Adv Junaid Dev

Adv Junaid Dev advocate high court

Key stages of civil suit
20/01/2026

Key stages of civil suit

19/08/2025

مالی سال 2025-26 کیلئے دیت کی رقم اٹھانوے لاکھ اٹھائیس ہزار چھ سو ستر
روپے مقرر (9828670)

Notification of Diyat for the Financial Year 2025-2026

10/07/2025

PLJ 2025 Cr.C. 418

اگر گولی گھٹنے سے نیچے ماری جائے تو دفعہ 324 ت پ(اقدام قتل) کا اطلاق مزید تحقیق طلب ہوگا۔لیکن اگر گولی گھٹنے سے اوپر ران میں ماری جائے تو دفعہ 324 ت پ لاگو ہوگا کیونکہ ران میں خون اور آکسیجن سپلائی کرنے والی شریان ہوتی ہے جسکو نقصان پہنچنے کی صورت میں زیادہ خون بہہ جانے سے موت بھی ہوسکتی ہے یا ٹانگ کٹنے کا سبب بھی بن سکتی ہے
If injury has been caused below knee, then applicability of Section 324 PPC requires further probe/inquiry within the purview of sub-section 2 of Section 497 Cr.P.C., however, if injury has been caused above knee on the (naeem)leg at thigh, then situation is otherwise because femoral artery, which is major blood vessel, is located in thigh starting from groin coming to the back of knee and it supplies oxygen-rich blood to the lower parts of the body. So, femoral artery if damaged can cause lower limb ischemia leading to amputation of limb, compartment syndrome as well as death (naeem)due to severe blood loss from a major artery in the leg, hence if firearm injury has been caused at thigh, then prima facie section 324 PPC is attracted.
Bail refused.

*"پہلی بیوی کی موجودگی یا عدت کے دوران اُس کی بہن سے نکاح: اسلامی فقہ، پاکستانی قانون اور عدالتی نظائر کی روشنی میں ایک ...
15/04/2025

*"پہلی بیوی کی موجودگی یا عدت کے دوران اُس کی بہن سے نکاح: اسلامی فقہ، پاکستانی قانون اور عدالتی نظائر کی روشنی میں ایک جامع قانونی تجزیہ"*

*F KLAW & CITATIONS*

2024 YLR 1653
فیصلہ ۔۔۔۔۔
پہلی بیوی کی موجودگی میں یا پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد عدت کی مدت مکمل ہونے سے پہلے اُس کی بہن سے نکاح کرنا قابلِ تعزیر جرم ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرآن و سنت اور اسلامی احکامات کی روشنی میں ایک نہایت معلوماتی فیصلہ دیا۔

i) کیا ایک شخص بیک وقت دو حقیقی بہنوں سے نکاح کر سکتا ہے؟
**ii) کیا کوئی شخص اپنی مطلقہ بیوی کی عدت کے دوران اُس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے؟

جہاں تک دو بہنوں سے نکاح کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فوجداری ذمہ داری کا تعلق ہے، تو اکثر حنفی فقہاء، بشمول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، اس بات پر متفق ہیں کہ ایسے نکاح پر حد کی سزا لاگو نہیں ہوتی۔ تاہم وہ اس بات پر متفق ہیں کہ چونکہ اس کے سنگین اثرات ہو سکتے ہیں، اس لیے اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور تعزیری سزا دی جانی چاہیے۔

فوجداری درخواست نمبر: 67328/B/2023
مسور حسین بنام ریاست و دیگر
M.farooq Khilji Advocate
قانونی و شرعی تجزیاتی جائزہ
موضوع: پہلی بیوی کی موجودگی یا طلاق کے بعد عدت کے دوران اُس کی بہن سے نکاح کرنا
1. اسلامی فقہ کی روشنی میں
الف) قرآن مجید
سورۃ النساء (آیت 23) میں واضح طور پر مذکور ہے:

"وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ"

ترجمہ: "اور دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا تم پر حرام کیا گیا ہے، مگر جو پہلے ہو چکا۔"

یہ آیت صراحت سے بیان کرتی ہے کہ ایک وقت میں دو حقیقی بہنوں سے نکاح حرام ہے، چاہے ایک بیوی ہو یا دوسری اس کی بہن۔

ب) حدیث مبارکہ
نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا:

"لا يُجمَعُ بين المرأةِ وعمتِها، ولا بين المرأةِ وخالتِها"
(صحیح بخاری و مسلم)

ترجمہ: "کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ بیک وقت نکاح میں نہ رکھا جائے۔"
یہ قیاساً بہنوں پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ ایک مرد بیک وقت دو بہنوں سے نکاح نہیں کر سکتا۔

ج) چاروں فقہائے کرام کا مؤقف

فقہ بیک وقت دو بہنوں سے نکاح عدت کے دوران بہن سے نکاح
حنفی ناجائز، لیکن اگر ہو جائے تو فاسد نکاح ہے، تعزیر دی جائے گی، حد نہیں عدت مکمل ہونے تک نکاح باطل ہے، گناہ اور قابل تعزیر
شافعی ناجائز، نکاح سرے سے باطل (باطل العقد) عدت کے بعد ہی نکاح ممکن
مالکی نکاح باطل اور حرام عدت کے بعد بہن سے نکاح جائز
حنبلی نکاح غیر مؤثر اور باطل عدت کے دوران نکاح ممنوع
2. پاکستانی قانون کی روشنی میں
الف) مسلم فیملی لا آرڈیننس 1961
یہ قانون بنیادی طور پر بیک وقت ایک سے زیادہ نکاحوں کی اجازت دیتا ہے، لیکن پہلی بیوی کی اجازت اور شرعی حدود کے اندر۔

ب) پاکستان پینل کوڈ (PPC)
دفعہ 494 - دوبارہ نکاح کی حالت میں پچھلا نکاح برقرار ہو تو
اگر کوئی شخص ایسی عورت سے نکاح کرتا ہے جبکہ اس کا پہلا نکاح برقرار ہے اور قانوناً یا شرعاً ممنوع ہے، تو اسے قید یا جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں۔

دفعہ 496 - جعلی نکاح یا ممنوعہ نکاح کی صورت میں سزا
اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے نکاح کرتا ہے جو حرام یا ناجائز رشتہ ہو (مثلاً سگی بہن)، تو یہ نکاح قانوناً غیر مؤثر ہے اور فوجداری جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

دفعہ 498-A (مجرمانہ طور پر بیوی کے حقوق کی خلاف ورزی)
یہ دفعہ اگرچہ عمومی ہے، لیکن عدالت اس کا اطلاق ایسے واقعات پر کر سکتی ہے جہاں پہلی بیوی کو بغیر اجازت چھوڑ کر عدت کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔

3. تعزیر بمقابلہ حد
حد:
شرعی حد صرف زنا وغیرہ پر لاگو ہوتی ہے جب شرائط مکمل ہوں (چار گواہ، اعتراف، وغیرہ)۔
دو بہنوں سے نکاح پر حد لاگو نہیں ہوتی۔

تعزیر:
علماء کا اتفاق ہے کہ ایسی صورتوں میں تعزیر (یعنی حاکم وقت کی طرف سے مقرر کردہ سزا) دی جا سکتی ہے تاکہ اس عمل کی حوصلہ شکنی ہو۔

4. عدالتی نظائر
2024 YLR 1653 — لاہور ہائیکورٹ
عدالت نے قرار دیا کہ:

"پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد جب تک اس کی عدت مکمل نہیں ہو جاتی، اس کی بہن سے نکاح کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف اور قابلِ تعزیر جرم ہے۔"

دیگر نظائر:
PLD 2014 Lahore 343: عدالت نے نکاح کو فاسد قرار دیا جہاں عدت کی خلاف ورزی ہوئی۔

2021 SCMR 689: سپریم کورٹ نے کہا کہ شرعی اصول کے خلاف نکاح غیر مؤثر ہوگا۔

نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔۔
بیک وقت دو بہنوں سے نکاح اسلام اور قانون دونوں کے مطابق ممنوع ہے۔

مطلقہ بیوی کی عدت کے دوران اُس کی بہن سے نکاح بھی ناجائز ہے اور فوجداری جرم ہو سکتا ہے۔

یہ نکاح اگر سرزد ہو بھی جائے تو شرعی طور پر فاسد، اور قانونی طور پر تعزیر کے قابل ہے۔

ایسے نکاح کے خلاف فوجداری کارروائی ممکن ہے (PPC 494, 496 کے تحت)۔

علماء اور عدالت دونوں اس پر متفق ہیں کہ ایسے افراد کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ معاشرتی بگاڑ روکا جا سکے۔

05/03/2025

*❇️ طلاق مرد کا شرعی حق ۔*

اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے گا تو
*Muslim Family law ordinance 1961*
کے تحت وہ شخص طلاق دینے کے بعد متعلقہ یونین کونسل کو بجھوائے گا۔

اگر نوٹس طلاق نہ بجھوایا جائے تو اس صورت میں مرد کو
*دفعہ 7*
*MFLO, 1961* کے تحت جرمانہ اور قید کی سزا ہوسکتی ہے -

*سپریم کورٹ*
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون وضع کر دیاھے کہ شوہر پر لازم ھے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے تو اپنی بیوی اور متعلقہ یونین کونسل کو نوٹس بذریعہ رجسٹرڈ پوسٹ بجھوائے -

*زبانی طلاق*
بیوی پر اثرانداز نہیں ہوگی اور بیوی حقدار ہوگی کہ وہ شوہر سے سابقہ خرچہ لے کیونکہ شوہر یہ نہیں کہہ سکتا میں نے اتنا عرصہ پہلے طلاق دے دی تھی.

*PLD 2016 SC 457*

مہلک حادثات میں متوفی کے وارثین کو مالی معاوضہ( Damages)پر عدالت کا اہم ترین فیصلہ: یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی نظام میں ای...
17/02/2025

مہلک حادثات میں متوفی کے وارثین کو مالی معاوضہ( Damages)پر عدالت کا اہم ترین فیصلہ:

یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی نظام میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، خاص طور پر Fatal Accident Act 1855 کے تحت معاوضے کے تعین اور مالک اور ملازم کی ذمہ داریوں کے تعین کے حوالے سے۔

ذیل میں اس فیصلے کے کلیدی پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے:

1. قانونی بنیاد اور مقدمے کا پس منظر
- یہ مقدمہ Fatal Accident Act 1855 کے تحت دائر کیا گیا، جس کا مقصد لاپرواہی سے ہونے والے مہلک حادثات میں متوفی کے قانونی وارثین کو مالی معاوضہ فراہم کرنا ہے۔
- واقعہ 13 اکتوبر 2018 کو کراچی کے ہب ریور روڈ پر پیش آیا، جہاں ڈمپر ٹرک کے ڈرائیور (ڈیفنڈنٹ نمبر 1) کی لاپروائی سے دو افراد (محمد سرفراز، 33 سال؛ ابو بکر، 13 سال) ہلاک ہوئے۔
- ڈرائیور کے پاس صرف LTV لائسنس تھا، جو بھاری گاڑی چلانے کے لیے ناکافی تھا۔(تحریر: قانون دان ٹیم) گاڑی کا مالک (ڈیفنڈنٹ نمبر 2) بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا، کیونکہ اُس نے ڈرائیور کو غیرموزوں لائسنس کے باوجود گاڑی چلانے کی اجازت دی۔

2. معاوضے کا تعین
- محمد سرفراز (33 سال):
- ماہانہ آمدنی: 50,000 روپے۔
- متوقع عمر (65 سال تک): 32 سال (384 ماہ)۔
- کل معاوضہ: 19,200,000 روپے۔
- ابو بکر (13 سال):
- ممکنہ آمدنی (بڑھتی عمر کے ساتھ): 50,000 روپے ماہانہ۔
- متوقع کام کرنے کی مدت (65 سال تک): 47 سال (564 ماہ)۔
- کل معاوضہ: **28,200,000 روپے۔
- دونوں کا کل معاوضہ:47,400,000 روپے(سود سمیت 15% سالانہ اضافہ)۔

3. مشترکہ اور انفرادی ذمہ داری (Composite Negligence):
- عدالت نے National Logistic Cell vs. Irfan Khan کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جب دو یا زیادہ فریقوں کی مشترکہ لاپروائی سے نقصان ہو، تو ہر فریق مشترکہ اور انفرادی طور پر ذمہ دار ہوتا ہے۔
- مالک (ڈیفنڈنٹ نمبر 2) کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا، کیونکہ اُس نے ڈرائیور کو غیرمناسب لائسنس کے ساتھ گاڑی چلانے دی، جو Pakistan Railways vs. Abdul Haq کے فیصلے کے مطابق "مالک کی ذمہ داری" ہے۔

4. فیصلے کی سماجی اور قانونی اہمیت:
- احتساب کا فروغ: عدالت نے زور دیا کہ معاوضے کا مقصد نہ صرف متاثرین کو انصاف دلانا ہے، بلکہ معاشرے میں لاپروائی کرنے والوں کے لیے ڈیٹرنس (Deterrence) بھی پیدا کرنا ہے۔
- وارثین کے حقوق: شریعت کے اصولوں کے مطابق معاوضہ وارثین میں تقسیم کیا جائے گا، جو قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے اہم ہے۔
- عدالتی عمل کی رفتار: ڈیفنڈنٹس کی طرف سے تاخیر اور غیرحاضری کے باوجود، عدالت نے معاملے کو بروقت نمٹا کر **انصاف تک رسائی کو یقینی بنایا۔ اور دعویٰ دائر کرنے کے وقت سے سود سمیت معاوضہ دینے کا پابند کیا۔

یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی تاریخ میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں نہ صرف قانونی اصولوں کو واضح کیا گیا، بلکہ معاشرتی احتساب اور متاثرین کے حقوق کو بھی اولیت دی گئی۔ عدالت نے Fatal Accident Act 1855 کو جدید تقاضوں کے مطابق لاگو کرتے ہوئے ایک متوازن اور انصاف پر مبنی فیصلہ دیا، جو آنے والے مقدمات کے لیے رہنما اصول ثابت ہوگا

کن کیسز میں FIR کے اندراج میں تاخیر ملزم کو فائدہ پہنچاتی ہے اور کن میں نہیں۔ Section 154 CrPC, FIRAccused is admitted t...
20/12/2024

کن کیسز میں FIR کے اندراج میں تاخیر ملزم کو فائدہ پہنچاتی ہے اور کن میں نہیں۔

Section 154 CrPC, FIR

Accused is admitted to bail in case U/S 324 PPC as of right due to delay in FIR.
2005 SD 838

Accused admitted to bail due to delay in FIR in dacoity case.
2005 CrLJ 493

Accused admitted to bail due to delay in case U/S 489F PPC.
2001 CrLJ 631

Accused has no right of bail due to delay in FIR U/S 420/406 PPC.
2009 PCrLJ 913

Accused has no right of bail due to delay in FIR U/S 377 PPC.
2009 CrLJ 198

If complainant changed the contents of FIR in supplementary statement while taking U turn then the accused admitted to bail as of right.
2011 PCrLJ 129

To be busy in treatment is no ground for delay in lodging FIR.
2011 PCrLJ 1156

Accused is admitted to bail due to delay of 10 hours in lodging FIR U/S 496-A PPC.
2011 CrLJ 635

Accused is admitted to pre arrest as of right due to delay in lodging FIR in hurt case.
2007 CrLJ 191

Accused has no right of bail due to delay in lodging the FIR.
2007 CrLJ 639

Accused has no right of bail due to delay in lodging FIR in cheating case.
2007 CrLJ 639

Accused has no right of pre arrest bail due to delay in lodging FIR U/ 324 PPC.
2007 CrLJ 102

Pre arrest bail of accused was admitted due to delay of I ½ months in dacoity case.
2010 YLR 1512....

2024 YLR 1924 (Allah Ditta vs State)Medical evidence---Inadmissible---Medical officer dying before being cross-examined-...
09/11/2024

2024 YLR 1924 (Allah Ditta vs State)

Medical evidence---Inadmissible---Medical officer dying before being cross-examined---Effect---Accused were charged that they in furtherance of common intention committed murder of the brother of the complainant by inflicting hatchet blows---Record showed that the Medical Officer who conducted the Medico-Legal Examination followed by Post-mortem Examination later died---Senior Clerk of the hospital appeared and tendered the Medico-Legal and Post-mortem Reports without narrating the contents of such reports therefore, description of injuries, nature of injuries, kind of weapon and cause of death could not be brought on the record---Without appearance of Medical Officer, Medico-Legal Certificate and Post-mortem Reports were of no use for the prosecution because Medical Officer had not been tested through cross-examination with respect to his observation/findings made in such reports---Complainant stated that support of medical evidence was available in the terms that during the stage when only co-accused was facing the trial, Medical Officer appeared as witness and his statement was also recorded---Even such statement had not been tendered in evidence by the prosecution against the accused which could not be used against them by merely referring it from the record because it was recorded in their absence, therefore, by all means prosecution hardly had support of medical evidence in the case---In such circumstances, prosecution had failed to bring on record the secondary evidence of Medico-Legal and Postmortem Reports in accordance with law and contents of such reports if deposed by the Medical Officer in the absence of accused could not be used against them---Even acclaimed contents of both reports allegedly deposed by late Medical Officer were not put to the accused in their statement under S.342 of Cr.P.C., therefore, medical evidence provided no support to prosecution case.

میڈیکل آفیسر کو جرح کے لیے پیش کیے بغیر میڈیکو لیگل ا

RECOVERY OF DOWRY ARTICLES IN PAKISTAN?It is normal culture in Pakistan that bride is given dowry and gifts by her paren...
05/10/2024

RECOVERY OF DOWRY ARTICLES IN PAKISTAN?
It is normal culture in Pakistan that bride is given dowry and gifts by her parents. Similarly, husband and his family also give bridal gifts to wife at the time of marriage or during connubial relationship. Nonetheless, immediately after separation or divorce between husband and wife, she is refused to be handed over her dowry and gifts by husband and his parents. It is a settled law that all the dowry and bridal gifts received by wife before, at or during the marriage is her personal property and cannot be taken away from her. Wife in such case can recovery her dowry and bridal gifts through process of court.

UNDER WHAT LAW DOWRY AND BRIDAL GIFTS ARE RECOVERABLE FROM HUSBAND?
Family Courts are established under Section 5 of the Family Court Act, 1964 to adjudicate marriage disputes between husband and wife. Disputes regulated by Family Court include Recovery of dowry by wife, maintenance, dissolution of marriage and other entries detailed in the Schedule attached to the Act, 1964.

WHAT IF THE LIST OF DOWRY AND BRIDAL GIFTS IS NOT ACCEPTED BY HUSBAND?
It does not matter if the list of Dowry of Bridal Gifts claimed from husband is denied or refused by him. Procedure requires that List of Dowry and Bridal Gifts recoverable is attached with the claim filed in court. If the husband refuse to be in possession of the articles detailed in the list, Court requires wife to bring best evidence to proof that such articles were given to her which are lying in custody of husband. This can be done by producing witnesses in court who tender proof of purchase of articles by tender Sale Receipt in court. Wife through evidence is also required to establish that she was kicked out of house in single apparel and therefore all such articles are still lying with husband.

Whether Family laws are in favor of wife?
This is correct that family laws of Pakistan favor wife. It is natural presumption in our society that every bride is given dowry and bridal gifts. Court basis on evidence given parties award the amount of dowry and bridal gifts proved to be in custody of husband. While reading through evidence, court do not follow the dictates of Qanun-e-Shahdat Order 1984.

IN WHICH COURT SUIT FOR RECOVERY OF DOWRY IS REQUIRED TO BE FILED?
Suit for recovery of Dowry is required to be filed by wife in Family Court in whose jurisdiction she presently resides. She can also opt to file the case where she resided with husband after marriage. It is however, always recommended to consult a lawyer who may examine facts of your case to see, in which court the claim will be adjudicated most effectively.

WHAT ARE THE DOCUMENTS REQUIRED TO FILE SUIT OF RECOVERY OF DOWRY IN FAMILY COURT?
Documents required to file Suit for Recovery may be as follow:

Suit must be accompanies by signed List of Articles that wife claims from husband. On the List of Articles, cost of each article must also be mentioned.
Original Invoice and receipt of each Articles showing in the list must be attached.
Financial soundness of wife and her parents must be show through documentary evidence. Purpose of this is to demonstrate financial capacity of wife and her parents to purchase such articles.
Copy of marriage certificate if available
Any other documents which is deemed necessary.
مدعیہ کے والدین کی مالی حیثیت سے سامان جہیز کی ویلیو کا تخمینہ ہو گا
2020 YLR 282 Lahore
2020 CLC 8 sindh note 8
مدعیہ کے والدین کی مالی حیثیت سے سامان جہیز کی ویلیو کا تخمینہ ہو گا
2020 YLR 282 Lahore
2020 clc 8 sindh note 8

عائلی عدالتوں کی جانب سے تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کو تنسیخ نکاح بزریعہ خلع میں تبدیل کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ...
13/09/2024

عائلی عدالتوں کی جانب سے تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کو تنسیخ نکاح بزریعہ خلع میں تبدیل کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک نہایت ہی اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ:

سات اگست دو ہزار چودہ کو صائمہ نامی ایک عورت نے ایبٹ آباد کی مقامی عائلی عدالت یعنی فیملی کورٹ میں ابراہیم خان نامی ایک شہری کے خلاف مندرجہ ذیل دو کیسز جمع کیے :

پہلا دعویٰ : تکذیب نکاح یعنی کہ ابراہیم خان ، صائمہ کا شوہر ہونے کا جھوٹا دعویدار ہے اور اگر یہ بات ثابت نہیں ہوپاتی تو متبادل کے طور پر تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کا فیصلہ اور اس کے ساتھ ساتھ سامان جہیز اور مہر کے دلاپانے کا دعویٰ۔

دوسرا دعویٰ : دوسرا دعویٰ صائمہ کی طرف سے یہ دائر کیا گیا کہ اس کو نان نفقہ دیا جائے اور متبادل کے طور پر مکان کا قبضہ یا اس کی موجودہ بازاری قیمت اس کو ادا کی جائے۔

یاد رہے کہ صائمہ کی جانب سے مندرجہ بالا دونوں کیسز کے جواب میں نہ صرف جواب دعویٰ جمع کرایا جاتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ دعویٰ اعادہ حقوق زن آشوئ بھی جمع کرایا جاتا ہے۔

مندرجہ بالا دونوں کیسز کا فیصلہ فیملی کورٹ کی جانب سے چھبیس نومبر دو ہزار پندرہ کو کیا جاتا ہے جس کے مطابق عدالت نے نہ صرف صائمہ کو تنسیخ نکاح بزریعہ خلع بشرط معافی مہر کا فیصلہ بلکہ ساتھ ہی ساتھ نان نفقے بشمول عدت کے دورانیے اور سامان جہیز بھی واپس کرنے کا فیصلہ دے دیتی ہے جبکہ دوسری طرف شوہر کی جانب سے کیے جانے والے دعویٰ اعادہ حقوق زن آشوئ کو خارج کر دیا جاتا ہے۔ عائلی عدالت کے اس فیصلے کو ضلعی عدالت کی جانب سے بھی اپیل کے موقع پر برقرار رکھا جاتا ہے لیکن خاتون کے نان نفقے کی رقم میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ صائمہ کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ سے بدیں وجہ رجوع کیا جاتا ہے کہ اس نے کیس میں کہیں پر بھی خلع کی استدعا نہیں کی بلکہ اس کا دعویٰ تو تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی تھا۔ عدالت عالیہ نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد نچلی دونوں عدالتوں یعنی عائلی جج اور ضلعی جج کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ چونکہ اس کیس میں تو ابراہیم خان پہلے ہی صائمہ کو طلاق دے چکا ہوتا ہے تو پھر خلع کی ضرورت کہاں سے آگئی اور اسی وجہ سے عدالت نے ابراہیم خان کو حکم دیا کہ وہ صائمہ کو حق مہر ادا کرے۔

عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے خلاف ابراہیم خان نے عدالت عظمی سے اس لئے رجوع کیا کہ نہ صرف فیملی کورٹ بلکہ ضلعی عدالت کا فیصلہ اس لئے درست تھا کیونکہ صائمہ ، میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی تو اس لئے عدالت نے اس کو خلع دیا اور دوسرا چونکہ ابراہیم کا دعویٰ یہ تھا کہ اس نے صائمہ کو طلاق نہیں دی تو اس لئے صائمہ مہر کی حقدار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے سامنے فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے ایک اہم سوال رکھا ہے اور وہ یہ کہ اس کیس میں اصل تنازعہ یہ ہے کہ کیا شوہر نے طلاق دی ہے یا نہیں لیکن شوہر یعنی ابراہیم کی خیال میں عدالت کی جانب سے خلع دینا درست ہے لیکن اس کی جانب سے طلاق دینا متنازعہ ہے تو اس لئے عدالت نے اپنے سامنے مسئلہ صرف یہ رکھا ہے کہ کیا جب ایک کیس میں عورت کی جانب سے تنسیخ نکاح بزریعہ ظلم و زیادتی مانگی ہو تو کیا عدالت عورت کے اس استدعا کو تنسیخ نکاح بزریعہ خلع میں خود سے تبدیل کر سکتی ہے اور خاص کر جب عورت نے خلع مانگی ہی نہ ہو۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کا آغاز محمڈن لا کے پیراگراف نمبر تین سو انیس ( دو ) سے کیا ہے جس کے مطابق خلع بنیادی طور پر میاں بیوی کے درمیان ایک لین دین ہے جس کی ابتداء بیوی کی جانب سے ہوتی ہے جس میں وہ شوہر کو اس کو آزاد کرنے کی خاطر معاوضہ آفر کرتی ہے تو جس کو اگر شوہر تسلیم کرتا ہے تو یہ طلاق بزریعہ خلع کہلائے گا جو کہ ایک طلاق بائن کے برابر ہے۔ مندرجہ بالا تمہید کے بعد عدالت نے خلع کی تاریخ پر مشتمل ایک خوبصورت بحث مرتب کیا ہے جس کا آغاز عدالت نے مشہور زمانہ فیصلے خورشید بی بی بنام بابو محمد امین سے کیا ہے جب کہ اختتام وفاقی شرعی عدالت کے حال ہی میں آنے والے فیصلے حاجی سیف الرحمان کیس پر کیا ہے۔ اس پیراگراف کا خلاصہ یہ ہے کہ خلع عورت کا ایک ایسا بنیادی حق ہے کہ جس کے حصول کے لئے عورت کا کوئ وجہ بتانا ضروری نہیں ہے بلکہ عورت کا صرف یہ کہنا کافی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور عدالت عورت کو خلع شوہر کی بغیر کسی غلطی کے بھی دے سکتی ہے۔

خلع پر ایک طویل بحث کے بعد عدالت نے تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کا رخ کیا ہے اور اس ضمن میں عدالت نے ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ انیس سو انتالیس کی تاریخ و مقصد پر ایک لمبی بحث لکھی ہے۔ عدالت نے مختلف کتب و آرٹیکلز کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ اس ایکٹ کو معرض وجود میں لانے کے پیچھے ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ چونکہ حنفی فقہاء کے نزدیک خلع میں بھی شوہر کی رضامندی لازمی ہے تو یہ بات کولونیل دور کے قانون دانوں کو قدرتی انصاف کے اصولوں کے خلاف لگ رہی تھی تو مندرجہ بالا باتوں کو دیکھتے ہوئے اس ایکٹ کا قیام انیس سو چھتیس میں عمل میں لایا گیا۔

ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ اور خلع کے حوالے سے بحث پر مشتمل پیراگراف کا نتیجہ عدالت نے یہ نکالا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل مختلف وہ حقوق ہیں جن کے تحت ایک عورت اپنی شادی کا اختتام کر سکتی ہے۔ ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ کے تحت تنسیخ نکاح اور خلع کے زریعے تنسیخ نکاح میں فرق مندرجہ ذیل ہے:

الف ) ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ کے نیچے جب کوئ عورت عدالت کا رخ کرتی ہے اور عدالت سے کسی گروانڈ ( ظلم و زیادتی وغیرہ ) کی بناء پر نکاح کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے تو اس کو فسخ کہا جاتا ہے جب کہ دوسری طرف خلع کے لئے کوئ بھی وجہ ضروری نہیں ہے۔

ب ) ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ کے تحت تنسیخ نکاح کے لئے عورت کی جانب سے بتائی جانی والی وجہ کو جب عورت ثابت کر لیتی ہے تو عورت کا حق مہر برقرار رہتا ہے جب کہ خلع کی صورت میں عورت کو اپنا حق مہر معاف کرنا پڑتا ہے۔

ج ) خلع کی صورت میں فریقین کے درمیان ابتدائی ثالثی ناکام ہونے کے بعد عدالت پر لازمی ہے کہ وہ فورا بیوی کو خلع کی ڈگری دے جب کہ ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ کے تحت فیصلہ صرف تب دیا جا سکتا ہے جب شہادت مکمل ہو جائے۔

خلع ، تنسیخ نکاح ، فسخ اور ڈزالوشن آف مسلم میرج ایکٹ پر بحث کے بعد عدالت اپنے سامنے موجودہ سوال پر آئ ہے اور قرار دیا کہ چونکہ اس کیس میں عورت کی جانب سے تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کا کیس تھا اور یہ بات ریکارڈ سے بھی صاف ظاہر ہے تو چونکہ خلع کے حوالے سے مندرجہ بالا بحث کے بعد اب ظاہر ہے کہ عدالت خلع تب تک خلع نہیں دے سکتی جب تک عورت خود صراحت کے ساتھ خلع کا مطالبہ نہ کرے تو اس لئے عائلی عدالت اور ضلعی جج کی جانب سے خلع کا فیصلہ دینا غلط تھا۔

یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ حل کرنے کے بعد عدالت نے اپنے سامنے موجود دوسرے مسئلے کا رخ کیا ہے کہ کیا ابراہیم خان ، صائمہ کو طلاق دے چکا تھا یا نہیں تو اس بابت عدالت نے صائمہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس نکتے کو تسلیم کیا ہے کہ ابراہیم خان نے اسے نہ صرف پولیس تھانے میں طلاق دی تھی بلکہ جرگہ کے سامنے بھی طلاق دی تھی جس کے گواہ بھی موجود ہیں اور انھوں نے شہادت کے موقع پر گواہی بھی دی۔ تو اس لئے عدالت نے طلاق کے معاملے میں عدالت عالیہ کے فیصلے کو درست تسلیم کیا ہے۔ جس کے بعد عدالت نے ابراہیم خان کو حکم دیا کہ وہ صائمہ کو حق مہر کی ادائیگی کرے جو کہ گھر کا آدھا حصہ بنتا ہے۔

اس انتہائی اہم کیس کا خلاصہ یہ ہے کہ عدالتوں کی جانب سے از خود تنسیخ نکاح بوجہ ظلم و زیادتی کے مقدمات کو تنسیخ نکاح بوجہ خلع کے مقدمے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ یہ اہم فیصلہ جسٹس عائشہ ملک صاحبہ نے لکھا ہے جن کے ساتھ بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب اور جسٹس امین الدین خان نے اتفاق کیا ہے اور یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔

22/08/2024

سوال: حادثے میں لوگوں کو مارنے والی خاتون کو سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے؟
جواب: ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ قانون کیا ہے اسے جانئے۔
عام طور پر ٹریفک ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت ہو جاتی ہے تو قصور وار کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 320 لگائی جاتی ہے۔ یہ دفعہ غلط ڈرائیونگ کے ذریعے کسی کی موت کا سبب بننے کیلئے موجود ہے۔ قانون اسے "قتل خطا" سے تعبیر کرتا ہے۔ کہ مارنے والے نے جان بوجھ کر نہیں مارا۔ اس کی ایسی کوئی نیت نہیں تھی لیکن غلطی سے یہ فعل سرزد ہو گیا۔ موت کی سزا تب دی جاتی ہے جب کسی نے جان بوجھ کر قتل کیا ہو۔ اس کی سزا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 میں بتائی گئی ہے جو سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ 320 (ڈرائیونگ میں غفلت سے قتل خطا) کی زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال تک قید ہے۔ تاہم قانون اسے قابل ضمانت جرم بناتا ہے۔ اور قابل ضمانت جرم میں ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا اس کا حق ہوتا ہے۔ ایسے جرائم میں عموما ٹرائل کم ہی مکمل ہوتا ہے اور سزا بھی نہیں ہوتی۔ کراچی میں روڈ ایکسیڈنٹ کی ملزمہ کے کیس میں پہلے یہی دفعہ لگائی گئی تھی۔ جسکا مطلب یہ تھا کہ خاتون ایک دو دن میں ضمانت پر رہا ہو جاتی۔ خاتون کی ایف آئی آر میں چار دفعات، 320، 337 جی، 427 اور 279 لگائی گئیں اور یہ چاروں دفعات قابل ضمانت جرم ہیں۔ تاہم بعد میں اس ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 320 کو تبدیل کر کے دفعہ 322 لگا دی گئی۔ یہ دفعہ قتل بالسبب کو بیان کرتی ہے۔ اس میں بھی ملزم/مجرم کی ایسی کوئی نیت نہیں ہوتی کہ وہ متاثرہ شخص کو جان سے مار دے تاہم وہ اس کا سبب بن جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دفعہ ناقابل ضمانت تو ہے تاہم اس کی قید جیسی کوئی سزا نہیں ہے۔ اس کی سزا صرف دیت ہے۔ جو کہ ایک اسلامی سزا ہے۔ مطلب یہ کہ اس دفعہ کے تحت ملزم/ملزمہ کو ضمانت پر رہا تو نہیں کیا جائے گا تاہم اگر وہ مقتول/مقتولہ کے خاندان کو رائج دیت دے دے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
کیس کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ کیس بیک وقت دو دفعات 320 اور 322 کے تحت نہیں چلایا جا سکتا۔ دفعہ 320 لگی تو اگرچہ اس کی سزا 10 سال تک قید ہو سکتی ہے لیکن یہ جرم قابل ضمانت ہے اور خاتون جلد ضمانت پر رہا ہو جائے گی اور ٹرائل مکمل ہونے میں وقت لگے گا۔ اور اگر دفعہ 322 لگتی ہے تو یہ دفعہ اگرچہ ناقابل ضمانت ہے تاہم اس میں سزا صرف دیت ہے۔ مطلب یہ کہ خاتون جب بھی دیت ادا کر دے اسے رہا کر دیا جائے اور خاتون کی فیملی کے پاس پیسے کی کمی نہیں۔ کچھ کیس ایسے بھی ہیں کہ اگر دیت دینے کی سکت نہیں تب بھی ضمانت پر رہا۔
ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اگر خاتون ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہ ہو یا وہ نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہی ہو تب اس پر شاید مقدمہ کچھ سخت بنانے کی کوشش کی جائے۔ اگر ایسا ہوا بھی تو یہ سوشل میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے لیکن ماضی میں (میرے علم کے مطابق) ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ قائم ہوا ہو۔ کہ ایسی صورت میں مقدمہ 322 کے تحت ہی بنایا جاتا ہے۔ میری اطلاع کے مطابق خاتون کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا۔ تاہم یہ پاکستانی نہیں بلکہ کسی اور ملک کا تھا۔ کئی ممالک کے ڈرائیونگ لائسنس کو پاکستان میں بھی قبول تصور کیا جاتا ہے۔ آخری ٹیسٹ یہ رہ جاتا ہے کہ دیکھا جائے وہ نشے کی حالت میں تو نہیں تھی؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر معاملات مختلف ہو سکتے ہیں تاہم میری رائے کے مطابق یہ 302 کا کیس پھر بھی نہیں بنے گا۔
اس کے علاوہ پاکستان میں Fatal Accident Act بھی موجود ہے۔ یہ قانون بھی متاثرہ لواحقین کو پیسے کی صورت ہرجانے کی بات کرتا ہے جسمانی سزا نہیں۔
کراچی حادثہ کیس پر ابتدائی بحث۔

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Junaid Dev posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share