Defend your legal Rights

Defend your legal Rights Defend your legal rights
Human Rights activist
Domestic violence against women's and children's:

01/09/2024

السلام و علیکم!

جن معاشروں میں سوال اٹھانے اور اختلاف رائے رکھنے کی ممانعت ھو‎, ....

وہ معاشرے مومن نہیں منافق پیدا کرتے ھیں.‏‎.‎

24/01/2024

عورتوں کو امیروں سے شادی کا لالچ اور
مردوں کو حسن کا لالچ لے ڈوبا
دینداری، اخلاق، سیرت، اچھے لوگ اور
شریف خاندان کو سب نے پیچھے چھوڑ دیا نتیجه؛ ذلالت ، فساد، جھگڑے، طلاقیں۔

کڑوا سچ !!! 💯🥀

 .presidient_Sajjad_Baqar_dogar/2024/24    تیرے کرم تیری عطاء رحمت توں صدقے مولا ❣️اے کریم تیری ہر نعمت توں صدقے مولا ❤
11/01/2024

.presidient_Sajjad_Baqar_dogar/2024/24


تیرے کرم تیری عطاء رحمت توں صدقے مولا ❣️
اے کریم تیری ہر نعمت توں صدقے مولا ❤

  خان گڑھمعصوم بچوں کے قتل کی لرزہ خیز واردات، ایک ہفتہ قبل اغواء ہونے والے تین  معصوم بچوں میں سے ایک کو بازیاب کرا لیا...
28/12/2023


خان گڑھ
معصوم بچوں کے قتل کی لرزہ خیز واردات، ایک ہفتہ قبل اغواء ہونے والے تین معصوم بچوں میں سے ایک کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ دو بچوں کو درندگی سے قتل کر کے ملزم نے قیامت صغریٰ ڈھا دی، ڈی پی او مظفرگڑھ سمیت پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تفتیش کی،بدبخت ملزم نے ایک معصوم بچے کو ذبح کر کے اسکا گوشت پکا کر تقسیم کردیا۔ تفصیل کے مطابق خان گڑھ خان گڑھ کے نواحی علاقہ گیرے وائن میں پانچ روز قبل 7 سالہ علی حسن اسکی ڈیڑھ سالہ بہن حفصہ اور ان کے تین سالہ کزن عبداللہ کو ان کے والدین کے کزن بلال نے دن دیہاڑے موٹر سائیکل پر پر بٹھا کر اغواء کر کے لے گیا تھا جس پر والد فیاض حسین کی مدعیت میں خان گڑھ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور ملزم کی تلاش شروع کر دی جبکہ ملزم کی اہل علاقہ کی نشاندھی پر ایک ڈیرے پر گرفتاری عمل میں لاتے ہوئے ایک 7 سالہ بچے علی حسن کو بازیاب کرا لیا گیا تاہم دیگر بچوں کی بابت خان گڑھ پولیس ملزم سے کچھ نہ اگلوا سکی تاہم بازیاب بچے کے ہوش میں آنے کے بعد اسکی نشاندہی پر گزشتہ روز ڈیڑھ سالہ حفصہ اور تین سالہ عبداللہ کی تلاش کیلئے پولیس کی بھاری نفری نے آپریشن کیا تو بازیاب ہونے والے علی حسن کے مطابق ملزم بلال نے اغواء کے روز ہی تین سالہ عبداللہ کو چھڑی سے زبح کر کے قتل کردیا اور اگلے روز اسکی ڈیڑھ سالہ بہن حفصہ کو بھی پہلے گلہ دبا کر قتل کیا اور بعدازاں بھری سے ذبح کر دیا جبکہ دونوں بچوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے جسم کا گوشت پکا کر خود کھا گیا اور ملزم نے یہ بھی بتایا کہ سالن کو دربار پر جا کر تقسیم بھی کیا جبکہ پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران چمرو والی کے مقام پر نزدیکی کماد کے کھیت سے تین سالہ عبداللہ کی کھوپڑی ، چھڑی اور کپڑے بھی برآمد کر لیے ہیں جبکہ ڈیڑھ سالہ حفصہ کی تلاش میں پولیس کو تاحال کوئی کامیابی نہیں ملی جبکہ اطلاع پر ڈی پی او مظفرگڑھ سید حسنین حیدر جائے وقوعہ پر پہنچ کر معائنہ کرتے ہوئے خان گڑھ پولیس کو ڈیڑھ سالہ حفصہ کی تلاش کیلئے بھی احکامات جاری کیے.

13/12/2023

میٹرک فیل صحافیوں کے لئے مسلہ

ٹریفک والوں کے ساتھ کھڑے ہو کر، منہ میں مائیک گھسا کر انٹرویو کیے جاتے ہیں، بند ہونے چاہئیں، لاہور ہائیکورٹ

کوئی صحافی کسی کو زبردستی بات کرنے پر کیسے مجبور کر سکتا ہے؟ لاہور ہائیکورٹ

ہر شخص جو کیمرہ اور مائیک لے کر چل پڑے اسے صحافی نہیں کہا جا سکتا، لاہور ہائیکورٹ

13/12/2023
13/12/2023
نکاح نامہ کیا ہے؟قانونی اعتبار سے نکاح نامہ ایک معاہدہ ہے جس میں دو فریق اکھٹے زندگی گزارنے کے لیے مختلف شرائط طے کرتے ہ...
02/12/2023

نکاح نامہ کیا ہے؟
قانونی اعتبار سے نکاح نامہ ایک معاہدہ ہے جس میں دو فریق اکھٹے زندگی گزارنے کے لیے مختلف شرائط طے کرتے ہیں۔
'عام طور پر شادی کے موقعے پر نکاح نامے کو اتنے غور سے نہیں پڑھا جاتا اور نہ ہی تفصیلات طے کی جاتیں ہیں۔ جن کی شادی ہو رہی ہوتی ہے وہ تو نکاح نامے کو دیکھتے بھی نہیں ہیں۔ کبھی گھر کے بڑے اور کبھی نکاح خواں ہی نکاح نامہ پُر کر دیتے ہیں۔'
نکاح نامہ غور سے پڑھنا کیوں ضرور ی ہے؟
ضروری ہے کہ نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی نکاح نامے کو دھیان سے پڑھیں تاکہ انھیں پتا ہو کہ ان کے ازدواجی حقوق کیا ہیں اور ان کا تحفظ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔
نکاح خواں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ نکاح پڑھائے اور پھر اس کی رجسٹریشن کروائے-
یہ ایک بہت مثبت سوچ ہے کہ شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں مل کر نکاح نامہ پُر کریں۔ اگر آپ اپنے ہونے والے ہم سفر سے نکاح سے پہلے ہی شادی کی شرائط طے کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
نکاح نامے میں 25 شقیں ہیں
مروجّہ نکاح نامے کی 1 سے 12 نمبر شقیں سادہ اور آسان ہیں جن میں دولھا اور دلھن کے کوائف، شادی انجام پانے کی تاریخ اور وکیلوں اور گواہان کی تفصیلات لکھی جاتی ہیں۔23 سے 25 نمبر شقیں بھی عام ہیں جن میں نکاح خواں کے کوائف اور شادی رجسٹر کرانے کی تاریخ درج ہوتی ہے۔
لیکن شق نمبر 13 سے 22 انتہائی اہم ہیں جن پر بالخصوص توجہ دینے کی ضرورت ہے
مہر بیوی کا حق ہے-
نکاح نامے کی شقیں 13 سے 17 مہر سے متعلق ہیں۔ مہر وہ رقم یا اس کا متبادل ہے جو شادی کے موقع پر شوہر بیوی کو ادا کرتا ہے۔ مہر دو قسم کا ہوتا ہے، ایک 'معجل' اور دوسرا 'مؤجل'۔
مہر معجل نکاح کے وقت یا بیوی کے مطالبے پر فوری ادا کرنا ہوتا ہے جبکہ مہر مؤجل کسی معیّنہ تاریخ یا واقعے کے رونما ہونے پر ادا کرنا ہوتا ہے۔
مہر مؤجل کی صورت میں مہر کی ادائیگی کی شرائط نکاح نامے میں درج کرنا ضروری ہے۔
بیوی بھی طلاق دے سکتی ہے
نکاح نامے کی شق 18 میں پوچھا جاتا ہے کہ آیا شوہرنے طلاق کا حق بیوی کو دے دیا ہے؟
میں نے دیکھا ہے کہ اچھے پڑھے لکھے
خاندانوں میں حق مہر کی تفصیلات پر تو کافی سنجیدہ مذاکرات ہوتے ہیں لیکن لڑکی کے حقِ طلاق جیسے اہم موضوع پر کوئی بات نہیں ہوتی۔
طلاق کے موضوع پر بات کرنا آج بھی ہمارے معاشرے میں نامناسب سمجھا جاتا ہے۔
طلاق کا فیصلہ والدین کے لیے بہت بڑا صدمہ ہو تا ہے لیکن جب انھیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی بیٹی اپنے شوہر کے ہاتھوں میں کن تکالیف سے گزری ساتھ دیا۔ حق طلاق کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ طلاق کے لیے شوہر کے پیروں میں نہیں پڑنا پڑتا۔
اگر بیوی کے پاس حقِ طلاق نہیں ہو تو اُس کے پاس خلع یعنی عدالت کے ذریعے شادی ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
جب لڑکی خلع کے لیے درخواست دیتی ہے تو وہ اپنے مہر کے حق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ اس طرح اسے ایک تو عدالت جانا پڑتا ہے اور دوسرا وہ اپنے مہر کی رقم سے محروم ہوےُ بغیر تین ماہ میں یہ عمل مکمل ہو جاتا ہے-
لڑکی کے حقِ طلاق کی صورت میں یونین کونسل میں طلاق کے لیے رجسٹریشن کروائی جاتی ہے جس کے بعد عدالت جائے بغیر طلاق بھی ہو جاتی ہے اور لڑکی کو اس کا حق مہر بھی ملتا ہے۔
لڑکی کا حقِ طلاق مشروط یا غیر مشروط ہو سکتا ہے لیکن میرا یہی مشورہ ہے کہ اُسے اپنا حقِ طلاق غیر مشروط رکھنا چاہیے۔
شوہر کا مشروط حقِ طلاق
نکاح نامے کی شق 19 کے مطابق بیوی شوہر کے حقِ طلاق پر شرائط عائد کر سکتی ہے۔
دیکھا گیا ہے کہ طلاق کے اکثر مقدمات میں لڑکیوں کے مالی مفادات کا تحفظ نہیں ہوتا۔ اس شق کے ذریعے بیوی پابندی لگا سکتی ہے کہ شوہر کے طلاق دینے کی صورت میں اُسے نان نفقہ یا دیگر اخراجات کے لیے معاوضہ دیا جائے گا۔
کوئی بھی شرط نکاح نامے کا حصہ بن سکتی ہے؟
نکاح نامے کی شق 20 کہتی ہے کہ اگر شادی کے موقع پر مہر و نان نفقہ سے متعلق کوئی دستاویز تیار کی گئی ہے تو اس کی تفصیلات درج کی جائیں۔
اس شق کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان طے پانے والے اضافی نکات کا اندراج کیا جا سکتا ہے۔
مثلاً بیوی کہہ سکتی ہے کہ جائیداد اس کے نام کی جائے یا شوہر کی ماہانہ آمدنی کی ایک مقررہ شرح مخصوص مدّت تک بیوی کو ادا کی جائے۔
اس شِق کے علاوہ میاں بیوی کے درمیان طے پانے والی کوئی بھی شرط ضمیمے کے طور پر نکاح نامے کا حصہ بنائی جا سکتی ہے۔
دوسری شادی کی اجازت
نکاح نامے کی شق 21 اور 22 مطالبہ کرتی ہیں کہ شوہر کی دوسری شادی کی صورت میں ثالثی کونسل سے اجازت حاصل کی جائے۔
عام طور پر دوسری شادی کے موقع پر پہلی بیوی سے اجازت نہیں لی جاتی۔ یہ کام چُھپ چُھپا کے ہی ہوتا ہے۔'
شوہر کی دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی تحریری اجازت تو ضروری ہے ہی، لیکن صرف یہ کافی نہیں۔
اس سلسلے میں حتمی اختیار ثالثی کونسل کے پاس ہے۔ ثالثی کونسل کو دوسری شادی کی وجوہات بتانی پڑتی ہیں اور پہلی بیوی اور شوہر کے نامزد نمائندے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ دوسری شادی ہونی بھی چاہیے یا نہیں۔'
لڑکا اور لڑکی نکاح نامے کو غور سے پڑھیں تاکہ انھیں اپنے حقوق کا علم ہو
'اپنے حقوق کا تحفظ کریں'
نکاح نامے سے متعلق معاشرے کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں خواتین کے حقوق کا تحفظ نہیں ہو رہا۔
اگر ریاست نے شوہر اور بیوی کو حقوق دیے ہیں اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ یہ حقوق اپنے پاس رکھیں۔
'میں یہ نہیں کہتا کہ اگر نکاح نامے میں لڑکی کو طلاق کا حق دیا گیا ہے تو وہ اس کو ضرور استعمال کرے مگر کم از کم اس حق کو اپنے پاس رکھے۔ آپ کو نہیں معلوم کہ مستقبل میں کیا ہو اور کب آپ کو یہ حق استعمال کرنا پڑ جائے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نکاح نامے کی دستاویز کے ذریعے شوہر اور بیوی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
میں ایسے بے شمار لوگوں کو جانتا ہوں جو نکاح نامے کی تمام شقوں کو بخوبی سمجھنے کے بعد اس پر دستخط کرتے ہیں۔ اس
طرح وہ اپنے قانونی حقوق کا تحفظ کر رہے ہیں۔

23/11/2023

اسلامی قانون کے مطابق عدت کا تعین عورت کے بیان سے ہی ہوتا ہے اس کے علاوہ کسی اینکر یا ٹی وی چینل کے پاس ایسا اختیار نہیں ہے۔

12/11/2023

زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔

1- موضع :
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے ۔
2- کھیوٹ نمبر:
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں بہت سارے لوگوں اور خاندانوں کی زمین شامل ہوتی ہے اس کی تقسیم مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دے دیے جاتے ہیں، مثلا یہ ایک سو ایکڑ ایک خاندان کے پاس ہے اسے ایک نمبر دے دیا کہ فلاں موضع کا یہ کھیوٹ نمبر ہے جو فلاں خاندان کے ان ان حصہ داروں کے پاس ہے۔ یا مختلف خاندانوں یا لوگوں کی زمین کو ملا کر بھی ایک کھیوٹ بنایا جاتا ہے۔ اس کا نمبر تبدیل ہو سکتا ہے جب کوئی زمین فروخت کرتا ہے یا ایسی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو آپ کے کھیوٹ کا نمبر بدل جاتا ہے۔
3- کھتونی نمبر:
موضع بھی بن گیا، اس میں کھیوٹ نمبر بھی لگ گئے اب کھیوٹ میں بہت سارے مالکان ہیں کسی کے پاس پانچ ایکڑ ہے کسی کے پاس دس اور کسی کے پاس دو ایکڑ تو ان کو کیسے پہچانے گے کہ اس کھیوٹ میں کونسے بندے کی کتنی زمین ہے تو اس کے لیے ہر حصہ دار کو ایک کھتونی نمبر لگا دیا جاتا ہے۔ مثلا کھیوٹ نمبر 1 میں دس ایکڑ زمین ہے اور دو مالک ہیں پانچ پانچ ایکڑ کے تو ان دونوں کو الگ الگ نمبر دے دیا جائے گا پانچ پانچ ایکڑ کا جسے کھتونی نمبر کہتے ہیں۔ یہ نمبر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے جب کوئی اپنے حصے سے فروخت کر دے کسی کو یا ایسی کوئی دوسری تبدیلی ہو۔
4- خسرہ نمبر:
اب ایک کھتونی میں جو پانچ ایکڑ تھے (جو ہم نے مثال میں لیے پانچ ایکڑ، حقیقت میں ان کی تعداد جو بھی ہو گی) ہر ایکڑ کو ایک خاص نمبر دیا جاتا ہے جو خسرہ نمبر کہلا تا ہے۔ یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا چاہے کوئی فروخت کرے مگر کھیت کا خسرہ نمبر ایک ہی رہے گا۔ اور اس میں کھیت کی چاروں طرف سے پیمائش بھی لکھی ہوتی ہے کہ اس خسرہ نمبر کا جو کھیت ہے اس کی لمبائی چوڑائی وغیرہ کیا ہے۔
5- مساوی: (شجرہ)
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے، کہاں کس کا کھیت ہے کہاں راستہ ہے کہاں کیا ہے سب اس میں ہوتا ہے۔ پٹواری کے پاس یہ نقشہ ایک کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا بھی کہا جاتا ہے۔
6- جمعبندی:
اس میں ایک موضع کے کسی کھیوٹ کی کسی کھتونی کے کس خسرہ میں کتنے مالک ہیں سب کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ مالک کون ہے اور زمین کاشت کون کر رہا ہے ٹھیکہ پر یا کیسے۔ زمین کی فرد بھی اسی رجسٹر کی تفصیل کی بنیاد پر جاری ہوتی ہے۔
7- گردوری:
آپ جس رقبہ کے مالک ہیں یا مزارع ہیں اس رقبہ میں کیا کاشت ہوتا ہے یا کیا کاشت کیا ہوا ہے اس کی تفصیل بھی پٹواری درج کرتا ہے اسے گردوری کہتے ہیں۔

اہم نوٹ: زمین خریدتے وقت ہمیشہ خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر زمین خریدیں۔ مثلا فرض کریں ایک بندہ دو ایکڑ کا مالک ہے اس کا کھیوٹ نمبر 1 اور اس کے دو ایکڑ کھیوٹ نمبر 1 کی الگ الگ کھتونی نمبر 5 خسرہ نمبر 50 اوردوسرا ایکڑ کھتونی نمبر 10 میں خسرہ نمبر 100 ہیں۔ آپ اس سے ایک ایکڑ خریدنا چاہتے ہیں اور وہ آپ جو پسند کرتے ہیں اس کا خسرہ نمبر 50 ہے مگر اسے فرد اس 50 نمبر خسرہ کی نہیں بلکہ پوری رقبے کی کھیوٹ سے ملتی ہے جس میں وہ آپ کے نام ایک ایکڑ کروا دیتا ہے تو اب قانوناَ آپ اس کے دونوں ایک میں خسرہ نمبر 50 اور خسرہ نمبر 100 میں آدھے آدھے ایکڑ کے مالک بن جائیں گے اور اگر خسرہ نمبر 50فرد ہی آپ کو دے گا تو اس کی بنیاد پر وہی ایکڑ پورا آپ کے نام لگے گا۔ بیشک وہ آپ کو آپ کا پسند کیا ہوا خسرہ نمبر 50 ہی کاشت کے لیے دے رہا ہو مگر مستقبل میں آپ کے بچوں میں جھگڑا ہو سکتا ہے کہ آپ کے یا اس کے بچے کہیں آپ کا آدھا ایکڑ یہاں بول رہا ہے یہاں جاؤ ہمارا وہاں ہے ہم وہاں جائیں گے وغیرہ۔ یہ تو دو ایکڑ کی مثال تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی زیادہ ایکڑ کے مالک سے زمین خرید لیں تو بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ ایکڑ نہیں بلکہ کوئی دوسرا دیا تھا لہذا اسے کاشت کرو جا کر وہ چاہے بنجر ہو۔ اس لیے زمین لینے سے پہلے تسلی کر لیا کریں۔

گوجرانوالہ میں عدالت نے خاتون کو جنسی حراساں اور بلیک میل کرنے پر کیس کا فیصلہ سنا دیا مجرم کو دس سال قید اور بھاری جرما...
30/09/2023

گوجرانوالہ میں عدالت نے خاتون کو جنسی حراساں اور بلیک میل کرنے پر کیس کا فیصلہ سنا دیا مجرم کو دس سال قید اور بھاری جرمانہ کی سزا سنا دی ٫
Fir/106/2021
SS.29.21.22&24 / PESCA.2016

  your legal Rights
30/09/2023

your legal Rights

Address

Rajanpur
33500

Telephone

+923005120399

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Defend your legal Rights posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Defend your legal Rights:

Share

Category