11/02/2026
مشترکہ زمین کی تقسیم پر عدالت کا دوٹوک فیصلہ:
ریوینیو آفیسر 30 دن میں قانونی تقسیم کا پابند۔
عدالت نے اپنے فیصلہ 2025 MLD 31 واضح قرار دیا کہ مشترکہ یا وراثتی زمین کی تقسیم بنیادی قانونی حق ہے اور اس حق کے استعمال میں غیر ضروری تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔ اگر شریک مالکان میں تقسیم پر اختلاف پیدا ہو جائے تو اس کا پہلا اور مؤثر فورم ریوینیو آفیسر ہوتا ہے، جس پر قانون نے واضح ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔
عدالت کے مطابق ریوینیو آفیسر محض رسمی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ وہ قانون کے تحت فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا پابند ہے۔ زمین کی تقسیم کی درخواست موصول ہونے کے بعد وہ فریقین کو سنے، ریکارڈ طلب کرے اور قانون کے مطابق باقاعدہ تقسیم (Partition) عمل میں لائے۔
اس فیصلے میں عدالت نے خاص طور پر زور دیا کہ ریوینیو معاملات کو برسوں تک لٹکانا بدانتظامی کے مترادف ہے۔ لہٰذا عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست موصول ہونے کے بعد 30 دن کے اندر اندر تقسیم کا عمل مکمل کیا جائے یا کم از کم قانونی طور پر حتمی فیصلہ صادر کیا جائے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی فریق تعاون نہ کرے، تاخیری حربے استعمال کرے یا ریکارڈ چھپانے کی کوشش کرے تو ریوینیو آفیسر قانون کے تحت کارروائی کرنے کا مجاز ہے اور ایسے رویے کو تقسیم سے انکار کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ریوینیو آفیسر کی جانب سے بلاجواز تاخیر یا عدم فیصلہ آئینی حقِ ملکیت اور حقِ انصاف کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس پر عدالتی مداخلت بالکل جائز ہے۔
عدالت نے یہ اصول بھی طے کیا کہ اگر ریوینیو آفیسر قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے یا 30 دن کی مدت میں کارروائی مکمل نہ کرے تو متاثرہ فریق ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے اور عدالت ایسے افسر کو جواب دہ ٹھہرا سکتی ہے۔
مختصراً، اس فیصلے نے یہ قانونی نکتہ مضبوطی سے قائم کر دیا ہے کہ:
• مشترکہ/وراثتی زمین کی تقسیم میں تاخیر ناجائز ہے
• ریوینیو آفیسر فیصلہ کرنے کا پابند ہے
• 30 دن کی مدت ایک لازمی قانونی معیار ہے
• تاخیر پر عدالتی مداخلت یقینی ہے
یہ فیصلہ خاص طور پر وراثتی جائیداد، خاندانی تنازعات اور دیہی و شہری مشترکہ اراضی کے مقدمات میں ایک اہم نظیر (precedent) کی حیثیت رکھتا ہے۔
ماجد علی بٹ ایڈوکیٹ ہائیکورٹ