Advocate Quaid ul Haq Rathore

Advocate Quaid ul Haq Rathore This page is made for purpose of the highlights the social issues of the people .

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ غیر قانونی قرار دیاہے
30/08/2023

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ غیر قانونی قرار دیاہے

10/08/2023

اگر کسی وجہ سے آپ بجلی کا بل ادا نہیں کر سکے تو واپڈا اہلکار کو اپنا میٹر ہر گز نہ اتارنے دیں. میٹر آپ کی زاتی ملکیت ہے.
الیکٹریسٹی ایکٹ 1910 کے تحت بجلی سپلائی کمپنی صرف آپ کا کنکشن منقطع کر سکتی ہے.
اگر کوئی واپڈا اہلکار آپ کا میٹر اتار کر ساتھ لے جائے تو آپ قانونی طور پر اہلکار کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 378 اور 424 کے تحت ایف آئی آر درج کروا سکتے ہیں..
Section 26(3) The Electricity Act,1910

شناختی کارڈ۔۔۔!قومی شناختی کارڈ ہر پاکستانی کی پہچان ہے مگر بہت ہی کم لوگ شناختی کارڈ نمبر کی ٹیکنالوجی اور اسکے شناخت ک...
09/08/2023

شناختی کارڈ۔۔۔!
قومی شناختی کارڈ ہر پاکستانی کی پہچان ہے مگر بہت ہی کم لوگ شناختی کارڈ نمبر کی ٹیکنالوجی اور اسکے شناخت کے خودکار نظام سے واقف ہوں گے.
اگرچہ آپ سب لوگ تقریبا روز اپنا شناختی کارڈ دیکھتے هونگے، لیکن آج تک آپ کو اس پر لکھے 13ہندسو ں کے کوڈ کا مطلب کسی نے نہیں بتایا ہو گا۔
درج ذیل تحریر آپکو شناختی کارڈ نمبر کے متعلق معلومات فراہم کرے گی.

*شناختی کارڈ نمبر کے شروع کے پہلے پانچ نمبر*

مثال کے طور پر ہم ایک شناختی کارڈ نمبر لکھتے هیں
12101-*******-*
اس میں سب سے پہلے آنے والا پہلا نمبر یعنی 1 جو کہ صوبے کی نشاندہی کرتاہے. یعنی جن لوگوں کے شناختی کارڈز کے نمبر 1 سے شروع ہوتے ہیں، وہ لوگ صوبہ خیبر پختون خواہ کے رہائشی ہیں.
اسی طرح اگر آپ کے شناختی کارڈ کا نمبر 2 سے شروع ہو رہا ہے،
تو آپ فاٹا کے رہائشی ہیں۔
اسی طرح
پنجاب کیلئے 3،
سندھ کیلئے 4،
بلوچستان کیلئے 5،
اسلام آباد کیلئے 6،
گلگت بلتستان کیلئے 7.
اس پانچ ہندسوں کے کوڈ میں دوسرے نمبر پر آنے والا ہندسہ آپ کے ڈویژن کو ظاہر کرتاہے.
مثال کے طور پر
اوپر دئیے گئے کوڈ میں دوسرے نمبر پر 2 کا ہندسہ ہے، جو ڈیره اسمعیل خان ڈویژن کو ظاہر کرتاہے. جبکہ باقی تین ہندسے آپ کے متعلقه ضلع، اس ضلع کی متعلقه تحصیل، اور یونین کونسل نمبر
کو ظاہر کرتے ہیں۔

*درمیان میں لکھا ہوا 7 نمبر پر مشتمل کوڈ*
*****-1234567-*
یہ درمیانہ کوڈ آپ کے خاندان نمبر کو ظاہر کرتاہے.
ہر خاندان کے تمام افرادجو ایک دوسرے سے خونی رشتوں کے تحت جڑے هوتے هیں، ان سب افراد کے باہمی تعلق کا تعین اسی درمیانے کوڈ سے هوتا هے. اسی کوڈ کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ شجره یعنی Family Tree تشکیل پاتا هے.

*آخر میں - کے بعد آنے والا نمبر*
*****-*******-1
یہ آخری ہندسہ آپ کی جنس کو ظاہر کرتا ہے مردوں کیلئے یہ نمبر ہمیشہ طاق میں ہو گا. مثال کے طور پر
1,3,5,7,9
اور خواتین کیلئے یہ نمبر جفت میں ہوگا، مثال کے طور پر
2,4,6,8
اس طرح نادرا کے خودکار نظام کے تحت هم سب کا قومی شناختی کارڈ نمبر وجود میں آتا هے..!!

اسے شیئر کریں تاکہ دوسروں کو بھی آگاہی حاصل ہو جائے..

پشاور ہائی کورٹ کا طلاق الفار یعنی کسی شخص کا اپنی زوجہ کو مرض الموت میں طلاق دینے کے بعد مر جانے کی صورت میں بیوہ کے حق...
09/08/2023

پشاور ہائی کورٹ کا طلاق الفار یعنی کسی شخص کا اپنی زوجہ کو مرض الموت میں طلاق دینے کے بعد مر جانے کی صورت میں بیوہ کے حق وراثت کے حوالے سے اہم فیصلہ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ اگر کوئی شوہر اپنی زوجہ کو مرض الموت میں طلاق دے، اور پھر اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے فوت ہو جائے تو کیا بیوہ متوفی کے ترکہ میں شرعی و قانونی حصہ کی حقدارہ ہوگی یا نہیں؟

کیس کے تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں:

شاہ بخت روان نامی شخص کے فوت ہونے کے بعد اس کے ورثاء نے مرحوم کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کے حصول کے لئے درخواست برائے حصول جانشینی سرٹیفیکیٹ زیر دفعہ 372 جانشینی ایکٹ، 1925 دائر عدالت کی۔ متوفی بخت روان ریسپانڈنٹ نمبر 1 کا بیٹا، جبکہ ریسپانڈنٹس نمبر 2 تا 10 کا والد تھا۔ درخواست میں صراحتاً لکھا گیا کہ موجودہ پٹیشنر مسماة مسرت جو متوفی کی دوسری بیوی تھی، کو متوفی نے اپنی زندگی ہی میں طلاق بذریعہ دستاویز محررہ 2018-08-27 دی تھی، لہذا وہ متوفی کی شرعی و قانونی وارث نہ ہے۔

چونکہ پٹیشنر مسماة مسرت فریق مقدمہ نہ تھی، اس لئے اس نے عدالت میں درخواست برائے گردانے جانے فریق مقدمہ دائر کرکے مؤقف اپنایا کہ متوفی کی وفات کے وقت وہ متوفی کی بیوی تھی، اس لئے وہ متوفی کی شرعی و قانونی وارث ہے۔ ریسپانڈنٹس نے جواب درخواست جمع کروایا اور مؤقف اپنایا کہ متوفی نے اپنی وفات سے بہت پہلے پٹیشنر کو طلاق دی تھی، بدیں وجہ وہ ترکہ متوفی میں کسی صورت حقدارہ نہ ہے۔ "ایشیوز" یعنی تنقیحات وضع ہوئے، ریسپانڈنٹس نے گواہان PW-1 تا PW-8 پیش کئے، جبکہ پٹیشنر خود بطور DW-1 پیش ہوئی۔ عدالت نے پٹیشنر کے خلاف اور ریسپانڈنٹس کے حق میں حکم و فیصلہ محررہ 2020-01-24 سنا کر صرف ریسپانڈنٹس کو جانشینی سرٹیفیکیٹ کا حقدار قرار دیا۔

سینئر سول جج/ گارڈین جج کے مذکورہ بالا فیصلے سے نالاں ہو کر پٹیشنر نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، سوات کی عدالت میں اپیل دائر کیا، تاہم عدالت نے مورخہ 2020-11-13 کو اپنا حکم و فیصلہ سناتے ہوئے اپیل پٹیشنر خارج کیا۔ پٹیشنر نے مذکورہ بالا دونوں فیصلہ جات کو چیلنج کرنے کے لئے اس عدالت یعنی پشاور ہائی کورٹ میں Civil Revision یعنی نگرانی دیوانی دائر کی۔

عدالت نے اپنے سامنے اصل سوالات کا تعین کرنے کے لئے اپنی بحث کا آغاز اس نکتے سے کیا کہ مبینہ طلاق بدعت زبانی طور پر نہیں دیا گیا تھا، بلکہ لکھا جا کر بذریعہ پوسٹ آفس پٹیشنر کو بھجوایا گیا تھا۔ لیکن متوفی تو عرصہ دو سال سے فالج کا مریض تھا۔ ریسپانڈنٹس نے اپنے درخواست کے پیرا نمبر 3 و 4 میں اعتراف کیا ہے کہ متوفی نے پٹیشنر کو بذریعہ دستاویز محررہ 2018-08-27 طلاق دی تھی اور متوفی بمورخہ 2018-10-03 وفات پا گیا ہے۔ یوں متوفی مبینہ طلاق نامے کے 37وں دن کو فوت ہوا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ مبینہ طلاق دیتے وقت متوفی مرض الموت میں مبتلا تھا یا نہیں؟ کیا مبینہ طلاق محض پٹیشنر کو ترکہ سے محروم کرنے کے لئے دیا گیا تھا یا نہیں؟

عدالت نے ان سوالات کے حل کے لئے گواہان کے بیانات کو توجہ کا مرکز بنایا۔ PW-1 عزیز احمد نے اپنے بیان میں اعتراف کیا: "میرا والد فالج کا مریض تھا اور 03 اکتوبر سال 2018 میں وفات ہوا تھا۔" اسی طرح PW-4 محمد ہارون نے بیان دے کر اعتراف کیا: "اس طرح مجھے یہ بھی معلوم نہ ہے کہ متوفی شاہ بخت روان کو جسم کے کن کن اعضاء پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔ یہ درست ہے کہ مرنے سے تقریباً دو سال قبل سے متوفی شاہ بخت روان فالج زدہ تھا۔"

مذکورہ بالا بیانات اور مبینہ طلاق نامے کے متن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ متوفی عرصہ دو سال سے فالج کا مریض تھا اور پٹیشنر ہی متوفی کی خدمت کیا کرتی تھی۔ چونکہ متوفی گھر تک محدود تھا اور روزمرہ کے امور سرانجام دینے سے قاصر تھا اور اس کا مرض بڑھتا چلا جا رہا تھا، اس لئے یہ امر بعید از قیاس نہیں کہ متوفی کو اس دار فانی سے کوچ کرنے کا احساس ہو گیا تھا جو کہ کسی بیماری کو مرض الموت قرار دینے کے لئے ضروری ہے۔ ڈاکٹر تنزیل الرحمن اپنی کتاب "مجموعہ قوانین اسلام" میں کسی بیماری کو مرض الموت قرار دینے کے لئے درج ذیل تین شرائط کا ذکر کرتے ہیں:

1) مرض میں موت کا غالب امکان موجود ہو۔
2) مریض کے دماغ میں اس مرض سے مر جانے کا خدشہ موجود ہو۔
3) مرض کے سبب مرد یا عورت اپنے عام امور کو انجام دینے کی قدرت نہ رکھتے ہو۔

پس بادی النظر میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ لمبی بیماری کے سبب متوفی کو یقین ہو گیا تھا کہ اس کا آخری وقت قریب آ گیا ہے اور وہ اس دنیا سے کوچ کرنے والا ہے۔ یہی وقت تھا جب متوفی نے پٹیشنر کو مبینہ طور پر طلاق دی تھی۔ لہذا اب عدالت مبینہ طور پر مرض الموت میں دئیے جانے والے طلاق نامے کے مذہبی اور قانونی اثرات کا جائزہ لے گی۔

طلاق کی تین قسمیں یہ ہیں:
1) طلاق احسن: جو طہر میں ایک بار دی جائے اور اس کے بعد عدت کے ختم ہونے تک رجوع نہ کی جائے۔

2) طلاق حسن: جو تین طہور میں دی جائے اور اس دوران بیوی سے رجوع نہ کی جائے۔

3) طلاق بدعت/ طلاق ثلاثہ: جو ایک ہی طہر میں بیک وقت تین دفعہ دی جائے۔ (تین جملوں میں یا ایک ہی جملے میں "تین" کا لفظ استعمال کرکے)-

پہلی صورت میں فریقین کے درمیان اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ عدت کے ختم ہونے سے پہلے اگر شوہر فوت ہوجائے تو بیوہ شرعی حصہ کی حقدارہ ہوگی۔ اسی طرح دوسری صورت میں بھی فریقین متفق ہیں کہ اگر پہلی یا دوسری طلاق دینے کے بعد شوہر فوت ہو جائے تو بیوہ شرعی حصہ کی حقدارہ ہوگی۔ لیکن موجودہ کیس میں معاملہ طلاق بدعت/ طلاق ثلاثہ کا ہے جس میں بیوہ کو بیک وقت تین طلاقیں دی جا کر نکاح اسی وقت ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم یہ بنیادی مسئلہ رہ جاتا ہے کہ جب مرض الموت میں شوہر بیوی کو طلاق ثلاثہ دے، اور پھر اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے فوت ہو جائے تو کیا وہ متوفی کے ترکہ میں قانونی وارث ہے کہ نہیں؟

اس سلسلے میں ڈاکٹر تنزیل الرحمن کی کتاب "مجموعہ قوانین اسلام" ہماری راہنمائی کرتی ہے:

"مرض الموت میں طلاق بائن کا اثر میراث پر:

حنفیہ مکتبہ فکر:
حنفی مذہب کی رو سے اگر کسی مرد نے مرض الموت کی حالت میں اپنی زوجہ کو طلاق بائن دی اور پھر مرد عورت کی عدت کے دوران اس مرض کی حالت میں مر گیا تو وہ عورت ورثہ کی مستحق ہوگی خواہ طلاق بائن ہو یا طلاق ثلاثہ۔ لیکن اگر وہ مرد عدت ختم ہونے کے بعد مرا تو وہ عورت وارث نہ ہوگی۔

امام محمد نے حضرت عمر فاروق کا ایک واقعی بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو حالت مرض میں تین طلاقیں دی تھیں۔ حضرت عمر نے قاضی شریح کو لکھا کہ اگر وہ عورت عدت میں ہو تو اس کو ورثہ دو۔ اگر عورت کی عدت گزر چکی ہو تو اس عورت کے لئے کوئی ورثہ نہیں۔ امام محمد کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کا بھی یہی قول ہے۔

امام مالک کا قول:
امام مالک سے منقول ہے کہ ہر ایک طلاق میں جو مرض کی حالت میں واقع کی گئی ہو، عورت میراث پانے کی مستحق ہوگی بشرطیکہ شوہر اسی مرض میں مرا ہو۔

امام شافعی کا قول:
امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر مرد نے مرض الموت میں طلاق بائن دی اور اس مرض میں مر گیا تو عورت وارث نہ ہوگی کیونکہ اس وقت نکاح ختم ہو چکا تھا، لہذا ورثہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔

امام احمد بن حنبل کا نقطہ نظر:
امام احمد بن حنبل، ابن ابی لیلیٰ، اسحاق اور ابی عبید کے نزدیک اگر شوہر اسی مرض میں مرا ہو تو عورت وارث ہوگی خواہ عدت گزر چکی ہو، بشرطیکہ اس عورت نے دوسرے مرد سے نکاح نہ کیا ہو۔

شیعہ فرقہ کا مسلک:
شیعہ علماء کے نزدیک اگر شوہر تاریخ طلاق سے ایک سال کے اندر مر جائے تو عورت وارث ہوگی، خواہ طلاق رجعی ہو یا بائن، بشرطیکہ اس دوران میں عورت نے دوسرا نکاح نہ کر لیا ہو۔

اس موضوع پر مندرجہ بالا فقہ اسلامی سے یہ بات مثل خورشید واضح ہوتی ہے کہ طلاق رجعی کی طرح طلاق بائن یا طلاق ثلاثہ کی صورت میں بھی بیوہ کے حق وراثت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اگر متوفی مرض الموت میں اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے فوت ہوا ہو۔ موجودہ کیس میں مبینہ طلاق نامہ 2018-08-27 کو تحریر ہوا تھا۔ اس حساب سے میعاد عدت 2018-11-27 کو ختم ہونی تھی، مگر اس سے کئی دن پہلے 2018-10-03 کو متوفی کی موت واقع ہوتی ہے۔ پس اپنے شوہر کی موت کے دن یعنی 2018-10-03 کو پٹیشنر متوفی کے ترکہ میں اپنے شرعی حصہ کی حقدارہ تھی۔

مزید برآں، متوفی نے خود ہی مبینہ طلاق نامے میں یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ عرصہ دو سال سے فالج کا مریض ہے اور مسماة مسرت ہی اس کی خدمت کیا کرتی ہے۔ سو بظاہر وہ اپنی بیوی سے کافی خوش تھا، تاہم اس کے باوجود صرف ترکہ سے محروم کرنے کے لئے اس نے پٹیشنر کو بغیر کسی وجہ کے طلاق دی ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایسے طلاق کو طلاق الفار کہتے ہیں جو شوہر بیوی کو صرف ترکہ سے محروم کرنے کے لئے دیتا ہے۔ ایسی صورت میں بیوہ اپنے مرحوم شوہر کے ترکہ میں حق وراثت رکھتی ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ مبینہ طلاق آمنے سامنے نہیں، بلکہ دستاویز نمبر 372 محررہ 2018-08-27 کی صورت میں پٹیشنر کو دی گئی تھی۔ اس طرح کے طلاق کے حوالے سے دفعہ 7 مسلم فیملی لاء آرڈیننس اہم ہے۔ دفعہ (3)7 کے مطابق ایسی طلاق تب تک مؤثر نہیں ہوگی جب تک چیئرمین یونین کونسل کو بھجوائے گئے نوٹس کے 90 دن پورے نہیں ہوجاتے۔ موجودہ کیس میں مبینہ طلاق نامہ 2018-09-28 کو تحریر ہوا تھا۔ اس حساب سے چیئرمین یونین کونسل کو بھجوائے گئے نوٹس کے 90 دن بمورخہ 2018-11-30 مکمل ہونے تھے، لیکن اس سے کافی پہلے متوفی وفات ہوا۔ پس مبینہ طلاق نامہ متوفی کے وفات کے وقت مؤثر نہیں تھا، اور پٹیشنر کو متوفی کی بیوہ ہونے کے ناطے ترکہ میں حق وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے مندرجہ بالا بحث کو مدنظر رکھتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے منسوخ کر کے پٹیشنر کو متوفی کے ترکہ میں حقدارہ قرار دیا۔ عدالت نے سینئر سول جج/گارڈین جج سوات کو ہدایت کی کہ وہ سابقہ جانشینی سرٹیفیکیٹ منسوخ کرکے نیا جانشینی سرٹیفیکیٹ جاری کریں اور پٹیشنر کو ترکہ متوفی میں اس کا قرار واقعی حصہ دلوائے۔

خلاصہ: اس انتہائی اہم کیس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
اگر شوہر اپنی زوجہ کو مرض الموت میں طلاق ثلاثہ دے اور بیوی کی عدت ختم ہونے سے پہلے شوہر وفات پا جائے تو ایسی صورت میں بیوہ متوفی کے ترکہ میں شرعی و قانونی حصہ کی حقدارہ ہوگی۔

This important written by can be as 2023 PLD Peshawar 88.

~ مستعار شدہ ایڈوکیٹ حمزہ خان

07/08/2023

‏بریکنگ نیوز
رضوانہ تشدد کیس میں جج کی بیوی ملزمہ کی ضمانت خارج کمرہ عدالت سے گرفتار.

14/03/2023

تحصیل عدالت ہو ضلعی عدالت ، ہائی کورٹ ہو کہ سپریم کورٹ کسی بھی عدالت کے احکامات یا اختیارات کو مذاق سمجھنا یا کمزور سوچنا نہیں چاہیے، عمران خان کو عدالتیں بار بار طلب کریں نہیں آئے کل انہیں تین عدالتوں نے طلب کر رکھا تھا لیکن انہیں شاید یہ سب مذاق لگتا رہا بجائے عدالت پیش ہونے کے لاہور میں ریلی کی قیادت کرنا شروع کر دی ، جب آپ یوں قانون کا مذاق بنائیں گے اور اپنے آپ کو مظبوط اور بلند تر اور اداروں اور عدالتوں کو کمزور سمجھیں گے تو یقیناً پھر قانون اپنا راستہ بناتا ہے ۔ بہت سے لوگ جو خود کو طاقتور ترین جانتے تھے بلآخر انہیں بھی قانون کے مطابق عدالتوں کے روبرو پیش ہونا ہی پڑا ۔

پیارے دوست یونیورسٹی فیلو جناب اخلاق چشتی صاحب ایڈووکیٹ نے گزشتہ شام انتخاب حسین شاہ صاحب ایڈووکیٹ سپریم کورٹ امیدوار بر...
10/02/2023

پیارے دوست یونیورسٹی فیلو جناب اخلاق چشتی صاحب ایڈووکیٹ نے گزشتہ شام انتخاب حسین شاہ صاحب ایڈووکیٹ سپریم کورٹ امیدوار برائے صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی ڈویژن کے اعزاز میں شاندار ڈنر اور بہترین پروگرام منعقد کیا جس میں راولپنڈی بار کے وکلاء نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا بہترین کردار ادا کیا۔
اس خوبصورت پروگرام کے منعقد کروانے پی بلخصوص جناب اخلاق چشتی صاحب اور بالعموم آپکی ساری ٹیم بہت بہت مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے یہ شاندار پروگرام ترتیب دیا اور انتحاب شاہ صاحب کی الیکشن کے سلسلے میں یہ بہترین اجتماع اکھٹا کیا۔
آپکی یہ محبت محنت اور یہ کاوشیں انشاء اللہ ضرور رنگ لائیں گی اور الیکشن کا دن آپکی ہماری اور وکلا کی کامیابی کا دن ہو گا

10/02/2023

اظہار افسوس
چوھدری زاہد صائم صاحب سابق اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر، چوھدری سیلم صاحب مدرس ھائی سکول ہوتر کی والدہ محترمہ اور ڈاکٹر ابرار سلیم صاحب کی دادی محترمہ کی وفات پر بہت دکھ ہوا اللہ پاک مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

صبح بخیر
03/02/2023

صبح بخیر

The only difference between dreams and achievements is hard work. -
02/02/2023

The only difference between dreams and achievements is hard work. -

31/01/2023

Address

Rawalpindi

Telephone

+923556853285

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Quaid ul Haq Rathore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Advocate Quaid ul Haq Rathore:

Share