24/09/2026
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: FIR میں تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے ایک مقدمے میں نہ صرف ملزم علی رضا سیال کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی عمر قید اور ایک ملین روپے ہرجانے کی سزا برقرار رکھی بلکہ FIR کے اندراج میں غیر ضروری تاخیر اور پولیس کے طرزِ عمل کے حوالے سے بھی اہم اصول وضع کیے ہیں۔
فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا جبکہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ بھی بنچ کا حصہ تھے۔
📍مقدمہ کا پس منظر:
مقدمہ کے مطابق واقعہ 30 اپریل 2012ء کو دادو، سیتا روڈ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ملزم علی رضا سیال نے اپنے والد کی مبینہ ترغیب پر عاشقان علی کو خنجر کے وار کرکے قتل کیا۔
سپریم کورٹ نے دستیاب شہادت کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ مقتول کے بیٹے، جو مقدمہ میں مستغیث تھا، اور مقتول کے بھتیجے کی گواہی قابلِ اعتماد تھی اور میڈیکل شہادت سے بھی اس کی تائید ہوتی تھی۔ عدالت کے مطابق محض گواہوں کا مقتول سے رشتہ دار ہونا یا معمولی نوعیت کے تضادات ایسی شہادت کو ناقابلِ اعتبار نہیں بناتے، جبکہ آلۂ قتل بھی ملزم کی نشاندہی پر برآمد ہوا۔
📍۔FIR میں تین روزہ تاخیر: پولیس ذمہ دار قرار
عدالت کے سامنے ایک اہم سوال FIR کے اندراج میں غیر معمولی تاخیر کا تھا۔
ریکارڈ کے مطابق وقوعہ 30 اپریل 2012ء کو تقریباً رات 8:30 بجے پیش آیا، پولیس کو تقریباً 8:40 بجے اطلاع مل چکی تھی اور روزنامچہ و دیگر پولیس ریکارڈ کے مطابق پولیس تقریباً 9:00 بجے موقع پر موجود تھی، تاہم FIR 3 مئی 2012ء کو درج کی گئی۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ موجودہ معاملے میں FIR کے اندراج میں تاخیر مستغیث کی طرف سے نہیں ہوئی بلکہ پولیس کی جانب سے ہوئی۔ لہٰذا پولیس کی غفلت یا تاخیر کا منفی اثر شکایت کنندہ/مستغیث پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
📍۔FIR میں تاخیر محض رسمی یا محکمانہ معاملہ نہیں
عدالت نے پولیس کو FIR کے بروقت اندراج کی آئینی و قانونی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے قرار دیا کہ اگر پولیس کو کسی قابلِ دست اندازی جرم (cognizable offence) کی اطلاع مل جائے اور اس کے باوجود FIR کے اندراج میں بلاجواز تاخیر کی جائے، خصوصاً ایسی تاخیر کے نتیجے میں مادی یا فارنزک شواہد ضائع ہونے کا امکان پیدا ہو، تو معاملہ محض procedural lapse تک محدود نہیں رہتا۔
ایسی صورتِ حال میں، مقدمے کے مخصوص حقائق اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق، ذمہ دار پولیس اہلکار کے خلاف Section 201 PPC کے تحت کارروائی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔
📍ہر سیشن اور مجسٹریٹ عدالت FIR میں تاخیر کا جائزہ لے گی
فیصلے میں ٹرائل کورٹس کے کردار پر بھی زور دیا گیا ہے۔ عدالتوں کو FIR کے اندراج میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر کو محض نظرانداز کرنے کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ:
تاخیر کیوں ہوئی؟
پولیس کو جرم کی اطلاع کب ملی؟
۔FIR کب درج ہوئی؟
تاخیر کا ذمہ دار کون تھا؟
اور کیا اس تاخیر کے نتیجے میں کوئی شہادت یا فارنزک ثبوت متاثر ہوا؟
اس طرح FIR میں تاخیر کے معاملے میں پولیس کے کردار کا تعین ریکارڈ اور حالات کی روشنی میں کیا جائے گا اور جہاں قانوناً ضروری ہو وہاں متعلقہ حکام کو کارروائی کے لیے معاملہ بھیجا جا سکے گا۔
📍پولیس کی نوآبادیاتی زبان پر بھی اعتراض:
سپریم کورٹ نے پولیس کے سرکاری کاغذات اور عوام سے متعلق کارروائی میں استعمال ہونے والی زبان پر بھی توجہ دلائی اور نوآبادیاتی طرزِ اظہار سے گریز کی ضرورت پر زور دیا۔
عدالت نے اس امر کی نشاندہی کی کہ شہری اپنے قانونی حق کے حصول کے لیے پولیس سے رجوع کرتے ہیں؛ انہیں کسی افسر کے سامنے رحم یا احسان کے طلب گار کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
اسی تناظر میں پولیس دستاویزات میں “فریادی” اور “بخدمت جناب SHO” جیسے روایتی الفاظ کے استعمال کے بجائے شہری کے قانونی حق اور ریاستی ادارے کی ذمہ داری کو مدنظر رکھنے والی زبان اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
📍پولیس افسران کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی:
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ FIR کے اندراج میں تاخیر کے ذمہ دار پولیس افسران کے کردار کو متعلقہ عدالتیں اور محکمہ پولیس نظرانداز نہ کریں۔ اگر کسی افسر کی دانستہ غفلت یا تاخیر سے شہادت ضائع ہونے یا جرم کے ثبوت کو متاثر ہونے کا معاملہ سامنے آئے تو قانون کے مطابق فوجداری اور محکمانہ کارروائی کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو بھی اس عدالتی ہدایت پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کی طرف متوجہ کیا ہے۔
📍قتل کے مقدمات کا ریکارڈ طلب:
عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو ہدایت کی کہ یکم جنوری 2025ء سے فیصلے کی تاریخ تک ایسے تمام قتل کے مقدمات کا ریکارڈ پیش کیا جائے جن میں FIR کے اندراج میں 24 گھنٹے سے زائد تاخیر ہوئی، تاکہ تاخیر کی وجوہات اور متعلقہ پولیس کے کردار کا جائزہ لیا جا سکے۔
📍عوامی قانونی آگاہی کے لیے سابقہ فیصلہ سندھی زبان میں۔
سپریم کورٹ نے “محمد بخش کیس” کے سابقہ فیصلے کا سندھی زبان میں ترجمہ کروا کر اسے عدالت کی ویب سائٹ پر دستیاب کرانے کی ہدایت بھی کی، تاکہ عام شہری اپنے قانونی حقوق سے زیادہ بہتر طور پر آگاہ ہو سکیں۔
📍اہم قانونی اصول
۔FIR کا بروقت اندراج پولیس کی بنیادی قانونی ذمہ داری ہے۔ قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے کے باوجود بلاجواز تاخیر، خصوصاً جب اس سے شہادت یا فارنزک ثبوت متاثر ہونے کا امکان ہو، محض ایک معمولی procedural lapse نہیں سمجھی جا سکتی۔ ایسے معاملے میں متعلقہ پولیس اہلکار کی ذمہ داری کا تعین اور، حالات کے مطابق، Section 201 PPC سمیت دیگر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
نتیجہ: سپریم کورٹ نے ملزم علی رضا سیال کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی عمر قید اور ایک ملین روپے ہرجانے کی سزا برقرار رکھی، تاہم ساتھ ہی FIR کے بروقت اندراج، پولیس کی جواب دہی، شواہد کے تحفظ اور عوام کے ساتھ ریاستی اداروں کے طرزِ عمل سے متعلق اہم ہدایات جاری کیں۔