AL-Qaim Law Chamber Skardu.

AL-Qaim Law Chamber Skardu. AL-Qaim law Chamber consist of qualified Advocates provides legal services across Pakistan. Message us for free legal assistance.

Avail our services for Civil,Criminal Litigation,family and service matters,
Taxations,Trademark,Company registration etc..

اگر کسی نے بینک کا قرضہ دینا ہو اور اس کو چیک جاری کرے جو ڈس آنر ہو  جائے اس پر 489F لاگو نہیں ہو گا2019 PCrLJ 902 Lahor...
30/12/2024

اگر کسی نے بینک کا قرضہ دینا ہو اور اس کو چیک جاری کرے جو ڈس آنر ہو جائے اس پر 489F لاگو نہیں ہو گا
2019 PCrLJ 902 Lahore
چیک چھ ماہ کے اندر بینک میں پیش کرنا لازمی ہے
2004MLD 951‏
بینک میں چیک پیش کیئے بغیر دعویٰ دلاپانے قابل رواں نہ ہے ‏2016 CLC937‏
مدعاعلیہ نے چیک پر دستخط کرنا تسلیم کیا دعویٰ ڈگری
‏2014 CLC244‏
چیک کی بناء پر عام دعویٰ دلاپانے بھی کیا جا سکتا ہے
‏2014 CLC 837‏
پرونوٹ پر دو گواہان کی تصدیق اور رسیدی ٹکٹ لگانا لازمی ہیں ہے 2006 SCMR 895
گواہان کے دستخط پرونوٹ کو مصدقہ دستاویز نہیں بناتے
2016-PLJ-SC-169

پرونوٹ کے لئے ضروری ہے کہ لائسنس یافتہ وثیقہ نویس تحریر شدہ ہو بصورت دیگر پرونوٹ لائسنس یافتہ وثیقہ نویسں کا تحریر کردہ نہ تھا دعویٰ خارج
2016 CLC 848

پرامیسری نوٹ لکھنے والے دن رقم ادا کرنا ضروری نہ ہے رقم بعد میں بھی دی جا سکتی ہے۔مدعاعلیہ نے بغیر کوئی رقم وصول کیے بغیر چیک کیسے دیا دعوی ڈگری شده
2017YLR 416
مدعاعلیہ نے کہا کہ چیک پر میرے دستخط نا ہے ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کو پیش نہ کیا دعویٰ ڈگری ہوا
‏2016 ScMR 2163‏

پرونوٹ 5 لاکھ سے زائد رقم کا ہو تواس پر 100 سے بطور Stamp قابل ادائیگی ہے۔بصورت دیگر قابل ادخال شہادت ہے‏2012 CLC 1679‏

منسوخی چیک دفعہ39 قانون دادرسی ایکٹ
سول کورٹ نے دعویٰ منسوخی چیک میں قرار دیا تھا کہ چیک بلا بدل جاری کیاگیا اور سول کورٹ کی اس ڈگری کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔عدالت عالیہ نے حکم زیر اعتراض بابت اندراج مقدمہ منسوخ کر دیا اور سائل کی آئینی درخواست منظور فرما لی۔
2016 PcrLJ 1102 Lah

پرونوٹ کی بنیاد پر زرنقد کا دعوی آرڈر 37 کے تحت دائر هوا جبکہ مدعاعلیہ فریق نے منسوخی دستاویز کا دعوی سول کورٹ میں دائر کیا اور ساتھ ھی ڈسٹرکٹ جج کو ہر دو دعوی جات یکجا کرنے کی درخواست گذاری جو منظور هوكر دعوى جات consolidate ھو گئے جس کیخلاف نگرانی ہائی کورٹ دائر کی گئی۔ ہائی کورٹ نے نگرانی خارج فرمائی
PLJ 2023 Lahore 199
[Multan Bench Multan]

10/12/2024

سامان جہیز پر بہترین ججمنٹس

عدالت نے اجراء میں 12 سال بعد ادائیگی پر سامان جہیز کی موجوہ قیمت ادا کرنے کا حکم دیا
2017 SCMR 321‏

لست سامان جہیز کی تائیدی شہادت موجود نہ ہے دعوی خارج
2004 scmr 1739
لسٹ سامان جہیز داخل کی ہے رسیدات نہ ہے دعویٰ ڈگری ہوا
2008 SCMR 1584

سامان جہیز کی رسیدات سنبھال کر رکھنا مشکل ہوتا ہے اس لیے صرف لڑکی کے بیان پر ہی سامان جہیز ڈگری کر دینا چاہیے
2017 SCMR 393

بیوی کے لیئے ممکن نہ ہے کہ وہ شادی کے وقت سامان جہیز کی لسٹ پر خاوندو گواہ کے دستخط لے صرف ، سامان جہیز بیوی کے ہی بیان پر ڈگری ہو سکتا ہے
2020 clc 380

‏ ‏ صرف بیوی کے بیان پر ہی سامان جہیز کا دعوی ڈگری
2015 clc 632
ہمارے معاشرے میں بوقت شادی سامان جہیز کی لسٹ تیار نہیں ہوتی نہ ہی ان پر خاوند کے دستخط ہوتے مدعیہ کی اپیل منظور شده سامان جہیز مطابق عرضی دعویٰ
ڈگری شده. ‏
2012-MLD 756‏
سامان جہیز کی ٹوٹ پھوٹ کو مد نظر رکھا جائے گا
‏PLJ 2015 LAH 540

سامان جہیز کے دعوی میں شوہر کے والدین اور قریبی رشتے داروں کو بھی پارٹی بنایا جا سکتا ہے جن کے قبضہ میں سامان جہیز ہو
2018 CLC 241
بیوی کے والدین کی مالی حیثیت سامان جہیز کے مقدمہ کو ثابت کرنے کیلیے بنیادی عنصر ھے
2020 Y L R 282

سامان جہیز کو، ثابت کرنے کے لیے، لسٹ سامان جہیز تیار کرنا اور سامان جہیز کی رسیدات پیش کرنا ضروری نہ ہے.
(2012 YLR 2693).
لسٹ سامان جہیز اور رسیدات کی کوئی اہمیت نہ ہے، دعوی سامان جہیز ڈگری شد.
(2013 CLC 698).
اگر مدعا علیہ، جواب دعوی میں، لسٹ سامان جہیز منجانب مدعیہ کو درست تسلیم کرے، تو دعویٰ واپسی سامان جہیز ڈگری ہوگا.
(2015 YLR 1427).
دعویٰ سامان جہیز اور طلائی زیورات کے لیے تین سال کی معیاد مقرر ہے.
(2016 CLC 313).
فیملی کیس میں قانون شہادت کا اطلاق نہ ہوتا ہے، اس لئے سامان جہیز کو ثابت کرنے کے لیے سامان جہیز کی رسیدات اور متعلقہ افراد کو بطور گواہ پیش کرنا ضروری نہ ہے.
(2017 SCMR 393).

سامان جہیز کو بذریعہ پنچائیت واپس کرنےکے لئے کسی تیسرے آدمی سے تحریر لکھوانا لازم ہے ۔
2019 YLR 1900
رواج کے مطابق والدین اپنی بیٹیوں کو اپنی حیثیت سے زائد سامان جہیز دیتے ہیں ۔
2019 YLR 1862 (c)
محض لسٹ سامان جہیز ایگزبٹ نہ ہونے کی بناء پر دعٰوی سامان جہیز خارج نہ ہو گا۔
2019 MLD 1145
دعٰوی واپسی سامان جہیز میں سامان جہیز کی رسیدات کے تحریر کنندہ کو پیش کرنا ضروری نہ ہے ۔
2018 YLR 1642

14/11/2024
پاسپورٹ بنوانے کے خواہشمند شہریوں کے لئے بڑی خوشخبری!👇شناختی کارڈ پر درج ایڈریس کی شرط ختم کردی گئی۔ اب شہری پاکستان کے ...
02/11/2024

پاسپورٹ بنوانے کے خواہشمند شہریوں کے لئے بڑی خوشخبری!👇

شناختی کارڈ پر درج ایڈریس کی شرط ختم کردی گئی۔ اب شہری پاکستان کے کسی بھی شہر سے پاسپورٹ بنوا سکیں گے!

30/10/2024
29/10/2024

* Limitation Period:

1. The time for filing first appeal in civil cases is 30 days.

2. The time for filing second appeal in civil cases is 60 days.

3. The time for filing civil revision is 90 days.

4. Limitation period of appeal in capital punishment, 7 days.

5. Limitation period of appeal From Magistrate to Sessions Court, 30 days.

6. Limitation period of appeal From Sessions Court to High Court, 60 days.

7. Limitation period of appeal From High Court to Supreme Court, 30 days.

8. Limitation period of appeal From High Court to Supreme Court in special Leave to
Appeal, 30 days.

9. Limitation period of appeal From Magistrate to High Court in acquittal in Challan
Case is 30 days and in Complaint Case 60 days.

10. Limitation period of appeal From Sessions Court to High Court in acquittal in Challan
Case is 30 days and in Complaint Case 60 days.

11. Limitation period of appeal From High Court when case decide by it in its original
jurisdiction and to Division Bench than 20 days in acquittal or conviction as the case
may.

12. Plaintiff has a time of 6 years to file ex*****on.

13. Limitation in civil suits is 3 years from the cause of action.

14. Article 150. Appeal from death sentence to High Court-7 days.

15. Article 151. High Court order on original side-appeal-20 days.

16. Article 154. Appeal to any Court other than High Court-30 days.

17. Article 155. Criminal appeal to High Court-60 days.

18. Article 157. Appeal from acquittal by State-6 months.

* AL- QAIM LAW ASSOCIATES*اپنی جائیداد ملکیتی کا قبضہ حاصل کرنے کا طریقہ کاراگر آپکی کسی جائیداد پر کوئی اور قابض ہے یا ...
28/10/2024

* AL- QAIM LAW ASSOCIATES*

اپنی جائیداد ملکیتی کا قبضہ حاصل کرنے کا طریقہ کار

اگر آپکی کسی جائیداد پر کوئی اور قابض ہے یا آپ نے کوئی جائیداد خریدی ہو اسکا قبضہ نہ مل رہا ہو تو مندرجہ ذیل طریقہ سے آپ قبضہ حاصل کرسکتے ہیں
Section 8 Specific Relief Act ,1877
مذکورہ بالا سیکشن کے تحت آپ عدالت سے رجوع کرکے اپنی جائیداد کا قبضہ حاصل کرسکتے ہیں اور دعوی میں مذکورہ بالا قانون کی دفعہ 42 کا حوالا بھی دیں عدالت فریقین کو طلب کرے گی ضرورت پڑنے پر لوکل کمیشن بھی مقرر کرسکتی ہے

قبضہ واپسی کے دعوی کرنے کی معیاد 6 سے 12 سال ہوتی ہے

جبکہ کورٹ فیس مالیت کے مطابق ادا کرنے ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ کورٹ فیس بمطابق شیڈول پندرہ ہزار روپے ہوتی ہے

مزید راہنمائی کے لیے مندرجہ ذیل عدالتی نظائر ملاحظہ کریں

2018 CCLN 40,2018 CCLN 19,2018 CLC 866,2017 SCMR 1851

پاکستان میں کمپنی رجسٹریشن کی مرحلہ وار تفصیلمرحلہ 1: کمپنی کے نام کا انتخاب اور تصدیقنام کی تجویز: سب سے پہلے، آپ کو اپ...
20/10/2024

پاکستان میں کمپنی رجسٹریشن کی مرحلہ وار تفصیل

مرحلہ 1: کمپنی کے نام کا انتخاب اور تصدیق

نام کی تجویز:
سب سے پہلے، آپ کو اپنی کمپنی کے لیے ایک منفرد نام کا انتخاب کرنا ہوگا۔

نام کی تصدیق:
اس کے بعد، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے پورٹل پر جا کر نام کی تصدیق کرانی ہوگی۔ اس کے لیے آپ کو ایک فیس ادا کرنی پڑے گی۔

مرحلہ 2: دستاویزات کی تیاری

میمورنڈم آف ایسوسی ایشن:
کمپنی کے مقاصد اور ڈھانچے کو بیان کرتا ہے۔

آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن:
کمپنی کے اندرونی قوانین و ضوابط کو بیان کرتا ہے۔

فارم 1, 21, اور 29:
یہ فارمز کمپنی کے ڈائریکٹرز اور دفتر کے پتے وغیرہ کی تفصیلات پر مشتمل ہوتے ہیں۔

مرحلہ 3: دستاویزات جمع کروانا اور فیس کی ادائیگی

دستاویزات جمع کروانا:
تمام تیار کردہ دستاویزات کو SECP کی ویب سائٹ پر الیکٹرانک طور پر جمع کروانا ہوگا۔

رجسٹریشن فیس:
مختلف کلاسز کے لیے فیس کی مقدار مختلف ہوتی ہے، جو کمپنی کی قسم اور سرمایہ پر منحصر ہے۔

مرحلہ 4: کمپنی کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا

سرٹیفکیٹ کا اجراء:
تمام دستاویزات کی جانچ پڑتال اور فیس کی ادائیگی کے بعد، SECP آپ کی کمپنی کو رجسٹر کرے گا اور آپ کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔

مرحلہ 5: دیگر رجسٹریشنز

ٹیکس رجسٹریشن:
کمپنی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) میں NTN (نیشنل ٹیکس نمبر) کے لیے رجسٹر کرنا ہوگا۔

پروفیشنل رجسٹریشنز:
مخصوص شعبہ جات کے لیے متعلقہ پروفیشنل بورڈز میں رجسٹریشن ضروری ہو سکتی ہے۔

یہ مراحل آپ کو پاکستان میں کمپنی کے رجسٹریشن کے عمل سے گزارتے ہیں۔ یاد رہے کہ تمام فارمز اور دستاویزات کی تیاری میں کسی قانونی مشیر سے رجوع کرنا مفید ہو سکتا ہے تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

ا

Step-by-Step Company Registration Process in Pakistan

Step 1: Choosing and Confirming the Company Name

Name Proposal:
Firstly, you will need to choose a unique name for your company.

Name Confirmation:
Afterwards, you must confirm the name through the Securities and Exchange Commission of Pakistan (SECP) portal. You will need to pay a fee for this.

Step 2: Preparation of Documents

Memorandum of Association:
Describes the objectives and structure of the company.

Articles of Association:
Describes the internal rules and regulations of the company.

Forms 1, 21, and 29:
These forms include details about the company’s directors and office address.

Step 3: Submission of Documents and Payment of Fees

Document Submission:
All prepared documents must be submitted electronically on the SECP website.

Registration Fee:
The amount of the fee varies for different classes, depending on the type and capital of the company.

Step 4: Obtaining the Company Registration Certificate

Certificate Issuance:
After all documents are reviewed and fees are paid, SECP will register your company and issue the registration certificate.

Step 5: Other Registrations

Tax Registration:
The company must be registered for an NTN (National Tax Number) with the Federal Board of Revenue (FBR).

Professional Registrations:
Registration with relevant professional boards may be necessary for specific sectors.

These steps guide you through the process of company registration in Pakistan. Remember that it may be beneficial to consult a legal advisor for the preparation of all forms and documents to avoid complications.

فوجداری مقدمہ کے مراحل(ایف آئی آر سے فیصلہ مقدمہ تک)ایف آئی آر 𝐅𝐈𝐑: جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے تو سب سے پہلے پولیس ک...
16/10/2024

فوجداری مقدمہ کے مراحل
(ایف آئی آر سے فیصلہ مقدمہ تک)

ایف آئی آر 𝐅𝐈𝐑:
جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے تو سب سے پہلے پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے اگر وہ جرم قابلِ دست اندازی ہو تو پولیس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟓𝟒 کے تحت 𝐅𝐈𝐑 درج کرتی ہے(قابل دست اندازی جرم وہ ہوتے ہیں ہیں جن میں پولیس کسی بھی ملزم کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے) ایف آئی آر کا مقصد فوجداری قانون کو حرکت میں لانا ہوتا ہے اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو پولیس کے اس عمل کے خلاف آپ 𝐃𝐒𝐏 یا 𝐒𝐏 کو درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر پھر بھی ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی تو جسٹس آف پیس (𝐣𝐮𝐬𝐭𝐢𝐜𝐞 𝐨𝐟 𝐩𝐞𝐚𝐜𝐞) کے پاس پٹیشن (𝐩𝐞𝐭𝐢𝐭𝐢𝐨𝐧) دائر کی جاتی ہے۔ یہ پٹیشن ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟐𝟐𝐀 اور 𝟐𝟐𝐁 کے تحت دائر کی جاتی ہے۔ جسٹس آف پیس کے اختیارات سیشن ججز کے پاس ہی ہوتے ہیں۔ مطلب کہ یہ درخواست سیشن جج (𝐬𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐣𝐮𝐝𝐠𝐞) کے پاس درج کی جائے گی اور وہ پولیس کو 𝐝𝐢𝐫𝐞𝐜𝐭 کرے گا کہ اس وقوعہ کی ایف آئی آر درج کرے۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس استغاثہ (𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐞 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐥𝐚𝐢𝐧𝐭) کا راستہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ کسی بھی جرم (چاہے وہ قابل دست اندازی پولیس ہو یا نہ ہو) کے متعلق علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دی جا سکتی ہے۔

ضمانت قبل از گرفتاری:
ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد اگر شخص سمجھتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور وہ بے گناہ ہے تو وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟒𝟗𝟖 کے تحت سیشن کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے درخواست دائر کر سکتا اور گرفتار ہونے سے بچ سکتا ہے۔

تفتیش:
ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد پولیس دفعہ 𝟏𝟓𝟔 کے تحت اس کے متعلق تفتیش شروع کرتی ہے۔ جائے وقوعہ پر جا کر کر ثبوت اکٹھے کرتی ہے۔ دفعہ 𝟏𝟔𝟏 کے تحت گواہوں کے بیان ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔

ملزمان کی گرفتاری:
پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ دوران تفتیش قابلِ ضمانت یا ناقابلِ ضمانت کیس میں ملزمان کو گرفتار کرے۔ اس کے علاوہ دفعہ 𝟏𝟔𝟗 کے تحت پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کو بے گناہ پا کر چھوڑ بھی سکتی ہے۔
مجسٹریٹ کے سامنے پیشی:
تفتیش کے دوران پولیس 𝟐𝟒 گھنٹوں کے اندر اندر گرفتار شدہ ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کی پابند ہے۔
جب پولیس گرفتار ملزمان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتی ہے تو اس وقت تک کی گئی تفتیش بھی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنی ہوتی ہے اور اگر 𝟐𝟒 گھنٹوں میں تفتیش مکمل نہ کی گئی ہو تو ملزم کے جسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ کی درخواست دی جاتی ہے اور دوسری جانب مجسٹریٹ کے سامنے پیشی پر ملزم ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے درخواست دیتا ہے۔

ریمانڈ:
ریمانڈ دو طرح کا ہوتا ہے۔ جب پولیس نے ملزم سے کوئی برآمدگی کرنی ہو تو وہ دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتی ہے کہ ملزم کو واپس پولیس کے حوالے کیا جائے۔ اگر پولیس کو ملزم کی حراست کی ضرورت نہ ہو تو وہ دفعہ دفعہ 𝟑𝟒𝟒 کے تحت ریمانڈ جوڈیشل کی درخواست کرتی ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی زیادہ سے زیادہ میعاد 𝟏𝟓 دن ہے لیکن مجسٹریٹ کبھی بھی 𝟏𝟓 دن کا ریمانڈ ایک ساتھ نہیں دیتا بلکہ دو دو یا چار چار دن کا ریمانڈ جسمانی دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اب اگر دو دن کا ریمانڈ دیا گیا ہو تو پولیس اس شخص کو دو دن کے بعد دوبارہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گی۔ اس دوران جو بھی تفتیش کی ہوتی ہے وہ مجسٹریٹ کے سامنے رکھے گی اور دوبارہ سے ریمانڈ کے لیے درخواست دے گی۔ اس طرح وقفے وقفے سے مجسٹریٹ ٹوٹل 𝟏𝟓 دن کا جسمانی ریمانڈ پر ملزم کو پولیس کے حوالے کر سکتا ہے لیکن اگر ریمانڈ کی درخواست دیتے وقت مجسٹریٹ کو لگے کہ کہ پولیس نے کوئی خاص تفتیش نہیں کی تو مجسٹریٹ جسمانی ریمانڈ نہیں دیتا بلکہ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیتا ہے۔

ضمانت بعد از گرفتاری:
اب ہم دیکھتے ہیں کہ کہ ایف آئی آر درج ہوگئی ملزم گرفتار ہوا اور ہم نے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔ ملزم اب بعد از گرفتاری ضمانت کیلئے درخواست دائر کرسکتا ہے اور اگر عائد کردہ جرم قابل ضمانت ہو تو ضمانت ملزم کا حق ہے۔ ناقابلِ ضمانت جرم میں اگر ملزم بے گناہ ہو اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو اور مزید تفتیش کی ضرورت ہو تو بھی ملزم کو ضمانت مل سکتی ہے۔

چالان (𝐏𝐨𝐥𝐢𝐜𝐞 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭):
اب اگلا مرحلہ چالان جمع کروانے کا ہوتا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟕𝟑 ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 𝟏𝟒 دن کے اندر اندر مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع کروانا ہوتا ہے اگر 𝟏𝟒 دنوں میں پولیس نے چالان جمع نہیں کرایا تو تین دن کے اندر عبوری چالان جمع کرائے گی۔ مطلب کہ پولیس کے پاس چالان جمع کرانے کے لیے 𝟏𝟒+𝟑 دن کا وقت ہوتا ہے اس دورانیہ میں پولیس نے ہر حال میں مکمل یا نامکمل چالان جمع کرانا ہوتا ہے ( نامکمل چالان اس صورت میں جمع ہوتا ہے جب 𝐟𝐨𝐫𝐞𝐧𝐬𝐢𝐜 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭 تیار نہیں ہوتی اور اس کے آنے میں ابھی وقت ہوتا ہے) تاکہ جتنے بھی ثبوت اکٹھے ہوئے ہیں جتنی بھی تفتیش ہوئی ہے اس کی بنیاد پر عدالت ٹرائل چلا سکے لیکن عدالت کا اختیار ہے کہ وہ مکمل چالان کے بعد بھی ٹرائل شروع کر سکتی ہے۔

چالان کے کالم:
چالان کے 𝟕 کالمز ہوتے ہیں۔ پولیس نے ابھی تک جتنی بھی کارروائی کی ہوتی ہے اس چالان فارم پر لکھتی ہے۔
پہلے کالم میں نام و پتہ مستغیث درج ہوتا ہے
دوسرا کالم اشتہاری ملزمان کا ہوتا ہے
تیسرے کالم میں زیر حراست ملزمان کے کوائف درج ہوتے ہیں چوتھا کالم ان ملزمان کے متعلق ہوتا ہے جو ضمانت پر رہا ہوتے ہیں
پانچویں کالم میں مال مقدمہ کی تفصیل درج ہوتی ہے مثلاً ملزمان سے کوئی ہتھیار یا چرس برآمد ہوئی ہو تو اس کا ذکر ہوتا ہے
چھٹے کالم میں استغاثہ کے گواہان کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ ساتویں کالم میں پوری تفتیش کا خلاصہ لکھا ہوتا ہے۔
چالان کے ساتھ مختلف ڈاکومنٹ بھی لف ہوتے ہیں جن میں ایف آئی آر کی کاپی، میڈیکل رپورٹ، فرد مقبوضگی اور نقشہ موقع شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مستغیث اور گواہان کے بیانات جو کہ پولیس نے 𝟏𝟔𝟏 کے تحت ریکارڈ کیے ہوں شامل ہوتے ہیں۔

مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع ہونے پر اگر مجسٹریٹ کو لگے کہ وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟗𝟎 کے مطابق اس کیس کے ٹرائل کا اختیار رکھتا ہے تو ٹرائل شروع کرتا ہے اور اگر اسے لگے اس کیس میں ٹرائل شروع کرنے کا اختیار سیشن کورٹ کے پاس ہے تو وہ اس کیس کو سیشن جج کے پاس بھیج دیتا ہے۔ ضابطہ فوجداری میں دونوں عدالتوں کے ٹرائل کی الگ الگ وضاحت کی گئی ہے۔ لیکن یہاں ہم ٹرائل کو عام نقظہ نظر سے دیکھیں گے۔

ملزم کو دستاویزات کی فراہمی:
اگر تو ملزمان ضمانت پر رہا ہیں تو پولیس کے ذریعے انہیں بلایا جائے گا اگر تو وہ جیل میں ہیں تو بذریعہ جیل سپرانٹنڈنٹ انہیں بلایا جائے گا۔ جب ملزمان حاضر ہو جاتے ہیں تو چالان، گواہوں کے بیان اور جو بھی متعلقہ ڈاکومنٹ چالان کے ساتھ لف ہوتا ہے ان سب کی کاپیاں بغیر معاوضہ کے انھیں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ڈاکومنٹس فرد جرم عائد ہونے سے کم از کم 𝟕 دن پہلے دینا لازم ہے تاکہ ملزم کو پتہ چل سکے کہ اس کے خلاف کیا کیس ہے اور کیا کیا ثبوت اکٹھے ہو چکے ہیں۔

ٹرائل کا آغاز:
اب ٹرائل کا مرحلہ آتا ہے۔ ٹرائل کا آغاز ملزم پر فرد جرم عائد کرنے سے ہوتا ہے۔ عدالت ملزم کو بتاتی ہے تمہارے اوپر یہ الزام ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ اقبال جرم کرتا ہے یا جوابدہی کرے گا۔ ٹرائل کے دوران اگر تو ملزم اقبال جرم کر لے تو عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس کو سزا سنا دے۔ لیکن اگر عدالت کو لگے کہ وہ جھوٹا اعترافی بیان دے رہا ہے تو عدالت اس کے بیان کو رد بھی کر سکتی ہے۔
اگر ملزم اعترافی بیان نہیں دیتا تو پھر باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوتا ہے اس کے بعد پرازیکیوشن(𝐩𝐫𝐨𝐬𝐞𝐜𝐮𝐭𝐢𝐨𝐧) کے گواہوں کے بیان ریکارڈ ہوتے ہیں اور ملزم کا وکیل ان پر جرح کرتا ہے۔ پرازیکیوشن کے پاس دو طرح کے گواہ ہوتے ہیں ایک تو پرائیویٹ گواہ ہوتے ہیں جو کہ مستغیث کے گواہ ہوتے ہیں مثلاً کہ چشم دید گواہ وغیرہ۔ دوسرے پولیس کے گواہ ہوتے ہیں جیسا کہ ایف آئی آر درج کرنے والا پولیس افسر۔
جب پرازیکیوشن کے گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو جاتے ہیں اس کے بعد ملزم کا 𝟑𝟒𝟐 کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ جو کہ ہر حال میں لازم ہے۔ ملزم سے مختلف سوال پوچھے جاتے ہیں مثلاً اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے خلاف یہ کیس کیوں بنایا گیا ہے یہ گواہ آپ کے خلاف گواہی کیوں دے رہے ہیں۔ ملزم ان سوالوں کا عموماً یہ ہی جواب دیتا ہے کہ میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا اور میں بے گناہ ہوں۔ اس کے علاوہ ملزم سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ اپنی صفائی میں کوئی ڈاکومنٹ یا کوئی گواہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ان سوالوں میں ایک سوال یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ کیا وہ اپنے حق میں گواہی دینا چاہتا ہے اگر وہ کہے کہ میں اپنا گواہ بنتا ہوں تو 𝟑𝟒𝟎 کے تحت وہ حلف اٹھا کر اپنے ہی گواہ کے طور پر پیش ہوتا ہے اور بیان دیتا ہے اور پرازیکیوشن اس پر جرح کرتی ہے۔ لیکن عام طور پر ملزمان 𝟑𝟒𝟎 کے تحت اپنا ہی گواہ نہیں بنتے اور نہ ہی اپنے حق میں کوئی گواہ پیش کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ اپنا ہی گواہ خود بنے یا اپنے حق میں کوئی اور گواہ پیش کرے تو مخالف وکیل کو اس پر اور اس کے گواہ پر جرح کا حق ہوگا اور اس جرح میں ملزم پھنس سکتا ہے۔

بحث:
اب اگلا مرحلہ آرگومنٹ کا آتا ہے دونوں اطراف سے دونوں پارٹیز کے وکیل بحث کرتے ہیں۔

فیصلہ:
عدالت کیس کے متعلق فیصلہ سناتی ہے۔ فیصلہ کے لیے ضروری ہے کہ جج پہلے اسے لکھے اور پھر اس فیصلے کو عدالت میں سنائے۔ فیصلہ میں مجرم کو بری کر دیا جاتا ہے یا سزا سنائی جاتی ہے۔ اگر تو فیصلہ اس کی سزا کا ہے تو ملزم کو اپیل دائر کرنے کے لیے اس فیصلہ کی ایک نقل بلا اجرت دی جاتی ہے۔

دیوانی مقدمے کے مراحل۔
15/10/2024

دیوانی مقدمے کے مراحل۔

Address

Judicial Complex Skardu. Gilgit Baltistan , District Courts Rawalpindi. Punjab
Rawalpindi

Telephone

+923157343861

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AL-Qaim Law Chamber Skardu. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to AL-Qaim Law Chamber Skardu.:

Share