Lead Law Experts & Tax Consultants

Lead Law Experts & Tax Consultants "حق کے راستے میں اگر ساری کائنات بھی تمہارے خلاف ہو
تو ?

18/05/2026

PLD 2026 Supreme Court 238
آسان اردو ترجمہ اور مکمل تشریح
Supreme Court of Pakistan
یہ فیصلہ بچوں کی حوالگی (Custody) اور ان کے بہترین مفاد کے بارے میں سپریم کورٹ پاکستان کا ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ عدالت نے اس میں بچوں کے حقوق، ان کی رائے، ان کی ذہنی و جذباتی حالت، اور جدید دور کے تقاضوں کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔
فیصلے کا ابتدائی جملہ
عدالت نے کہا:
“بچے کل کے انسان نہیں بلکہ آج کے انسان ہیں، اس لیے ان کی بات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔”
یعنی بچے صرف مستقبل کا حصہ نہیں بلکہ آج بھی ان کے حقوق موجود ہیں اور ان کی بات اہم ہے۔
مقدمے کے مختصر حقائق
دو بچے تھے جن کی عمریں تقریباً 7 اور 8 سال تھیں۔
ماں نے بچوں کی کسٹڈی کے لیے عدالت میں درخواست دی۔
پہلے فیملی کورٹ نے ماں کی درخواست مسترد کر دی اور صرف ملاقات کا حق دیا۔
بعد میں اپیل میں ماں کو بچوں کی کسٹڈی دے دی گئی۔
باپ نے ہائی کورٹ میں اپیل کی لیکن وہ بھی خارج ہوگئی۔
پھر باپ سپریم کورٹ گیا۔
سپریم کورٹ نے بھی ماں کے حق میں فیصلہ برقرار رکھا۔
Review اور Child Justice
عدالت نے کہا:
عام طور پر Review Petition کا دائرہ محدود ہوتا ہے، لیکن اس کیس میں بچوں کے بنیادی حقوق شامل تھے، اس لیے عدالت نے دوبارہ معاملہ دیکھا۔
عدالت نے خاص طور پر:
UN Convention on the Rights of the Child 1989
کا حوالہ دیا۔
United Nations
Article 3 کیا کہتا ہے؟
ہر ایسے معاملے میں جس کا تعلق بچے سے ہو:
بچے کا بہترین مفاد سب سے پہلی ترجیح ہوگا۔
Article 12 کیا کہتا ہے؟
ہر بچے کو حق ہے کہ:
وہ اپنی رائے دے،
اس کی بات سنی جائے،
اور اس کی عمر اور سمجھ کے مطابق اس کی رائے کو اہمیت دی جائے۔
عدالت نے کہا پہلے بچوں کی بات نہیں سنی گئی
سپریم کورٹ نے کہا:
پہلے کی کارروائی میں بچوں کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا، جو کہ ایک بڑی کمی تھی۔
اس لیے سپریم کورٹ نے:
خود بچوں سے ملاقات کی،
ان سے بات کی،
ان کی ذہنی کیفیت دیکھی،
ان کی خواہشات سنیں۔
Guardians and Wards Act 1890 کی نئی تشریح
عدالت نے کہا:
یہ قانون انگریز دور کا ہے، اس وقت بچوں کو صرف بڑوں کی نگرانی کی چیز سمجھا جاتا تھا۔
لیکن اب دور بدل چکا ہے۔
اب عدالت کو:
جدید انسانی حقوق،
بچوں کے حقوق،
اور آئینی اصولوں
کے مطابق قانون کی تشریح کرنی ہوگی۔
“Welfare of Minor” کا جدید مطلب
پرانے وقت میں “فلاح” کا مطلب صرف:
کھانا،
کپڑے،
رہائش،
پیسے
سمجھا جاتا تھا۔
لیکن اب اس کا مطلب بہت وسیع ہے۔
اب عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا:
بچے کی ذہنی صحت،
نفسیاتی سکون،
جذباتی کیفیت،
تعلیمی ماحول،
معاشرتی ماحول،
ثقافتی ضروریات،
مستقبل،
جذباتی وابستگی،
اور اعتماد۔
عدالت نے کہا قانون “Living Law” ہے
عدالت نے کہا:
قانون کو مردہ لفظوں کی طرح نہیں پڑھا جا سکتا۔
بلکہ:
قانون وقت کے ساتھ evolve ہوتا ہے۔
اسی لیے 1890 کے قانون کو بھی آج کے بچوں کے حقوق کے مطابق پڑھا جائے گا۔
بچے کی آواز (Voice of Child)
عدالت نے کہا:
بچے کی بات سننا صرف Formality نہیں ہے۔
بلکہ:
یہ انصاف کا حصہ ہے،
بچے کی عزت کا حصہ ہے،
بچے کو اعتماد دیتا ہے۔
عدالت نے کہا:
بچے کی بات سننے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بات مانی جائے، بلکہ اس کے احساسات اور سوچ کو سمجھا جائے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکلز کا حوالہ
عدالت نے کہا کہ بچوں کے حقوق پاکستان کے آئین میں بھی موجود ہیں۔
Article 9
زندگی اور محفوظ زندگی کا حق
Article 14
انسانی عزت کا تحفظ
Article 25
قانون کے سامنے برابری
Article 34
بچوں اور ماؤں کا تحفظ
Child-Centered Justice کیا ہے؟
عدالت نے کہا:
ہر عدالت کو بچوں کے معاملات:
“Child-Centered Approach”
سے دیکھنے چاہئیں۔
یعنی:
بچے کو مرکز بنایا جائے،
اس کے جذبات کو اہمیت دی جائے،
اس کے مستقبل کو دیکھا جائے۔
عدالت نے بچوں سے کیسے بات کی؟
یہ حصہ بہت اہم ہے۔
عدالت نے بچوں کو ڈرایا نہیں۔
بلکہ:
آرام دہ ماحول دیا،
ان سے دوستانہ انداز میں بات کی،
ہاتھ ملایا،
نرم لہجہ اختیار کیا۔
تاکہ بچے خوف کے بغیر اپنی بات کر سکیں۔
بڑے بچے نے کیا کہا؟
بڑے بچے نے کہا:
وہ:
دونوں والدین کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔
عدالت نے کہا: یہ بچے کی جذباتی ضرورت ظاہر کرتا ہے۔
چھوٹے بچے کی حالت
چھوٹا بچہ developmental delay کا شکار تھا۔
یعنی:
اس کی ذہنی نشوونما سست تھی،
وہ مکمل طور پر اپنی بات نہیں بتا سکتا تھا۔
باپ کے دلائل
باپ نے کہا:
وہ بچوں کا ڈاکٹر ہے،
اس نے بچے کا علاج کروایا،
اس کے والدین بھی بچوں کے ساتھ رہتے ہیں،
گھر میں اچھا ماحول ہے۔
ماں کے دلائل
ماں نے کہا:
وہ بھی ڈاکٹر ہے،
بچوں کی تعلیم اور therapy کا خیال رکھ رہی ہے،
بچے اچھے اسکول میں پڑھ رہے ہیں،
خاص بچے کی therapy لاہور میں ہو رہی ہے۔
عدالت نے Working Mother کے بارے میں اہم بات کی
عدالت نے کہا:
صرف اس وجہ سے کہ ماں نوکری کرتی ہے:
اسے نااہل نہیں کہا جا سکتا۔
بلکہ:
ایک محنتی ماں،
ذمہ دار ماں،
تعلیم یافتہ ماں
بھی بہترین سرپرست ہو سکتی ہے۔
عدالت نے کہا: ماں کی نوکری اس کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔
عدالت نے کس چیز کو زیادہ اہم سمجھا؟
عدالت نے دیکھا:
بچے کہاں emotionally stable ہیں؟
کہاں ان کی تعلیم بہتر چل رہی ہے؟
کہاں therapy جاری ہے؟
کون زیادہ وقت دے سکتا ہے؟
کس ماحول میں بچے زیادہ محفوظ ہیں؟
عدالت کا اہم مشاہدہ
عدالت نے کہا:
باپ:
دوبارہ شادی کر چکا ہے،
ایک اور بچہ بھی ہے،
دن بھر اسپتال میں مصروف رہتا ہے،
شام میں بھی پرائیویٹ پریکٹس کرتا ہے۔
اس لیے وہ گھر میں کم وقت دے سکتا ہے۔
عدالت نے ماں کے بارے میں کیا کہا؟
عدالت نے کہا:
ماں:
بچوں کی مستقل دیکھ بھال کر رہی ہے،
جذباتی سپورٹ دے رہی ہے،
خاص بچے کی therapy کروا رہی ہے،
بچوں کو محفوظ ماحول دے رہی ہے۔
عدالت کا اہم جملہ
عدالت نے کہا:
ماں جیسی جذباتی توجہ، مستقل محبت، اور حفاظتی ماحول کوئی دوسرا مکمل طور پر فراہم نہیں کر سکتا۔
ADR / Mediation کے بارے میں عدالت کی رائے
عدالت نے کہا:
بچوں کے کیسز میں:
لڑائی،
سخت عدالتی ماحول،
لمبی مقدمہ بازی
بچوں کو ذہنی نقصان پہنچاتی ہے۔
اس لیے:
Mediation (صلح)
اور
ADR
کو ترجیح دینی چاہیے۔
عدالت کی تمام فیملی کورٹس کو ہدایت
عدالت نے کہا:
اب ہر:
Family Court،
Guardian Court،
District Judge
پر لازم ہے کہ:
✔ بچے کی بات سنے
✔ بچے کے جذبات سمجھے
✔ بچے کے بہترین مفاد کو ترجیح دے
✔ Child-Friendly ماحول بنائے
آخری فیصلہ
سپریم کورٹ نے کہا:
بچوں کی کسٹڈی ماں کے پاس رہے گی۔
باپ کو ملاقات کا حق حاصل رہے گا۔
اگر مستقبل میں حالات بدل جائیں تو باپ دوبارہ درخواست دے سکتا ہے۔
اس فیصلے کے اہم قانونی اصول
اہم Points
✔ بچے کی فلاح سب سے اہم اصول ہے
✔ بچے کی رائے ضروری ہے
✔ بچے کو حقوق رکھنے والا فرد سمجھا جائے گا
✔ ماں کی نوکری اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی
✔ عدالت صرف پیسے نہیں بلکہ جذبات بھی دیکھے گی
✔ Special Child کی خصوصی ضروریات اہم ہیں
✔ Guardians and Wards Act 1890 کو جدید انداز میں پڑھا جائے گا
✔ عدالتوں کو Child-Friendly ہونا ہوگا
سب سے آسان خلاصہ
یہ فیصلہ کہتا ہے:
بچے کی کسٹڈی صرف ماں یا باپ کے حق کی لڑائی نہیں بلکہ بچے کے مستقبل، خوشی، ذہنی سکون اور بہترین زندگی کا معاملہ

لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک اہم قانونی نکتہ پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خرچہ نان و نفقہ کی ڈگری کے...
26/02/2026

لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک اہم قانونی نکتہ پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خرچہ نان و نفقہ کی ڈگری کے قابلِ اپیل ہونے کا تعین ہر مدعی کے لیے علیحدہ مقرر کردہ ماہانہ رقم کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ تمام مدعیان کو دی گئی مجموعی رقم کی بنیاد پر۔
عدالت کے روبرو بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا اگر ہر مدعی کو پانچ ہزار روپے ماہوار سے کم خرچہ نان و نفقہ دیا گیا ہو، لیکن مجموعی طور پر تمام مدعیان کی رقم پانچ ہزار روپے ماہوار سے زائد بنتی ہو، تو کیا ایسی ڈگری سیکشن 14(2)(c) فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے تحت قابلِ اپیل ہوگی؟

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قانون کی صریح عبارت کے مطابق اپیل کے حق کا تعین “فی کس” بنیاد پر ہوگا۔ لہٰذا اگر فیملی کورٹ ہر مدعی کو 5000 روپے ماہوار سے کم خرچہ نان و نفقہ کی ڈگری دیتی ہے، تو ایسی ڈگری کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی، خواہ مجموعی طور پر تمام مدعیان کو ملنے والی رقم 5000 روپے ماہوار سے زیادہ
مثال کے طور پر اگر چار مدعیان کو 4500 روپے ماہوار فی کس خرچہ نان و نفقہ دیا جائے تو اگرچہ مجموعی رقم 18000 روپے ماہوار بنتی ہے، تاہم چونکہ ہر مدعی کو انفرادی طور پر 5000 روپے سے کم رقم دی گئی ہے، اس لیے ایسی ڈگری اپیل کے دائرہ میں نہیں آئے گی۔
عدالت نے واضح کیا کہ Family Courts Act, 1964 کی دفعہ 14(2)(c) کی تشریح کرتے ہوئے قانون ساز کی نیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اور اس شق میں استعمال ہونے والے الفاظ انفرادی حق کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ مجموعی رقم کو۔ یہ فیصلہ فیملی مقدمات میں اپیل کے دائرہ اختیار کے تعین کے حوالے سے ایک رہنما نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
رٹ پٹیشن نمبر 126306/2017
محمد اسلم بنام جج فیملی کورٹ فیروزوالہ و دیگر

JUDGMENT SHEET
LAHORE HIGH COURT LAHORE
(JUDICIAL DEPARTMENT)
Writ Petition No.126306 of 2017
Muhammad Aslam
Vs.
Judge Family Court, Ferozewala, etc.
Date of Hearing
07.03.2023
For the petitioner
Mr. Muhammad Asif Mian, Advocate
For Govt. of Punjab
M/s Muhammad Shan Gul and Qamar Zaman Qureshi, Advocate General and Additional Advocate General respectively
For Respondents No.3 & 4
M/s Abaid Ullah Bhatti, Adnan Tariq, Muhammad Asif Chohan and Mian Muhammad Sajid, Advocates
Amici Curiae
M/s Muhammad Shahzad Shaukat, Zafar Iqbal Kalanori, Khalid Ishaq and Malik Muhammad Awais Khalid, Advocates
JUDGMENT
RAHEEL KAMRAN, J:- This judgment shall deal
with ten petitions brought under Article 199 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973 ('the Constitution') i.e. W.P.No.126306 of 2017, W.P.No.7911 of 2017, W.P.No.98903 of 2017, W.P.No.119360 of 2017, W.P.No.159598 of 2018, W.P.No.1594 of 2019, W.P.No.61038 of 2019, W.P.No.1807 of 2021, W.P.No.308 of 2022 and W.P.No.8768 of 2023, as these involve similar questions in controversy.

24/01/2026

جعلی چیک دینے کے بعد راضی نامہ ۔
تازہ ترین عدالتی فیصلہ !
*Compromise Deed -* راضی نامہ کی شرائط
Dishonring of cheque - Grant of pre or post arrest Bail.
It was held in Salman Khalid vs. The State etc. reported in PLD 2020 Lahore 97, decided by Anwaar-ul-Haq Pannun, Judge, that -
High Court provided guidelines for proceeding with cases u/s 489-F, PPC, involving compromise at Pre~arrest or post arrest Bail stage stated.
Following are the guidelines as provided by the High Court:.
راضی نامہ تحریری اور دستخط شدہ ہونا چاہیے
(i) A compromise deed shall be in writing and duly signed or thumb marked by the accused as well as the person in whose favour, the dishonoured cheque was issued by the accused or any other person duly authorized by the payee
ملزم کے وکیل، یا اس کے نامزدشدہ شخص کے بیان کو قلمبندکیاجائے۔
(ii) In case of post arrest bail, the Court seized with the Bail application due to the accused being in jail, shall also record the statement of the counsel, representing accused or any other person duly authorized by the accused for this purpose.
ضمانت کی سطح پر راضی نامہ کی تمام شرائط عدالت کو واضح کردینی چاہیے، اور ملزم شرائط کی تابع داری کرے گا۔
(iii) The Court, while giving effect to the compounding character of the offence, at Bail stage shall reflect the terms and conditions of the compromise in its Bail granting order besides clearly stating that the accused shall only be entitled to enjoy the liberty, he has earned by way of concession of bail, provided he honours the terms of compromise deed.
ملزم راضی نامہ میں بیان کردہ تاریخ کے اندر اندر واجب ادا رقم اداکرےگا۔اگررقم ادانہ کی، تو ضمانت کی رعایت سے محروم ہوسکتاہے۔البتہ مدعی رحم دلی کا مظاہرہ بھی کرسکتاہے۔
(iv) The accused shall make payment of amount of cheque or settled b/w the parties, to the payee on the date fixed in compromise deed or in case of any exigency within next three days. In case of any default, even in making payment of any installment, the accused shall lose his right to enjoy the concession of Bail. The complainant, however may show grace and accept any request on part of the accused for extension of time.
اگرمقررہ وقت تک رقم نہ دی، تو ضمانت نامہ منسوخی کیے بغیر ہی ضمانت منسوخ تصورہوگی۔
(v) In case of default, in absence of a consent of the complainant, for extension of time, in making the payment of amount settled b/w the parties through compromise, the Bail granting order shall be deemed to have been vacated automatically on the expiry of date fixed.
راضی نامہ پر عمل نہ کرنا، موقف سے انحراف تصورہوگا، اور ضمانت کا غلط استعمال گردانہ جائےگا
(vi) After seeking relief of Bail on the basis of compromise, the Non~compliance of its terms and conditions will amount to breach of commitment and misuse of concession of Bail by the accused for the period he enjoy the said concession in the form of liberty instead of facing the rigors of jail.
مدعی ضمانت منسوخی کی بجائے ٹرائل کورٹ کو متفرق درخواست دے کہ راضی نامہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے،اور ٹرائل کورٹ ملزم کو دوبارہ گرفتارکرواسکتی ہے۔
(vii) The complainant shall not be obliged to file a formal application for cancellation of Bail u/s 497(5) CrPC either before the trial Court or before any higher Court which had passed the Bail granting order. However, the complainant, in case of default in making payment by the accused, may file only a miscellaneous application before the trial Court inviting its attention towards the default made by the accused, thereupon, learned trial Court shall pass an order for committing the accused to custody.
یہ راضی نامہ کی ایک علیحدہ قسم کے طور پرٹرائل کورٹ ریکارڈ مرتب کرے۔
(viii) All the trial Courts seized with the trial/ proceedings for the offence u/s 489-F, PPC, shall prepare a separate category of compromise cases with some special identity so that the case may be dealt with, in terms of Bail granting order.
اگرراضی نامہ پر موثر عمل ہوتاہے، تو کاروائی مقدمہ اختتام کوپہنچ سکتی ہے۔ایسا عدالت درخواست پربھی کرسکتی ہے، اور ازخود کاروائی پربھی ایسا قدم اُٹھاسکتی ہے۔
(ix) In case, the trial Court, is satisfied that the terms of the compromise have been fulfilled and acted upon, the Court, on its own motion or on the application of either party shall give effect to the compromise, by way of 0333 6023706 Rafiq Khan Lound Adv Rafiq Khan Advocate High Court LLM termination of proceedings in the case.

پنجاب بار نے بیریسٹر میاں اشفاق کا لائسنس سسپنڈ کر دیا ہے ہم سب اپنے کراچی بار کے وکلا بھائیو کے ساتھ ہیں
01/01/2026

پنجاب بار نے بیریسٹر میاں اشفاق کا لائسنس سسپنڈ کر دیا ہے ہم سب اپنے کراچی بار کے وکلا بھائیو کے ساتھ ہیں

Address

Rawalpindi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923325172007

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lead Law Experts & Tax Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share