Sardar Nisar Gulzar Khan Advocate

Sardar Nisar Gulzar Khan Advocate ADVOCATE HIGH COURT
📞03073339969

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: FIR میں تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایتسپریم کورٹ آ...
24/09/2026

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: FIR میں تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے ایک مقدمے میں نہ صرف ملزم علی رضا سیال کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی عمر قید اور ایک ملین روپے ہرجانے کی سزا برقرار رکھی بلکہ FIR کے اندراج میں غیر ضروری تاخیر اور پولیس کے طرزِ عمل کے حوالے سے بھی اہم اصول وضع کیے ہیں۔

فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا جبکہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ بھی بنچ کا حصہ تھے۔

📍مقدمہ کا پس منظر:

مقدمہ کے مطابق واقعہ 30 اپریل 2012ء کو دادو، سیتا روڈ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ملزم علی رضا سیال نے اپنے والد کی مبینہ ترغیب پر عاشقان علی کو خنجر کے وار کرکے قتل کیا۔

سپریم کورٹ نے دستیاب شہادت کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ مقتول کے بیٹے، جو مقدمہ میں مستغیث تھا، اور مقتول کے بھتیجے کی گواہی قابلِ اعتماد تھی اور میڈیکل شہادت سے بھی اس کی تائید ہوتی تھی۔ عدالت کے مطابق محض گواہوں کا مقتول سے رشتہ دار ہونا یا معمولی نوعیت کے تضادات ایسی شہادت کو ناقابلِ اعتبار نہیں بناتے، جبکہ آلۂ قتل بھی ملزم کی نشاندہی پر برآمد ہوا۔

📍۔FIR میں تین روزہ تاخیر: پولیس ذمہ دار قرار

عدالت کے سامنے ایک اہم سوال FIR کے اندراج میں غیر معمولی تاخیر کا تھا۔

ریکارڈ کے مطابق وقوعہ 30 اپریل 2012ء کو تقریباً رات 8:30 بجے پیش آیا، پولیس کو تقریباً 8:40 بجے اطلاع مل چکی تھی اور روزنامچہ و دیگر پولیس ریکارڈ کے مطابق پولیس تقریباً 9:00 بجے موقع پر موجود تھی، تاہم FIR 3 مئی 2012ء کو درج کی گئی۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ موجودہ معاملے میں FIR کے اندراج میں تاخیر مستغیث کی طرف سے نہیں ہوئی بلکہ پولیس کی جانب سے ہوئی۔ لہٰذا پولیس کی غفلت یا تاخیر کا منفی اثر شکایت کنندہ/مستغیث پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

📍۔FIR میں تاخیر محض رسمی یا محکمانہ معاملہ نہیں

عدالت نے پولیس کو FIR کے بروقت اندراج کی آئینی و قانونی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے قرار دیا کہ اگر پولیس کو کسی قابلِ دست اندازی جرم (cognizable offence) کی اطلاع مل جائے اور اس کے باوجود FIR کے اندراج میں بلاجواز تاخیر کی جائے، خصوصاً ایسی تاخیر کے نتیجے میں مادی یا فارنزک شواہد ضائع ہونے کا امکان پیدا ہو، تو معاملہ محض procedural lapse تک محدود نہیں رہتا۔

ایسی صورتِ حال میں، مقدمے کے مخصوص حقائق اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق، ذمہ دار پولیس اہلکار کے خلاف Section 201 PPC کے تحت کارروائی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔

📍ہر سیشن اور مجسٹریٹ عدالت FIR میں تاخیر کا جائزہ لے گی

فیصلے میں ٹرائل کورٹس کے کردار پر بھی زور دیا گیا ہے۔ عدالتوں کو FIR کے اندراج میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر کو محض نظرانداز کرنے کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ:

تاخیر کیوں ہوئی؟
پولیس کو جرم کی اطلاع کب ملی؟
۔FIR کب درج ہوئی؟
تاخیر کا ذمہ دار کون تھا؟
اور کیا اس تاخیر کے نتیجے میں کوئی شہادت یا فارنزک ثبوت متاثر ہوا؟

اس طرح FIR میں تاخیر کے معاملے میں پولیس کے کردار کا تعین ریکارڈ اور حالات کی روشنی میں کیا جائے گا اور جہاں قانوناً ضروری ہو وہاں متعلقہ حکام کو کارروائی کے لیے معاملہ بھیجا جا سکے گا۔

📍پولیس کی نوآبادیاتی زبان پر بھی اعتراض:

سپریم کورٹ نے پولیس کے سرکاری کاغذات اور عوام سے متعلق کارروائی میں استعمال ہونے والی زبان پر بھی توجہ دلائی اور نوآبادیاتی طرزِ اظہار سے گریز کی ضرورت پر زور دیا۔

عدالت نے اس امر کی نشاندہی کی کہ شہری اپنے قانونی حق کے حصول کے لیے پولیس سے رجوع کرتے ہیں؛ انہیں کسی افسر کے سامنے رحم یا احسان کے طلب گار کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسی تناظر میں پولیس دستاویزات میں “فریادی” اور “بخدمت جناب SHO” جیسے روایتی الفاظ کے استعمال کے بجائے شہری کے قانونی حق اور ریاستی ادارے کی ذمہ داری کو مدنظر رکھنے والی زبان اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔

📍پولیس افسران کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی:

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ FIR کے اندراج میں تاخیر کے ذمہ دار پولیس افسران کے کردار کو متعلقہ عدالتیں اور محکمہ پولیس نظرانداز نہ کریں۔ اگر کسی افسر کی دانستہ غفلت یا تاخیر سے شہادت ضائع ہونے یا جرم کے ثبوت کو متاثر ہونے کا معاملہ سامنے آئے تو قانون کے مطابق فوجداری اور محکمانہ کارروائی کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو بھی اس عدالتی ہدایت پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کی طرف متوجہ کیا ہے۔

📍قتل کے مقدمات کا ریکارڈ طلب:

عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو ہدایت کی کہ یکم جنوری 2025ء سے فیصلے کی تاریخ تک ایسے تمام قتل کے مقدمات کا ریکارڈ پیش کیا جائے جن میں FIR کے اندراج میں 24 گھنٹے سے زائد تاخیر ہوئی، تاکہ تاخیر کی وجوہات اور متعلقہ پولیس کے کردار کا جائزہ لیا جا سکے۔

📍عوامی قانونی آگاہی کے لیے سابقہ فیصلہ سندھی زبان میں۔

سپریم کورٹ نے “محمد بخش کیس” کے سابقہ فیصلے کا سندھی زبان میں ترجمہ کروا کر اسے عدالت کی ویب سائٹ پر دستیاب کرانے کی ہدایت بھی کی، تاکہ عام شہری اپنے قانونی حقوق سے زیادہ بہتر طور پر آگاہ ہو سکیں۔

📍اہم قانونی اصول

۔FIR کا بروقت اندراج پولیس کی بنیادی قانونی ذمہ داری ہے۔ قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے کے باوجود بلاجواز تاخیر، خصوصاً جب اس سے شہادت یا فارنزک ثبوت متاثر ہونے کا امکان ہو، محض ایک معمولی procedural lapse نہیں سمجھی جا سکتی۔ ایسے معاملے میں متعلقہ پولیس اہلکار کی ذمہ داری کا تعین اور، حالات کے مطابق، Section 201 PPC سمیت دیگر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

نتیجہ: سپریم کورٹ نے ملزم علی رضا سیال کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی عمر قید اور ایک ملین روپے ہرجانے کی سزا برقرار رکھی، تاہم ساتھ ہی FIR کے بروقت اندراج، پولیس کی جواب دہی، شواہد کے تحفظ اور عوام کے ساتھ ریاستی اداروں کے طرزِ عمل سے متعلق اہم ہدایات جاری کیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا نکاح، مہر اور نکاح نامہ سے متعلق اہم ترین فیصلہ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چار رکنی بینچ نے مورخ...
22/09/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کا نکاح، مہر اور نکاح نامہ سے متعلق اہم ترین فیصلہ۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چار رکنی بینچ نے مورخہ 22 ستمبر 2026ء کو، مسماۃ فروا نورین بنام حسن علی آغا وغیرہ میں نکاح، مہر، نکاح نامہ اور اس کے مختلف کالمز کی قانونی حیثیت اور تشریح سے متعلق متعدد اہم قانونی سوالات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے نہایت اہم اصول وضع کیے ہیں۔ اس فیصلے میں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ اسلامی قانون کے تحت نکاح محض ایک عام سول معاہدہ نہیں بلکہ ایک منفرد قانونی ادارہ ہے، جس میں معاہداتی خصوصیات کے ساتھ ساتھ مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ عدالت نے مہر کی قانونی نوعیت، نکاح نامہ کی حیثیت، مہر کے طور پر غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی، نکاح نامہ کے مختلف کالمز کی باہمی نسبت اور ان کی تشریح کے اصولوں کو بھی تفصیل سے واضح کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ مہر محض نکاح کے عوض دی جانے والی کوئی روایتی یا صرف معاہداتی عوضی رقم نہیں بلکہ اسلامی قانون کے تحت شوہر پر عائد ہونے والی ایک مستقل قانونی ذمہ داری ہے۔ اسلامی قانون میں مہر کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر نہیں، لہٰذا کوئی بھی جائز اور قابلِ قدر چیز مہر کے طور پر مقرر کی جا سکتی ہے۔ مہر نقد رقم، سونا، زیورات، منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد، سامان، کمپنی کے حصص، منافع یا کسی بھی دوسری جائز اور قابلِ قدر ملکیت کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مہر کی مقدار یا اس کا موضوع نکاح سے قبل، نکاح کے وقت یا دورانِ ازدواج مقرر کیا جا سکتا ہے اور نکاح کے قائم رہنے کے دوران مہر میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

نکاح نامہ کے کالم نمبر 13، 14، 15 اور 16 کے باہمی تعلق کے حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ یہ تمام کالم مہر ہی سے متعلق ہیں، تاہم ہر کالم مہر کے ایک مختلف پہلو کو بیان کرتا ہے اور یہ ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ باہم معاون اور تکمیلی ہیں۔ عدالت کے مطابق ان کالمز کو الگ الگ اور ایک دوسرے سے منقطع کرکے نہیں پڑھا جا سکتا بلکہ ان کی ایسی ہم آہنگ تشریح کی جانی چاہیے جس سے ہر اندراج کو، جہاں تک ممکن ہو، مؤثر قانونی معنی حاصل ہو۔

عدالت نے کالم 13 میں استعمال ہونے والے الفاظ "Amount of Dower" کی بھی وضاحت کی اور قرار دیا کہ یہاں لفظ "Amount" سے مراد صرف نقد رقم نہیں بلکہ مہر کی مقدار یا نوعیت ہے۔ اس لیے اس کالم کو محض نقد رقم تک محدود کرنا اسلامی قانون اور قانونی اسکیم کے مطابق درست نہیں ہوگا۔ کالم 13 میں فریقین کے درمیان طے شدہ مہر کو درست طور پر درج کیا جانا چاہیے، خواہ وہ نقد رقم، منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد، سونا، زیورات یا کسی بھی جائز قابلِ قدر چیز کی صورت میں ہو۔

کالم 14 مہر کے اس حصے کی وضاحت کرتا ہے جو فوری یا معجل (Mu'ajjal) ہے اور اس حصے کی بھی جو مؤجل (Mu'wajjal) ہے۔ کالم 15 میں یہ درج کیا جاتا ہے کہ نکاح کے وقت مہر کا کوئی حصہ ادا کیا گیا یا نہیں، اور اگر ادا کیا گیا ہو تو اس کی رقم یا مالیت کیا ہے۔ جبکہ کالم 16 اس صورت سے متعلق ہے جب مکمل یا جزوی مہر کے عوض کوئی جائیداد دی گئی ہو۔ اس کالم میں متعلقہ جائیداد کی شناخت، تفصیل اور فریقین کے درمیان طے شدہ مالیت درج کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے بالخصوص واضح کیا کہ کالم 16 میں درج جائیداد کو کالم 13، 14 اور 15 میں درج مہر کا لازماً متبادل تصور نہیں کیا جا سکتا۔ قانون میں ایسا کوئی تقاضا موجود نہیں کہ کالم 16 میں درج مہر، دوسرے کالمز میں درج مہر کو خارج کر دے۔ اگر مقننہ کی منشا یہ ہوتی کہ کالم 16 میں درج جائیداد کالم 13، 14 اور 15 میں درج مہر کا متبادل ہوگی تو قانون میں اس امر کو واضح طور پر بیان کیا جاتا۔ لہٰذا ان تمام کالمز کا مجموعی اور ہم آہنگ مطالعہ کیا جانا چاہیے، اور ان میں درج مہر کو فریقین کے مجموعی طور پر طے شدہ حقِ مہر کے تناظر میں سمجھا جائے گا۔

عدالت نے ایک نہایت اہم قانونی مسئلے کا بھی جائزہ لیا جو مہر کے طور پر غیر منقولہ جائیداد مقرر کیے جانے کے بعد اس جائیداد کی منتقلی میں رکاوٹ سے متعلق ہے۔ عدالت کے سامنے ایسی صورتیں بھی آئیں جہاں شوہر نے نکاح نامہ میں ایسی غیر منقولہ جائیداد مہر کے طور پر درج کی جو اس کی مکمل ملکیت یا قبضے میں نہیں تھی، یا وہ جزوی طور پر اس کی ملکیت تھی، یا جائیداد کے مکمل کوائف درج نہیں کیے گئے تھے، یا بعد ازاں اس جائیداد کی ملکیت کسی عدالتی کارروائی کے نتیجے میں شوہر کے ہاتھ سے نکل گئی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہو کہ کوئی غیر منقولہ جائیداد مکمل یا جزوی مہر کے عوض بیوی کو دی جائے گی تو نکاح نامہ میں اس کا اندراج عموماً اس جائیداد کی منتقلی کے معاہدے یا عہد کو ظاہر کرتا ہے۔ شوہر محض اس وجہ سے اپنے عہد اور بیوی کے حقِ مہر کو ختم نہیں کر سکتا کہ مذکورہ جائیداد بالآخر بیوی کو منتقل نہ ہو سکی یا شوہر اسے برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔ جائیداد کی منتقلی میں ناکامی بذاتِ خود مہر کی بنیادی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر مہر کے طور پر مقرر کردہ غیر منقولہ جائیداد بالآخر بیوی کو منتقل نہ کی جا سکے تو شوہر بدستور مہر کی ذمہ داری ادا کرنے کا پابند رہے گا۔ ایسی صورت میں اگر فریقین نے نکاح نامہ میں مذکورہ جائیداد کی کوئی مخصوص مالیت طے کر رکھی ہو تو شوہر اس طے شدہ مالیت کو مہر کی ادائیگی کے طور پر ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ تاہم اگر جائیداد کی کوئی مالیت طے یا درج نہ کی گئی ہو تو عدالت بیوی کے مہر کی وصولی کے دعویٰ پر فیصلہ یا ڈگری دیتے وقت مذکورہ جائیداد کی اس وقت کی مارکیٹ ویلیو کا تعین کر سکتی ہے۔ اس اصول کا مقصد فریقین کے معاہدے کی اصل روح کو برقرار رکھنا اور شوہر کو اپنی ہی ناکامی یا عدمِ اہلیت سے فائدہ اٹھا کر بیوی کے حقِ مہر سے محروم ہونے سے روکنا ہے۔

نکاح نامہ کی تشریح کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک بنیادی اصول وضع کیا کہ نکاح نامہ کے مختلف کالمز کو تنہائی میں نہیں پڑھا جا سکتا۔ ہر اندراج کو دوسرے متعلقہ اندراجات کے ساتھ ملا کر پڑھنا ہوگا اور جہاں تک ممکن ہو تمام اندراجات کو مؤثر بنایا جائے گا۔ کسی ایک کالم کو عمومی طور پر دوسرے کالم پر فوقیت دے کر باقی اندراجات کو غیر مؤثر نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ نکاح نامہ ایک مقررہ قانونی فارم کے تحت ایک سرکاری عہدیدار، یعنی نکاح رجسٹرار، کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے، اس لیے اس میں موجود کسی ابہام یا بظاہر تضاد کا بوجھ فریقین پر ڈالنے سے قبل عدالت کو اسلامی قانون، فریقین کی حقیقی منشا اور مقدمے کے متعلقہ حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آہنگ تشریح اختیار کرنی چاہیے۔

عدالت نے نکاح رجسٹرارز کے لیے بھی اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ قرار دیا گیا کہ نکاح رجسٹرار مقررہ قانونی نکاح نامہ ہی استعمال کریں اور اس کے تمام متعلقہ کالمز کو انتہائی احتیاط اور درستگی کے ساتھ مکمل کریں۔ کسی کالم کو بلاجواز خالی نہ چھوڑا جائے کیونکہ ہر کالم ایک مخصوص قانونی مقصد کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ خصوصاً کالم 13 تا 16 میں مہر کی شرائط اس انداز میں درج کی جائیں کہ وہ فریقین کے درمیان حقیقتاً طے پانے والے معاہدے کی درست عکاسی کریں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ کالم 13 میں فریقین کے درمیان طے شدہ کل مہر کو واضح طور پر درج کیا جائے، خواہ مہر نقد رقم، منقولہ جائیداد یا غیر منقولہ جائیداد پر مشتمل ہو۔ اگر کسی جائیداد کو مہر کے طور پر مقرر کیا جائے تو کالم 16 میں اس کی مکمل شناختی تفصیل، بشمول نوعیت، پیمائش، محلِ وقوع اور فریقین کے درمیان طے شدہ مالیت، جہاں طے کی گئی ہو، درج کی جائے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی کہ نکاح رجسٹرار فریقین کے دستخط یا انگوٹھے کے نشان حاصل کرنے سے قبل نکاح نامہ کی متعلقہ شرائط انہیں پڑھ کر سنائے یا سمجھائے، خصوصاً وہ اندراجات جو مہر، خصوصی شرائط، تفویضِ حقِ طلاق یا مہر کے عوض دی جانے والی جائیداد سے متعلق ہوں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ نکاح نامہ میں وہی شرائط درج ہوں جو حقیقتاً فریقین کے درمیان طے ہوئی ہیں۔

اسی طرح کالم 17 میں خصوصی شرائط صرف وہی درج کی جائیں جو فریقین نے باہمی طور پر طے کی ہوں۔ نکاح رجسٹرار اپنی ذاتی رائے، مفروضے یا ذاتی فہم کی بنیاد پر کوئی شرط شامل نہیں کر سکتا۔ اگر فریقین کی منشا یا معاہدہ واضح نہ ہو تو متعلقہ کالم مکمل کرنے سے پہلے ان سے وضاحت حاصل کی جائے۔

عدالت نے متعلقہ یونین کونسلز اور مجاز حکام کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ تمام لائسنس یافتہ نکاح رجسٹرارز کو نکاح نامہ کی قانونی حیثیت، ہر کالم کے مقصد اور خصوصاً کالم 13 تا 16 کی درست تکمیل کے طریقہ کار سے مکمل آگاہی ہو۔ نکاح رجسٹرارز کی وقتاً فوقتاً تربیت اور رہنمائی کا انتظام کیا جائے تاکہ نکاح نامہ محض ایک رسمی یا میکانکی دستاویز کے طور پر نہ بھرا جائے بلکہ اس میں فریقین کے حقیقی معاہدے کی درست اور واضح عکاسی ہو۔ متعلقہ حکام نکاح رجسٹرارز کے رجسٹروں کا باقاعدگی سے معائنہ بھی کریں اور اگر کوئی رجسٹرار اپنے قانونی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

مختصراً، اس فیصلے کا بنیادی قانونی اصول یہ ہے کہ مہر اسلامی قانون کے تحت بیوی کا ایک مستقل اور قابلِ نفاذ حق ہے، جبکہ نکاح نامہ اس حق اور فریقین کے درمیان طے شدہ شرائط کا اہم قانونی ریکارڈ ہے۔ نکاح نامہ کے مختلف کالمز کو الگ الگ نہیں بلکہ مجموعی اور ہم آہنگ انداز میں پڑھا جائے گا۔ مزید برآں، اگر غیر منقولہ جائیداد مہر کے طور پر مقرر کی گئی ہو لیکن کسی وجہ سے وہ بیوی کو منتقل نہ ہو سکے تو صرف عدمِ منتقلی کی بنیاد پر شوہر مہر کی ذمہ داری سے بری نہیں ہوگا؛ اسے قانون کے مطابق مذکورہ مہر کی طے شدہ یا عدالت کی جانب سے متعین کردہ مالیت ادا کرنا ہوگی۔

Case: C.P.L.A. No.372-P/2019
Mst. Farwa Noreen v. Hassan Ali Agha & others
Date of Judgment: 22-09-2026
Bench: Supreme Court of Pakistan
Judge mentioned: Mr. Justice Shahid Waheed

زمین کی اصل ملکیت اور فراڈ کا فیصلہ ریونیو افسر نہیں، سول کورٹ کرے گی — سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول!سپریم کورٹ نے زمین...
28/08/2026

زمین کی اصل ملکیت اور فراڈ کا فیصلہ ریونیو افسر نہیں، سول کورٹ کرے گی — سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول!

سپریم کورٹ نے زمین کے تنازعات میں ریونیو اتھارٹی اور سول کورٹ کے دائرۂ اختیار کی اہم وضاحت کر دی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ ریونیو حکام زمین کے ریکارڈ، انتقال اور ریونیو اندراجات سے متعلق کارروائی تو کرسکتے ہیں، لیکن کسی فریق کی اصل ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کے پیچیدہ اور حتمی تنازعے کا فیصلہ کرنا ان کے دائرۂ اختیار میں نہیں۔

اگر کسی انتقال، ریونیو ریکارڈ یا دستاویز کو فراڈ، جعل سازی، ملی بھگت یا غلط بیانی کی بنیاد پر چیلنج کیا جائے اور اس کے نتیجے میں فریقین کے ملکیتی حقوق یا ٹائٹل کا تعین ضروری ہو، تو ایسا تنازعہ سول کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ریونیو اتھارٹی کا دائرۂ اختیار کہاں تک ہے؟

عدالت نے واضح کیا کہ ریونیو حکام کا بنیادی کام ریونیو ریکارڈ، انتقالات اور Record of Rights کو برقرار رکھنا اور ان سے متعلق قانونی کارروائی کرنا ہے۔

ریونیو افسر کا فیصلہ عمومی طور پر ریونیو ریکارڈ کی حد تک ہوتا ہے اور محض انتقال درج ہونے سے کسی شخص کے حقِ ملکیت کا حتمی اور ناقابلِ تنسیخ فیصلہ نہیں ہوجاتا۔

ملکیت اور ٹائٹل کا حتمی فیصلہ کس کا اختیار ہے؟

جہاں تنازعہ کا اصل سوال یہ ہو کہ:

▪️ اصل مالک کون ہے؟
▪️ کسی شخص کا ملکیت کا دعویٰ درست ہے یا نہیں؟
▪️ کوئی دستاویز یا انتقال فراڈ کے ذریعے حاصل کیا گیا؟
▪️ فریقین کے درمیان ملی بھگت یا غلط بیانی ہوئی؟
▪️ کسی رجسٹرڈ دستاویز کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

تو ایسے سوالات کے حتمی تعین کے لیے شہادت، دستاویزات اور مکمل ٹرائل کی ضرورت ہوسکتی ہے، جو بنیادی طور پر سول کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

دفعہ 172 ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ — کیا سول کورٹ کا راستہ بند ہے؟

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ دفعہ 172 کو اس طرح نہیں پڑھا جاسکتا کہ ہر قسم کے زمین یا ملکیت کے تنازعے میں سول کورٹ کا اختیار ختم ہوجائے۔

سول کورٹ کا دائرۂ اختیار صرف ان معاملات میں محدود ہوگا جو قانون کے تحت واضح طور پر ریونیو اتھارٹیز کے exclusive jurisdiction میں آتے ہوں۔

لہٰذا اگر مقدمے کا بنیادی تنازعہ ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کے تعین سے متعلق ہو تو صرف یہ حقیقت کہ ریونیو ریکارڈ میں کوئی انتقال درج ہے یا ریونیو افسر نے کوئی فیصلہ دیا ہے، سول کورٹ کے اختیار کو ختم نہیں کرتی۔

ریونیو اندراج ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں

یہ فیصلہ زمین کے مالکان کے لیے ایک اہم قانونی اصول واضح کرتا ہے کہ انتقال یا ریونیو ریکارڈ میں اندراج بذاتِ خود ملکیت کے حق کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

اگر کوئی فریق یہ مؤقف اختیار کرے کہ ایسا اندراج فراڈ، غلط بیانی یا غیر قانونی طریقے سے حاصل کیا گیا ہے اور اس بنیاد پر ملکیتی حق متاثر ہورہا ہے، تو متعلقہ فریق سول کورٹ سے مناسب قانونی ریلیف حاصل کرسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کا اہم پیغام

ریونیو افسر ریکارڈ درست کرسکتا ہے، لیکن جہاں اصل تنازعہ ملکیت، ٹائٹل یا فراڈ کا ہو وہاں حتمی فیصلہ سول کورٹ کرے گی۔

محض ریونیو اتھارٹی کے کسی سابقہ حکم کی موجودگی فریق کو سول کورٹ سے رجوع کرنے سے نہیں روک سکتی، خصوصاً جب تنازعہ بنیادی طور پر ملکیتی حقوق اور فراڈ کے تعین سے متعلق ہو۔

30/01/2026

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ: پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں بریت / خارج شدہ مقدمات ظاہر نہ کرنے کا حکم

عدالت نے واضح کیا ہے کہ جب کسی ملزم کو اہل عدالت کے ذریعہ بری کر دیا جائے، تو قانون کی نظر میں وہ تمام الزامات سے مکمل طور پر آزاد سمجھا جائے گا۔

ایسی صورت میں، کسی بھی سرکاری دستاویز، جیسے کہ پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں متعلقہ ایف آئی آر کا ذکر یا شامل کرنا، جب کہ بریت کا فیصلہ حتمی ہو چکا ہو، غیر ضروری اور غیر قانونی ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ عمل نہ صرف آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار کے حق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک شہری پر غیر منصفانہ اور دائمی بدنامی بھی عائد کرتا ہے، حالانکہ وہ عدالتی کارروائی کے ذریعہ مکمل طور پر بے قصور ثابت ہو چکا ہے۔

حتمی بریت کے بعد، اگر کوئی سرکاری اتھارٹی کسی فرد کو دوبارہ مجرمانہ الزام سے جوڑتی ہے تو یہ نہ صرف بریت کے فیصلے کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ انصاف، وقار اور معصومیت کے بنیادی اصولوں کو بھی پامال کرتا ہے۔

لہٰذا، درخواست گزار کو پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حق ہے جو اس کی بریت اور کسی بھی موجودہ مجرمانہ ذمہ داری کی غیر موجودگی کو ظاہر کرے۔
WP 40844/25
عبدالرحمن فریاد بنام حکومت پنجاب وغیرہ
PLJ 2026 LHR.84

30/01/2026
26/01/2026

سپرم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ عام شہریوں کو بغیر کسی وجہ کہ تھانہ لیجا کر ہراساں کرنے اور انکی تذلیل کرنے والے پولیس اہلکاروں کو تاحیات سرکاری نوکری سے برخاستگی کے حقدار ہیں اور وہ تا حیات سرکاری نوکری کے لیے نااہل ہوں گے
2019 SCMR 944
ORDER
UMAR ATA BANDIAL, J.---This petition assails the judgment of the learned Punjab Service Tribunal dated 5.6.2017 which affirms the order of dismissal from service of the petitioner passed by the CCPO, Lahore on 19.3.2015. The said order was passed after the departmental inquiry was held by the SSP Operations, Lahore. Some aspects of the complaint against the petitioner may have been disputed by the latter but two facts are admitted and in fact to that extent no dispute has been raised by the petitioner even now: firstly, that the petitioner stopped the two men and a woman travelling on the road late at night. The petitioner could not give any explanation or reason except what is now stated to be his suspicion about those persons; secondly, the petitioner took them to the police station. It is clear that there is no allegation or disclosure of the commission of a cognizance offence committed by the said persons. Leaving aside the disputed allegations of bribery the said admitted facts reflect the mindset of the petitioner and constitute a serious abuse of authority. For such abuse of authority to interfere with the lives of the ordinary citizen, one can infer that the purpose was to extract some advantage, whether pecuniary or otherwise. In the circumstance, therefore, the punishment inflicted on the petitioner is justified. Learned counsel has relied on the case of Khalid Mansoor v. Director, FIA, Rawalpindi 2008 SCMR 1174, wherein the facts are completely different because the FIA Officer was under the duty to check passports which he omitted to do in one instance and disciplinary proceedings against him relaxed. In the present case there are two salient facts noted by us above, which are undisputed; consequently, neither further inquiry was necessary nor there was any limitation on the competent authority to pass the impugned order of dismissal against the petitioner.
Petition is dismissed and leave to appeal declined.
MWA/S-13/SC Petition dismissed.

بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا اور بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا قابل سزا جرم ...
26/01/2026

بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا اور بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا قابل سزا جرم قرار ، جرم کے مرتکب افراد کو تین سال تک کی سزا، ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 6 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بیوی بچوں کے سماجی تحفظ سے متعلق قانون منظور کرلیا گیا

Address

District Courts Rawalpindi
Rawalpindi

Telephone

+923073339969

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sardar Nisar Gulzar Khan Advocate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sardar Nisar Gulzar Khan Advocate:

Shortcuts

Share