Legal Logicx Law Firm

Legal Logicx Law Firm We're furnishing apex services in the field of law in Rawalpindi and Islamabad.

⚖️ Stages of Post-Mortem Changes – A Forensic OverviewUnderstanding the scientific timeline of death is crucial in crimi...
21/02/2026

⚖️ Stages of Post-Mortem Changes – A Forensic Overview
Understanding the scientific timeline of death is crucial in criminal investigations. From Algor Mortis to Skeletonization, each stage plays a vital role in determining time since death.

It is well established that industrial or commercial property does not attract the right of pre-emption.Civil Revision. ...
14/02/2026

It is well established that industrial or commercial property does not attract the right of pre-emption.
Civil Revision. 76980/24
Hassan Hafeez & 3 others through Attorney Vs Muhammad Ishtiaq
Mr. Justice Muhammad Sajid Mehmood Sethi
28-01-2026
2026 LHC 1077

Deferred dower becomes payable in the wake of proved polygamy under Section 6(5) of the Muslim Family Laws Ordinance, 19...
14/02/2026

Deferred dower becomes payable in the wake of proved polygamy under Section 6(5) of the Muslim Family Laws Ordinance, 1961.
W.P. 2743/25
Mehnaz Saleem Vs Kashif Iqbal etc
Mr. Justice Abid Hussain Chattha
10-02-2026
2026 LHC 1104

A combined reading of the Order XX Rule 3, CPC and 152, C.P.C makes it manifest that although a judgment, once signed, a...
14/02/2026

A combined reading of the Order XX Rule 3, CPC and 152, C.P.C makes it manifest that although a judgment, once signed, attains finality, the legislature itself has carved out a specific exception enabling correction of clerical or arithmetical mistakes or errors arising from accidental slips or omissions. The scope of section 152, C.P.C. are no longer res integra.

C.P.L.A.4456/2022
Farid Khan and others v. Hamid Badshah and others
Mr. Justice Shahid Bilal Hassan
22-01-2026

2026 LHC 999 ایگریمنٹ ٹو سیل میں رقم کی واپسی کا حقمعزز لاہور ہائیکورٹ نے ایک نہایت اصولی اور انصاف پر مبنی فیصلہ دیتے ہ...
11/02/2026

2026 LHC 999

ایگریمنٹ ٹو سیل میں رقم کی واپسی کا حق

معزز لاہور ہائیکورٹ نے ایک نہایت اصولی اور انصاف پر مبنی فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کسی فریق نے عدالت کے سامنے حلفاً رقم وصول کرنے کا اعتراف کیا ہو تو محض اس بنیاد پر کہ کسی دوسرے فریق کا ایگریمنٹ پہلے کا ہے، متاثرہ شخص کو الگ سے نیا مقدمہ دائر کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ:
• عدالتی کارروائی میں دیے گئے بیانات درست تصور کیے جاتے ہیں
• ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کا یہ کہنا کہ رقم کی واپسی کے لیے علیحدہ مقدمہ دائر کیا جائے، قانون اور انصاف کے منافی ہے
• Order VII Rule 7 CPC اور Specific Relief Act, 1877 کے تحت عدالت مکمل انصاف فراہم کرنے کی مجاز ہے
• جب رقم کی وصولی کا واضح اعتراف موجود ہو تو اسی مقدمہ میں رقم کی واپسی کا حکم دیا جانا چاہیے

🔹 چنانچہ لاہور ہائیکورٹ نے زیریں عدالتوں کے فیصلوں میں ترمیم کرتے ہوئے درخواست گزار کے حق میں 72 لاکھ روپے کی واپسی کا حکم دے دیا۔

📌 قانونی نکتہ:
عدالتیں غیر ضروری طور پر مقدمات کی تعداد بڑھانے کے بجائے، ایک ہی کارروائی میں مکمل اور مؤثر انصاف فراہم کرنے کی پابند ہیں۔

⚖️ یہ فیصلہ سول اور پراپرٹی مقدمات میں انصاف کے تقاضوں کو واضح کرنے والی ایک اہم نظیر ہے۔

رِٹس(Writs)  کے کتنے اقسام  ہوتے ہیں؟قانون میں رِٹس کی پانچ اقسام ہوتی ہیں:1) ہیبیس کارپس (Habeas Corpus)مقصد: شخصی آزاد...
11/02/2026

رِٹس(Writs) کے کتنے اقسام ہوتے ہیں؟
قانون میں رِٹس کی پانچ اقسام ہوتی ہیں:

1) ہیبیس کارپس (Habeas Corpus)

مقصد: شخصی آزادی کو محفوظ کرنا

کب دائر ہوتی ہے: جب کسی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا جائے

مطلب: “جسم پیش کرو”

2) منڈیمس (Mandamus)

مقصد: کسی سرکاری اتھارٹی کو قانونی فرض ادا کرنے پر مجبور کرنا

کب دائر ہوتی ہے: جب اتھارٹی قانون کے مطابق کام کرنے سے انکار کرے یا ناکام ہو

مطلب: “ہم حکم دیتے ہیں”

3) پروہیبیشن (Prohibition)

مقصد: ماتحت عدالت یا ٹریبونل کو اپنے اختیار سے تجاوز کرنے سے روکنا

کب دائر ہوتی ہے: جب کارروائی ابھی جاری ہو

مطلب: “روکنا”

4) سرشوراء (Certiorari)

مقصد: غیر قانونی یا بے اختیار حکم کو کالعدم قرار دینا

کب دائر ہوتی ہے: جب حکم اختیار یا قانونی طریقہ کار کے بغیر دیا جائے

مطلب: “تصدیق کے لیے”

5) کو وارنٹو (Quo Warranto)

مقصد: کسی سرکاری عہدے پر قبضے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنا

کب دائر ہوتی ہے: جب کوئی شخص غیر قانونی طور پر سرکاری عہدہ رکھے

مطلب: “کس اختیار سے”

Islamabad Transitions Fully to E-StampingIn a significant move toward transparency, digitization, and fraud-free documen...
11/02/2026

Islamabad Transitions Fully to E-Stamping

In a significant move toward transparency, digitization, and fraud-free documentation, Islamabad Capital Territory is shifting entirely to E-Stamping.

🔹 Manual judicial and non-judicial stamp papers will be phased out by 12 February 2026

🔹 From 13 February 2026, no court, office, or authority in ICT will accept manual stamp papers

🔹 Stamp vendors have been directed to deposit all registers and unused stamps with the ADC (Revenue)

This initiative marks an important milestone in modernizing public service delivery and strengthening trust in legal and revenue processes.

کیا ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کے تحت فیملی کیس میں حقائق دوبارہ جانچ سکتی ہے؟2023 SCMR 1434جواب: نہیں۔قانونی اصول:آئین کے آرٹ...
11/02/2026

کیا ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کے تحت فیملی کیس میں حقائق دوبارہ جانچ سکتی ہے؟
2023 SCMR 1434
جواب: نہیں۔

قانونی اصول:
آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار محدود ہے۔ یہ اپیل یا نظرثانی کا متبادل نہیں بن سکتا۔ جہاں ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ حقائق پر فیصلہ دے چکی ہوں، وہاں ہائی کورٹ شواہد کا ازسرِ نو جائزہ نہیں لے سکتی اور نہ ہی اپنی رائے اپیلیٹ کورٹ کی جگہ رکھ سکتی ہے، خصوصاً فیملی معاملات میں جہاں قانون کا مقصد مقدمات کو طول دینا نہیں بلکہ جلد نمٹانا ہے۔

پس منظر
بیوی اور نابالغ بچے نے دہر، نان نفقہ اور جہیز کی ریکوری کا دعویٰ دائر کیا جو فیملی کورٹ سے منظور ہوا اور ڈسٹرکٹ اپیلیٹ کورٹ نے برقرار رکھا۔ شوہر نے صرف حقائق کو چیلنج کرتے ہوئے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کی، جسے ہائی کورٹ نے اپیل کی طرح سن کر فیصلہ دیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ نے آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔ اگر قانون نے دوسری اپیل فراہم نہیں کی تو رِٹ کے ذریعے وہ خلا پُر نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرزِ عمل سے غیر ضروری مقدمہ بازی بڑھتی ہے اور قانون کی منشا کے خلاف نتائج پیدا ہوتے ہیں۔

درخواست برائے اجازتِ اپیل مسترد کر دی گئی۔

2025 MLD 385 (Lahore)دوسری شادی بغیر اجازت کیس میں بریت کا فیصلہاس مقدمے میں شوہر پر مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ...
10/02/2026

2025 MLD 385 (Lahore)
دوسری شادی بغیر اجازت کیس میں بریت کا فیصلہ

اس مقدمے میں شوہر پر مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 6(5)(b) کے تحت یہ الزام تھا کہ انہوں نے پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی یونین کونسل کی اجازت کے بغیر کی، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ شکایت طلاق کے تقریباً ساڑھے تین سال بعد دائر کی گئی جس سے مدعیہ کی نیت مشکوک ہو گئی، مزید برآں یہ معاملہ خاندانی نوعیت کا تھا جو فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جبکہ مجسٹریٹ سیکشن 30 کے پاس اس کی سماعت کا اختیار موجود نہیں تھا، اس طرح پوری کارروائی کورم نان جیوڈیس ثابت ہوئی، لہٰذا ہائی کورٹ نے زیریں عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے شوہر کو بری کر دیا۔

Ss. 177, 185 & 497--- Penal Code (XLV of 1860), S. 462-J--- Electricity theft--- Bail--- Jurisdiction of Court--- First ...
10/02/2026

Ss. 177, 185 & 497--- Penal Code (XLV of 1860), S. 462-J--- Electricity theft--- Bail--- Jurisdiction of Court--- First Information Report registered by FIA--- Dispute was with regard to territorial jurisdiction of Court to decide bail application of accused--- Offence was committed at place "P" and Court declined to decide bail application as FIR was registered by FIA and Special Court having jurisdiction was situated at place "G"---Validity---Place of occurrence was in territorial jurisdiction of place "P", therefore, Court at place "P" as Electricity Utility Court was competent to take cognizance of the offence and conduct trial of offence under S.462-G (a), P.P.C.---Court competent to take cognizance of offence and conduct trial of case, was competent to entertain and decide petition for bail--- Electricity Utility Court at place "P" was competent to entertain petition for bail and decide the same in accordance with law---In case of any doubt regarding jurisdiction to inquire into or try any offence, High Court under S.185 (1), Cr.P.C., was to decide about Court to inquire into or try the offence-High Court in exercise of powers vested under S.185 (1), Cr.P.C., decided that the Court (if otherwise competent to take cognizance) in whose territorial jurisdiction occurrence was committed i.e. place of occurrence was situated, would take cognizance of the offence and conduct trial of the case---Court of Electricity Utility Court at place "P" was Trial Court in the matter-- -Office objection was disposed of accordingly.

ناہب کورٹ کی خدمات فوری طور پر ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
10/02/2026

ناہب کورٹ کی خدمات فوری طور پر ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

Address

Chamber# 301, 2nd Floor, Raja Shahid Mehmood Abbasi Block, Near Dispensary, District Courts
Rawalpindi
46000

Opening Hours

Monday 08:00 - 21:00
Tuesday 08:00 - 21:00
Wednesday 08:00 - 21:00
Thursday 08:00 - 21:00
Friday 08:00 - 21:00
Saturday 08:00 - 21:00

Telephone

+923095305107

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Logicx Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal Logicx Law Firm:

Share