19/03/2026
لاہور ہائیکورٹ کا نیا نظام
مقدمہ کرنے والوں کی بائیومیٹرک تصدیق کے قواعد (SOPs) – خلاصہ
1️⃣ قواعد کا مقصد
ان قواعد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ:
📌 مقدمہ کرنے والے افراد کی درست شناخت یقینی بنائی جائے۔
📌 جعلی یا کسی اور کے نام پر مقدمہ کرنے کو روکا جائے۔
📌 عدالتی کارروائی میں شفافیت اور اعتماد بڑھایا جائے۔
یہ نظام قومی عدالتی پالیسی کے تحت متعارف کروایا گیا ہے۔
2️⃣ کن افراد کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی
درج ذیل افراد کے لیے بائیومیٹرک تصدیق ضروری قرار دی گئی ہے:
📌 مقدمہ دائر کرنے والا مدعی
📌 جواب داخل کرنے والا مدعا علیہ
📌 ضامن (Surety)
📌 عدالت میں بیان دینے والا شخص
📌 عدالت کے حکم سے رقم نکلوانے والا شخص
یعنی تقریباً ہر اہم فریق کو بائیومیٹرک تصدیق کرانا ہوگی۔
3️⃣ اگر ایک شخص کئی مقدمات کرے
اگر کوئی شخص:
کئی مقدمات دائر کرے
تو
📌 ہر مقدمہ کے لیے الگ بائیومیٹرک تصدیق ضروری ہوگی۔
ایک تصدیق کئی مقدمات کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔
4️⃣ اگر ایک مقدمہ میں کئی فریق ہوں
اگر ایک کیس میں:
کئی مدعی ہوں
یا
کئی مدعا علیہ ہوں
تو:
📌 ہر فرد کی الگ الگ بائیومیٹرک تصدیق ہوگی۔
البتہ اگر ایک شخص قانونی طور پر سب کی نمائندگی کر رہا ہو تو صرف اسی کی تصدیق کافی ہوگی۔
5️⃣ زیر حراست ملزمان
اگر کوئی فریق جیل میں ہو تو:
📌 اس کی بائیومیٹرک تصدیق جیل یا لاک اپ میں کی جائے گی۔
📌 اس کا انتظام جیل حکام کریں گے۔
6️⃣ ضمانت کے مقدمات میں بائیومیٹرک
ضمانت کے معاملات میں:
🔹 پری اریسٹ بیل میں ملزم کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔
🔹 پوسٹ اریسٹ بیل میں جیل حکام تصدیق کروائیں گے۔
البتہ کم عمر ملزم اس سے مستثنیٰ ہوگا بشرطیکہ:
NADRA کا B-Form یا FRC جمع کرایا جائے
والد یا سرپرست کا حلف نامہ شامل ہو
7️⃣ نابالغ افراد کے مقدمات
اگر مقدمہ نابالغ سے متعلق ہو تو:
📌 نابالغ کی بائیومیٹرک تصدیق ضروری نہیں ہوگی۔
📌 مقدمہ سرپرست یا Next Friend کے ذریعے دائر ہوگا۔
📌 سرپرست کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔
8️⃣ بیرون ملک رہنے والے افراد
اگر کوئی فریق بیرون ملک رہتا ہو تو:
📌 پاکستان میں اس کا مختار نامہ ہولڈر بائیومیٹرک تصدیق کروائے گا۔
📌 مختار نامہ کو پاکستانی سفارتخانہ سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے۔
9️⃣ شناختی کارڈ بلاک یا گم ہونے کی صورت
اگر کسی شخص کا CNIC:
بلاک ہو
گم ہو
یا ایکسپائر ہو
تو:
📌 دیگر شناختی دستاویزات
📌 اور حلف نامہ
کے ذریعے شناخت کی جا سکتی ہے۔
🔟 بائیومیٹرک تصدیق کا طریقہ
طریقہ کار یہ ہوگا:
1️⃣ لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ سے Tracking ID حاصل کی جائے۔
2️⃣ 48 گھنٹوں کے اندر NADRA e-Sahulat Centre جا کر بائیومیٹرک تصدیق کرائی جائے۔
3️⃣ تصدیق کی رسید کیس کے ساتھ جمع کرائی جائے۔
1️⃣1️⃣ عدم تعمیل کا نتیجہ
اگر بائیومیٹرک تصدیق نہ کرائی گئی تو:
📌 مقدمہ Defective قرار دیا جائے گا۔
📌 دفتر Deficiency Memo جاری کرے گا۔
📌 کیس واپس کر دیا جائے گا۔
⚖️ قانونی اہم نکات (وکلاء کے لیے)
اہم قانونی اثرات:
📌 جعلی مدعی یا مدعا علیہ کے ذریعے مقدمات دائر کرنا مشکل ہو جائے گا۔
📌 ضامنوں کی جعلی ضمانتوں کا خاتمہ ہوگا۔
📌 عدالت میں اصل فریق کی موجودگی اور شناخت یقینی ہوگی۔