𝕸𝕸 𝕷𝖆𝖜 𝕬𝖘𝖘𝖔𝖈𝖎𝖆𝖙𝖊𝖘

𝕸𝕸 𝕷𝖆𝖜 𝕬𝖘𝖘𝖔𝖈𝖎𝖆𝖙𝖊𝖘 Panel Advisor: National High Way Authority commonly known as (NHA), Islamabad since 30 May 2018.

MM LAW ASSOCIATES (MUHAMMAD MASOOD KHANDOA)

"Trusted Legal Services in Complex Legal Matters across various areas including Civil, Criminal, Family, and Immigration." Self Employed Lawyer: Dealing with the Civil, Contract, agreement, registration, Property, Land Acquisition Cases, Family, Banking and Criminal Cases before District Court since 25.08.2007. Advocate High Court: dealing with the Civi

l, Contract, agreement, registration, Property, Land Acquisition Cases, Family, Banking and criminal Cases before High Courts Lahore since 12.10.2009. Immigration Law Advisor (appeal) UK (Part Time):– online / Paper based for filing, Drafting and Making Correspondence concerned Authorities for Administrative Reviews embassy, appeal before First Tiers Tribunals and Upper Tier Tribunal UK since June 2008 to till today. Panel Advisor: Oil and Gas Development Company Limited commonly known as (OGDCL) Pakistan Since 30 May 2018.

19/03/2026

لاہور ہائیکورٹ کا نیا نظام
مقدمہ کرنے والوں کی بائیومیٹرک تصدیق کے قواعد (SOPs) – خلاصہ
1️⃣ قواعد کا مقصد
ان قواعد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ:
📌 مقدمہ کرنے والے افراد کی درست شناخت یقینی بنائی جائے۔
📌 جعلی یا کسی اور کے نام پر مقدمہ کرنے کو روکا جائے۔
📌 عدالتی کارروائی میں شفافیت اور اعتماد بڑھایا جائے۔
یہ نظام قومی عدالتی پالیسی کے تحت متعارف کروایا گیا ہے۔
2️⃣ کن افراد کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی
درج ذیل افراد کے لیے بائیومیٹرک تصدیق ضروری قرار دی گئی ہے:
📌 مقدمہ دائر کرنے والا مدعی
📌 جواب داخل کرنے والا مدعا علیہ
📌 ضامن (Surety)
📌 عدالت میں بیان دینے والا شخص
📌 عدالت کے حکم سے رقم نکلوانے والا شخص
یعنی تقریباً ہر اہم فریق کو بائیومیٹرک تصدیق کرانا ہوگی۔
3️⃣ اگر ایک شخص کئی مقدمات کرے
اگر کوئی شخص:
کئی مقدمات دائر کرے
تو
📌 ہر مقدمہ کے لیے الگ بائیومیٹرک تصدیق ضروری ہوگی۔
ایک تصدیق کئی مقدمات کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔
4️⃣ اگر ایک مقدمہ میں کئی فریق ہوں
اگر ایک کیس میں:
کئی مدعی ہوں
یا
کئی مدعا علیہ ہوں
تو:
📌 ہر فرد کی الگ الگ بائیومیٹرک تصدیق ہوگی۔
البتہ اگر ایک شخص قانونی طور پر سب کی نمائندگی کر رہا ہو تو صرف اسی کی تصدیق کافی ہوگی۔
5️⃣ زیر حراست ملزمان
اگر کوئی فریق جیل میں ہو تو:
📌 اس کی بائیومیٹرک تصدیق جیل یا لاک اپ میں کی جائے گی۔
📌 اس کا انتظام جیل حکام کریں گے۔
6️⃣ ضمانت کے مقدمات میں بائیومیٹرک
ضمانت کے معاملات میں:
🔹 پری اریسٹ بیل میں ملزم کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔
🔹 پوسٹ اریسٹ بیل میں جیل حکام تصدیق کروائیں گے۔
البتہ کم عمر ملزم اس سے مستثنیٰ ہوگا بشرطیکہ:
NADRA کا B-Form یا FRC جمع کرایا جائے
والد یا سرپرست کا حلف نامہ شامل ہو
7️⃣ نابالغ افراد کے مقدمات
اگر مقدمہ نابالغ سے متعلق ہو تو:
📌 نابالغ کی بائیومیٹرک تصدیق ضروری نہیں ہوگی۔
📌 مقدمہ سرپرست یا Next Friend کے ذریعے دائر ہوگا۔
📌 سرپرست کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔
8️⃣ بیرون ملک رہنے والے افراد
اگر کوئی فریق بیرون ملک رہتا ہو تو:
📌 پاکستان میں اس کا مختار نامہ ہولڈر بائیومیٹرک تصدیق کروائے گا۔
📌 مختار نامہ کو پاکستانی سفارتخانہ سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے۔
9️⃣ شناختی کارڈ بلاک یا گم ہونے کی صورت
اگر کسی شخص کا CNIC:
بلاک ہو
گم ہو
یا ایکسپائر ہو
تو:
📌 دیگر شناختی دستاویزات
📌 اور حلف نامہ
کے ذریعے شناخت کی جا سکتی ہے۔
🔟 بائیومیٹرک تصدیق کا طریقہ
طریقہ کار یہ ہوگا:
1️⃣ لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ سے Tracking ID حاصل کی جائے۔
2️⃣ 48 گھنٹوں کے اندر NADRA e-Sahulat Centre جا کر بائیومیٹرک تصدیق کرائی جائے۔
3️⃣ تصدیق کی رسید کیس کے ساتھ جمع کرائی جائے۔
1️⃣1️⃣ عدم تعمیل کا نتیجہ
اگر بائیومیٹرک تصدیق نہ کرائی گئی تو:
📌 مقدمہ Defective قرار دیا جائے گا۔
📌 دفتر Deficiency Memo جاری کرے گا۔
📌 کیس واپس کر دیا جائے گا۔
⚖️ قانونی اہم نکات (وکلاء کے لیے)
اہم قانونی اثرات:
📌 جعلی مدعی یا مدعا علیہ کے ذریعے مقدمات دائر کرنا مشکل ہو جائے گا۔
📌 ضامنوں کی جعلی ضمانتوں کا خاتمہ ہوگا۔
📌 عدالت میں اصل فریق کی موجودگی اور شناخت یقینی ہوگی۔

03/03/2026

آرڈر XXIII قاعدہ 1 — دعویٰ واپس لینا یا جزوی طور پر ترک کرنا
(1) دعویٰ یا اس کے حصے کو ترک کرنا

مدعی (Plaintiff) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ دعویٰ دائر کرنے کے بعد کسی بھی مرحلے پر وہ:

پورا دعویٰ واپس لے سکتا ہے، یا

اپنے دعویٰ کا کچھ حصہ ترک کر سکتا ہے،
اور یہ اقدام وہ تمام یا بعض مدعا علیہان کے خلاف کر سکتا ہے۔

لیکن شرط:
اگر مدعی نابالغ ہو یا ایسا شخص ہو جس پر آرڈر ###II (Rules 1–14) لاگو ہوتا ہو، تو وہ عدالت کی اجازت کے بغیر نہ پورا دعویٰ واپس لے سکتا ہے اور نہ اس کا کوئی حصہ ترک کر سکتا ہے۔

(2) نابالغ کے کیس میں اجازت کا طریقہ

اگر مدعی نابالغ یا زیرِ سرپرستی شخص ہو تو:

اجازت کی درخواست کے ساتھ نیکسٹ فرینڈ (Next Friend) کا حلف نامہ لازم ہوگا، اور

اگر وکیل مقرر ہو تو اس کا سرٹیفکیٹ بھی درکار ہوگا کہ دعویٰ واپس لینا نابالغ کے مفاد میں ہے۔

(3) عدالت کی اجازت سے تازہ دعویٰ دائر کرنے کی آزادی

عدالت درج ذیل صورتوں میں مدعی کو دعویٰ واپس لینے کے ساتھ نیا دعویٰ دائر کرنے کی اجازت (Liberty to file fresh suit) دے سکتی ہے:

(a) جب دعویٰ کسی فنی/رسمی نقص (Formal Defect) کی وجہ سے ناکام ہو سکتا ہو
مثلاً: فریقین کی غلط شمولیت، نوٹس کی کمی، دائرہ اختیار کا مسئلہ وغیرہ۔

(b) جب عدالت سمجھے کہ نیا دعویٰ دائر کرنے کے لیے کافی وجوہات (Sufficient Grounds) موجود ہیں۔

اس اجازت کے ساتھ عدالت مناسب شرائط (مثلاً اخراجات) بھی عائد کر سکتی ہے۔

(4) بغیر اجازت دعویٰ واپس لینے کا اثر

اگر مدعی:

خود ہی دعویٰ یا اس کا حصہ ترک کر دے، یا

عدالت سے تازہ دعویٰ دائر کرنے کی اجازت لیے بغیر دعویٰ واپس لے لے،

تو:

عدالت اخراجات (Costs) عائد کر سکتی ہے، اور

مدعی اسی معاملے پر دوبارہ نیا دعویٰ دائر نہیں کر سکے گا (Bar to fresh suit)۔

یعنی یہ مستقل دستبرداری سمجھی جائے گی۔

(5) متعدد مدعیان کی صورت

اگر ایک سے زیادہ مدعی ہوں تو:

کوئی ایک مدعی اکیلے پورا دعویٰ یا اس کا حصہ ترک نہیں کر سکتا

اور نہ ہی عدالت سے تازہ دعویٰ کی اجازت لے سکتا ہے
جب تک باقی مدعیان کی رضامندی حاصل نہ ہو۔

عملی قانونی نکتہ (Advocacy Perspective)

اگر صرف سادہ واپسی مقصود ہو اور دوبارہ دعویٰ دائر نہیں کرنا تو Order XXIII Rule 1(1) کے تحت درخواست کافی ہے۔

اگر آئندہ دوبارہ دعویٰ دائر کرنے کا ارادہ ہو تو لازماً Rule 1(3) کے تحت "with permission to file fresh suit" کی استدعا شامل کی جائے، ورنہ Rule 1(4) کی رکاوٹ لاگو ہو جائے گی۔

“Formal defect” کی وضاحت درخواست میں واضح اور معقول بنیاد پر ہونی چاہیے، محض عمومی الفاظ کافی نہیں ہوتے۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس کی روشنی میں ایک درخواست برائے واپسی بمعہ اجازت برائے تازہ دعویٰ بھی ڈرافٹ کر دوں

28/02/2026

پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں بریت یافتہ مقدمات کے اندراج پر پابندی۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک اہم اور اصولی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جب کسی ملزم کو مجاز عدالت کی جانب سے باقاعدہ طور پر بری کر دیا جائے اور بریت کا فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کر چکا ہو، تو قانون کی نظر میں وہ شخص تمام الزامات سے مکمل طور پر مبرا تصور کیا جائے گا۔
لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ ایسی صورت میں کسی سرکاری دستاویز، بالخصوص پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں متعلقہ ایف آئی آر یا مقدمہ کا ذکر کرنا، جب کہ بریت قطعی ہو چکی ہو، غیر ضروری، غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی اقدام شمار ہوگا۔
لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ یہ طرزِ عمل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت شہری کے حقِ وقار (Right to Dignity) کی صریح خلاف ورزی ہے، کیونکہ ایک ایسے شخص پر دائمی بدنامی کا داغ لگایا جاتا ہے جو عدالتی عمل کے ذریعے بے قصور ثابت ہو چکا ہو۔
فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ حتمی بریت کے بعد کسی شہری کو دوبارہ مجرمانہ الزام سے منسلک کرنا نہ صرف عدالتی فیصلے کی روح کے منافی ہے بلکہ اصولِ انصاف، وقارِ انسانی اور قرینۂ معصومیت کو بھی مجروح کرتا ہے۔
لہذا لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ درخواست گزار پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ کا حق دار ہے، اور ایسا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے جس میں اس کی بریت اور کسی بھی موجودہ مجرمانہ ذمہ داری کی عدم موجودگی واضح طور پر ظاہر ہو۔
عبدالرحمن فریاد بنام حکومت پنجاب وغیرہ
PLJ 2026 LHR 84

27/02/2026

انتقال منسوخ یا کالعدم کرنے کی عمومی قانونی بنیادیں

عموماً Punjab Land Revenue Act 1967 اور متعلقہ ریونیو قواعد کے تحت بنتی ہیں۔ اہم بنیادیں درج ذیل ہیں:

انتقال (Mutation) بنیادی طور پر ریونیو ریکارڈ میں اندراج ہوتا ہے، ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں۔ اسے منسوخ یا کالعدم کرنے کی عمومی قانونی بنیادیں عموماً Punjab Land Revenue Act 1967 اور متعلقہ ریونیو قواعد کے تحت بنتی ہیں۔ اہم بنیادیں درج ذیل ہیں:

1️⃣ دھوکہ دہی یا جعلسازی (Fraud/Forgery)
اگر انتقال جعلی دستاویز، جعلی دستخط یا غلط بیانی کی بنیاد پر منظور ہوا ہو۔

2️⃣ اہم وارث/فریق کو شامل نہ کرنا
وراثتی انتقال میں کسی قانونی وارث کو نظرانداز کر دیا گیا ہو یا اس کا نام غلط طور پر خارج کیا گیا ہو۔

3️⃣ بغیر اختیار افسر کا حکم (Lack of Jurisdiction)
اگر انتقال ایسے افسر نے منظور کیا جس کے پاس قانونی اختیار نہ تھا۔

4️⃣ قانونی تقاضے پورے نہ ہونا
مثلاً فریقین کو نوٹس نہ دینا، بیان قلمبند نہ کرنا، یا ضروری توثیق نہ کرنا۔

5️⃣ دفتری یا اتفاقی غلطی (Clerical/Accidental Mistake)
ریکارڈ میں واضح تحریری غلطی، غلط خسرہ/کھاتہ نمبر، نام کی غلطی وغیرہ (عموماً دفعہ 42 کے تحت درستگی یا منسوخی)۔

6️⃣ عدالتی فیصلہ برخلاف انتقال
اگر کسی سول عدالت کا حتمی فیصلہ انتقال کے اندراج کے خلاف آجائے۔

7️⃣ بنیادی دستاویز کالعدم ہونا
اگر جس سیل ڈیڈ/ہبہ/وصیت کی بنیاد پر انتقال ہوا وہ بعد میں عدالت سے منسوخ ہو جائے۔

8️⃣ رضامندی کی عدم موجودگی یا اعتراض ثابت ہونا
اگر فریق کی رضامندی مشکوک ہو یا بیان درست طور پر ریکارڈ نہ کیا گیا ہو۔

اہم نکتہ: چونکہ انتقال خود ٹائٹل تخلیق نہیں کرتا بلکہ صرف ریونیو اندراج ہے، اس لیے اگر اصل حقِ ملکیت کا تنازعہ سنجیدہ ہو تو حتمی فیصلہ سول عدالت کرتی ہے، جبکہ ریونیو افسر صرف ریکارڈ کی درستگی یا انتظامی نوعیت کے معاملات دیکھتا ہے۔

27/02/2026

(عبدالجبار بنام مسز صبا کوثر وغیرہ
W.P No. 3918 of 2021 )

عدالت نے خاص طور پر ایک مبینہ حلف نامہ (Ex.P-4) پر اعتراض کیا جس پر نچلی عدالتوں نے انحصار کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ یہ دستاویز باقاعدہ طور پر ثابت نہیں ہوئی، مدعیہ نے اپنے بیان میں اس کا ذکر نہیں کیا، گواہان پیش نہیں کیے گئے، اور شوہر نے اس پر دستخط کی تردید کی۔ اس لیے یہ قانونی معیارِ ثبوت پر پورا نہیں اترتی

27/02/2026

تابع / ضمنی ریلیف)** سے مراد وہ اضافی قانونی ریلیف

Consequential Relief (تابع / ضمنی ریلیف) سے مراد وہ اضافی قانونی ریلیف ہے جو محض اعلانِ حق (Declaration) کے بعد لازمی طور پر درکار ہو تاکہ مدعی کو عملی اور مؤثر فائدہ حاصل ہو سکے۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص عدالت سے یہ اعلان چاہتا ہے کہ وہ کسی جائیداد کا مالک ہے، لیکن قبضہ مخالف فریق کے پاس ہے، تو صرف اعلان کافی نہیں ہوگا؛ اسے ساتھ ہی قبضہ کی بحالی (Possession) بھی مانگنا ہوگا۔ یہی قبضہ کی ڈگری consequential relief کہلائے گی۔

اسی طرح:

* ڈیکلریشن + مستقل حکمِ امتناعی (Permanent Injunction)
* ڈیکلریشن + منسوخیِ دستاویز (Cancellation of Document)
* ڈیکلریشن + تصحیحِ ریکارڈ

قانونی طور پر،Specific Relief Act 1877 کی دفعہ 34 کے تحت اگر مدعی مزید مؤثر ریلیف حاصل کر سکتا ہو مگر وہ اسے دعویٰ میں شامل نہ کرے، تو عدالت صرف اعلانیہ ڈگری جاری نہیں کرے گی۔ اس لیے جہاں عملی نفاذ ضروری ہو، وہاں declaration کے ساتھ consequential relief مانگنا لازمی ہوتا ہے۔

27/02/2026

اعلانِ حق

Specific Relief Act 1877 کی دفعہ 34 (Section 34) کا تعلق اعلانِ حق (Suit for Declaration) سے ہے۔

اس کے تحت کوئی بھی شخص جس کا کسی جائیداد یا قانونی حق پر دعویٰ ہو، وہ مجاز عدالت سے یہ ڈگری حاصل کر سکتا ہے کہ عدالت اس کے حق یا حیثیت کا باضابطہ اعلان کرے، بشرطیکہ مدعی یہ ثابت کرے کہ مدعا علیہ اس کے حق سے انکار کر رہا ہے یا اس پر منفی دعویٰ کر رہا ہے۔

تاہم اس دفعہ کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ اگر مدعی محض اعلان کے علاوہ مزید ریلیف (مثلاً قبضہ یا مستقل حکم امتناعی) بھی حاصل کر سکتا ہو مگر وہ اسے دعویٰ میں شامل نہ کرے، تو عدالت صرف اعلانیہ ڈگری جاری نہیں کرے گی۔ یعنی جہاں مؤثر اور مکمل ریلیف دستیاب ہو وہاں صرف ڈیکلریشن کا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں رہتا۔

26/02/2026

عدالت کا قانونی اصول

عدالت نے واضح اور اصولی فیصلہ دیا:

✅ حقِ انتخاب (Right of Election) کس کا ہے؟

اگر ڈگری میں لکھا ہو:
"جہیز کا سامان یا بصورت دیگر اس کی قیمت"

تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ شوہر کو اختیار حاصل ہے۔

🔹 حقِ انتخاب مکمل طور پر ڈگری ہولڈر (بیوی) کا ہے۔
🔹 شوہر کو اختیار نہیں کہ وہ اپنی سہولت سے رقم ادا کرے۔
🔹 ایگزیکیوٹنگ کورٹ بھی بیوی کو مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ رقم قبول کرے۔

26/02/2026

اہم قانونی مشاہدات

عدالت نے فیملی مقدمات کے بارے میں اہم نکات بیان کیے:

⚖️ (1) فیملی کورٹ ایکٹ 1964

عدالت کو لچکدار طریقہ کار اختیار کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

مقصد فوری اور مؤثر انصاف فراہم کرنا ہے۔

⚖️ (2) جہیز کے سامان کی نوعیت

عدالت نے کہا:

جہیز کا سامان صرف املاک نہیں ہوتا۔

اس کی ذاتی اور جذباتی اہمیت بھی ہوتی ہے۔

اس کی واپسی میں تاخیر یا رکاوٹ انصاف کے منافی ہے۔

⚖️ (3) متبادل قیمت کو ہتھیار نہ بنایا جائے

عدالت نے سخت الفاظ میں کہا:

متبادل قیمت کو شوہر کی سہولت کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔

ڈگری کو “negotiable instrument” نہیں بنایا جا سکتا۔

ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو سخت اقدامات کرنے چاہئیں جہاں رکاوٹ ہو۔

26/02/2026

اہم قانونی اصول

یہ فیصلہ چند بنیادی اصول واضح کرتا ہے:

حقِ انتخاب صرف ڈگری ہولڈر کا ہوتا ہے۔

ججمنٹ ڈیبیٹر ڈگری کو اپنی سہولت سے تبدیل نہیں کر سکتا۔

ایگزیکیوٹنگ کورٹ ڈگری سے آگے نہیں جا سکتی۔

فیملی ڈگریوں کا فوری اور مؤثر نفاذ ضروری ہے۔

عمل درآمد میں رکاوٹ abuse of process ہے۔

عدالت خصوصی اخراجات عائد کر سکتی ہے۔

25/02/2026

جب تعلیمی اسناد اور شناختی کارڈ میں مختلف تاریخ پیدائش ہوگی تو تعلیمی اسناد والی تاریخ پیدائش کو تقویت دی جائے گی.
PLJ 2018 Islamabad 105

Address

Street No. 05 Westridge I Rawalpindi
Rawalpindi
46000

Telephone

+923429720906

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝕸𝕸 𝕷𝖆𝖜 𝕬𝖘𝖘𝖔𝖈𝖎𝖆𝖙𝖊𝖘 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to 𝕸𝕸 𝕷𝖆𝖜 𝕬𝖘𝖘𝖔𝖈𝖎𝖆𝖙𝖊𝖘:

Share

Our Story

The Law of Pakistan is the law and legal system existing in the Islamic Republic of Pakistan. Pakistani law is based upon the legal system of British India; thus ultimately on the common law of England and Wales.