MTN AWAN LAW Office

MTN AWAN LAW Office Civil, Criminal, Family, Rent, Corporate, Services, and Tax matters

پنجاب لوکل گورنمنٹ نے یونین کونسل میں اندراج پیدائش اموات، نکاح نامہ، طلاق بالکل فری کردیا ہے۔اس مد میں یونین کونسل کے س...
22/12/2025

پنجاب لوکل گورنمنٹ نے یونین کونسل میں اندراج پیدائش اموات، نکاح نامہ، طلاق بالکل فری کردیا ہے۔

اس مد میں یونین کونسل کے سیکرٹری کو کوئی بھی فیس نہ دیں اگر فیس طلب کریں، تو لوکل گورنمنٹ کو اپنی شکایت کا اندراج کروائیں۔

لاہور ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری ​لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اس عدالتی حکم نامے کے مطابق، عدالت نے "پنجاب ...
22/12/2025

لاہور ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری
​لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری
کردہ اس عدالتی حکم نامے کے مطابق، عدالت نے "پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ آف ایموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025" کے تحت ہونے والی کارروائیوں اور خود اس قانون کی قانونی حیثیت پر بڑے سوالات اٹھاتے ہوئے اہم ریلیف دیا ہے۔
​اس فیصلے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
​1. کیس کا پس منظر
​یہ کیس ممتاز حسین بنام حکومتِ پنجاب (W.P. No. 76106 of 2025) کے عنوان سے ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی (DRC) نے ڈپٹی کمشنر جھنگ کی سربراہی میں ان کی جائیداد کے حوالے سے جو احکامات جاری کیے، وہ غیر قانونی اور آئین کے خلاف ہیں۔
​2. حکومت کا موقف اور اعتراف
​سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں اہم اعترافات کیے:
​قانون کی تبدیلی:
بتایا گیا کہ جس "آرڈیننس" کے تحت کارروائی شروع ہوئی تھی، وہ 18 دسمبر 2025 کو ختم ہو کر "ایکٹ" کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
​کمیٹیوں کا اختیارات سے تجاوز:
سرکاری وکیل نے تسلیم کیا کہ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیوں کے پاس جائیداد کا قبضہ (Possession) واگزار کروانے یا دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔
​غیر قانونی اقدامات: یہ بھی مانا گیا کہ کمیٹیوں نے اپنے مینڈیٹ سے باہر نکل کر کام کیا اور جب تک ٹربیونل نوٹیفائی نہیں ہوتا، کمیٹیوں کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔
​3. عدالت کے اہم مشاہدات
​عدالت نے اپنے حکم نامے میں درج ذیل نکات پر تشویش کا اظہار کیا:
​بنیادی حقوق کی خلاف ورزی: عدالت نے کہا کہ اس قانون کے تحت کی جانے والی کارروائیوں میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 23 اور 24 (جائیداد رکھنے کے حقوق) اور آرٹیکل 10-A (شفاف ٹرائل کا حق) کو بظاہر نظر انداز کیا گیا ہے۔
​سول عدالتوں کی موجودگی: عدالت نے نوٹ کیا کہ جہاں پہلے سے سول عدالتوں میں کیس چل رہے ہوں، وہاں ان کمیٹیوں کا مداخلت کرنا غیر قانونی ہے۔
​4. لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ (حکمِ امتناع)
​عدالت نے اس کیس میں درج ذیل بڑے حکم جاری کیے ہیں:
​قانون کی معطلی: عدالت نے پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ آف ایموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کی دفعات (Provisions) کو معطل کر دیا ہے اور اس کے تحت ہونے والی تمام کارروائیوں پر اسٹے (Stay) دے دیا ہے۔
​جائیداد کی واپسی: ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی کو حکم دیا گیا ہے کہ جائیداد کی صورتحال کو فوری طور پر اسی حالت میں بحال کیا جائے جس میں وہ درخواست دائر ہونے سے پہلے تھی (یعنی اگر قبضہ لیا گیا ہے تو واپس دیا جائے)۔
​فل بینچ کی تشکیل:
کیس کی حساسیت اور قانونی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے، عدالت نے اسے فل بینچ (زیادہ ججز پر مشتمل بینچ) کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی ہے۔
​ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس:
آئین کی تشریح کے لیے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

​سادہ الفاظ میں، لاہور ہائی کورٹ نے اس نئے پراپرٹی ایکٹ کے تحت ہونے والی کارروائیوں کو روک دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ انتظامی کمیٹیاں (DRCs) عدالتوں کا متبادل نہیں بن سکتیں اور نہ ہی وہ زبردستی کسی سے جائیداد کا قبضہ چھین سکتی ہیں۔

‏Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance, 2025کی نہایت واضح، جامع اور دوٹوک تشریح کرتے ہوئے ایک ا...
19/12/2025

‏Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance, 2025
کی نہایت واضح، جامع اور دوٹوک تشریح کرتے ہوئے ایک اہم اور رہنما فیصلہ صادر کر دیا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے واضح طور پر قرار دیا کہ:

‏🔹 Dispute Resolution Committee (DRC) محض ایک ابتدائی، تفتیشی اور مفاہمتی فورم ہے،
اور اسے کسی بھی مرحلے پر
❌ بے دخلی
❌ زبردستی قبضہ چھڑوانے
❌ قبضہ بحال کرنے
کا کوئی اختیار حاصل نہیں — نہ عبوری طور پر اور نہ ہی حتمی طور پر۔

🔹 عدالت نے واضح کیا کہ Section 9 کے تحت DRC کے اختیارات صرف:
✔️ احتیاطی (Preventive)
✔️ عارضی (Temporary)
✔️ ریگولیٹری نوعیت
کے ہیں، مثلاً مناسب ضمانت لینا یا جائیداد کو سیل کرنا،
اور یہ اقدامات بھی صرف تحریری، وجوہات پر مبنی (Speaking Order) اور
نوٹس و مکمل سماعت کے بعد ہی کیے جا سکتے ہیں۔

🔹 عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ DRC کو:
❌ زبانی یا غیر رسمی ہدایات دینے
❌ کسی قسم کے جابرانہ اقدامات اپنانے
❌ پولیس یا انتظامیہ کے ذریعے قبضہ دلوانے
کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔

🔹 مزید یہ کہ اگر کسی مجاز عدالت کی جانب سے
‏Status-quo یا کوئی اور عدالتی حکم موجود ہو تو
‏DRC اس کی سختی سے پابند ہوگی، اور اس کے برعکس کوئی بھی اقدام
عدالتی اختیار میں مداخلت تصور ہوگا۔

🔹 عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ:
✔️ قبضہ بحال کرنا
✔️ بے دخلی
✔️ زبردستی عمل درآمد
کے تمام اختیارات صرف اور صرف Tribunal کو حاصل ہیں،
جیسا کہ Sections 16 اور 17 میں صراحت کے ساتھ درج ہے۔

🔹 آخر میں عدالت نے واضح ہدایت جاری کی کہ:
‏Tribunal کے باقاعدہ اور قانونی حکم کے بغیر
کسی بھی شہری کے خلاف
‏❌ Eviction
‏❌ Forcible dispossession
جیسے اقدامات ہرگز نہیں کیے جا سکتے۔

جسٹس احمد ندیم ارشد
لاہور ہائی کورٹ، ملتان بین

شناختی کارڈ پاکستان کے کسی بھی شہر سے بنا ہوا ہو، اس میں ترمیم پاکستان بھر میں نادرا کے کسی بھی دفتر سے کرائی جا سکتی ہے...
27/11/2025

شناختی کارڈ پاکستان کے کسی بھی شہر سے بنا ہوا ہو، اس میں ترمیم پاکستان بھر میں نادرا کے کسی بھی دفتر سے کرائی جا سکتی ہے
یا
گھر بیٹھے شناختی کارڈ میں ترمیم کرانے کے لئے پاک آئی ڈی موبائل ایپ استعمال کریں

Motor vehicle Ordinance، 2025Penalties for Traffic Violations
27/11/2025

Motor vehicle Ordinance، 2025
Penalties for Traffic Violations


جانشی سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کے لیے Decline Certificateکی ضرورت نہیں بلکہ براہ راست عدالت  سے رجوع کیا جا سکتا ہے
19/11/2025

جانشی سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کے لیے
Decline Certificate
کی ضرورت نہیں بلکہ براہ راست عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے

07/10/2025
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان کا  کم عمری کی شادی سے متعلق کیس میں 24 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ اسلام آباد ہائی...
01/10/2025

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان کا کم عمری کی شادی سے متعلق کیس میں 24 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 سالہ لڑکی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کم عمری کی شادی شریعت میں باطل نہیں، مگر قانون کے تحت جرم ہے، مدیحہ بی بی نے عدالت میں دیے گئے بیان میں والدین کے پاس نا جانے اور شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی ، کرائسز سنٹر میں قیام کے دوران بھی لڑکی نے اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہنے کا کہا، اگرچہ شریعت کے مطابق بلوغت اور رضامندی کے بعد نکاح درست ہے۔

عدالت کا کہنا تھا اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے تحت 18 سال سے کم عمر میں شادی جرم ہے، نکاح نامے میں دلہن کی عمر تقریباً 18 سال درج کی گئی جبکہ نادرا ریکارڈ کے مطابق عمر 15 سال ہے۔

عدالتی فیصلے میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929، مسلم فیملی لاز آرڈی نینس 1961 کے حوالہ جات شامل کیے گئے اور کہا اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے تحت 18 سال سے کم عمری کی شادی جرم ہے۔

عدالت نے فیصلے میں سفارشات دیتے ہوئے اس کی کاپی تمام متعلقہ وزارتوں اور فیملی کورٹس ججز کو بھجوانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے فیصلے میں سفارش کی کہ شادی، نابالغی اور فوجداری قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جائے،نکاح رجسٹراروں کو پابند کیا جائے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی شادی رجسٹرڈ نہ کریں، نادرا کے سسٹم کو اس طرح بہتر بنایا جائے کہ عمر کی تصدیق کے بغیر نکاح نامہ جاری نہ ہو۔

فیصلے میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ کم عمری کی شادی کے نقصانات سے بچا جا سکے۔

عدالت نے لکھا کہ فیصلے کی کاپی لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان ، وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کو بھجوائی جائے، وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈی جی نادرا اور سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی فیصلے کی کاپی بھجوائی جائے۔
Whether the case of child marriage would fall within the definition of Sections 375 and 377A, P.P.C. thereby constituting "r**e"?

The consistent judicial position has been that a Muslim girl, who has attained puberty and freely consents to marriage, has the right to contract marriage, even if under sixteen years of age. These precedents clearly hold that while such a marriage may amount to an offence under the CMRA, 1929, it does not render the marriage invalid, nor can consummation within such a marriage be treated as “r**e” under Section 375 of the Penal Code. The element of lawful relationship and consent within marriage fundamentally distinguishes such cases from exploitative acts that Sections 375 and 377A PPC were designed to penalize.
W.P. NO. 2494 OF 2025
MUHAMMAD RIAZ VS LEARNED DISTRICT & SESSIONS JUDGE, (EAST) ISLAMABAD, ETC.

Offences punishable exactly with 3 years shall be deemed as non-cognizable and bailable. 2025 LHC 4030
30/09/2025

Offences punishable exactly with 3 years shall
be deemed as non-cognizable and bailable.

2025 LHC 4030

شہریوں کو جعلی ای چالان موصول ہونے کا معاملہ ، سیف سٹی نے خبردارکردیا
28/09/2025

شہریوں کو جعلی ای چالان موصول ہونے کا معاملہ ، سیف سٹی نے خبردارکردیا

25/09/2025
*اسٹام پیپر خریدنے کا نیا طریقہ* 1. *سم اور موبائل نمبر شرط*جو شخص اسٹام پیپر خریدنا چاہتا ہے، اس کے نام پر رجسٹرڈ موبائ...
24/09/2025

*اسٹام پیپر خریدنے کا نیا طریقہ*
1. *سم اور موبائل نمبر شرط*
جو شخص اسٹام پیپر خریدنا چاہتا ہے، اس کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم ہونا لازمی ہے۔
اگر سم آپ کے نام پر نہیں ہے تو اسٹام پیپر آپ کے نام پر جاری نہیں ہو سکے گا۔
2. *او ٹی پی (OTP) ویری فکیشن*
جب آپ اسٹام پیپر خریدنے کی درخواست دیں گے تو آپ کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ایک *او ٹی پی کوڈ* (ون ٹائم پاس ورڈ) بھیجا جائے گا۔
یہ کوڈ آپ کو اسٹام فروش (e-Stamp Vendor) کو دینا ہوگا۔

3. *ویری فکیشن کے بعد پرنٹ*
او ٹی پی کے ذریعے آپ کی شناخت ویری فائی ہونے کے بعد ہی اسٹام فروش سسٹم سے آپ کا اسٹام پیپر پرنٹ کر سکے گا۔ اس طرح کوئی دوسرا شخص آپ کے نام پر جعلی یا غلط اسٹام پیپر نہیں نکال سکے گا۔

4. *فوائد*
5. جعلسازی اور فراڈ ختم ہوگا۔
صرف اصل مالک اپنے نام پر اسٹام پیپر نکال سکے گا۔
خریدار کی شناخت مکمل طور پر محفوظ ہوگی۔

یعنی اب سے *ای-اسٹام پیپر صرف اسی شخص کو ملے گا جس کے نام پر موبائل سم رجسٹرڈ ہو*، ورنہ درخواست مسترد ہو جائے گی۔

Address

Executive Block District Bar Association Rawalpindi
Rawalpindi

Telephone

+923331545676

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MTN AWAN LAW Office posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to MTN AWAN LAW Office:

Share

Category