G.H Rana Law Chamber "Advocates & Legal Consultants"

G.H Rana Law Chamber "Advocates & Legal Consultants" We consistently apply international standards of transparency & due diligence to our clients’ affairs.

We can provide independent advice on all Legal, Corporate and Tax matters in the strictest confidence and provide solutions.

اے عظیم کبریا سن غریب کی دعاسازشوں میں گر گی بنت ارض ایشیالشکر یزید میں اک کنیز کربلافیصلے کی منتظر اک یتیم بے خطا ٹال س...
27/12/2025

اے عظیم کبریا سن غریب کی دعا
سازشوں میں گر گی بنت ارض ایشیا
لشکر یزید میں اک کنیز کربلا
فیصلے کی منتظر اک یتیم بے خطا
ٹال سب مصیبتیں ھے دعا تیرے خضور
واسطہ حسین کا توڑ ظلم کا غرور
یااللہ یا رسول بے نظیر بے قصور
وفاق کی ا منگ تھی عوام ھی کے سنگ تھی
کینز کربلا کی بس یزیدیت سے جنگ تھی
وطن کو باپ بھی دیا وطن کو بھا ئی بھی دیا
وطن کے لیے پھر اپنا آپ بھی دیا
وطن کی ماں چلی گئی سنو لحد کی گود میں
وہ صاحب مراد تھی وہ کل بھی زندہ باد تھی
وہ آج بھی زندہ باد ھے
شھید جمھوریت تیری عظمت کو سلام پیش کرتے ھیں یااللہ محترمہ بے نظیر بھٹو شھید کو کروٹ کروٹ جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین م

وہ ہاتھ جو سر پہ دعا بن کے رہتے تھےمٹی میں سو گئے، مگر دعا باقی ہے
23/12/2025

وہ ہاتھ جو سر پہ دعا بن کے رہتے تھے
مٹی میں سو گئے، مگر دعا باقی ہے

21/04/2025
21/04/2025

سوال: میرے بھائی کی ایک ٹریفک حادثہ میں موت ہو گئی۔ یہ حادثہ بس ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے پیش آیا۔ کیا ہمیں اس نقصان کا کوئی ہرجانہ مل سکتا ہے؟
جواب: حادثہ میں نقصان کی صورت 3 جگہ اپروچ کیا جانا چاہیے۔
1۔ جس کی غلطی ہے اس کیخلاف ایف آئی آر درج کروائیں۔
2۔ آپ موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت ہرجانہ وصول کر سکتے ہیں۔
3۔ آپ فیٹل ایکسیڈنٹ ایکٹ کے تحت معاوضہ/ہرجانہ وصول کر سکتے ہیں۔
نوٹ: اگر کسی نے موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت ہرجانہ وصول کر لیا ہو، وہ فیٹل ایکسیڈنٹ ایکٹ کے تحت الگ سے بھی ہرجانہ حاصل کر سکتا ہے۔
یہ رقم کافی معقول دی جاتی ہے۔ مرنے والوں کے متاثرین ضرور ان داد رسیوں کو حاصل کریں۔ بیوہ اور بچوں کا بھلا ہو گا۔ ہرجانے کا کیس گاڑی کے ڈرائیور اور مالک دونوں کیخلاف کریں

اجکل کے ایس ایچ او صاحبان تفتیشی افسر کی تحریر پر اعتماد کرتے ہوئے پڑھنا گوارا ہی نہیں کرتے. بعض اوقات وہی اعتماد ایس ای...
17/12/2024

اجکل کے ایس ایچ او صاحبان تفتیشی افسر کی تحریر پر اعتماد کرتے ہوئے پڑھنا گوارا ہی نہیں کرتے. بعض اوقات وہی اعتماد ایس ایچ او کو لے ڈوبتا ہے

تھانہ کنگن پور ۔ تحصیل چونیان ضلع قصور SHO اور تفتیشی آفیسر محمد عباس ASI کے خلاف عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے

تھانیدار اپنے جال میں خود ہی پھنس گیا۔ساتھ SHO کو بھی لے ڈوبا ہے

تفصیلات کے مطابق ملزم عبد الرزاق ولد بشیر احمد قوم میں۔۔ کو پولیس نے 11دسمبر 2024 کو گرفتار کیا۔اور 3 دن تک گرفتاری کا اندراج کیے بغیر غیر قانونی طور پر بند رکھا۔۔14 دسمبر2024 کو جوڈیشل ریمانڈ کے لیے ملزم کو بعدالت جناب محمد جاوید خان مجسٹریٹ دفعہ 30 چونیاں کے پاس پیش کیا۔تو تھانیدار اپنی تحریر سے خود ہی پھنس گیا۔اور ملزم نے بھی عدالت کو بتایا کہ اسے تین دن پہلے سے گرفتار کر کے تھانہ میں رکھا گیا ہے۔قانون کے مطابق کسی بھی ملزم کو گرفتاری کے بعد 24گھنٹہ کے اندر اندر عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ فزیکل یا ریمانڈ جوڈیشل لینا ہوتا ہے۔اگر کسی شہری کو پولیس گرفتار کرکے غیر قانونی طور پر تھانہ میں رکھتی ہے۔اور اس کی گرفتاری کا اندراج روزنامچہ میں نہیں کیا جاتا۔تو یہ جرم ہے۔

مزکورہ مقدمہ میں تھانیدار، قانون کی لاعلمی کی وجہ سے۔یا۔قدرت کی پکڑ میں آنے کی وجہ سے ریمانڈ کی درخواست میں غلطی سے سچ لکھ کر لے گیا۔جس پر عدالت نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے DPO ضلع قصور کو SHO اور تفتیشی آفیسر کے خلاف FIR درج کرکے عدالت کو اطلاع دینے کا حکم دے دیا ہے

4/10/2024
03/10/2024

4/10/2024





پنجاب بھر کے  اراضی ریکارڈ سنٹر مین تعینات ریونیو آفیسر کو محکمانہ ہدایت جاری کر دی گی ہے جسکے تحت کسی عدالتی مقدمہ مین ...
23/09/2024

پنجاب بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹر مین تعینات ریونیو آفیسر کو محکمانہ ہدایت جاری کر دی گی ہے جسکے تحت کسی عدالتی مقدمہ مین حکم امتناع/ سٹیٹس کو جاری ہونے کے صرف اتنا رقبہ لاک کرین گین جو کہ معززعدالت نے بتایا ہو گا۔۔کیونکہ اراضی ریکارڈ سنٹر مین وطیرہ بن چکا ہے کہ اگر ایک مقدمہ مین مدعی نے مدعا الہیھم پر سٹے آرڈر صرف دو کنال کی حد تک لگایا ہے اور اس کھیوٹ مین مدعاالھیم کی ٹوٹل اراضی دس کنال ہے تو اراضی سنٹر کا عملہ یا تو تمام کھیوٹ بلاک کر دیتا تھا یا مدعاالھیم کا ٹوٹل رقبہ یعنی دس کنال کو بلاک کر دیتا تھا۔اب صرف رقبہ بلاک وہ کرنا ہے جو عدالت طے کرے گی یعنی جس اراضی کا تنازعہ چل رہاہے اگر تنازعہ دو کنال کا ہے تو صرف دو کنال رقبہ لاک ہو گا اور اگر تنازعہ پانچ کنال کا ہے تو رقبہ لاک پانچ کنال ہو گا اور مزیر اراضی سنٹر کا ریوینیو آفیسر سا یل کی درخواست پر لکھ کر ماتحت عملہ کو ہدایت کرے گا کہ سٹے آرڈر کو کیسے اور کتنا رقبہ لاک کرنا ہے۔۔۔اب اس عذاب سے جان ختم ہو گی ہے کی سٹے آتے ہی تمام کھیوٹ لاک اور مدعاالھیم کا سب رقبہ لاگ کر دیا جاتاتھا اور اس کے باوجود اگر ریونیو آفیسر تنازعے والے رقبہ سے زاہد رقبہ بلاک کرتا ہے

فارم ب بنوانے کا طریقہ کار ۔1۔ سب سے پہلے اپ نے اپنے متعلقہ ویلج کونسل افس سے برتھ سرٹیفیکیٹز بنوانے ہے جس میں 3 سے 6 دن...
18/09/2024

فارم ب بنوانے کا طریقہ کار ۔
1۔ سب سے پہلے اپ نے اپنے متعلقہ ویلج کونسل افس سے برتھ سرٹیفیکیٹز بنوانے ہے جس میں 3 سے 6 دن تک لگ سکتے ہے۔
2۔ برتھ سرٹیفیکیٹز بنوانے کے بعد نادرا افس جا کر اپلائی کریں ، وہاں اپکو ایک فارم دیا جائے گا جس کو اپ گزڈیڈ افیسر سے تصدیق کر کے واپس نادرا افس میں جمع کرنا ہوگا۔ ساتھ برتھ سرٹیفیکیٹز ، سکول سرٹیفیکیٹز ، یا فولیو کارڈ ، اٹیج کریں۔
نوٹ۔ 6 دسمبرسے نادرا نے پالسی چینج کی ہے۔ کہ کسی بھی گھرانے میں جتنے بچے ہو ، ان کے برتھ سرٹیفیکیٹز ، ان کے میرج سرٹیفیکیٹز ، اگر والدین میں کوئی وفات پایا ہو تو ان کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹز بنوانا لازم کیا ہے۔ یہ فالسی وقتی طور پر ہے ان سے عوام کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے ہیں ۔لیکن یہ سب ہمارے فائدے کیلئے ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ چند مہینے بعد نادرا کا ریکارڈ 95٪ کلئر ہو۔ جائے گا ۔ اور اس میں عوام کو بہت اسانی ہوگی۔۔

۔ #

عائلی عدالتوں کی جانب سے تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کو تنسیخ نکاح بزریعہ خلع میں تبدیل کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ...
14/09/2024

عائلی عدالتوں کی جانب سے تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کو تنسیخ نکاح بزریعہ خلع میں تبدیل کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک نہایت ہی اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ:

سات اگست دو ہزار چودہ کو صائمہ نامی ایک عورت نے ایبٹ آباد کی مقامی عائلی عدالت یعنی فیملی کورٹ میں ابراہیم خان نامی ایک شہری کے خلاف مندرجہ ذیل دو کیسز جمع کیے :

پہلا دعویٰ : تکذیب نکاح یعنی کہ ابراہیم خان ، صائمہ کا شوہر ہونے کا جھوٹا دعویدار ہے اور اگر یہ بات ثابت نہیں ہوپاتی تو متبادل کے طور پر تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کا فیصلہ اور اس کے ساتھ ساتھ سامان جہیز اور مہر کے دلاپانے کا دعویٰ۔

دوسرا دعویٰ : دوسرا دعویٰ صائمہ کی طرف سے یہ دائر کیا گیا کہ اس کو نان نفقہ دیا جائے اور متبادل کے طور پر مکان کا قبضہ یا اس کی موجودہ بازاری قیمت اس کو ادا کی جائے۔

یاد رہے کہ صائمہ کی جانب سے مندرجہ بالا دونوں کیسز کے جواب میں نہ صرف جواب دعویٰ جمع کرایا جاتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ دعویٰ اعادہ حقوق زن آشوئ بھی جمع کرایا جاتا ہے۔

مندرجہ بالا دونوں کیسز کا فیصلہ فیملی کورٹ کی جانب سے چھبیس نومبر دو ہزار پندرہ کو کیا جاتا ہے جس کے مطابق عدالت نے نہ صرف صائمہ کو تنسیخ نکاح بزریعہ خلع بشرط معافی مہر کا فیصلہ بلکہ ساتھ ہی ساتھ نان نفقے بشمول عدت کے دورانیے اور سامان جہیز بھی واپس کرنے کا فیصلہ دے دیتی ہے جبکہ دوسری طرف شوہر کی جانب سے کیے جانے والے دعویٰ اعادہ حقوق زن آشوئ کو خارج کر دیا جاتا ہے۔ عائلی عدالت کے اس فیصلے کو ضلعی عدالت کی جانب سے بھی اپیل کے موقع پر برقرار رکھا جاتا ہے لیکن خاتون کے نان نفقے کی رقم میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ صائمہ کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ سے بدیں وجہ رجوع کیا جاتا ہے کہ اس نے کیس میں کہیں پر بھی خلع کی استدعا نہیں کی بلکہ اس کا دعویٰ تو تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی تھا۔ عدالت عالیہ نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد نچلی دونوں عدالتوں یعنی عائلی جج اور ضلعی جج کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ چونکہ اس کیس میں تو ابراہیم خان پہلے ہی صائمہ کو طلاق دے چکا ہوتا ہے تو پھر خلع کی ضرورت کہاں سے آگئی اور اسی وجہ سے عدالت نے ابراہیم خان کو حکم دیا کہ وہ صائمہ کو حق مہر ادا کرے۔

عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے خلاف ابراہیم خان نے عدالت عظمی سے اس لئے رجوع کیا کہ نہ صرف فیملی کورٹ بلکہ ضلعی عدالت کا فیصلہ اس لئے درست تھا کیونکہ صائمہ ، میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی تو اس لئے عدالت نے اس کو خلع دیا اور دوسرا چونکہ ابراہیم کا دعویٰ یہ تھا کہ اس نے صائمہ کو طلاق نہیں دی تو اس لئے صائمہ مہر کی حقدار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے سامنے فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے ایک اہم سوال رکھا ہے اور وہ یہ کہ اس کیس میں اصل تنازعہ یہ ہے کہ کیا شوہر نے طلاق دی ہے یا نہیں لیکن شوہر یعنی ابراہیم کی خیال میں عدالت کی جانب سے خلع دینا درست ہے لیکن اس کی جانب سے طلاق دینا متنازعہ ہے تو اس لئے عدالت نے اپنے سامنے مسئلہ صرف یہ رکھا ہے کہ کیا جب ایک کیس میں عورت کی جانب سے تنسیخ نکاح بزریعہ ظلم و زیادتی مانگی ہو تو کیا عدالت عورت کے اس استدعا کو تنسیخ نکاح بزریعہ خلع میں خود سے تبدیل کر سکتی ہے اور خاص کر جب عورت نے خلع مانگی ہی نہ ہو۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کا آغاز محمڈن لا کے پیراگراف نمبر تین سو انیس ( دو ) سے کیا ہے جس کے مطابق خلع بنیادی طور پر میاں بیوی کے درمیان ایک لین دین ہے جس کی ابتداء بیوی کی جانب سے ہوتی ہے جس میں وہ شوہر کو اس کو آزاد کرنے کی خاطر معاوضہ آفر کرتی ہے تو جس کو اگر شوہر تسلیم کرتا ہے تو یہ طلاق بزریعہ خلع کہلائے گا جو کہ ایک طلاق بائن کے برابر ہے۔ مندرجہ بالا تمہید کے بعد عدالت نے خلع کی تاریخ پر مشتمل ایک خوبصورت بحث مرتب کیا ہے جس کا آغاز عدالت نے مشہور زمانہ فیصلے خورشید بی بی بنام بابو محمد امین سے کیا ہے جب کہ اختتام وفاقی شرعی عدالت کے حال ہی میں آنے والے فیصلے حاجی سیف الرحمان کیس پر کیا ہے۔ اس پیراگراف کا خلاصہ یہ ہے کہ خلع عورت کا ایک ایسا بنیادی حق ہے کہ جس کے حصول کے لئے عورت کا کوئ وجہ بتانا ضروری نہیں ہے بلکہ عورت کا صرف یہ کہنا کافی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور عدالت عورت کو خلع شوہر کی بغیر کسی غلطی کے بھی دے سکتی ہے۔

خلع پر ایک طویل بحث کے بعد عدالت نے تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کا رخ کیا ہے اور اس ضمن میں عدالت نے ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ انیس سو انتالیس کی تاریخ و مقصد پر ایک لمبی بحث لکھی ہے۔ عدالت نے مختلف کتب و آرٹیکلز کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ اس ایکٹ کو معرض وجود میں لانے کے پیچھے ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ چونکہ حنفی فقہاء کے نزدیک خلع میں بھی شوہر کی رضامندی لازمی ہے تو یہ بات کولونیل دور کے قانون دانوں کو قدرتی انصاف کے اصولوں کے خلاف لگ رہی تھی تو مندرجہ بالا باتوں کو دیکھتے ہوئے اس ایکٹ کا قیام انیس سو چھتیس میں عمل میں لایا گیا۔

ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ اور خلع کے حوالے سے بحث پر مشتمل پیراگراف کا نتیجہ عدالت نے یہ نکالا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل مختلف وہ حقوق ہیں جن کے تحت ایک عورت اپنی شادی کا اختتام کر سکتی ہے۔ ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ کے تحت تنسیخ نکاح اور خلع کے زریعے تنسیخ نکاح میں فرق مندرجہ ذیل ہے:

الف ) ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ کے نیچے جب کوئ عورت عدالت کا رخ کرتی ہے اور عدالت سے کسی گروانڈ ( ظلم و زیادتی وغیرہ ) کی بناء پر نکاح کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے تو اس کو فسخ کہا جاتا ہے جب کہ دوسری طرف خلع کے لئے کوئ بھی وجہ ضروری نہیں ہے۔

ب ) ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ کے تحت تنسیخ نکاح کے لئے عورت کی جانب سے بتائی جانی والی وجہ کو جب عورت ثابت کر لیتی ہے تو عورت کا حق مہر برقرار رہتا ہے جب کہ خلع کی صورت میں عورت کو اپنا حق مہر معاف کرنا پڑتا ہے۔

ج ) خلع کی صورت میں فریقین کے درمیان ابتدائی ثالثی ناکام ہونے کے بعد عدالت پر لازمی ہے کہ وہ فورا بیوی کو خلع کی ڈگری دے جب کہ ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ کے تحت فیصلہ صرف تب دیا جا سکتا ہے جب شہادت مکمل ہو جائے۔

خلع ، تنسیخ نکاح ، فسخ اور ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ پر بحث کے بعد عدالت اپنے سامنے موجودہ سوال پر آئ ہے اور قرار دیا کہ چونکہ اس کیس میں عورت کی جانب سے تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کا کیس تھا اور یہ بات ریکارڈ سے بھی صاف ظاہر ہے تو چونکہ خلع کے حوالے سے مندرجہ بالا بحث کے بعد اب ظاہر ہے کہ عدالت خلع تب تک خلع نہیں دے سکتی جب تک عورت خود صراحت کے ساتھ خلع کا مطالبہ نہ کرے تو اس لئے عائلی عدالت اور ضلعی جج کی جانب سے خلع کا فیصلہ دینا غلط تھا۔

یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ حل کرنے کے بعد عدالت نے اپنے سامنے موجود دوسرے مسئلے کا رخ کیا ہے کہ کیا ابراہیم خان ، صائمہ کو طلاق دے چکا تھا یا نہیں تو اس بابت عدالت نے صائمہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس نکتے کو تسلیم کیا ہے کہ ابراہیم خان نے اسے نہ صرف پولیس تھانے میں طلاق دی تھی بلکہ جرگہ کے سامنے بھی طلاق دی تھی جس کے گواہ بھی موجود ہیں اور انھوں نے شہادت کے موقع پر گواہی بھی دی۔ تو اس لئے عدالت نے طلاق کے معاملے میں عدالت عالیہ کے فیصلے کو درست تسلیم کیا ہے۔ جس کے بعد عدالت نے ابراہیم خان کو حکم دیا کہ وہ صائمہ کو حق مہر کی ادائیگی کرے جو کہ گھر کا آدھا حصہ بنتا ہے۔

اس اہم کیس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں فاضل جسٹس صاحبہ نے ہمارے استاد محترم ڈاکٹر محمد منیر صاحب کے خلع کے حوالے سے لکھئے گئے آرٹیکل کا جا بجا حوالہ دیا ہے جب کہ ہمارے ایک اور استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر زبیر عباسی صاحب اور پروفیسر ڈاکٹر شہباز چیمہ صاحب کی مشترکہ کتاب فیملی لاز ان پاکستان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

اس انتہائی اہم کیس کا خلاصہ یہ ہے کہ عدالتوں کی جانب سے از خود تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کے مقدمات کو تنسیخ نکاح بوجہ خلع کے مقدمے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ یہ اہم فیصلہ جسٹس عائشہ ملک صاحبہ نے لکھا ہے جن کے ساتھ بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب اور جسٹس امین الدین خان نے اتفاق کیا ہے اور یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔

Copied

03/09/2024



03/09/2024

وراثت صرف والد کا پیسہ اور جائیدادیں ہی نہیں ہوتی، آپ کے والد کی نیک نامی بھی نیک اولاد کے لیے واثت ہوتی ہے، اور پھر آپ جہاں کہیں بھی جاتے ہیں ،اور آپ کے والد کا ذکر ہوتا تو ⤹
آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کے والد کا شمار بہترین لوگوں میں ہوتا ہے، اور وہ ایک بھلے انسان تھے

Address

Rawalpindi

Telephone

03025345315

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when G.H Rana Law Chamber "Advocates & Legal Consultants" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to G.H Rana Law Chamber "Advocates & Legal Consultants":

Share