Majad Butt Law Associates

Majad Butt Law Associates A&H Law Associates is a premier law consultancy firm based in Rawalpindi.

We deal in criminal, civil, family, corporate law and tax evaluation matters and also render consultancy and legal advisory services. THIS IS LAW BASED PAGE,,, CONTAIN THE RULING OF THE APEX COURTS OF PAKISTAN,,,HELPING FOR PEOPLE INTERESTED IN LAW OF THE LAND..SPECIALLY FOR STUDENTS OF LAW AND PRACTICING LAWYERS,,,
MAJAD ALI BUTT ADVOCATE
( M.A LL.M)

11/02/2026

مشترکہ زمین کی تقسیم پر عدالت کا دوٹوک فیصلہ:
ریوینیو آفیسر 30 دن میں قانونی تقسیم کا پابند۔
عدالت نے اپنے فیصلہ 2025 MLD 31 واضح قرار دیا کہ مشترکہ یا وراثتی زمین کی تقسیم بنیادی قانونی حق ہے اور اس حق کے استعمال میں غیر ضروری تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔ اگر شریک مالکان میں تقسیم پر اختلاف پیدا ہو جائے تو اس کا پہلا اور مؤثر فورم ریوینیو آفیسر ہوتا ہے، جس پر قانون نے واضح ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔
عدالت کے مطابق ریوینیو آفیسر محض رسمی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ وہ قانون کے تحت فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا پابند ہے۔ زمین کی تقسیم کی درخواست موصول ہونے کے بعد وہ فریقین کو سنے، ریکارڈ طلب کرے اور قانون کے مطابق باقاعدہ تقسیم (Partition) عمل میں لائے۔
اس فیصلے میں عدالت نے خاص طور پر زور دیا کہ ریوینیو معاملات کو برسوں تک لٹکانا بدانتظامی کے مترادف ہے۔ لہٰذا عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست موصول ہونے کے بعد 30 دن کے اندر اندر تقسیم کا عمل مکمل کیا جائے یا کم از کم قانونی طور پر حتمی فیصلہ صادر کیا جائے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی فریق تعاون نہ کرے، تاخیری حربے استعمال کرے یا ریکارڈ چھپانے کی کوشش کرے تو ریوینیو آفیسر قانون کے تحت کارروائی کرنے کا مجاز ہے اور ایسے رویے کو تقسیم سے انکار کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ریوینیو آفیسر کی جانب سے بلاجواز تاخیر یا عدم فیصلہ آئینی حقِ ملکیت اور حقِ انصاف کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس پر عدالتی مداخلت بالکل جائز ہے۔
عدالت نے یہ اصول بھی طے کیا کہ اگر ریوینیو آفیسر قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے یا 30 دن کی مدت میں کارروائی مکمل نہ کرے تو متاثرہ فریق ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے اور عدالت ایسے افسر کو جواب دہ ٹھہرا سکتی ہے۔
مختصراً، اس فیصلے نے یہ قانونی نکتہ مضبوطی سے قائم کر دیا ہے کہ:
• مشترکہ/وراثتی زمین کی تقسیم میں تاخیر ناجائز ہے
• ریوینیو آفیسر فیصلہ کرنے کا پابند ہے
• 30 دن کی مدت ایک لازمی قانونی معیار ہے
• تاخیر پر عدالتی مداخلت یقینی ہے
یہ فیصلہ خاص طور پر وراثتی جائیداد، خاندانی تنازعات اور دیہی و شہری مشترکہ اراضی کے مقدمات میں ایک اہم نظیر (precedent) کی حیثیت رکھتا ہے۔

ماجد علی بٹ ایڈوکیٹ ہائیکورٹ

02/02/2026

PLD 2026 ISLAMABAD 35...
Arrest of accused---Addition of new offence---Principle---When investigating officer adds a new offence after submission of report under S. 173, Cr.P.C., accused cannot be re-arrested without order of Court first cancelling bail already granted

اگر کوئی جھوٹا الزام لگائے کہ آپ چور ہیں، بدعنوان ہیں یا کردار خراب ہے، اور اس سے آپ کی عزت مجروح ہو تو آپ یہ ہتک عزت کا...
27/01/2026

اگر کوئی جھوٹا الزام لگائے کہ آپ چور ہیں، بدعنوان ہیں یا کردار خراب ہے، اور اس سے آپ کی عزت مجروح ہو تو آپ یہ ہتک عزت کا کیس کر کے عدالت سے مندرجہ حکم لے سکتے ۔
اعلان (Declaration) کہ الزام جھوٹا اور غلط ہے۔
• ہرجانہ (Damages) یعنی پیسوں میں معاوضہ جو کروڈو میں ہو سکتا کہ آپ کی بدنامی، ذہنی اذیت یا مالی نقصان پر مخالف آپکو پیسے دے ۔
• حکم امتناعی (Injunction) کہ مخالف مزید جھوٹے الزامات نہ لگائے یا شائع کرے۔
• بعض اوقات عدالت مخالف فریق کو معافی شائع کرنے یا وضاحت دینے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
یہ نوٹیفکیشن کیا کہتا ہے؟
یہ نوٹیفکیشن (22 ستمبر 2025) گورنر پنجاب کی طرف سے جاری ہوا ہے:
• پنجاب میں ہتک عزت کے ٹریبونل قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ ہتک عزت کے کیسز عام عدالتوں کے بجائے یہ ٹریبونل سنیں۔
• تین ٹریبونل بنائے گئے ہیں:
1. لاہور → انجم رضا سید (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج)
2. ملتان → محمد ابراہیم اصغر (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج)
3. راولپنڈی → غفار مہتاب (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج)
• یہ نوٹیفکیشن سب سرکاری محکموں کو بھیجا گیا ہے تاکہ وہ آگاہ رہیں اور ضرورت پڑنے پر تعاون کریں۔
سادہ الفاظ میں:
اگر کوئی آپ پر جھوٹے الزام لگا کر آپ کی عزت خراب کرتا ہے
یا سوشل میڈیا، اخبارات، ٹی وی یا کسی اور پلیٹ فارم پر غلط خبریں یا بیانات پھیلائے جائیں۔
• یا کسی فرد یا ادارے کی عزت کو نقصان پہنچانے والی پبلیکیشن یا اسٹیٹمنٹ۔
تو آپ ہتک عزت کا کیس کر سکتے یہ کیس اب عام عدالت میں نہیں بلکہ متعلقہ ڈیفامیشن ٹریبونل (لاہور، ملتان یا راولپنڈی) میں کریں گے۔
وہاں سے آپ کو ہرجانہ، معافی اور مزید بدنامی روکنے کا حکم مل سکتا ہے۔

18/01/2026

پنجاب بار کونسل میں چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی اور وائس چیئرمین دو الگ مگر باہم مربوط آئینی عہدے ہیں۔ ان کے اختیارات اور کردار میں بنیادی فرق درج ذیل ہے:
1۔ وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل
(Vice Chairman, Punjab Bar Council)
آئینی حیثیت:
یہ بار کونسل کا سب سے اعلیٰ منتخب عہدہ ہوتا ہے۔
وائس چیئرمین، دراصل بار کونسل کا سیاسی و نمائندہ سربراہ تصور کیا جاتا ہے۔
اہم فرائض و اختیارات:
پنجاب بار کونسل کی اجلاسوں کی صدارت
بار کونسل کی پالیسی سازی میں مرکزی کردار
وکلاء برادری کی نمائندگی (حکومت، عدلیہ اور دیگر اداروں کے سامنے)
آئینی و انتظامی معاملات میں بالادست حیثیت
ایگزیکٹو کمیٹی کی تشکیل کی نگرانی
خلاصہ:
وائس چیئرمین = پالیسی، نمائندگی اور قیادت
2۔ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی
(Chairman Executive Committee, Punjab Bar Council)
آئینی حیثیت:
یہ عہدہ انتظامی و عملی اختیارات کا مرکز ہوتا ہے۔
ایگزیکٹو کمیٹی، بار کونسل کا عملی بازو ہوتی ہے۔
اہم فرائض و اختیارات:
روزمرہ امور کی عملی نگرانی
وکلاء کی اندراج (Enrollment)
ڈسپلنری کارروائیاں اور شکایات
مالی معاملات، اسٹاف، ٹینڈرز، دفاتر کی نگرانی کرنا۔
وائس چیئرمین کی پالیسیوں پر عملدرآمد کروانا ہوتا ہے۔

06/01/2026

پولیس اسٹیشن میں 25 رجسٹرز ہوتے ہیں اور ان مختلف نوعیت کی کاروائی تحریر کی جاتی ہے۔_

_*رجسٹر نمبر 1*: رپورٹ ابتدائی اطلاعی_

_*رجسٹر نمبر 2*: روزنامچہ_

_*رجسٹر نمبر 3*: فائل (سٹینڈنگ آرڈرز، سرکلر آرڈرز و دیگر احکام)_

_*رجسٹر نمبر 4*: روپوشان و مفروران_

_*رجسٹر نمبر 5*: خط و کتابت_
جسٹر نمبر 6*: متفرق_

_*رجسٹر نمبر 7*: پھاٹک مویشیاں (حذف ہوا)_

_*رجسٹر نمبر 8*: سرچ سلپ و پیروی مقدمات_

_*رجسٹر نمبر 9*: کرائم رجسٹر_

_*رجسٹر نمبر 10*: رجسٹر نگرانی_

_*رجسٹر نمبر 11*: انڈیکس ہسٹری شیٹ و پرسنل فائل_

_*رجسٹر نمبر 12*: پرچہ جات مجاریہ و موصولہ_

_*رجسٹر نمبر 13*: کتب برائے افسران گزٹ شدہ_

_*رجسٹر نمبر 14*: فائل بک رپورٹ ہائے ملاحظہ جات_

_*رجسٹر نمبر 15Z
_*رجسٹر نمبر 18*: رسید کتب برائے اسلحہ گولی بارود_

_*رجسٹر نمبر 19*: رجسٹر مالخانہ_

_*رجسٹر نمبر 20*: رجسٹر حسابات_

_*رجسٹر نمبر 21*: فائل بک روڈ سرٹیفکیٹ_

_*رجسٹر نمبر 22*: چھاپہ شدہ کتب رسیدات_

_*رجسٹر نمبر 23*: فائل (پولیس گزٹ، گزٹ انکشاف جرائم)_

_*رجسٹر نمبر 24*: مجموعہ قوائد پولیس_

_*رجسٹر نمبر 25*: یاداشت ہائے افسران مہتمم تھانہ جات_۔
ماجد علی بٹ ایڈوکیٹ ہائیکورٹ

درخواست گزار ڈاکٹر فہیم اکرام بٹ کے خلاف الزام یہ تھا کہ وہ مورخہ 08-05-2019 کو عدالتِ سینئر سول جج (فوجداری ڈویژن)، نار...
31/12/2025

درخواست گزار ڈاکٹر فہیم اکرام بٹ کے خلاف الزام یہ تھا کہ وہ مورخہ 08-05-2019 کو عدالتِ سینئر سول جج (فوجداری ڈویژن)، نارووال میں ایک مقدمہ "ریاست بنام ندیم خان وغیرہ" کی سماعت کے دوران عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور اپنی اہلیہ ڈاکٹر شکیلہ اختر (WMO) کو بطور گواہ طلب کیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے عدالت میں شور شرابہ کیا۔ مبینہ طور پر عدالتی وقار برقرار رکھنے کی ہدایت کے باوجود رویہ جارحانہ رہا، جس پر ان کے خلاف سیکشن 228 تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی کی گئی۔ ٹرائل کورٹ نے اسی روز کارروائی کرتے ہوئے درخواست گزار کو تین دن سادہ قید اور 1500 روپے جرمانہ، بصورتِ عدم ادائیگی مزید ایک دن قید کی سزا سنا دی۔ اس سزا کے خلاف اپیل دائر کی گئی جو خارج ہو گئی، جس کے بعد فوجداری نگرانی لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ ٹرائل کورٹ نے کارروائی دفعہ 480 ضابطہ فوجداری کے تحت کی، تاہم سزا سناتے وقت اس دفعہ کی واضح قانونی حدود کو نظر انداز کیا گیا۔ دفعہ 480 Cr.P.C. عدالت کو صرف دو سو روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے، جبکہ قید کی سزا محض جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں بطور ضمنی سزا دی جا سکتی ہے۔ٹرائل کورٹ کی جانب سے براہِ راست قید اور مقررہ حد سے زائد جرمانہ عائد کرنا صریحاً اختیارات سے تجاوز اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس بنیادی قانونی خامی کو اپیلیٹ کورٹ کی جانب سے برقرار رکھنا بھی قانوناً درست نہ تھا، لہٰذا سزا کالعدم قرار دی گئیں۔

عدالتِ عالیہ نے واضح اصول وضع کیا کہ جب دفعہ 228 PPC کا جرم عدالت کے روبرو سرزد ہو تو عدالت کے پاس تین قانونی راستے ہوتے ہیں:

✍️اول، دفعہ 480 Cr.P.C. کے تحت فوری مگر محدود سزا؛

✍️دوم، دفعہ 476 Cr.P.C. کے تحت باب XXII کے مطابق باقاعدہ ٹرائل، جس میں زیادہ سزا دی جا سکتی ہے؛ اور

✍️سوم، دفعہ 482 Cr.P.C. کے تحت معاملہ مجاز مجسٹریٹ کو ارسال کرنا۔

اگر عدالت یہ سمجھے کہ دفعہ 480 کے تحت دی جانے والی سزا ناکافی ہے تو اسے لازم ہے کہ دفعہ 476 یا 482 کا راستہ اختیار کرے، نہ کہ دفعہ 480 کے دائرہ اختیار سے تجاوز کرے۔ مزید برآں، عدالت نے یہ اصول بھی دہرایا کہ

"Summary proceedings cannot be made more summary"

یعنی summary کارروائی کے نام پر قانونی تقاضوں اور انصاف کے بنیادی اصولوں کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ ان وجوہات کی بنا پر فوجداری نگرانی منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا گیا۔

سپریم کورٹ & ہائیکورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اور قانون شہادت کے آرٹیکل 163 اور اوتھ ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت, کریمنل پروسی...
30/12/2025

سپریم کورٹ & ہائیکورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اور قانون شہادت کے آرٹیکل 163 اور اوتھ ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت, کریمنل پروسیڈنگ میں حلف پر فیصلے کرنا خلاف قانون ہے۔ ,
PLD 1990 S C 83.
Art. 163 Q.S.O, procedure of swearing of Holy Quran is not applicable in criminal Proceeding.
Further reliances could be made on following judgments.
PLD 1988 SC 413...
PLD 1990 SC 90...
1999 YLR 2263...
1999 P.Cr.LJ 2090 Lah...
2023 YLR 2140...
2019 P.Cr.LJ 1176 Isb...

22/12/2025

324 PPC
اگر کوئی شخص قتل کی نیت یا علم کے ساتھ حملہ کرے تو قتل نہ ہونے کی صورت میں بھی جرم مکمل ہوتا ہے۔
نتیجہ حاصل نہ ہونا جرم کو ختم نہیں کرتا۔اگر حملے میں چوٹ لگے تو اس پر الگ سزا دی جا سکتی ہے۔
71 PPC
کے تحت ایک ہی جرم پر دوہری سزا نہیں دی جا سکتی
لیکن اگر ایک سے زیادہ الگ زخم لگیں تو
337-W PPC سیکشن
کے تحت ہر زخم کی الگ سزا دی جائے گی۔
Section 324 PPC comprises two components: the act committed with the intention or knowledge to commit Qatl-i-Amd and the effect of such an act. The offender's failure to achieve the intended result due to external circumstances remains immaterial in constituting the offence. Sufficient incriminating evidence fulfilling these conditions is adequate for conviction under this section, and if hurt is caused, the offender may be separately convicted for such injury. Section 71 PPC, a controlling provision, limits punishment when an offence consists of multiple parts to prevent double jeopardy unless expressly provided by law. However, in cases of multiple injuries, Section 337-W PPC mandates separate punishment for each hurt inflicted

اس فیصلے میں درج ذیل نکتہ طے کیا گیا ہے:اگر آرڈر 37 ضابطہ دیوانی کے تحت دائر مقدمہ میں مدعا علیہ کو یکطرفہ قرار دے دیا ج...
21/12/2025

اس فیصلے میں درج ذیل نکتہ طے کیا گیا ہے:
اگر آرڈر 37 ضابطہ دیوانی کے تحت دائر مقدمہ میں مدعا علیہ کو یکطرفہ قرار دے دیا جائے، تو کیا مدعا علیہ پر یہ لازم ہے کہ وہ یکطرفہ کارروائی ختم کرانے کی
درخواست کے ساتھ ہی دفاع کی درخواست بھی دائر کرے؟

چونکہ موجودہ مقدمہ میں سمن مقررہ طریقۂ کار کے
مطابق تعمیل نہیں ہوئے تھے، اس لیے درخواست گزار کی جانب سے یکطرفہ کارروائی ختم کرانے کی درخواست کے ساتھ دعویٰ میں پیش ہو کر دفاع کی اجازت ( کی درخواست دائر نہ کرنا کوئی سنگین غلطی نہیں بلکہ محض ایک معمولی لغزش ہے۔

اگرچہ آرڈر 37)2( کے تحت اصولاً یہ لازم ہے کہ یکطرفہ کارروائی ختم کرانے کی درخواست کے ساتھ ہی دعویٰ میں پیش ہو کر دفاع کی اجازت کی درخواست بھی دائر کی جائے، تاہم ایسی درخواست کے لیے مدتِ پابندی کا آغاز اسی وقت ہوگا جب دعویٰ مقررہ فارم میں دائر کیا گیا ہو اور سمن بھی مقررہ طریقۂ کار کے مطابق باقاعدہ طور پر تعمیل شدہ ہوں۔
Since in the present case, summons were not served in the prescribed manner, by not moving an application for leave to appear and defend the suit alongwith his application for setting aside ex-parte proceeding order, the applicant has not committed a maijor sin but a small peccadillo.
application for setting aside ex-parte procceding order should accompany an
application for leave to appear and defend the suit as is required in terms of Rule 2 Order ###VII CPC but limitation for such an application would only start running if plaint is in prescribed form and summonses were also
served in the prescribed manner.

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گی...
20/12/2025

خاتون نے ریپ کا الزام لگایا۔ اس ریپ سے اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ بچے کا ڈی این اے کروایا گیا۔ وہ ملزم کے ساتھ میچ کر گیا۔ بھکر کی عدالت نے کہا کہ زنا بالجبر ثابت ہوتا ہے اور ملزم کو 20 سال قید بامشقت اور متاثرہ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔ ملزم نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ عدالت نے اپیل خارج کر دی اور ملزم کی سزا برقرار رکھی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ زنا بالجبر نہیں، زنا بالرضا کا کیس تھا۔ ملزم کی سزا کم کر کے 5 سال قید بامشقت اور جرمانہ 5 لاکھ سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا۔

وجوہات جن کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا۔

1۔ مدعیہ نے واقعہ ہونے کے 7 ماہ بعد جرم کو رپورٹ کیا۔

2۔ مدعیہ کے مطابق وہ صبح ساڑھے 5 بجے کھیتوں میں گئی تو وہاں ملزم پہلے سے چھپا ہوا تھا۔ اس نے ریپ کر دیا۔ جہاں کا وقوعہ ہے وہاں ساتھ ہی آبادی بھی ہے۔ مدعیہ نے کسی قسم کا شور نہیں کیا۔ اس کے جسم پر مزاحمت کے کوئی نشان نہ تھے۔ کوئی زخم یا خراش کا نشان نہ تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے کپڑے جمع نہیں کروائے کہ اس سے پتہ چلتا کہ وہ پھٹے ہوئے تھے یا نہیں۔ ان پر کوئی سیمن تھا یا نہیں۔ خاتون 7 ماہ تک خاموش رہی۔ مبینہ وقوعہ کے بعد جس وقت وہ گھر آئی اس کے مطابق اس کے بھائی اور باقی گھر والے گھر پر موجود تھے۔ اس نے 7 ماہ تک اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔ ملزم کو کیسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت وہاں اکیلی آئے گی۔

3۔ اگرچہ پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے لیکن یہ ریپ نہیں بلکہ زنا بالرضا کا واقعہ ہے۔ ریپ ہوتا تو مزاحمت، شور، زخم، خراش کچھ نہ کچھ تو ہوتا۔

4۔ میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر نے یہ ضرور بتایا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اسے بھی کسی زخم وغیرہ کا کوئی پرانا نشان نہیں ملا۔

قانون کے طالبعلموں کیلئے: اگرچہ اس کیس میں 376 (ریپ) کی ایف آئی آر ہوئی تھی اور چارج بھی اسی دفعہ کے تحت فریم ہوا تھا لیکن سزا 496 بی (زنا بالرضا) میں تبدیل کر دی گئی۔ جو کہ اس جنرل اصول کی خلاف ورزی ہے کہ جس جرم کا چارج فریم ہو سزا بھی اسی میں ہو۔ اس اصول کی استثنی کیلئے آپ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 238(2) اور سپریم کورٹ کی ایک ججمنٹ 2006SCMR 1170 پڑھ لیں۔

نوٹ: شیئر کردہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی لارجر بینچ جسٹس شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس صلاح الدین پنہور نے دیا ہے۔ جسٹس صلاح الدین نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور اپنا اختلافی نوٹ جاری کیا جس کی تفصیل ذیل میں ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جہاں اکثریتی معزز جج صاحبان نے ایک ریپ کے مقدمے میں سزا کم کرتے ہوئے جرم کی نوعیت میں تبدیلی کی، وہیں محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کا اختلافی نوٹ قانون، انصاف اور سماجی حقیقتوں کی ایک مضبوط اور باوقار ترجمانی کرتا ہے۔ یہ اختلاف محض قانونی نکات تک محدود نہیں بلکہ انسانی وقار، سماجی دباؤ اور فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں پر ایک گہری اور بصیرت افروز دستک ہے۔

یہ مقدمہ ایک تقریباً 24 سالہ غیر شادی شدہ خاتون سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون اس بچے کے حیاتیاتی والدین ثابت ہوئے۔ اکثریتی فیصلے میں سات ماہ کی تاخیر سے درج ایف آئی آر اور جسم پر تشدد کے نشانات کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر ریپ کے الزام کو کمزور قرار دیا گیا، تاہم محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے نہایت مدلل، قانونی اور انسانی بنیادوں پر اس سوچ سے اختلاف کیا۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب واضح کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ جرم کی عدم موجودگی نہیں بلکہ خوف، بدنامی، کردار کشی اور خاندانی دباؤ ہوتا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون کو عدالت سے پہلے اپنے ہی گھر میں اپنے کردار کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں تاخیر کو بدنیتی یا رضامندی سے تعبیر کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

خصوصاً اس مقدمے میں متاثرہ خاتون کم عمر، غیر شادی شدہ، والدین سے محروم اور اپنے بڑے بھائی پر انحصار کرنے والی تھی۔ ریکارڈ پر دھمکیوں کے شواہد بھی موجود تھے۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب کے مطابق ایسے حالات میں خاموشی ایک فطری انسانی ردعمل ہے، نہ کہ جرم سے انکار۔ ان کے بقول یہ خاموشی اس وقت تک برقرار رہنا بالکل فطری تھا جب تک متاثرہ خاتون کو اپنے حمل کا علم نہ ہو سکا۔

جسم پر تشدد کے نشانات نہ ہونے کے نکتے پر بھی محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے ایک اہم قانونی اصول اجاگر کیا۔ اگر ملزم مسلح ہو تو مزاحمت نہ کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مزید یہ کہ سات ماہ بعد ہونے والا طبی معائنہ کسی جسمانی مزاحمت کے آثار محفوظ نہیں رکھ سکتا، جیسا کہ عدالتی نظائر میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے۔

ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے سائنسی بنیادوں پر اکثریتی فیصلے کی کمزوری واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی میں ڈی این اے کو بروقت extract کر کے محفوظ کیا جاتا ہے، جو برسوں تک قابلِ اعتماد رہتا ہے۔ محض buccal swab کے مبینہ طور پر ضائع ہونے کے امکان کو بنیاد بنا کر ڈی این اے رپورٹ کو مشکوک قرار دینا نہ سائنسی ہے اور نہ ہی قانونی طور پر درست۔

اختلافی نوٹ کا سب سے اہم اور حساس پہلو وہ ہے جہاں اکثریتی فیصلے میں ریپ (دفعہ 376 PPC) کو رضامندی پر مبنی فعل (دفعہ 496-B PPC) میں تبدیل کیا گیا۔ محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ یہ دونوں الگ الگ جرائم ہیں جن کے اجزاء مختلف ہیں۔ اگر رضامندی ثابت نہیں تو محض سزا کم کرنے کے لیے جرم کی نوعیت بدلنا قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریپ ثابت نہ ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رضامندی خودبخود ثابت ہو گئی۔

انہوں نے نہایت اہم سوال اٹھایا کہ اگر ڈی این اے رپورٹ ریپ کے الزام کے لیے ناقابلِ اعتبار سمجھی جا رہی ہے تو اسی رپورٹ کو رضامندی پر مبنی جرم کے لیے کیسے قابلِ قبول مانا جا سکتا ہے؟ قانون مفروضوں پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت پر عمل کرتا ہے۔

محترم جناب جسٹس صلاح الدین پنھور صاحب نے اپنے اختلافی نوٹ کا اختتام انسانی وقار کے قرآنی تصور پر کیا، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی عزت اور حرمت ہر قانونی بحث سے بالاتر ہے۔ یہ اختلافی نوٹ دراصل صرف ایک فیصلے سے اختلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ایک مضبوط اعلان ہے جو مظلوم کی خاموشی کو اس کے خلاف ثبوت بنا دیتی ہے۔

یہ اختلافی رائے مستقبل کے لیے ایک واضح رہنما اصول ہے کہ انصاف صرف شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں، انسانی نفسیات اور قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دیا جانا چاہیے۔ اگر خاموشی کو جرم اور کمزوری کو رضامندی سمجھا جائے تو یہ انصاف نہیں بلکہ خوف کی توثیق ہو گی۔

"ویزہ کے نام پر فراڈ — رقم کی ریکوری، فوجداری کاروائی، اور آئینی حقوق: پاکستان کے قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روش...
21/11/2025

"ویزہ کے نام پر فراڈ — رقم کی ریکوری، فوجداری کاروائی، اور آئینی حقوق: پاکستان کے قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ایک جامع تجزیہ"

---

قانونی و آئینی پہلو — ویزہ فراڈ میں رقم کی واپسی اور کاروائی

یہ ایک نہایت اہم موضوع ہے۔ پاکستان میں ویزہ کے نام پر فراڈ نہ صرف فوجداری جرم ہے بلکہ معاہداتی دھوکہ دہی، آئینی حقوق کی خلاف ورزی اور عوامی مفاد کا معاملہ بھی ہے۔ نیچے قانونی، فوجداری اور عدالتی پہلو پوری وضاحت سے درج ہیں۔

---

۱۔ ویزہ فراڈ کی قانونی تعریف

جب کوئی ایجنٹ، ٹریول کنسلٹنٹ یا شخص

ویزہ دلوانے کا جھانسہ دے

پیشگی رقم وصول کرے

اور وعدہ پورا نہ کرے

تو یہ درج ذیل قوانین کے تحت سنگین جرم بنتا ہے:

لاگو قوانین / Sections

پاکستان پینل کوڈ (PPC)

سیکشن 406 — امانت میں خیانت

سیکشن 420 — دھوکہ دہی کے ذریعے رقم ہتھیانا

سیکشن 417 — سادہ فریب دہی

سیکشن 468 / 471 — جعلی دستاویز یا رسیدیں بنانا

FIA Act 1974

Schedule Offences کے تحت امیگریشن فراڈ، جعلسازی، اور مالی جرائم FIA کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

PECA 2016 (اگر چیٹنگ آن لائن ہو)

سیکشن 13: الیکٹرانک فراڈ

سیکشن 16: جعلسازی یا ڈیٹا کے ذریعے دھوکہ

Contract Act 1872

سیکشن 17: Fraud

سیکشن 18: Misrepresentation

سیکشن 19 & 19-A: Voidable Contracts
→ اس کے تحت متاثرہ شخص معاہدہ منسوخ کروا کر رقم واپس لینے کا حق رکھتا ہے۔

---

۲. شکایت اور مقدمہ درج کروانا

متاثرہ شخص FIA Immigration / Anti-Human Trafficking Circle میں تحریری درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ:

رسیدیں

بینک اسٹیٹمنٹ

چیٹس

آڈیو/ویڈیو ثبوت

ایجنٹ کا نام و رابطہ

ایگریمنٹ

— جمع کرائے جائیں۔

اگر فراڈ آن لائن ہوا ہے تو یہ معاملہ Cyber Crime NCCIA (سابقہ FIA Cyber Wing) کے اختیار میں آ جاتا ہے۔

---

۳. تفتیش اور Prosecution

FIA تفتیش مکمل کر کے ملزم پر درج ذیل دفعات کے تحت چالان جمع کروا سکتی ہے:

406 / 420 PPC

PECA 13 (اگر ڈیجیٹل فراڈ ہو)

جعلسازی کے سیکشن

عدالت متاثرین کو compensation, recovery of amount, fine اور سزا دلواتی ہے۔

---

۴. رقم کی ریکوری (Financial Recovery)

عدالت میں دعویٰ دائر کر کے آپ:

رقم کی واپسی (Recovery Suit)

Compensation / Damages

Contract Cancellation

حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ حقوق Contract Act, Civil Procedure Code (CPC) اور Qanun-e-Shahadat Order 1984 کے تحت محفوظ ہیں۔

---

۵۔ عدالتی نظیریں (Case Law References)

سپریم کورٹ آف پاکستان

1. PLD 2017 SC 393 – Haji Muhammad Nawaz Case
فراڈ اور غلط بیانی ثابت ہونے پر عدالت نے متاثرہ شخص کے حق میں سخت حکم دیا۔

2. PLD 2007 SC 670 – Anti-Corruption Establishment Case
عدالت نے کہا کہ “fraud unravels everything” — فراڈ ہر معاہدے کو ختم کر دیتا ہے۔

3. 2022 SCMR 1021
شہریوں کی لوٹی گئی رقم کی فوری ریکوری اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم۔

---

ہائی کورٹس کے فیصلے

1. 2020 YLR 2213 (Lahore High Court)
امیگریشن ویزہ فراڈ میں FIA کو فوری کارروائی کا حکم۔

2. 2019 PCrLJ 512
ویزہ دلوانے کے نام پر دھوکہ دہی پر ایف آئی آر برقرار رکھی گئی۔

3. PLD 2019 Lahore 456
عدالت نے کہا کہ پیشگی رقم لے کر وعدہ پورا نہ کرنا “criminal breach of trust” ہے۔

یہ تمام مقدمات یہ ثابت کرتے ہیں کہ عدالتیں ویزہ فراڈ کو سنگین جرم سمجھتی ہیں، اور رقم کی ریکوری متاثرہ شخص کا بنیادی حق ہے۔

---

سفارشات اور عملی اقدامات

✔ FIA میں فوری درخواست

✔ Cyber Crime درخواست (اگر معاملہ آن لائن ہے)

✔ Civil Suit for Recovery (Contract Act کے تحت)

✔ مشترکہ متاثرین کی Class Action

✔ میڈیا اور عوامی آگاہی

✔ پالیسی ریفارمز کی وکالت

---

اختتامیہ

ویزہ کے نام پر فراڈ آج کا سب سے بڑا سماجی اور قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔
پاکستانی قوانین، آئین، اور عدالتی فیصلے متاثرہ افراد کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں —
ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ متاثرین بروقت کارروائی کریں اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں۔

Address

Rawalpindi
46000

Telephone

+923007607243

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Majad Butt Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Majad Butt Law Associates:

Share