22/04/2025
*سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلہ کی روشنی میں "FIR کی قانونی حیثیت اور شہادت کے طور پر اس کا استعمال: ایک تجزیاتی جائزہ قانونِ شہادت آرڈر 1984 کی روشنی میں"*
*AL-RAQEEB LAW & CITATIONS*
2025 SCMR 762
کیا ایف آئی آر درخواست گزار کی رپورٹ پر درج کی گئی تھی اور اگر ہاں، تو کیا اسے اس کے خلاف بطور ثبوت استعمال کیا جا سکتا ہے؟
یہ ایک طے شدہ قانونی اصول ہے کہ ایف آئی آر بذاتِ خود کوئی حتمی شہادت (substantive evidence) نہیں ہے، جب تک کہ اس کے مندرجات کو اس کے بنانے والے نے گواہی کے دوران حلفیہ بیان کے ذریعے تصدیق نہ کیا ہو اور اسے جرح (cross-examination) کے مرحلے سے نہ گزارا گیا ہو۔ قانونِ شہادت کے آرٹیکلز 140 اور 153 کی روشنی میں، ایف آئی آر کو محض ایک سابقہ بیان (previous statement) سمجھا جاتا ہے، جو صرف اس کے بنانے والے کو متضاد ثابت کرنے (contradiction) کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن جب تک اسے بنانے والا عدالت میں پیش ہو کر ثابت نہ کرے، اسے استغاثہ کے مقدمے میں بطور حتمی شہادت استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا، ایف آئی آر کوئی حتمی شہادت نہیں ہوتی جب تک کہ اس کے بنانے والے کی طرف سے گواہی کے دوران اس کی تصدیق نہ کی جائے، سوائے اس کے کہ وہ کسی ایسے شخص کی رپورٹ پر درج کی گئی ہو جو موت کے قریب ہو۔ ایسی صورت میں ایف آئی آر کو عمومی طور پر "مرنے سے قبل دیا گیا بیان" (dying declaration) کہا جاتا ہے، اور یہ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 46 کے تحت قابلِ قبول شہادت ہوتی ہے۔ تاہم، ایسا بیان بھی کسی دوسرے گواہ کی شہادت کی تائید (corroboration) کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
محمد رمضان بنام ریاست
جیل پٹیشن نمبر 95 آف 2022
قانونی تجزیاتی جائزہ
مرکزی قانونی سوال:
کیا ایف آئی آر (FIR) جو کسی شخص کی رپورٹ پر درج ہو، اس کے خلاف بطور ثبوت استعمال ہو سکتی ہے؟
متعلقہ قانونی دفعات:
1. قانونِ شہادت آرڈر 1984 (Qanun-e-Shahadat Order - QSO):
آرٹیکل 140 – Impeaching credit of witness:
یہ آرٹیکل گواہ کی ساکھ کو چیلنج کرنے کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ اس کے تحت کسی گواہ کے سابقہ بیانات کو استعمال کرتے ہوئے یہ دکھایا جا سکتا ہے کہ وہ غیر معتبر ہے۔
آرٹیکل 153 – Cross-examination as to previous statements in writing:
یہ دفعات اجازت دیتی ہیں کہ کسی گواہ کو اس کے تحریری سابقہ بیان (مثلاً ایف آئی آر) کے بارے میں جرح کے دوران سوالات کیے جائیں، تاکہ تضادات ظاہر کیے جا سکیں۔
آرٹیکل 46 – Statements made under special circumstances (Dying Declaration):
یہ دفعات ان بیانات سے متعلق ہیں جو ایسے شخص نے دیے ہوں جو موت کے قریب ہو۔ ایسے بیانات (یعنی dying declarations) عدالت میں بطور شہادت قابلِ قبول ہوتے ہیں، بشرطیکہ مخصوص شرائط پوری ہوں۔
قانونی نکات کا تجزیاتی جائزہ:
1. ایف آئی آر بذاتِ خود شہادت نہیں:
عدالت نے اس بات کو دہرایا کہ ایف آئی آر "substantive evidence" (حتمی/آزاد شہادت) نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف ایف آئی آر کی موجودگی کسی کو مجرم ٹھہرانے کے لیے کافی نہیں ہے، جب تک کہ:
ایف آئی آر درج کرانے والا عدالت میں گواہی نہ دے،
اور اپنے بیان کی تصدیق حلفاً نہ کرے،
اور اس پر جرح کا حق نہ دیا جائے۔
2. سابقہ بیان کے طور پر استعمال:
ایف آئی آر کو "سابقہ بیان" کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے:
صرف اس کے بنانے والے کو متضاد (contradict) ثابت کرنے کے لیے۔
لیکن اس کی مدد سے مقدمے کا وزن نہیں بڑھایا جا سکتا، جب تک کہ اسے مکمل طور پر ثابت نہ کیا جائے۔
3. Dying Declaration کی استثنا:
اگر کوئی شخص موت کے قریب ہو اور وہ ایف آئی آر جیسا بیان دے، تو وہ "مرنے سے قبل دیا گیا بیان" (Dying Declaration) شمار ہو سکتا ہے، جو کہ آرٹیکل 46 QSO کے تحت قابلِ قبول شہادت ہے۔
لیکن عدالت نے واضح کیا کہ:
Dying declaration کو کسی اور گواہ کی گواہی کی تائید میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک الگ شہادت کے طور پر کھڑا رہتا ہے لیکن corroborative (تائیدی) شہادت کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتا۔
نتیجہ:
FIR بطور شہادت صرف اس صورت میں معتبر ہو سکتی ہے جب اس کا مُحرر (writer) عدالت میں پیش ہو کر اس کی تصدیق کرے اور جرح کے لیے پیش ہو۔
اسے صرف contradiction کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، prosecution کے حق میں خود بخود قابلِ قبول شہادت نہیں۔
Dying declaration
ایک استثنائی صورت ہے، مگر اس کی بھی اپنی حدود ہیں۔
*Regards*
*Sardar Muhammad Raqeeb Khan Advocate High Court*
*District Kechchri Rawalpindi*
03448878445
03475146623