Licit Law Firm

Licit Law Firm Licit Law Firm provides services for Foreign Investment, Company & Trademark Registration, Documentation, Banking, Taxation, Civil, Family & Criminal Law.

A must read Android App of world famous novel Alchemist by Paulo Coelho in Urdu.
07/07/2018

A must read Android App of world famous novel Alchemist by Paulo Coelho in Urdu.


21/04/2018

22/03/2018

حضور صلی الله علیہ وسلم کی شان میں توہین آمیز مواد اپ/ڈاٶن لوڈ,کسی دوسرے فرد کو ارسال کرنا,زبانی,تحریری یا بظاہر اشارے کناۓ سے قرآن پاک کی توہین پاکستان پینل کوڈ ١٨٦٠ اور الیکٹرانک کراٸمز ایکٹ ٢٠١٦ کے تحت قابل سزا ہیں- ایسے کسی بھی مواد کے بارے میں آپ پی ٹی اے کو رپورٹ کریں۔
[email protected]

03/02/2018

انکم ٹیکس ریٹرنس بنوانے کے لیے فری مشورہ حاصل کریں

ContractsCompanies lawSecurities LawIntellectual PropertyCompetition lawSecured TransactionsInternational trade lawPensi...
03/02/2018

Contracts
Companies law
Securities Law
Intellectual Property
Competition law
Secured Transactions
International trade law
Pensions & Benefits
Trusts & Estates
Labor Law

Visit: www.licitlawfirm.com

29/01/2018

کم عمر بچیوں کے ساتھ زیادتی اور تشدد کا پس منظر کیا ہے ۔۔۔؟ اس کے لئے آپ کو ڈارک ویب کے بارے میں جاننا لازم ہے ۔۔۔

آپ جو انٹرنیٹ دن رات چلاتے ہیں، اس کے متعلق کتنی معلومات ہیں آپ کو؟۔۔۔۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ جتنا انٹرنیٹ آپ روز استمعال کرتے ہیں وہ کل انٹرنیٹ کا صرف چار فیصد ھے---؟ جی ہاں! اور اسے Surface web یا lightweb کہتے ہیں---!
اس کے بعد نمبر آتا ھے deeb web کا، جو کل انٹرنیٹ کا باقی 96% ھے----!

اور یہ آپکے استعمال میں موجود Surface web سے 5000 ہزار گنا بڑا اور وسیع ھے، اس میں Surface web استعمال کرنے والے ہر شخض، ہر ادارے اور ہر حکومت کی ہر قسم کی معلومات جمع ہیں---! لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی!
کیونکہ Deep web کا ایک حصہ ھے جو تمام انٹرنیٹ کا تھل ھے، وہ Dark web یا Black net کہلاتا ہے---! کوئی نہیں جانتا کہ یہ کتنا حجم رکھتا ھے مگر، یہاں دنیا کا ہر غیر قانونی و غیر انسانی کام ہوتا ھے----! منشیات، اسلحہ اور عورت کی خرید و فروخت سے لے کر ایک انسان کو ذبح کر کے گوشت کھانے تک Deep web عام براؤذر کے ذریعہ باآسابی کھل سکتی ہے۔ مگر اسے کوئی سرچ نہیں کر سکتا۔ اسکے کھلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جس نے ڈیپ ویب کی وہ سائٹ بنائی ہے اسکا لنک جو چند الٹے سیدھے کوڈ نما الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے اسے کسی بھی برائوذر میں میں ڈال دیا کر انٹر کردیا جائے تو سائٹ کھل جاتی ہے۔ جب کہ dark web کسی بھی عام برائوذر سے کبھی بھی نہیں کھلتی ماسوائے ٹور پراجیکٹ نامی برائوذر کے جسکی سائٹس کی ایکسٹینشنز onion ہوتی ہیں جو صرف ٹور برائوزر پر ہی کھلتی ہے. اسکا بھی سائٹ لنک عجیب الٹے سیدھے کوڈ نما نمبرز پر مشتمل ہوتا ہے اور اسکا سائٹ کوڈ معلوم ہو تب ہی کھلتی ہے. مگر tor کے کچھ اپنے سرچ انجن ہیں جن پر مطلوبہ سائٹ یا مطلوبہ ویڈیوز یا مطلوبہ مواد کو گوگل کی طرح سرچ کرکے باآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے ۔

اسی میں مزید ایک قدم آگے red rooms ہے۔ جہاں بند کمروں میں دنیا کا بدترین تشدد دکھایا جاتا ہے۔جیسے زندہ انسانوں کی کھال اتارنا ۔آنکھیں نکالنا۔ناک کان آلئہ تناسل وغیرہ کاٹنا اسمیں سلاخیں گھسانا وغیرہ وغیرہ۔
اس سب کے بعد اس سب کا باپ Marianas web ہے ۔ جسے نہ کوئی جان سکا نہ جانتا ہے اور نہ اس تک پہنچنا آسان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں دنیا کی چند بڑی طاقتوں کے قیمتی راز دفن ہیں جیسے اسرائیل امریکہ وغیرہ نیز اسکے ٹاپ آپریٹرز iluminaties ہیں جہاں دنیا بھر کے الومناٹیز کا ڈیٹا بیس موجود ہے۔

ڈارک ورلٖڈ میں ایک خاص قسم کی ویب سائٹس کو ریڈ رومز کہا جاتا ہے۔وہاں تک رسائی تقریبا ناممکن ہے۔۔ڈارک ویب ورلڈ میں یہ سب سے خفیہ رومز ہیں۔۔۔وہاں تک رسائی بنا پیسوں کے نہیں ہوتی۔۔ان سائٹس پر جانور یہ انسانوں پر لائیو تشدد کیا جاتا ہے اور بولیاں لگائی جاتی ہیں۔۔آپ بٹ کوئن کی شکل میں پیسے ادا کر کے فرمائش کر سکتے ہو کہ اس جانور یا انسان کا فلاں اعضا نکال دو۔۔حقیقی زندگی میں اگر آپ اعتراف کرتے ہیں کہ آپ ریڈ رومز تک گئے ہو۔۔۔آپ کو صرف وہاں جانے کے اعتراف پر بھی جیل جانا پڑے گا۔۔

ایسی ایک ویب سائٹ بھی موجود ہے جہاں پر یورپ بھر میں کسی کے بھی قتل کی سپاری دے سکتے ہیں۔۔عام شخص کا قتل بیس ہزار یورو۔۔صحافی کا قتل ستر ہزار یورو اور سلیبرٹی کے قتل کا ریٹ ایک لاکھ یورو سے شروع ہوتا ہے۔
ایک ویب سائٹ کا کلیم ہے کہ وہ مردہ بچوں کی روحیں فروخت کرتے ہیں۔

۔پنک متھ ایک ویب سائٹ ہوتی تھی جو کہ دو ہزار چودہ میں ٹریس کر کے بین کر دی گئی۔۔وہاں لوگ اپنی سابقہ گرل فرینڈز، بیوی سے انتقام کی خاطر ان کی عریاں تصاویر بیچتے تھے اور ویب سائٹس ان لڑکیوں کے نام ، ہوم ایڈریس اور فون نمبر کے ساتھ یہ تصاویر شیئر کرتی تھی۔۔۔اس ویب سائٹ کی وجہ سے چار سے زیادہ لڑکیاں خود کشی کر چکی تھیں۔ لیکن یہ ویب سائٹ باز نہیں آئی۔۔ایف بی آئی نے دو ہزار چودہ میں اس کے خلاف تحقیات شروع کیں اور اس کا سرور ٹریس کر کے بند کر دیا۔۔مالکان آج تک فرار ہیں۔۔۔(ویب سائٹ چونکہ اب آپریٹ نہیں کرتی ا سلیے نام بتا دیا)۔
۔
۔ ڈارک ورلڈ یا ڈیپ ورلڈ میں کچھ ایسی گیمز بھی پائی جاتی ہیں جو عام دنیا میں شاید بین کر دی جائیں۔ایسی ہی ایک خوفناک گیم کا نام " سیڈ ستان(شیطان ) " ہے۔۔اس گیم کے گرافکس اس قدر خوفناک ہیں کہ عام دنیا میں کوئی بھی گیم اسٹور اس گیم کی اجازت نہیں دے گا۔۔

۔
۔انسانی اسمگلنگ کا سب سے بڑا گڑھ ڈارک ویب ورلڈ کو کہا جاتا ہے۔۔یہاں خواتین کو بیچنے کا کام بھی کیا جاتا ہے۔۔جوزف کاکس جو کہ ایک ریسرچر ہیں وہ دو ہزار پندرہ میں ڈیپ ویب ورلڈ پر ریسرچ کر رہے تھے۔۔ایسے میں اسی ورلڈ میں انھیں گروپ ٹکرایا جس کا نام "بلیک ڈیتھ " تھا اور انھوں نے جوزف کو ایک عورت بیچنے کی آفر کی جس کا نام نکول بتایا اور وہ گروپ اس عورت کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ڈالرز مانگ رہا تھا۔۔
۔
۔کینی بال یعنی آدم خوروں کا ایک فورم ہے جہاں کے اراکین ایک دوسرے کو اپنے جسم کے کسی حصے کا گوشت فروخت کرتے ہیں۔۔جیسا پچھلے دنوں وہاں ایک پوسٹ لگی جس کے الفاظ یہ تھے

" کیا کوئی میری ران کا آدھا پاونڈ گوشت کھانا چاہے گا؟ صرف پانچ ہزار ڈالرز میں۔۔۔اسے خود کاٹنے کی اجازت ہو گی۔۔"
۔
۔جہاز تباہ ہونے کے بعد بلیک باکس (جہاز کا ایک آلہ) تلاش کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ ایسے میٹریل سے بنا ہوتا ہے جو تباہ نہیں ہوتا۔۔۔اس بلیک باکس میں پائلٹ اور کو پائلٹ کی آخری ریکاڈنگز ہوتی ہے۔۔اس سے پتا چل جاتا ہے کہ تباہ ہونے سے پہلے کیا ہو اتھا ۔۔ایک ویب سائٹ پر تباہ شدہ جہازوں کی آخری ریکاڈنگز موجود ہیں۔۔وہاں نائن الیون کے جہاز کی آڈیو فائل بھی موجود ہے۔۔
۔

۔ایک ویب سائٹ جوتے، پرس، بیلٹ وغیرہ بیچتی ہے اور ان کا یہ دعوی ہے کہ یہ انسانی کھالوں سے بنے ہیں۔۔
لکھنے کو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔۔۔آپ اس بارے بزنس انسائیڈر، ریڈٹ، یا مختلف فورمز پر آرٹیکلز بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن ڈارک ویب ورلڈ ایسی گھناونی دنیا ہے جس کے بارے بس اتنا سا ہی جاننا ضروری ہے۔۔

دنیا میں تین قسم کے ویب ہیں۔
۱۔ سرفیس ویب
۲۔ڈیپ ویپ
۳۔مریانہ ویب یا ڈارک ویب
سرفیس ویب وہ ویب ہے جو ہم میں سے ہر کوئی استعمال کرتا ہے جس میں روز مرہ کے کام یعنی گوگل فیس بک ویکیپیڈیا یوٹیوب وغیرہ تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ یہ وہ ویب سائٹس ہوتیں جو انڈیکسڈ ہوئیں ہوتیں ہیں۔جن کے لنکس کو گوگل کے اندر ایڈ کیا جاتا ہے۔جنھیں ہم سرچ کرتے ہیں تو اُن کے تک رسائی ممکن ہے۔
۲۔ڈیپ ویب
یہ وہ ویب سائٹس ہوتیں ہیں جو انڈیکسڈ نہیں ہوئی ہوتیں۔
یہ بنک ریکارڈز، میڈیکل ریکارڈز، سائنٹیفک رپورٹز، اکیڈیمک انفارمیشن، یعنی تمام ایسی سائٹز ہیں۔ جن تک رسائی تب ہی حاصل کی جا سکتی ہے جب اُن کا ایڈریس ہمارے پاس ہو۔یعنی اُن کے ایمپلائی یا کسٹمر یا سٹوڈنٹس ہی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ جن کے پاس پاسورڈ اور یوزر آئی ۔ڈی ہو
مریانہ ویب یا ڈارک ویب
اسے مریانہ ٹرنچ کی نسبت سے مریانہ ویب کا نام دیا گیا ہے جو سمندر کا سب سے گہرا حصہ ہوتا جہاں پہنچنا مُشکل ہی نہیں نا ممکن ہوتا۔ ان ویب سائٹس تک پہنچنے کے لیے مخصوص براوزر یوزر آئی ۔ڈی اور پاسورڈ کی ضرورت ہوتی۔
یہ وہ وہ جگہ ہے جہاں ایک عجیب ہی دنیا شیطانیت میں ڈوبی ہوتی ہے۔یہ وہ ویب ہے جہاں تک پہنچا نہیں جا سکتا اور پہنچنا چاہیں تو غیر قانونی ہونے کے ساتھ انتہائی خطرناک بھی ہے۔یہاں جو لوگ کام کرتے ہیں اُن کے سرورز بھی پرائیویٹ ہوتے ہیں۔یہاں پر کسی بھی ریگولر براوزر سے رسائی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ایک مخصوص براوزر ہے ٹی۔او۔آر۔یعنیTOR
اسی کے ذریعے ہم یہاں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس ویب تک رسائی حاصل کرنے سے ہماری انفارمیشن اِن تک جا سکتی ہے جس کو یہ اپنے کسی بھی گندے مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اور ہمیں پھنسا سکتے ہیں۔ یہاں پیسوں کی ادائیگی کے لیے بِٹ کوئین کرنسی متعارف کروائی گئی ہے جو ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔
یہ ویب خفیہ ادارے، مافیا، ہٹ مین ،سیکرٹ سوسائٹیز استعمال کرتیں۔یہاں پر کاروبار ہوتا ڈرگز کا،ویپنز کا،کنٹریکٹ کلنگز کا،چائیلڈز پورنو گرافی کا، پرائیویٹ لائیو فائٹس کا، ملکوں کے راز چُرانے اور بیچنے کا، انسانی اعضاء بیچنے اور خریدنے کا، لوگوں کے بنک اکاونٹس ہیک کرنے کا۔ یعنی ہر دو نمبر کام یہاں پر ہوتا ہے۔ان کو پکڑنا بہت ہی مُشکل ہے ایک طرح سے ناممکن ہے۔
ہمارا اصل مُدعا یہ نہیں اصل مُدعا ہے پاکستان میں ہونے والے لگاتار بچوں کے اغوا اُن کے ساتھ جنسی تشدد اور اُن کو مار دینا۔ بچوں کا قتل پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن پاکستان میں سچ کو ہمیشہ مسخ کیا جاتا رہا۔اور پاکستان میں ہی کیوں دنیا کے بیشتر ممالک میں یہی سب ہو رہا ہے۔آج سے بائیس برس پہلے کا ایک کیس کچھ دوستوں کو یاد ہوگا جاوید اقبال مغل سو بچوں کو قتل کرنے والا درندہ جو بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرتا تھا اُن کو قتل کرتا تھا اور اُن کی لاشوں کو تیزاب میں جلا دیتا تھا۔ جاوید اقبال مغل جسے جسٹس اللہ بخش رانجھا نے سو دفعہ پھانسی پر چڑھانے کا حُکم دیا تھا۔اُسے ایک نفسیاتی مریض کہا گیا تھا۔روزنامہ ڈان کی دو ہزار ایک میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطاق جاوید اقبال مغل نے ایک ویڈیو گیم سینٹر بنایا ہوا تھا جہاں وہ بچوں کو ٹریپ کرتا تھا اُن کے ساتھ جنسی تشدد کرتا تھا اُنھیں پیسے دیتا تھا اور ڈرا دھمکا کر چپ کروا دیتا تھا۔قتل کرنے کے لیے وہ گھر سے بھاگے بچوں اور فُٹ پاتھ پر رہنے والے غریب بچوں کا انتخاب کرتا تھا۔تین دسمبر اُنیس سو ننانوے کو ایک اردو اخبار کے دفتر پہنچ کر اُس نے اعتراف کیا تھا۔ کہ میں جاوید اقبال ہوں سو بچوں کا قاتل میں نے سو بچوں کا قتل کیا ہے اور مجھے نفرت ہے اس دنیا سے مجھے بچوں کو قتل کرنے پر کوئی ندامت نہیں ہے۔ جاوید اقبال مغل اور اُس کی اعانت کرنے والوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور بعد میں جاوید اقبال اور اُسکے ساتھی نے جیل میں زہر کھا کر خود کشی کر لی تھی۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کسی خفیہ ہاتھ نے اُن کو ختم کروا دیا تھا اور یہ کیس تھا ہیومین آرگنز کی اسمگلنگ کا۔یعنی بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کی ویڈیوز اور بعد میں اُن کو قتل کرکے اُن کے جسمانی اعضاء بیچے گئے تھے اور جاوید اقبال مغل کو خاموش کروا دیا گیا۔خفیہ ہاتھوں کے لیے کئی جاوید اقبال کام کرتے ہیں۔
دو ہزار پندرہ کا ایک بڑا اسکینڈل جس میں دو ہزار چھ سے لیکر دو ہزار پندرہ تک تین سو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے اُن کی ویڈیوز بنائی گئیں اور اُس سارے معاملے میں پولیس اور ایم۔پی۔اے ملک احمد سعید کو ملوث بتایا گیا۔ہم جس طرح سے ہر کیس کو جہالت اور نفسیاتی پیچیدگیوں کو وجہ بنا کر چُپ ہو جاتے ہیں ایسا نہیں ہے۔یہ ایک ملٹی ٹریلین انڈسٹری ہے۔ابھی حال ہی میں قصور میں زینب بھی اسی جنسی تشدد کا شکار ہوئی اور بعد میں اُس کی لاش کچرے میں پائی گئی۔اور پورے پاکستان میں ہی یہ ہو رہا مذہبی کمیونٹی لبرلز کو اسکی وجہ مانتے ہیں اور لبرلز اس کو مولویوں پر تھوپ رہے بھائی لوگ یہ اتنا سادہ کام نہیں ہے یہ کسی محرومی کی وجہ سے یا نفسیاتی پیچیدگیوں کی وجہ سے نہیں ہو رہا یہ کاروبار ہے۔بہت بڑا کاروبار ہے مثال کے طور دنیا کے کچھ امیر لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر ڈارک ویب پر جاتے جہاں وہ کسی مخصوص ویب سائیٹ کے ممبر ہوتے وہاں باقاعدہ لائیو دیکھایا جاتا یہ سب وہ باقاعدہ اپنی ڈیمانڈ پر بچے کے ساتھ یا عورت کے ساتھ جنسی تشدد کرواتے اور بولی لگاتے کہ اس کے ساتھ یہ کرو تو اتنے پیسے لے لو اور وہ کرو تو اتنے پیسے۔پرائیویٹ فائٹس میں کسی ایک فائٹر کے مرنے تک یہ لوگ بولیاں لگاتے رہتے ہم لوگ ایک ایسی شیطانی دنیا میں رہ رہے ہیں جس کی شیطانیت پوری طرح سے انسانیت پر غالب آچُکی ہے جس کی وجہ ہے اچھے لوگوں کی خاموشی۔نکلو جاگو اُٹھو ورنہ دنیا سے اُٹھ جاو گے۔یہاں کچھ بُرے لوگ اپنے تھوڑے سے فائدے کے لیے انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ہمارے ملک کی کیا حالت ہے۔ کرپشن ،بے ایمانی، رشوت خوری ہمارا شیوہ بن چکا ہے۔ ہم چُپ ہیں یوں جیسے مر چُکے ہیں۔میری مُلک کے اہم اداروں سے درخواست ہے کہ قصور میں بھارتی دخل اندازی کو بھی چیک کیا جائے۔مجھے پورا یقین ہے ان آرگنائزڈ کرائم کے پیچھے سرحد پار سے بھی کچھ سرکاری اور غیر سرکاری لوگ ضرور شامل ہوں گے۔ ہمیں اُٹھنا پڑیگا ورنہ ایک عام انسان کی پہلے سے جہنم زندگی اور بھی جہنم بن جائے گی.(کاپی)

29/01/2018

List of 21 passed candidates of Punjab Civil Judges in Written Examination

170373 Ali Raza
170878 Ehsaan Nawaz
171818 Mansoor Ahmad
172047 Muhammad Abbas
172297 Muhammad Bilal
172307 Muhammad Bilal Khan
173048 Muhammad Zubair Sabir
173105 Myra Hassan
173185 Naseem Akhtar Naz
173332 Obaid Hassan
173361 Qamar Abbas
173940 Sana Afzal
174063 Shaheen Noor
174357 Sumaira Jabar
174867 Yousaf Saleem
175085 Allah Nawaz
175358 Muhammad Aamir Sultan Kulachi
175410 Muhammad Javed Iqbal
175579 Saba Qamar
175629 Sardar Omer Hassan Khan
176234 Muhammad Tariq Rasheed Qamar

29/01/2018
08/12/2017

Uploading, downloading and sharing of derogatory remarks in respect of Holy Prophet (PBUH) and defiling etc of Holy Quran orally or in writing or by visible representation is punishable offence under Pakistan Penal Code 1860 and Prevention of Electronic Crimes Act 2016. Please report such content to PTA on [email protected]

14/04/2017
20/02/2017

سینیٹر محمد کاظم خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن قضائے الٰہی سے رحلت فرما گئے ہیں۔ انکی نماز جنازہ آج مورخہ 20-02-2017بروز سوموار بوقت 4:00بجے شام انکی رہائش گاہ 852-B، فیصل ٹاﺅن ،نزد فاسٹ کمپیوٹر یونیورسٹی گراﺅنڈ، لاہور میں ادا کی جائے گی۔
تمام احباب شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔
0300-4102175 - 0322-4569779 - 0333-4181441
سوگواران

Address

Chamber No. 00, Opposite Darbar Ghunghru Wali Sarkar, Near Main Gate, District Courts
Rawalpindi Cantonment
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Licit Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Licit Law Firm:

Share