Al - Raqeeb law Associates

Al - Raqeeb law Associates "Reputable law firm providing expert legal services with personalized solutions."

22/04/2025

*سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلہ کی روشنی میں "FIR کی قانونی حیثیت اور شہادت کے طور پر اس کا استعمال: ایک تجزیاتی جائزہ قانونِ شہادت آرڈر 1984 کی روشنی میں"*

*AL-RAQEEB LAW & CITATIONS*

2025 SCMR 762
کیا ایف آئی آر درخواست گزار کی رپورٹ پر درج کی گئی تھی اور اگر ہاں، تو کیا اسے اس کے خلاف بطور ثبوت استعمال کیا جا سکتا ہے؟

یہ ایک طے شدہ قانونی اصول ہے کہ ایف آئی آر بذاتِ خود کوئی حتمی شہادت (substantive evidence) نہیں ہے، جب تک کہ اس کے مندرجات کو اس کے بنانے والے نے گواہی کے دوران حلفیہ بیان کے ذریعے تصدیق نہ کیا ہو اور اسے جرح (cross-examination) کے مرحلے سے نہ گزارا گیا ہو۔ قانونِ شہادت کے آرٹیکلز 140 اور 153 کی روشنی میں، ایف آئی آر کو محض ایک سابقہ بیان (previous statement) سمجھا جاتا ہے، جو صرف اس کے بنانے والے کو متضاد ثابت کرنے (contradiction) کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن جب تک اسے بنانے والا عدالت میں پیش ہو کر ثابت نہ کرے، اسے استغاثہ کے مقدمے میں بطور حتمی شہادت استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا، ایف آئی آر کوئی حتمی شہادت نہیں ہوتی جب تک کہ اس کے بنانے والے کی طرف سے گواہی کے دوران اس کی تصدیق نہ کی جائے، سوائے اس کے کہ وہ کسی ایسے شخص کی رپورٹ پر درج کی گئی ہو جو موت کے قریب ہو۔ ایسی صورت میں ایف آئی آر کو عمومی طور پر "مرنے سے قبل دیا گیا بیان" (dying declaration) کہا جاتا ہے، اور یہ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 46 کے تحت قابلِ قبول شہادت ہوتی ہے۔ تاہم، ایسا بیان بھی کسی دوسرے گواہ کی شہادت کی تائید (corroboration) کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

محمد رمضان بنام ریاست
جیل پٹیشن نمبر 95 آف 2022

قانونی تجزیاتی جائزہ
مرکزی قانونی سوال:
کیا ایف آئی آر (FIR) جو کسی شخص کی رپورٹ پر درج ہو، اس کے خلاف بطور ثبوت استعمال ہو سکتی ہے؟

متعلقہ قانونی دفعات:
1. قانونِ شہادت آرڈر 1984 (Qanun-e-Shahadat Order - QSO):
آرٹیکل 140 – Impeaching credit of witness:
یہ آرٹیکل گواہ کی ساکھ کو چیلنج کرنے کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ اس کے تحت کسی گواہ کے سابقہ بیانات کو استعمال کرتے ہوئے یہ دکھایا جا سکتا ہے کہ وہ غیر معتبر ہے۔

آرٹیکل 153 – Cross-examination as to previous statements in writing:
یہ دفعات اجازت دیتی ہیں کہ کسی گواہ کو اس کے تحریری سابقہ بیان (مثلاً ایف آئی آر) کے بارے میں جرح کے دوران سوالات کیے جائیں، تاکہ تضادات ظاہر کیے جا سکیں۔

آرٹیکل 46 – Statements made under special circumstances (Dying Declaration):
یہ دفعات ان بیانات سے متعلق ہیں جو ایسے شخص نے دیے ہوں جو موت کے قریب ہو۔ ایسے بیانات (یعنی dying declarations) عدالت میں بطور شہادت قابلِ قبول ہوتے ہیں، بشرطیکہ مخصوص شرائط پوری ہوں۔

قانونی نکات کا تجزیاتی جائزہ:
1. ایف آئی آر بذاتِ خود شہادت نہیں:
عدالت نے اس بات کو دہرایا کہ ایف آئی آر "substantive evidence" (حتمی/آزاد شہادت) نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف ایف آئی آر کی موجودگی کسی کو مجرم ٹھہرانے کے لیے کافی نہیں ہے، جب تک کہ:

ایف آئی آر درج کرانے والا عدالت میں گواہی نہ دے،

اور اپنے بیان کی تصدیق حلفاً نہ کرے،

اور اس پر جرح کا حق نہ دیا جائے۔

2. سابقہ بیان کے طور پر استعمال:
ایف آئی آر کو "سابقہ بیان" کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے:

صرف اس کے بنانے والے کو متضاد (contradict) ثابت کرنے کے لیے۔

لیکن اس کی مدد سے مقدمے کا وزن نہیں بڑھایا جا سکتا، جب تک کہ اسے مکمل طور پر ثابت نہ کیا جائے۔

3. Dying Declaration کی استثنا:
اگر کوئی شخص موت کے قریب ہو اور وہ ایف آئی آر جیسا بیان دے، تو وہ "مرنے سے قبل دیا گیا بیان" (Dying Declaration) شمار ہو سکتا ہے، جو کہ آرٹیکل 46 QSO کے تحت قابلِ قبول شہادت ہے۔

لیکن عدالت نے واضح کیا کہ:

Dying declaration کو کسی اور گواہ کی گواہی کی تائید میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک الگ شہادت کے طور پر کھڑا رہتا ہے لیکن corroborative (تائیدی) شہادت کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتا۔

نتیجہ:
FIR بطور شہادت صرف اس صورت میں معتبر ہو سکتی ہے جب اس کا مُحرر (writer) عدالت میں پیش ہو کر اس کی تصدیق کرے اور جرح کے لیے پیش ہو۔

اسے صرف contradiction کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، prosecution کے حق میں خود بخود قابلِ قبول شہادت نہیں۔

Dying declaration
ایک استثنائی صورت ہے، مگر اس کی بھی اپنی حدود ہیں۔
*Regards*
*Sardar Muhammad Raqeeb Khan Advocate High Court*
*District Kechchri Rawalpindi*
03448878445
03475146623

22/04/2025

*"خلع بذریعہ عدالت: طلاق بائن، حلالہ کی عدم ضرورت اور نکاحِ ثانی کا جواز"عدالت کی جانب سے دی گئی خلع کی شرعی و قانونی حیثیت اور اس کے اثرات"قانونِ پاکستان میں عدالتی خلع: قرآن، حدیث، فقہ اور عدالتی نظائر کی روشنی میں"*

*AL-RAQEEB LAW & CITATIONS*

PLD 2011 Lahore 37
فیصلہ ۔۔۔
"بزریعہ عدالت خلع ایک طلاق تصور ہو گی، اس صورت میں عورت بغیر حلالہ کے اسی پہلے شوہر سے نیا نکاح، نیا حق مہر طے کر کے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے"
قانونی پہلوؤں پر تجزیاتی جائزہ ۔۔۔۔۔
1. عدالتی خلع کی نوعیت:
قانونی پس منظر:
پاکستانی قانون میں خلع کی بنیاد مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 اور Family Courts Act 1964 میں فراہم کی گئی ہے۔
خلع کی نوعیت کے بارے میں عدالتیں واضح کر چکی ہیں کہ:

اگر شوہر خلع پر رضا مند نہ ہو اور عدالت عورت کو خلع دے، تو وہ تکمیل خلع کے بعد ایک طلاق بائن (Irrevocable Divorce) شمار ہو گی۔

عدالت کے ذریعے خلع لینے کے بعد عورت عدت گزار کر کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے، اور اگر پہلا شوہر دوبارہ نکاح کا خواہاں ہو، تو نیا نکاح ہو سکتا ہے، بشرطیکہ حلالہ کی ضرورت نہیں ہو گی، کیونکہ یہ تین طلاقیں نہیں تھیں۔

ریفرنس:
PLD 2011 Lahore 37
اس فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ خلع بائن طلاق ہے اور حلالہ کی ضرورت نہیں۔

2. اسلامی اصول اور قرآن و سنت کی روشنی میں:
قرآنی احکام:
سورہ البقرہ، آیت 229:

"الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان..."
(طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو بھلائی سے روک لینا یا اچھے طریقے سے چھوڑ دینا۔)

اسی آیت میں خلع کا ذکر بھی موجود ہے:

"فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به"
(اگر تمہیں خوف ہو کہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، تو عورت کچھ معاوضہ دے کر طلاق لے سکتی ہے۔)

حدیث:
صحیح بخاری: حضرت ثابت بن قیس کی بیوی نے خلع کی درخواست دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کا باغ واپس لے کر نکاح ختم کر دیا۔
(بخاری، کتاب الطلاق، حدیث 5273)

فقہ و محمدن لاء:
محمدن لاء (Mulla’s Principles of Mahomedan Law) کی دفعہ 310 تا 316 کے تحت:

خلع ایک معاہدہ ہے جس میں عورت کچھ مالی معاوضہ دے کر نکاح ختم کراتی ہے۔

اگر شوہر رضا مند نہ ہو اور قاضی خلع دے دے تو یہ طلاق بائن ہوگی۔

فقہ حنفیہ:
اگر عدالت خلع دے دے تو یہ ایک طلاق بائن ہے، اس کے بعد عورت دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے، پہلے شوہر سے بھی نیا نکاح ممکن ہے بغیر حلالہ کے، جب تک تین طلاقیں نہ ہو چکیں۔

3. فتاویٰ جات:
دارالافتاء دارالعلوم دیوبند:
عدالت کی طرف سے دیا گیا خلع طلاق بائن ہے، اور اگر تین طلاقیں نہ ہوئی ہوں تو دوبارہ نکاح ممکن ہے۔

فتاوٰی عالمگیری (جلد 1، باب الطلاق):
خلع، جس میں عدالت تفریق کر دے، طلاق بائن ہے۔

4. نتیجتاً مختصراً ۔۔۔
پہلو تشریح
خلع کی نوعیت طلاق بائن (Irrevocable Divorce)
دوبارہ نکاح کا امکان ممکن ہے، اگر تین طلاقیں نہ ہوئی ہوں
حلالہ کی ضرورت نہیں
عدالت کا کردار خلع بطور طلاق بائن نافذ کرتی ہے، حتیٰ کہ شوہر کی رضا نہ ہو
*Regards Sardar Muhammad Raqeeb Advocate High Court*
*District Kechchri Rawalpindi*
03448878445
03475146623

15/04/2025

ناں و نفقہ کے سالانہ اضافہ سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا نہایت اہم فیصلہ۔

اگر فیملی کورٹ ناں و نفقہ کی ڈگری میں یہ واضح طور پر یہ نہیں قرار دیتی کہ سالانہ اضافہ کب سے لاگو ہوگا تو اس صورت میں سالانہ اضافہ تاریخ ڈگری سے لاگو ہوگا
Although a family court while decreeing a suit qua recovery of maintenance allowance apart from determining the quantum of maintenance allowance will also suggest the annual increase however if the annual increase has to be made applicable retrospectively (as the relevant provision does not lay any embargo in this regard), keeping in view the evidence of the parties, it has to give a categoric finding in this regard justifying the applicability of the increase from a particular date otherwise if the increase is not suggested from a particular date or no increase is suggested, the same shall be deemed to be applicable from the date of decree.

WP 8786/21
Samia Zaman Vs Asad Zaman etc
Mr. Justice Faisal Zaman Khan
15-11-23

2023 LHC 5893

Regards
Sardar Muhammad Raqeeb Khan
Advocate High Court

10/04/2025

*"تحویلِ طفل(Child custody)کے مقدمات میں فلاحِ طفل (Warfare of Child )کی قانونی و عدالتی ترجیح: گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 اور 2025 MLD 401 کے تناظر میں تجزیاتی جائزہ"
*Al-RAQEEB LAW & CITATIONS*

2025 MLD 401
فیصلہ ۔۔۔
عدالت کی سب سے بڑی ترجیح نابالغ بچے کی تحویل کے مقدمات میں اُس کی فلاح و بہبود کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون گارڈین جج کو والدین کے اختیارات (Parens Patriae) کی بنیاد پر ایسے مقدمات میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ قانون کا مقصد صرف بچے کی تحویل دینا نہیں بلکہ اُن تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے جو اس سے متعلقہ ہوں۔

عدالت کی ذمہ داری اور اختیار یہ ہے کہ جب وہ بچے کی تحویل کے سوال پر غور کرے تو وہ بچے کی فلاح و بہبود کو مکمل اور جامع طریقے سے مدنظر رکھے۔ ایسے مقدمات میں "فلاح" کے لفظ کو وسیع ترین مفہوم میں لیا جاتا ہے، جس میں نہ صرف بچے کے مالی اخراجات شامل ہیں بلکہ اُس کی ذہنی و جسمانی صحت، تعلیمی ضروریات، نفسیاتی حالت، مذہبی اور اخلاقی اقدار بھی شامل ہوتی ہیں۔

عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ ایسے مقدمات میں بچے کی بہترین دلچسپی اور صحت مند پرورش کو مقدم رکھیں، چاہے اس کے نتیجے میں والدین کے حقوق کو بعض اوقات ثانوی حیثیت دینا پڑے۔ بلاشبہ بعض مسلم فقہاء کے مطابق نابالغ بیٹے کی سات سال کی عمر تک تحویل ماں کے پاس رہ سکتی ہے اور نابالغ بیٹی کی بلوغت تک، اس کے بعد عمومی طور پر بچوں کی تحویل باپ کو منتقل کر دی جاتی ہے۔

تاہم، یہ ایک مسلمہ قانونی اصول ہے کہ ایسے تمام معاملات میں اولین ترجیح بچے کی بہتری اور فلاح کو دی جائے گی، اور اگر مقدمے کے حالات تقاضا کریں تو ماں کو بھی بچے کی تحویل سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کی تحویل سے متعلق مقدمات میں گارڈین عدالت پر لازم نہیں کہ وہ پیچیدگیوں یا قانونی باریکیوں میں الجھے، بلکہ اُس کی مکمل توجہ صرف اور صرف بچے کی فلاح و بہبود a تک محدود ہونی چاہیے، جو کہ اس نوعیت کے مقدمات میں سب سے اہم عنصر ہے۔

قانونی و آئینی تجزیاتی جائزہ
1. گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کی دفعات:
الف) سیکشن 7 (Appointment of Guardian):
یہ دفعہ عدالت کو اختیار دیتی ہے کہ اگر کوئی بچہ نابالغ ہو اور اس کی مناسب دیکھ بھال نہ ہو رہی ہو، تو عدالت کسی فرد کو بطور سرپرست مقرر کر سکتی ہے۔

ب) سیکشن 17 (Matters to be considered by the Court in appointing guardian):
یہ سب سے اہم دفعہ ہے جو واضح کرتی ہے کہ گارڈین مقرر کرتے وقت عدالت کو بچے کی فلاح و بہبود (welfare of the minor) کو اولین حیثیت دینی ہے۔
اس دفعہ کے مطابق عدالت کو درج ذیل نکات کا خیال رکھنا چاہیے:

بچے کی عمر، جنس اور مذہب

والدین کی خواہشات (اگر موجود ہوں)

بچہ کس حد تک کسی فرد سے وابستہ ہے

ممکنہ گارڈین کا کردار، رویہ اور مالی حیثیت

بچے کی صحت، تعلیم، جذباتی و اخلاقی نشو و نما

تجزیہ:
2025 MLD 401 کے فیصلے میں انہی اصولوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ شرعی اصولوں کے باوجود "فلاحِ طفل" (welfare of the minor) کو مقدم رکھا جائے گا۔

2. مسلم پرسنل لاء کے اصول:
بیٹے کی تحویل:
عام طور پر بیٹے کی تحویل سات سال تک ماں کے پاس رہتی ہے۔
بیٹی کی تحویل:
بیٹی کی تحویل بلوغت تک ماں کے پاس رہتی ہے۔

لیکن اسلامی قانون بھی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر ماں فلاحِ طفل کے لیے موزوں نہ ہو تو باپ یا کوئی اور ذمہ دار فرد ترجیحی حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔

تجزیہ:
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ شرعی اصول حتمی نہیں بلکہ عدالت فلاحِ طفل کے مفاد میں ماں یا باپ دونوں کی تحویل کو رد یا قبول کر سکتی ہے۔

3. آئین پاکستان کا آرٹیکل 35 (تحفظِ خاندان):
ریاست پر لازم ہے کہ وہ خاندان، ماں، بچے اور والد کی فلاح و تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔

تجزیہ:
یہ آئینی شق عدالتوں کو یہ اخلاقی اور قانونی جواز دیتی ہے کہ وہ بچوں کی بہتر پرورش کے لیے ہر ممکن اقدام کریں، چاہے اس کے نتیجے میں روایتی خاندانی بندھن متاثر ہوں۔

4. عدالتی نظیریں (Case Law):
PLD 2011 SC 119 (Gulistan Bibi Case):
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ "فلاحِ طفل" کو کسی بھی دیگر اصول پر فوقیت حاصل ہے۔

2004 SCMR 1396:
عدالت نے واضح کیا کہ بچے کی تعلیم، جذباتی وابستگی، اور ماحولیاتی صحت کو فوقیت حاصل ہے۔

نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔۔
مذکورہ قانونی دفعات اور عدالتی اصولوں کے مطابق عدالتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ فلاح و بہبودِ طفل کو ہر فیصلے میں اولین حیثیت دیں، چاہے وہ والدین کے شرعی یا قانونی دعوے سے مختلف ہو۔ "گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890" کی دفعہ 17 بنیادی قانونی ستون کے طور پر سامنے آتی ہے۔

2025 MLD 401 اسی اصول کی توسیع ہے جہاں عدالت نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ "والدین کا حق نہیں بلکہ بچے کا مفاد مقدم ہے۔"

*Regards*

*Sardar Muhammad Raqeeb Advocate High Court*

09/04/2025

*"نظرثانی درخواستوں میں ’sufficient cause‘ کا تصور: عدالتی نظائر کی روشنی میں"/Limitations in Civil Revisions: A Critical Analysis of Judicial Discipline under Article 162-A"/Past and Closed Transactions: تاخیر سے دائر درخواستوں کا انجام"*

*AL-Raqeeb LAW & CITATIONS*

PLJ 2025 Civil (Note) 57

تاخیر کی معافی کی درخواست—مسترد—بیماری کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا—مدت گزر چکی—درخواست گزاروں نے موجودہ سول نظرثانی درخواست 122 دن بعد دائر کی، جبکہ آرٹیکل 162-A، قانون برائے حدود (Limitation Act) 2018، صرف 90 دن کی مدت فراہم کرتا ہے فیصلے کی تاریخ سے، جسے نظرثانی کے لیے چیلنج کیا جا رہا ہو—لہٰذا یہ نظرثانی درخواست 32 دن تاخیر کا شکار تھی—درخواست کے ساتھ درخواست گزار نمبر 2 کی بیماری کا کوئی ثبوت منسلک نہیں کیا گیا اور محض درخواست گزار کی عمر رسیدہ ہونے کا ذکر، قابل قبول عذر نہیں—دفتر کی کارروائی سے لاعلمی تاخیر کی معافی کا معقول جواز نہیں بن سکتی، لہٰذا اس تاخیر کو معاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ قانونی مدت ختم ہونے کے بعد زیر نظر فیصلے
"past and closed transaction"
بن چکے تھے—قانونِ حد (Law of Limitation) کو اس شخص کی مدد کے لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو اپنے حقوق کی خلاف ورزی پر سوتا رہا—یہ درخواست واضح طور پر مدت سے باہر (time-barred) تھی، لہٰذا اس میں اٹھائے گئے نکات کو میرٹ پر سننے کی ضرورت ہی نہ تھی—

MUHAMMAD ANWAR بنام SHAHADAT ALI
C.R. No. 61696 of 2024
M.farooq Khilji Advocate
قانونی تجزیہ متعلقہ قوانین، خاص طور پر قانون حدود 2018 (Limitation Act, 2018) اور عدالتی نظائر کی روشنی میں ۔۔۔۔۔

قانونی تجزیہ: PLJ 2025 Civil (Note) 57
1. تاخیر سے دائر درخواست اور دفعہ 162-A کا اطلاق:

درخواست گزاروں نے 122 دن بعد سول نظرثانی درخواست دائر کی، جبکہ دفعہ 162-A قانون حدود 2018 کے مطابق سول نظرثانی کے لیے زیادہ سے زیادہ مدت 90 دن مقرر کی گئی ہے:

دفعہ 162-A: "Civil Revision shall be filed within ninety (90) days from the date of decree or order sought to be revised."

لہٰذا، درخواست 32 دن کی تاخیر کے ساتھ دائر کی گئی، جو کہ قانون کے تحت ناقابل قبول ہے جب تک کہ معقول وجہ نہ ہو۔

2. تاخیر کی معافی (Condonation of Delay) کا قانونی معیار:

تاخیر کی معافی کے لیے عدالت عمومی طور پر "sufficient cause" کا جائزہ لیتی ہے۔ سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدالتوں کے مطابق:

"The applicant must show sufficient cause for not filing the petition within time. Mere negligence, ignorance of law or office procedure does not constitute sufficient cause."
(PLD 2012 SC 6, PLD 2007 SC 302)

اس کیس میں:

بیماری کا کوئی ثبوت یا میڈیکل ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔

محض عمر رسیدگی کو عذر بنایا گیا جو کہ ناقابل قبول ہے۔

عدالتی عمل (Office Process) سے لاعلمی کو جواز بنایا گیا، جو کہ نظائر کے مطابق قابل قبول وجہ نہیں۔

3. قانونِ حدود کی سختی (Rigidity of Limitation Law):

عدالتوں کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ قانونِ حدود ایک سخت اور ناقابل لچک قانون ہے:

"Limitation may harshly affect a right but it has to be applied regardless of the result."
(PLD 2005 SC 418)

لہٰذا، کسی بھی درخواست گزار کو سستی یا لاپرواہی کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔
یہ قاعدہ کہتا ہے کہ "law helps the vigilant and not those who sleep over their rights."

4. فیصلے کا قانونی اثر:

چونکہ مقررہ مدت ختم ہو چکی تھی اور تاخیر معاف کرنے کے لیے کوئی "sufficient cause" موجود نہ تھا، عدالت نے درست طور پر درخواست کو سنے بغیر برخاست (dismiss) کر دیا۔
یہ بھی کہا گیا کہ جب قانوناً مدت ختم ہو جائے، تو فیصلہ "past and closed transaction" بن جاتا ہے، جسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔
اس کیس میں:

درخواست قانوناً وقت کی قید (Time-Barred) میں آتی ہے؛

دفعہ 162-A کے مطابق مدت کی خلاف ورزی کی گئی؛

تاخیر کی کوئی معقول وجہ پیش نہ کی جا سکی؛

عدالت نے قانون کی روشنی میں درست طور پر تاخیر معاف کرنے سے انکار کیا۔

یہ فیصلہ نہ صرف قانونِ حدود 2018 کی روح کے عین مطابق ہے بلکہ عدالتی نظائر کے تسلسل کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
*Regards*

*Sardar Muhammad Raqeeb Khan*
*Advocate High Court*

(*Rawalpindi*)

08/04/2025

*"تفتیشی اختیارات، کالم نمبر 2 کی قانونی حیثیت، اور عدالتی صوابدید: دفعہ 169 و 173 ض ف کا تجزیاتی مطالعہ"*

(PLD 2025 Peshawar 62)

تفتیشی رپورٹ --- کالم نمبر 2 میں نام --- آئینی درخواست:

شکایت کنندہ (Complainant) اس بات پر نالاں تھا کہ تفتیشی افسر نے قتل عمد (qatl-i-amd) اور اقدامِ قتل (attempt to commit qatl-i-amd) کے مقدمے میں ملزم کا نام تفتیشی رپورٹ کے کالم نمبر 2 میں رکھا ہے۔

جواز (Validity):

تفتیشی نظام کے تحت، پولیس افسر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر اُسے یہ محسوس ہو کہ ملزم کے خلاف شواہد ناکافی ہیں یا اس کے خلاف معقول شک کا کوئی جواز موجود نہیں، تو وہ دفعہ 169 ض ف (Cr.P.C. S.169) کے تحت ملزم کو ضمانت پر رہا کر سکتا ہے۔

تاہم، یہ بات نہایت اہم ہے کہ پولیس کا یہ اختیار ٹرائل کورٹ (Trial Court) کے اختیارات کے مترادف نہیں۔ ٹرائل کورٹ کا کام ہوتا ہے کہ وہ استغاثہ (Prosecution) اور صفائی (Defence) کے شواہد کا عدالتی پیمانے پر جائزہ لے کر یہ فیصلہ کرے کہ کس پر اعتبار کیا جائے اور کس کو مسترد کیا جائے۔

دفعہ 173(3) ض ف (Cr.P.C. S.173(3)) کے تحت مجسٹریٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ پولیس رپورٹ ملنے کے بعد، جس میں بتایا گیا ہو کہ ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے، ضمانت ختم کرنے یا دیگر مناسب احکامات جاری کرے۔

پولیس کی اپنی رائے (Ipse dixit) عدالت پر لازم نہیں، بلکہ عدالت ہی کو حتمی اختیار حاصل ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ ملزم کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے، خواہ اس کا نام چالان کے کالم نمبر 2 میں ہو۔

چالان کے کالم نمبر 2 میں جواب دہندہ / ملزم کا نام رکھنا تھانے کے انچارج افسر کے قانونی اختیارات میں شامل ہے، لہٰذا اس میں کوئی دائرہ اختیار کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

اب اختیار مجسٹریٹ کے پاس ہے کہ وہ ریکارڈ دیکھنے کے بعد قانون کے مطابق مناسب احکامات جاری کرے، چاہے وہ ضمانت خارج کرنے سے متعلق ہوں یا دیگر نوعیت کے۔

دفعہ 169 ض ف کے تحت ملزم کی رہائی کا مطلب بریت (Acquittal) نہیں ہوتا، اور نہ ہی مجسٹریٹ یا ٹرائل کورٹ پولیس کی بات ماننے کے پابند ہوتے ہیں جب تک وہ خود ریکارڈ کا آزادانہ جائزہ نہ لے لیں۔

چونکہ مقدمے میں چالان جمع ہو چکا ہے، اس لیے عدالت نے یہ معاملہ متعلقہ فورم پر چھوڑ دیا کہ وہ قانون کے مطابق حالات کے پیش نظر مناسب احکامات جاری کرے۔

PLD 2025 Peshawar 62

کے فیصلے میں جو قانونی نکات اور دفعات زیر بحث آئے ہیں، ان کا تجزیاتی جائزہ

1. دفعہ 169 ضابطہ فوجداری (Criminal Procedure Code - Cr.P.C.)
متن: اگر پولیس افسر کی رائے میں تفتیش کے بعد ایسا کوئی ثبوت یا معقول شک کی بنیاد موجود نہیں جس کی بنا پر ملزم کو مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا جائے، تو وہ ملزم کو ایک ضمانتی بند پر رہا کر سکتا ہے کہ جب اسے طلب کیا جائے گا، وہ عدالت میں پیش ہو گا۔

تجزیہ:

اس دفعہ کا مقصد تفتیشی افسر کو یہ اختیار دینا ہے کہ اگر شواہد ناکافی ہوں تو ملزم کو گرفتار رکھنا ضروری نہیں۔

مگر یہ رہائی مشروط ہے، مستقل نہیں، اور اسے "بری" تصور نہیں کیا جا سکتا۔

پولیس کا یہ فیصلہ عدالت پر لازم نہیں۔

2. دفعہ 173(3) ض ف (Cr.P.C.)
متن: جب پولیس رپورٹ (چالان) عدالت کو پیش کر دی جائے اور اس میں بتایا جائے کہ ملزم کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے، تو مجسٹریٹ کو اختیار ہے کہ وہ ضمانت خارج کرے یا دیگر مناسب احکامات دے۔

تجزیہ:

پولیس رپورٹ میں کالم نمبر 2 میں ایسے افراد کے نام شامل کیے جاتے ہیں جنہیں تفتیشی افسر بے گناہ سمجھتا ہے۔

تاہم، عدالت پابند نہیں کہ پولیس کی اس رائے کو قبول کرے۔

مجسٹریٹ رپورٹ اور شواہد کا جائزہ لے کر خود فیصلہ کرتا ہے کہ کیس چلایا جائے یا نہیں۔

3. عدالتی اختیارات بمقابلہ تفتیشی اختیارات
تجزیہ:

تفتیشی افسر صرف ثبوت اکٹھا کرتا ہے، جبکہ عدالت ان ثبوتوں کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کرتی ہے۔

عدالت ایک "Judicial Forum" ہے، جو قانون کے تحت غیر جانبداری سے تمام شواہد کا جائزہ لیتی ہے۔

پولیس کی رائے، عدالت پر binding نہیں ہوتی (یعنی لازم نہیں کہ عدالت اسے تسلیم کرے)۔

4. کالم نمبر 2 کی قانونی حیثیت
تعریف:

چالان (پولیس رپورٹ) کے کالم نمبر 2 میں ان افراد کے نام شامل کیے جاتے ہیں جنہیں پولیس بے گناہ سمجھتی ہے لیکن عدالت ان کے خلاف کارروائی جاری رکھ سکتی ہے۔

قانونی موقف:

کالم نمبر 2 میں نام آنے سے نہ تو کوئی ملزم بری ہوتا ہے، نہ ہی اس کے خلاف کارروائی بند ہوتی ہے۔

عدالت کسی بھی وقت اس شخص کو طلب کر سکتی ہے اور کارروائی کا آغاز کر سکتی ہے۔

مجسٹریٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ ایسے شخص کو طلب کر کے مقدمے کا سامنا کرنے کا حکم دے۔

5. عدالتی نظیر
(Case Law Impact):
PLD 2025 Peshawar 62
کا اصولی مؤقف:

عدالت نے واضح کیا کہ کالم نمبر 2 میں نام رکھنا پولیس کا قانونی اختیار ہے، لیکن یہ عدالت کو پابند نہیں کرتا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شخص بے گناہ ہو چکا ہے۔

مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ آزاد ہیں کہ وہ شواہد دیکھ کر اپنی رائے قائم کریں۔

نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔
قانون کے مطابق:

قانونی نکتہ ذمہ دار ادارہ اختیارات
دفعہ 169 پولیس ملزم کو عبوری ضمانت پر چھوڑنا
دفعہ 173(3) مجسٹریٹ چالان دیکھ کر مناسب حکم دینا
کالم نمبر 2 پولیس / عدالت بے گناہی کی تجویز، لیکن عدالت پر لازم نہیں
مقدمہ چلانے یا نہ چلانے کا اختیار عدالت شواہد کے جائزے کے بعد آزادانہ فیصلہ

*Regards*
*Sardar Muhammad Raqeeb Khan Advocate High Court*

08/04/2025

*Have A Nice Day*
*2025 MLD385*
Second marriage contracted by husband without permission of first wife... Delay of more then three years in filing the complaint is fatal ,the complaint was filled in the court of Magistrate who was not competent to adjudicate upon the matter , only family court was given the exclusive jurisdiction to entertain and adjudicate upon the matter, appeal against conviction was allowed.
*Regards*
*Sardar Muhammad Raqeeb Khan Advocate High Court*

07/04/2025

*AL-Raqeeb Law and citation*

Combined study and critical analysis of S.3 PPC, 188 and 403 CrPC leads to an inference that if a person commits any offence in a foreign country, which is also an offence under the Pakistan Penal Code, he may be tried or convicted in Pakistan in the same manner as if the offence was committed within Pakistan.

Section 188 of Cr.P.C. does not create any bar to the registration of a crime report under section 154 of Cr.P.C. in Pakistan for an offence committed by a citizen of Pakistan abroad.

So far as Section 403 of Cr.P.C. is concerned, the protection available there under can be claimed by an accused only if he has been tried for a crime by a court of competent jurisdiction and he is thereafter convicted or acquitted of the charge and that conviction/acquittal remains intact.

Record speaks that when petitioner committed embezzlement in Masqat/Oman, he immediately transferred certain amounts into his bank account at Pakistan and bank account of his wife. Petitioner, being an employee of complainant was entrusted with cash, diamond ring and bank card, which he misappropriated and converted the same to his own use in flagrant violation of his duties as an employee. He breached the trust of his employer/complainant. Ingredients of offence of criminal breach of trust prescribed in section 405 of PPC were fully attracted.
Crl. Misc. No.7151-B/2025.
Muhammad Irshad Vs State
2025 LHC 1359

05/04/2025

سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں ریونیو ریکارڈ میں بے ضابطگیاں اور ان کے قانونی مضمرات/ذمین کی ملکیت اور ریونیو ریکارڈ: قانونی پیچیدگیاں اور ممکنہ حل/کاشت کے خانے میں فروخت کے اندراجات: قانونی تجزیہ اور اصلاحات

2025 SCMR 211
PLJ 2025 SC 89

فیصلہ ۔۔۔
یہ معاملہ خاص طور پر ریونیو ریکارڈ کے اندراجات سے متعلق ہے، خاص طور پر کاشت کے خانے میں درج فروخت کے اندراجات، جو ریونیو کے معاملات میں کئی مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ یہ اندراجات نئی جمع بندیوں کی تیاری کے وقت ملکیت کے متعلقہ خانوں میں بروقت اپڈیٹ نہیں کیے جاتے۔

ریونیو ریکارڈ میں، خاص طور پر کاشت کے خانے میں اس طرح کے اندراجات کے نتیجے میں، درج شدہ مالکان ریونیو حکام کی ملی بھگت سے اپنے حصے صرف کاغذی طور پر فروخت کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں خریداروں کو موقع پر کچھ بھی فراہم نہیں کیا جاتا۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف درج شدہ مالکان اور درمیانی افراد، جن میں اکثر ریونیو کے اہلکار شامل ہوتے ہیں، مالی فوائد حاصل کرتے ہیں بلکہ غیر قانونی قابضین بھی موقع پر اپنی غیر قانونی قبضے کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

کاشت کے خانے میں فروخت کے اندراج کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ متعلقہ مالکان کے نام ملکیت کے خانے میں جوں کے توں برقرار رہتے ہیں، اور بعض اوقات وہ انہی اندراجات کی بنیاد پر جائیداد کو دوبارہ فروخت کر دیتے ہیں۔ اس طریقہ کار کو جلد از جلد تبدیل اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تمام صوبوں کے سینئر ممبران، بورڈ آف ریونیو کو متعدد بار کہا جا چکا ہے کہ وہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے اقدامات کریں تاکہ عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مزید برآں، زرعی زمینوں کی نوعیت اور کردار میں تبدیلی (زرعی سے رہائشی میں تبدیل ہونے) کی صورت میں انہیں باقاعدہ طور پر ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے دائرہ کار سے خارج کیا جانا چاہیے، جیسا کہ سیکشن 3 میں فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ایسے علاقوں میں مزید لین دین کو رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے تحت منظم اور کنٹرول کیا جانا چاہیے، نہ کہ 1967 کے ایکٹ کے تحت۔ اس عمل سے نہ صرف عوام کے مسائل اور پریشانیاں کم ہوں گی بلکہ حکام کو بھی ریکارڈ کی دیکھ بھال میں آسانی ہوگی۔

امجد علی اور دیگر بمقابلہ انور شاہ اور دیگر
C.P.L.A. 223-P of 2015
M.farooq Khilji Advocate
یہ معاملہ بنیادی طور پر ریونیو ریکارڈ میں موجود تضادات اور بے ضابطگیوں سے متعلق ہے، جو زمین کی ملکیت اور قبضے کے حوالے سے مختلف قانونی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔ اس تجزیے میں درج ذیل قانونی نکات کا جائزہ لیا جائے گا:

1. ریونیو ریکارڈ میں کاشت کے خانے میں فروخت کا اندراج اور اس کے اثرات
(i) ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 (WPLRA)
سیکشن 42: اس سیکشن کے تحت، ریونیو حکام کا یہ فرض ہے کہ وہ زمین کے مالکانہ حقوق اور متعلقہ تبدیلیوں کو درست طور پر ریکارڈ کریں۔ اگر کاشت کے خانے میں فروخت کے اندراجات ملکیت کے خانے میں اپڈیٹ نہیں کیے جاتے تو یہ ریونیو حکام کی کوتاہی اور بدانتظامی ہے۔

سیکشن 53 اور 54: یہ دفعات زمین کے انتقال اور اس کے اندراج سے متعلق ہیں۔ کاشت کے خانے میں فروخت کے اندراجات کو ملکیت کے خانے میں منتقل نہ کرنا، خریدار کے حقوق کو کمزور کرتا ہے اور بددیانتی کو فروغ دیتا ہے۔

(ii) قانونِ شہادت، 1984
(Qanun-e-Shahadat Order, 1984)
آرٹیکل 100 اور 103: ان دفعات کے تحت ریونیو ریکارڈ ایک ثبوت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ تاہم، اگر ریکارڈ میں غلط اندراجات موجود ہوں، تو یہ قانونی کارروائی میں پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے اور اصل مالکان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

2. ریونیو حکام کی ملی بھگت اور غیر قانونی فوائد
(i) پاکستان پینل کوڈ، 1860 (PPC)
سیکشن 420 (دھوکہ دہی): اگر کوئی مالک یا ریونیو اہلکار بدنیتی سے زمین کے ملکیت کے حقوق کو غلط طریقے سے ظاہر کرے اور اس بنیاد پر فروخت کا معاہدہ کرے، تو یہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آئے گا۔

سیکشن 218 (غلط اندراج کرنا): اگر کوئی سرکاری اہلکار جان بوجھ کر ریونیو ریکارڈ میں غلط بیانی کرتا ہے تو اسے قانونی سزا دی جا سکتی ہے۔

(ii) نیشنل اکاؤنٹیبلٹی آرڈیننس، 1999 (NAB Ordinance)
سیکشن 9(a) (بدعنوانی اور غیر قانونی فوائد حاصل کرنا): اگر ریونیو اہلکار بدعنوانی میں ملوث ہوں اور مالی فوائد حاصل کریں، تو نیب ان کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔

3. کاشت کے خانے میں فروخت کے اندراج کے باعث دوہری فروخت کا امکان
(i) ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ، 1882
(Transfer of Property Act, 1882)
سیکشن 41: اگر کوئی شخص، جس کا نام ریونیو ریکارڈ میں ملکیت کے طور پر برقرار ہے، دوسری بار وہی زمین فروخت کر دے، تو یہ اصولِ انصاف کے خلاف ہوگا، اور خریدار کے حقوق کو متاثر کرے گا۔

سیکشن 52 (Lis Pendens کا اصول): اگر زمین پہلے ہی فروخت کی جا چکی ہو، اور دوسری بار فروخت کی جا رہی ہو، تو پہلی خریداری کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

(ii) اسپیسفک ریلیف ایکٹ، 1877
(Specific Relief Act, 1877)
سیکشن 42: اگر کوئی خریدار، جس نے پہلی فروخت پر عمل درآمد کیا ہو، اپنے حقوق کا تحفظ چاہے، تو وہ عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر سکتا ہے تاکہ دوسری غیر قانونی فروخت روکی جا سکے۔

4. زرعی زمین کی رہائشی میں تبدیلی اور اس کے قانونی تقاضے
(i) ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967
سیکشن 3: اس سیکشن کے تحت، اگر کوئی زرعی زمین رہائشی یا کمرشل میں تبدیل ہو جائے، تو اسے ریونیو قوانین سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اکثر یہ تبدیلی باضابطہ نہیں کی جاتی، جس سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔

(ii) رجسٹریشن ایکٹ، 1908
(Registration Act, 1908)
سیکشن 17: اس ایکٹ کے تحت، تمام غیر منقولہ جائیداد کے معاہدے رجسٹریشن کے ذریعے قانونی طور پر مستحکم ہونے چاہئیں۔ اگر زمین کی نوعیت زرعی سے رہائشی میں تبدیل ہو چکی ہے، تو اس کا لین دین لینڈ ریونیو ایکٹ کے بجائے رجسٹریشن ایکٹ کے تحت ہونا چاہیے۔

(iii) ٹاؤن پلاننگ اور لوکل گورنمنٹ قوانین
اگر زمین زرعی سے رہائشی میں تبدیل ہو جائے، تو متعلقہ میونسپل اتھارٹی یا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی
(مثلاً، LDA، CDA، KDA) کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ بغیر اجازت رہائشی مقاصد کے لیے زرعی زمین کا استعمال قانون کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔

5. قانونی حل اور بہتری کے اقدامات
ریونیو ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن: تاکہ تمام فروخت اور ملکیت کی منتقلی فوری اور شفاف طریقے سے اپڈیٹ ہو سکے۔

ریونیو حکام کی نگرانی: نیب اور اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے ریونیو اہلکاروں کی جانچ پڑتال کی جائے تاکہ کرپشن کا سدباب ہو۔

دوہری فروخت کے خلاف سخت قانون سازی: تاکہ ایک ہی جائیداد کی بار بار فروخت پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکے۔

زرعی زمینوں کی بروقت کٹیگری تبدیلی: جو زمین زرعی سے رہائشی میں تبدیل ہو رہی ہو، اسے فوری طور پر ریونیو قوانین سے خارج کرکے رجسٹریشن قوانین کے دائرے میں لایا جائے۔

متاثرہ افراد کے لیے قانونی چارہ جوئی کے طریقہ کار کو آسان بنانا: تاکہ خریدار اپنے حقوق کا تحفظ جلدی اور مؤثر طریقے سے کر سکیں۔

نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔۔
یہ معاملہ بنیادی طور پر ریونیو ریکارڈ کے غیر شفاف نظام اور بدعنوانی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967، رجسٹریشن ایکٹ، 1908، اور پاکستان پینل کوڈ، 1860 جیسے قوانین کا صحیح نفاذ ضروری ہے تاکہ زمین کے حقیقی مالکان کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور غیر قانونی قابضین اور ریونیو اہلکاروں

05/04/2025

PLD 2024 sc 645

خُلع اسلامی عائلی قوانین کے تحت عورت کا ایک بنیادی حق ہے۔ خُلع کا حق عورت کا خصوصی اور مطلق حق ہے، جس کے لیے عورت کو عدالت کے سامنے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں اپنا ارادہ
ظاہر کرنا ضروری ہے۔ یعنی، اسے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا کہ وہ شادی سے اپنی آزادی چاہتی ہے اور اس کے لیے مہر کو چھوڑنے پر تیار ہے۔ صرف اس صورت میں عدالت خلع کا حکم دے سکتی ہے۔

اصولی طور پر، خلع اُس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب تک عورت نے واضح طور پر اس کا مطالبہ نہ کیا ہو، کیونکہ عورت کو مہر کا حق چھوڑنا پڑتا ہے۔ لہٰذا، اگر عورت نے خلع کا مطالبہ نہیں کیا، تو عدالت خود سے خلع کا فیصلہ نہیں دے سکتی۔ اس لیے عورت کی رضامندی اس معاملے میں نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ (پی ایل ڈی 2024 سپریم کورٹ 645)

خلع اور حلالہ: چونکہ خلع عورت کا ایک خاص اور منفرد حق ہے جو مرد کو دستیاب نہیں، اس لیے عورت خلع کی بنیاد پر شادی کے خاتمے کی درخواست کر سکتی ہے۔ خلع کے نتیجے میں وہ دوبارہ اسی مرد سے شادی کر سکتی ہے، بغیر کسی درمیانی یا ثالثی نکاح یعنی حلالہ کے۔ (پی ایل ڈی 2024 سپریم کورٹ 645)

Address

Chamber No 64, Ist Floor, Khawaja Sharif Block District Courts Rawalpindi
Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al - Raqeeb law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share