پر وہ بغیر حلالہ کے بھی دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، کیونکہ خلع کی صورت میں نکاح ختم ہو جاتا ہے اور اگر عدت مکمل ہونے کے بعد دونوں کی رضامندی ہو تو نیا نکاح کر کے دوبارہ ازدواجی زندگی شروع کی جا سکتی ہے۔ اس عمل کے لیے حلالہ ضروری نہیں ہوتا بلکہ باہمی رضامندی، نیا نکاح اور گواہوں کی موجودگی میں شرعی طریقہ کار کے مطابق نکاح دوبارہ کیا جا سکتا ہے۔

After Khula, if husband and wife wish to reconcile and live together again, they can remarry through a new Nikah without Halala. In Islamic and legal terms, Khula dissolves the marriage, and once the waiting period (iddat) is completed, both parties can remarry each other with mutual consent through a fresh Nikah in the presence of witnesses. Halala is not required in this situation; a new Nikah contract is sufficient to restart the marital relationship.

Khula law Pakistan, remarriage after khula, khula and halala difference, new nikah after khula, reconciliation after khula, Islamic family law Pakistan, Muslim marriage law, legal advice khula Pakistan

باپ ملک سے باہر تو کیا دادا بچوں کا خرچہ دینے کا پابند ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ!کیس کا پس منظر اور اہم قانونی نکا...
16/03/2026

باپ ملک سے باہر تو کیا دادا بچوں کا خرچہ دینے کا پابند ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ!

کیس کا پس منظر اور اہم قانونی نکات:
یہ کیس ایک دادا (نذیر احمد) کی طرف سے دائر کیا گیا تھا، جس نے فیملی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں اسے اپنے دو پوتے پوتیوں کو 3500 روپے ماہانہ (فی بچہ) خرچہ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔
دادا کا موقف:
دادا کا کہنا تھا کہ بچوں کا باپ زندہ ہے، اس لیے دادا پر خرچے کی کوئی قانونی ذمہ داری نہیں بنتی۔ اس نے یہ بھی دلیل دی کہ پہلے ہی باپ کے خلاف خرچے کی ڈگری ہو چکی ہے، اس لیے دوبارہ دادا کے خلاف کیس نہیں چل سکتا۔
عدالت کا فیصلہ اور مشاہدات:
لاہور ہائیکورٹ نے دادا کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے درج ذیل اہم باتیں ارشاد فرمائیں:
باپ کی غیر موجودگی میں دادا کی ذمہ داری: عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ بچوں کا باپ سعودی عرب جا چکا ہے اور وہ بچوں کا خرچہ نہیں اٹھا رہا، اور ماں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں، ایسی صورتحال میں بچوں کو بے سہارا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اگر دادا مالی طور پر مستحکم ہے (جیسا کہ اس کیس میں دادا آٹا چکیوں کا مالک تھا)، تو وہ اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا۔
معمولی خرچے کے خلاف اپیل پر پابندی: عدالت نے فیملی کورٹ ایکٹ 1964 (سیکشن 14) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ماہانہ خرچہ 5000 روپے یا اس سے کم مقرر ہو، تو قانون کے مطابق اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔
قانونی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی حوصلہ شکنی: عدالت نے سخت ریمارکس دیے کہ قانون سازوں نے جان بوجھ کر معمولی خرچے کے کیسز میں اپیل کا حق ختم کیا ہے تاکہ بیواؤں اور بچوں کو لمبی قانونی جنگ سے بچایا جا سکے۔ ایسے کیسز میں آئینی درخواست (Constitutional Petition) دائر کرنا قانون کی روح کے خلاف ہے اور یہ محض وقت ضائع کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
نتیجہ:
عدالت نے قرار دیا کہ 3500 روپے ماہانہ ایک نہایت معمولی رقم ہے اور فیملی کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی غلطی نہیں ہے۔ لہٰذا، دادا کی درخواست کو خارج کر دیا گیا۔

اسلامآباد ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کے شیشوں پر ٹِنٹ (Tint) کے بارے میں حکومت کی تازہ پالیسی واضح کر دی ہے تاکہ شہریوں کو مع...
16/03/2026

اسلامآباد ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کے شیشوں پر ٹِنٹ (Tint) کے بارے میں حکومت کی تازہ پالیسی واضح کر دی ہے تاکہ شہریوں کو معلوم ہو سکے کہ کون سی ٹِنٹنگ قانونی ہے اور کون سی سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ممنوع ہے۔

چیف ٹریفک آفیسر کے مطابق گاڑی کے پچھلے شیشوں پر 40 سے 50 فیصد تک ٹِنٹ کی اجازت ہے، تاہم فرنٹ سائیڈ شیشوں پر ٹِنٹنگ کی اجازت نہیں دی جاتی کیونکہ سیکیورٹی چیک کے دوران ڈرائیور کی شناخت واضح ہونا ضروری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ڈرائیور کی واضح نظر آنا ٹریفک اور سیکیورٹی دونوں کے لیے اہم ہے، اسی لیے فرنٹ ونڈوز پر ٹِنٹ لگانا قانون کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ تر گاڑیوں میں پچھلے شیشوں پر کمپنی کی جانب سے فیکٹری فِٹڈ ہلکی ٹِنٹنگ پہلے سے موجود ہوتی ہے، جبکہ مکمل گہرے شیشے عام طور پر گاڑی بنانے والی کمپنیاں فراہم نہیں کرتیں۔ اگر کسی گاڑی میں فیکٹری فِٹڈ ٹِنٹ موجود ہو تو اس کے لیے وزارتِ داخلہ کی امپورٹ دستاویزات موجود ہونا ضروری ہے، جو چیکنگ کے دوران طلب کی جا سکتی ہیں۔

سی ٹی او کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس صرف حکومتی قوانین پر عملدرآمد کراتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس گاڑیوں کے شیشے توڑتی یا نکالتی نہیں، البتہ فرنٹ شیشوں پر لگائی گئی ٹِنٹ شیٹس یا پیپر موجودہ قوانین کے تحت قابلِ اجازت نہیں ہیں۔

حکام کے مطابق یہ قوانین شہریوں کی پرائیویسی، عوامی تحفظ اور سیکیورٹی ضروریات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اگر ڈرائیور ان ہدایات پر عمل کریں تو وہ جرمانوں سے بھی بچ سکتے ہیں اور ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری بھی کر سکتے ہیں۔

17 دن بعد نئ گاڈی گاڑی جل کر راکھ۔ملک اسحاق احمد نامی شخص نے 15 جنوری 2010 کو ایک نئی Toyota Corolla XLI خریدی۔گاڑی نئی ...
11/03/2026

17 دن بعد نئ گاڈی گاڑی جل کر راکھ۔

ملک اسحاق احمد نامی شخص نے 15 جنوری 2010 کو ایک نئی Toyota Corolla XLI خریدی۔
گاڑی نئی تھی، کمپنی کی تھی-

لیکن صرف 17 دن بعد ۔ وہ اپنی زمین پر کام کر رہے تھے کہ اچانک گاڑی کے ڈیش بورڈ سے دھواں نکلنا شروع ہوگیا۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ پوری گاڑی جل گئی ,مالک کا ہاتھ بھی جل گیا.

یعنی نئی گاڑی صرف 17 دن میں مکمل تباہ۔

ملک اسحاق نے کمپنی سے کہا:

یا تو ,نئی گاڑی دیں, یا پیسے واپس کریں اور نقصان کا معاوضہ بھی دیں
لیکن کمپنی نے ذمہ داری لینے سے انکار کردیا۔
لہٰذا انہوں نے کیس دائر کردیا Consumer Court میں-

کنزیومر کورٹ کا فیصلہ
کنزیومر کورٹ نے فیصلہ دیا:

کمپنی:
گاڑی کی قیمت 12,69,000 روپے واپس کرے
10٪ مارک اپ دے ,وکیل فیس اور خرچہ بھی ادا کرے

کمپنی اس فیصلے سے خوش نہیں تھی۔
لہٰذا انہوں نے اپیل کی
ہائی کورٹ میں۔

عدالت نے کیا کیا؟

عدالت نے سچ جاننے کے لئے ماہرین سے گاڑی کا معائنہ کروایا۔
دو ماہرین نے گاڑی کا جائزہ لیا۔

انہوں نے:
تصاویر لیں ,فیوز باکس کا معائنہ کیا
گاڑی کے تمام حصے دیکھے.

ماہرین کی رپورٹ نے حیران کن حقیقت بتائی۔

انہوں نے کہا:

گاڑی میں کوئی بعد کی تبدیلی نہیں تھی۔

مثلاً:

کمپنی کا دعویٰ تھا کہ:
پاور ونڈوز لگائی گئی تھیں۔
لیکن معائنے میں پتہ چلا:

گاڑی میں ابھی بھی اصل دستی ونڈوز (Manual Windows) ہی موجود تھیں۔یعنی کمپنی کا دعویٰ غلط ثابت ہوا۔

ماہرین نے نتیجہ دیا:

گاڑی کے فیوز باکس اور ریلے میں مینوفیکچرنگ فالٹ تھا۔

اسی خرابی کی وجہ سے:
شارٹ سرکٹ ہوا ,آگ لگی ,پوری گاڑی جل گئی
یعنی مسئلہ کمپنی کی مینوفیکچرنگ خرابی تھا۔

عدالت نے کہا:

اگر کوئی چیز کمپنی کی بنائی ہوئی ہو اور اس میں مینوفیکچرنگ خرابی ہو
تو وہ چیز Defective Product کہلاتی ہے۔

اور قانون کے مطابق:کمپنی اس کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

عدالت کا دلچسپ جملہ

عدالت نے ایک خوبصورت بات لکھی:
“Cars in our economy are lifelong assets

یعنی:

ہمارے معاشرے میں گاڑی ایک بڑی اور قیمتی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔
لوگ بڑی امید سے گاڑی خریدتے ہیں۔

یہ کیس پاکستان میں کنزیومر رائٹس کے لئے بہت اہم ہے۔

یہ بتاتا ہے کہ:
بڑی کمپنی بھی قانون سے بالاتر نہیں
اگر چیز خراب ہو تو صارف انصاف لے سکتا ہے
عدالتیں صارف کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں

Share for information and awareness

رضا مندی سے زناء اور ریپ کیس کا فیصلہ۔جسٹس بابر ستار کا دبنگ فیصلہاسلام آباد کے نواحی علاقے میں ایک گھر میں رات تقریباً ...
09/03/2026

رضا مندی سے زناء اور ریپ کیس کا فیصلہ۔
جسٹس بابر ستار کا دبنگ فیصلہ

اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ایک گھر میں رات تقریباً نو بجے بیس سالہ عینی جاگ رہی تھی۔ اس کے والدین اپنے چھوٹے بیمار بیٹے کو ہسپتال لے کر گئے ہوئے تھے جبکہ اس کے چھوٹے بہن بھائی گھر کے ایک کمرے میں سو رہے تھے۔ اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔ عینی نے پوچھا تو باہر سے آواز آئی کہ وہ ان کا ہمسایہ شہزاد ہے اور پانی چاہیے۔ عینی نے جیسے ہی دروازہ کھولا، شہزاد نے اسے اسلحے کے زور پر ایک کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کی۔ جاتے ہوئے اس نے دھمکی دی کہ اگر اس واقعے کے بارے میں کسی کو بتایا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ خوف اور بدنامی کے ڈر سے عینی خاموش رہی، مگر کچھ عرصے بعد وہ حاملہ ہو گئی۔

تقریباً آٹھ ماہ بعد جب اس کے والدین کو اس بات کا علم ہوا تو عینی نے انہیں ساری حقیقت بتا دی۔ ابتدا میں خاندان کی عزت بچانے کی امید میں عینی کے والدین نے جرگہ بھیجا تاکہ شہزاد اس سے شادی کر لے، مگر شہزاد نے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس کے بعد مجبور ہو کر عینی کے والدین نے اس کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کرا دیا۔ چند ہی دن بعد عینی نے ایک بچی کو جنم دیا۔ پولیس نے عینی کا طبی معائنہ کروایا، شہزاد کو گرفتار کیا اور بچی کی پیدائش کے بعد اس کا اور شہزاد کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا۔ میڈیکل رپورٹ میں جسم پر واضح مزاحمت یا تشدد کے نشانات تو نہیں ملے، مگر ڈی این اے رپورٹ کے مطابق 99.99 فیصد امکان تھا کہ بچی کا باپ شہزاد ہی ہے۔

مقامی سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا جہاں مدعی فریق نے عینی سمیت آٹھ گواہ پیش کیے۔ ملزم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے عینی کے ساتھ کوئی غلط کام نہیں کیا اور یہ بچی کسی اور کی ہے، جبکہ اس پر مقدمہ اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ اسے بلیک میل کر کے شادی پر مجبور کیا جا سکے۔ مکمل ٹرائل کے بعد سیشن کورٹ نے شہزاد کو 14 سال قیدِ با مشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے خلاف شہزاد نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

اپیل میں ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ ایف آئی آر آٹھ ماہ کی تاخیر سے درج ہوئی، واقعے کا کوئی عینی گواہ موجود نہیں، اور میڈیکل رپورٹ میں جسم پر مزاحمت کے نشانات بھی نہیں ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زبردستی ہوئی ہوتی تو لڑکی شور مچاتی جس سے اس کے سوئے ہوئے بہن بھائی جاگ جاتے۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ جرگے کے ارکان یا والدین بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے اس اپیل کی سماعت کی اور جسٹس بابر ستار نے 31 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا۔ عدالت نے نہ صرف پاکستانی قوانین بلکہ بھارت اور مغربی ممالک کی قانونی نظیروں کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اعتراضات کا جائزہ لیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے واقعات کی رپورٹ میں تاخیر عموماً معاشرتی شرم، خوف اور بدنامی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ایسے جرائم رپورٹ ہی نہیں ہوتے، اس لیے صرف تاخیر کو بنیاد بنا کر شک نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ جسم پر تشدد یا مزاحمت کے نشانات کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ واقعہ رضامندی سے ہوا، کیونکہ خوف اور صدمے کی حالت میں متاثرہ شخص مزاحمت کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم نے نچلی عدالت میں رضامندی کا مؤقف اختیار ہی نہیں کیا بلکہ مکمل انکار کیا تھا، جبکہ ڈی این اے رپورٹ اس کے دعوے کے برعکس حقیقت کو ثابت کرتی ہے۔ سب سے اہم بات عدالت نے یہ قرار دی کہ زیادتی کے مقدمات میں اگر متاثرہ خاتون کی گواہی کو طبی یا سائنسی شواہد سے تقویت مل رہی ہو تو اضافی عینی گواہوں کی عدم موجودگی مقدمے کو کمزور نہیں بناتی۔

ان تمام نکات کی بنیاد پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے شہزاد کی اپیل مسترد کر دی۔ پاکستان میں ایسے مقدمات میں سزا کی شرح بہت کم سمجھی جاتی ہے، اس لیے یہ فیصلہ آئندہ کے لیے ایک اہم قانونی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس سے متاثرین کے لیے انصاف کے امکانات مضبوط ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے

لوکل گورنمنٹ پنجاب کے بائی لاز کے تحت برتھ سرٹیفکیٹ میں تاریخِ پیدائش کی تبدیلی یا درستگی صرف یونین کونسل، کنٹونمنٹ بورڈ...
26/02/2026

لوکل گورنمنٹ پنجاب کے بائی لاز کے تحت برتھ سرٹیفکیٹ میں تاریخِ پیدائش کی تبدیلی یا درستگی صرف یونین کونسل، کنٹونمنٹ بورڈ یا میونسپل کمیٹی کرسکتی ہے۔
اگر کسی شہری کو تاریخِ پیدائش کی تبدیلی کے لیے عدالتی حکم درکار ہو تو دعویٰ لوکل گورنمنٹ، متعلقہ یونین کونسل یا سیکرٹری یونین کونسل کے خلاف دائر کیا جائے۔

بنیادی ریکارڈ اور اس میں تبدیلی کا اختیار لوکل گورنمنٹ کے پاس ہے۔ نادرا صرف لوکل گورنمنٹ کے جاری کردہ اور عدالت کے تصدیق شدہ ریکارڈ کی بنیاد پر اپنی ڈیٹا بیس میں اندراج کرتا ہے۔

Is the "Justice of Peace" Era Ending in Islamabad?Analyzing the CrPC (Amendment) Bill, 2026Colleagues, the Senate has pa...
26/02/2026

Is the "Justice of Peace" Era Ending in Islamabad?
Analyzing the CrPC (Amendment) Bill, 2026

Colleagues, the Senate has passed the CrPC (Amendment) Bill for the Islamabad Capital Territory (ICT). The proposed changes to Sections 154, 59A, 431, and 431A are not just procedural adjustments—they represent a fundamental shift in criminal administration.

The Structural Highlights:

⚖️ Bypassing the Thana: New Statutory Routes for FIRs (Section 154)
The amendment empowers Magistrates to directly receive and register information regarding cognizable offenses if the SHO fails to do so.

The Debate: Will this effectively de-clutter the Sessions Courts from 22-A/22-B petitions? Can we now skip the "Justice of Peace" route for a more direct and efficient magisterial order?

⚖️ The End of "Secret" Detentions? (Section 59A)
A new statutory right is introduced for the accused to have a family member or friend informed of their arrest.

The Constraint: Any delay now requires written authorization from an officer not below the rank of SP, and only on specific, narrowly tailored grounds (e.g., risk to evidence or alerting absconders).

⚖️ Justice Beyond Mortality (Sections 431 & 431A)
A massive win for the protection of reputation and the rights of the family unit.

Continuation: Legal heirs can now apply within 30 days to continue a deceased appellant's case.

New Institution: Heirs are now empowered to institute an appeal even if the convict dies before filing. Justice no longer abates with the person.

(1) Acquittal in technicalities/compromise/botched up investigation does not create vested right for reinstatement (2) T...
26/02/2026

(1) Acquittal in technicalities/compromise/botched up investigation does not create vested right for reinstatement

(2) The doctrine of disciplined force requires dynamic accountability to ensure public trust

(3) The integrity of a disciplined force should be untarnished

(4) The criminal and disciplinary proceedings have distinctive characteristics in civil servant laws.

C.P.L.A.4677/2025
Shahzad Hussain v. Additional Inspector General Of Police , Multan and others
Mr. Justice Muhammad Ali Mazhar
24-11-2025

لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک اہم قانونی نکتہ پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خرچہ نان و نفقہ کی ڈگری کے...
26/02/2026

لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک اہم قانونی نکتہ پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خرچہ نان و نفقہ کی ڈگری کے قابلِ اپیل ہونے کا تعین ہر مدعی کے لیے علیحدہ مقرر کردہ ماہانہ رقم کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ تمام مدعیان کو دی گئی مجموعی رقم کی بنیاد پر۔
عدالت کے روبرو بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا اگر ہر مدعی کو پانچ ہزار روپے ماہوار سے کم خرچہ نان و نفقہ دیا گیا ہو، لیکن مجموعی طور پر تمام مدعیان کی رقم پانچ ہزار روپے ماہوار سے زائد بنتی ہو، تو کیا ایسی ڈگری سیکشن 14(2)(c) فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے تحت قابلِ اپیل ہوگی؟

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قانون کی صریح عبارت کے مطابق اپیل کے حق کا تعین “فی کس” بنیاد پر ہوگا۔ لہٰذا اگر فیملی کورٹ ہر مدعی کو 5000 روپے ماہوار سے کم خرچہ نان و نفقہ کی ڈگری دیتی ہے، تو ایسی ڈگری کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی، خواہ مجموعی طور پر تمام مدعیان کو ملنے والی رقم 5000 روپے ماہوار سے زیادہ
مثال کے طور پر اگر چار مدعیان کو 4500 روپے ماہوار فی کس خرچہ نان و نفقہ دیا جائے تو اگرچہ مجموعی رقم 18000 روپے ماہوار بنتی ہے، تاہم چونکہ ہر مدعی کو انفرادی طور پر 5000 روپے سے کم رقم دی گئی ہے، اس لیے ایسی ڈگری اپیل کے دائرہ میں نہیں آئے گی۔
عدالت نے واضح کیا کہ Family Courts Act, 1964 کی دفعہ 14(2)(c) کی تشریح کرتے ہوئے قانون ساز کی نیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اور اس شق میں استعمال ہونے والے الفاظ انفرادی حق کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ مجموعی رقم کو۔ یہ فیصلہ فیملی مقدمات میں اپیل کے دائرہ اختیار کے تعین کے حوالے سے ایک رہنما نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
رٹ پٹیشن نمبر 126306/2017
محمد اسلم بنام جج فیملی کورٹ فیروزوالہ و دیگر

JUDGMENT SHEET
LAHORE HIGH COURT LAHORE
(JUDICIAL DEPARTMENT)
Writ Petition No.126306 of 2017
Muhammad Aslam
Vs.
Judge Family Court, Ferozewala, etc.
Date of Hearing
07.03.2023
For the petitioner
Mr. Muhammad Asif Mian, Advocate
For Govt. of Punjab
M/s Muhammad Shan Gul and Qamar Zaman Qureshi, Advocate General and Additional Advocate General respectively
For Respondents No.3 & 4
M/s Abaid Ullah Bhatti, Adnan Tariq, Muhammad Asif Chohan and Mian Muhammad Sajid, Advocates
Amici Curiae
M/s Muhammad Shahzad Shaukat, Zafar Iqbal Kalanori, Khalid Ishaq and Malik Muhammad Awais Khalid, Advocates
JUDGMENT
RAHEEL KAMRAN, J:- This judgment shall deal
with ten petitions brought under Article 199 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973 ('the Constitution') i.e. W.P.No.126306 of 2017, W.P.No.7911 of 2017, W.P.No.98903 of 2017, W.P.No.119360 of 2017, W.P.No.159598 of 2018, W.P.No.1594 of 2019, W.P.No.61038 of 2019, W.P.No.1807 of 2021, W.P.No.308 of 2022 and W.P.No.8768 of 2023, as these involve similar questions in controversy.

وطن عزیز کا المیہ یہ ہے کہ عدلیہ اور پاکستان پولیس ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔قانون عدلیہ کی نظر میں کچھ اور ھے اور انتظام...
26/02/2026

وطن عزیز کا المیہ یہ ہے کہ عدلیہ اور پاکستان پولیس ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔
قانون عدلیہ کی نظر میں کچھ اور ھے اور انتظامیہ کی نظر میں کچھ اور۔
امانت میں خیانت پر درج ذیل کیس لاء ملاحظہ کریں اور پھر پولیس کے کردار کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

محمد امجد نعیم بنام ریاست و دیگر
فوجداری پٹیشن نمبر 170-L/2025
فیصلہ مؤرخہ 19.05.2025
رپورٹ شدہ: 2025 SCMR 1130 



خلاصہ فیصلہ (Headnote Style)

پاکستان پینل کوڈ 1860ء
دفعات 405، 406 — امانت میں خیانت — لازمی عناصر — امانت اور کاروباری لین دین میں فرق

ضابطہ فوجداری 1898ء
دفعہ 497(1) و (2) — بعد از گرفتاری ضمانت — غیر ممنوعہ شق — ضمانت اصول، انکار استثناء — سپریم کورٹ کے نظائر کی پابندی — آرٹیکل 189 دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء



حقائق

ملزم کو دفعہ 406 تعزیراتِ پاکستان کے تحت درج مقدمہ میں بعد از گرفتاری ضمانت لاہور ہائی کورٹ نے مسترد کی۔ الزام یہ تھا کہ مدعی نے متعدد گاڑیاں جزوی ادائیگی کے عوض کاروباری بنیادوں پر ملزم کے حوالے کیں، جن کی بقایا رقم ادا نہ کی گئی اور مبینہ طور پر گاڑیاں ہڑپ کر لی گئیں۔ ایف آئی آر تقریباً پانچ ماہ کی تاخیر سے درج کی گئی۔



قرار دیا گیا

1. دفعہ 405/406 پینل کوڈ کے ضروری اجزاء

امانت میں خیانت کے جرم کے قیام کے لیے دو عناصر ناگزیر ہیں:
(الف) جائیداد یا مال کا بطور امانت سپرد کیا جانا (Entrustment)؛
(ب) اس امانت کی بددیانتی سے خردبرد یا خلافِ ہدایت استعمال۔

اگر امانت کا عنصر ہی موجود نہ ہو تو دفعہ 405/406 لاگو نہیں ہو سکتی۔



2. امانت اور کاروباری لین دین میں امتیاز

جہاں مال یا جائیداد فروخت یا کاروباری معاہدہ کے تحت جزوی ادائیگی کے عوض دی جائے اور ملکیت منتقل ہو جائے، وہاں “امانت” کا تصور پیدا نہیں ہوتا۔

سرمایہ کاری، معاہدہ بیع، یا کاروباری لین دین کو محض “امانت” کا نام دینے سے جرم قائم نہیں ہو جاتا۔

ایف آئی آر میں لفظ “امانت” کا ذکر بذاتِ خود کافی نہیں، بلکہ لین دین کی اصل نوعیت دیکھی جائے گی۔



3. سول تنازع کو فوجداری رنگ دینا

کاروباری یا معاہداتی تنازعات کو رقم کی وصولی یا دباؤ ڈالنے کے لیے فوجداری مقدمہ میں تبدیل کرنا قانون کا غلط استعمال ہے۔

جہاں معاملہ بنیادی طور پر سول نوعیت کا ہو، وہاں فوجداری کارروائی کا سہارا لینا عدالتی نظام کا ناجائز استعمال ہے۔



4. غیر ممنوعہ شق — ضمانت کا اصول

دفعہ 406 تعزیراتِ پاکستان، دفعہ 497(1) ضابطہ فوجداری کی ممنوعہ شق میں شامل نہیں۔

ایسے مقدمات میں ضمانت اصول ہے اور انکار استثناء، جیسا کہ سپریم کورٹ نے PLD 1995 SC 34 (طارق بشیر کیس) میں قرار دیا۔



5. ضمانت سے انکار کی غیر معمولی وجوہات

ضمانت صرف انہی حالات میں مسترد کی جا سکتی ہے جہاں:
• ملزم کے فرار ہونے کا حقیقی خدشہ ہو،
• شہادتوں میں رد و بدل کا واضح امکان ہو،
• جرم کے اعادہ کا ٹھوس خطرہ ہو،
• یا ملزم سابقہ سزا یافتہ ہو۔

محض دیگر ایف آئی آرز میں نامزد ہونا ضمانت سے انکار کا جواز نہیں۔



6. مزید تفتیش کا پہلو

پانچ ماہ کی تاخیر سے ایف آئی آر کا اندراج اور گاڑیوں کی عدم برآمدگی نے معاملہ کو دفعہ 497(2) کے تحت “مزید تفتیش” کے زمرے میں ڈال دیا، جس کی بنیاد پر بھی ملزم ضمانت کا مستحق تھا۔



7. نظائر کی پابندی — عدالتی نظم و ضبط

سپریم کورٹ کا طے کردہ قانون آرٹیکل 189 آئین کے تحت تمام ماتحت عدالتوں پر لازم ہے۔

ماتحت عدالتیں سپریم کورٹ کے نظائر کو نظر انداز کرنے کی مجاز نہیں۔

عدالت عظمیٰ نے ہدایت کی کہ یہ فیصلہ تمام ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کو بھجوایا جائے تاکہ اصولِ قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔



نتیجہ

درخواست کو اپیل میں تبدیل کر کے منظور کیا گیا۔
ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم صادر کیا گیا، مچلکوں کے عوض۔ 



اصولِ قانون (Ratio)
• فروخت یا کاروباری لین دین امانت کے مترادف نہیں۔
• امانت میں خیانت کے لیے واضح سپردگی بطور امانت ضروری ہے۔
• غیر ممنوعہ جرائم میں ضمانت بنیادی اصول ہے۔
• سپریم کورٹ کے فیصلے ماتحت عدالتوں پر لازم الاتباع ہیں۔

درخواست گزار (چچا) نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی تھی کہ نابالغ بھتیجے/بھتیجی کی پرورش کے اخراجات اس پر عائد کرنا قا...
25/02/2026

درخواست گزار (چچا) نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی تھی کہ نابالغ بھتیجے/بھتیجی کی پرورش کے اخراجات اس پر عائد کرنا قانوناً درست نہیں۔

دونوں فریقین نے مختلف کیسز کے حوالے دیے۔

عدالت عالیہ نے مشاہدہ کیا کہ دادا نے زیرِ التوا مقدمے میں نابالغوں کا خرچہ دیا تھا اور ان کی جائیداد کا کچھ حصہ چچا (درخواست گزار) کو منتقل ہوا۔

عدالت نے یہ طے کرنے کی ضرورت بتائی کہ آیا یہ منتقلی حقیقی تھی یا نابالغوں کے حقوق ختم کرنے کی کوشش۔

چونکہ نچلی عدالتوں نے اس پہلو کا جائزہ نہیں لیا تھا، عدالت عالیہ نے فیصلہ کالعدم کر دیا اور کیس واپس اپیلٹ کورٹ بھیج دیا کہ نیا جائزہ لیا جائے۔

نتیجہ: درخواست منظور کر لی گئی، کیس دوبارہ سنے جانے کے لیے واپس بھیج دیا گیا۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جیل میں۔ان کا “قصور” ص...
25/02/2026

پاکستان میں انسانی حقوق کی وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جیل میں۔

ان کا “قصور” صرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے کی آزادی استعمال کی۔

24 جنوری 2026 کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت سنائی گئی 10 سال قید کی سزا نے نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ ہر اُس شہری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو آئینی آزادیوں پر یقین رکھتا ہے۔

اختلافِ رائے جرم نہیں، اور وکلاء کو ان کی آواز کی وجہ سے سزا دینا انصاف اور بنیادی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہے۔

ایمان اور ہادی ہمیشہ دوسروں کے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے — آج وہ خود انصاف کے منتظر ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب آواز بلند کریں۔

ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کریں۔

Address

Rawalpindi

Telephone

+923119914006

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch Muhammad Ali Azam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share