Kamran Mughal Law Associates

Kamran Mughal Law Associates Firm of professional lawyers, we cover wide range of legal professional practice in all areas of Law.

Kamran Mughal Law Associates (KMLA) is a highly competent law firm that fully understands each client’s problems and needs and promptly formulates the most appropriate and effective solutions, based at Rawalpindi with its bench office at Islamabad. Kamran Mughal Law Associates, is a Firm of young, dynamic and professional group of lawyers, we cover wide range of legal professional practice in virt

ually all areas of Law. We provide an un-parallel degree of professional and intellectual commitment to save the interest of their clients. We tailor our services to the specific requirements of our Clients, in order to provide comprehensive and reliable advice; solutions that our Clients can rely on.

حکومتِ پنجاب کا اہم اور تاریخی فیصلہحکومتِ پنجاب نے لینڈ ریکارڈ کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے، جس ...
07/01/2026

حکومتِ پنجاب کا اہم اور تاریخی فیصلہ
حکومتِ پنجاب نے لینڈ ریکارڈ کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت پٹواریوں، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ افسران کے بعض اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔
اب درج ذیل امور واضح طور پر نافذ ہوں گے:
بغیر تحریری اور قانونی دستاویز کے کوئی انتقال درج نہیں کیا جائے گا۔
عدالتی حکم کے بغیر وراثت کا انتقال ممکن نہیں ہوگا۔
رجسٹری کے بغیر کسی بھی قسم کا انتقال درج نہیں کیا جائے گا۔
کسی گواہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔
نیا طریقۂ کار
تمام انتقالات سب رجسٹرار یا ای سہولت مرکز کے ذریعے کیے جائیں گے۔
فردِ بیع کے حصول کے بعد ہی انتقال درج کیا جائے گا۔
یہ اقدام عنوانِ ملکیت میں شفافیت، بدعنوانی کے خاتمے اور عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اور انقلابی قدم ہے۔

29/12/2025

کیا مدیون
*(Judgment Debtor)*
*کی گرفتاری کے بعد ضامن*
*(Surety) کی ذمہ داری ختم*
*ہوجاتی ہے یا وہ ڈگری کی رقم ادا کرنے کا پابند رہتا ہے؟*

2025 CLC 1820
مدیون (اصل مقروض) کی گرفتاری کے باوجود، ضامن ڈگری شدہ رقم ادا کرنے کا پابند رہتا ہے۔
قانون اس بارے میں بالکل واضح ہے کہ ڈگری (decree) ضامن کے خلاف بھی نافذ کی جاسکتی ہے۔ مدیون کی گرفتاری ضامن کو ڈگری کی رقم ادا کرنے کی ذمہ داری سے بری نہیں کرتی، کیونکہ اس کی ذمہ داری مدیون کے ساتھ مشترکہ اور علیحدہ (joint and several) دونوں حیثیتوں میں ہوتی ہے۔

ضامن کے خلاف اس کی ذمہ داری کے نفاذ کے لیے کارروائی سیکشن 45 سی پی سی کے تحت کی جاسکتی ہے۔

مزید یہ کہ ضامن نامہ (surety bond) میں درج شرائط یا الفاظ کو ان کے عام اور واضح مفہوم میں پڑھا جانا چاہیے۔ جب اس کے الفاظ صاف اور غیر مبہم ہوں، تو ان کی تعبیر و تشریح کے لیے کسی اور طریقے یا مفہوم کی طرف جانے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔

WP 29329/20
Mehboob Alam Vs Additional District Judge etc.

قانونی تجزیاتی جائزہ

2025 CLC 1820
موضوع: ضامن کی ذمہ داری، مدیون کی گرفتاری کے باوجود برقرار سیکشن 45 CPC

1. مقدمہ کا بنیادی قانونی سوال
(Legal Proposition)
مرکزی سوال یہ تھا کہ

کیا مدیون
(Judgment Debtor)
کی گرفتاری کے بعد ضامن
(Surety) کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے یا وہ ڈگری کی رقم ادا کرنے کا پابند رہتا ہے؟

عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ:

مدیون کی گرفتاری کے باوجود ضامن کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔
ضامن کی ذمہ داری مدیون کے ساتھ مشترکہ اور علیحدہ (joint & several liability) ہوتی ہے۔
ڈگری ضامن کے خلاف بھی مکمل طور پر نافذ کی جا سکتی ہے۔

2. قانونی بنیاد
(Statutory Foundation)
(a) Section 45, Code of Civil Procedure (CPC)
یہ دفعہ عدالت کو اجازت دیتی ہے کہ:

ڈگری کسی بھی ایسی شخص کے خلاف نافذ کی جاسکتی ہے
جو بطور ضامن اس کی ادائیگی کا پابند ہو۔

یہ نفاذ اسی طرح ہوگا جیسے اصل مدیون کے خلاف ہوتا ہے۔

اس فیصلے میں عدالت نے یہی اصول مضبوط کیا کہ Section 45 CPC ضامن کے خلاف کارروائی کا واضح اختیار دیتی ہے۔

3. ضامن کی ذمہ داری کی نوعیت
(Nature of Surety’s Liability)
(i) Joint and Several Liability
عدالت نے کہا کہ ضامن

اصل مدیون کے ساتھ مشترکہ بھی ذمہ دار ہے

اور انفرادی طور پر بھی

اس کا مطلب:

اگر اصل مدیون گرفتار ہو جائے یا ادائیگی نہ کرے تب بھی ضامن سے پوری ڈگری کی رقم وصول کی جا سکتی ہے۔

یہ اصول پاکستان اور ہندوستان کی عدالتوں میں مستقل طور پر برقرار ہے۔

4. گرفتاری سے ضامن کی رہائی کا نہ ہونا
(Arrest Does Not Discharge Surety)
عدالت نے اہم نکتہ اٹھایا

مدیون کی گرفتاری ضامن کو بری نہیں کرتی
ضامن کی ذمہ داری صرف اس وقت ختم ہو سکتی ہے جب:

ڈگری ادا ہو جائے، یا

ضامن کے ضامن نامہ میں ایسا کوئی خصوصی شرط ہو (جوکہ یہاں نہ تھی)

یہ دلیل زیرِ غور آئی کہ گرفتاری کے بعد ضامن بری ہو جانا چاہیے، مگر عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔

5. ضامن نامہ کی تشریح (Interpretation of Surety Bond)
فیصلے کا اہم قانونی اصول

ضامن نامہ کے الفاظ کو ان کے عام اور واضح (ordinary & unambiguous) مفہوم میں پڑھا جائے گا۔

یعنی

اگر ضامن نے واضح طور پر “ڈگری کی ادائیگی کی ضمانت” دی ہے

تو وہ الفاظ معتبر رہیں گے

ان کی مبہم یا مختلف تشریح کی اجازت نہیں

عدالت نے یہ بھی کہا کہ

ضامن نامہ میں ambiguity نہ ہو
اور عدالت اس کی ایسی تشریح نہیں کرے گی جو ضامن کو فائدہ دے جبکہ الفاظ واضح ہوں

6. عدالتی نظائر (Judicial Precedents)
عدالت نے ملک کے تسلیم شدہ اصولوں پر انحصار کیا:

پاکستانی نظائر
Surety کی ذمہ داری سخت (strict) ہوتی ہے

ضمانت شدہ ذمہ داری پوری ہونے تک ضامن کا فرض برقرار رہتا ہے

Common Law Principles
Suretyship = strict contract

Courts must enforce surety contracts “as written”

7. آئینی دائرہ (Writ Jurisdiction)
چونکہ معاملہ Ex*****on Court کے اختیارات سے متعلق تھا

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ
Ex*****on Court
نے سیکشن 45 CPC
کے تحت درست اختیار استعمال کیا
ضامن کے خلاف کارروائی آئینی طور پر درست ہے
اس لیے Writ Petition خارج کر دی گئی / برقرار نہ رہ سکی

8. اس فیصلے کے عملی اثرات (Practical Implications for Lawyers)
(i) ضامن کے خلاف Ex*****on مکمل طور پر قابلِ عمل ہے
تنخواہ ضبط

جائیداد ضبط

بینک اٹیچمنٹ

Arrest Warrants
حتیٰ کہ

Civil Prison

(ii) وکیل دفاع کے لیے اہم نکات
اگر آپ ضامن کو بچانا چاہیں تو صرف دو بنیادیں رہ جاتی ہیں:

ضامن نامہ میں مخصوص شرط کہ ذمہ داری محدود ہے

ضامن نامہ پر دستخط یا تاریخ میں قانونی نقص

(iii) ڈکری ہولڈر کے لیے فائدہ
یہ فیصلہ مضبوط نظیر ہے کہ:

وہ مدیون کی گرفتاری کے باوجود ضامن کے خلاف فوری ریکوری شروع کر سکتا ہے

Ex*****on کا اختیار وسیع ہے

نتیجاً مختصراً۔۔۔۔
2025 CLC 1820 ایک اہم نظیر ہے جو یہ اصول مضبوط کرتی ہے کہ

ضامن کی ذمہ داری مستقل، سخت اور مدیون سے آزاد (independent) ہوتی ہے۔
مدیون کی گرفتاری، قید یا عدم ادائیگی، ضامن کی ذمہ داری ختم نہیں کرتی۔
Section 45 CPC ڈگری ہولڈر کو مکمل اختیار دیتی ہے کہ وہ ضامن سے بھی وصولی کرے۔
ضامن نامہ میں موجود الفاظ ہی فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔

29/12/2025

(i) Under section 7(3) of the MFLO, a Talaq does not become
legally effective until the expiry of 90 days from the date on
which notice under section 7(1) is received by the Chairman
of the Union Council, unless it is revoked earlier. Section 7(3)
precludes the Talaq from taking effect for a specified period,
during which the parties continue to be the husband and wife
in law.

(ii) During this 90-day period, the husband retains the right to
revoke the Talaq either expressly or by any unequivocal
conduct indicating such intent. Intimation to the Chairman is
not a statutory precondition for revocation.

(iii) Where the Talaq is revoked within the aforementioned
period, the marriage continues to subsist in law, regardless of
the form in which the divorce was originally pronounced
(including Talaq-ul-bidaat).

(iv) Failure to send notice to the Chairman may attract penal
consequences under section 7(2), but does not by itself
amount to revocation of Talaq. It renders the pronouncement
ineffective, not invalid, in law.

(v) The legal effect of divorce under Islamic law without
compliance with section 7 has limited recognition only in
prosecutions for Zina, where the Shariat Appellate Bench has
held that such divorces, though unnotified, may still be valid
under Shariah. This exception does not apply to the offence
of r**e under section 376 PPC

(vi) The Chairman of the Union Council is required, upon
receiving notice under section 7(1), to constitute an
Arbitration Council and facilitate reconciliation between the
parties. However, failure of either party to appear or of the
Council to conduct proceedings does not prevent the
operation of section 7(3). The Chairman is not empowered to
adjudicate on the validity or effect of Talaq, and the issuance
or non-issuance of a certificate has no legal bearing on its
effectiveness.

(vii) A divorce by Mubara’at, once duly executed and
communicated to the Chairman, is irrevocable, and the
husband has no authority to withdraw from it unilaterally.
The requirement of notice under section 7(1) of the MFLO
applies mutatis mutandis. However, it only ensures
procedural regularity and does not affect the validity or
finality of the dissolution.

Law distinguishes between sin, crime, and offence. A “sin” is a moral or religious transgression, an act considered wrong according to divine command or ethical principles, judged by one’s faith or conscience. Its consequences are spiritual or moral, such as guilt or divine punishment. In contrast, under the statutory framework of Pakistan, a “crime” is an act or omission that is made punishable by law. It is a public wrong that affects society at large, and the offender may be punished by death, imprisonment, fine or other legal penalties. Courts established under the Constitution adjudicate only statutory offences and do not concern themselves with moral or religious conduct. The term “offence” is a technical expression that refers to any act (or omission) that violates the law. It encompasses both regulatory violations, such as traffic infractions, and serious penal acts like murder. “Offence” is a broader concept than “crime”, the latter being generally reserved for serious offences involving public wrongs. Thus, every crime is an offence, but not every offence amounts to a crime in this sense. Under Shariah, however, a crime is an act prohibited by divine injunction and punishable with Hadd or Ta’zir penalties.

In the present case, the marital bond between the Petitioner and Respondent No.5 existed in law at the time of the alleged occurrence. The Petitioner’s conduct may be considered immoral or inappropriate under religious or social norms, but he cannot be prosecuted under section 376 PPC because, on the facts pleaded in the FIR, the essential ingredients of the offence are not disclosed.
Writ Petition No. 39/2025
Jameel Ahmad Vs. The State and others
Date of hearing:14.11.2025
2025LHC7342

29/12/2025

*زبانی تحفہ (Hiba) کی عدمِ تکمیل اور میوٹیشن کی محدود قانونی حیثیت*

*“قانونی وارثوں کی بلاجواز محرومی: زبانی تحفہ میں خصوصی وجوہات کا تقاضا”*

*“میوٹیشن بطور دستاویزِ ملکیت قابلِ قبول نہیں: زبانی تحفہ کا قانونی معیار”*

*“Mutation is Not Proof of Oral Gift Disinheriting Legal Heirs”*

2025 LHC 7956

فیصلہ
یہ مستقل طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ جہاں قانونی وارثوں کو تحفہ (گفٹ) کے ذریعے خارج کرنے کا دعویٰ کیا جائے، وہاں دیگر قانونی وارثوں کو تحفہ سے محروم کرنے کی وجوہات ثابت کرنے کے لیے شواہد موجود ہونے چاہئیں۔

موجودہ مقدمے میں، نہ تو دعوے میں اور نہ ہی شواہد میں، درخواست گزار، جو بھاری ذمہ داری کے تحت تھا کہ وہ ثابت کرے کہ متوفی نے زبانی طور پر واقعی اسے تحفہ دیا، نہ صرف یہ کہ وہ اس کو مؤثر طریقے سے ثابت کر سکا بلکہ یہ بھی نہیں دکھا سکا کہ بیٹی کو امتیازی سلوک یا محرومی کی کوئی خاص وجہ تھی، جس نے نہ تو کوئی خاص وجہ بتائی اور نہ ہی ثابت کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ معزز سول جج نے اس معاملے کو قانونی نقطہ نظر سے درست انداز میں نہیں دیکھا اور اس مستقل قاعدے کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ فرض کر لیا کہ محض میوٹیشن (رجسٹریشن) کی تصدیق تحفے کے اعلان اور قبولیت اور قبضے کی منتقلی کے لیے کافی ہے، یہ سمجھنے میں ناکام کہ میوٹیشن ملکیت کا دستاویز نہیں ہے اور جب خود لین دین ہی زیرِ بحث ہو، تو مستفید ہونے والا قانونی طور پر ذمہ دار ہے کہ وہ قابل اعتماد شواہد کے ذریعے ایک درست زبانی تحفے کے تمام اجزاء کو ثابت کرے، جو کہ اس مقدمے میں موجود نہیں تھے۔

لہٰذا، معزز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے درست طور پر معزز سول جج کے فیصلے اور حکم کو کالعدم قرار دیا اور اپیل کو منظور کیا۔

قانونی تجزیاتی جائزہ

1. مقدمے کی نوعیت
(Nature of Dispute)
یہ مقدمہ دراصل

دعویٰ بر مبنی بر زبانی تحفہ
(Oral Gift/Hiba)

جس کے ذریعے دیگر قانونی وارثوں (خصوصاً بیٹی) کو جائیداد سے محروم کیا گیا

اور اس کی بنیاد صرف میوٹیشن پر رکھی گئی

2. بنیادی قانونی سوالات
(Core Legal Questions)
کیا محض میوٹیشن زبانی تحفہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے؟

کیا قانونی وارث کو محروم کرنے کے لیے خاص وجوہات ثابت کرنا لازم ہے؟

زبانی تحفہ ثابت کرنے کا بارِ ثبوت (Burden of Proof) کس پر ہے؟

کیا سول جج نے قانون کو درست طور پر اپلائی کیا؟

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کا فیصلہ کیوں درست قرار پایا؟

3. زبانی تحفہ (Hiba)
کا قانونی فریم ورک
(Muslim Personal Law)
قانونِ اسلام اور عدالتی نظائر کے مطابق زبانی تحفہ کے تین لازمی اجزاء ہیں

اعلانِ تحفہ (Declaration)

قبولیت (Acceptance)

قبضے کی منتقلی (Delivery of Possession)

اگر ان تین میں سے کوئی ایک بھی ثابت نہ ہو تو تحفہ قانوناً غیر مؤثر ہے۔

4. بارِ ثبوت
(Burden of Proof)
قانونِ شہادت، 1984
دفعہ 117 – Burden of Proof
جو شخص کسی حقیقت کا دعویٰ کرے، اس پر اس کا ثبوت لانا لازم ہے۔

اس مقدمے میں

مدعی/تحفہ لینے والا دعویٰ کر رہا تھا

لہٰذا بھاری بارِ ثبوت اسی پر تھا

دفعہ 122
Particular Facts
جب خاص حقیقت (oral gift) دعویٰ کی جائے تو خاص ثبوت ضروری ہوتا ہے

یہاں

نہ اعلان ثابت

نہ قبولیت

نہ قبضے کی منتقلی

5. قانونی وارثوں کی محرومی
(Disinheritance of Legal Heirs)
عدالتی اصول (Settled Law)

جب تحفہ کے ذریعے قدرتی وارثوں کو محروم کیا جائے تو:

خاص وجوہات
(Special Reasons)

اور ان کا ثبوت ضروری ہے

متعلقہ اصول
بیٹی یا دیگر وارثوں کو محض ناپسندیدگی یا خاموشی کی بنیاد پر محروم نہیں کیا جا سکتا

عدمِ ذکر = عدمِ ثبوت

اس مقدمے میں

نہ کسی وجہ کا ذکر

نہ کسی وجہ کا ثبوت

6. میوٹیشن کی قانونی حیثیت
مستقل عدالتی اصول
Mutation is not a document of title

یعنی

میوٹیشن صرف ریونیو ریکارڈ کے لیے ہوتی ہے

یہ

ملکیت منتقل نہیں کرتی

تحفہ ثابت نہیں کرتی

متعلقہ قانونی اصول:
میوٹیشن کا اندراج اعلان، قبولیت یا قبضہ کا متبادل نہیں

سول جج نے میوٹیشن کو

اعلان

قبولیت

قبضہ
تینوں کا نعم البدل مان لیا
جو سنگین قانونی غلطی تھی

7. CPC
کے تحت قانونی نقائص
Order XIV Rule 1 Issues
تحفہ کے لازمی اجزاء پر درست Issues فریم نہیں کیے گئے

Order XX Rule 5 Judgment
فیصلہ قانونی نکات پر بحث کے بغیر دیا گیا

Section 3 CPC
Adjudication of Civil Rights
سول حقوق کا فیصلہ قانون کے مطابق ہونا لازم ہے، مفروضات پر نہیں

8. اپیلیٹ کورٹ
(Addl. District Judge)
کا درست کردار
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے

بارِ ثبوت کو درست طور پر مدعی پر رکھا
زبانی تحفہ کے اجزاء کی عدم موجودگی کو نوٹ کیا
میوٹیشن کی محدود حیثیت کو تسلیم کیا
وارثوں کی بلاجواز محرومی کو غلط قرار دیا

اسی لیے

سول جج کا فیصلہ کالعدم
اپیل منظور

9. ہائی کورٹ کی توثیق (LHC)
ہائی کورٹ نے

Settled Principles
کو دہرایا

سول جج کے فیصلے کو
misreading & non-reading of evidence
قرار دیا

اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کو قانون کے مطابق مانا

10. نتیجاً مختصراً
قانونی طور پر ثابت ہوا کہ
محض میوٹیشن زبانی تحفہ ثابت نہیں کرتی
بغیر وجہ وارث کو محروم نہیں کیا جا سکتا
تحفہ لینے والا ثبوت دینے میں ناکام رہا
اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ درست
ریویژن خارج ہونا قانونی تقاضا تھا.

جانشی سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کیلے ڈیکلاین سرٹیفیکیٹ کی ضرورت لازمی نہں برارہ راست سولُ کورٹ کا اختیار بحال کردیا گیا ہے
19/11/2025

جانشی سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کیلے ڈیکلاین سرٹیفیکیٹ کی ضرورت لازمی نہں برارہ راست سولُ کورٹ کا اختیار بحال کردیا گیا ہے

Alhamdulillah First successful appearance at Supreme Court in family case and CJP dismissed the CPLA while passing an or...
11/07/2025

Alhamdulillah
First successful appearance at Supreme Court in family case and CJP dismissed the CPLA while passing an order to handover the dowry articles to respondent / our client.

بچوں کا ب فارم بنوانا ہے؟اب لائن میں نہیں، بلکہ آن لائنپاک آئی ڈی موبائل ایپ سے ابھی درخواست جمع کرائیں اور ب فارم بننے ...
21/05/2025

بچوں کا ب فارم بنوانا ہے؟
اب لائن میں نہیں، بلکہ آن لائن

پاک آئی ڈی موبائل ایپ سے ابھی درخواست جمع کرائیں اور ب فارم بننے پر موبائل ایپ سے ہی ڈاؤن لوڈ کریں، اور ID Vault میں بھی محفوظ کر لیں

پاک آئی ڈی موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور بھرپور سہولت سے فائدہ اٹھائیں
For Andriod: https://play.google.com/store/apps/details?id=pk.gov.nadra.pakid&hl=en&gl=US
For IOS: https://apps.apple.com/us/app/pak-identity/id1563975817

Address

Office No. 64, Khawaja Sharif Block, District Courts
Rawalpindi

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 14:00
Saturday 08:00 - 16:00

Telephone

+923435615001

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kamran Mughal Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Kamran Mughal Law Associates:

Share