Majad Butt Law Associates

Majad Butt Law Associates A&H Law Associates is a premier law consultancy firm based in Rawalpindi.

We deal in criminal, civil, family, corporate law and tax evaluation matters and also render consultancy and legal advisory services. THIS IS LAW BASED PAGE,,, CONTAIN THE RULING OF THE APEX COURTS OF PAKISTAN,,,HELPING FOR PEOPLE INTERESTED IN LAW OF THE LAND..SPECIALLY FOR STUDENTS OF LAW AND PRACTICING LAWYERS,,,
MAJAD ALI BUTT ADVOCATE
( M.A LL.M)

11/09/2026





اب یہ اصول قانون میں اچھی طرح طے ہو چکا ہے کہ اگر استغاثہ مبینہ طور پر برآمد شدہ منشیات، نمونے (Sample Parcel) یا کیس پراپرٹی کی محفوظ تحویل (Safe Custody) ثابت کرنے میں ناکام رہے تو پھر مقدمہ کے دیگر پہلوؤں پر بحث کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ ایسی صورت میں ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنا لازم ہو جاتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر موہرر (Moharrir) سے نمونہ وصول کرنے والا پولیس اہلکار کسی بھی وجہ سے اُسے متعلقہ لیبارٹری میں دفتری اوقات کے اندر جمع نہ کرا سکے، تو اس پر لازم تھا کہ وہ نمونہ دوبارہ موہرر کے پاس محفوظ تحویل کے لیے واپس جمع کراتا اور بعد میں لیبارٹری لے جانے کے دن دوبارہ وصول کرتا۔
اگر ایسا نہ کیا جائے تو نمونے کی محفوظ تحویل (Safe Custody) مشکوک ہو جاتی ہے، جس سے چین آف کسٹڈی (Chain of Custody) متاثر ہوتی ہے اور استغاثہ کا مقدمہ ناقابلِ اعتماد بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ملزم کو فائدۂ شک دیا جائے گا۔
2026 SCMR 870...
PLJ 2026 SC (Cr.C.) 89...
Safe custody of narcotics substance.
In the case of conviction under the Act of 1997, it is an onerous duty of the prosecution to prove beyond a reasonable doubt that the material recovered from an accused is one of the narcotic drugs defined in the said statute. The most crucial element in proving this factor is the evidentiary value of the report of the government analyst. The credibility and integrity of the chemical examiner’s report essentially depends on proving the recovery and, most importantly, the chain of custody. This chain of custody commences from the stage of the recovery of the alleged material and ends at the delivery of the samples to the chemical examiner's office. After the alleged material has been recovered, samples are separated and sealed in accordance with the principles and law enunciated by this Court in Ameer Zeb’s case1. .....
2024 SCMR 1408...
S.9 CNSA, safe custody, it is duty of proscution to establish each and every step from the stage of recovery, making of sample parcel, safe custody of sample parcels and safe transmission of sample to concerned laboratory.....
PLJ 2022 SC (Cr.C.) 201

Control of Narcotic Substances Act, 1997 (XXV of 1997)--
----S. 9(c)--Appreciation of evidence--Safe custody and safe transmission--Withholding of best evidence--Material witness--Acquittal of--Prosecution has failed to establish the safe custody of sample parcels in the Malkhana as the Moharar was not produced, who allegedly kept in safe custody in Malkhana--Constable was not produced who allegedly transmitted the sample parcels to the concerned laboratory, hence prosecution failed to prove safe transmission of sample parcel to concerned laboratory--This petition is converted into an appeal and the same is allowed.......

09/09/2026

PLD 2026 Lah 635...
نادرہ کی جانب سے جاری کردہ شناختینکارڈ منقولہ جائیداد نہیں اس لیے جبری طور پر سول عدالت سے بلاک نہیں کروایا جا سکتا۔۔۔۔
PLD 2026 SC 298...
اجراء میں مدیون کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کیا جا سکتا۔۔۔

09/09/2026

اگر آپ کا پاسپورٹ بلاک (Blacklist یا Hold. یا Block یا impound) ہو جائے تو پاکستانی قانون کے مطابق درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
---

1. پاسپورٹ بلاک ہونے کی وجہ معلوم کریں

پہلا قدم یہ ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ پاسپورٹ کس وجہ سے بلاک ہوا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں:

ڈی جی ایم پی (DG Immigration & Passports) سے رابطہ

نادرا اور امیگریشن اینڈ پاسپورٹ آفس سے معلوم کریں کہ کیا آپ کا پاسپورٹ کسی حکومتی ایجنسی کی ہدایت پر بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے (FIA) سے رابطہ

اگر پاسپورٹ بلیک لسٹ ہوا ہے، تو ایف آئی اے کے امیگریشن ونگ یا قریبی امیگریشن دفتر سے تفصیلات حاصل کریں۔

نادرا اور وزارت داخلہ سے چیک کریں

بعض اوقات نادرا کے ڈیٹا بیس میں نام شامل ہونے کی وجہ سے بھی پاسپورٹ بلاک ہو سکتا ہے، جیسے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں نام آ جانا۔

---

2. تحریری درخواست جمع کرائیں

اگر پاسپورٹ بلاک ہونے کی وجہ معلوم ہو جائے تو متعلقہ ادارے کو تحریری درخواست دی جائے جس میں وضاحت طلب کی جائے اور بحالی کی گزارش کی جائے۔

درخواست وزارت داخلہ، ڈی جی امیگریشن، یا نادرا کو دی جا سکتی ہے۔

درخواست میں شناختی دستاویزات، پاسپورٹ کی کاپی، اور متعلقہ تفصیلات شامل کریں۔

---

3. ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) سے نام نکالنے کے لیے درخواست

اگر پاسپورٹ ECL میں نام شامل ہونے کی وجہ سے بلاک ہوا ہے، تو:

وزارت داخلہ پاکستان کو تحریری درخواست دیں۔

اگر کسی کیس کی وجہ سے نام شامل کیا گیا ہے تو متعلقہ عدالت سے رجوع کریں۔

سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر کے نام نکالنے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔

---

4. بینک ڈیفالٹ یا مالیاتی مسائل کی صورت میں کارروائی

اگر پاسپورٹ کسی بینک ڈیفالٹ، قرضہ، یا مالیاتی فراڈ کی وجہ سے بلاک ہوا ہو تو درج ذیل اقدامات کریں:

اسٹیٹ بینک یا متعلقہ بینک سے رجوع کریں اور مسئلے کا حل تلاش کریں۔

عدالت میں حکم امتناعی (Stay Order) کی درخواست دائر کریں تاکہ سفر پر عائد پابندی ختم ہو سکے۔
---

5. عدالت سے رجوع کرنا

اگر پاسپورٹ غیر قانونی یا بلاجواز طور پر بلاک کر دیا گیا ہے، تو قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے:

ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کریں

اگر پاسپورٹ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے تحت بلاک ہوا ہے تو ہائی کورٹ میں آئینی درخواست (Writ Petition) دائر کی جا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ میں اپیل کریں

اگر ہائی کورٹ فیصلہ نہ دے یا معاملہ پیچیدہ ہو تو سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

---

6. فوجداری یا نیب کیس کی صورت میں قانونی دفاع

اگر پاسپورٹ FIA، NAB، یا کسی دیگر تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے بلاک کیا گیا ہے تو:

متعلقہ ادارے سے انکوائری رپورٹ کی کاپی طلب کریں۔

اگر مقدمہ درج ہے تو وکیل کے ذریعے عدالت سے رجوع کریں۔

ضمانت یا حکم امتناعی (Stay Order) کے لیے متعلقہ عدالت میں درخواست دی جا سکتی ہے۔
---

غرض یہ کہ پاسپورٹ بلاک ہونے کی صورت میں سب سے پہلے اس کی وجہ معلوم کریں، پھر متعلقہ ادارے (امیگریشن، وزارت داخلہ، ایف آئی اے) سے رابطہ کریں۔ اگر معاملہ حل نہ ہو تو قانونی طریقے (ہائی کورٹ، یا سپریم کورٹ) اختیار کریں۔

30/08/2026


A woman shall be entitled to the Dissolution of marriage if the husband has contracted second marriage in contravention of Muslim Family Laws Ordinance, 1961.
PLD 2026 SC 302
PLD 2026 SC 91
PLD 2025 SC 262

 2021 PCrLJ 1770 Lahore۔۔۔جسٹس آف پیس کے احکامات کی خلاف ورزی جرم ہے اور عدم تعمیل پر SHO کے خلاف آرٹیکل 155 پولیس آرڈر ...
30/08/2026


2021 PCrLJ 1770 Lahore۔۔۔
جسٹس آف پیس کے احکامات کی خلاف ورزی جرم ہے اور عدم تعمیل پر SHO کے خلاف آرٹیکل 155 پولیس آرڈر کے تحت FIR درج کرنے کی ہدایت بالکل قانونی ہے۔
​لاہور ہائیکورٹ۔

کیس کے حقائق

​پولیس کے خلاف شکایت:
درخواست گزار (ذوالفقار) نے اپنے خلاف یا کسی معاملے پر SHO کی طرف سے قانونی کارروائی نہ کرنے یا حکم کی تعمیل نہ کرنے پر ایڈیشنل سیشن جج / Ex-Officio جسٹس آف پیس سے رجوع کیا تھا (تحت دفعہ 22-A / 22-B Cr.P.C)۔

​جسٹس آف پیس کا حکم: جسٹس آف پیس نے متعلقہ SHO کو قانون کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن SHO نے اس حکم پر عمل نہیں کیا۔

​عدم تعمیل پر دوسرا حکم: SHO کی طرف سے احکامات کی مسلسل خلاف ورزی پر جسٹس آف پیس نے C.C.P.O (سی سی پی او) یا دیگر اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ وہ خود دفعہ 551 Cr.P.C کے کارروائی کریں اور پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 155 کے تحت اس SHO کے خلاف FIR کا اندراج کریں اور قانونی کارروائی کریں۔

​ہائی کورٹ میں چیلنج:
اس کے بعد یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست (Writ Petition No. 1200 of 2015) کے ذریعے چیلنج ہوا، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آرٹیکل 155 کے تحت پولیس افسر پر یوں براہ راست FIR نہیں ہو سکتی۔

​لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
​1. ضابطہ فوجداری 22-A/22-B اور جسٹس آف پیس کے اختیارات
جسٹس آف پیس کو پولیس افسران کے خلاف احکامات جاری کرنے اور اپنے پچھلے حکم کی عدم تعمیل پر SHO کے خلاف پولیس آرڈر 2002 کے تحت کارروائی کی ہدایت دینے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔

​پولیس افسران پر لازم ہے کہ وہ جسٹس آف پیس کے قانونی احکامات کی تعمیل کریں۔

​2. عدم تعمیل کی صورت میں جرم اور کارروائی
​جسٹس آف پیس کا کام محض انتظامی نہیں ہوتا؛ پولیس اگر اس کے حکم کی خلاف ورزی کرے تو یہ جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
ایس ایچ او ​SHO یا متعلقہ پولیس افسر کی جانب سے عدم تعمیل پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 155(1)(c) & (d) اور PPC کی دفعہ 166 کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔

​آرٹیکل 155 کے تحت جرم قابلِ دست اندازی (cognizable) ہے اور دفعہ 166 PPC کے تحت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بھی تفتیش کر سکتی ہے۔

​3. آرٹیکل 155 کے تحت FIR درج کرنے کا عمل
​آرٹیکل 155(2) کے تحت پراسیکیوشن (Prosecution) اور FIR کے اندراج میں فرق ہے۔ FIR درج کرنے کے لیے کسی مجاز افسر کی رپورٹ کا انتظار کرنا ضروری نہیں ہے۔
​صرف FIR کا اندراج خود "Prosecution" کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ چالان عدالت میں پیش ہونے اور کارروائی چلنے کو Prosecution کہا جاتا ہے۔
​آرٹیکل 183 پولیس آرڈر کے تحت دوسرے قوانین کے تحت کارروائی کا اختیار برقرار رہتا ہے۔

​4. لفظ "Direct" کی تعریف
​پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 2(v-a) کے تحت "Direct" سے مراد کسی مجاز اتھارٹی کا پولیس افسر کو دیا گیا تحریری حکم یا ہدایت ہے۔

​5. ضابطہ فوجداری 154 اور پولیس رولز (Rule 24.4)
​اگر 22-A کے تحت درخواست ملنے پر قابلِ دست اندازی جرم بظاہر بنتا ہو تو SHO پر FIR کا اندراج لازم ہے۔
​اگر SHO سمجھے کہ جرم سرزد نہیں ہوا یا تفتیش کی ضرورت نہیں، تو وہ Police Rules 1934 کے Rule 24.4 کے تحت وجہ روزنامچے (Station Diary) میں درج کر کے اطلاع دہندہ (Informant) کو مطلع کرنے کا بھی پابند ہے۔

​ لاہور ہائیکورٹ نے ایس ایچ او کے خلاف FIR درج کرنے کے سائل کی آئینی درخواست خارج کر دی۔

مقدمہ: ذولفقار بنام ایڈیشنل سیشن جج / جسٹس آف پیس، لاہور وغیرہ (رٹ پٹیشن نمبر 1200 آف 2015، فیصلہ 26 مئی 2021)
جج: جسٹس محمد امجد رفیق

این سی سی آئی اے کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹس منجمد نہیں کر سکتی۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ:-محمد عزیر انور وغیرہ بنام وفاقِ ...
26/08/2026

این سی سی آئی اے کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹس منجمد نہیں کر سکتی۔۔
اسلام آباد ہائی کورٹ:-
محمد عزیر انور وغیرہ بنام وفاقِ پاکستان وغیرہ
I.C.A. No. 362 of 2025 بمعہ متصل اپیلیں Nos. 359، 360 اور 361 of 2025
اسلام آباد ہائی کورٹ:-
فیصلہ: 28 اکتوبر 2025ء
فاضل ججز: جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس

اہم قانونی نکات:-
انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ، 2016ء — دفعہ 29 — ایف آئی اے ایکٹ، 1974ء — دفعہ 5 — نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) — دائرۂ اختیار — بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو 2025ء کی ترمیم کے ذریعے Prevention of Electronic Crimes Act, 2016 کی دفعہ 29 کے تحت ایک آزاد تحقیقاتی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ لہٰذا NCCIA اب وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FIA) کا ماتحت شعبہ نہیں رہی اور اسے FIA ایکٹ 1974ء کی دفعہ 5(5) کے تحت حاصل اختیارات ازخود حاصل نہیں ہیں۔ NCCIA اپنے اختیارات صرف PECA 2016ء سے حاصل کرتی ہے اور وہی اختیارات استعمال کرسکتی ہے جو پارلیمنٹ نے اسے قانون کے ذریعے تفویض کیے ہوں۔

بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اختیار:-
عدالت نے واضح کیا کہ PECA 2016ء میں NCCIA کو زیرِ تفتیش شہریوں کے بینک اکاؤنٹس یا دیگر املاک منجمد کرنے کا کوئی صریح اختیار نہیں دیا گیا۔

NCCIA نے National Cyber Crime Investigation Agency (Function) Rules, 2025 کے Rule 5 کی بنیاد پر یہ اختیار استعمال کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت قانون سازی (subordinate legislation) اپنے بنیادی قانون (parent statute) سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور ایسا کوئی نیا substantive اختیار پیدا نہیں کرسکتی جو پارلیمنٹ نے اصل قانون میں نہیں دیا۔ لہٰذا Rule 5 بادی النظر میں PECA 2016ء کے تحت تفویض کردہ اختیارات سے تجاوز کرتا ہے۔

Anti-Money Laundering Act کا طریقۂ کار
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر NCCIA کی رائے میں کسی شہری کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم proceeds of crime یا منی لانڈرنگ سے متعلق ہے تو اسے Anti-Money Laundering Act, 2010ء کے تحت مقررہ قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ہوگا۔
ایسی صورت میں قانون کے مطابق متعلقہ عدالت سے حکم حاصل کرنا ضروری ہے؛ NCCIA براہِ راست بینکوں کو اکاؤنٹس منجمد کرنے کی ہدایت دے کر اس قانونی طریقۂ کار کو bypass نہیں کرسکتی۔

آئینی حقوق اور متناسب کارروائی:-
عدالت نے اس امر کو بھی اہم قرار دیا کہ کارروائی محض NCCIA کی اپنی source report کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی، جس میں مبینہ جرائم میں ہر اپیل کنندہ کے کردار کو الگ الگ واضح نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت کے مطابق ضروری تھا کہ پہلے تفصیلی انکوائری کی جاتی، متعلقہ افراد کو الزامات سے آگاہ کیا جاتا اور انہیں قانونی عمل میں شامل کیا جاتا۔ اس کے بجائے جلد بازی میں بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے ان کے حقِ ملکیت، ذریعۂ معاش اور زندگی پر اثر پڑ سکتا تھا۔
بالخصوص خاندان کے ان افراد کے اکاؤنٹس یا مالی حقوق کو متاثر کرنا جن کے خلاف کوئی مخصوص الزام موجود نہیں تھا، عدالت نے غیر متناسب، سخت اور غیر معقول اقدام قرار دیا۔

فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے:-
1. Intra Court Appeals منظور کرلیں؛
2. سنگل بینچ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا؛
3. NCCIA کی جانب سے اپیل کنندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی کارروائی ختم کردی؛
4. متعلقہ اداروں کو اکاؤنٹس فوری طور پر unfreeze/unblock کرنے کی ہدایت کی؛ اور
5. NCCIA کو ہدایت کی کہ وہ انکوائری قانون کے عین مطابق جاری رکھے۔

Ratio Decidendi — بنیادی قانونی اصول
NCCIA محض ماتحت قانون سازی یا قواعد کے ذریعے ایسا substantive اختیار حاصل نہیں کرسکتی جو PECA 2016ء میں پارلیمنٹ نے اسے صراحتاً نہیں دیا۔

مزید برآں، ماتحت قانون سازی بنیادی قانون سے تجاوز نہیں کرسکتی اور کسی سرکاری ادارے کو ایسا اختیار نہیں دے سکتی جو اصل قانون میں موجود ہی نہ ہو۔ شہریوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے جیسی کارروائی کے لیے واضح قانونی اختیار، مقررہ قانونی طریقۂ کار اور آئینی تقاضوں، بالخصوص قانونی جواز، تناسب اور منصفانہ طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔۔

24/08/2026

VVVVVI. MUST READ JUDGEMENT.
سپریم کورٹ نے سزایابی کیخلاف سائل/اپیلانٹ کی پٹیشن تو خارج کردی۔ مگر ہمراہی ملزم کو اشتہاری تھا اسکو بری کردیا کہ اسکے خلاف کوئی شہادت موجود نہ ہے اور اسکی گرفتاری اور ٹرائل محض وقت کا ضیاع ہوگا
We have noted that no active role during the occurrence was assigned to Haroon Rasheed (co-accused since P.O). As per prosecution case, he merely came at the spot while armed with a Kalashnikov but the said role assigned to Haroon Rasheed (co-accused since P.O), does not appeal to a prudent mind because had there been any element of sharing common intention with his co-accused to commit the occurrence of this case and for the said purpose if he had come all the way from his house to the place of occurrence while armed with a lethal weapon like Kalashnikov then it is not understandable that as to why he had not taken any active part and caused a single scratch on the body of any member of the complainant party during the occurrence. It is further noteworthy that both the Courts below have not believed the prosecution evidence regarding sharing of common intention by the accused while deciding the case of Jabir Hussain (co-convict) because he had not been awarded any punishment for the charge under section 302 PPC read with section 34 PPC and he had only been convicted and sentenced under section 324 PPC for his personal role of causing injury at the abdomen of Muhammad Nisar (PW-2). Under the circumstances, no useful purpose shall be served by the arrest of Haroon Rasheed (co-accused since P.O) and putting him to trial by the learned trial Court because ultimately, he has to be acquitted in this case in view of the observations made by the learned Courts below in respect of the case of Jabir Hussain (co-convict). Moreover, the proceedings in the trial of Haroon Rasheed (co-accused since P.O) shall be a futile exercise and the same shall result into the abuse of process of the law. It will result into the wastage of the precious time of the Court and the public at large.
Keeping in view all the abovementioned facts, benefit of doubt is extended in favour of Haroon Rasheed (co-accused since P.O) and he is acquitted from all the charges in the instant case.
Crl. Petition Nos. 647 & 817 of 2025
Salal Ghulam Husain Versus The State
08-04-2026

20/08/2026

18/08/2026

Address

Rawalpindi
46000

Telephone

+923007607243

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Majad Butt Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Majad Butt Law Associates:

Shortcuts

Share