Corpotax & Legal Consultants

Corpotax & Legal Consultants Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Corpotax & Legal Consultants, Legal Service, Rawalpindi Cantonment.

Offering tax, accounting , legal and corporate consultancy through a team of qualified professionals who are dedicated towards providing high quality services all over Pakistan.

21/04/2026

اگر کسی ملزم پر پولیس کی جانب سے جھوٹی ریکوری (پلانٹڈ ریکوری) ڈال دی گئی ہو، تو اسے فوری طور پر قانونی محاذ پر چیلنج کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات انتہائی اہم ہیں:
1. جائے وقوعہ کی فوٹیج اور تصاویر (CCTV Evidence)
آج کل تقریباً ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہوتے ہیں۔ اگر ریکوری کے وقت یا ملزم کی گرفتاری کے وقت کی فوٹیج مل جائے جس میں پولیس کا بیان کردہ وقت یا مقام غلط ثابت ہو رہا ہو، تو یہ سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اسے محفوظ کریں اور عدالت میں پیش کرنے کے لیے فوری درخواست دیں۔
2. سی ڈی آر (CDR - Call Detail Record)
پولیس اکثر دکھاتی ہے کہ ریکوری فلاں جگہ سے ہوئی، جبکہ اس وقت تفتیشی افسر یا ملزم کی لوکیشن کہیں اور ہوتی ہے۔ ملزم اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے موبائل نمبرز کا CDR اور Geo-Fencing نکلوانے کے لیے عدالت میں درخواست دیں تاکہ ان کی اصل لوکیشن سامنے آ سکے۔
3. ریکوری میمو (Recovery Memo) کی خامیاں
قانون کے مطابق ریکوری کے وقت دو معزز گواہان کا ہونا ضروری ہے (دفعہ 103 ضابطہ فوجداری)۔ اگر:
• گواہان پولیس ملازم ہی ہیں۔
• گواہان اس علاقے کے رہائشی نہیں ہیں۔
• ریکوری میمو پر دستخط یا انگوٹھے کے نشانات میں تضاد ہے۔
تو ان بنیادوں پر جرح (Cross-examination) کے دوران ریکوری کو مشکوک بنایا جا سکتا ہے۔
4. فوری قانونی کارروائی (حالیہ رجحان)
• درخواست برائے حبسِ بے جا: اگر ملزم کو پہلے اٹھایا گیا اور ریکوری بعد میں ڈالی گئی، تو گرفتاری سے پہلے ہی سیشن جج کے پاس Habeas Corpus (دفعہ 491) کی درخواست دینا بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔
• اعلیٰ حکام کو اطلاع: ریکوری ڈالنے کے فوراً بعد بذریعہ ڈاک یا آن لائن پورٹل ڈی پی او (DPO) یا آئی جی پنجاب کو تحریری شکایت بھیجیں تاکہ ریکارڈ پر رہے کہ آپ نے شروع دن سے ہی اسے جھوٹا قرار دیا تھا۔
5. میڈیکل رپورٹ
اگر ریکوری کے دوران ملزم پر تشدد کیا گیا تاکہ وہ زبردستی اعتراف کرے، تو فوری طور پر میڈیکل چیک اپ کی استدعا کریں تاکہ تشدد ثابت ہو سکے، جو ریکوری کی قانونی حیثیت کو ختم کر دیتا ہے۔
6. جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان
جب ملزم کو پہلی بار ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے، تو وہاں خاموش رہنے کے بجائے جج کو صاف بتائیں کہ یہ ریکوری جھوٹی ہے اور پولیس نے اسے "پلانٹ" کیا ہے۔ یہ بیان ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے جو بعد میں ضمانت میں کام آتا ہے۔

یکن اگر ریکوری "پلانٹڈ" (جھوٹی) ہے، تو اس کے خلاف قانونی دفاع اور کارروائی کے چند اہم پہلو یہ ہیں:
1. ریکوری کا مقام اور "مال خانہ"
قانون کے مطابق، برآمد کی گئی ہر چیز فوری طور پر متعلقہ تھانے کے مال خانہ میں درج ہونی چاہیے اور اس کا اندراج رجسٹر نمبر 19 میں کیا جاتا ہے۔
• اگر ریکوری پلانٹڈ ہے: تو اکثر وہ چیز پہلے سے ہی پولیس کے پاس غیر قانونی طور پر پڑی ہوتی ہے یا کسی اور مقدمے کا بچا ہوا مال ہوتا ہے۔
• تکنیکی نکتہ: اگر پولیس دعویٰ کرتی ہے کہ ریکوری ملزم کے گھر سے ہوئی لیکن ملزم اس وقت تھانے میں بند تھا اور پولیس اسے باہر لے کر ہی نہیں گئی، تو یہ سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ پولیس کو ہر نقل و حرکت کا اندراج روزنامچے میں کرنا ہوتا ہے۔
2. ریمانڈ اور ریکوری کا تضاد
اگر پولیس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ (Physical Remand) اس بنیاد پر لیا کہ "ہمیں اس سے ریکوری کروانی ہے" لیکن وہ ملزم کو تھانے سے باہر کسی مقام پر لے کر ہی نہیں گئے (جس کی گواہی سی سی ٹی وی کیمرے یا تھانے کا گیٹ رجسٹر دے سکتا ہے)، تو یہ ایک سنگین قانونی سقم ہے۔
3. قانونی کارروائی اور دفاع (Legal Remedies)
اگر ریکوری کے وقت ملزم کو جائے وقوعہ پر لے ہی نہیں جایا گیا، تو آپ درج ذیل قانونی راستے اختیار کر سکتے ہیں:
• سیکشن 156(3) ضابطہ فوجداری (CrPC): آپ پولیس افسر کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر کارروائی کے لیے سیشن جج یا مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتے ہیں۔
• پنجاب پولیس آرڈر 2002 (آرٹیکل 155): اس قانون کے تحت اگر کوئی پولیس افسر بدنیتی پر مبنی تفتیش کرے یا جھوٹی ریکوری ڈالے، تو اسے 5 سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
• جرح (Cross-Examination): ٹرائل کے دوران وکیل صفائی پولیس گواہان سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ ملزم کو تھانے سے باہر لے جانے کے لیے کون سی گاڑی استعمال ہوئی، اس کا لاگ بک نمبر کیا تھا، اور تھانے سے روانگی کی "رپٹ" (Entry) کہاں ہے۔ اگر ان سوالات کے جواب نہ ملے تو ریکوری جھوٹی ثابت ہو جاتی ہے۔
4. فوری ایکشن: ریکارڈ کی حفاظت
اگر آپ کو شک ہے کہ ریکوری پلانٹڈ ہے، تو فوراً "Preservation of CCTV Footage" کی درخواست عدالت میں دیں تاکہ تھانے کے گیٹ اور کیمروں کی ریکارڈنگ ضائع نہ ہو۔ اگر ریکارڈنگ میں ملزم تھانے کے اندر ہی پایا گیا اور پولیس ریکوری کا دعویٰ باہر کا کر رہی ہے، تو پورا کیس ختم ہو سکتا ہے۔
5. اعلیٰ عدالتوں کا موقف
سپریم کورٹ آف پاکستان کے کئی فیصلوں (مثلاً 2019 SCMR 1029) میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر ریکوری کا طریقہ کار مشکوک ہو یا گواہان پولیس کے اپنے بندے ہوں، تو ایسی ریکوری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہتی۔
کیا آپ کے پاس اس وقت تھانے یا اس مقام کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ موجود ہے جہاں سے ریکوری دکھائی گئی ہے؟


1. مال کی شناخت (Identification)
عدالت میں یہ چیک کرنا ضروری ہے کہ کیا یہ وہی مال ہے جس کا ذکر ایف آئی آر (FIR) یا ریکوری میمو میں ہے؟ اگر ریکوری میمو میں لکھے گئے حلیے، نمبر یا رنگ اور عدالت میں موجود مال میں فرق ہو، تو یہ ریکوری کو "مشکوک" بنا دیتا ہے اور ملزم کو شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) ملتا ہے۔
2. مہر یا سیل (Seal) کی جانچ
برآمدگی کے بعد پولیس مال کو ایک پارسل میں بند کر کے اس پر مہر لگاتی ہے۔ عدالت میں یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ:
• کیا پارسل کی مہریں برقرار ہیں یا ٹوٹی ہوئی ہیں؟
• کیا مہر پر وہی نشان ہے جو برآمدگی کے وقت ریکوری میمو پر درج کیا گیا تھا؟
اگر مہر ٹوٹی ہوئی ہو یا مشکوک ہو، تو دفاعی وکیل یہ اعتراض اٹھا سکتا ہے کہ مال میں تبدیلی (Tampering) کی گئی ہے۔
3. نمونہ جات (Samples) کا تضاد
اگر ریکوری منشیات یا کسی ایسی چیز کی ہے جس کا لیبارٹری ٹیسٹ ہونا تھا، تو عدالت میں اصل مال کی مقدار کو دوبارہ چیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر وزن یا مقدار میں واضح کمی بیشی ہو، تو تفتیش پر سوال اٹھتے ہیں۔
4. گواہان کی موجودگی میں معائنہ
جب ریکوری کے گواہان (Recovery Witnesses) عدالت میں بیان دینے آئیں، تو ان کے سامنے مال دکھا کر پوچھا جاتا ہے کہ "کیا یہ وہی چیز ہے جو آپ کی موجودگی میں برآمد ہوئی تھی؟" اگر گواہ اسے پہچاننے سے انکار کر دے یا غلط پہچانے، تو استغاثہ کا کیس کمزور ہو جاتا ہے۔
اگر ریکوری "پلانٹڈ" ہے تو کیا ہوگا؟
اگر ریکوری جھوٹی ہے، تو اکثر پولیس عدالت میں مال پیش کرتے وقت ہچکچاہٹ کا شکار ہوتی ہے یا متبادل چیز پیش کر دیتی ہے۔ بطور وکیل یا ملزم، آپ کا حق ہے کہ آپ اپنے وکیل کے ذریعے درج ذیل کام کریں:
• درخواست برائے معائنہ: جج صاحب سے استدعا کریں کہ مال خانہ سے منگوایا گیا مال کمرہ عدالت میں کھول کر دکھایا جائے۔
• نمائشی گواہ: اگر گواہ یہ نہ بتا سکے کہ مال کس جگہ سے نکلا تھا یا اس پر کیا مہر لگی تھی، تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ریکوری صرف کاغذوں کی حد تک تھی۔
خلاصہ: عدالت میں مالِ مسروقہ کا معائنہ کرنا ملزم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب پولیس کی بدنیتی یا تفتیش کی خامیاں سب کے سامنے آتی ہیں۔
Corpotax&Legal Consultants
03025345315

استغفر اللہ رب العالمین ۔اللہ پاک جی غلطیاں ہو جاتیں۔گناہ بہت ہوتے۔مجھے معاف فرما ۔میرے ابو کی مغفرت فرما۔ اور عزیز و اق...
03/02/2026

استغفر اللہ رب العالمین ۔

اللہ پاک جی غلطیاں ہو جاتیں۔گناہ بہت ہوتے۔مجھے معاف فرما ۔میرے ابو کی مغفرت فرما۔ اور عزیز و اقارب جو وفات پا چکے سب کی مغفرت فرما۔

رب العزت اپ سے رزق وسیع ،تندرستی،عافیت اور سلامتی کے لئے دعاگو ہیں ۔

رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِٜ

یا اللہ پاک نظر بد سے بچا،سازشیوں کے شر اور شرارت سے بچا۔ہر میدان میں کامیابی و کامرانی عطا فرما۔بے گھروں کو گھر بالخیر دے۔بے اولادوں کو اولاد صالحہ نرینہ دے،جو اچھے بر کے منتظر ہیں اچھے بر عطا فرما۔

رَبَّنَا هَبۡ لَـنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا‏
رَبَّنَا هَبۡ لَـنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا‏
رَبَّنَا هَبۡ لَـنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا‏

آمین ثمہ آمین یارب العالمین برحمتک یا ارحم الراحمین ۔

28/01/2026

مہنگا وکیل/وکیل کی زیادہ فیس...

پکاسو سپین میں پیدا ہونے والا ایک بہت مشہور مصور تھا۔ اس کی پینٹنگز پوری دنیا میں کروڑوں اور اربوں روپے میں بکتی تھیں، ایک دن جب وہ سڑک پر چل رہا تھا تو ایک عورت کی نظر پکاسو پر پڑی اور اتفاق سے اس نے اسے پہچان لیا۔ وہ بھاگ کر اس کے پاس آئی اور کہنے لگی "جناب، میں آپ کی بہت بڑی مداح ہوں۔ مجھے آپ کی پینٹنگز بہت پسند ہیں۔ کیا آپ میرے لیے بھی پینٹنگ بنا سکتے ہیں؟"

پکاسو مسکرایا اور بولا "میں یہاں خالی ہاتھ آیا ہوں۔ میرے پاس کوئی اوزار نہیں ہے۔ میں پھر کبھی تمہارے لیے پینٹنگ بناؤں گا" لیکن عورت اب ضد کر رہی تھی۔ اس نے کہا "مجھے ابھی ایک پینٹنگ بنا دو۔ میں آپ کو نہیں بتا سکتی کہ ہم دوبارہ کب ملیں گے۔"

پکاسو نے پھر اپنی جیب سے کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالا اور اپنے قلم سے کاغذ پر کچھ کھینچنے لگا۔ تقریباً دس منٹ میں پکاسو نے کاغذ پر ایک پینٹنگ بنائی، اسے عورت کے حوالے کیا اور کہا، "یہ پینٹنگ لے لو، تمہیں اس کے لیے ایک ملین ڈالر آسانی سے مل سکتے ہیں۔"

عورت بہت حیران ہوئی۔ اس نے اپنے آپ سے کہا، "اس پکاسو نے جلدی سے یہ قابل عمل پینٹنگ صرف 10 منٹ میں بنائی اور یہ مجھے بتاتا ہے کہ یہ ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ ہے۔" لیکن ایک لفظ کہے بغیر اس نے پینٹنگ اٹھائی اور خاموشی سے گھر آ گئی۔ اس کا خیال تھا کہ پکاسو اسے بے وقوف بنا رہا ہے۔ وہ بازار گئی اور پکاسو کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی قیمت دریافت کی۔ جب اسے پتہ چلا کہ وہ پینٹنگ فروخت کر کے ایک ملین ڈالر تک حاصل کر سکتی ہے، تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔

وہ دوبارہ پکاسو کے پاس بھاگی اور کہنے لگی "جناب، آپ ٹھیک کہتے ہیں، ان تصویروں کی قیمت تقریباً ایک ملین ڈالر ہے۔"

پکاسو مسکرایا اور بولا ’’میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔

عورت نے کہا "جناب، کیا آپ مجھے اپنا شاگرد بنائیں گے؟ مجھے پینٹ کرنا سکھائیں، میرا مطلب ہے کہ جس طرح آپ نے دس منٹ میں ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ بنائی ہے، میں 10 گھنٹے میں اچھی پینٹنگ بنا سکتی ہوں، اگر 10 منٹ میں نہیں۔ "اس طرح تم مجھے تیار کرو۔"

پکاسو مسکرایا اور بولا، "یہ پینٹنگ جو میں نے 10 منٹ میں بنائی ہے اسے سیکھنے میں مجھے تیس سال لگے، میں نے اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال اس کام میں گزارے ہیں۔
=========================
ایک وکیل کی سائل کا کیس دیکھنے کی فیس کے بارے میں اوپر کی کہانی بہت کچھ کہتی ہے۔ وکیل کے ایک ایک جملے کے پیچھے اس کی کئی سالوں کی محنت ہوتی ہے۔ معاشرہ یہ سمجھتا ہے کہ وکیل نے بس کیس ہی لڑنا ہے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج دنیا میں جتنے لوگ باوقار عہدوں پر فائز ہیں، ان میں سے اکثر اپنی انتھک محنت کی وجہ سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔

اگر آپ بھی وکیل کی زیادہ فیس کو برا سمجھتے ہیں تو آپ اپنے خاندان کے ایک فرد کو وکیل بنائیے آپ کو آپ کے سوالات کے جوابات خود ہی مل جائیں گے..

فوجداری مقدمات کا درج ریکارڈ 31جنوری 2026 سے پہلے پہلے مصدقہ نقل لے لو ورنہ اس کے بعد لاہور کا صرف ریکارڈ تلف کیا جائے گ...
25/01/2026

فوجداری مقدمات کا درج ریکارڈ 31جنوری 2026 سے پہلے پہلے مصدقہ نقل لے لو ورنہ اس کے بعد لاہور کا صرف ریکارڈ تلف کیا جائے گا یہ نوٹس صرف لاہور کی حد تک ہے

پٹواری فارغ گواہ ختم حکومت پنجاب کا بہت ہی بڑا فیصلہ۔ پٹواریوں سے بڑے بڑے اختیارات واپس لے لیے گئے۔ پٹواری سے بیع کی فرد...
06/01/2026

پٹواری فارغ گواہ ختم
حکومت پنجاب کا بہت ہی بڑا فیصلہ۔ پٹواریوں سے بڑے بڑے اختیارات واپس لے لیے گئے۔ پٹواری سے بیع کی فرد۔انتقال کا اختیار بورڈ آف ریونیو نے واپس لے لیا اب پٹواری کے پاس صرف ریکوری گرداوری اور عدالت میں ریکارڈ فراہم کرنا باقی رہ گیا ۔
نئے طریقہ کار کے تحت سائل اراضی ریکارڈ سنٹر یا ای سہولت مرکز سے فرد بیع وصول کرے گا بعد ازاں اشٹام فروش سے باقاعدہ رجسٹری تحریر کروائے گا اور تحصیلدار کے پاس سائل اپنی تمام تر دستاویزات پیش کرے گا اور تحصیلدار ایک دن کے اندر اس رجسٹری کو پاس کرے گا گواہان کی ضرورت نہ ہے

01/01/2026
29/12/2025

معاشرہ میں طلاق کا رحجان بہت زیادہ ہوا ہے۔
پنجاب میں اڈھائی لاکھ خلع ڈگری ہونا ایک سال میں اور ایک لاکھ ستر ہزار طلاق مردوں کی طرف سے دئیے جانا یہ الارمنگ ہی نہیں اس سے بہت زیادہ کی کوئی تشویش ناک چیز ہے۔

اس طرف توجہ لی جائے یہ ڈزاسٹر کیونکر ہو رہا۔

نفسیات اور معاشیات دونوں میں سروے اور نتیجہ کا طریقہ کار تھا۔اس حساب سے ہم وکیل نتیجہ اخز کرسکتے کہ اس رحجان میں وجوہات کیا ہیں۔

میں نے پچھلے پانچ سالوں کے کیسز اور طلاق کے اسٹام کو اور واقعات جو گوش گزار ہوئے ان سے درج زیل نتائج سامنے آ ئے۔

مردوں کے زہن میں فینٹیسز ہیں اور بیویاں فلمی ایکٹریسز نہیں ہیں۔اس لئے توقع حقیقت کے برعکس ہوتی ہے۔

مرد لالچی بے بہا ہوا ہے ان چند سالوں میں اس کی خواہش ہے کہ سسرال سے ، گھر آ ئے ،وراثت آ ئے اور بیوی کمائے۔جو ادھر سے آ ئے گا میرے حالات بدل دے گا۔

خواتین کے دو اشوز ہیں۔

سرائیکی معاشرہ میں وٹہ
اور پنجابی معاشرہ میں خواتین کی عدم نان و نفقہ کی شکائیت ۔

علماء نے بھی کام بہت اٹھایا ہوا۔ساری توجہ ایسی صورتحال بناتی کہ سسرال گنے کا ڈنڈا ہے جسکو بیلنے سے گزار کے سارا رس نکال لو ۔صرف پیچھے پھوک چھوڈنا۔یہ دین ہے۔

کسی دن خدا نخواستہ کسی میڈیا پر بااثر عالم کی بیٹی ان وجوہات پر اجڑی تو درس تبدیل ہو کر یہ ہوں گے کہ مرد محنت پر یقین رکھے۔

ایک جج صاحبہ ہیں بلوچ فیملی سے ۔وہ سامان جہیز بالعموم خارج کرتیں یا لاکھ ڈیڑھ تک بامشکل ڈگری کرتیں کیونکہ بلوچ ٹرائبز میں جہیز کا رحجان نہیں ہوتا عام طور پر ۔ایک جج صاحبہ ہیں وہ ڈگری بہت بڑی کرتیں کیونکہ انکی فیملی میں رواج بہت زیادہ ہیں۔

علماء ،ججز،سیاستدان انکے حالات اثر ڈالتے تقاریر اور فیصلوں پر۔

اپ صرف یہ دیکھیں کہ مریم نواز کی فیملی میں ایک ڈس ایبل بچے کے ہونے کی وجہ سے پورے پنجاب میں سکیمز دی گئ ہیں کیونکہ انہوں نے گھر میں درد خود محسوس کیا ہے۔


My message to you all is of hope, courage and confidence. Let us mobilize all our resources in a systematic and organize...
25/12/2025

My message to you all is of hope, courage and confidence. Let us mobilize all our resources in a systematic and organized way and tackle the grave issues that confront us with the grim determination and discipline worthy of a great nation.

پلیڈنگز میں غلطیوں پر سپریم کورٹ کا سخت نوٹس۔Whilst hearing this matter reference was made to the plaint , which , like ...
22/12/2025

پلیڈنگز میں غلطیوں پر سپریم کورٹ کا سخت نوٹس۔

Whilst hearing this matter reference was made to the plaint , which , like many others , does not appear to conform to the requirements of the Civil Procedure Code , 1908 ( ' the Code ) as it lacks a prayer clause at the end of the plaint ; the prayer is incorporated in the title together with submissions .

We have noted that pleadings also often are not comply with the provisions of Orders VII and VIII of the Code ; are not verified in accordance with Order VI , rule 15 of the Code , the mandated list of legal heirs not provided ; paragraphs with regard to territorial and pecuniary jurisdiction are often absent ; cause of action , and when it had occurred , not stated and valuation , applicable court fees and jurisdiction not mentioned .

Though pleadings may be in Urdu , however , when handwritten , often due care is not taken , and sometimes they are also difficult to read ; requirements as to spacing and numbering of paragraphs is also not followed .

Judges too overlook the abovementioned defects and ' shortcomings and do not have the same redressed , to conform to the requirements of the law .

By the time matters come up to this Court a decade or more has elapsed , and the consequences of the defects / shortcomings in the pleadings are suffered by the parties . And , when these are pointed out we are informed that petition writers , and not advocates , draft pleadings. Whether petition writers are authorized to draft pleadings under The Legal Practitioners and Bar Councils Act , 1973 and The Pakistan Legal Practitioners and Bar Councils Rules , 1976 also needs consideration .

In order to address the abovementioned perennial problems it would be appropriate to issue notices to the Pakistan Bar Council and all provincial Bar Councils so that they can assist us in redressing them . They may also submit written proposals in this regard . It is clarified that the Bar Councils are called upon to only assist with regard to the observations made in paragraphs 3 to 6 above .
CIVIL REVIEW PETITION No.410 OF 2023 IN CIVIL APPEAL No.310 OF 2021
Fazeelat Nasreen and another vs Maqsood Begum and others

22/12/2025

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی آنر شپ ارڈیننس پر عملدرآمد روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس کے تحت دیے گیے قبضوں کو واپس کردیا

پنجاب حکومت کا بس چلے تو آئین کو بھی معطل کردے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم

چیف سیکرٹری صاحب حکومت کو بتائیے کہ یہ قانون رہ گیا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں نکل جائے گا اور یہ فیصلہ ڈی سی کرے گا، چیف جسٹس عالیہ نیلم

آپ نے سول سیٹ اپ، سول رائٹس کو ختم کردیا آپ نے عدالتی سپرمیسی کو ختم کردیا ہے، چیف جسٹس عالیہ نیلم

Major Ruling by Lahore High Court on New Property Laws! ⚖️🚫​Breaking News: A significant judgment has been delivered by ...
21/12/2025

Major Ruling by Lahore High Court on New Property Laws! ⚖️🚫
​Breaking News: A significant judgment has been delivered by the High Court regarding the powers of the Dispute Resolution Committee (DRC), established under the Punjab Property Ordinance 2025. The court has ruled that this committee no longer holds the authority to forcibly evict anyone from their home or land.
​The Historic Decision by Justice Ahmad Nadeem Arshad (Multan Bench):
​(Note: The Honorable Justice Ahmad Nadeem Arshad hails from Bahawalnagar and is the distinguished son of the late Ch. Waheed Arshad Advocate, the renowned "King of Civil Litigation" in Bahawalnagar).
​Key Highlights of the Judgment:
​🛑 End of Eviction Powers: The DRC cannot order the vacation of a property or force the surrender of possession. This authority rests solely with the designated "Tribunal."
​🛑 Supremacy of Judicial Stay Orders: The DRC is not authorized to interfere in any property matter where a stay order from a Civil Court is already in effect.
​🛑 Oral Orders are Illegal: Threats or orders issued orally by administrative officers (DC/ADC) to vacate a property are declared illegal and a violation of "Due Process."
​🛑 Limited Jurisdiction: The scope of the DRC is restricted to verifying records and attempting reconciliation between parties. It is not a judicial or administrative body empowered to recover possession.
​Court Remarks:
​"The DRC is a facilitating body, not a judicial tribunal. The fundamental rights of a citizen cannot be trampled under the guise of law."
​Summary of the Impact
​This ruling ensures that administrative officers cannot misuse their positions to settle property disputes behind closed doors. It reinforces the principle that property rights can only be adjudicated by a court of law following proper legal procedures.

03025345315


Address

Rawalpindi Cantonment
46000

Opening Hours

Monday 08:00 - 21:00
Tuesday 08:00 - 21:00
Wednesday 08:00 - 21:00
Thursday 08:00 - 21:00
Friday 08:00 - 20:00
Saturday 08:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 20:00

Telephone

+923025345315

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Corpotax & Legal Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Corpotax & Legal Consultants:

Share

Category